جمعہ, اپریل 3, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 192

وزیر اعظم کی ڈگری نئی پارلیمنٹ کے باہر چسپاں کی جائے: شیوسینا

0
وزیر اعظم کی ڈگری نئی پارلیمنٹ کے باہر چسپاں کی جائے: شیوسینا
وزیر اعظم کی ڈگری نئی پارلیمنٹ کے باہر چسپاں کی جائے: شیوسینا

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ اس میں چھپانے کی کیا بات ہے، ڈگری دینے والے کالج کو اپنی ممتاز شخصیت پر فخر ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے بجائے، جو لوگ سوال کرتے ہیں (وزیراعظم کی ڈگری) اور اسے دیکھنے کے لیے کہتے ہیں، ان پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے،‘‘

ممبئی: یہاں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے شیو سینا ادھو (یو بی ٹی) کے ایم پی اور چیف ترجمان سنجے راوت نے حیرت کا اظہار کیا کہ کیوں وزیر اعظم کی ڈگری کو ‘خفیہ’ طور پر محفوظ رکھا جا رہا ہے، جس سے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ لوگ وزیر اعظم کی ڈگری کو جعلی قرار دے رہے ہیں… میں خلوص نیت سے مانتا ہوں کہ پوری سیاسیات کی ڈگری تاریخی اور انقلابی ہے۔ اس لیے اسے ہماری نئی پارلیمنٹ کے عظیم دروازے پر آویزاں کیا جانا چاہیے تاکہ لوگ اس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے سے باز رہیں۔


سینا (یو بی ٹی) کے رہنما نے کہا کہ جب دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے وزیر اعظم کی ڈگری کے بارے میں تفصیلات طلب کیں تو انہیں انکار کردیا گیا اور یہاں تک کہ 25،000 روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔
وزیر اعظم کی ڈگری مانگتے وقت چھپانے کی کیا بات ہے؟ اب ہمیں لگتا ہے کہ مودی کو خود آگے آنا چاہئے اور اپنی تعلیمی ڈگری پر ہوا صاف کرنا چاہئے،” راوت نے زور دیا۔


وزیر اعظم کی ڈگری کو جعلی قرار دیتے ہوئے پارٹی کے اخبارات "سامنا” اور "دوپہر کا سامنا” نے ادارتی طور پر مودی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ڈگری کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں اٹھایا جا رہا ہے۔
اتوار کی رات، سینا (یو بی ٹی) کے صدر اور سابق سی ایم ادھو ٹھاکرے نے اورنگ آباد یعنی چھترپتی سمبھاجی نگر میں ایک مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے جلسہ میں ریاست کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے کو دی گئی حالیہ ڈاکٹریٹ پر تنقید کرتے ہوئے اس نازک مسئلے کو چھوا۔


انہوں نے کہا کہ ‘’کچھ اپنی ڈگریاں لے لیتے ہیں، کچھ کماتے ہیں… ایسا لگتا ہے کہ پی ایچ ڈی بھی اب فروخت ہونے والی ہے… ایک ہے جو اس کا مذاق اڑاتا ہے اور دوسرا جو اسے چھپاتا ہے… اس میں چھپانے کی کیا بات ہے، ڈگری دینے والے کالج کو اپنی ممتاز شخصیت پر فخر ہونا چاہیے۔ سابق طالب علم لیکن اس کے بجائے، جو لوگ سوال کرتے ہیں (وزیراعظم کی ڈگری) اور اسے دیکھنے کے لیے کہتے ہیں، ان پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے،‘‘


راوت نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کتنے لیڈروں نے بھی اس طرح کی مشکوک ڈگریاں حاصل کی ہیں اور اسے ملک کے لیے سنگین تشویش کا معاملہ قرار دیا۔

این سی پی یو ایل کی گورننگ کونسل کی تشکیل نو کے لیے وزیر اعظم سے مداخلت کی درخواست

0
این سی پی یو ایل کی گورننگ کونسل کی تشکیل نو کے لیے وزیر اعظم سے مداخلت کی درخواست
این سی پی یو ایل کی گورننگ کونسل کی تشکیل نو کے لیے وزیر اعظم سے مداخلت کی درخواست

اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے وزیر اعظم کو مکتوب ارسال کیا، این سی پی یوایل کی تازہ ترین صورتحال سے کیا باخبر

نئی دہلی: اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے وزیراعظم کو خط ارسال کر کے این سی پی یو ایل کی گورننگ کونسل کی تشکیل کے لیے مداخلت کی درخواست کی ہے۔

اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (یو ڈی او) کی ایک پریس ریلیز کے مطابق اس کے قومی صدر ڈاکٹر سید احمد خان نے کہا کہ قومی سطح پر اردو زبان کی ترقی اور بہتری کے لیے کام کرنے والی نیشنل کونسل فار دی ڈیولپمنٹ آف اردو لینگویج (این سی پی یو ایل) کی گورننگ کونسل کی تشکیل نو کی درخواست وزیر اعظم نریندر مودی سے کی گئی ہے۔ ڈیمانڈ لیٹر وزیر اعظم کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ ڈیمانڈ لیٹر میں این سی پی یو ایل کی گورننگ کونسل اور گورننگ بورڈ کی عدم تشکیل کی وجہ سے اردو اسکالرز، ادیبوں، شاعروں وغیرہ کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا گیا ہے، کام مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ مالی سال 2022-23 کا مختص بجٹ بھی مکمل طور پر بیکار ہو گیا ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ بجٹ بغیر خرچ کیے حکومت کے پاس واپس چلا جائے گا۔

ڈاکٹر سید احمد خان نے کہا کہ ’’این سی پی یو ایل قومی سطح پر اردو زبان کی ترقی اور بہتری کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ مرکزی وزارت تعلیم کے تحت آتی ہے۔ این سی پی یو ایل چلانے والی گورننگ کونسل پچھلے ایک سال سے تشکیل نہیں دی گئی ہے۔ گورننگ کونسل کی تشکیل نو کی فائل مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے پاس نومبر 2022 میں ہی بھیج دی گئی ہے، لیکن ابھی تک وزارت کی طرف سے اس فائل پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ این سی پی یو ایل اردو زبان کے اسکالرز، ادیبوں، شاعروں وغیرہ کی کتابوں کے مسودے شائع کرنے میں مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اردو زبان کی ترقی اور سربلندی کے لیے مختلف مقامات پر سیمینار، سمپوزیم، مشاعرے وغیرہ کے انعقاد کے لیے غیر سرکاری تنظیموں کو مالی تعاون بھی فراہم کرتی ہے۔ گزشتہ ایک سال سے گورننگ کونسل کی عدم موجودگی کے باعث یہ تمام کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

ڈاکٹر سید احمد خان نے مزید کہا کہ انہوں نے وزیراعظم کو خط ارسال کر کے این سی پی یو ایل کی گورننگ کونسل کی تشکیل نو کے لیے مداخلت کی درخواست کی ہے، عدم موجودگی سے پیدا ہونے والے حالات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو بھی خط لکھا گیا تھا، لیکن اس خط پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی اس خط کا جواب دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر خان نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وزیر اعظم کو لکھے گئے خط پر مناسب کارروائی کی جائے گی اور وزیر اعظم اس سنگین مسئلے کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ہندوستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف عدلیہ کا کڑا رخ!

0
ہندوستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف عدلیہ کا کڑا رخ!
ہندوستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف عدلیہ کا کڑا رخ!

ہمارے ملک ہندوستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف یا تو متاثر طبقہ آواز اٹھارہا ہے یا پھر عدلیہ۔ حکومت، پولیس اور انتظامیہ تو خاموش تماشائی بنے ہوئے ہوتے ہیں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری
چند روز پہلے ہی سپریم کورٹ نے ملک میں بڑھتی نفرت کے سلسلہ میں انتہائی سخت تبصرے کئے تھے۔ سیاست، حکومت، پولیس اور میڈیا سب ہی سپریم کورٹ کے سخت تبصروں کی زد میں تھے۔ مگر زمینی سطح پر سپریم کورٹ کی سختی کا کوئی اثرنہ پہلے نظر آیا اور نہ ہی اب نظر آ رہا ہے۔ سیاست بے لگام ہے، حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، پولیس کا کردار تو بدل ہی گیا ہے اور میڈیا کے ایک طبقے نے تو جیسے قسم کھا رکھی ہے کہ ملک کو نفرت کی آگ میں جلا کر راکھ کر دینا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ رام نومی کے موقع پر ایک بار پھر ملک کی مختلف ریاستوں کے متعدد شہروں اور قصبوں میں فرقہ وارنہ تشدد کے واقعات رونما ہو گئے۔ اقلیتی طبقہ کوپھر نشانہ بنایا گیا، ان کی ملکیت اور مذہبی مقامات پر حملے کئے گئے اور پھر وہی مجرم ٹھہرائے گئے۔

پچھلے کچھ برسوں کے دوران رام نومی کو ایک تہوار کی شکل میں منانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ ورنہ اس سے پہلے ایک خاص پوجا کے ساتھ بڑے پر سکون انداز میں رام نومی کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ سیاست میں مذہب کی آمیزش کی طرف سپریم کورٹ نے بھی توجہ دلائی ہے۔ رام نومی کے تہوار کو بھی اسی نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو سپریم کورٹ کا تبصرہ صد فیصد درست لگتا ہے۔ رام نومی کے موقع پر نکالے جانے والے جلوس اور ’یاترائیں‘ ایک فرقہ کے خلاف نفرت پھیلانے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کی خبریں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ جلوس میں شامل شر پسند عناصر، جو کہیں نہ کہیں ایک مخصوص تنظیم اور سیاسی جماعت سے وابستہ ہوتے ہیں، ہاتھوں میں تلواریں، ڈنڈے اور ممنوعہ ہتھیار، زبان پر نفرت انگیز اور آتشیں نعرے، دوسرے مذاہب کے خلاف اشتعال انگیزی اور ہنگامہ آرائی، مسجدوں کے سامنے، ان کی چھتوں پر اور درگاہوں میں داخل ہو کر مذہبی پرچم لہرانا اور اشتعال انگیز نعرے بازی ان جلوسوں کی علامت بن چکی ہیں۔ نتیجہ فرقہ وارانہ فساد کی شکل میں سامنے آتا ہے۔


در اصل اسی اشتعال انگیزی کی پشت پناہی اور اس کی بنیادوں کی طرف سپریم کورٹ نے دھیان دلایا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اگر ان شر پسند عناصر کو کسی خاص جماعت یا تنظیم کی حمایت اور پشت پناہی حاصل نہیں ہوگی تو یہ واقعات بار بار رونما نہیں ہوں گے۔ اگر واقعی حکومت، پولیس اور انتظامیہ ان عناصر کے خلاف ایک بار سختی کا مظاہرہ کریں تو یہ دوبارہ سر اٹھانے کی ہمت نہیں کر سکیں گے۔ اسی طرح اگر میڈیا اپنے حقیقی کردار میں سامنے آئے تو ان واقعات پر لگام لگانے میں بہت آسانی ہوگی۔ انہی سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالت عظمی نے اشتعال انگیزی اور بڑھتی نفرت کے ہر پہلو کو سامنے رکھ کر تبصرے کئے ہیں اور سخت رویہ اختیار کیا ہے۔

اگر کہا جائے کہ سپریم کورٹ نے ملک میں بڑھتی نفرت، اشتعال انگیز تقاریر اور بیانات کے معاملے میں فیصلہ کن جنگ لڑنے کا اعلان کردیا ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ کیوں کہ سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے کہا ہے کہ اب ہمیں اقدامات بھی فیصلہ کن اندازمیں ہی کرنے پڑیں گے۔ بنچ نے بالکل واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ جس وقت سیاست اور مذہب کو الگ کر دیا جائے گا، ملک میں نفرت انگیزی بند ہو جائے گی۔ بنچ نے نفرت کے خلاف کارروائی نہ کرپانے والی حکومتوں کے لئے انتہائی سخت الفاظ استعمال کئے۔

بنچ نے یہ کہا کہ یہ حکومتیں ’ ناکارہ ‘ ہو گئی ہیں جو وقت پڑنے پر کارروائی نہیں کرتی ہیں ۔ انہی کی وجہ سے نفرت کو شہ مل رہی ہے۔ اس دو رکنی بنچ میں جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس بی وی ناگرتنا شامل ہیں۔ ان میں جسٹس جوزف اس سے قبل ٹی وی چینلوں کی اشتعال انگیزی کے خلاف سرکار اور چینلوں کے خلاف سخت تبصرہ کر چکے ہیں۔ وہیں جسٹس بی وی ناگرتنانے نوٹ بندی کے معاملے میں آئینی بنچ میں شامل رہتے ہوئے اختلافی فیصلہ دیا تھا۔ اس سے قبل بنچ نے نفرت انگیز تقاریر اور بیانات کے معاملے میں حکومتوں کی تساہلی اور کارروائی نہ کرنے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

نفرت انگیز تقاریر اور بیانات کے تناظر میں بنچ نے کہا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ہمارے پاس پنڈت جواہر لال نہرو اور اٹل بہاری واجپئی جیسے مقررین تھے۔ لوگ دور دراز کے علاقوں سے ان کو سننے آتے تھے کیوں کہ وہ تقریریں ہی اتنی اچھی کرتے تھے۔ وہ نفرت نہیں پھیلاتے تھے، بلکہ محبت کی باتیں کرتے تھے۔ اب جن لوگوں کے پاس کہنے کو کچھ خاص نہیں ہے، بلکہ ان کا مقصد صرف نفرت پھیلانا ہے وہ تقریریں کرکے سماج میں نفرت کا زہر گھول رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو لگام دینے کی ضرورت ہے، لیکن اس محاذ پر بالکل سناٹا ہے۔ ان دونوں ججوں کا یہ تبصرہ یقیناً زمینی سچائی پر مبنی ہے۔ ہم اگر پچھلے کچھ برسوں میں ملک کے بڑے سے

بڑے سیاستدانوں اور اعلی عہدوں پر فائز لوگوں کے بیانات کا جائزہ لیں تو عدالت کا تبصرہ انہی کی طرف اشارہ ہے۔ جسٹس جوزف اور جسٹس ناگرتنا کی بنچ نے یہ سوال بھی کیا کہ حکومتیں سماج سے اس جرم کو ختم کرنے کے لئے کوئی طریقہ کار کیوں نہیں بنا سکتی ہیں؟ انہوں نے پوچھا کہ نہیں بناسکتی ہیں یا پھر نہیں بنانا چاہتی ہیں؟ بنچ کے مطابق بھائی چارے کا خیال بہت اچھا تھا، لیکن ہمیں یہ کہتے ہوئے افسوس ہے کہ اس میں دراڑیں پڑرہی ہیں اور اس کے لئے حکومتیں ذمہ دار ہیں۔ وہ اس ضمن میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھانا چاہتی ہیں۔

سپریم کورٹ نے ملک میں بڑھتی نفرت کے لئے کہیں نہ کہیں سیاستدانوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی اور کہا کہ نفرت بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کےسیاستداں اپنی سیاست کے لئے کھل کر مذہب کا استعمال کرتے ہیں۔بنچ نے کہاکہ سماج میں تحمل ہونا چا ہئے۔ اس ملک کے شہریوں کو حلف لینا چاہئے کہ وہ دوسروں کی تذلیل نہیں کریں گے۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کا استعمال لعنت کا ایک شیطانی چکر ہے، جو حکومتوں کی بروقت کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے جاری ہے۔بنچ نے کہا کہ جس دن ملک کی سیاست میں مذہب کی آمیزش ختم ہو جائے گی یا مذہب کا استعمال بالکل ختم ہو جائے گا، ملک سے نفرت ختم ہو جائے گی، لیکن اس تعلق سے کوئی بھی سیاستداں سننےکو تیار نہیں ہے۔کوئی بھی بڑھتی نفرت کیخلاف آواز نہیں اٹھانا چاہتا۔


در اصل وہ سیاستداں جنھوں نے اپنی کامیبابی کا زینہ نفرت کو ہی بنایا ہو، مذہب کی سیاست ہی ان کی بنیاد ہو، اشتعال انگیزی ان کی تقریروں کا محور ہو، شر پسند اور فرقہ پرست عناصرہی ان کی اصل طاقت ہوں، ان سے آخر کیسے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ سماج سے نفرت کے اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے کام کریں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ سپریم کورٹ تبصروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ اب بھی وقت ہے کہ سپریم کورٹ آئین کی بالادستی کو قائم رکھتے ہوئے مظلوم طبقہ کے اعتماد کو متزلزل نہ ہونے دے۔ اس سے پہلے بھی عدالت عظمی سیاستدانوں اورٹی وی چینلوں کی نفرت انگیزی کے خلاف سخت تبصرے کر چکی ہے۔ اس کے باوجود مہاراشٹر میں سلسلہ وار ریلیاں ہوتی ہیں اور کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز باتیں کی جاتی ہیں۔

اسی طرح رام نومی کے موقع پر نکلنے والے جلوسوں میں اشتعال انگیزی اور پولیس و حکومتوں کا خاموش تماشائی بنے رہنا ثابت کرتا ہے کہ ان پر سپریم کورٹ کے تبصروں کا کوئی اثر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ٹی وی چینلوں پر باقاعدہ ایک مہم کے تحت ہندو مسلم کے درمیان نفرت پھیلانے والے پرگراموں اور مباحثوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ لہذا اگر واقعی ملک سے نفرت کو ختم کر نا ہے تو قصورواروں اور خاطیوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا اور انہیں پابند سلاسل کرنا ہوگا۔ سیاستدانوں،حکومت، انتظامیہ، پولیس اور نفرت پھیلانے والے میڈیا سے تو کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ عدالت عظمی ہی سے توقع ہے کہ وہ اب اس سمت کوئی سخت اور زمینی کارروائی کرے گی۔ورنہ تاریخ پہ تاریخ اور تبصرے پر تبصرے کرتے کرتے بہت دیر نہ ہو جائے۔


yameen@inquilab.com (مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

اورنگ آباد میں فسادات سے رمضان کا امن تباہ، امن کی اپیل

0
اورنگ آباد میں فسادات سے رمضان کا امن تباہ، امن کی اپیل
اورنگ آباد میں فسادات سے رمضان کا امن تباہ، امن کی اپیل

اچانک تشدد کا محرک مبینہ طور پر کچھ شرپسندوں کی کیراڈ پورہ میں ایک مسجد کے باہر اونچی آواز میں موسیقی بجانے کی وجہ سے ہے، حالانکہ حکام نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے

اورنگ آباد: تاریخی شہر میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اقلیتی اکثریت والے چھترپتی سمبھاجی نگر یعنی اورنگ آباد شہر میں دو گروپوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں نے رمضان کے امن کو تہس نہس کر دیا۔


کیراڈ پورہ علاقے میں بدھ کی نصف شب کے قریب جھڑپیں شروع ہوئیں، جب مختلف برادریوں کے چند لوگوں نے نعرے بازی کی جس کے بعد ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا گیا۔ جلد ہی، یہ تقریباً 20 گاڑیوں کے ساتھ مزید پرتشدد ہو گیا، جن میں کچھ پولیس کی گاڑیاں بھی شامل تھیں، جنہیں مبینہ طور پر فسادیوں نے نذر آتش کر دیا تھا۔


صورت حال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی جمعیت وہاں پہنچ گئیں لیکن پتھراؤ کرنے والوں نے انہیں بھی نشانہ بنایا اور بعد میں ایس آر پی ایف کی ایک ٹیم بھی وہاں تعینات کی گئی۔


ایک موقع پر، پولیس نے ہلکے لاٹھی چارج کا سہارا لیا اور فسادیوں پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکے جب اضافی دستے وہاں پہنچ گئے۔ آخر کار، جمعرات کی صبح حالات کو قابو میں کر لیا گیا، یہاں تک کہ نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڈنویس نے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی۔


اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے جس کی وجہ سے اقلیتی فرقے کے اکثریتی شہر میں رمضان المبارک کے روزے کے وسط میں تشویش پائی جاتی ہے۔


اچانک تشدد کا محرک مبینہ طور پر کچھ شرپسندوں کی کیراڈ پورہ میں ایک مسجد کے باہر اونچی آواز میں موسیقی بجانے کی وجہ سے ہے، حالانکہ حکام نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔


شیو سینا (یو بی ٹی) کے قائد حزب اختلاف (کونسل) امباداس دانوے نے جھڑپوں کی مذمت کی اور گڑبڑ کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کو ذمہ دار ٹھہرایا۔


اس پیش رفت کی مذمت کرتے ہوئے، سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے پوچھا کہ کیا یہ وہ فسادات ہیں جن کا خدشہ ہے اور کہا کہ "ریاست میں کوئی محکمہ داخلہ نہیں ہے”۔


شہر سے سینا (یو بی ٹی) کے لیڈر چندرکانت کھیرے نے کہا کہ "فڑنویس آتشزدگی کے فسادات کا ماسٹر مائنڈ ہے” جس نے دنیا کے مشہور سیاحتی مقام اجنتا-ایلورا غار مندروں کو ہلا کر رکھ دیا۔


دوسری طرف، حکمراں شیو سینا-بی جے پی نے سینا (یو بی ٹی) پر کل رات کے فسادات پر سیاست کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔


جوابی حملہ کرتے ہوئے، فڑنویس نے کہا کہ کچھ لوگ – جن کی اس نے شناخت نہیں کی ہے – جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنے کی کوشش میں بدتمیزی پر مبنی بیانات دے رہے ہیں اور ان سے اپیل کی کہ وہ ایسا کرنے سے گریز کریں، کیونکہ شہر اب پرامن ہے۔


اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اور ایم پی سید امتیاز جلیل نے حکومت سے کومبنگ آپریشن شروع کرنے اور گڑبڑ کی رات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔


چھترپتی سمبھاجی نگر کے پولس کمشنر نکھل گپتا نے کہا کہ وہ کسی بھی ممکنہ پریشانی پیدا کرنے والوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ضلع کلکٹر نے اس منظر نامے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بلائی ہے۔

قومی دارالحکومت میں کووڈ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر ہنگامی اجلاس

0
قومی دارالحکومت میں کووڈ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر ہنگامی اجلاس
قومی دارالحکومت میں کووڈ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر ہنگامی اجلاس

دہلی حکومت کورونا وائرس کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور موجودہ صورتحال کے مطابق اس پر رہنما اصول جاری کرے گی

نئی دہلی: دہلی حکومت نے قومی دارالحکومت میں کووڈ-19 کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے جمعرات کو ایک ہنگامی میٹنگ کی۔


دہلی کے وزیر صحت سوربھ بھاردواج نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ قومی دارالحکومت میں کووڈ کو لے کر کوئی گھبراہٹ کی صورتحال نہیں ہے، لیکن ہم دہلی اور دیگر ریاستوں میں بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ "ہم نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک ہنگامی میٹنگ کی۔ ہم نے تمام اسپتالوں کو کووڈ-19 سے نمٹنے کے لیے الرٹ پر رکھا ہے، لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔


مسٹر بھاردواج نے کہا کہ حال ہی میں کووڈ کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک موک ڈرل کی گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ جمعہ کو محکمہ صحت کی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چوکس ہیں۔ اگر ہمیں اس صورت میں مزید علامات ملتی ہیں تو ہم تیاریوں کو مزید بڑھائیں گے۔


انہوں نے کہا کہ حکومت کورونا وائرس کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور موجودہ صورتحال کے مطابق اس پر رہنما اصول جاری کرے گی۔ حکومت کورونا ٹیسٹوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے کیسز کو دیکھتے ہوئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔

گیان واپی مسجد تنازعہ کی سماعت 21 اپریل کو: سپریم کورٹ

0
گیان واپی مسجد تنازعہ کی سماعت 21 اپریل کو: سپریم کورٹ
گیان واپی مسجد تنازعہ کی سماعت 21 اپریل کو: سپریم کورٹ

تنازعہ گیان واپی مسجد میں کچھ ہندو جماعتوں نے پوجا کی اجازت دینے کے مطالبہ سے متعلق عرضی دائر کی گئی تھی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ وہ وارانسی کے گیان واپی مسجد تنازعہ کے معاملے میں 21 اپریل کو سماعت کرے گا۔


چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جے پی پاردیوالی کی بنچ نے تنازعہ سے متعلق کچھ ہندو جماعتوں کی اپیل سنتے ہوئے معاملے پر 21 اپریل کو سماعت کرنے کی رضامندی ظاہر کی۔

وکیل وشنو شنکر جین نے بنچ کے سامنے’خصوصی ذکر‘ کے دوران اس معاملے کو اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وارانسی کی ضلع عدالت سے متعلق تمام معاملات کو ایک جگہ کہنے پر اپنا فیصلہ نہیں سنا رہی ہے اور اسے چوتھی بار ملتوی کر دیا گیا۔

اوپری عدالت نے عرضی گزار کو یقین دلایا کہ اگلی تاریخ پر معاملے کی سماعت کی جائے گی۔

تنازعہ گیان واپی مسجد میں کچھ ہندو جماعتوں نے پوجا کی اجازت دینے کے مطالبہ سے متعلق عرضی دائر کی گئی تھی۔
عدالت نے 22 مئی 2022 کو معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے تنازعہ سے متعلق معاملوں کو سول عدالت سے ضلع مجسٹریٹ کورٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

پین کارڈ کو آدھار سے جوڑنے کی آخری تاریخ 30 جون تک بڑھا دی گئی

0
پین کارڈ کو آدھار سے جوڑنے کی آخری تاریخ 30 جون تک بڑھا دی گئی
پین کارڈ کو آدھار سے جوڑنے کی آخری تاریخ 30 جون تک بڑھا دی گئی

پہلے پین کارڈ کو آدھار کے ساتھ جوڑنے کی مدت 31 مارچ تک تھی، جسے اب بڑھا کر 30 جون 2023 کر دیا گیا ہے

نئی دہلی: پرمننٹ اکاؤنٹ نمبر (پین کارڈ) کو آدھار کے ساتھ جوڑنے کی آخری تاریخ کو 30 جون 2023 تک تین ماہ بڑھا دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں، سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس (سی بی ڈی ٹی) نے آج کہا کہ پہلے یہ مدت 31 مارچ تک تھی، جسے اب بڑھا کر 30 جون 2023 کر دیا گیا ہے۔

اس دوران، جو لوگ پین کو آدھار سے لنک نہیں کرتے ہیں، ان کا پین یکم جولائی 2023 سے غیر فعال ہو جائے گا، جس کی وجہ سے متعلقہ شخص کو رقم کی واپسی جاری نہیں کی جائے گی۔ پین کے غیر فعال رہنے کی مدت کے لیے رقم کی واپسی پر سود نہیں ملے گا۔ ٹی سی ایس اور ٹی ڈی ایس ٹیکس کی شرح قانون میں کی گئی دفعات کے مطابق بڑھائی جائے گی۔

سی بی ڈی ٹی نے کہا کہ پین اور آدھار کو لنک کرنے کے بعد پین ایک ماہ کے بعد فعال ہو جائے گا اور اس کے لیے 1000 روپے کی فیس بھی ادا کرنی ہوگی۔

ہندوستان کی ہونہار باکسر نکھت دوسری بار عالمی چیمپئن بنیں

0
ہندوستان کی ہونہار باکسر نکھت دوسری بار عالمی چیمپئن بنیں
ہندوستان کی ہونہار باکسر نکھت دوسری بار عالمی چیمپئن بنیں

نکھت، جنہوں نے پچھلی بار 52 کلوگرام زمرے میں عالمی چمپئن شپ جیتی تھی، دو بار کے ایشیائی چمپئن نگوین کو شکست دے کر 50 کلوگرام زمرے میں طلائی تمغہ جیتا

نئی دہلی: ہندوستان کی ہونہار باکسر نکھت زرین نے اتوار کو خواتین کی عالمی باکسنگ چمپئن شپ میں ویتنام کی تھی ٹام نگوین کو 5-0 سے شکست دے کر مسلسل دوسری بار عالمی چیمپئن بن گئی۔


نکھت، جنہوں نے پچھلی بار 52 کلوگرام زمرے میں عالمی چمپئن شپ جیتی تھی، دو بار کے ایشیائی چمپئن نگوین کو شکست دے کر 50 کلوگرام زمرے میں طلائی تمغہ جیتا۔ نکھت نے سیمی فائنل میں کولمبیا کی انگرڈ ویلنسیا کو شکست دے کر فائنل میں داخلہ حاصل کیا۔


دفاعی عالمی چیمپیئن نے مکے بازی کے آغاز سے ہی درست مکے لگائے اور نیوین کے حملوں کو بے اثر کرنے کے لیے تیزی سے اپنے پیروں کا استعمال کیا۔ نکھت نے پہلا راؤنڈ 5-0 سے جیتا لیکن ویتنامی باکسر نے اچھی واپسی کرتے ہوئے دوسرا راؤنڈ 3-2 سے جیت لیا۔ نکھت نے فیصلہ کن راؤنڈ میں صبر اور جارحیت کا صحیح امتزاج دکھایا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کی حقدار ہیں۔


نکھت دوسری ہندوستانی باکسر ہیں جنہوں نے عالمی چیمپئن شپ میں دو بار گولڈ میڈل جیتا ہے۔ نکھت سے پہلے میری کوم (2002، 2005، 2006، 2008، 2010 اور 2018) چھ بار یہ کارنامہ انجام دے چکی ہیں۔


اس تاریخی فتح کے بعد نکھت نے کہا کہ ’’میں دوسری بار عالمی چیمپئن بننے پر بہت خوش ہوں، خاص طور پر مختلف وزن کے زمرے میں۔ آج کا میچ پورے ٹورنامنٹ میں سب سے مشکل تھا اور چونکہ یہ ٹورنامنٹ کا آخری میچ تھا اس لیے میں اپنی توانائی کا بھرپور استعمال کرنا چاہتا تھی۔ یہ ایک ہنگامہ خیز مقابلہ تھا جس نے دیکھا کہ ہم دونوں کو وارننگ کے ساتھ ساتھ آٹھ پوائنٹ بھی ملے۔ فائنل راؤنڈ میں میری حکمت عملی پوری طاقت کے ساتھ حملہ کرنا تھی اور جب میرا ہاتھ فاتح کے طور پر اٹھایا گیا تو میں بہت خوش تھی۔ یہ تمغہ ہندوستان اور ان تمام لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں ہمارا ساتھ دیا۔


نکھت آئندہ اولمپکس کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس سال کے ٹورنامنٹ کے لیے فلائی ویٹ سے لائٹ فلائی ویٹ میں چلی گئی تھی۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ باکسر نے نہ صرف نئے وزن کے زمرے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا بلکہ اس نے اپنی گولڈن مہم میں ٹاپ سیڈ افریقی چمپئن رومیسا بوولم اور دو مرتبہ ورلڈ چمپئن شپ میڈلسٹ تھائی لینڈ کی چوتھامت رکشات کو بھی شکست دی۔


باکسنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر اجے سنگھ نے نکھت کی جیت پر کہاکہ "نکھت کو مسلسل دوسرے سال عالمی چیمپئن بننے پر مبارکباد۔ مجھے یقین ہے کہ وہ ملک کے لیے سونے کا تمغہ جیتنے کے لیے ملک بھر کی نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک روشن مثال بن جائے گی۔ "وہ آنے والے برسوں تک چیمپئن بننے والی ہے اور ہم یقینی طور پر 2024 میں ان کی جانب سے اولمپک میڈل دیکھیں گے۔”


نکھت کی جیت کے بعد اب ہندوستان کے پاس ٹورنامنٹ میں کل تین گولڈ میڈل ہیں۔ کامن ویلتھ گیمز 2022 کی طلائی تمغہ جیتنے والی نیتو گھنگھاس (48 کلوگرام) اور تین بار کی ایشیائی تمغہ جیتنے والی سویٹی بورا (81 کلوگرام) نے بھی ہفتہ کو میزبان ٹیم کی جانب سے طلائی تمغہ جیتا۔

راہل کی پارلیمنٹ سے رکنیت کی منسوخی پر سرسہ میں کانگریس کا ‘ستیہ گرہ’

0
راہل کی پارلیمنٹ سے رکنیت کی منسوخی پر سرسہ میں کانگریس کا 'ستیہ گرہ'
راہل کی پارلیمنٹ سے رکنیت کی منسوخی پر سرسہ میں کانگریس کا 'ستیہ گرہ'

مسٹر گرگ نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رکنیت کی منسوخی جمہوریت کا قتل ہے۔ جمہوریت پر کاری ضرب لگ رہی ہے۔ ہمیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہمیں اعلیٰ عدالت سے انصاف ملے گا

سرسہ: پارلیمنٹ میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سابق صدر راہل گاندھی کی رکنیت کی منسوخی کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ضلع کانگریس کمیٹی نے اتوار کو ضلع انچارج بجرنگ داس گرگ کی قیادت میں مقامی کانگریس عمارت میں ‘ستیہ گرہ’ تحریک کا انعقاد کیا۔


مسٹر گرگ نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رکنیت کی منسوخی جمہوریت کا قتل ہے۔ جمہوریت پر کاری ضرب لگ رہی ہے۔ ہمیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہمیں اعلیٰ عدالت سے انصاف ملے گا۔ للت مودی اور نیرو مودی بے ایمان ہیں جنہوں نے ملک سے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک فرار ہوگئے۔ للت مودی اور نیرو مودی ملک کے دشمن ہیں۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ ان مفروروں کو پکڑ کر ہندوستان واپس لائے اور رقم برآمد کرے۔ حکومت مفرور ملزمان سے رقوم کی وصولی کے بجائے اپوزیشن جماعتوں کی آواز کو دبانے میں مصروف ہے جو جمہوریت کا قتل ہے۔


مسٹر گرگ نے کہا کہ ملک کے عوام اور تمام اپوزیشن پارٹیاں اڈانی کو بینک سے دئے گئے اربوں روپے کے قرض کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور ایل آئی سی اور اڈانی میں کی گئی سرمایہ کاری نے اپنے حصہ کی قیمت سے زیادہ ظاہر کی ہے۔ عوام کو دھوکہ دینے کا کام کیا گیا ہے۔ کانگریس پارٹی ایک عرصے سے اڈانی گروپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن مودی جی اڈانی کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اڈانی کو بچانے میں مصروف ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مودی جی کے لیے اڈانی ہندوستان سے اوپر ہیں۔

راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت منسوخ کرنا جمہوریت کے لئے بڑا المیہ

0
راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت منسوخ کرنا جمہوریت کے لئے بڑا المیہ
راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت منسوخ کرنا جمہوریت کے لئے بڑا المیہ

جس طرح حزب اختلاف کے سب سے بڑے چہرے کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی ہے،وہ جمہوریت کیلئے نیک فال نہیں ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

راہل گاندھی کی رکنیت منسوخ ہونا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ محض ایک رکن پارلیمنٹ کی رکنیت ختم ہو جانے کا معاملہ بھی نہیں ہے۔ بات راہل گاندھی تک محدود ہوتی، تب بھی مان لیا جاتا کہ انھوں نے جو کیا اس کی سزا انہیں ملی۔ شمال سے لے کر جنوب تک اور مغرب سے لے کر مشرق تک اپوزیشن لیڈران کو ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔ اپوزیشن کی مضبوط آواز لالو یادو اور ان کا کنبہ ہو، یا پھر دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا، تلنگانہ کی رکن پارلیمنٹ کے کویتا ہوں یا پھر مہاراشٹر کے قد آور لیڈر سنجے راؤت اور نواب ملک وغیرہ۔ یہ فہرست بہت طویل ہو سکتی ہے، مگر تعجب اس بات کا ہے کہ حکمراں جماعت یا اس کی اتحادی جماعت کے کسی لیڈر پر اس قسم کا نہ کوئی الزام ہے، نہ اس کے خلاف کوئی جانچ۔

یہ بھی غور طلب ہے کہ اپوزیشن لیڈران کے معاملے میں قانون بھی کس تیز رفتاری سے اپنا کام کررہا ہے۔ بھلے ہی یہ معاملات قانون کے دائرے میں انجام پارہے ہیں، مگرموجودہ حکومت نے اس کے ذریعہ بہت سے پیغام دے دئے ہیں۔ اشارہ دے دیا گیا ہے کہ 2024ء کے عام انتخابات کوئی معمولی انتخابات نہیں ہیں۔ یہ خود حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے لئے بھی سنگ میل ثابت ہوں گے۔ ان انتخابات میں ملک کی سیاسی سمت اور ملک کا مستقبل طے ہوگا۔ یہ بھی طے ہوگا کہ ملک کی جمہوری اقدار و روایات پر کس حد تک عمل کیا جاتا ہے۔


کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اس وقت کیرالہ کے وائناڈ سے لوک سبھا کے رکن ہیں۔ 2019ء میں وہ اپنے روایتی حلقے یوپی کے امیٹھی اور وائناڈ سے انتخابی میدان میں اترے تھے، مگر امیٹھی میں حیرت انگیز طور پر انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب راہل گاندھی کو وائناڈ لوک سبھا سیٹ سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

راہل کو مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے میں دو سال کی سزا سنائے جانے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی لوک سبھا کے رکن کے طور پر نااہل قرار دے دیا گیا۔ راہل کو گجرات کی ایک عدالت نے مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں ان کے تبصرے پر دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اگرچہ انہیں ضمانت مل گئی ہے اور فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 30؍ دن کا وقت دیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود فوری طور پر لوک سبھا سیکریٹریٹ نے ان کی رکنیت کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔عوامی نمائندگی ایکٹ 1951ء کے سیکشن 8(3) کے تحت جب کسی رکن پارلیمنٹ کو کسی معاملہ میں دو سال کی قید کی سزا سنائی جاتی ہے، تو وہ رکنیت سے محروم ہو جاتا ہے۔

سمجھا جاتا ہے کہ راہل کو 30؍ دن کا وقت نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ملا ہے اور اس کا راہل کی پارلیمنٹ کی رکنیت کو کالعدم قرار دیے جانے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ 2019ء میں جب راہل گاندھی نےایک انتخابی ریلی میں وزیر اعظم مودی کو نشانہ بنایا تو انہیں اندازہ نہیں ہوگا کہ اس بیان پر انہیں دو سال کی سزا ہو سکتی ہے اور ان کی رکنیت بھی ختم کی جا سکتی ہے۔ انتخابی جلسوں اور ریلیوں میں تقریباً ہر جماعت کے لیڈر اپنے حریفوں کے خلاف اکثر متنازعہ تبصرے کرتے ہیں یا حد سے گزر جاتے ہیں۔ راہل گاندھی نے بھی کچھ ایسا ہی تبصرہ کیا تھا۔ 13؍ اپریل 2019ء کو کرناٹک کے کولار میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل نے کہا تھا، ‘’سب چوروں کا نام مودی ہی کیوں ہے؟ چاہے وہ للت مودی ہو یا نیرو مودی یا نریندر مودی؟ سب چوروں کے نام میں مودی کیوں شامل ہے؟‘ بس یہی بیان آج راہل گاندھی کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا گیا ہے۔ ویسے راہل گاندھی جس قانون کا شکار ہوئے ہیں، اس کی وجہ وہ خود بھی ہیں۔

راہل گاندھی نے 2013ء میں یوپی اے حکومت کے ذریعہ لائے گئے ایک بل کو عوامی طور پر پھاڑ کر پھینک دیا تھا، جس میں یہ تجویز تھی کہ اگر کسی رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ کو سزا ہوجاتی ہے تو فوری طور پر اس کی رکینت منسوخ نہیں ہوگی، بلکہ اس کو اپنی سزا کے خلاف اپیل کیلئے تین ماہ کی مہلت ہوگی۔ اگر کسی رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی تو جب تک اس معاملہ میں فیصلہ نہیں آتا، اس وقت تک اس کی رکینت منسوخ نہیں ہوگی، لیکن راہل گاندھی کی سخت مخالفت کے بعد یہ بل پاس نہیں ہوسکا تھا۔ اب راہل کی رکنیت منسوخ ہونے کے بعد ایک بار پھر اس بل کے بارے میں باتیں ہونے لگی ہیں۔ کیوں کہ منموہن سنگھ حکومت کے ذریعہ لایا گیا آرڈیننس اگر نافذ ہو جاتا تو شاید راہل گاندھی کی پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ نہ ہوتی۔


ایک طرف راہل گاندھی یا دوسرے اپوزیشن لیڈران کے خلاف ہونے والی کارروائی منصوبہ بند لگتی ہے، وہیں دوسری طرف یہ منصوبہ بندی کہیں نہ کہیں ان لیڈران کے لئے سود مند بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ سلسلہ واقعات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 2024ء کے انتخابات سے قبل حکومت اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کر دینا چاہتی ہے، لیکن ایک جمہوری ملک میں یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ جب تک ملک کی رگوں میں جمہوریت کا خون باقی ہے، اس وقت تک یہ ممکن نہیں کہ حزب مخالف کی آواز کو خاموش کر دیا جائے۔ ایسا لگتا نہیں کہ ہندوستان جیسے ملک میں آمریت اور تاناشاہی کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ ملک کے عوام ایک نہ ایک دن پھر جمہوری اقدار میں یقین رکھنے والوں کی طرف واپس آئیں گے۔ راہل گاندھی کے لئے یہی ٹرننگ پوائنٹ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ راہل گاندھی نے اب اپنی محنت سے حزب اختلاف کے سب سے بڑے چہرے کے طور پر اپنی جگہ بنائی ہے۔ ان کی سزا اور پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ ہونے کی خبر کو قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں جو جگہ ملی ہے، اس سے ان کے سیاسی قد کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نیو یارک ٹائمس سے لے کر رائٹر تک اور الجزیرہ سے لے کر ڈان تک، سب نے راہل گاندھی کی خبر کی کافی اہمیت دی ہے اور اپنے تبصرے بھی کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جن اپوزیشن جماعتوں کو کہا جا رہاہے کہ وہ کبھی متحد نہیں ہو سکتیں، راہل گاندھی کے مسئلہ پر سب ایک آواز میں بول رہی ہیں۔ ابھی تک کانگریس سے فاصلہ بنا کر رکھنے والی ممتا بنرجی، اروند کجریوال، کے سی آر، اکھلیش یادو اور نتیش کمار جیسے لیڈران بھی راہل کی حمایت میں حکومت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں بھی مستقبل میں ایسے ہی حالات کا سامنا کرنے کا خوف ستا رہا ہوں، مگر راہل گاندھی کے لئے یہ سود مند ہی ہے۔ خود راہل گاندھی نے اپنی بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ جو مقبولیت حاصل کی ہے، اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

لندن میں دئے گئے ان کے بیان پر حکمراں جماعت نے بھلے ہی آسمان سر پر اٹھا لیا ہو اور پارلیمنٹ کی کارروائی تک اس کی نذر ہو گئی ہو، مگر یہ بھی راہل گاندھی کی مقبولیت اور اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ راہل نے پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک جس ہمت اور بے باکی کے ساتھ وزیر اعظم مودی کے نزدیکی سمجھے جانے والے کاروباری گوتم اڈانی کو نشانہ بنایا ہے اور مودی سے ان کے رشوتوں کو سامنے لائے ہیں، اس سے بھی انھوں نے خود کو ایک مضبوط اور اہم اپوزیشن لیڈر کے طور پر ثابت کیا ہے۔ ان واقعات کے تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ راہل گاندھی کا قد پہلے کے مقابلے کم نہیں ہوا ہے، بلکہ بڑھا ہے۔ ویسے بھی راہل گاندھی اور کانگریس دونوں ہی سیاسی طور پر اتنا گنوا چکے ہیں کہ ان کے پاس کھونے کے لئے کچھ باقی نہیں ہے۔ یہاں سے بس انہیں حاصل کرنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ راہل گاندھی کیسے ان حالات کا مقابلہ کرتے ہیں اور کیسے ان حالات کو اپنے حق میں موڑتے ہیں۔


yameen@inquilab.com (مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)