جمعہ, اپریل 3, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 194

جاوید اختر کے لئے پاکستان میں اور گئو رکشکوں کے لئے ہندوستان میں تالیاں کیوں بجیں؟

0

جب قاتلوں کی حمایت میں پنچایتیں اور زانیوں کی حمایت میں ریلیاں ہونے لگیں تو اس معاشرے کی تنزلی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

حال ہی میں دوایسے واقعات رونما ہوئے، جن پر خوب تالیاں بجائی گئیں۔ ان میں ایک واقعہ پاکستان میں اور دوسرا واقعہ ہندوستان کے ہریانہ میں پیش آیا۔ اگرچہ دونوں واقعات کی نوعیت الگ تھی اور تالیوں کی گڑگڑاہٹ کا پیغام بھی مختلف تھا۔ دونوں ہی واقعات میں بنیادی فرق یہ تھا کہ جس بات پر پہلے ’یہاں‘ تالیاں بجتی تھیں، اُس بات پر ’وہاں‘ تالیاں بج رہی ہیں اور جن لوگوں کی حمایت میں پہلے ’وہاں‘ ریلیاں اور جلسے ہوتے تھے، اب اُسی طرح کے لوگوں کے لئے ’یہاں‘ ریلیاں اور پنچایتیں ہو رہی ہیں۔

ان ریلیوں اور پنچایتوں میں ٹھیک اسی طرح کی بھیڑ قاتلوں اور مجرموں کی تائید و حمایت کرتی نظر آ رہی ہے، جیسے پہلے وہاں کے جلسوں میں نعرے بلند کئے جاتے تھے اور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ یعنی دونوں معاشروں میں تبدیلی آئی ہے۔ لیکن اب یہاں جس طرح کے حالات پیدا ہو رہے ہیں اور معاشرے میں نفرت کی دیواریں کھڑی کی جا رہی ہیں، وہ کسی بھی مہذب معاشرے اور ترقی پذیر ملک کے لئے سود مند نہیں۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ پہلے وہاں بھی یہ طبقہ بہت محدود تھا اور آج یہاں بھی اس طرح کی حرکتیں کرنے والے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔ یعنی ان حالات کو عمومی طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔

حالیہ واقعات پر مختصر روشنی

جن دو واقعات کا شروع میں ذکر کیا گیا ہے، حالات و واقعات کو سمجھنے کے لئے ان پر مختصر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ پڑوسی ملک پاکستان کا نام آتے ہی سب سے پہلے ایک دشمن ملک، دہشت گردوں کا معاون و مددگار، انتہا پسندی و شدت پسندی کا پالنہار اور ایک ناکام ریاست کا خیال ذہن میں آتا ہے اور اس میں کوئی مبالغہ آرائی بھی نہیں ہے۔ حالانکہ وہاں کے عوام اور ’سول سوسائٹی‘ میں اس طرح کے رجحانات عام طور پر دیکھنے کو نہیں ملتے، جیسے کہ پاکستان کا نام آتے ہی ذہن میں ابھرتے ہیں۔

ادب و ثقافت، کھیل کود اور فنکاری کے شعبے سے وابستہ افراد ہمیشہ نفرت کے ماحول کے خلاف رہے ہیں اور ان کی آمد رفت بھی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی ناکامیوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہیں کے لوگ پاکستان میں بیٹھ کر ہی تالیاں بجاتے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا پہلے بھی پاکستانیوں کا رد عمل اسی طرح ہوتا تھا یا اب وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی سے عاجز آ گئے ہیں؟ یہ سوال مشہور نغمہ نگار جاوید اختر کے حالیہ بیان کے بعد ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔

فیض فیسٹیول

در اصل حال ہی میں پاکستان میں معروف شاعر فیض احمد فیض کے تعلق سے ’فیض فیسٹیول‘ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میں ہندوستان کے معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے بھی شرکت کی۔ یہاں سوال جواب کے دوران جاوید اختر نے کہا کہ ’ہمیں ایک دوسرے پر الزام نہیں لگانا چاہیے، اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، فضا گرم ہے، اسے سدھارنا چاہیے۔ ہم لوگ ممبئی کے لوگ ہیں، اور ہم نے اپنے شہر پر حملہ ہوتے دیکھا ہے۔ حملہ آور ناروے یا مصر سے نہیں آئے تھے اور وہی لوگ اب بھی آپ کے ملک میں گھوم رہے ہیں۔ لہذا، اگر یہ شکایت ایک ہندوستانی کے دل میں ہے، تو آپ کو برا نہیں لگنا چاہیے۔‘

اس کے بعد وہاں موجود پاکستانی عوام نے ان کے اس بیان پر خوب تالیاں بجائیں۔ ہندوستان میں بھی ان کے بیان کی سوشل میڈیا وغیرہ پرخوب تعریف ہوئی۔ یہاں تک کہ مخالفین بھی جاوید اختر کی تعریف کرنے سے خود کو روک نہیں سکے۔ اگرچہ پاکستان کے ایک حلقے میں نہ صرف جاوید اختر بلکہ وہاں تالیاں بجانے والوں پر خوب لعن طعن کی گئی۔ کئی اہم شخصیات اور میڈیا سے وابستہ افراد کو یہ بات ناگوار گزری کہ جاوید اختر پاکستان میں آ کر ہی پاکستان کو آئینہ دکھا گئے۔ لیکن سچائی پر کوئی پردہ نہیں ڈال سکتا۔ معاملہ چاہے یہاں کا ہو یا وہاں کا، دنیا کے سامنے حقیقت آشکار ہو ہی جاتی ہے۔

ادھر ہریانہ میں ’گؤ کشی‘ یا ’گؤ رکشا‘ کے نام پر جس طرح قتل و غارتگری کا ننگا ناچ چل رہا ہے، وہ ہمارے ملک کے مستقبل اور معاشرے کے لئے کسی بھی طرح سود مند نہیں۔ کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور قانون کے رکھوالے یا تو خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں یا پھر براہ راست یا پھر در پردہ قاتلوں اور مجرموں کی تائید و حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ حکومت، پولیس اور انتظامیہ سبھی ان حالات کی سنگینی کو نظر انداز کر رہے ہیں، مگر آنے والے وقت میں یہ حالات ملک اور معاشرے کے لئے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، اس کا اندازہ نہیں ہے۔

جنید اور ناصر کا بہیمانہ قتل

در اصل 15؍ اور 16؍ فروری کے درمیان راجستھان کے بھرت پور کے رہنے والے جنید اور ناصر نامی دو مسلم نوجوانوں کا بہیمانہ قتل کر دیا گیا۔ الزام ہے کہ بجرنگ دل سے وابستہ ’گؤ رکشکوں‘ نے پہلے دونوں کو بری طرح زدو کوب کیا اور پھر مویشیوں کی اسمگلنگ کے شبہ میں بولیرو سمیت دونوں کو زندہ جلا دیا۔ دونوں کی لاشیں ہریانہ کے ضلع بھوانی کے گاؤں لوہارو کے پاس بر آمد ہوئی تھیں۔ اس پورے معاملے میں ہریانہ پولیس کا کردار بھی شک کے دائرے میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی راجستھان پولیس کی لاپروائی اور بے حسی بھی سامنے آئی ہے۔

در اصل مقتولین کا تعلق راجستھان سے ہے اور ان کا قتل ہریانہ میں ہوا ہے، اس لئے دونوں ریاستوں کی پولیس اس کی تحقیقات میں شامل ہے۔ واقعہ کے دس دن بعد بھی ملزمین کے خلاف جس طرح کی کارروائی ہوئی ہے، اس نے انصاف کی امیدوں کو ختم کر دیا ہے۔ ہریانہ پولیس کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے وقت رہتے کارروائی نہیں کی۔ اگر ہریانہ پولیس چاہتی تو نہ صرف مقتولین کو بچا سکتی تھی، بلکہ مجرمین کو بھی گرفتار کر سکتی تھی۔ لیکن جس طرح کے انکشافات ہو رہے ہیں اور پولیس کی ملی بھگت کے شواہد سامنے آ رہے ہیں، اس سے تو انصاف کی امید لگانا ہی بے معنی ہے۔ وہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق راجستھان پولیس نہ جانے کس دباؤ میں نہ صرف کلیدی ملزم کا نام ملزمین کی فہرست سے ہٹا دیا، بلکہ مقتولین کے اہل خانہ کو ہی نقض امن کے لئے نوٹس جاری کر دیا۔ خبر نگاری کرنے والوں اور سماجی کارکنان کو بھی نہیں چھوڑا۔ ایسے میں آپ انصاف کی کیا امید کر سکتے ہیں۔

مجرموں کی حمایت حیران کن

حکومت، پولیس اور انتظامیہ نے تو مایوس کیا ہی ہے، عوام کا نظریہ اور رویہ اس سے بھی زیادہ حیران کن اور تشویشناک ہے۔ ہم کیسے کسی مہذب اور انصاف پسند معاشرے سے یہ امید کر سکتے ہیں کہ عام لوگ قاتلوں اور مجرموں کی حمایت کریںگے، قانون اور پولیس کو دھمکیاں دیں گے اور تالیاں بجائیں گے۔ اس سے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا ملک اور معاشرہ بہت تیزی سے تنزلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تا دم تحریر جنید اور ناصر کے قتل کے ملزمین کی حمایت میں کم از کم تین ’مہا پنچایتیں‘ ہو چکی ہیں۔

ان پنچایتوں میں اقلیتوں کے خلاف زہر افشانی اور انہیں دھمکیاں تو دی ہی جا رہی ہیں، پولیس کے پیر توڑ دینے کا بھی انتباہ دیا جا رہاہے۔ پنچاتوں میں شر پسند عناصر آئین اور قانون کو کھلا چیلنج دے رہے ہیں۔ ایک ہندو تنظیم کے لیڈر نے کہا کہ ’اگر راجستھان پولیس کارروائی کے لیے آتی ہے تو وہ اپنے پیروں پر واپس نہیں جا پائے گی۔ پولیس کو یقین دہانی کرانی چاہیے کہ مونو مانیسر کے خاندان کو ہاتھ نہیں لگایا جائے گا۔‘ اس کے بعد پوری پنچایت تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھتی ہے۔ تالیوں کی یہ گڑگڑاہٹ بتاتی ہے کہ پنچایتوں میں جمع ہونے والے ہزاروں افراد مجرموں کی تائید اور حمایت کرتے ہیں۔ اسی لئے یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ اب ہمارے یہاں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ لیکن اس سے بالکل بے خبر کہ یہ تبدیلی ملک اور معاشرے کو کس سمت لے جا کر چھوڑے گی۔ تالیاں یہاں بھی بج رہی ہیں، تالیاں وہاں بھی بج رہی ہیں، مگر دونوں طرف تالیاں کیوں بج رہی ہیں، اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

ملک میں مذہب کے نام پر سیاست خطرناک، ہمیں فرقہ پرستوں کے مقابل متحد رہنا ہے: شردپوار

0
ملک میں مذہب کے نام پر سیاست خطرناک، ہمیں فرقہ پرستوں کے مقابل متحد رہنا ہے: شردپوار
ملک میں مذہب کے نام پر سیاست خطرناک، ہمیں فرقہ پرستوں کے مقابل متحد رہنا ہے: شردپوار

شرد پوار نے کوکن میلہ کے ایک اجلاس میں کہا کہ ملک میں مذہب کے نام پر سیاست خطرناک، ہمیں فرقہ پرستوں کے مقابل متحد رہنا ہے تاکہ وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنایا جاسکے

ممبئی: ملک میں مذہب کے نام پر سیاست خطرناک، ہمیں فرقہ پرستوں کے مقابل متحد رہنا ہے تاکہ وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنایا جاسکے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سربراہ شرد پوار نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ شب کوکن میلہ کے ایک اجلاس میں کیا۔ شرد پوار نے اپنی جامع تقریر کے دوران انجمن اسلام کے سابق صدر ڈاکٹر اسحاق جمخانہ والا، سابق وزیر اعلی عبدالرحمن انتولے، ڈاکٹر رفیق زکریا، معین الدین حارث اور رضوان حارث صاحب کی سیاسی، سماجی اور ملی خدمات کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انھوں نے ڈاکٹر اسحاق جمخانہ والا کے بارے میں کہا کہ جمخانہ والا نے انجمن اسلام کی صدارت کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ادارے کی ترقی میں اہم رول ادا کیا تھا اور ان کے کاموں کو بھلایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے اس موقع پر مزید کہا کہ ہمیں متحد ہو کر ملک اور ریاست کیلئے کام کرنا چاہئے۔ نفرت کی فضاء سے محفوظ رہنے کی ضرورت ہے۔ کچھ فرقہ پرست طاقتیں ہیں، ملک میں نفرت پھیلا رہی ہیں۔ ان طاقتوں سے نمٹنے کیلئے لمبی لڑائی لڑنے کی ضرورت ہے۔ نفرت کا بیج بونے والوں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔

شرد پوار نے اپنے دورہ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کراچی میں ہونے والے کرکٹ میچ دیکھنے میں پاکستان گئے اور میچ ہندوستان نے جیت لیا تھا۔ دوسرے دن ہم کراچی کے ایک ہوٹل میں ہم کھانا کھانے گئے۔ کھانے کا بل جب ادا کرنے لگے تو ہوٹل مالک نے رقم لینے سے انکار کردیا۔ اس وقت محسوس ہوا کہ ایک انسان دوسرے انسان سے کتنا محبت کرتا تھا لیکن اب حالات بدل گئے ہیں اور وہ بات نہیں دکھائی دیتی ہے؟ کچھ لوگ اور ادارے ہیں جو نفرت کی بیچ بور ہے ہیں۔ ان سے ہمیں مقابلہ کرنا ہو گا۔

کوکن میلہ

انہوں نے کوکن میلہ منعقد کرنے والوں کو مبارکباد پیش کی اور کوکن کے انواع و اقسام کے کھانوں کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے وہاں کی سوکھی مچھلیوں کا بھی تذکرہ کیا اور مختلف کھانوں کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے کوکن میلے میں شرکت کا موقع ملا۔ میں نے کوکن میلے کے بارے میں سن رکھا تھا۔ کورونا کی وجہ سے سب کام کاج ٹھپ پڑ گیا تھا اور اس وجہ سے کوکن میلہ بھی نہیں لگایا جا سکا تھا۔ کوکن میلے کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہاں کوکن کو پیش کیا جاتا ہے اور اس میلے میں کوکن کی الگ الگ چیزیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ شرد پوار نے رتنا گیری، دایولی، راجا پور اور دیگر مقامات کے ساتھ ساتھ سرمئی اور بومبیل مچھلی کا ذکر کیا۔

انجمن اسلام کے نائب صدر مشتاق انتولے نے اپنی تقریر میں کہا کہ سیاست میں بہت کم ایسے لیڈر ہوتے ہیں کہ جو سنسل پچاس ساٹھ سال سے قائد کا ذ مہ داری ادا کر رہے ہیں ۔ آج ہم سب کی کوکن میلے کی انجمن اسلام کی ، اور آرگنائز رکی خوش قسمتی ہے کہ پوار صاحب ہمارے درمیان موجود ہیں بشیر جوانی نے اپنی تقریر کے آغاز میں شرد پوار کی شان میں خوبصورت شعر پڑھا اور ان کی تعریف بیان کی۔

انھوں نے کہا کہ آج ہمارے کوکن کے لیے اس سے بڑی اور کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ اس کوکن میلے میں شرد پوار صاحب تشریف لائے ہیں۔ میں کوکن کے تمام لوگوں کی طرف سے شرد پوار صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ بشیر جوانی نے کوکن میلے منعقد کرنے کا سبب بیان کرتے بتایا کہ دوسرے دن روزگار کے سیشن کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا ہے جس کی وجہ سے اتوار کے دن بھی روز گار میشن رکھا گیا ہے۔

اس کوکن میلے کو بشیر ایم جوانی فاؤنڈیشن اور اس کے صدر بشیر جوانی نے اسپانسر ڈ کیا ہے اور ان کے ساتھ کوکن مرکنٹائل بینک اور انجمن اسلام نے اشتراک کیا ہے۔ اسٹیج پر مشتاق انتولے نجیب ملا عمران علوی، کمال مساند لیکر، نسیم صدیقی محمد علی پائنکر اور دیگر رضا کار اور مہمانان میں جامع مسجد ٹرسٹ کے چیئر مین شعیب خطیب، ایڈوکیٹ قاضی مہتاب احمد حسینی، ڈاکٹر عزیز ساونت سلیم الوارے اور دیگر موجود تھے۔ نظامت کے فرائض پروفیسر قاسم امام نے انجام دیئے۔ آج تیسرے روز میلہ میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔

‘لو جہاد کے خلاف‘ ساکال ہندو تنظیم کی ریلی پر سپریم کورٹ کا رویہ سخت، پولیس کو واقعہ کی ویڈیو گرافی کرنے کا حکم

0
'لو جہاد کے خلاف‘ ساکال ہندو تنظیم کی ریلی پر سپریم کورٹ کا رویہ سخت، پولیس کو واقعہ کی ویڈیو گرافی کرنے کا حکم
'لو جہاد کے خلاف‘ ساکال ہندو تنظیم کی ریلی پر سپریم کورٹ کا رویہ سخت، پولیس کو واقعہ کی ویڈیو گرافی کرنے کا حکم

ریاستی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ ساکال ہندو سماج اتوار کو ممبئی میں ایک عوامی اجلاس منعقد کرنے والا ہے کہ اسکو اس طرح کی شرط کے ساتھ منظوری دی جائے گی کہ کوئی نفرت انگیز تقریر نہ کی جائے

ممبئی: عروس البلاد میں مبینہ ‘لو جہاد کے خلاف‘ ساکال ہندو نامی تنظیم کی ریلی پر سپریم کورٹ نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے پولیس کو واقعہ کی ویڈیو گرافی کرنے کا حکم دیا ہے ،اس سے قبل نکالی گئی ریلی اور جلسہ میں مسلم مخالف نعرے لگائے گئے اور اشتعال انگیزی کی گئی تھی۔

ریاستی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ ساکال ہندو سماج اتوار کو ممبئی میں ایک عوامی اجلاس منعقد کرنے والا ہے کہ اسکو اس طرح کی شرط کے ساتھ منظوری دی جائے گی کہ کوئی نفرت انگیز تقریر نہ کی جائے۔ واضح رہے کہ نومبر سے، جب اس نے "تبدیلی مذہب” اور "لو جہاد” کے خلاف عوامی اجلاس کا سلسلہ شروع کیا، ساکال ہندو سماج نے ریاست کے 36 میں سے 20 سے زیادہ اضلاع کا احاطہ کیا ہے۔

ممبئی میں منعقد ہونے والی ریلی شہر میں سماج کی تیسری ریلی ہوگی، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’’لو جہاد اور ہندوؤں کی مذہبی تبدیلی کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں‘‘۔

اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے گزشتہ روز سینئر وکیل کپل سبل کے اس مطالبے کو قبول کر لیا، جو عرضی گزار کی طرف سے پیش ہوئے، کہ میٹنگ کی ویڈیو گرافی کی جائے، تاکہ راست رپورٹنگ کی جاسکے۔ پولیس کو میٹنگ کی ویڈیو گرافی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے مطالبہ کیا کہ ویڈیو کا مواد اسے دستیاب کرایا جائے۔ سماج میں دائیں بازو کی تنظیمیں شامل ہیں جیسے وی ایچ پی، بجرنگ دل، ہندو جن جاگرتی سمیتی، ہندو پرتستان، درگا واہنی، وشو شری رام سینا اور سناتن سنستھا۔

دریں اثنا، بہت سے گروپوں اور تنظیموں نے ممبئی کے پولیس کمشنر وویک پھانسالکر کو خط لکھ کر ساکال ہندو سماج کے جلسہ عام کی اجازت نہ دینے کی اپیل کی تھی۔ لیکن اشتعال انگیزی کے باوجود انہیں اجازت دی گئی ہے۔

بائیڈن نے مسجد اقصیٰ کی قانونی حیثیت برقرا رکھنے کی حمایت کا اظہار کیا

0
بائیڈن نے مسجد اقصیٰ کی قانونی حیثیت برقرا رکھنے کی حمایت کا اظہار کیا
بائیڈن نے مسجد اقصیٰ کی قانونی حیثیت برقرا رکھنے کی حمایت کا اظہار کیا

میڈیا رپورٹ کے مطابق مسٹر بائیڈن نے یہ اظہار خیال وہائٹ ہاؤس میں اردن کے شاہ عبداللہ حسین دوم سے ملاقات کے دوران کیا

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کمپلیکس کی قانونی حیثیت برقرار رکھنے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق مسٹر بائیڈن نے یہ اظہار خیال وہائٹ ہاؤس میں اردن کے شاہ عبداللہ حسین دوم سے ملاقات کے دوران کیا۔

وہائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق، مسٹر بائیڈن اور شاہ حسین نے امریکہ اور اردن کے درمیان قریبی، دوستانہ تعلقات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے عراق کے وزیر اعظم محمد السودانی سے بھی فون پر بات کی۔

ملاقات میں مسٹر بائیڈن نے مسجد اقصیٰ کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کی اہم ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اسرائیل-فلسطینی تنازعہ کے تناظر میں "دو ریاستی حل کی حمایت” سے متعلق اپنے ملک کے موقف کا اعادہ کیا۔ اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے پرزور طور پر کردار ادا کرنے پر شاہ حسین کا شکریہ ادا کیا۔

وہائٹ ہاؤس نے کہا کہ مسٹر بائیڈن نے مسٹر السودانی سے بات کی اور عراق کی خودمختاری اور آزادی کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے عراق کے اقتصادی ایجنڈے اور معیشت کی بھی تعریف کی۔ دونوں لیڈروں نے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ بننے سے روکنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

پنجاب: کئی لیڈر عام آدمی پارٹی میں شامل

0
پنجاب: کئی لیڈر عام آدمی پارٹی میں شامل
پنجاب: کئی لیڈر عام آدمی پارٹی میں شامل

پنجاب میں عام آدمی پارٹی میں لیڈروں اور کونسلروں کی شمولیت کا سلسلہ جاری

چنڈی گڑھ: پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سے قبل عام آدمی پارٹی میں لیڈروں اور کونسلروں کی شمولیت کا سلسلہ جاری ہے۔ شری چمکور صاحب، سلطان پور لودھی اور لدھیانہ کے ایک درجن سے زیادہ اکالی اور کانگریسی کونسلروں نے ہفتہ کو چنڈی گڑھ میں پارٹی دفتر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اے اے پی میں شمولیت اختیار کی۔

اے اے پی کے پنجاب انچارج اور ایم ایل اے جرنیل سنگھ نے پارٹی میں شامل ہونے والے نئے ممبران کا رسمی طور پر خیرمقدم کیا۔ شامل ہونے والے کونسلروں میں چمکور صاحب سے پرمجیت کور، سنتوش کمار، کملیش رانی، گرمیت سنگھ، بھوپندر سنگھ، سلطان پور لودھی سے سنیتا رانی لودھی، ساہنیوال سے منجندر سنگھ بھولا ساہنیوال، سندیپ سونی، کلوندر سنگھ، نربھے سنگھ ، میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر وجے پوری، کانگریس سے لالی ہارا، چنچل میہاس عام آدمی پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔

شہید سکھ دیو تھاپر کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اور لدھیانہ سے تین بار کارپوریٹر رہ چکے راجو تھاپر بھی آپ میں شامل ہو گئے۔ ان کے علاوہ کونسلر بلجندر سندھو، گرپریت سنگھ بیدی، صدر انسداد دہشت گردی فرنٹ پنجاب انیل شرما، کانگریس کے عہدیدار چنی گل اور منپریت سنگھ بنٹی نے بھی عام آدمی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

اس موقع پر جرنیل سنگھ نے کہا کہ اے اے پی حکومت کے کاموں، پارٹی کی ایماندار پالیسیوں اور کام کرنے کے اچھے انداز سے متاثر ہو کر لوگ مسلسل آپ میں شامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے پارٹی میں شامل ہونے والے نئے ممبران کو خوش آمدید کہا اور یقین دلایا کہ مان حکومت اپنی تمام ضمانتیں جلد پوری کرے گی۔

بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں: کیجریوال

0
بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں: کیجریوال
بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں: کیجریوال

اس بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں، اس کے برعکس بجٹ میں مہنگائی بڑھے گی، بے روزگاری دور کرنے کی کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بدھ کو کہا کہ اس بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں بلکہ اس بجٹ سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

مسٹر کیجریوال نے بجٹ پر اپنے رد عمل میں کہا، ’’دہلی والوں کے ساتھ پھر سے سوتیلا برتاؤ۔ دہلی والوں نے گزشتہ سال 1;46;75 لاکھ کروڑ سے زیادہ انکم ٹیکس دیا۔ اس میں صرف 325 کروڑ روپے دہلی کی ترقی کے لئے دئے۔ یہ تو دہلی والوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔ اس بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں۔ اس کے برعکس بجٹ میں مہنگائی بڑھے گی۔ بے روزگاری دور کرنے کی کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں۔‘‘

وزیر اعلی نے کہا کہ تعلیمی بجٹ گھٹا کر 2;46;64 فیصد سے 2;46;5 فیصد کرنا بد قسمتی ہے۔ اسی طرح صحت بجٹ گھٹا کر 2;46;2 فیصد سے 1;46;98 فیصد کرنا نقصاندہ ہے۔

عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ نے کہا، ’’نہ کسان، نہ جوان، نہ نوجوان۔ بجٹ میں کسی کے لئے کوئی التزام نہیں ہے۔ امرت کال میں امرت کے لئے ترس رہا ہے ’عام انسان‘۔ سرمایہ کاروں کی لوٹ ہوئی آسان۔

عام بجٹ: موبائل فون سستے، زیورات مہنگے

0
عام بجٹ: موبائل فون سستے، زیورات مہنگے
عام بجٹ: موبائل فون سستے، زیورات مہنگے

سونے، چاندی اور پلاٹینم سے بنے زیورات پر ٹیکس 20 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا گیا ہے، مصنوعی زیورات پر ٹیکس کی شرح بھی 20 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دی گئی ہے

نئی دہلی: مختلف قسم کے ٹیکسوں میں کمی کی وجہ سے دیسی موبائل فون اور ٹی وی سیٹ، ہندوستانی ساختہ کچن کی چمنیاں اور جھینگا فارمنگ کے لیے استعمال ہونے والی فیڈ سستی ہوجائیں گی جبکہ ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے درآمد شدہ کاریں، سائیکل، سونا- چاندی اور پلاٹینم کے زیورات اور مصنوعی زیورات مہنگے ہو جائیں گے۔

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بدھ کے روز پارلیمنٹ میں عام بجٹ کی پیشکشی کے دوران مختلف قسم کے سامان پر عائد ٹیکسوں میں تبدیلی کی تجاویز کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے موبائل فون کیمروں اور ان کے کچھ پرزوں پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی کا بھی اعلان کیا۔ اسی طرح ٹی وی پینلز کے اوپن شیل پرزوں پر بنیادی درآمداتی ڈیوٹی کو کم کر کے 2.5 فیصد کر دیا گیا ہے جس سے یہ سستا ہو جائے گا۔

کچن کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے لگائی جانے والی دیسی چمنیاں سستی ہو جائیں گی۔ کچن کی چمنیاں بنانے کے لیے استعمال ہونے والی ہیٹ کوائلز پر کسٹم ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کردی گئی ہے جس سے دیسی کچن کی چمنیاں سستی ہو جائیں گی۔ تاہم درآمداتی کچن چمنی پر ڈیوٹی 7.5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے سے یہ مہنگا ہو جائے گا۔

کیکڑے کی فارمنگ کے لیے استعمال ہونے والا چارہ جو بیرون ملک برآمد کیا جائے گا وہ سستا ہو جائے گا۔ چارے کی تیاری میں استعمال ہونے والے مختلف مواد پر ٹیکس کم کرنے سے چارہ سستا ہو جائے گا۔ کمپریسڈ بائیو گیس کو ایکسائز ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس گیس سے کئی قسم کے انجن چلتے ہیں۔ حکومت نے کئی قسم کے کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکلز پر درآمداتی ڈیوٹی فری کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

سائیکلوں پر درآمداتی ڈیوٹی 30 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح سی کے ڈی گاڑیوں (کاروں) پر درآمداتی ڈیوٹی 30 سے ​​بڑھا کر 35 فیصد کر دی گئی ہے۔ سی بی یو گاڑیوں (کاروں) پر درآمداتی ڈیوٹی 60 سے بڑھا کر 70 فیصد کر دی گئی ہے۔ الیکٹرک سی بی یو وہیکل (کار) ٹیکس 60 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد کر دیا گیا ہے۔ الیکٹرانک کھلونوں کے علاوہ کھلونوں اور ان کے پرزوں پر ٹیکس 60 سے بڑھا کر 70 فیصد کر دیا گیا ہے۔ کمپاؤنڈ ربڑ پر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دی گئی ہے۔

چاندی پر ٹیکس کی شرح 7.5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دی گئی ہے۔ چاندی کی سلاخوں پر ٹیکس کی شرح 6.1 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح سونے، چاندی اور پلاٹینم سے بنے زیورات پر ٹیکس 20 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ مصنوعی زیورات پر ٹیکس کی شرح بھی 20 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دی گئی ہے۔

سابق وزیر قانون شانتی بھوشن کا انتقال

0
سابق وزیر قانون شانتی بھوشن کا انتقال
سابق وزیر قانون شانتی بھوشن کا انتقال

مسٹر شانتی بھوشن 1960 کی دہائی کے اواخر میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو کانگریس سے باہر نکالنے کے دور میں قائم ہونے والی کانگریس آرگنائزیشن (کانگریس او) پارٹی کے رکن تھے

نئی دہلی: مرارجی دیسائی حکومت میں وزیر قانون رہنے والے سینئر وکیل شانتی بھوشن کا منگل کے روز انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 97 برس تھی۔

مسٹر شانتی بھوشن 1960 کی دہائی کے اواخر میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو کانگریس سے باہر نکالنے کے دور میں قائم ہونے والی کانگریس آرگنائزیشن (کانگریس او) پارٹی کے رکن تھے۔ یہ پارٹی 1977 میں جنتا پارٹی میں ضم ہوگئی تھی۔

ایمرجنسی کے بعد 1977 کے انتخابات میں جنتا پارٹی کی جیت کے بعد انہیں مرارجی دیسائی حکومت میں وزیر قانون بنایا گیا تھا۔ بعد میں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں بھی شامل ہوئے۔ انہوں نے لوک پال کے لیے انا ہزارے کی قیادت والی تحریک کی بھی بھر پور حمایت کی۔

مسٹر شانتی بھوشن اور ان کے بیٹے پرشانت بھوشن 2012 میں وجود پذیر ہونے والی عام آدمی پارٹی کے بانی ارکان میں شامل تھے، حالانکہ دونوں جلد ہی اس نومولود سیاسی پارٹی سے الگ ہو گئے تھے۔

اساتذہ کی تقرری: سی بی آئی جانچ پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا

0
اساتذہ کی تقرری: سی بی آئی جانچ پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا
اساتذہ کی تقرری: سی بی آئی جانچ پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا

جسٹس بسواجیت بوس نے مرکزی تفتیشی ایجنسی کے کام کرنے کے انداز سے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ سی بی آئی نے منگل کی صبح ایک سیل بند لفافے میں رپورٹ پیش کی تھی۔ رپورٹ پڑھنے کے بعد جج نے برہمی کا اظہار کیا

کلکتہ:  کلکتہ ہائی کورٹ نے نویں اور دسویں کے اساتذہ کی بھرتی معاملے میں سی بی آئی کی جانچ کے طریقے کار پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔

جسٹس بسواجیت بوس نے مرکزی تفتیشی ایجنسی کے کام کرنے کے انداز سے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ سی بی آئی نے منگل کی صبح ایک سیل بند لفافے میں رپورٹ پیش کی تھی۔ رپورٹ پڑھنے کے بعد جج نے برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ایک سرکردہ تفتیشی ایجنسی کی طرف سے اس طرح کی غلطی قابل قبول نہیں ہے۔ وکیل کی فائل میں سی بی آئی کی رپورٹ میں جو کچھ ہے، اس سے زیادہ معلومات موجود ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ سی بی آئی کی ساکھ اس سے خراب ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے سے کوڑا کرکٹ ہٹائیں اور قابل لوگوں کو جگہ دیں۔

اسی وقت جسٹس بسواجیت بوس بھی ایس ایس سی کے کردار میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ ساری ذمہ داری عدالت کی ہے، آپ کو کسی نے دھوکہ دیا، آپ خاموش بیٹھے رہیں گے، آپ اتنے ڈرتے کیوں ہیں، جو ہوا اسے مٹاتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں، آپ اپنی طاقت کا استعمال کیوں نہیں کر رہے؟

شہریت ترمیمی ایکٹ کے نام پر لوگوں کو الجھایا جا رہا ہے: ممتا بنرجی

0
شہریت ترمیمی ایکٹ کے نام پر لوگوں کو الجھایا جا رہا ہے: ممتا بنرجی
شہریت ترمیمی ایکٹ کے نام پر لوگوں کو الجھایا جا رہا ہے: ممتا بنرجی

ممتا بنرجی نے کہا کہ شہریت (ترمیمی) ایکٹ کے نام پر مرکز لوگوں کو الجھا رہے ہیں۔ ہم ایک طویل عرصے سے متواس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، لیکن جب انتخابات قریب آتے ہیں، بی جے پی اپنے دوست ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے پاس جاتی ہے

کلکتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل کو الزام لگایا کہ بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت شہریت (ترمیمی) ایکٹ کو نافذ کرنے کے نام پر لوگوں کو الجھا رہی ہے۔ بنرجی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ اور ان کی پارٹی ترنمول کانگریس متوا کمیونٹی کے لوگوں کا خیال رکھتی ہے، جن کی جڑیں بنگلہ دیش میں ہیں، اور بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ سی اے اے کے نام پر دوست کے طور پر ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ شہریت (ترمیمی) ایکٹ کے نام پر مرکز لوگوں کو الجھا رہے ہیں۔ ہم ایک طویل عرصے سے متواس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، لیکن جب انتخابات قریب آتے ہیں، بی جے پی اپنے دوست ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے پاس جاتی ہے۔

متواس، جو اصل میں مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) سے تعلق رکھتے تھے، نے 1950 کی دہائی میں مغربی بنگال کی طرف ہجرت شروع کی۔

سی اے اے افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی برادریوں سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو شہریت دینے میں سہولت فراہم کرتی ہیں، چونکہ حکومت کی طرف سے ابھی تک ایکٹ کے تحت قواعد وضع نہیں کیے گئے ہیں، اس لیے اب تک کسی کو بھی اس کے تحت شہریت نہیں دی جا سکی ہے۔

بنرجی نے بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت پر ریاست کے واجبات جاری نہیں کرنے کا بھی الزام لگایا۔ممتا بنرجی نے کہا کہ آپ (مرکز) بنگال کے 1 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے مقروض ہیں، ہمیں ہمارے واجبات دے دیں۔

بنرجی نے پہلے الزام لگایا تھا کہ مرکز مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم کے لیے فنڈز جاری نہیں کر رہا ہے۔

مغربی بنگال کے مالدہ اور مرشد آباد کے اضلاع میں زیادہ تر دریا کے کٹاؤ کا ذکر کرتے ہوئے بنرجی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اس معاملے کو دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہمارا سب سے بڑا چیلنج دریا کے کٹاؤ کو روکنا ہے؛ مرکز اب اس کی دیکھ بھال نہیں کر رہا ہے۔ ہمیں ان سے 700 کروڑ روپے ملنے والے ہیں۔