ہفتہ, اپریل 4, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 197

نصف کرہ ارض کے ممالک کو ترقیاتی مسائل پر مل کر آواز اٹھانی چاہئے: مودی

0
نصف کرہ ارض کے ممالک کو ترقی کے مسائل پر مل کر آواز اٹھانی چاہئے: مودی
نصف کرہ ارض کے ممالک کو ترقی کے مسائل پر مل کر آواز اٹھانی چاہئے: مودی

جمعرات کو جنوبی نصف کرہ ارض کے 120 سے زائد ممالک کا پہلا سربراہی اجلاس منعقد ہوا

نئی دہلی: جنوبی نصف کرہ ارض کے 120 سے زائد ممالک کے پہلا سربراہی اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا۔ جس کی میزبانی کرتے ہوئے میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپیل کی کہ وہ اپنے ترقیاتی مسائل پر ایک آواز بنیں تبھی عالمی ایجنڈے اور نظام میں ان کے مفادات کو جگہ ملے گی۔

انسانی ترقی پر مرکوز ترقی کے لیے پہلی وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ کے ورچوئل ایونٹ میں، مسٹر مودی نے 10 ممالک کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ افتتاحی سیشن میں شرکت کی۔ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کے بعد کل آٹھ سیشن ہوں گے۔

سیشن کا افتتاح

سیشن کا افتتاح کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے، ہمیں ‘ردعمل، پہچان، احترام اور اصلاح’ کا عالمی ایجنڈا بنانے کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کرنی چاہیے۔

سیشن کے اختتامی کلمات

سیشن کے اختتامی کلمات میں مودی نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کی قیادت کی آوازوں سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے انسانی مرکز ترقی ایک اہم ترجیح ہے۔ یہ ہمارے مشترکہ چیلنجوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے، بشمول ہماری ترقیاتی ضروریات کے لیے وسائل کی کمی، قدرتی آب و ہوا اور جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں بڑھتا ہوا عدم استحکام۔ اس کے باوجود ترقی پذیر ممالک مثبت توانائی اور اعتماد سے بھرپور ہیں۔

گلوبل ساؤتھ

انہوں نے کہا کہ 20ویں صدی میں ترقی یافتہ ممالک نے عالمی معیشت کو آگے بڑھایا۔ آج بیشتر ترقی یافتہ ممالک کی معیشتیں سست روی کا شکار ہیں۔ ایسے وقت میں، اگر ہم متحد ہو کر کام کریں، تو ہم عالمی ایجنڈا ترتیب دے سکتے ہیں۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک ایکشن پلان تیار کریں اور ایک مضبوط آواز ہو تاکہ ہم مل کر بیرونی حالات اور بین الاقوامی میکانزم پر انحصار کے شیطانی دائرے سے باہر نکل سکیں۔

اس سے پہلے سیشن کے افتتاحی کلمات میں مسٹر مودی نے کہا کہ ہم نے ایک مشکل سال دیکھا جس کی خصوصیات جنگوں، تنازعات، دہشت گردی اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء، کھاد اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ۔ موسمیاتی تبدیلی قدرتی آفات کا باعث بنی ہے اور کووڈ وبائی مرض کے طویل مدتی معاشی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا بحران کا شکار ہے اور یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ عدم استحکام کب تک چلے گا۔

گلوبل گورننس

انہوں نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کا مستقبل سب سے زیادہ داؤ پر لگا ہوا ہے کیونکہ دنیا کی تین چوتھائی آبادی ہمارے ممالک میں رہتی ہے۔ اس لیے ہماری آواز بھی یکساں طور پر سنی جائے۔ جیسا کہ گلوبل گورننس کا آٹھ دہائی پرانا ماڈل بدل رہا ہے، ہمیں ایک نئی ترتیب کو تشکیل دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر عالمی چیلنجز جنوبی ممالک نے پیدا نہیں کیے بلکہ وہ ہمیں متاثر کر رہے ہیں۔ ہم نے کووڈ وبائی امراض، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور یوکرین کی جنگ کے اثرات کا تجربہ کیا ہے۔ ان چیلنجز کا حل تلاش کرنے میں نہ تو ہمارا کوئی کردار ہے اور نہ ہی ہماری آواز کو کوئی جگہ ملی ہے۔

ہندوستان نے 100 سے زیادہ ممالک کو ویکسین فراہم کیں

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ گلوبل ساؤتھ کے اپنے بھائیوں کے ساتھ اپنے ترقیاتی تجربات کا اشتراک کیا ہے۔ ہماری ترقیاتی شراکت داری تمام جغرافیوں اور متنوع شعبوں کا احاطہ کرے گی۔ ہم نے کورونا وبائی امراض کے دوران 100 سے زیادہ ممالک کو دوائیں اور ویکسین فراہم کیں۔ ہندوستان نے ہمیشہ ہمارے مشترکہ مستقبل کی تشکیل میں ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک عظیم کردار کے لیے کھڑا کیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال ہندوستان جی 20 کی صدارت کر رہا ہے۔ اس لیے یہ فطری ہے کہ ہمارا مقصد گلوبل ساؤتھ کی آوازوں کو بااختیار بنانا ہے۔ جی 20 میں ہمارا تھیم ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم انسانی مرکز ترقی میں اتحاد کے راستے پر چلتے ہیں۔ یکجہتی کے ساتھ، ہمیں عالمی سیاسی اور مالیاتی حکمرانی کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس سے عدم مساوات ختم ہوگی، مواقع بڑھیں گے اور ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔ ترقی اور خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔

آر ایس ایس کا نظریہ ملک کے لیے خطرہ: اسد الدین اویسی

0
آر ایس ایس کا نظریہ ملک کے لیے خطرہ: اسد الدین اویسی
آر ایس ایس کا نظریہ ملک کے لیے خطرہ: اسد الدین اویسی

موہن بھاگوت کی جانب سے آر ایس ایس سے وابستہ میگزین ’آرگنائزر‘ اور ’پنچ جنیہ‘ کو دیے گئے انٹرویو کا جواب دیتے ہوئے مسٹر اویسی نے کہا کہ ملک کے لوگ جتنی جلدی اصل ’’داخلی دشمنوں‘‘ کی شناخت کرلیں گے، اتنا ہی بہتر ہوگا

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے بدھ کو کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کا نظریہ ملک کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کی جانب سے آر ایس ایس سے وابستہ میگزین ’آرگنائزر‘ اور ’پنچ جنیہ‘ کو دیے گئے انٹرویو کا جواب دیتے ہوئے مسٹر اویسی نے کہا کہ ملک کے لوگ جتنی جلدی اصل ’’داخلی دشمنوں‘‘ کی شناخت کرلیں گے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔

مسٹر بھاگوت نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لیکن انہیں اپنی بالادستی کا دعویٰ ترک کر دینا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر وہ اپنے عقیدے پر قائم رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں اور اگر اپنے آباؤ اجداد کے عقیدے پر واپس آنا چاہیں تو واپس آ سکتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر ان کی خواہش پر منحصر ہے۔ ہندوؤں میں ایسی کوئی ضد نہیں ہے۔ اسلام کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو اپنی بالادستی کی سخت بیان بازی کو ترک کر دینا چاہیے۔

ہم ہندوستانی ہیں

مسٹر اویسی نے کہا کہ موہن بھاگوت کون ہے جو مسلمانوں کو ہندوستان میں رہنے یا مذہب پر عمل کرنے کی ’اجازت‘ دیتے ہیں؟ ہم ہندوستانی ہیں کیونکہ اللہ ایسا ہی چاہتا ہے۔ مسٹر بھاگوت کی ہمت کیسے ہوئی کہ ہماری شہریت پر ’شرائط‘ لگائیں؟ ہم اس ملک میں اپنے عقیدے کو ’ایڈجسٹ‘ کرنے یا ناگپور میں نام نہاد برہمی لوگوں کے ایک گروپ کو خوش کرنے کے لیے نہیں رہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر بھاگوت کہتے ہیں کہ ہندوستان کو کوئی بیرونی خطرہ نہیں ہے لیکن سنگھ کے لوگ کئی دہائیوں سے ’’داخلی دشمنوں‘‘ اور ’’جنگ کی حالات‘‘ کا رونا رو رہے ہیں اور لوک کلیان مارگ میں ان کے خود کے سیوک کہتے ہیں کہ نہ کوئی گھسا ہے…. چین کے لیے ’چوری‘ اور ملک کے شہریوں کے لیے ’’سینازوری‘ ایسا کیوں؟ اگر ہم واقعی حالت جنگ میں ہیں تو کیا سویم سیوک حکومت پچھلے آٹھ سالوں سے سو رہی ہے؟‘‘

کیا مسٹر بھاگوت 2024 کا الیکشن لڑ رہے ہیں؟

مسٹر اویسی نے کہا کہ کوئی بھی مہذب معاشرہ مذہب کے نام پر اس طرح کی نفرت اور تعصب کو برداشت نہیں کرسکتا۔ کس نے مسٹر بھاگوت کو ہندوؤں کا نمائندہ منتخب کیا ہے، کیا وہ 2024 کا الیکشن لڑ رہے ہیں، تو ان کا استقبال ہے۔

حیدرآباد سے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بہت سارے ہندو ہیں جو آر ایس ایس کی طرف سے بالادستی کے مطالبات کی آتش بیانی کو محسوس کرتے ہیں، سبھی اقلیتییں کیسا محسوس کرتی ہیں اسے رہنے دیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ اپنے ہی ملک میں تقسیم کی صورتحال پیدا کرنے میں مصروف ہیں تو آپ دنیا میں وسودھیو کٹمبکم کی بات نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم دوسرے ممالک کے تمام مسلم لیڈروں کو گلے لگاتے ہیں لیکن اپنے ملک میں ایک بھی مسلمان کو گلے لگاتے نظر نہیں آتے۔

کانگریس نے بھارت جوڑو یاترا کی اختتامی تقریب کے لیے 21 جماعتوں کو مدعو کیا

0
کانگریس نے بھارت جوڑو یاترا کی اختتامی تقریب کے لیے 21 جماعتوں کو مدعو کیا
کانگریس نے بھارت جوڑو یاترا کی اختتامی تقریب کے لیے 21 جماعتوں کو مدعو کیا

کانگریس صدر ملک ارجن کھڑگے نے مختلف پارٹیوں کے لیڈروں کو لکھے خط میں کہا کہ 30 جنوری کو ہونے والی بھارت جوڑو یاترا کی اختتامی تقریب بابائے قوم مہاتما گاندھی کو وقف کی جا رہی ہے

نئی دہلی: کانگریس نے 7 ستمبر کو تمل ناڈو کے کنیا کماری سے شروع ہوئی اور 30 جنوری کو جموں و کشمیر کے سری نگر میں ہونے والی بھارت جوڑو یاترا کی اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے 21 ہم خیال جماعتوں کے لیڈروں کو مدعو کیا ہے۔

کانگریس صدر ملک ارجن کھڑگے نے مختلف پارٹیوں کے لیڈروں کو لکھے خط میں کہا کہ 30 جنوری کو ہونے والی بھارت جوڑو یاترا کی اختتامی تقریب بابائے قوم مہاتما گاندھی کو وقف کی جا رہی ہے۔ اس یاترا کے ذریعے نفرت اور تشدد کو ختم کرنے اور بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کا پیغام دیا گیا ہے۔ باپو نے بھی اس دن ملک میں ان برائیوں کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا، اس لیے یہ پروگرام بابائے قوم کو وقف کیا جا رہا ہے۔

معاشی، سماجی اور سیاسی بحران

مسٹر کھڑگے نے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو لکھے خط میں کہا کہ ملک معاشی، سماجی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اب تک 3300 کلومیٹر پیدل چل کر مختلف ریاستوں کے لوگوں سے براہ راست بات چیت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 7 ستمبر کو شروع ہونے والی یاترا 30 جنوری کو ختم ہو رہی ہے۔ یاترا کے آغاز سے ہی ہم خیال جماعتوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور کئی جماعتوں کے لیڈروں نے اس یاترا میں شرکت بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ ذاتی طور پر تمام ہم خیال جماعتوں کے لیڈروں سے یاترا کی اختتامی تقریب میں شرکت کی درخواست کرتے ہیں تاکہ ہم سب متحد ہو کر تشدد اور نفرت کے خلاف لڑیں، ملک میں بھائی چارے اور ہم آہنگی کی فضا قائم کریں اور آئین کو برقرار رکھنے کی سمت میں کام کر سکیں۔

سعودی عرب میں گھڑ سواری کے مقابلے میں خواتین کی شاندار کارکردگی

0
سعودی عرب میں گھڑ سواری کے مقابلے میں خواتین کی شاندار کارکردگی
سعودی عرب میں گھڑ سواری کے مقابلے میں خواتین کی شاندار کارکردگی

فیسٹیول کے ساتویں ایڈیشن میں شہزادی نورہ بنت عبدالرحمان دوڑ کے آغاز سے قبل گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار خواتین نے اپنی شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا

ریاض: سعودی عرب میں ہونے والے گھڑ سواری کے مقابلے میں خواتین نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔ کنگ عبدالعزیز کیمل فیسٹیول میں ہونے والے شہزادی نورہ بنت عبدالرحمان گھڑ سواری مقابلے میں 12 خواتین گھڑ سوار شریک ہوئیں۔

فیسٹیول کے ساتویں ایڈیشن میں شہزادی نورہ بنت عبدالرحمان دوڑ کے آغاز سے قبل گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار خواتین نے اپنی شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا، اس موقع پر سعودی خواتین نے لوک فنون کا بھی مظاہرہ کیا۔

شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن دوڑ میں شرکا کے درمیان زبردست مقابلہ دیکھنے میں آیا، دوڑ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی خاتون کو ارغوانی اسکارف سے نوازا گیا۔

کانگریس کا ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ پر تشویش کا اظہار

0
کانگریس کا ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ پر تشویش کا اظہار
کانگریس کا ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ پر تشویش کا اظہار

کانگریس کے ترجمان کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ ملک امرت کال سے گزر رہا ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس عرصے کے دوران ملک چھوڑنے والوں کی تعداد 604 یومیہ ہوگئی ہے

نئی دہلی،: کانگریس نے ملک میں بے روزگاری اور بھوک مری کا اعداد و شمار بڑھنے جیسے دیگر کئی حالات پر تشویش کو ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو بتانا چاہئے کہ ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔

کانگریس کے ترجمان گورو ولبھ نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ ملک امرت کال سے گزر رہا ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس عرصے کے دوران ملک چھوڑنے والوں کی تعداد 604 یومیہ ہوگئی ہے جو 2014 میں 354 یومیہ تھی۔ بیرون ملک آباد ہونے والے ان افراد میں سے 7000 ایسے افراد ہیں جن کی سالانہ آمدنی 8 کروڑ سے زائد ہے۔

ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافے کی چھ بڑی وجوہات

انہوں نے کہا کہ ملک سے باہر جانے والوں کی تعداد میں اضافے کی چھ بڑی وجوہات ہیں جن میں پہلی بے روزگاری ہے۔ دوسری وجہ مسلسل بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اور جی ڈی پی کی گرتی ہوئی شرح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ملک کا پیسہ دوسرے ممالک میں لگا رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق 28 فیصد سے زیادہ ہندوستانی غریب ہیں۔ ہندوستان میں 79 فیصد لوگ کورونا کے دور میں غریب ہو ئے ہیں۔ عالمی سطح پر ہندوستان کی بھوک مری کی سطح مسلسل گر رہی ہے اور افغانستان کے علاوہ ایشیا میں بھوک مری میں ہندوستان سب سے نچلی سطح پر ہے۔ اقتصادی ترقی میں خواتین کی حصہ داری میں ہندوستان دنیا کے 146 ممالک میں 135 ویں نمبر پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں میڈیا کے لئے ہندوستان کو سب سے خطرناک ممالک میں سے ایک قرار دیا گیا ۔ پریس کی آزادی کے معاملے میں ہندوستان 180 ممالک میں 150 ویں نمبر پر ہے۔

جیو ٹرو 5 جی نیٹ ورک میں توسیع، مزید 10 شہروں میں 5 جی لانچ

0
جیو ٹرو 5 جی نیٹ ورک میں توسیع، مزید 10 شہروں میں 5 جی لانچ
جیو ٹرو 5 جی نیٹ ورک میں توسیع، مزید 10 شہروں میں 5 جی لانچ

اس موقع پر جیو کے ایک ترجمان نے کہا، "ہمیں 4 ریاستوں کے 10 شہروں میں جیو ٹرو 5 جی خدمات شروع کرنے پر فخر ہے

نئی دہلی: دس شہروں میں ایک ساتھ جیو ٹرو 5 جی لانچ کرکے جیو نے اپنے 5جی نیٹ ورک کا دائرہ مزید بڑھا دیا ہے۔ ان 10 شہروں میں اتر پردیش کے چار، آندھرا پردیش، کیرالہ اور مہاراشٹر کے دو دو شہر شامل ہیں۔ پیر کو آگرہ، کانپور، میرٹھ، پریاگ راج، تروپتی، نیلور، کوزی کوڈ، تھریسور، ناگپور اور احمد نگر نے جیو کے ٹرو 5 جی نیٹ ورک میں شمولیت اختیار کی۔ ریلائنس جیو ان میں سے زیادہ تر شہروں میں 5G خدمات شروع کرنے والا پہلا اور واحد آپریٹر بن گیا ہے۔

ان 10 شہروں میں جیو صارفین کو ‘جیو ویلکم آفر’ کے تحت مدعو کیا جائے گا اور مدعو کئے گئے جیو صارفین کو 9 جنوری سے بغیر کسی اضافی لاگت کے 1 Gbps+ رفتار اور لامحدود ڈیٹا ملے گا۔

اس موقع پر جیو کے ایک ترجمان نے کہا، "ہمیں 4 ریاستوں کے 10 شہروں میں جیو ٹرو 5 جی خدمات شروع کرنے پر فخر ہے۔ ہم نے پورے ملک میں حقیقی 5G رول آؤٹ کو تیز کر دیا ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر جیو صارف نئے سال میں جیو ٹرو 5 جی ٹیکنالوجی کے فوائد سے لطف اندوز ہو۔

جن شہروں میں جیو ٹرو 5 جی شروع کیا گیا ہے وہ اہم سیاحت اور کاروباری مقامات کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کے بڑے تعلیمی مراکز ہیں۔ جیو کی ٹرو 5G خدمات کے آغاز کے ساتھ، خطے کے صارفین کو ای گورننس، تعلیم، آٹومیشن، مصنوعی ذہانت، گیمنگ، صحت کی دیکھ بھال، زراعت، آئی ٹی اور ایس ایم ایزکے علاوہ ایک بہترین ٹیلی کام کے شعبوں میں ترقی کے بہت سے مواقع ملیں گے۔ ن

ہم اتر پردیش، آندھرا پردیش، کیرالہ اور مہاراشٹر کی ریاستی حکومتوں کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس سیکٹر کو ڈیجیٹل بنانے کی ہماری کوششوں میں مسلسل تعاون کیا ہے۔

چین میں کورونا کی خوفناک لہر، تیسرے سب سے بڑے صوبے میں 90 فیصد لوگ وائرس سے متاثر

0
چین میں کورونا کی خوفناک لہر، تیسرے سب سے بڑے صوبے میں 90 فیصد لوگ وائرس سے متاثر
چین میں کورونا کی خوفناک لہر، تیسرے سب سے بڑے صوبے میں 90 فیصد لوگ وائرس سے متاثر

اعداد و شمار کے مطابق 9 کروڑ 94 لاکھ کی آبادی والے صوبے ہینان کے میں تقریباً 8 کروڑ 85 لاکھ لوگ اب تک کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں

بیجنگ: چین کے تیسرے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے میں تقریباً 90 فیصد لوگ کووِڈ۔ 19 سے متاثر ہو چکے ہیں، جب کہ ملک کو کورونا وائرس کے کیسز میں غیر معمولی اضافے کی خوفناک لہر کا سامنا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق وسطی صوبے ہینان کے ہیلتھ کمیشن کے ڈائریکٹر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 6 جنوری 2023 تک صوبے میں کووِڈ انفیکشن کی شرح 89.0 فیصد پہنچ گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق 9 کروڑ 94 لاکھ کی آبادی والے صوبے ہینان میں تقریباً 8 کروڑ 85 لاکھ لوگ اب تک کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 19 دسمبر کو بخار کے کلینک کا دورہ کرنے والے شہریوں کی تعداد عروج پر تھی جب کہ اس کے بعد اس میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا گیا۔

چین گزشتہ مہینے لاک ڈاؤن، قرنطینہ اور بڑے پیمانے پر کورونا ٹیسٹنگ ختم کرنے کے اپنے فیصلے کے بعد کیسز میں اضافے کی صورتحال سے دوچار ہے جب کہ کووڈ پابندیوں نے اس کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا اور ملک بھر میں غیر معمولی مظاہروں کو جنم دیا۔

مسافروں کے لیے قرنطینہ کی پابندی ختم

چین نے گزشتہ روز 3 سال کے طویل عرصے بعد بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے قرنطینہ کی پابندیوں کو ختم کردیا جب کہ نیم خود مختار شہر ہانگ کانگ میں سفری پابندیوں میں نرمی کردی گئی اور سرحد کو کھولا جارہا ہے۔ رواں ماہ کے آخر میں ملک میں نئے سال قمری کے جشن کی تقریبات کے بعد انفیکشن میں اضافہ ہونے کے خدشات ہیں جب کہ ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے ملنے جائیں گے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہانگ کانگ میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد نے اگلے دو ماہ میں چین کا سفر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ چین سے تقریباً 7 ہزار افراد ہانک کانگ کا سفر کریں گے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق چھٹیوں سے قبل سفر کے دوران سرکاری اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ ہفتے کے روز 3 کروڑ 47 لاکھ افراد نے اندرون ملک سفر کیا جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک تہائی سے زیادہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ چین کی جانب سے دسمبر کے اوائل میں کووڈ پابندیوں میں نرمی کے بعد سے گزشتہ ہفتے میں ایک لاکھ 20 ہزار لوگ متاثر ہوئے اور 30 کی موت ہوئی۔
لیکن بیجنگ نے گزشتہ ماہ کووڈ 19 اموات کی تعریف کو محدود کردیا اور بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ لازمی نہ رہنے کے بعد اس وقت حاصل ہونے والا ڈیٹا اب وبا کی حقیقی صورتحال کا پیمانہ اور عکاس نہیں ہے۔

ہماچل پردیش میں ڈیزل ہوا مہنگا، ویٹ میں تین روپے کا اضافہ

0
ہماچل پردیش میں ڈیزل ہوا مہنگا، ویٹ میں تین روپے کا اضافہ
ہماچل پردیش میں ڈیزل ہوا مہنگا، ویٹ میں تین روپے کا اضافہ

ہماچل پردیش میں ڈیزل کی قیمت 83 روپے سے بڑھ کر 86 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی

شملہ: ہماچل پردیش میں سکھوندر سنگھ سکھو کی قیادت میں نو منتخب کانگریس نے ڈیزل پر 3.01 روپے فی لیٹر ویٹ بڑھا کر عوام کو بڑا جھٹکا دیا ہے، جس کی وجہ سے تمام قسم کی خدمات مہنگی ہونے کے ساتھ ہی مہنگائی میں بھی اضافہ ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس حکومت میں آج ہی کابینہ کی توسیع کی گئی تھی اور کابینہ میں سات نئے وزراء کے علاوہ چھ چیف پارلیمانی سکریٹری اور پارلیمانی سکریٹریز کو شامل کیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے اس کے ساتھ ہی ڈیزل پر ویٹ بڑھا کر عام لوگوں کو جھٹکا دیا۔ اس کی وجہ سے ریاست میں ڈیزل کی قیمت 83 روپے سے بڑھ کر 86 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ ویٹ میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت نے شملہ میں واقع مرکزی حکومت کی تمام عمارتی جائیدادوں پر یکم اپریل سے ٹیکس وصول کرنے کی بھی تیاری کر لی ہے۔ شہر میں میونسپل کارپوریشن کے ریڈار پر ایسی 184 عمارتیں ہیں۔ یہ ٹیکس تین کیٹیگریز میں لگایا جائے گا۔ کارپوریشن کی تمام خدمات حاصل کرنے والی عمارتوں کو 75 فیصد، جزوی خدمات حاصل کرنے والی عمارتوں کو 50 فیصد اور کوئی خدمات حاصل نہ کرنے والی عمارتوں کو بھی 33.5 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کارپوریشن نے کئی سالوں سے ان عمارتوں کی ملکیت نہیں لی تھی۔

سروس ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ

ان عمارتوں میں انگریزوں کے دور میں تعمیر کی گئی عمارتیں بھی شامل ہیں۔ سال 1950 کے وقت تعمیر ہونے والی ایسی تمام عمارتوں پر اب ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ بجلی کے میٹروں اور نقشوں سے پرانی عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے کہ وہ کب تعمیر ہوئیں۔

کارپوریشن کے ایڈیشنل کمشنر بی آر۔ شرما کا کہنا ہے کہ اس سال سے کارپوریشن نے سروس ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹیکس ان عمارتوں سے وصول کیا جائے گا جن میں کارپوریشن بجلی، پانی، کچرا اٹھانے سمیت اپنی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ اس کے لیے افسران کو ہدایات دے دی گئی ہیں۔ شہر میں 1950 سے پہلے بننے والی عمارتوں کو اب ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے اقتدار میں آنے کے بعد سرکاری ملازمین کو پرانی پنشن بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ کہہ چکے ہیں کہ حکومت اس وعدے کو کسی بھی قیمت پر پورا کرے گی اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومت کو ایسے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے بہت بڑی رقم درکار ہوگی اور وہ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرکے، اضافی ٹیکس لگا کر اور سروس چارجز میں اضافہ کرکے اسے عوام سے وصول کرے گی۔

ڈیزل پر ویٹ میں اضافہ اس سمت میں اختیار کی جانے والی حکومت کی حکمت عملی کا محض ایک اشارہ ہے۔

میانمار میں گاڑی پلٹنے سے پانچ خواتین کی موت، 23 زخمی

0
میانمار میں گاڑی پلٹنے سے پانچ خواتین کی موت، 23 زخمی
میانمار میں گاڑی پلٹنے سے پانچ خواتین کی موت، 23 زخمی

میانمار کے نی پیتا میں ایک چھ پہیہ گاڑی کے پلٹنے سے پانچ خواتین کی جائے واقع پر ہی موت ہوگئی

یانگون: وسطی میانمار کے نی پیتا میں ایک چھ پہیہ گاڑی کے پلٹنے سے پانچ خواتین کی موت ہو گئی اور 23 دیگر زخمی ہو گئے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق حادثہ پرانی ینگون منڈالے ہائی وے پر نی پیتا میں یزین زرعی یونیورسٹی کے قریب ہفتے کی شام اس وقت پیش آیا جب گاڑی کا دائیں سامنے کا ٹائر پھٹ گیا، جس سے مسافر گاڑی سڑک سے پھسل کر پلٹ گئی۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ "پانچ خواتین کی جائے واقع پر ہی موت ہوگئی۔” انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت گاڑی میں 30 سے ​​زائد افراد سوار تھے۔

انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت گاڑی ٹاٹکون قصبہ سے آرہی تھی اور پینیمانا شہر کی طرف جارہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں میں 10 مرد اور 13 خواتین شامل ہیں، جنہیں علاج کے لیے ہسپتال بھیجا گیا ہے۔

ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ زخمیوں کو ٹھوڑی، سر اور سینے پر چوٹیں آئی ہیں۔ لیکن ان کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔ پولیس نے ڈرائیور کے خلاف تیز رفتاری اور لاپروائی سے گاڑی چلانے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پد یاترا کے ذریعے ملک کو جوڑنے کی تپسیا کر رہا ہوں: راہل گاندھی

0
پد یاترا کے ذریعے ملک کو جوڑنے کی تپسیا کر رہا ہوں: راہل گاندھی
پد یاترا کے ذریعے ملک کو جوڑنے کی تپسیا کر رہا ہوں: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے کہا، "بھارت جوڑو یاترا تپسیا ہے، اس تپسیا کے ذریعے میں ملک سے ڈر، خوف اور نفرت کو ختم کرنے کا کام کر رہا ہوں

کروکشیتر: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ‘بھارت جوڑو یاترا’ کو تپسیا بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس تپسیا کے ذریعہ وہ کنیا کماری سے کشمیر تک نفرت اور خوف کے ماحول کو ختم کرکے بھائی چارے اور ہم آہنگی کو بڑھانے کا کام کررہے ہیں اور کروڑوں لوگ ان کی یاترا میں شامل ہو رہے ہیں۔

مسٹر گاندھی نے ہریانہ میں کروکشیتر کے قریب سامنا میں بھارت جوڑو یاترا کے درمیان اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کسان، مزدور، چھوٹے تاجر سبھی تپسوی ہیں لیکن ان کی تپ کو اہمیت نہیں دی جا رہی ہے اور شخصی پوجا کی حمایتی تنظیم کی حکومت میں انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "بھارت جوڑو یاترا تپسیا ہے۔ اس تپسیا کے ذریعے میں ملک سے ڈر، خوف اور نفرت کو ختم کرنے کا کام کر رہا ہوں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس شخصی پوجا کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس کے لیے شخصی پوجا اہم ہے اور کسی تپ اور تپسیا سے ان کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

کانگریس تپسوی تنظیم

کانگریس کو تپسوی تنظیم بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں تپسیا سے تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ لیکن بی جے پی میں پوجا کو اہمیت دی جاتی ہے اور آر ایس ایس ایک ایسی تنظیم ہے جو اپنی پوجا چاہتی ہے۔ اس لیے آر ایس ایس کو بھارت جوڑو یاترا نکال کر ہی جواب دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس یاترا میں لاکھوں لوگ تپسیا کر رہے ہیں۔

بی جے پی اور کانگریس کے درمیان بنیادی فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ کانگریس میں تپسیا کا احترام کیا جاتا ہے جبکہ بی جے پی میں پوجا کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بی جے پی ڈرا دھمکا کر آگے بڑھنا چاہتی ہے، لیکن کانگریس بغیر کسی خوف کے تپسیا کرکے آگے بڑھتی ہے۔ انہوں نے کانگریس کے ہاتھ کے نشان کو بھی خوف سے آزادی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہاتھ کا نشان بے خوفی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح سے گرو نانک دیو، مہاتما بدھ، بھگوان شیو کے ہاتھوں کی پوزیشن بھی بے خوفی کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کا مقصد ملک کے لوگوں کو سچائی سے روشناس کرانا ہے۔ کانگریس کو یاترا کا فائدہ ملے یا نہ ملے، لیکن اس کا مقصد نفرت نہ کرو۔ یہ یاترا اس معاشی ناہمواری اور تمام دولت جو دو چار لوگوں کے ہاتھوں میں دے کر مہنگائی میں اضافہ کیا جارہا ہے اس کے خلاف ہے۔ یاترا کا پیغام ہر جگہ پہنچ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یاترا میں لگاتار لوگ جمع ہورہے ہیں۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور ہریانہ میں یاترا کو جو پذیرائی مل رہی ہے وہ حیرت انگیز ہے اور عوام کے جوش و خروش سے یہ واضح ہے کہ کانگریس مدھیہ پردیش، ہریانہ میں حکومت بنائے گی اور عوام کے سوالات کو حل کرے گی۔

کسانوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور

مسٹر گاندھی نے کسانوں کو ملک کی ریڑھ کی ہڈی بتاتے ہوئے ان کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنی پالیسیوں سے ان پر حملہ کر رہی ہے، اسے روکا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جہاں بھی کانگریس کی حکومت آئے گی وہاں کسانوں کو تحفظ ملے گا اور ان کی مدد کی جائے گی۔ انہوں نے کم از کم سہارا قیمت-ایم ایس پی کو ضروری قرار دیا اور کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ بھارت جوڑو یاترا کے دوران ہزاروں بچوں سے ملے اور اس دوران انہیں احساس ہوا کہ ملک کے بچوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنے بچوں سے وہ ملے ان میں 90 فیصد بچوں نے کہا کہ وہ انجینئر، ڈاکٹر، وکیل، آئی اے ایس وغیرہ بننا چاہتے ہیں۔ ملک میں اتنی نوکریاں نہیں ہیں، اس لیے انہیں لگا کہ بچوں سے جھوٹ بولا جا رہا ہے اور ان کے خوابوں کو توڑنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزگار کے لیے فیکٹریوں کی ضرورت ہوتی ہے، فوڈ پروسیسنگ اداروں اور چھوٹی صنعتوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں بڑی تعداد میں نوکریاں دی جا سکیں لیکن یہاں چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو ختم کیا گیا ہے۔

ہنر مندی کی ترقی کا احترام ضروری

کانگریس لیڈر نے کہا، ”جو چھوٹے تاجر ہیں ان کے کام کو مارا جا رہا ہے۔ اگر چھوٹی صنعتوں کو زندہ رکھا جاتا، انہیں ٹیکنالوجی سے جوڑا جاتا تو ملک میں ایک نیا صنعتی انقلاب آتا اور لاکھوں ملازمتوں کے دروازے کھلتے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہنر مندی کی ترقی کا احترام ضروری ہے اور جب بڑھئی، کسان، لوہار کو ان کے کام کے لئے احترام دیا جائے گا تو بڑی تعداد میں روزگار پیدا ہوگا اور میڈ ان انڈیا ایک تحریک بن جائے گی۔

چھتیس گڑھ میں خوف کے ماحول کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہاں کچھ معاملات ہو سکتے ہیں، لیکن وہاں کی حکومت کی پالیسی خوف اور تقسیم کی نہیں ہے۔ کچھ مسائل ہیں، وہ حل ہو جائیں گے، لیکن اگر اگر کوئی کمی نظر آئی تو وہ خود وہاں جائیں گے اور کمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔