ہفتہ, اپریل 4, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 198

مدھیامک امتحانات: ہر سنٹر پر تین تین سی سی ٹی وی لگائے جائیں گے: بورڈ

0

بورڈ نے واضح کردیا ہے کہ مدھیامک امتحانات کے سوالیہ پرچے کی حفاظت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

کلکتہ: ٹیچر اہلیتی ٹیسٹ کے بعد سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ نے مدھیامک امتحانات کے دوران پرچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور پرچہ لیک نہ ہو اس کے لئے ہر امتحانی مرکز میں کم از کم تین سی سی ٹی وی نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بورڈ کے ذرائع کے مطابق بنیادی طور پر ان تین کمروں میں کم از کم تین سی سی ٹی وی لگائے جائیں جن کے ذریعے امیدوار داخل ہوتے ہیں، ہیڈ ماسٹر کے کمرے اور اس کمرے میں جہاں سوالیہ پرچے رکھے جاتے ہیں۔ بورڈ کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جن اسکولوں میں یہ انتظامات نہیں ہوسکیں گے وہاں سے سنٹر کو ختم کردیا جائے گا۔ بورڈ کے مبصر امتحانات سے قبل ان مراکز کا دورہ کریں گے۔

سوالیہ پرچے کی حفاظت سے کوئی سمجھوتہ نہیں

عام طور پر سیکنڈری بورڈ ضلع انتظامیہ کی مدد سے سی سی ٹی وی کے ذریعے صرف حساس مراکز کی نگرانی کرتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ بورڈ عملاً تمام امتحانی مرکز کو سی سی ٹی وی کے دائرے میں لارہی ہے۔ بورڈ نے واضح کردیا ہے کہ سوالیہ پرچے کی حفاظت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بورڈ کے صدر رامانوجا گنگوپادھیائے نے کہا کہ ہم نے ہر اسکول میں کم از کم تین سی سی ٹی وی لگانے کی ہدایت دی ہے۔ تاکہ اگر کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ہمارے پاس مناسب ثبوت موجود ہوں گے۔

ماضی میں امتحانات ختم ہونے سے قبل ہی سوالیہ پرچہ مختلف سوشل سائٹس لیک ہوتے رہے ہیں۔ اس کے مدنظر بورڈ نے سوالیہ پرچوں کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ امتحان مکمل ہونے تک کوئی بھی طالب علم سوالیہ پرچہ گھر نہیں لے جاسکتا ہے۔ اسے پورا امتحان ختم ہونے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یعنی جب تک پورا امتحان ختم نہ ہو جائے کوئی بھی امیدوار سنٹر سے سوالیہ پرچہ نہیں لے جا سکتا۔ اگر کوئی امیدوار جلد امتحان ختم کرتا ہے اور امتحانی مرکز سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے جانے کی اجازت ہوگی۔ تاہم، اگر اجازت دے دی جائے تو بھی امیدوار کو متعلقہ اساتذہ کے پاس سوالیہ پرچہ جمع کرنا ہوگا۔ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن پہلے ہی اس سلسلے میں رہنما خطوط جاری کردیا ہے۔

امتحان فروری کے آخری ہفتے سے شروع ہوگا

مدھیامک امتحان فروری کے آخری ہفتے سے شروع ہونے والا ہے۔ بورڈ کا اندازہ ہے کہ اس بار امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ مدھیامک شکشا پریشد کے صدر رامانوج گنگوپادھیائے نے کہا کہ کئی بار دیکھا گیا ہے کہ سوالیہ پرچہ کی تصویریں لی جاتی ہیں اور سوشل سائٹس پر غلط معلومات پھیلائی جاتی ہیں۔ ہم اس غلط معلومات کو روکنا چاہتے ہیں، اسی لیے ہماری طرف سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسکول یا امتحانی مرکز میں توڑ پھوڑ کرنے سے سخت کارروائی ہوگی

اس کے علاوہ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر امتحان کے دوران امیدوار کسی بھی وجہ سے اسکول یا امتحانی مرکز میں توڑ پھوڑ کرتا ہے تو بورڈ سخت کارروائی کرے گی۔ عموماً امتحان کے اختتام کے دن مختلف اسکولوں میں توڑ پھوڑ اور بدنظمی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔اور اس بار بورڈ نے سخت رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو اسکول کے طلبہ اس طرح کی توڑ پھوڑ یا افراتفری کے واقعات کا سبب بنیں گے، ان کے مدھیامک کے نتائج شائع نہیں کیے جائیں گے۔ مدھیہ شکشا پریشد مختلف اسکولوں کو گائیڈ لائن بھیج رہی ہے۔

بورڈ کے صدر رامانوجا گنگوپادھیائے نے کہا کہ اگر کسی بھی اسکول میں ایسا واقعہ پیش آتا ہے، تو ہمیں ویڈیو کو جیو ٹیگ کرنے کے ساتھ تحریری شکل میں شکایت درج کرنی چاہیے۔ ہم اس اسکول کے نتائج کو شائع نہیں کریں گے۔

بورڈ کے صدر نے کہا کہ جب تک حصہ لینے والے اسکول امتحانی مرکز کو معاوضہ ادا نہیں کرتے اور افسوس کا اظہار نہیں کرتے، اس وقت تک اس اسکول کا نتیجہ روک دیا جائے گا، تاہم نتیجہ کب تک روکا جائے گا، اس بارے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ بورڈ کے صدر نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اس معاملے میں مزید تادیبی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

پنجاب کے 12 سرکاری اسکول معروف شخصیات کے نام سے منسوب

0
پنجاب کے 12 سرکاری اسکول معروف شخصیات کے نام سے منسوب
پنجاب کے 12 سرکاری اسکول معروف شخصیات کے نام سے منسوب

پنجاب حکومت نے گزشتہ ماہ سرکاری اسکولوں کا نام معروف شخصیات کے نام پر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں 12 سرکاری اسکولوں کے نام تبدیل کیے گئے ہیں

چنڈی گڑھ: پنجاب کی حکومت نے مجاہد آزادی، شہید فوجیوں اور معروف مصنفین کی عزت افزائی کرنے اور آنے والی نسلوں کو ان کے بارے میں جانکاری فراہم کرانے کے مقصد سے ریاست کے 12 سرکاری اسکولوں کا نام بدل کر ان معروف شخصیات کے نام پر رکھا ہے۔

ریاست کے تعلیم کے وزیر ہرجوت سنگھ بینس نے بدھ کو یہاں بتایا کہ ریاستی حکومت نے گزشتہ ماہ سرکاری اسکولوں کا نام معروف شخصیات کے نام پر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں 12 سرکاری اسکولوں کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔

اسکولوں کی فہرست

ان میں برنالا ضلع میں انکھی، ریاستی پرائمری اسمارٹ اسکول دھولا، بھٹنڈا ضلع میں شہید کرتار سنگھ سرابھا، گورنمنٹ پرائمری اسکول ہریجن بستی کوٹ پھٹا اور "شہید ادھم سنگھ” گورنمنٹ پرائمری سکول ادھم سنگھ نگر، فتح گڑھ صاحب ضلع میں ‘شہید ملکیت سنگھ’ گورنمنٹ سیکنڈری اسکول پوہلوماجرا، ضلع گورداسپور میں ‘شہید لانس نائک راجندر سنگھ’ گورنمنٹ ہائی اسکول پبرالی کلاں، ہوشیار پور ضلع میں ‘شہید بختابر سنگھ’ گورنمنٹ سینئر سیکنڈری اسکول حاجی پور اور ‘شہید صوبیدار راجیش کمار’، گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول کلیچ پور کلوتاں، پٹیالہ ضلع روڑکی میں فریڈم فائٹر ‘بھائی نانو سنگھ’ پٹھانیہ میموریل گورنمنٹ سیکنڈری اسکول ہردوشرن، ضلع ملیرکوٹلا ‘شہید گرپریت سنگھ باجوہ’گورنمنٹ پرائمری اسکول بڈیشے اور ضلع امرتسر میں ‘شہید ریشم سنگھ’ گورنمنٹ پرائمری اسکول گرونانک پورہ رکھا گیا ہے۔

پاکستان میں 10 لاکھ غیر مسلم ووٹرز کا اضافہ: رپورٹ

0
پاکستان میں 10 لاکھ غیر مسلم ووٹرز کا اضافہ: رپورٹ
پاکستان میں 10 لاکھ غیر مسلم ووٹرز کا اضافہ: رپورٹ

نادرا نے اب تک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے 44 لاکھ 30 ہزار افراد کو رجسٹر کیا ہے جن میں عیسائی، ہندو، بدھ مت اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں

اسلام آباد: پاکستان میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ووٹرز کی تعداد 44 لاکھ 30 ہزار ہو گئی ہے جو کہ 2018 میں 36 لاکھ 30 ہزار اور 2013 کے عام انتخابات کے لیے انتخابی فہرستوں میں 27 لاکھ 70 ہزار تھی۔

ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق اقلیتی ووٹرز کے تازہ ترین اعداد و شمار کا انکشاف نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین طارق ملک نے سینیٹر کامران مائیکل کی قیادت میں ایک بین المذاہب وفد کے ساتھ مشاورتی اجلاس کے دوران کیا۔ چیئرمین نادرا نے وفد کو بتایا کہ نادرا نے اب تک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے 44 لاکھ 30 ہزار افراد کو رجسٹر کیا ہے جن میں عیسائی، ہندو، بدھ مت اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

مشاورتی اجلاس میں سینیٹر گردیپ سنگھ، سینیٹر دانش کمار، سینیٹر انور لال ڈین، سینیٹر کرشنا بائی، رکن قومی اسمبلی عامر نوید جیوا اور رکن صوبائی اسمبلی شکیل مارکس کھوکھر نے شرکت کی۔
بین المذاہب وفد نے چیئرمین نادرا کو شناختی کارڈ کے حصول میں اپنی برادریوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔

طارق ملک نے وفد کے ارکان کو بتایا کہ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہری کے حقوق جتنے ہی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں نے ریاست کے سیاسی و سماجی استحکام، ترقی اور خوشحالی میں کردار ادا کیا ہے، انہیں معاشرے میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔

تمام شہری کو ملک میں برابر کے حقوق حاصل ہیں

انہوں نے کہا کہ ہم سب اس ملک کے برابر کے شہری ہیں اور ہم سب کو برابر کے حقوق حاصل ہیں، پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 20 تمام شہریوں کو اپنے مذاہب پر عمل کرنے اور اپنے مذہبی امور چلانے کی آزادی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے شہریوں کی شناخت کا محافظ ہونے کے ناطے نادرا اپنی ذمہ داری سے پوری طرح آگاہ ہے اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی رجسٹریشن کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نادرا ملک میں اقلیتوں کی رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ’آئیڈنٹِٹی ایمپاورمنٹ‘ کے عنوان سے ایک خصوصی رجسٹریشن مہم شروع کر رہا ہے۔

مشاورتی اجلاس اور مذکورہ مہم کا مقصد اقلیتی برادریوں کے افراد میں شناخت کے حصول کے لیے بیداری پیدا کرنا ہے کیونکہ یہ انہیں اپنے سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق کا استعمال کرنے کے قابل بناتا ہے۔

اقلیتی رجسٹریشن کی 7 روزہ مہم

اقلیتی رجسٹریشن کی 7 روزہ مہم کا آغاز کرتے ہوئے طارق ملک نے کہا کہ ایک سال قبل بطور چیئرمین نادرا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے دیگر مذاہب اور برادریوں کے لوگوں کی رجسٹریشن میں رکاوٹوں کو فوری طور پر ختم کر دیا ہے۔ طارق ملک نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں ’انکلوسیو رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ‘ بنایا ہے تاکہ کوئی فرد رہ نہ جائے، علاوہ ازیں اقلیتی گروہوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پہلی بار شناختی کارڈ کا اجرا مفت کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید اعلان کیا کہ اگر میاں بیوی بائیو میٹرک تصدیق فراہم کریں تو نکاح نامہ پیش کیے بغیر بھی شادی کی رجسٹریشن کی جا سکتی ہے، اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی سہولت کے لیے حلف نامے کی بنیاد پر طلاق بھی نادرا میں رجسٹر کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نادرا نے لوگوں کو ادارے کی پالیسی اور طریقہ کار کے بارے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ہیلپ لائن شروع کی ہے جسے وزارت انسانی حقوق کی ہیلپ لائن کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔

انہوں نے نادرا رجسٹریشن مراکز میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے خصوصی کاؤنٹر اور ترجیحی بنیاد پر سہولت فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

اسرائیلی وزیر مسجد اقصیٰ میں زبردستی داخل ہوئے، اسرائیلی فوج نے ایک 15 سالہ فلسطینی کو شہید کر دیا

0
اسرائیلی وزیر مسجد اقصی میں زبردستی داخل ہوئے، اسرائیلی فوج نے ایک 15 سالہ فلسطینی کو شہید کر دیا
اسرائیلی وزیر مسجد اقصی میں زبردستی داخل ہوئے، اسرائیلی فوج نے ایک 15 سالہ فلسطینی کو شہید کر دیا

فلسطینی اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت کو خراب کرنے کے سنگین نتائج ہوں گے

بیت المقدس: اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامر بن گویر نے مقبوضہ مشرقی القدس میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔ وہیں اسرائیلی فوج نے بیت الحم میں ایک 15 سالہ فلسطینی لڑکے کو شہید کر دیا۔

اشتعال انگیز اقدامات کے ساتھ پہچانے جانے والے انتہائی دائیں بازو کے بن گویر 5 سال بعد مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے والے پہلے اسرائیلی وزیر ہیں۔ بن گویر صبح سویرے اسرائیلی پولیس کی سخت حفاظت میں حرم شریف میں داخل ہوئے۔ اشتعال انگیز اقدامات کے ساتھ پہچانے جانے والے انتہائی دائیں بازو کے بن گویر 5 سال بعد مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے والے پہلے اسرائیلی وزیر ہیں۔

اسرائیلی سیاست دان کی مسجد الاقصیٰ کی حیثیت کی خلاف ورزی اور اسے فلسطینیوں کی طرف سے حملے کے طور پر تصور کردہ یہ کاروائی عبرانی کیلنڈر کے مطابق "تیویت” کے مہینے کی 10 تاریخ کو سر انجام دی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کا انتباہ

فلسطینی اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت کو خراب کرنے کے سنگین نتائج ہوں گے۔ فلسطینی سرکاری ایجنسی WAFA کی خبر کے مطابق فلسطینی ایوان صدر کے ترجمان نبیل ابو رودینے نے اسرائیل کی طرف سے یہودی آباد کاروں کو مسجد اقصیٰ میں تورات کی تلاوت کی اجازت دینے اور عبادت گاہ کے لیے جگہ کا تعین کرنے کی جاری دھمکیوں پر بیان دیا۔

مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی آبادکاری کی سرگرمیوں اور ہر روز فلسطینیوں کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ اقصیٰ میں تمام مذاہب کو مساوی حقوق دینے کے خطرات پر زور دیتے ہوئے ابو رودین نے زور دے کر کہا کہ مسجد ِ اقصیٰ کی تاریخی حیثیت کو بگاڑ نے کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے اس کا مطلب اعلان جنگ ہوگا۔

فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس میں دہیشہ پناہ گزین کیمپ پر دھاوا بولا ہے۔

اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید

دریں اثنا اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے بیت الحم میں ایک 15 سالہ فلسطینی لڑکے کو شہید کر دیا ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس میں دہیشہ پناہ گزین کیمپ پر دھاوا بولا ہے۔ اطلاع ملی ہے کہ چھاپے کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے سینے میں گولی لگنے سے 15 سالہ فلسطینی عدیم عیاد شہید ہوگیا۔

دوسری جانب فلسطین نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم (اسرائیلی) قابض افواج کی طرف سے بیت الحم کے جنوب میں واقع دہیشا پناہ گزین کیمپ پر وحشیانہ حملے کے دوران شہید ہونے والے بچے عدیم عیاد (15 سال) کے خلاف سزائے موت کے گھناؤنے جرم کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک فلسطینی بچے کا قتل اسرائیل کے ماورائے عدالت قتل اور فلسطینی بچوں کو نشانہ بنانے کی کاروائی کا ایک حصہ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بینجمن نتان یا ہو کی حکومت علاقے میں کیے جانے والے تمام مظالم، جرائم اور خلاف ورزیوں اور ان کے اثرات کی ذمہ دار ہے اور اس سے اسرائیل کے قابض ریاست میں مزید جرائم کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔

فیس بک میں 2023 کی پہلی بہت بڑی تبدیلی

0
فیس بک میں 2023 کی پہلی بہت بڑی تبدیلی
فیس بک میں 2023 کی پہلی بہت بڑی تبدیلی

دنیا کا مقبول ترین سوشل میڈیا ایپ فیس بک کے اندر چیٹس کے آپشن کو ختم کیا گیا

واشنگٹن: فیس بک دنیا کی پہلی سوشل میڈیا ایپ تھی جس میں ایپ کے اندر چیٹس کے آپشن کو ختم کیا گیا۔

فیس بک دنیا کا مقبول ترین سوشل میڈیا نیٹ ورک ہے مگر اس کی موبائل ایپ پر چیٹ کے لیے میسنجر کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔ مگر 2023 اس حوالے سے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلی کا سال ثابت ہونے والا ہے۔

2014 میں فیس بک نے ایپ کے اندر چیٹنگ کے فیچر کو ختم کرکے چیٹس کے لیے ایک الگ ایپ میسنجر پیش کی۔ یہ طریقہ کار کام بھی کرگیا اور واٹس ایپ کے بعد میسنجر کو دنیا کی دوسری بڑی میسجنگ ایپ تصور کیا جاتا ہے۔

مگر اب میٹا نے فیس بک کے اندر چیٹنگ کے فیچر کو پھر واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے نئے فیچرز کے بارے میں بتانے والے ٹوئٹر صارف Matt Navarra نے اس نئے چیٹ آپشن کا اسکرین شاٹ ٹویٹ کیا۔ اس اسکرین شاٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ فیس بک ایپ میں رائٹ سائیڈ پر swipe کرکے چیٹس تک رسائی ممکن ہوگی اور میسنجر ایپ کو اوپن کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ نیا فیچر اس وقت محدود صارفین کو دستیاب ہے اور ممکنہ طور پر آنے والے مہینوں میں تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ صارفین کے لیے بہت اہم فیچر ہے کیونکہ وہ چیٹ اور میسجز کو فیس بک ایپ سے نکلے بغیر ہی دیکھ کر جواب دے سکیں گے۔

اسی طرح فون کی اسٹوریج کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ میسنجر ایپ کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

اظہار رائے کی آزادی پر کوئی اضافی پابندی نہیں لگائی جا سکتی: سپریم کورٹ

0
اظہار رائے کی آزادی پر کوئی اضافی پابندی نہیں لگائی جا سکتی: سپریم کورٹ
اظہار رائے کی آزادی پر کوئی اضافی پابندی نہیں لگائی جا سکتی: سپریم کورٹ

جسٹس راما سبرامنیم نے کثرت رائے سے فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19(1)(اے) کے تحت اظہار رائے کی آزادی پر کوئی اضافی پابندی نہیں لگائی جا سکتی جیسا کہ آرٹیکل 19(2) کے تحت درج ہے

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ کسی شہری کے اظہار رائے کی آزادی کے حق پر کوئی اضافی پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہے۔ جسٹس ایس اے نذیر، جسٹس بی آر گوئی، جسٹس اے بوپنا، جسٹس وی راما سبرامنیم اور جسٹس بی جسٹس وی ناگرتھنا کی آئینی بنچ نے اتر پردیش کے بلند شہر میں 2016 کے گینگ ریپ کیس میں اتر پردیش کے سابق وزیر اعظم خان کے بیان سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد کثرت رائے سے فیصلہ سنایا۔ جسٹس ناگارتھنا نے کثرت رائے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے الگ فیصلہ سنایا۔

جسٹس راما سبرامنیم نے کثرت رائے سے فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19(1)(اے) کے تحت اظہار رائے کی آزادی پر کوئی اضافی پابندی نہیں لگائی جا سکتی جیسا کہ آرٹیکل 19(2) کے تحت درج ہے۔ یہ بھی کہا کہ بیان کے ذمہ دار وزیر خود ہیں۔ کسی وزیر کے بیان کو حکومت سے بدتمیزی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس ناگارتھنا نے اپنے علیحدہ فیصلے میں کہا کہ نفرت انگیز تقریر مساوات اور بھائی چارے کی جڑ پر حملہ کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نفرت انگیز تقریر کو روکنے اور شہریوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے بنیادی فرائض کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس ناگرتھنا نے کہا کہ یہ سیاسی پارٹیوں کا کام ہے کہ وہ اپنے وزراء کی تقریروں کو کنٹرول کریں۔ ایسا ضابطہ اخلاق بنا کر کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی شہری جو کسی عوامی کارکن کی طرف سے اس طرح کی تقاریر یا نفرت انگیز تقریر سے پریشانی محسوس کرتا ہے وہ اس کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

ماں بیٹی کی اجتماعی عصمت دری

ایک شخص نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ جولائی 2016 میں بلند شہر کے قریب ایک ہائی وے پر مبینہ اجتماعی عصمت دری کے معاملے کو دہلی منتقل کرنے اور اعظم خان کے متنازعہ بیان پر ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی تھی۔

تاہم، مسٹر خان نے اپنے اس بیان پر معافی مانگی تھی جس میں ماں بیٹی کے اجتماعی عصمت دری کے متاثرین کے مقاصد کو گینگ ریپ کیس سے منسوب کیا گیا تھا۔

اس معاملے میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے 5 اکتوبر 2017 کو مختلف پہلوؤں پر فیصلہ کرنے کے لیے اس معاملے کو آئینی بنچ کے پاس بھیج دیا تھا۔ تین رکنی بنچ کے فیصلے میں جن پہلوؤں پر غور کیا گیا ان میں یہ بھی شامل تھا کہ کیا کوئی عوامی کارکن یا وزیر حساس معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے آزادی اظہار کا دعویٰ کر سکتا ہے، جس کا معاملہ زیر تفتیش ہے۔

کانجھا والا حادثہ کے مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی: کیجریوال

0
کانجھا والا حادثہ کے مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی: کیجریوال
کانجھا والا حادثہ کے مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی: کیجریوال

کانجھا والا حادثہ کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی

نئی دہلی: کانجھا والا حادثہ کو شرمناک قرار دیتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے پیر کو کہا کہ قصورواروں کو سخت سزا دی جائے گی۔  مسٹر کیجریوال نے ٹویٹ کیا کہ "کانجھا والا میں ہماری بہن کے ساتھ جو ہوا وہ انتہائی شرمناک ہے۔ مجھے امید ہے کہ مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ سے بات کی ہے۔ ان سے مطالبہ کیا کہ ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مجرموں کے خلاف آئی پی سی کی سخت ترین دفعات لگائی جائیں۔ مجرموں کے اعلیٰ سیاسی روابط ہو سکتے ہیں لیکن کسی قسم کی نرمی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے سخت کارروائی کا یقین دلایا۔

واضح رہے کہ اتوار کو کانجھا والا میں ایک کار نے لڑکی کی اسکوٹی کو ٹکر ماری اور لڑکی کو سلطان پوری سے کانجھا والا گھسیٹ کر لے گئی۔ اس حادثے میں لڑکی کی موت ہو گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں پانچ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

پارٹی میں بدعنوان عناصر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا: ممتا بنرجی

0
پارٹی میں بدعنوان عناصر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا: ممتا بنرجی
پارٹی میں بدعنوان عناصر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا: ممتا بنرجی

ممتا بنرجی کی پارٹی کے آل انڈیا جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے ”دیدی کے سورکھچا کوچ“ کے نام سے پروگرام کا اعلان کیا،

کلکتہ: ممتا بنرجی نے آج ”دیدی کے سورکھچا کوچ“ پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے پارٹی لیڈروں سے کہا کہ بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاول میں، ایک کیڑے سے بہت سے کیڑے اگتے ہیں، اس لیے اس کیڑے کو پہلے ختم کرنا چاہیے۔ یاد رکھیں، میں خود پارٹی سے بالاتر نہیں ہوں، عوام سے بالاتر نہیں ہوں۔

سرکاری سہولیات عام لوگوں تک پہنچ رہی ہیں یا نہیں

سرکاری سہولیات عام لوگوں تک پہنچ رہی ہیں یا نہیں، ترنمول اس بار گھر گھر پہنچ کر خبر لینا چاہتی ہے۔ اس کے لیے سال کے دوسرے دن پارٹی کے آل انڈیا جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے ”دیدی کے سورکھچا کوچ“ کے نام سے پروگرام کا اعلان کیا۔ اس پروگرام میں ”دیدی کے سفیر“ریاست کے ہر شہری کے گھر جا کر یہ معلوم کریں گے کہ انہیں حکومت کے فلاحی اسکیموں کا فائدہ مل رہا ہے یا نہیں۔ نچلی سطح پر عوامی رابطہ اسی طرح جاری رہے گا۔

اس تناظر میں ممتا کا سوال تھا کہ کیا اس پروگرام میں بدعنوان لیڈروں، عوامی نمائندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی؟۔ اس سے قبل کئی پنچایتوں کے عوامی نمائندوں پر بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزامات کی وجہ سے انہیں استعفیٰ لے لیا گیا تھا۔

ممتا بنرجی کی پارٹی لیڈروں کو نصیحت

ممتا بنرجی نے ابھیشیک بنرجی کی موجودگی میں کہا کہ گرام پنچایت کا پیسہ ریاستی حکومت کے ذریعے جاتا تھا۔ اب براہ راست جاتا ہے اس لیے جو مانیٹرنگ ہم کریں گے، اس کا موقع بہت کم ہے۔ ہمیں نظر رکھنا ہے۔ مجھے لوگوں سے معافی مانگنی ہے۔ اچھا کام کرنے والوں کو سراہا جائے گا۔ انہیں زیادہ ترجیح دی جائے گی۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ چاول میں اگر کوئی کیڑا اگتا ہے تو آپ اسے مکمل طور پر تلف نہیں کرتے لیکن اس کیڑے سے سارا چاول متاثر ہو جاتا ہے۔ لہذا، مجھے پہلے کیڑے کو ختم کرنا ہوگا. یہ دیکھنا چاہیے کہ کیڑے مکوڑے نہ اگیں۔ اور اگر کیڑا پیدا ہو جائے تو پہلے اسے خبردار کیا جائے۔ کہنا پڑے گا، یا تو اپنی اصلاح کریں، یا ہمیں کچھ اور سوچنا پڑے گا۔ یاد رکھیں میں نہ پارٹی سے بالا ہوں اور نہ ہی دیگر لیڈر۔ لوگوں کی مجھ پر کیا ذمہ داری ہے، میں ہر روز صبح سے رات تک کام کرتی ہوں۔

شیئر مارکیٹ نے تیزی کے ساتھ نئے سال کا استقبال کیا، سینسیکس-نفٹی میں نصف فیصد سے زیادہ اضافہ

0
شیئر مارکیٹ نے تیزی کے ساتھ نئے سال کا استقبال کیا، سینسیکس-نفٹی میں نصف فیصد سے زیادہ اضافہ
شیئر مارکیٹ نے تیزی کے ساتھ نئے سال کا استقبال کیا، سینسیکس-نفٹی میں نصف فیصد سے زیادہ اضافہ

شیئر مارکیٹ نے آج نصف فیصد سے زیادہ کی چھلانگ کے ساتھ نئے سال کا استقبال کیا، سینسیکس 0.54 فیصد کی چھلانگ لگا کر 61 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح 61167.79 پوائنٹس کو عبور کر گیا

ممبئی: یورپی منڈیوں میں ملے جلے رجحان کے درمیان مقامی سرمایہ کاروں کی طرف سے ہمہ گیر خریداری کی وجہ سے شیئر مارکیٹ نے آج نصف فیصد سے زیادہ کی چھلانگ کے ساتھ نئے سال کا استقبال کیا۔

بی ایس ای کا تیس شیئروں والا حساس انڈیکس سینسیکس 327.05 پوائنٹس یعنی 0.54 فیصد کی چھلانگ لگا کر 61 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح 61167.79 پوائنٹس کو عبور کر گیا اور نیشنل سٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 92.15 پوائنٹس یعنی 0.151 فیصد اضافے کے ساتھ 18197.45 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ اسی طرح بی ایس ای مڈ کیپ بھی 0.57 فیصد کی تیزی لیکر 25,458.77 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.84 فیصد چڑھ کر 29,169.29 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

اس عرصے کے دوران بی ایس ای پر مجموعی طور پر 3788 کمپنیوں کے شیئروں میں کاروبار ہوا جن میں سے 2306 میں خریداری 1304 میں فروخت جبکہ 178 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای میں 31 کمپنیاں سبز جبکہ 18 سرخ نشان پر رہیں، جبکہ ایک کی قیمت مستحکم رہی۔

بی ایس ای میں پاور، ہیلتھ کیئر اور کمزیومر ڈیوریبلس گروپ کی 0.55 فیصد تک کی گراوٹ کو چوڑ کر، باقی 18 گروپوں میں تیزی رہی۔ اس دوران میٹل 2.83، کموڈٹیز 1.23، فنانشل سروسز 0.61، انڈسٹریلز 0.76، ٹیلی کام 1.32، آٹو 0.43، بینکنگ 0.46، ریئلٹی 0.99، ٹیک 0.62 اور سروسز گروپ کے شیئر 1.08 فیصد مضبوط رہے۔

یورپی منڈیوں میں ملا جلا رجحان رہا جبکہ نئے سال کی تعطیل کے باعث ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار معطل رہا۔ اس عرصے کے دوران برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.81 فیصد گرا جبکہ جرمنی کے ڈی اے ایکس میں 0.87 فیصد اضافہ ہوا۔

لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی محض طالبانی پہرہ یا دینی حکم

0
لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی محض طالبانی پہرہ یا دینی حکم
لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی محض طالبانی پہرہ یا دینی حکم

طالبان حکومت کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کیا مذہب اسلام کے اُس حکم سے متصادم ہے جس میں حصول علم پر ہر ممکن زور دیا گیا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری۔۔۔۔۔۔

سیریا کی ایک نوجوان خاتون کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔ دو منٹ سے بھی کم وقت کے اس ویڈیو نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو متوجہ کیا ہے۔ ’العربیۃ‘ کے مطابق اس ویڈیو پر لوگوں نے جذباتی تبصرے لکھے اور کہا کہ اس ویڈیو نے انہیں آبدیدہ کر دیا۔ اس ویڈیو میں جو کچھ دیکھا اس سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ تقریباً 20؍ سالہ لڑکی رزان یوسف سلیمان یونیورسٹی کا گریجویشن گاؤن اور سر پر کالی ٹوپی پہنے ہوئے ہے۔ رزان کے بائیں ہاتھ میں سفید گلابوں کا گلدستہ ہے، دائیں ہاتھ میں ایک سرٹیفکیٹ ہے۔ اس نے المدینہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایجوکیشن سے فراغت حاصل کی ہے۔ اس کے بعد کا منظر جذباتی نوعیت میں بدل جاتا ہے۔

رزان یوسف سلیمان اپنے والد کے سبزیاں فروخت کرنے والے خیمے میں آتی ہے۔ پہلے وہ انھیں گلدستہ پیش کرتی ہے، پھر ساتھ میں ایک کیک بھی لاتی ہے، جس پر والد کی تعریف میں خوبصورت جملہ لکھا ہے۔ رزان والہانہ انداز میں اپنے والد سے گلے ملتی ہے۔ ابو خضر اپنی بیٹی کو پدرانہ شفقت سے گلے لگاتے ہیں۔ اسی بازار میں موجود باقی لوگ باپ اور بیٹی کی اس خوشی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ رزان اپنے والد سے سبزی منڈی میں ان کی دکان پر ہی ملنا چاہتی تھی، تاکہ اپنی کامیابی کو ان کے ساتھ فخر اور اعزاز کے ساتھ منا سکے۔  اب شام سے دور افغانستان کی طرف آتے ہیں۔

افغانستان میں خواتین کے لیے تعلیم پر پابندی

افغانستان میں طالبان حکومت نے یونیورسٹیوں میں خواتین کے لیے تعلیم پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حکم کے تحت خواتین کے لیے اعلی تعلیم تک رسائی روکی گئی ہے۔ افغانستان میں پہلے ہی خواتین کو اکثر سیکنڈری اسکولوں میں جانے سے روک دیا گیا تھا۔ اب خواتین پر عائد کردہ نئی پابندیوں کے تحت وہ وٹنری سائنس، انجینئرنگ، اکنامکس اور زراعت میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتیں، جبکہ صحافت میں بھی ان کا جانا مشکل ہوگا۔

گذشتہ سال کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کی یونیورسٹوں میں مرد و خواتین کے لیے الگ الگ کلاس روم اور داخلی راستوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ طالبات کو صرف خواتین پروفیسر یا معمر مرد پڑھا سکتے ہیں۔ اب طالبان حکام نے خواتین کی یونیورسٹیوں میں تعلیم پر پابندی کے فیصلے پر عالمی تنقید کے بعد اسے عارضی قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کی وجوہات واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ طالبان کے وزیر برائے اعلی تعلیم شیخ ندا محمد ندیم نےکہا ہے کہ یونیورسٹیوں میں بچیوں کی تعلیم پر عارضی پابندی چند مسائل کی وجہ سے تھی۔

طالبان کے دور اقتدار میں ہمیشہ افغانستان کا تعلیمی شعبہ بُری طرح متاثر رہا ہے۔ گذشتہ سال امریکی و دیگر غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد سے تربیت یافتہ ادبی شخصیات ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ افغانستان اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کئی ماہ سے اپنی تنخواہوں کے منتظر ہیں۔ حالانکہ اقتدار میں واپسی کے وقت طالبان نے دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ اس مرتبہ ان کی طرز حکمرانی میں تبدیلی دیکھنے کی ملے گی۔ مگر اب افغان شہریوں میں یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ طالبان نے انھیں مایوس کیا ہے اور ان کے اندر کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔

تعلیم میں مرد اور خواتین کے لئے یکساں حکم

ان لوگوں کا ماننا ہے کہ موجودہ حکومت آزادانہ سوچ، خواتین اور بچوں کے بنیادی حقوق کو اہمیت نہیں دیتے۔ وہ سب کو قابو میں رکھنے کے لیے یہ سب کرتے ہیں۔ حالانکہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں سینئر رہنما ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ وہ خواتین کو ملازمت اور تعلیم کی اجازت دیں گے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ایک اسلامی ریاست ہیں اور افغانستان میں اسلامی قوانین نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام میں تعلیم پر کتنا زور دیا گیا ہے اور اس میں مرد اور خواتین کے لئے یکساں حکم ہے۔

مذہب اسلام کو تو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ حصول علم پر ہر ممکن زور دیتا ہے۔ قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر بلاواسطہ یا بالواسطہ حصول علم کی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔ پھر مذہب اسلام مرد کی طرح عورت کے لئے بھی تعلیم کا حصول لازم قرار دیتا ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے: ’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔‘ قرآن حکیم میں اس دعا کی اہمیت واضح ہے: رَبِّ زِدنِیْ عِلْما۔’اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔‘ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بالواسطہ طور پر مسلمانوں کو حصول علم کی رغبت و تعلیم دی گئی ہے۔

عورتوں کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام

روایات سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے مردوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام فرمایا ہے۔ حقیقت میں تو تعلیم ہی وہ زیور ہے جس سے عورت اپنے مقام سے آگاہ ہو کر اپنا اور معاشرے کا مقدر سنوار سکتی ہے، مگر افسوس کچھ لوگ خواتین کی تعلیم کے تعلق سے غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم صرف لڑکوں ہی کو دینا ضروری ہے اور یہ بھی کہ عورتیں اگر گھر کی زینت ہیں تو انھیں تعلیم کی ضرورت نہیں، جبکہ علم تو وہ روشنی ہے جو انسان کو جینا سکھاتی ہے۔

تاریخ اسلام میں تو با علم اور با صلاحیت خواتین کی روشن تاریخ رہی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مسلم خواتین کی ہمت و جرأت اور تدبر و فراست سے بڑے بڑے انقلابات ظہور پزیر ہوئے۔ بدقسمتی سے اسلامی تعلیمات کی ادھوری تفہیم اور معاشرتی رسوم و رواج میں خلط ملط کرنے کے باعث خواتین کو ماضی میں علوم کے ذرائع تک رسائی کا آزادانہ حق حاصل نہیں رہا۔ جس کی وجہ سے وہ نسل در نسل زیور تعلیم سے محروم رہیں۔ آج طالبان بھی وہی کام کرے ہیں۔

مذہب اسلام نے عورت کو مرد کے برابر مقام و مرتبہ عطا فرماکر اس کی حیثیت متعین کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باقی دنیا کے ساتھ بین الاقوامی مسلم تنظیموں، اداروں اور اسلامی ممالک نے بھی طالبان کے حالیہ فیصلے کی مذمت کی ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے واضح پیغام شیخ الازہر احمد الطیب نے دیا ہے۔

جامعہ الازہر افغان لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی سے ناراض

اس پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ ’افغانستان میں طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کو یونیورسٹی کی تعلیم سے روکنے کا فیصلہ شریعت سے متصادم ہے۔ جامعہ الازہر کو افغان لڑکیوں کو یونیورسٹی کی تعلیم سے روکنے کے لیے افغان حکام کے فیصلے پر شدید افسوس ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو اسلامی قانون کے خلاف ہے۔ مردوں اور عورتوں کو مہد سے لے کر لحد تک علم حاصل کرنے کے واضح مطالبے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اسلام کی دعوت نے سائنسی، سیاسی اور ثقافتی تاریخ میں باصلاحیت خواتین میں عظیم ذہن پیدا کیے ہیں اور یہ آج بھی ہر اس مسلمان کے لیے باعث فخر بات ہے جو اللہ اور رسول اور شریعت کا وفادار ہے۔ اس فیصلے کے ماخذوں سے اہل سنت کی مستند ترین کتابوں میں موجود دو ہزار سے زائد احادیث کیسے چھوٹ گئیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مومنین کی ماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی ہیں؟ یہ لوگ سائنس، تعلیم، سیاست اور اسلامی معاشروں کے عروج و زمانہ، ماضی اور حال کے میدانوں میں پیش پیش خواتین اور مردوں کی مسلمانوں کی تاریخ کو کیسے بھول گئے؟‘

سعودی عرب کا بھی اظہار افسوس

سعودی عرب نے بھی طالبات کی یونیورسٹی تعلیم تک رسائی معطل کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پابندی کو واپس لیں۔ طالبان کی جانب سے خواتین کی جامعہ کی سطح پر تعلیم پر پابندی افغان خواتین کو ان کے مکمل قانونی حقوق دینے کے منافی ہے۔ ان میں سب سے اہم تعلیم کا حق ہے، کیونکہ تعلیم ہی افغانستان اور اس کے برادر لوگوں کے لیے سلامتی، استحکام، ترقی اور خوش حالی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

ترکیہ نے طالبان پر افغان خواتین کے اعلیٰ تعلیم پر پابندی کا فیصلہ واپس لینے پر زور دیتے ہوئے اسے غیر اسلامی اور غیرانسانی فعل قرار دیا ہے۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے فیصلے کو درست نہیں سمجھتے، خواتین کی تعلیم سے انسانیت کو کیا نقصان پہنچتا ہے؟

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com