بجٹ 2026-2025: کیا بے روزگاروں کا بھی خیال رکھا گیا؟
ہندوستان کے مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے ہفتہ کو بجٹ 2026-2025 پیش کیا، جس پر مختلف سیاسی رہنماوں کے مختلف رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما ششی تھرور نے خاص طور پر بجٹ میں بے روزگاری اور مہنگائی پر خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے بجٹ کے حوالے سے بات کی تو بجٹ میں بے روزگار افراد کے لئے کوئی خاص سہولت یا منصوبہ نظر نہیں آیا۔
ششی تھرور نے یہ بھی واضح کیا کہ 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر ٹیکس کی چھوٹ ایک اچھا اقدام ہے، لیکن یہ صرف ان لوگوں کے لئے فائدے مند ہے جن کے پاس نوکری ہے۔ اگر کسی کے پاس کوئی کام نہیں ہے تو اُس کے لئے بجٹ میں کیا رکھا گیا ہے؟ اس سوال نے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے، جس پر حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
کیا وزیر مالیات نے بے روزگاری اور مہنگائی پر غور کیا؟
تھرور کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی بجٹ پیش کیا جاتا ہے تو اس میں بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل کا ذکر ہونا چاہئے، لیکن اس بار ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے بے روزگاری کے مسئلے کو نظر انداز کر دیا ہے، جو کہ آج ملک کی ایک بڑی حقیقت ہے۔
ان کی تنقید اس وقت زیادہ معنی رکھتی ہے جب ہم جانتے ہیں کہ ملک کی معیشت اب بھی کرونا وائرس کی وباء کے بعد بحالی کی کوشش کر رہی ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی نوکریاں گنوا چکے ہیں یا جن کی آمدنی میں کمی آئی ہے، ایسے میں بجٹ میں ان کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی منصوبہ بنانا ضروری تھا۔
بجٹ کا عمومی جائزہ
وزیر مالیات کی جانب سے پیش کردہ بجٹ میں متوسط طبقے کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ نئی ٹیکس نظام کے تحت، اگر آپ کی آمدنی 12.80 لاکھ روپے سے زیادہ ہے تو آپ کو اضافی ٹیکس دینا ہوگا جس میں 4 سے 8 لاکھ کے درمیان 5 فیصد اور 8 سے 12 لاکھ کے درمیان 10 فیصد ٹیکس شامل ہے۔
اس کے ساتھ ہی تھرور نے یہ بھی الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت نے آئندہ انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے بجٹ بنایا ہے، اور اس میں صرف ایک مخصوص طبقے کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔
بے روزگاری کے اثرات
بے روزگاری ہندوستان کی معیشت کے لئے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، اور حکومت نے اس مسئلے پر کوئی واضح ہدایت نہیں دی۔ ششی تھرور نے سوال کیا کہ ان لوگوں کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں جو روزگار سے محروم ہیں؟
ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بے روزگاری کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات نہیں کرتی تو ملک کی معیشت میں مزید مشکلات آ سکتی ہیں۔
وزیر مالیات کی خاموشی کا مطلب
تھرور کے سوالات جو کہ حکومت کی خاموشی پر مبنی ہیں، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں روزگار کی فراہمی شامل نہیں ہے۔ ان کے مطابق، جب عوام کو روزگار نہیں مل رہا تو حکومت کی جانب سے کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کا خیال رکھ سکے۔
مستقبل کی توقعات
حکومت کے آئندہ اقدامات کی توقعات کا جائرہ لیتے ہوئے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا حکومت ششی تھرور کی طرح کے سوالات کا جواب دے گی یا نہیں۔ اگر بے روزگاری اور مہنگائی پر قابو پانے کے لئے کوئی موثر منصوبہ بندی نہیں کی گئی تو عوام میں مایوسی بڑھ سکتی ہے۔
دنیا بھر میں حکومتوں نے بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح اورمہنگائی کو کنٹرول کرنے کے اقدامات اٹھائے ہیں۔ ہندوستان میں بھی ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومت کی ذمہ داری
حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کے مسائل پر توجہ دے اور ان کے حل کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کرے۔ ششی تھرور اور دیگر رہنماوں کی تنقید اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کو مزید کوششیں کرنی ہوں گی۔









