بدھ, اپریل 8, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 199

شیئر مارکیٹ نے تیزی کے ساتھ نئے سال کا استقبال کیا، سینسیکس-نفٹی میں نصف فیصد سے زیادہ اضافہ

0
شیئر مارکیٹ نے تیزی کے ساتھ نئے سال کا استقبال کیا، سینسیکس-نفٹی میں نصف فیصد سے زیادہ اضافہ
شیئر مارکیٹ نے تیزی کے ساتھ نئے سال کا استقبال کیا، سینسیکس-نفٹی میں نصف فیصد سے زیادہ اضافہ

شیئر مارکیٹ نے آج نصف فیصد سے زیادہ کی چھلانگ کے ساتھ نئے سال کا استقبال کیا، سینسیکس 0.54 فیصد کی چھلانگ لگا کر 61 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح 61167.79 پوائنٹس کو عبور کر گیا

ممبئی: یورپی منڈیوں میں ملے جلے رجحان کے درمیان مقامی سرمایہ کاروں کی طرف سے ہمہ گیر خریداری کی وجہ سے شیئر مارکیٹ نے آج نصف فیصد سے زیادہ کی چھلانگ کے ساتھ نئے سال کا استقبال کیا۔

بی ایس ای کا تیس شیئروں والا حساس انڈیکس سینسیکس 327.05 پوائنٹس یعنی 0.54 فیصد کی چھلانگ لگا کر 61 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح 61167.79 پوائنٹس کو عبور کر گیا اور نیشنل سٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 92.15 پوائنٹس یعنی 0.151 فیصد اضافے کے ساتھ 18197.45 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ اسی طرح بی ایس ای مڈ کیپ بھی 0.57 فیصد کی تیزی لیکر 25,458.77 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.84 فیصد چڑھ کر 29,169.29 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

اس عرصے کے دوران بی ایس ای پر مجموعی طور پر 3788 کمپنیوں کے شیئروں میں کاروبار ہوا جن میں سے 2306 میں خریداری 1304 میں فروخت جبکہ 178 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای میں 31 کمپنیاں سبز جبکہ 18 سرخ نشان پر رہیں، جبکہ ایک کی قیمت مستحکم رہی۔

بی ایس ای میں پاور، ہیلتھ کیئر اور کمزیومر ڈیوریبلس گروپ کی 0.55 فیصد تک کی گراوٹ کو چوڑ کر، باقی 18 گروپوں میں تیزی رہی۔ اس دوران میٹل 2.83، کموڈٹیز 1.23، فنانشل سروسز 0.61، انڈسٹریلز 0.76، ٹیلی کام 1.32، آٹو 0.43، بینکنگ 0.46، ریئلٹی 0.99، ٹیک 0.62 اور سروسز گروپ کے شیئر 1.08 فیصد مضبوط رہے۔

یورپی منڈیوں میں ملا جلا رجحان رہا جبکہ نئے سال کی تعطیل کے باعث ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار معطل رہا۔ اس عرصے کے دوران برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.81 فیصد گرا جبکہ جرمنی کے ڈی اے ایکس میں 0.87 فیصد اضافہ ہوا۔

لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی محض طالبانی پہرہ یا دینی حکم

0
لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی محض طالبانی پہرہ یا دینی حکم
لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی محض طالبانی پہرہ یا دینی حکم

طالبان حکومت کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کیا مذہب اسلام کے اُس حکم سے متصادم ہے جس میں حصول علم پر ہر ممکن زور دیا گیا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری۔۔۔۔۔۔

سیریا کی ایک نوجوان خاتون کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔ دو منٹ سے بھی کم وقت کے اس ویڈیو نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو متوجہ کیا ہے۔ ’العربیۃ‘ کے مطابق اس ویڈیو پر لوگوں نے جذباتی تبصرے لکھے اور کہا کہ اس ویڈیو نے انہیں آبدیدہ کر دیا۔ اس ویڈیو میں جو کچھ دیکھا اس سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ تقریباً 20؍ سالہ لڑکی رزان یوسف سلیمان یونیورسٹی کا گریجویشن گاؤن اور سر پر کالی ٹوپی پہنے ہوئے ہے۔ رزان کے بائیں ہاتھ میں سفید گلابوں کا گلدستہ ہے، دائیں ہاتھ میں ایک سرٹیفکیٹ ہے۔ اس نے المدینہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایجوکیشن سے فراغت حاصل کی ہے۔ اس کے بعد کا منظر جذباتی نوعیت میں بدل جاتا ہے۔

رزان یوسف سلیمان اپنے والد کے سبزیاں فروخت کرنے والے خیمے میں آتی ہے۔ پہلے وہ انھیں گلدستہ پیش کرتی ہے، پھر ساتھ میں ایک کیک بھی لاتی ہے، جس پر والد کی تعریف میں خوبصورت جملہ لکھا ہے۔ رزان والہانہ انداز میں اپنے والد سے گلے ملتی ہے۔ ابو خضر اپنی بیٹی کو پدرانہ شفقت سے گلے لگاتے ہیں۔ اسی بازار میں موجود باقی لوگ باپ اور بیٹی کی اس خوشی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ رزان اپنے والد سے سبزی منڈی میں ان کی دکان پر ہی ملنا چاہتی تھی، تاکہ اپنی کامیابی کو ان کے ساتھ فخر اور اعزاز کے ساتھ منا سکے۔  اب شام سے دور افغانستان کی طرف آتے ہیں۔

افغانستان میں خواتین کے لیے تعلیم پر پابندی

افغانستان میں طالبان حکومت نے یونیورسٹیوں میں خواتین کے لیے تعلیم پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حکم کے تحت خواتین کے لیے اعلی تعلیم تک رسائی روکی گئی ہے۔ افغانستان میں پہلے ہی خواتین کو اکثر سیکنڈری اسکولوں میں جانے سے روک دیا گیا تھا۔ اب خواتین پر عائد کردہ نئی پابندیوں کے تحت وہ وٹنری سائنس، انجینئرنگ، اکنامکس اور زراعت میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتیں، جبکہ صحافت میں بھی ان کا جانا مشکل ہوگا۔

گذشتہ سال کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کی یونیورسٹوں میں مرد و خواتین کے لیے الگ الگ کلاس روم اور داخلی راستوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ طالبات کو صرف خواتین پروفیسر یا معمر مرد پڑھا سکتے ہیں۔ اب طالبان حکام نے خواتین کی یونیورسٹیوں میں تعلیم پر پابندی کے فیصلے پر عالمی تنقید کے بعد اسے عارضی قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کی وجوہات واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ طالبان کے وزیر برائے اعلی تعلیم شیخ ندا محمد ندیم نےکہا ہے کہ یونیورسٹیوں میں بچیوں کی تعلیم پر عارضی پابندی چند مسائل کی وجہ سے تھی۔

طالبان کے دور اقتدار میں ہمیشہ افغانستان کا تعلیمی شعبہ بُری طرح متاثر رہا ہے۔ گذشتہ سال امریکی و دیگر غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد سے تربیت یافتہ ادبی شخصیات ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ افغانستان اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کئی ماہ سے اپنی تنخواہوں کے منتظر ہیں۔ حالانکہ اقتدار میں واپسی کے وقت طالبان نے دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ اس مرتبہ ان کی طرز حکمرانی میں تبدیلی دیکھنے کی ملے گی۔ مگر اب افغان شہریوں میں یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ طالبان نے انھیں مایوس کیا ہے اور ان کے اندر کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔

تعلیم میں مرد اور خواتین کے لئے یکساں حکم

ان لوگوں کا ماننا ہے کہ موجودہ حکومت آزادانہ سوچ، خواتین اور بچوں کے بنیادی حقوق کو اہمیت نہیں دیتے۔ وہ سب کو قابو میں رکھنے کے لیے یہ سب کرتے ہیں۔ حالانکہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں سینئر رہنما ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ وہ خواتین کو ملازمت اور تعلیم کی اجازت دیں گے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ایک اسلامی ریاست ہیں اور افغانستان میں اسلامی قوانین نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام میں تعلیم پر کتنا زور دیا گیا ہے اور اس میں مرد اور خواتین کے لئے یکساں حکم ہے۔

مذہب اسلام کو تو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ حصول علم پر ہر ممکن زور دیتا ہے۔ قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر بلاواسطہ یا بالواسطہ حصول علم کی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔ پھر مذہب اسلام مرد کی طرح عورت کے لئے بھی تعلیم کا حصول لازم قرار دیتا ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے: ’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔‘ قرآن حکیم میں اس دعا کی اہمیت واضح ہے: رَبِّ زِدنِیْ عِلْما۔’اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔‘ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بالواسطہ طور پر مسلمانوں کو حصول علم کی رغبت و تعلیم دی گئی ہے۔

عورتوں کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام

روایات سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے مردوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام فرمایا ہے۔ حقیقت میں تو تعلیم ہی وہ زیور ہے جس سے عورت اپنے مقام سے آگاہ ہو کر اپنا اور معاشرے کا مقدر سنوار سکتی ہے، مگر افسوس کچھ لوگ خواتین کی تعلیم کے تعلق سے غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم صرف لڑکوں ہی کو دینا ضروری ہے اور یہ بھی کہ عورتیں اگر گھر کی زینت ہیں تو انھیں تعلیم کی ضرورت نہیں، جبکہ علم تو وہ روشنی ہے جو انسان کو جینا سکھاتی ہے۔

تاریخ اسلام میں تو با علم اور با صلاحیت خواتین کی روشن تاریخ رہی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مسلم خواتین کی ہمت و جرأت اور تدبر و فراست سے بڑے بڑے انقلابات ظہور پزیر ہوئے۔ بدقسمتی سے اسلامی تعلیمات کی ادھوری تفہیم اور معاشرتی رسوم و رواج میں خلط ملط کرنے کے باعث خواتین کو ماضی میں علوم کے ذرائع تک رسائی کا آزادانہ حق حاصل نہیں رہا۔ جس کی وجہ سے وہ نسل در نسل زیور تعلیم سے محروم رہیں۔ آج طالبان بھی وہی کام کرے ہیں۔

مذہب اسلام نے عورت کو مرد کے برابر مقام و مرتبہ عطا فرماکر اس کی حیثیت متعین کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باقی دنیا کے ساتھ بین الاقوامی مسلم تنظیموں، اداروں اور اسلامی ممالک نے بھی طالبان کے حالیہ فیصلے کی مذمت کی ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے واضح پیغام شیخ الازہر احمد الطیب نے دیا ہے۔

جامعہ الازہر افغان لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی سے ناراض

اس پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ ’افغانستان میں طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کو یونیورسٹی کی تعلیم سے روکنے کا فیصلہ شریعت سے متصادم ہے۔ جامعہ الازہر کو افغان لڑکیوں کو یونیورسٹی کی تعلیم سے روکنے کے لیے افغان حکام کے فیصلے پر شدید افسوس ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو اسلامی قانون کے خلاف ہے۔ مردوں اور عورتوں کو مہد سے لے کر لحد تک علم حاصل کرنے کے واضح مطالبے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اسلام کی دعوت نے سائنسی، سیاسی اور ثقافتی تاریخ میں باصلاحیت خواتین میں عظیم ذہن پیدا کیے ہیں اور یہ آج بھی ہر اس مسلمان کے لیے باعث فخر بات ہے جو اللہ اور رسول اور شریعت کا وفادار ہے۔ اس فیصلے کے ماخذوں سے اہل سنت کی مستند ترین کتابوں میں موجود دو ہزار سے زائد احادیث کیسے چھوٹ گئیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مومنین کی ماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی ہیں؟ یہ لوگ سائنس، تعلیم، سیاست اور اسلامی معاشروں کے عروج و زمانہ، ماضی اور حال کے میدانوں میں پیش پیش خواتین اور مردوں کی مسلمانوں کی تاریخ کو کیسے بھول گئے؟‘

سعودی عرب کا بھی اظہار افسوس

سعودی عرب نے بھی طالبات کی یونیورسٹی تعلیم تک رسائی معطل کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پابندی کو واپس لیں۔ طالبان کی جانب سے خواتین کی جامعہ کی سطح پر تعلیم پر پابندی افغان خواتین کو ان کے مکمل قانونی حقوق دینے کے منافی ہے۔ ان میں سب سے اہم تعلیم کا حق ہے، کیونکہ تعلیم ہی افغانستان اور اس کے برادر لوگوں کے لیے سلامتی، استحکام، ترقی اور خوش حالی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

ترکیہ نے طالبان پر افغان خواتین کے اعلیٰ تعلیم پر پابندی کا فیصلہ واپس لینے پر زور دیتے ہوئے اسے غیر اسلامی اور غیرانسانی فعل قرار دیا ہے۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے فیصلے کو درست نہیں سمجھتے، خواتین کی تعلیم سے انسانیت کو کیا نقصان پہنچتا ہے؟

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

سینسیکس ایک ہفتے کی گراوٹ کے بعد 61 ہزار کے پار

0
سینسیکس ایک ہفتے کی گراوٹ کے بعد 61 ہزار کے پار
سینسیکس ایک ہفتے کی گراوٹ کے بعد 61 ہزار کے پار

بی ایس ای کا حساس انڈیکس سینسیکس 223.60 پوائنٹس یعنی 0.37 فیصد اضافے کے ساتھ 61 ہزار پوائنٹس کی سطح کو پار کرکے 61133.88 پوائنٹس تک پہنچ گیا

ممبئی: عالمی بازاروں میں ملے جلے رجحان کے درمیان تیل اور گیس، دھاتوں، بینکنگ اور توانائی سمیت 17 زمروں میں مقامی سطح پر زبردست خرید کی وجہ سے سینسیکس آج ایک ہفتے کی گراوٹ کے بعد 61,000 کے پار پہنچ گیا۔

بی ایس ای کا حساس انڈیکس سینسیکس 223.60 پوائنٹس یعنی 0.37 فیصد اضافے کے ساتھ 61 ہزار پوائنٹس کی سطح کو پار کرکے 61133.88 پوائنٹس تک پہنچ گیا اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی ایک پوائنٹ کے اضافے کے ساتھ 68.50 پوائنٹس یعنی 18191 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ اگرچہ بی ایس ای کی بڑی کمپنیوں کی طرح چھوٹی کمپنیوں میں خریداری ہوئی، لیکن درمیانی کمپنیوں میں زبردست فروخت ہوئی۔ اس کی وجہ سے اسمال کیپ 0.22 فیصد بڑھ کر 28,707.42 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جبکہ مڈ کیپ 0.09 فیصد گر کر 25,220.62 پوائنٹس پر آگیا۔

اس مدت کے دوران بی ایس ای میں کل 3628 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 1872 کے حصص خریدے گئے، 1607 کے حصص فروخت ہوئے جبکہ 149 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح، این ایس ای کی 33 کمپنیوں میں اضافہ ہوا جبکہ باقی 17 میں گراوٹ درج ہوئی۔

بی ایس ای میں 17 زمروں میں خریداری ہوئی۔ کاروبار کے دوران توانائی، مالیاتی خدمات، ہلیتھ کیئر، ٹیلیکام، ٹیکنالوجی اور خدمات کے زمروں کے حصص میں 0.59 فیصد اضافہ ہوا۔

دریں اثناء، بین الاقوامی سطح پر ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.34 فیصد، جاپان کے نکئی میں 0.94، ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 0.79 اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.44 فیصد گراوٹ درج کی گئی، جبکہ جرمنی کا ڈی اے ایکس میں 0.19 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔

کلکتہ: ٹیٹ پاس امیدواروں کے دوسرے مرحلے کا انٹرویو 10 جنوری کو

0
کلکتہ: ٹیٹ پاس امیدواروں کے دوسرے مرحلے کا انٹرویو 10 جنوری کو
کلکتہ: ٹیٹ پاس امیدواروں کے دوسرے مرحلے کا انٹرویو 10 جنوری کو

بورڈ کے مطابق ٹیٹ پاس امیدواروں کے دوسرے مرحلے کا انٹرویو 10 جنوری کو صبح 10 بجے سے شروع ہوگا

کلکتہ: 2014 اور 2017 میں ٹیٹ پاس امیدواروں کے ایک گروپ کا انٹرویو گزشتہ مکمل ہوگیا ہے۔ اب بورڈ آف پرائمری ایجوکیشن نے انٹرویوز کے دوسرے دور کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے مرحلے میں 10 جنوری کو کلکتہ ضلع کے 282 امیدواروں کا انٹرویو لیا جائے گا۔

بورڈ کے مطابق 10 جنوری کو دوسرے مرحلے کا انٹرویو صبح 10 بجے سے شروع ہوگا۔

امیدواروں کے انٹرویو کے وقت اور جگہ سمیت تمام معلومات متعلقہ امیدواروں کو بذریعہ ڈاک پہنچا دی جائیں گی۔ امیدوار پرائمری ٹیچر ریکروٹمنٹ پورٹل سے ”کال لیٹر“ ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ انٹرویو کے پورے عمل کی ویڈیو گرافی کی جائے گی۔ یہ قدم شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس سے قبل انٹرویوز کے پہلے دور کی ویڈیو گرافی بھی کی گئی تھی۔

دوسرے مرحلے کے انٹرویو کے لیے ممتحن کو لیپ ٹاپ دیے جائیں گے۔ امتحان دہندگان براہ راست اس لیپ ٹاپ پر امیدواروں کا انٹرویو کرنے کے بعد نمبر دیں گے۔ نتیجتاً بعد میں نمبر درست کرنے کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔ یہ نمبر آن لائن بورڈ تک پہنچ جائے گا۔

اس سے قبل انٹرویو کے دوران بدعنوانی کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ 139 امیدواروں نے عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ تحریری امتحان میں صفر حاصل کرنے والے متعدد افراد نے انٹرویو میں مکمل نمبر حاصل کرکے نوکریاں حاصل کی ہیں۔ درخواست کی بنیاد پر، جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے مدعیان کو ہدایت دی کہ وہ زبانی امتحان اور اہلیت ٹیسٹ کے نمبر شائع کریں۔

واضح رہے کہ ٹی ای ٹی کا ابتدائی امتحان اس سال 11 دسمبر کو منعقد ہوا تھا۔ تقریباً سات لاکھ امیدوار امتحان میں شریک ہوئے۔ 5 سال کے انتظار کے بعد پرائمری ٹیٹ کا انعقاد ہوا۔ دریں اثنا، بورڈ نے 2014 اور 2017 کے امیدواروں کے انٹرویو کی تاریخوں کا اعلان کر دیا۔ قبل ازیں کلکتہ ضلع کے 200 امیدواروں کا پہلا مرحلہ انٹرویو 27 دسمبر کو ہوا تھا۔

مودی نے دودھ کی قیمت بڑھا کر عوام کو دیا نئے سال کا تحفہ: کانگریس

0
مودی نے دودھ کی قیمت بڑھا کر عوام کو دیا نئے سال کا تحفہ: کانگریس
مودی نے دودھ کی قیمت بڑھا کر عوام کو دیا نئے سال کا تحفہ: کانگریس

حکومت نے ایک سال میں پانچ بار دودھ کی قیمت میں اضافہ کرکے نیا ریکارڈ بنایا ہے

نئی دہلی: کانگریس نے دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کے سلسلے میں حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے دودھ کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ کرکے ملک کے عوام کو نئے سال کا تحفہ دیا ہے۔

کانگریس کے ترجمان گورو ولبھ نے منگل کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس حکومت نے ایک سال میں دودھ کی قیمت میں پانچ بار اضافہ کیا ہے اور اب نیا سال شروع ہونے سے پہلے اس نے دودھ کی قیمت میں اضافہ کرکے عوام کے پیٹ پر حملہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک سال میں پانچ بار دودھ کی قیمت میں اضافہ کرکے نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ آج تک کسی حکومت نے ایسا ریکارڈ نہیں بنایا۔

کانگریس لیڈر نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے نئے سال پر دودھ کی قیمت میں دو روپے فی لیٹر اضافہ کرکے ملک کے عوام کو نئے سال کا تحفہ دیا ہے۔ یہ وزیر اعظم کا اس سال کا آخری تحفہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کم نہیں ہو رہی۔ مہنگائی مسلسل 6 فیصد سے اوپر رہی۔ اس بار بھی صورتحال اچھی نہیں ہے اور ریزرو بینک نے مہنگائی کی شرح 6.7 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔

چین کے کووڈ ضوابط میں نرمی سے سینسیکس اور نفٹی میں لگاتار دوسرے دن تیزی

0
چین کے کووڈ ضوابط میں نرمی سے سینسیکس اور نفٹی میں لگاتار دوسرے دن تیزی
چین کے کووڈ ضوابط میں نرمی سے سینسیکس اور نفٹی میں لگاتار دوسرے دن تیزی

بی ایس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 361.01 پوائنٹس یعنی 0.60 فیصد بڑھ کر 60927.43 پوائنٹس اور این ایس ای کا نفٹی 0.65 فیصد چھلانگ لگا کر 18132.30 پوائنٹس پر پہنچ گیا

ممبئی: چین میں سیاحوں کے لیے کووِڈ ضوابط میں نرمی کے بعد عالمی منڈی میں آئی تیزی سے پرجوش سرمایہ کاروں کی مقامی طور پر چوطرفہ خریداری کی وجہ سے آج دونوں بینچ مارک انڈیکس سینسیکس اور نفٹی لگاتار دوسرے دن تیزی پر رہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے منگل کو کہا کہ کووِڈ اومیکرون کے نئے سب ویرئنٹ ایف بی -7 کے اثر میں آرہی کمی کے پیش نظر وہ 8 جنوری سے چین آنے والے مسافروں کو قرنطینہ نہیں کرے گا۔ جس کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹوں میں تیزی آئی، جس کا اثر گھریلو اسٹاک مارکیٹ میں بھی دیکھا گیا۔ اس دوران برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.05، جرمنی کا ڈیکس 0.54، جاپان کا نکئی 0.16 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.98 فیصد چڑھ گیا۔ تاہم ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 0.44 فیصد کی کمی ہوئی۔

نفٹی 0.65 فیصد چھلانگ لگا کر 18132.30 پوائنٹس پر

اس سے پرجوش سرمایہ کاروں کی خریداری سے بی ایس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 361.01 پوائنٹس یعنی 0.60 فیصد بڑھ کر 60927.43 پوائنٹس اور نیشنل سٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 117.70 پوائنٹس یعنی 0.65 فیصد چھلانگ لگا کر 18132.30 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ اسی طرح بی ایس ای کامڈ کیپ 0.78 فیصد مضبوط ہوکر 25185.16 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1.46 فیصد بڑھ کر 28517.04 پوائنٹس پررہا۔

اس دوران بی ایس ای میں کل 3631 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2578 میں خریداری جبکہ 920 میں فروخت ہوئی وہیں 133 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح، این ایس ای میں، 40 کمپنیوں میں تیزی جبکہ نو میں گراوٹ رہی وہیں ایک کی قیمت مستحکم رہی۔

بی ایس ای پر ایف ایم سی جی میں 0.22 فیصد کمی کو چھوڑ کر، باقی گروپوں میں تیزی درج کی گئی۔ اس دوران میٹلز 4.59، کموڈٹیز 2.34، سی ڈی 0.94، انرجی 0.97، فنانشل سروسز 0.62، انڈسٹریلز 1.38، آئی ٹی 0.90، ٹیلی کام 1.54، یوٹیلٹیز 1.25، آٹو 0.82، بینکنگ 0.59، کیپٹلز گڈس 1.40، کنزیومر ڈیوریبلس 0.70، آئل اینڈ گیس 1.07، پاور1.15، ریئلٹی 1.38، ٹیک 0.77 اور سروسز 1.32 فیصد مضبوط رہے۔

ہاوڑہ-نیو جلپائی گوڑی وندے بھارت ایکسپریس کا ٹرائل رن

0
ہاوڑہ-نیو جلپائی گوڑی وندے بھارت ایکسپریس کا ٹرائل رن
ہاوڑہ-نیو جلپائی گوڑی وندے بھارت ایکسپریس کا ٹرائل رن

وزیر اعظم نریندر مودی 30 دسمبر کو اس روٹ پر وندے بھارت ایکسپریس کا باقاعدہ افتتاح کریں گے

کولکتہ: مغربی بنگال میں ہاوڑہ اور نیو جلپائی گوڑی کے درمیان چلنے والی تیز رفتار ٹرین وندے بھارت ایکسپریس کا ٹرائل پیر کی صبح ہاوڑہ اسٹیشن سے شروع ہوا۔

وندے بھارت ٹرین اپنے آزمائشی رن میں ہوڑہ اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 22 سے صبح 5-55 بجے روانہ ہوئی۔ جب یہ بیر بھوم کے رام پورہاٹ اسٹیشن پر پہنچی تو وہاں لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ حالانکہ رامپورہاٹ میں حالانکہ کوئی اسٹاپیج طے نہیں ہے، لیکن آج ٹرین دو منٹ کے لیے رکی۔ اس دوران موبائل فون پر ٹرین کے ساتھ سیلفی لینے کی ہوڑ لگ گئی۔

وزیر اعظم نریندر مودی 30 دسمبر کو اس روٹ پر وندے بھارت ایکسپریس کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔

مشرقی ریلوے کے ترجمان ایکلویہ چکرورتی نے کہا کہ 16 کوچ والی وندے بھارت ایکسپریس ہفتے میں چھ دن ہوڑہ اور نیو جلپائی گوڑی اسٹیشنوں کے درمیان چلے گی۔ اس جدید ترین ٹرین کو چنئی میں ریلوے کی انٹیگرل کوچ فیکٹری میں تیار کیا گیا ہے۔ اس میں زیادہ سے زیادہ 1128 مسافر سوار ہو سکتے ہیں۔ وندے بھارت ایکسپریس 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اب یہ 120-130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی اور صرف آٹھ گھنٹے میں اپنا سفر مکمل کرلے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرین صبح 6 بجے ہوڑہ اسٹیشن سے روانہ ہوگی اور 13.30 بجے نیو جلپائی گوڑی پہنچے گی۔ ایک گھنٹے کے رکنے کے بعد یہ 14.30 بجے نیو جلپائی گوڑی اسٹیشن سے نکلے گی اور 22.00 بجے ہوڑہ پہنچے گی۔

گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک میں کورونا کے فعال کیسز میں اضافہ

0
گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک میں کورونا کے فعال کیسز میں اضافہ
گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک میں کورونا کے فعال کیسز میں اضافہ

قومی راجدھانی میں کورونا کے 13 فعال معاملے سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے ایکٹیو کیسز کی تعداد 24 ہو گئی

نئی دہلی: ملک میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 12 ریاستوں میں کورونا کے نئے معاملے سامنے آئے ہیں اور دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ان کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

پنجاب، راجستھان، تلنگانہ سمیت دیگر ریاستوں میں فعال کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے پیر کو کہا کہ صبح 7 بجے تک 220.05 کروڑ سے زیادہ ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔

وزارت نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک میں کورونا کے فعال کیسز میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اب ان کی تعداد بڑھ کر 3428 ہو گئی ہے اور ایکٹو کیسز کی شرح 0.1 فیصد ہے۔ اسی عرصے میں 190 افراد کورونا سے نجات حاصل کر چکے ہیں جس کے باعث اس وبا سے صحت یاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 41 ہزار 43179 ہو گئی ہے۔ اور ملک میں صحت یاب ہونے کی شرح 98.80 فیصد ہے جب کہ کورونا وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے کوئی موت نہ ہونے کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 5,30,695 ہے اور اموات کی شرح 1.19 فیصد ہے۔

قومی راجدھانی میں 13 فعال معاملے سامنے آئے

قومی راجدھانی میں کورونا کے 13 فعال معاملے سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے ایکٹیو کیسز کی تعداد 24 ہو گئی ہے اور اس بیماری سے چھٹکارا پانے والوں کی تعداد بڑھ کر 19,80,607 ہو گئی ہے اور ایک مریض کی موت ہو گئی ہے۔ اسی عرصے میں ریاست میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 26,521 ہو گئی ہے۔

کیرالہ میں 13 فعال کیسوں کی کمی کے ساتھ، فعال کیسوں کی تعداد کم ہو کر 1,397 ہوگئی ہے۔ کورونا وبا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 67,55,106 ہوگئی ہے اور مرنے والوں کی تعداد 71,550 پر مستحکم ہے۔

کرناٹک میں کورونا انفیکشن کے 20 فعال کیسوں کی کمی کے ساتھ، ان کی کل تعداد 1,221 پر آ گئی ہے۔ اس سے چھٹکارا پانے والوں کی کل تعداد بڑھ کر 40,30,270 ہوگئی ہے اور مرنے والوں کی تعداد 40,307 ہے۔

مہاراشٹر میں 12 ایکٹو کیسز کے اضافے کے ساتھ ان کی کل تعداد 148 ہو گئی ہے۔ اس عرصے کے دوران 20 افراد کے صحت یاب ہونے کے بعد اس سے نجات پانے والوں کی مجموعی تعداد 79 لاکھ 87 ہزار 948 ہو گئی ہے۔ ریاست میں دو مریضوں کی موت کے ساتھ ہی مرنے والوں کی تعداد 1,48,415 تک پہنچ گئی ہے۔

پنجاب میں کورونا انفیکشن کے 9 ایکٹو کیسز میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث اب ایکٹو کیسز کی تعداد 37 ہو گئی ہے اور اس بیماری سے نجات پانے والوں کی تعداد 7 لاکھ 64 ہزار 863 ہو گئی ہے۔ ریاست میں مرنے والوں کی تعداد 19,289 ہے۔

مشہور افسانہ و ناول نگار شموئل احمد کا نوئیڈا میں انتقال

0
مشہور افسانہ و ناول نگار شموئل احمد کا نوئیڈا میں انتقال
مشہور افسانہ و ناول نگار شموئل احمد کا نوئیڈا میں انتقال

ذرائع کے مطابق اپنے انداز کے نرالے اور بے باک افسانہ نگار شموئل احمد نے آج صبح نوئیڈا میں آخری سانس لی۔ بڑا بیٹا پونہ میں پروفیسر ہے جبکہ چھوٹا بیٹا پائلٹ ہے، بیٹی نوئیڈا میں ہی اپنا این جی او وغیرہ چلاتی ہے

پٹنہ: ساتویں دہائی کے مشہور افسانہ و ناول نگار شموئل احمد کا نوئیڈا میں بیٹی کی رہائش گاہ پر انتقال ہوگیا وہ ایک عرصے سے بیمار تھے اور لیور کینسر کی بیماری میں مبتلا تھے ان کی عمر تقریباً 77 برس تھی پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں ان کی تدفین نوئیڈا میں ہی کردی گئی۔

ذرائع کے مطابق اپنے انداز کے نرالے اور بے باک افسانہ نگار شموئل احمد نے آج صبح نوئیڈا میں آخری سانس لی۔ بڑا بیٹا پونا میں پروفیسر ہے جبکہ چھوٹا بیٹا پائلٹ ہے ۔ بیٹی نوئیڈا میں ہی اپنا این جی او وغیرہ چلاتی ہے۔

شموئل احمد 4 مئی 1945 کو بھاگلپور میں پیدا ہوئے تھے۔ سول انجینیرنگ کی ڈگری حاصل کی اور حکومت بہار کے شعبہ پبلک ہیلتھ انجینیرنگ میں چیف انجینئیر کے عہدے سے ریٹایر ہوے۔ انہیں بہترین فکشن نگاری کے لیے عالمی فروغ اردو ادب دوحہ، قطر 2012 کے انعام سے نوازہ گیا ہے.

مسٹر شموئل پٹنہ کے پاٹلی پترا میں مقیم ہوگئے۔ انہیں بچپن ہی سے ادبی ذوق رہا ہے چھٹی ساتویں جماعت ہی سے طبع آزمائی کرنے لگے لیکن باضابطہ اشاعت کا سلسلہ 1970ء کے آس پاس شروع ہوا جو چار پانچ سال تک چلتا رہا۔ اس کے بعد چار پانچ سال تک خاموشی رہی، اس کے بعد پھر لکھنا شروع کیا جو ہنوز جاری تھا۔

اردو افسانے

اب تک ان کی تیس کہانیاں شائع ہوچکی ہیں۔ ایک افسانوی مجموعہ بگولے، 1988ء میں شائع ہوا۔ وہ دو جنس کی نفسیات کو اپنی کہانیوں کا موضوع بناتے ہیں ساتھ ہی ساتھ استحصال اور جبروتشدد کی عکاسی کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ذات کی تلاش میں بھی گم ہوجاتے ہیں۔ وہ آج کے نظام ہی کو استحصال اور کرپشن کی وجہ بتاتے ہیں چونکہ ان کا تعلق صحافت سے بھی ہے اس لئے زبان و بیان پر بہت حد تک گرفت مضبوط ہے۔ 1980 کے بعد اردو افسانے نے پھر افسانوی رنگ اختیار کیا ہے اس سے وہ بہت خوش تھے حالانکہ وہ خود بھی کچھ کہانیوں میں تجربے کے شکار ہوگئے ہیں۔ اردو کے علاوہ ہندی میں بھی کہانیاں لکھتے تھے وہ وقت اور حالات سے سمجھوتہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

سنگھار دان جیسی کہانی کے خالق شموئل احمد اپنے منفرد اسلوب اور بے باک لہجے کے لئے جانے جاتے تھے۔ ان کے ہر افسانے میں ایک نیا تجربہ اور نئی حسسیت کار فرما نظر آتی ہے۔

شموئل صرف جنس کی نفسیات پر ہی گہری نظر نہیں رکھتے بلکہ عصری اور سیاسی مسائل کو تمام پختگی سے پیش کرنے کا فن جانتے ہیں۔ ان کا دلکش اسلوب فنی رویہ اور تخلیقی مزاج انہیں اپنے ہم عصروں سے الگ کرتا ہے۔ ‘عنکبوت، اونٹ، ظہار اور سنگھار دان’ جیسی کہانیاں شموئل کے قلم سے ہی نکل سکتی تھیں۔ شموئل احمد کو علم نجوم سے گہرا شغف تھا۔ انہوں نے علم نجوم کی اصطلاحوں کا بہت تخلیقی اظہار ‘مصری کی ڈلی’ چھگمانس’ اور القمبوئس کی گردن’ جیسی کہانیوں میں کیا ہے۔ شمویل ہندی زبان میں بھی یکساں قدرت سے لکھتے ہیں۔

شموئل احمد کے افسانوں کا ترجمہ

شموئل احمد کے افسانوں کا ترجمہ انگریزی کی علاوہ ہندوستان کی دوسری زبانوں میں بھی ہو چکا ہے۔ پنجابی میں ان کے نمائندہ افسانوں کا انخاب ‘ مرگ ترشنا ‘ شائع ہوا۔ شموئل ٹیلی اسکرپٹ بھی لکھتے ہیں۔ ان کی کہانی ‘ آنگن کا پیڑ ، کاغذی پیراہن اور مرگ ترشنا پر ٹیلی فلمیں بن چکی ہیں جس کی اسکرپٹ شمویل نے ہی لکھی. . ان کا ناول ‘ندی’ پینگوئن اردو نے شائع کیا ہے۔

حال میں ہی اس ناول کا انگریزی ترجمہ River جرمنی سے شائع ہوا ہے۔ ان کی کہانی ‘سنگاردان’ کا انگریزی ترجمہ ہارپر کولنز کے ذریعہ شائع ہوا، اور ابھے کمار کے ذریعہ ترمیم شدہ بہاری ادب کی کتاب میں شامل ہے۔ جرمنی سے ہی انگریزی میں ان کے افسانوں کا مجموعہ ‘ Dressing Table The کے عنوان سے شائع ہوا ہے جس کی یوروپ میں بہت دھوم ہے۔ شموئل احمد کا دوسرا ناول ‘مھاماری’ اردو کے اھم سیاسی ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔ شموئل صف اول کے مترجم بھی ہیں۔ ساہتیہ اکاڈمی کے اصرار پر گجراتی ناول کنواں کا ہندی سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ ان کے افسانوی مجموعے؛ میں۔ 1. بگولے 2سنگھار دان، 3 القمبوس کی گردن. 4 عنکبوت ناول؛مھاماری۔5. ندی شامل ہیں۔

امریکہ میں برفانی طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد ہوئی 28

0
امریکہ میں برفانی طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد ہوئی 28
امریکہ میں برفانی طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد ہوئی 28

کرسمس کے دوران امریکہ میں برفانی طوفان سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 28 ہو گئی ہے

واشنگٹن: امریکہ میں برفانی طوفان سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 28 ہو گئی ہے کیونکہ کرسمس کے دوران شدید سرد ہواؤں اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔

ہفتہ کو اوکلاہوما، کینٹکی، مسوری، ٹینیسی، وسکونسن، کنساس، نیبراسکا، اوہائیو، نیویارک، کولوراڈو اور مشی گن میں موسم سے متعلقہ واقعات میں 23 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ تین کاریں خراب موسم کی وجہ سے ٹکرا گئیں۔ پاور آؤٹیج سروس کے مطابق طوفان سے بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچنے کے بعد 180,000 سے زیادہ گھر اور کاروبار بجلی سے محروم ہیں۔

اس دوران پورے ملک میں 3100 سے زائد پروازیں منسوخ اور 7100 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔