جمعہ, اپریل 3, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 193

دیدی کے بغیر کوئی راستہ نہیں، ربانی نے کریم پر طنز کیا

0
دیدی کے بغیر کوئی راستہ نہیں، ربانی نے کریم پر طنز کیا
دیدی کے بغیر کوئی راستہ نہیں، ربانی نے کریم پر طنز کیا

ربانی نے کہا کہ انہوں نے کریم کے قریبی لوگوں کو بھی مشورہ دیا۔ کریم حال ہی میں کالی گھاٹ میں ممتا بنرجی کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ میں حاضر نہیں ہوئے۔ اسی تناظر میں ربانی نے کہا، ‘کریم صاحب کو بھی 17 مارچ کے اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا۔ لیکن اگر وہ نہیں جاتا تو کیا کوئی کچھ کر سکتا ہے؟

اسلام پور: 20 مارچ کو وزیر غلام ربانی نے اسلام پور کے باغی ایم ایل اے عبدالکریم چودھری پر طنز کیا کہ ترنمول اور دیدی کے بغیر کوئی راستہ نہیں ہے۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ کریم بیمار ہونے کے باوجود دیدی کے اچھے دل میں ہیں، ربانی نے کریم کو مسئلہ حل کرنے کے لیے دیدی سے ملنے کا مشورہ دیا۔ کریم کی بغاوت کے معاملے پر ربانی نے کہا، “ترنمول اور ممتا بنرجی کے علاوہ کسی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ کوئی بھی گروہ یا شخص جس نے دیدی کو چھوڑا ہے یا جسے دیدی نے چھوڑا ہے۔’ ربانی نے کہا کہ انہوں نے کریم کے قریبی لوگوں کو بھی مشورہ دیا۔ کریم حال ہی میں کالی گھاٹ میں ممتا بنرجی کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ میں حاضر نہیں ہوئے۔ اسی تناظر میں ربانی نے کہا، ‘کریم صاحب کو بھی 17 مارچ کے اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا۔ لیکن اگر وہ نہیں جاتا تو کیا کوئی کچھ کر سکتا ہے؟’ سبرت بخشی نے ان سے پارٹی چھوڑنے کو کہا – کریم نے اس الزام کی تردید کی۔

ربانی نے کہا، ‘ایسی کوئی بات معلوم نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ مسٹر کریم نچلی سطح پر رہیں گے۔’ ربانی نے یہ تبصرہ پیر کو اردو گرلز ہائی اسکول کی طالبات کے لیے ہاسٹل کا افتتاح کرنے کے بعد نارتھ بنگال نیوز سے کیا۔ کریم نے اس کا ردعمل جاننے کے لیے اسے بار بار فون کیا، لیکن اس نے فون نہیں کیا۔ بعد ازاں کریم کے چھوٹے بیٹے امداد چودھری نے کہا، ‘میں اپنے والد کے سیاسی معاملات پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔”

سیاسی حلقے سوچ میں پڑ گئے۔ چونکہ 17 مارچ کو لیڈر کی طرف سے بلائی گئی کالی گھاٹ میٹنگ کا بھی بائیکاٹ کیا گیا تھا، اس لیے کریم کے حوالے سے میٹنگ میں کیے گئے فیصلے کو لے کر قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔ لیکن اس ملاقات میں کریم کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ اسلام پور میں تنظیمی تبدیلیوں کی کوئی خبر نہیں ہے۔

دوسری جانب گزشتہ اتوار کو اجلاس سے واپس ضلع صدر کنیا لال اگروال نے رام گنج میں کریم کے بعد دپوتے لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کی۔ ماٹی کنڈا اسکینڈل کے بعد انہوں نے وضاحت کی کہ ایم ایل ایز کو بھی پارٹی ڈسپلن کی پیروی کرنی چاہئے۔ کریم کی آنکھوں کی پتلیوں اور ذاکر حسین کے بلاک صدر ہونے کے باعث پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف یکے بعد دیگرے توپیں برسائی گئیں۔ اس نے کہا اس صورتحال میں کریم کے جنگی مزاج کو دیکھ کر سیاسی حلقوں کی نظریں کریم کے اگلے قدم پر ہیں۔

بی جے پی لیڈر جیتندر تیواری دہلی سے گرفتار

0
بی جے پی لیڈر جیتندر تیواری دہلی سے گرفتار
بی جے پی لیڈر جیتندر تیواری دہلی سے گرفتار

پولیس ذرائع کے مطابق تقریباً 10 دن قبل آسنسول درگاپور پولیس کی ایک خصوصی ٹیم دہلی پہنچ کر بی جے پی لیڈر کی مختلف جگہوں پر تلاشی لی۔ اس کے بعد انہیں آج نوئیڈا سے تلاش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے

کلکتہ: بی جے پی لیڈر اور آسنسول کے سابق میئر جتیندر تیواری کو کمبل تقسیم کرنے کے معاملے میں دہلی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ آسنسول درگاپور پولیس کمشنریٹ کی خصوصی ٹیم نے گرفتار کیا ہے۔


پولیس ذرائع کے مطابق تقریباً 10 دن قبل آسنسول درگاپور پولیس کی ایک خصوصی ٹیم دہلی پہنچ کر بی جے پی لیڈر کی مختلف جگہوں پر تلاشی لی۔ اس کے بعد انہیں آج نوئیڈا سے تلاش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے۔


گزشتہ سال 14 دسمبر کو آسنسول کارپوریشن کے وارڈ نمبر 27 میں کمبل تقسیم کرنے کا پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ جتیندر تیواری اور ان کی اہلیہ کونسلر چیتالی تیواری اس تقریب کے منتظم تھے۔ تقریب کے دوران روندنے سے تین افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس واقعہ میں ایک متوفی کے اہل خانہ نے آسنسول نارتھ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ جتیندر اور اس کی بیوی چیتالی اس معاملے میں ایک اہم ملزم تھے۔

قبل ازیں بی جے پی لیڈر نے گرفتاری سے بچنے کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ تاہم عدالت نے درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد جتیندر تیواری نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اس کیس کی سماعت پیر کو سپریم کورٹ میں ہونی تھی۔ اس سے پہلے جتیندر کو آسنسول درگاپور کمشنریٹ پولیس نے یمنا ایکسپریس وے سے گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس ممکنہ طور پر آج دوپہر ہوائی جہاز سے بی جے پی لیڈر کے ساتھ کلکتہ آئے گی۔

اجازت ملی تو نکالیں گے ترنگا یاترا: مولانا توقیر رضا

0
اجازت ملی تو نکالیں گے ترنگا یاترا: مولانا توقیر رضا
اجازت ملی تو نکالیں گے ترنگا یاترا: مولانا توقیر رضا

آئی ایم سی کے سربراہ مولانا توقیر رضا خان نے 15 مارچ کو دہلی کی جانب کوچ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ حرکت میں آگئی اور محلہ سوداگران اور اس کے اطراف میں مولانا کی رہائش گاہ پر بڑی پولیس فورس تعینات کردی

بریلی: اتحاد ملت کونسل کے چیئرمین مولانا توقیر رضا نے ترنگا یاترا فی الحال ملتوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتظامیہ کو اپنی بات ٹھیک سے نہیں سمجھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں اجازت ملی تو اب 15 لوگوں کے ساتھ 20 مارچ کو پر امن طریقے سے دہلی کی جانب کوچ کریں گے۔

آئی ایم سی کے سربراہ مولانا توقیر رضا خان نے 15 مارچ کو دہلی کی جانب کوچ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ حرکت میں آگئی اور محلہ سوداگران اور اس کے اطراف میں مولانا کی رہائش گاہ پر بڑی پولیس فورس تعینات کردی۔ بدھ کی شام پولیس انتظامیہ کی موجودگی میں آئی ایم سی کے سربراہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ انتظامیہ کو اپنی بات ٹھیک سے نہیں بتا سکے، اس لیے اب دہلی کی طرف 20 مارچ کو کوچ کریں گے ۔ دہلی تک ترنگا یاترا میں صرف 15 لوگوں کے ساتھ سفر کریں گے۔ اس کے لیے وہ انتظامیہ سے اجازت کی درخواست دیں گے۔ اگر اجازت مل گئی تو وہ صحیح وقت پر دہلی روانہ ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پر امن ترنگا یاترا نکالنے چاہتے تھے۔ نعرہ اور شور شرابہ کے بغیر وہ تو سڑک کے کنارے چل کر اپنا سفر طئے کرتے۔ مولانا اپنی ترنگا یاترا کو روکنے سے ناراض دکھائی دئیے۔ قابل ذکر ہے کہ مولانا توقیر رضا نے بدھ دوپہر ترنگا یاترا نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ انتظامیہ نے ضلع میں دفعہ 144 کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا کو نکلنے کی اجازت نہیں دی۔

ایران۔ سعودی عرب تعلقات، اندیشے اور امکانات

0

یہ کیسا المیہ ہے کہ آج وہ طاقتیں جنھیں اسلام اور مسلم مخالف مانا جاتا ہے، وہی ہماری صفوں میں اتحاد قائم کرنے کا اعلان کر رہی ہیں

ڈاکٹر یامین انصاری

ایک عرصہ سے ہم یہ جملہ لکھتے، پڑھتے اور سنتے آئے ہیں کہ اسلام کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ اسلام کو مٹانے کے لئے بڑی بڑی طاقتیں منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے، مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے منصوبوں میں دوسرے لوگ اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں، جب ہمارے اپنے اندر کچھ کمزوریاں ہوں۔ اور ہم ان کمزوریوں اور اپنے اعمال و کردار کا محاسبہ کرنا بھول جاتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسلام یا مسلم دنیا کو جتنا نقصان بیرونی طاقتوں نے پہنچایا ہے، اس سے زیادہ ہمارے اپنے اعمال اور اپنے لوگوں سے اسلام کو نقصان پہنچا ہے۔ اس وقت بھی اگر مسلم آبادی یا مسلم ممالک کے حالات پر نظر ڈالیں تو اس میں بیرونی طاقتوں سے زیادہ ہمارے اپنے لوگ ہی باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں۔

قومی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ کہیں علاقائیت کی بنیاد پر، کہیں مسلک کی بنیاد پر، کہیں ذات پات کی بنیاد پر اور کہیں امیر و غریب کی بنیاد پر تفریق و امتیاز نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ جبکہ دعویٰ ہے کہ ہم ایک اللہ، ایک رسول اور ایک کتاب کے ماننے والے ہیں۔ اگر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہو بھی رہی ہیں تو ہم ان کے خلاف کیا حکمت عملی اپنا رہے ہیں؟ لکھنے، پڑھنے اور سننے سے آگے ہم نے ان سازشوں کے خلاف عملی طور پر کیا اقدامات کئے ہیں؟ اس پر بھی غور کرنا چاہئے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ آج وہ طاقتیں جنھیں اسلام اور مسلم مخالف مانا جاتا ہے، وہی ہماری صفوں میں اتحاد قائم کرنے کا اعلان کر رہی ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم خود اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کے اقدامات کرتے، چین جیسے ملک ثالثی اور میزبانی کر رہے ہیں۔

عالم اسلام کے لئے بڑی خوشخبری

موجودہ حالات میں عالم اسلام کے لئے اس سے بڑی خوشخبری اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایران اور سعودی عرب جیسی دو بڑی طاقتیں اپنے تعلقات استوار کرنے پر متفق ہو جائیں۔ اپنے مفادات کی خاطر ہی صحیح، چین نے وہ کارنامہ کر دکھایا جو کوئی مسلم ملک نہیں کر سکا۔ اس سے پہلے عراق، بحرین اور دیگر کئی ملکوں نے کوشش کی کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو بحال کرکے نہ صرف خطے میں، بلکہ عالم اسلام میں امن قائم کیا جائے، مگر اس میں کامیابی نہیں مل سکی۔ سعودی عرب اور ایران نے چین کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

عالمی برادری میں اس پیش رفت سے کافی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے نقطہ نگاہ سے اسے دیکھ رہا ہے۔ کوئی اسے چین کے ذریعہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے اثر و رسوخ کے طور پر دیکھ رہا ہے تو کوئی کہہ رہا ہے چین نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کرکے امریکہ کو ایک پیغام دے دیا ہے۔ بہر حال، چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات میں سعودی عرب کے قومی سلامتی کے مشیر مساعد بن محمد العيبان اور ایران کی جانب سے سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی شامل تھے۔ دونوں ملکوں نے سات سال بعد تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان مذاکرات کے بعد سعودی عرب اور ایران نے اپنے سفارتی مشن کھولنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات

اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات اور سفارت خانے کھولنے کا عمل دو مہینے کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے سکیورٹی تعاون، تجارت، معیشت، ٹیکنالوجی، سائنس، کلچر، کھیلوں اور امور نوجوانان پر 2001ء اور 1998ء میں ہونے والے معاہدوں کی بحالی پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ملاقات پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ باہمی تعلقات میں اضافے اور سفارت کاروں کی واپسی کے انتظامات بھی کیے جائیں گے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات بحالی کی خبر کو عالم اسلام میں ایک خوش آئند پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عوامی رابطے کی ویب سائٹوں پر عام لوگوں کے مثبت تبصروں کے علاوہ کئی مسلم ملکوں نے بھی خیر مقدم کیا ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ نے بھی سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کا خیرمقدم تو کیا ہے، مگر ساتھ ہی کچھ خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی میں چین کا اہم کردار ہے، مگر سعودی عرب اور ایران کی قیادتوں کی رضا مندی کے بغیر یہ ناممکن تھا۔ ایران کے موجودہ صدر ابراہیم رئیسی اور سعودی عرب کے حکمراں شہزادہ محمد بن سلمان کی طرز حکمرانی میں ہی شاید یہ ممکن بھی تھا۔

سلمان اور رئیسی کے اقدامات

محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے کئی ایسے قدم اٹھائے ہیں، جن پر عالم اسلام میں مختلف رد عمل سامنے آئے ہیں ان کے کچھ اقدامات کو لوگوں نے سراہا ہے تو کچھ فیصلوں پر تنقید بھی کی ہے۔ وہیں صدر ابراہیم رئیسی کے ذریعہ ایران کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کئے جانے والے اقدامات سے امید کی کرن پیدا ہوئی۔ خاص طور پر انھوں نے مختلف عرب ممالک کے ساتھ رشتوں پر جمی برف پگھلانے کی کوشش کی۔

ابراہیم رئیسی نے آتے ہی اعلان کیا تھا کہ خلیجی ملکوں سمیت ہمسایہ ریاستوں سے تعلقات میں بہتری تہران کی ترجیحات میں شامل ہے۔ خود ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے بھی کہا تھا کہ ’مسلم دنیا اور خطے کے دو اہم ملک سعودی عرب اور ایران علاقائی امن، استحکام اور ترقی کی خاطر تعمیری مذاکرات کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں۔‘ اسی طرح سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ ان کا ملک ایرانی صدر کی کاوشوں کو زمینی حقائق میں تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔‘ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ تعلقات بحالی میں چین سے زیادہ دونوں ملکوں کی قیادت کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ یعنی جب خود ٹھان لیا کہ اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنا ہے تو ممکن ہو گیا۔

اس سے پہلے کشیدہ تعلقات کے حامل دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان 2021ء میں مذاکرات کا سلسلہ چل رہا تھا، مگر مارچ 2023ء میں بغیر کسی وجہ کے تعطل کا شکار ہو گیا۔ در اصل سعودی عرب میں مختلف سنگین جرائم میں ملوث 81؍ افراد کے سرقلم کر دئے گئے۔ الزام تھا کہ اس میں ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اتنی بڑی تعداد میں پھانسیوں کے بعد ایران سمیت مختلف ملکوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ ایران نے مملکت میں اجتماعی پھانسیوں کو ’انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ قرار دیا، جس پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات دوبارہ کشیدہ ہوگئے۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب سعودی عرب نے ایک سرکردہ شیعہ عالم دین شیخ نمر النمر کو 2016ء میں سزائے موت دی، جس پر ایران کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ پھانسی کی مذمت میں تہران اور مشہد کے اندر واقع سعودی عرب کے سفارتی مشن پر حملے کیے گئے۔ مسلکی اعتبار سے بھی دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کا مخالف مانا جاتا ہے۔

شیعہ اکثریتی ایران اور سنی اکثریتی سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں مختلف تنازعات میں ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں۔ یمن اور شام اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں جاری تنازعات اور انتشار کا محور یہی دونوں ملک رہے ہیں۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور طاقت آزمائی نے پورے خطے کے امن کو تہہ و بلا کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے مفادات کی خاطر امریکہ، یورپ اور دیگر عالمی طاقتوں کو یہاں پنپنے دینے میں انہی دونوں ملکوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ اب جبکہ عالم اسلام کی ان دو بڑی طاقتوں نے تعلقات بحالی کا فیصلہ کیا ہے تو امید کی جانی چاہئے کہ نہ صرف خطہ میں، بلکہ عالم اسلام میں ایک نئی فضا قائم ہوگی۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

ہماچل حکومت کے جواب سے غیر مطمئن اپوزیشن نے کام روکنے کی تجویز پر واک آؤٹ کیا

0
ہماچل حکومت کے جواب سے غیر مطمئن اپوزیشن نے کام روکنے کی تجویز پر واک آؤٹ کیا
ہماچل حکومت کے جواب سے غیر مطمئن اپوزیشن نے کام روکنے کی تجویز پر واک آؤٹ کیا

اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان ایم ایل اے ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کو روکنے کے معاملے میں وزیر اعلی سکھویندر سکھو نے کہا کہ اگر تمام ادارے کھول دیے جائیں تو کل قرضہ 91 ہزار کروڑ روپے ہو جائے گا

شملہ: ہماچل پردیش اسمبلی کے اجلاس کے پہلے دن وقفہ سوالات سے پہلے اپوزیشن نے ضابطہ67 کے تحت کام روکو تجویز اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایریا ڈویلپمنٹ ایم ایل اے فنڈ کی آخری قسط جاری کرنے سے متعلق ایوان میں بحث کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد ایوان میں ہنگامہ ہوا اور اپوزیشن نے بے نتیجہ بحث کے درمیان ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

بی جے پی ایم ایل اے وپن سنگھ پرمار نے کہا کہ ہمیں ایم ایل اے ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کی آخری قسط سے محروم کردیا ہے۔ اختیاری گرانٹ بھی روک دی گئی ہیں۔ مسٹر پرمار نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو ملنے والے فنڈز کے لیے نوٹس دیے گئے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر کے دور میں ایم ایل اے ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کو بڑھا کر 2 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ اب مارچ آگیا ہے۔ ابھی تک تیسری قسط نہیں دی گئی۔ نو ایم ایل اے نے یہ تجویز رول 67 کے تحت دی تھی۔

موجودہ حکومت پر الزام لگاتے ہوئے مسٹر ٹھاکر نے کہا کہ حکومت بدلنے کے بعد کانگریس نے یہ رقم روک لی۔ بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایم ایل اے کو ترقی کے لیے دی جانے والی رقم روک دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنی ذمہ داری پوری ذمہ داری سے نبھائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ ​​جیرام حکومت نے ایم ایل اے کے علاقوں کی ترقی کے لئے ایم ایل اے فنڈ کا التزام کیا تھا۔ سکھو حکومت نے اسے ختم کر دیا ہے۔ اس پر بحث ہونی چاہیے، لیکن حکمراں جماعت کے پارلیمانی وزیر ہرش وردھن چوہان نے کہا کہ یہ تجویز اپوزیشن نے ایک گھنٹہ پہلے دی تھی۔ جس پر حکم جاری کیا جائے گا۔ جس پر اپوزیشن نے ہنگامہ شروع کر دیا ہے۔

اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان ایم ایل اے ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کو روکنے کے معاملے میں وزیر اعلی سکھویندر سکھو نے کہا کہ اگر تمام ادارے کھول دیے جائیں تو کل قرضہ 91 ہزار کروڑ روپے ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست معاشی بحران سے گزر رہی ہے۔ اگر ہم مالیاتی نظم و ضبط پر قائم نہیں رہے تو پریشانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کام روکو تجویز تب آتی ہے جب کوئی آفت آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر اگنی ہوتری کا یہ کہنا درست ہے کہ اگر وہ چیمبر میں بیٹھتے تو یہ مسئلہ حل ہو جاتا۔ حکومت نظام بدل رہی ہے۔ اگر کام روکو تجویز کو ارکان اسمبلی کے فنڈز کے ساتھ جوڑتے ہیں تو یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ ہمارے ایم ایل ایز کو بھی عوام نے منتخب کیا ہے۔

نتیش نے مسلمانوں کو شب برات کی مبارک باد پیش کی

0

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شب برات کا تہوار مقدس ہے۔ اس موقع پر لوگ پوری رات بیدار رہ کر خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اپنے اسلاف کو یاد کرتے ہیں

پٹنہ: وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے شب برات کے موقع پر ریاست اور ملک کے لوگوں بالخصوص مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شب برات کا تہوار مقدس ہے۔ اس موقع پر لوگ پوری رات بیدار رہ کر خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اپنے اسلاف کو یاد کرتے ہیں۔ شب برات کی دعائیں اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مبارک رات پر ہم سب خدا سے دعا کریں کہ ہم سب کے درمیان محبت، ہم آہنگی بڑھے اور ہم سب کی مشترکہ کوششوں سے بہار ترقی کی بلندیوں پر پہنچے۔

تحریکِ آزادی میں مردوں کے ساتھ خواتین کی قربانیاں ناقابل فراموش: شیخ عقیل احمد

0

نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا کے زیر اہتمام پرگتی میدان میں منعقدہ عالمی کتاب میلے

نئی دہلی: نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا کے زیر اہتمام پرگتی میدان میں منعقدہ عالمی کتاب میلے کے دوران 4/مارچ کو میلے کے تھیم پویلین میں قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ‘داستان جنگ آزادی’ کے عنوان سے ایک خوب صورت داستان پیش کی گئی، جس میں خصوصاً تحریک آزادی کی خواتین سپاہیوں کی قربانیوں اور ان کی غیر معمولی حب الوطنی اور جذبہ آزادی کو خراج پیش کیا گیا۔ اس داستان کے تخلیق کار و ڈائریکٹر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر دانش اقبال تھے، جبکہ داستان گوئی عارفہ جبین اور اظہر الدین اظہر نے کی اور میوزک آرٹسٹ کے طور پر سعادت ایثار اور سید انصرام الحق نے اپنی فنکاری کا مظاہرہ کیا۔

قبل ازاں تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ میں سب سے پہلے این بی ٹی اور خاص طورپر جناب شمس اقبال صاحب کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں، جن کی کوششوں سے کتاب میلے کے دوران یہاں کئی علمی ، ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد ہورہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خصوصاً اس سال جنگ آزادی کا امرت مہوتسو بھی منایا جارہا ہے، جس کے تحت بہت سی تقریبات ہوچکی ہیں اور اب بھی ہو رہی ہیں، قومی اردو کونسل کے ذریعے پیش کی جانے والی آج کی یہ داستانِ جنگ آزادی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جنگ آزادی کا جب ذکر ہوتا ہے یا اس پر لکھا جاتا ہے تو زیادہ تر مردوں کے ہی نام لیے جاتے ہیں، حالاں کہ ایک بڑی تعداد ان خواتین کی بھی ہے، جنھوں نے تحریک آزادی میں سرگرم حصہ لیا اور اپنے گھربار وغیرہ کی ذمے داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ انھوں نے آزادی کی مختلف تحریکوں میں بھی اہم رول ادا کیا، اس داستان میں ہندوستان کی خواتین مجاہدین آزادی کے کردار پر ہی فوکس کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس داستان کو سننے کے بعد سامعین میں جوش و خروش پیدا ہوگا، وطن سے محبت میں اضافہ ہوگا، تحریک آزادی کے دنوں کے مصائب و مشکلات سے واقفیت ہوگی اور ساتھ ہی یہ سبق بھی ملے گا کہ ہم آج کے وقت میں اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے کیا کرسکتے ہیں اور بطور شہری اپنی ذمے داریاں کیسے نبھا سکتے ہیں۔ انھوں نے اس داستان کے تخلیق کار و ڈائریکٹر دانش اقبال اور ان کی پوری ٹیم کو بھی مبارکباد پیش کی اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

پروفیسر دانش اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک کی آزادی میں تمام طبقات نے حصہ لیا اور سبھوں کی مشترکہ کوششوں سے ملک آزاد ہوا، ان میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شامل تھیں مگر ان کا تذکرہ کم ہوتا ہے ، اس لیے ہم نے ان کے مختلف واقعات کو جمع کرکے ایک داستان کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اس میں سارے ناموں کا احاطہ نہیں ہے، کچھ چھوٹ بھی گئے ہیں جنھیں ہم آیندہ شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ اس سے پہلے یہ رقص کے ذریعے پیش کیا گیا جاچکا ہے، آج اسے داستان کے فارم میں پیش کیا جارہا ہے۔

تمام اداکاروں نے بڑی خوب صورتی سے یہ داستان پیش کی اور رانی ویلونچیار، رانی لکشمی بائی،رانی اونتی بائی، بیگم حضرت محل،بیگم نشاط موہانی، کملانہرو اور کستورباگاندھی وغیرہ کی قربانیوں کی معنی خیز جملوں، خوب صورت اور حوصلہ انگیز اشعار کے ذریعے پیش کش کو سامعین و ناظرین نے خوب پسند کیا اور داد و تحسین سے نوازا۔ اس موقعے پر کونسل کے اسٹاف کے علاوہ بڑی تعداد میں شائقین موجود تھے۔

تین ریاستوں میں بی جے پی کی جیت سے اپوزیشن کو بری طرح دھچکا: دگل

0

انتخابی نتائج سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ بی جے پی کے چانکیہ ہیں

نئی دہلی: شمال مشرق کی تین ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت پر دہلی پردیش بی جے پی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن کے ایس دگل نے آج کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو بری طرح دھچکا لگا۔

انہوں نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انتخابی نتائج سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ بی جے پی کے چانکیہ ہیں کیونکہ جس طرح مسٹر شاہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے کاموں کو ملک کے شمال مشرقی علاقے میں عام لوگوں تک پہنچایا ہے۔ آج اسی کا نتیجہ ہے کہ اپوزیشن کو ہر جگہ دھچکا لگ رہی ہے۔

بی جے پی لیڈر نے کہا کہ مسٹر اروند کیجریوال نے دہلی کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ صحت مند سیاست میں شفافیت ضروری ہے۔ تب ہی کامیابی کی امید کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ یہ عوام سب کچھ جانتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح سے آج دہلی میں بڑے گھپلے منظر عام پر آ رہے ہیں۔ اس سے صاف ہوگیا ہے کہ مسٹر کیجریوال اقتدار کے نہیں پیسے کے بھوکے ہیں۔ محلہ کلینک، شراب گھپلہ، دہلی جل بورڈ میں گھپلہ، اسکول کے کلاس روم میں گھپلہ سمیت دہلی حکومت کے درجنوں محکموں میں جس طرح سے بڑے گھپلے سامنے آرہے ہیں۔

مسٹر دگل نے کہا کہ مسٹر کیجریوال ہندوستانی سیاست میں واحد وزیر اعلیٰ ہیں جو بغیر کسی محکمے کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ پردے کے پیچھے رہ کر گھپلوں کو پناہ دے رہے ہیں اور بالواسطہ طور پر دہلی کے ریونیو کے بڑے پیمانے پر غلط استعمال میں ملوث ہیں۔

وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس پر مشتمل کمیٹی کی سفارش پر چیف الیکشن کمشنر، الیکشن کمشنرز کی تقرری ہوگی: سپریم کورٹ

0
وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس پر مشتمل کمیٹی کی سفارش پر چیف الیکشن کمشنر، الیکشن کمشنرز کی تقرری ہوگی: سپریم کورٹ
وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس پر مشتمل کمیٹی کی سفارش پر چیف الیکشن کمشنر، الیکشن کمشنرز کی تقرری ہوگی: سپریم کورٹ

چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری اب مرکزی حکومت کی سفارش پر نہیں، بلکہ وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا کی ایک کمیٹی کی سفارش پر صدر کے ذریعہ کی جائے گی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ جب تک کوئی قانون نہیں بن جاتا، ملک کے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا کی ایک کمیٹی کی سفارش پر کی جائے گی عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا مطلب ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری اب مرکزی حکومت کی سفارش پر نہیں، بلکہ وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا کی ایک کمیٹی کی سفارش پر صدر کے ذریعہ کی جائے گی۔

جسٹس کے ایم جوزف، جسٹس اجے رستوگی، جسٹس انیرودھا بوس، جسٹس ہرشیکیش رائے اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی آئینی بنچ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ سنایا۔

درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرری کے لیے آزادانہ میکنزم قائم کرنے کا حکم دیا جائے۔

جسٹس جوزف کی سربراہی میں بنچ نے آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت الیکشن کمیشن کی تقرری کے طریقہ کار میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ایگزیکٹو کی ہر قسم کی مداخلت سے دور رہنا چاہیے۔

بنچ نے کہا کہ جمہوریت کو جوڑنا اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے، جب تمام اسٹیک ہولڈرز عوام کی مرضی کی عکاسی کرنے کے لئے انتخابی عمل کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے کام کریں۔

بنچ نے کہا کہ ریاست کے تئیں ذمہ داری کی حالت میں کوئی شخص آزادانہ سوچ نہیں رکھ سکتا۔

سپریم کورٹ نے این جی او – ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس، اشونی کمار اپادھیائے، انوپ برنوال اور ڈاکٹر جیا ٹھاکر کی درخواست پر اپنا یہ فیصلہ سنایا۔

ہندوستانی شہریت ترک کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافے کے اسباب

0

اعداد و شمار تو اپنی جگہ، لیکن ہمیں یہ ضرور دیکھنا ہوگا ہندوستانی شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ تازندگی کسی دوسرے ملک میں رہے، مگر اپنے گھر اور اپنے وطن کو نہیں بھول سکتا۔ ویسے بھی کسی انسان کے لئے اپنا آبائی وطن چھوڑنا زندگی کا ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کے پس پشت بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ اپنا گھر بار چھوڑنے والوں میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جنھیں دوسرے ملکوں میں بہتر مواقع کی تلاش ہوتی ہے۔ وہ دولتمند اور ترقی یافتہ ملکوں میں بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہوئے اپنا ملک چھوڑنے کا ارادہ کرلیتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی سیاسی، سماجی اور بہت سے دیگر عوامل بھی کام کرتے ہیں۔ ان میں عدم تحفظ، عدم انصاف اور عدم تحمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہمارے ملک میں ان امور پر گزشتہ کچھ برسوں کے دوران کافی تنازعہ اور مباحثہ بھی ہوا ہے۔ موجودہ حالات میں جب ہندوستانیوں کے شہریت چھوڑنے کے اعداد و شمار سامنے آتے ہیں تو سب سے اہم سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ ہندوستانی باشندوں کے دوسرے ملکوں کا رخ کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ جب ہم ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایمانداری سے اس کے ہر پہلو کو مد نظر رکھنا چاہئے۔

ایک طرف دعویٰ ہے کہ ہم دنیا کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہم ’وشو گرو‘ بننے کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف اپنا وطن چھوڑنے والوں کی تعداد میں سال در سال اضافہ ہورہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی جہاں ہندوستان جاپان اور جرمنی کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی طرف بڑھ رہا ہے، وہیں ایسے لوگ ہیں جو دوسرے ممالک میں ہندوستان سے زیادہ امکانات دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ دعوے کے مطابق تو جن لوگوں نے ماضی میں وطن چھوڑا ہے، انھیں واپس ہندوستان آجانا چاہئے تھا، مگر ہو اس کے برعکس رہا ہے۔

دراصل گزشتہ سال دو لاکھ 25؍ ہزار سے زیادہ شہریوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی اور بیرون ملک میں جا کر آباد ہو گئے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایک سال میں ہندوستانی شہریت ترک کرنے والوں کی یہ تعداد اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خود پارلیمنٹ میں یہ اعداد و شمار پیش کئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ ۱۲؍برسوںمیں۱۶؍ لاکھ لوگ ہندوستان چھوڑ کر بیرون ملک بس گئے ہیں۔

حکومت کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2011ء سے اب تک 16؍ لاکھ سے زیادہ ہندوستانیوں نے اپنی ہندوستانی شہریت چھوڑ دی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ 2؍ لاکھ 25؍ ہزار 620؍ ہندوستانی وہ ہیں جنہوں نے پچھلے سال ہندوستانی شہریت چھوڑی ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے 12؍ سال میں شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد میں 60؍ فیصد اضافہ ہوا۔ 2011ء سے اب تک ہندوستانی شہریت چھوڑنے والوں کی کل تعداد 16؍ لاکھ 63؍ ہزار 440؍ ہے۔ 2011ء میں ایک لاکھ 22؍ ہزار 819؍ ہندوستانیوں نے اپنی شہریت ترک کردی، جبکہ 2022ء میں یہ تعداد 60؍ فیصد بڑھ کر 2؍ لاکھ 25؍ ہزار 620؍ تک پہنچ گئی۔ 2011ء کے بعد سے ہر سال شہریت ترک کرنے والے ہندوستانیوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2012ء میں ایک لاکھ 20؍ ہزار 923؍، 2013ء میں ایک لاکھ 31؍ ہزار 405؍، 2014ء میں ایک لاکھ 29؍ ہزار 328؍، 2015ء میں ایک لاکھ 31؍ ہزار 498؍، 2016ء میں ایک لاکھ 41؍ ہزار 603؍، 2017ء میں ایک لاکھ 33؍ ہزار 49؍، 2018ء میں ایک لاکھ 34؍ ہزار 561؍، 2019ء میں ایک لاکھ 44؍ ہزار 17؍، 2020ء میں 85؍ ہزار 256؍ ہندوستانیوں نے اپنی شہریت ترک کردی۔ ان ہندوستانی شہریوں نے دنیا کے 135؍ مختلف ممالک کی شہریت حاصل کی ہے۔

اعداد و شمار تو اپنی جگہ، لیکن ہمیں یہ ضرور دیکھنا ہوگا ہندوستانی شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوا ہے؟ اتنی بڑی تعداد میں ہندوستانیوں کے اپنی شہریت ترک کرنے سے یہ سوال بھی اٹھنا فطری ہے کہ یہ لوگ اپنی شہریت کیوں چھوڑ رہے ہیں اور کون لوگ ہیں جو اپنی شہریت ترک کر رہے ہیں؟ کیا شہریت ترک کرنے والے سبھی لوگ بہتر مواقع یا روزگار اور ملازمتوں کے لئے دوسرے ملکوں کا رخ کر رہے ہیں؟ یا کچھ صاحب ثروت لوگ بھی ہندوستان کو خیر باد کہہ رہے ہیں؟ یا پھر ملک میں بڑھتی منافرت، عدم تحفظ کا احساس اور عدم تحمل بھی اس کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے؟ پہلی نظر میں لگتا ہے کہ لوگ بہتر تعلیم اور روزگار کے لئے بیرون ملک کا رخ کرتے ہیں، لیکن سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ملک چھوڑنے والوں میں خوشحال اور صاحب ثروت لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔

برطانیہ کی انویسٹمنٹ مائیگریشن کنسلٹنسی کمپنی ہینلے اینڈ پارٹنرز کی گزشتہ سال کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ایک سال میں ہندوستان کے 8؍ ہزار کروڑ پتی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے ساتھ ہندوستان اب امیروں کی نقل مکانی کے معاملے میں سر فہرست تین ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ ہائی نیٹ ورتھ انفرادی وہ لوگ ہیں جن کے اثاثے 8؍ اعشاریہ 25؍ کرروڑ روپے (10؍ لاکھ ڈالر) یا اس سے زیادہ ہیں۔

ہندوستانی شہریت ترک کرنے والوں میں اگر ’کروڑ پتیوں‘ کی اتنی تعداد ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ’لکھ پتی‘ کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ تاہم ایسے ’کروڑ پتی‘ لوگوں کا کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔ در اصل جب ان صاحب ثروت لوگوں کے وطن چھوڑنے کی وجہ پر غور کریں تو اس کی بنیادی وجہ خود کو معاشی طور پر مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے یہ لوگ ملک کی معاشی صورت حال اور عدم تحفظ کے احساس کو بنیادی مسئلہ سمجھتے ہوئے وطن چھوڑ رہے ہیں۔ دوسرے ملکوں میں صحت، تعلیم اور بہتر طرز زندگی جیسی مضبوط بنیادی سہولیات بھی اس کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ جرائم کی شرح میں کمی کے سبب بھی لوگ ان ممالک کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ یہ رجحان عام ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں پیسہ کمانے کے بعد جیسے ہی امیر لوگوں کو موقع ملتا ہے، ترقی یافتہ ممالک میں آباد ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ متوسط گھرانوں کے نوجوان تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع کی تلاش میں ترقی یافتہ ممالک کا رخ کررہے ہیں۔ جو نوجوان حصول تعلیم کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں، ان میں سے اکثر کو اپنے اجداد کی زمین جائداد فروخت کرنا پڑتی ہے یا بینکوں سے قرض لینا پڑتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ایک طالب علم کے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے پر تقریباً 25؍ سے 30؍ لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد جب انھیں وہیں روزگار میسر ہوتا ہے تو پھر وہ وہیں آباد ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ ملک میں بڑھتے عدم تحمل کے رجحان کو بھی ایک بڑی وجہ مان رہے ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا تھا کہ وزارت خارجہ کے مطابق ہندوستانی شہریوں نے اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنی شہریت ترک کر دی ہے۔

آخر یہ ذاتی وجہ کیا ہے؟ آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ سال پہلے مختلف شعبہائے زندگی سے وابستہ کئی اہم شخصیات نے ملک میں عدم برداشت کے ماحول پر تبصرہ کیا تھا۔ اس کے بعد کافی تنازعہ بھی ہوا تھا۔ خود حکمراں طبقے کی جانب سے ان لوگوں کو دوسرے ملکوں میں جانے کے مشورے دئے جانے لگے تھے۔ ایک دو معروف فلمی ہستیوں نے بھی کہا تھا کہ اب ’ملک میں ڈر لگتا ہے‘۔ اس کے بعد ان لوگوں کو اس حد تک نشانہ بنایا گیا، کہ اب کوئی دوسرا اس طرح کا اظہار نہیں کرتا۔ شاید اسی عدم برداشت کا ان شخصیات نے ذکر کیا تھا۔ اب ایک بار پھر ملک سے باہر جانے والوں اور شہریت ترک کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو اس کی کچھ تو وجوہات ہوں گی۔ جن کے بارے میں حکومت کو معلومات حاصل کرنا چاہئے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com