جمعہ, اپریل 3, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 191

عتیق کے بقیہ بیٹوں کا بھی ہوسکتا ہے انکاونٹر: پروفیسر رام گوپال

0
عتیق کے بقیہ بیٹوں کا بھی ہوسکتا ہے انکاونٹر: پروفیسر رام گوپال
عتیق کے بقیہ بیٹوں کا بھی ہوسکتا ہے انکاونٹر: پروفیسر رام گوپال

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر رام گوپال نے کہا کہ وزیر اعلی ایوان میں بولے تھے کہ مٹی میں ملا دیں گے اس لئے عتیق کو مارنے والے لوگوں کا کچھ ہونے والا نہیں ہے

اٹاوہ: سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو نے اترپردیش کے پریاگ راج میں پولیس حراست میں مارے گئے عتیق اور اشرف کے قتل کو منظم سازش قرار دیا ہے۔

یہاں سیفئی میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پروفیسر یادو نے آج کہا کہ پولیس کے ہاتھ میں عتیق اور ان کے بھائی اشرف کی ہتھکڑی تھی۔ یہ منظم قتل کیا گیا ہے۔ جانچ کرنے والی ایجنسی صحیح ہوگی تو بڑے بڑے لوگ اس میں پھنسیں گے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی ایوان میں بولے تھے کہ مٹی میں ملا دیں گے اس لئے عتیق کو مارنے والے لوگوں کا کچھ ہونے والا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ اترپردیش میں ہورہا ہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔ جمہوریت کے خاتمے والا راستہ ہے۔ پہلے راج شاہی میں ایسا ہوتا تھا۔ میڈیا ٹرائل کی وجہ سے عتیق کو مارا گیا۔ کسی بھی کیس میں عتیق پر الزامات ثابت نہیں ہوئے تھے۔ ایسے لوگ بھی بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہیں جنہوں نے بم پھینک کر لوگوں کو مروایا تھا۔ ان کو کئی نہیں کہتا ہے کہ گینگسٹر ہیں۔

پروفیسر یادو نے کہا کہ الہ آباد کے لوگوں کا کہنا ہے کہ عتیق کے پانچ بچے ہیں۔ اس میں ایک کو پولیس مار چکی ہے۔ جو بقیہ بچے ہیں ان کو بھی کسی نہ کسی بہانے سے مار دیا جائے گا۔ چاہے ملک برباد ہوجائے الیکشن جیتنے کے لئے لوگ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

ایس پی جنرل سکریٹری نے کہا کہ انہوں نے پہلے بھی کہا تھا کہ عتیق کے لڑکے کا قتل ہوسکتا ہے۔ یہ بات سچ نکلی۔ اس کا فرضی انکاونٹر کردیا گیا۔ عتیق نے سپریم کورٹ میں خود رٹ کی تھی کہ مجھے سیکورٹی دی جائے۔ جمہوریت کی تاریخ میں کسی بھی ملک میں پولیس حراست میں اس طرح کا قتل نہیں ہوا۔ یہ جمہوریت کا قتل ہے۔

مودی حکومت سی بی آئی کا غلط استعمال کرکے کیجریوال کی آواز دبا رہی ہے: آتشی

0
مودی حکومت سی بی آئی کا غلط استعمال کرکے کیجریوال کی آواز دبا رہی ہے: آتشی
مودی حکومت سی بی آئی کا غلط استعمال کرکے کیجریوال کی آواز دبا رہی ہے: آتشی

دہلی کے وزیر اعلیٰ ملک کے واحد لیڈر ہیں جو مسٹر مودی کی ناکامیوں اور ان کے دوستوں کی بدعنوانی کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی سینئر لیڈر آتشی نے ہفتہ کے روز کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ناکامیوں اور ان کے دوستوں کی بدعنوانی کو بے نقاب کرنے والے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریhttps://en.wikipedia.org/wiki/Arvind_Kejriwalوال واحد لیڈر ہیں، اسی لیے مودی حکومت ان کی آواز کو دبانے کے لیے بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کا غلط استعمال کررہی ہے۔

محترمہ آتشی نے آج نامہ نگاروں سے کہا "سی بی آئی نے مسٹر کیجریوال کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا ہے۔ وہ وزیر اعلیٰ کو صرف اس لیے طلب کررہی ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ناکامی کو پورے ملک میں بے نقاب کیا ہے”۔

انہوں نے کہا، “مرکزی حکومت کی تفتیشی ایجنسی اروند کیجریوال کو طلب کر رہی ہے کیونکہ وہ مسٹر کیجریوال کی آواز کو دبانا چاہتی ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ ملک کے واحد لیڈر ہیں جو مسٹر مودی کی ناکامیوں اور ان کے دوستوں کی بدعنوانی کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں”۔

انہوں نے کہا، ‘جن وعدوں کے ساتھ مسٹر مودی اقتدار میں آئے تھے وہ کھوکھلے ثابت ہوئے۔ دوسری طرف مسٹر کیجریوال نے مرکزی حکومت کی ان ناکامیوں کو ملک کے سامنے رکھا کہ مودی حکومت کے آنے کے بعد مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے اور اس کی وجہ سے آج ملک کا ہر عام آدمی پریشان ہے۔ ملک میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور یہ سب مودی جی کے دور حکومت کی ناکامی کا نتیجہ ہے”۔

محترمہ آتشی نے کہا کہ پچھلے چھ سالوں میں پٹرول کی قیمت میں 100% اضافہ ہوا ہے۔ پورے ملک میں صحت کے نظام کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے۔ اسپتال میں ڈاکٹر نہیں، آئی سی یو میں بیڈ نہیں اور بچوں کے لیے اسکول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں نوجوانوں کے لیے نہ کالج ہے اور نہ ہی روزگار، آج پورے ملک میں پانچ کروڑ نوجوان بے روزگار ہیں اور یہ سب گزشتہ 10 سالوں میں ملک کو مسٹر مودی کا تحفہ ہے۔

مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کی موت پوری امت اسلامیہ اور مسلمانان ہند کے لیے ناقابل تلافی نقصان: مسلم پرسنل لا بورڈ

0
مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کی موت پوری امت اسلامیہ اور مسلمانان ہند کے لیے ناقابل تلافی نقصان: مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کی موت پوری امت اسلامیہ اور مسلمانان ہند کے لیے ناقابل تلافی نقصان: مسلم پرسنل لا بورڈ

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پوری امت کے لئے نقطہ اتفاق تھے

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پوری امت کے لئے نقطہ اتفاق تھے۔


انہوں نے آج یہاں جاری ایک تعزیتی بیان میں کہا کہ ہر حلقہ میں ان کو محبت و عظمت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ اس وقت مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا مرجع تھے، ان کو عالم اسلام خاص کر عرب دنیا میں بھی بہت قدر و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔

ان کے عہد صدارت میں پرسنل لا بورڈ نے بہت حکمت کے ساتھ اہم اور مشکل مسائل کا سامنا کیا، وہ بلند پایہ مصنف، ماہر تعلیم، عربی کے مایہ ناز ادیب، بافیض استاذ ومربی تھے، پوری ملت اسلامیہ اس وقت تعزیت کی مستحق ہے، بورڈ تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ حضرت والا کیلئے دعا کا اہتمام کریں اور اتحاد واتفاق کو قائم رکھیں۔

گرفتار یوٹیوبر کشیپ کی درخواست پر سپریم کورٹ نے مرکز کے ساتھ تمل ناڈو، بہار کو نوٹس جاری کیا

0
گرفتار یوٹیوبر کشیپ کی درخواست پر سپریم کورٹ نے مرکز کے ساتھ تمل ناڈو، بہار کو نوٹس جاری کیا
گرفتار یوٹیوبر کشیپ کی درخواست پر سپریم کورٹ نے مرکز کے ساتھ تمل ناڈو، بہار کو نوٹس جاری کیا

درخواست گزار کشیپ نے اپنے خلاف درج کی گئی تمام پانچ فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) کی سماعت کو یکجا کرنے کا مطالبہ کیا ہے

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ہندی بولنے والے تارکین وطن مزدوروں پر حملوں سے متعلق فرضی ویڈیوز پھیلانے کے الزام میں گرفتار منیش کشیپ کی عرضی پر منگل کو مرکز کے ساتھ بہار، تمل ناڈو کی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا۔


درخواست گزار کشیپ نے اپنے خلاف درج کی گئی تمام پانچ فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) کی سماعت کو یکجا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


جسٹس کرشنا مراری اور جسٹس سنجے کرول کی بنچ نے کشیپ کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل سدھارتھ دیو اور متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد نوٹس جاری کیا۔


مسٹر دیو نے بنچ کے سامنے عرض کیا کہ ان کے موکل کو دو ریاستوں میں پانچ مقدمات کا سامنا ہے۔


صحافی ارنب گوسوامی کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک جرم کئی مقدمات کو جنم نہیں دے سکتا۔ انہوں نے عدالت سے گزارش کی کہ وہ ہدایت دے کہ بہار میں ایف آئی آر کو مرکزی ایف آئی آر بنایا جائے اور دیگر تمام معاملات کو وہاں منتقل کیا جائے۔


مسٹر دیو نے بنچ کو بتایا کہ ان کے موکل کو تمل ناڈو لے جایا گیا جہاں وہ زبان نہیں سمجھ پا رہے تھے۔


تمل ناڈو حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ہے۔ کشیپ کو پہلے ہی قومی سلامتی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا جا چکا ہے۔


مسٹر سبل نے بنچ سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے میں جواب داخل کرنے کے لیے وقت مانگے۔


بنچ نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد مرکز، تمل ناڈو اور بہار حکومتوں کو ایک ہفتہ کے اندر اپنے جواب داخل کرنے کا حکم دیا اور معاملے کی مزید سماعت 21 اپریل کو مقرر کی۔


قبل ازیں کشیپ کو مدورائی کی ایک عدالت نے عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔

آر پی ایف میں 9000 بھرتی کی خبریں بے بنیاد اور فرضی ہیں: ریلوے

0
آر پی ایف میں 9000 بھرتی کی خبریں بے بنیاد اور فرضی ہیں: ریلوے
آر پی ایف میں 9000 بھرتی کی خبریں بے بنیاد اور فرضی ہیں: ریلوے

ریلوے کی وزارت نے یہاں ایک جاری ریلیز میں کہا کہ پرنٹ اور سوشل میڈیا پر آر پی ایف میں 9000 سب انسپکٹرز اور کانسٹیبلوں کی بھرتی کے بارے میں ایک غلط اور گمراہ کن پیغام جاری کیا جا رہا ہے

نئی دہلی: ریلوے کی وزارت نے آج واضح کیا کہ ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) میں 9000 سب انسپکٹرز اور کانسٹیبلوں کی بھرتی سے متعلق پرنٹ اور سوشل میڈیا میں شائع خبریں بے بنیاد اور فرضی ہیں۔


ریلوے کی وزارت نے یہاں ایک جاری ریلیز میں کہا کہ پرنٹ اور سوشل میڈیا پر آر پی ایف میں 9000 سب انسپکٹرز اور کانسٹیبلوں کی بھرتی کے بارے میں ایک غلط اور گمراہ کن پیغام جاری کیا جا رہا ہے۔ تمام متعلقہ لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں آر پی ایف یا وزارت ریلوے نے اپنی ویب سائٹ پر یا کسی پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیم کے ذریعے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے۔

میرٹھ: دو گروپوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ میں دو کی موت

0
میرٹھ: دو گروپوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ میں دو کی موت
میرٹھ: دو گروپوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ میں دو کی موت

پولیس نے پیر کو یہاں بتایا کہ کھرکھودا تھانہ علاقے کے مسلم اکثریتی گاؤں سلیم پور میں اتوار کی رات دو گروپوں کے اقبال اور معراج فریق کے بچوں میں آپسی کہا سنی ہوگئی تھی۔ گاؤں کے لوگوں نے دونوں فریقین کو سمجھا کر معاملہ کسی طرح پر امن کرادیا تھا۔

میرٹھ: اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں اتوار کی دیر رات دو گروپوں کے درمیان ہوئے پرتشدد جھڑپ میں ایک خاتون سمیت دو افراد کی موت ہوگئی۔


دونوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے اہل خانہ کو سونپ دیا گیا ہے۔ جہاں آج آخری رسوم کی ادائیگی کے وقت مشتعل افراد نے ہنگامہ کرتے ہوئے پتھراؤ کیا لیکن موقع پر موجود پولیس نے حالات پر فورا ہی قابو پالیا۔ احتیاط کے طور پر گاؤں میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔


پولیس نے پیر کو یہاں بتایا کہ کھرکھودا تھانہ علاقے کے مسلم اکثریتی گاؤں سلیم پور میں اتوار کی رات دو گروپوں کے اقبال اور معراج فریق کے بچوں میں آپسی کہا سنی ہوگئی تھی۔ گاؤں کے لوگوں نے دونوں فریقین کو سمجھا کر معاملہ کسی طرح پر امن کرادیا تھا۔


اتوار کو روزہ افطار کے بعد رات میں سب لوگ گاؤں کی مسجد کے باہر نماز کے لئے جمع ہوئے تو دونوں فریقین بھی وہاں پہنچ گئے اور آمنے سامنے آگئے۔ کچھ ہی دیر میں کہا سنی پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہوگئی اور ایک فریق نے فائرنگ شروع کردی۔ اس دوران دوسرے فریق سے دود کاروباری معراج (35) گولی لگنے سے بری طرح زخمی ہوگئے۔


معراج فریق کی جانب سے کی گئی فائرنگ میں پہلے فریق کے اقبال کی بیوی افروزہ (45) زخمی ہوگئیں۔ دونوں زخمیوں کو نزدیکی اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے آج دونوں کے مکانات پر دبش دی لیکن سبھی لوگ فرار ملے ہیں۔

بلی نے الجزائری امام کو ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز دلوا دیا

0
بلی نے الجزائری امام کو ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز دلوا دیا
بلی نے الجزائری امام کو ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز دلوا دیا

الجزائری امام کا کہنا تھا کہ ’اس واقعے کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو نہیں کی اور نہ وہ اس سلسلے میں مزید کوئی بات کریں گے۔ جو کچھ ہوا بے ساختہ تھا۔ یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں جس پر کوئی بیان دیا جائے

الجیرس: الجزائر میں امام مسجد کو دوران تراویح کندھے پر چڑھنے والی بلی سے حسن سلوک نے انہیں اعلیٰ ترین ملکی اعزاز سے نوازا گیا ہے۔


گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر الجزائر کی مسجد ابوبکر صدیق میں تراویح کے دوران بلی کے امام مسجد کے کندھے پر چڑھنے اور اٹھکھیلیاں کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کو دنیا بھر کے صارفین نے بے حد سراہا تھا۔


ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ بلی کے کندھے پر چڑھنے کے باوجود امام مسجد ولید مھساس کے نماز میں خشوع اور خضوع میں کمی نہیں آئی۔ بلی امام مسجد کے ساتھ اٹھکھیلیاں کرتی رہی اس دوران امام مسجد قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہے اور انہوں نے بلی کو کندھے سے اتارنے کی کوشش کے بجائے عبادت جاری رکھتے ہوئے اسے ہاتھ سے پیار کیا۔ بلی رکوع میں جانے سے قبل اچانک خود ہی امام مسجد کے کندھے سے اتر کر چلی گئی۔


سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں سمیت ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کو دیکھا اور امام کے اس مشفقانہ اقدام کو خوب سراہا بھی گیا۔
بلی کے ساتھ اس حسن سلوک پر امام مسجد الشیخ ولید مہساس کو حکومت الجزائر کی جانب سے استقبالیہ دیا گیا اور وزیر مذہبی امور ڈاکٹر یوسف بیلمہدی نے باضابطہ خود امام سے ملاقات کرکے ان کے حسن سلوک کی تعریف کی اور انہیں ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا۔


اس حوالے سے امام مسجد ولید مھساس نے فیس بک پر شیئر کیے جانے والے پیغام میں بتایا کہ بلی اچانک آکر ان کے کندھے پر بیٹھ گئی تھی۔ ہمارا مذہب اسلام جانوروں کے ساتھ بھی پیار اور نرمی کا سبق دیتا ہے۔ اس لیے میں نے اسے ہٹانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ میری کوشش تھی کہ وہ ایسے ہی سکون سے بیٹھی رہے۔‘


الجزائری امام کا کہنا تھا کہ ’اس واقعے کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو نہیں کی اور نہ وہ اس سلسلے میں مزید کوئی بات کریں گے۔ جو کچھ ہوا بے ساختہ تھا۔ یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں جس پر کوئی بیان دیا جائے۔ بعض لوگ سوشل میڈیا پر میرے نام سے بیان جاری کر رہے ہیں جو کہ غلط ہے۔


واضح رہے کہ شیخ ولید مھساس الجزائر کے شہری ہیں۔ مشرقی الجزائر کی ریاست برج بوعریریج کی مسجد ابوبکر صدیق میں امام اور اچھے قاری ہیں۔ حسن قرات کے حوالے سے عمدہ شہرت رکھتے ہیں۔

جنگ بدر میں اصل طاقت ایمان کی تھی: شیخ ابوبکر

0
جنگ بدر میں اصل طاقت ایمان کی تھی: شیخ ابوبکر
جنگ بدر میں اصل طاقت ایمان کی تھی: شیخ ابوبکر

شیخ ابوبکر نے کہا کہ 17/ویں رمضان المبارک کو مذہب اسلام میں حق و باطل کا عظیم معرکہ پیش آیا، جس میں فرشتے زمین پر اترے، اور مسلمانوں کی مدد کی۔ شیخ نے کہا کہ جنگ بدر میں اصل طاقت جذبہ ایثار و استقامت علی الایمان تھی

کالی کٹ: کفر اور اسلام کے درمیان پہلا معرکہ بدر کے مقام پر 2ہجری 17 رمضان المبارک کو ہوا، جس میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو شاندار فتح سے نوازا، اور کفر کی کمر توڑ کر کھ دی۔ اسی لئے آج کے دن کو یوم الفرقان کہا جاتا ہے۔ یہ بات مرکز نالج سٹی جامع الفتوح میں بدرالکبریٰ روحانی کانفرنس اور دعوت افطار پروگرام میں جامعہ ثقافتہ السنیہ کے سربراہ شیخ ابوبکر احمد نے کہی۔


انہوں نے کہا کہ 17/ویں رمضان المبارک کو مذہب اسلام میں حق و باطل کا عظیم معرکہ پیش آیا، جس میں فرشتے زمین پر اترے، اور مسلمانوں کی مدد کی۔ شیخ نے کہا کہ جنگ بدر میں اصل طاقت جذبہ ایثار و استقامت علی الایمان تھی۔ اسلام کے تئیں مجاہدین اسلام کے دلوں میں حلاوت ایمانی تھی۔ جو تعداد میں کم تھے لیکن ایمانی طاقت کی بدولت سب پر بھاری تھے۔ شیخ نے کہا کہ مسلمان اپنی ایمانی طاقت کو مضبوط کریں، غیبی تائید سے نصرت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حق و باطل کا عظیم معرکہ جس میں فرشتے زمین پر اترے اور مسلمانوں کی مدد کی۔

قبل ازیں ڈاکٹر عبدالحکیم ازہری نے کہا کہ بدری صحابہ کے اوراد و ذکر مستجاب الدعا ہیں۔ اسلام کا یہ تاریخی واقعہ ہمیں اعلائے کلمۃ الحق کے لئے جان و مال کی قربانی کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نالج سٹی جامع الفتوح میں اس طرح کے پروگرامس کا منعقد ہونا قابل تحسین اقدام ہیں۔


اس موقع پر جامعہ الفتوح میں خصوصی طور پر قائم کردہ خزانہ الآثار کو گرانڈ مفتی آفانڈیا نے کارکنان کو وقف کیا۔اس موقع پر کیرالہ پورٹ میوزیم اور آثار قدیمہ کے وزیر احمد دیور،ایم ایل اے پی ٹے اے رحیم، سید علی بافقیہ، مولانا ای سلیمان، مولانا عبدالقادر، سید فضل کویا سمیت ریاست کی معزز ہستیوں نے شرکت کی۔


واضح رہے کہ مقدس بدری صحابہ کی یاد میں آج یہاں کالی کٹ کیداپوئل مرکزنالج سٹی جامع الفتوح میں بدرالکبریٰ روحانی کانفرنس کا شاندار انعقاد عمل میں آیا۔ جس میں ریاست بھر کے مشائخ، علما، سادات اور دس ہزار سے زائد روزہ دار افطار کی دعوت میں شریک ہوئے۔ پروگرام کا آغاز جمعہ نماز سے ہوا۔ مختلف سیشن کے اہم پروگرامس جیسے، ذکر اسماء البدرین، خزانۃ الآثار، بدر نشیدہ، محضرۃ البدریہ، ورد الطیف، مجلس توبہ، دعا اسماء الحسنی اور بعد نماز تراویح روحانی اجتماع کا انعقاد ہوا۔

اساتذہ تقرری گھوٹالہ: کمرہ عدالت میں سخت پوچھ تاچھ کرنے کے بعد جج نے ترنمول کانگریس کے جیل میں بند ممبر اسمبلی مانک بھٹاچاریہ کو چائے پلائی

0
اساتذہ تقرری گھوٹالہ: کمرہ عدالت میں سخت پوچھ تاچھ کرنے کے بعد جج نے ترنمول کانگریس کے جیل میں بند ممبر اسمبلی مانک بھٹاچاریہ کو چائے پلائی
اساتذہ تقرری گھوٹالہ: کمرہ عدالت میں سخت پوچھ تاچھ کرنے کے بعد جج نے ترنمول کانگریس کے جیل میں بند ممبر اسمبلی مانک بھٹاچاریہ کو چائے پلائی

عدالت کے ذرائع کے مطابق تقریباً 3.30بجے، مانک کو جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اسے دیکھ کر جج نے پوچھا کہ آپ کو 2016 کی بھرتی کے عمل کے بارے میں کیا معلومات ہے؟

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے اساتذہ تقرری گھوٹالہ میں جیل میں بند ترنمول کانگریس کے ممبر اسمبلی مانک بھٹاچاریہ سے کمرہ عدالت میں سخت سوالات کرنے کے بعد چائے پیش کش کی اور سچائی کو سامنے لانے میں تعاون کرنے کی درخواست کی۔

کانگریس کے ممبر اسمبلی مانک بھٹاچاریہ سے کمرہ عدالت میں سخت سوالات کرنے کے بعد چائے پیش کش کی اور سچائی کو سامنے لانے میں تعاون کرنے کی درخواست کی۔


عدالت کے ذرائع کے مطابق تقریباً 3.30بجے، مانک کو جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اسے دیکھ کر جج نے پوچھا کہ آپ کو 2016 کی بھرتی کے عمل کے بارے میں کیا معلومات ہے؟


مانک نے جواب دیا کہ میں جیل میں ہوں۔ میرے پاس کوئی معلومات یا دستاویزات نہیں ہیں۔ میں اس لیے یہاں آیا ہوں جو مجھے یاد ہے وہی کہہ سکتا ہوں۔


جسٹس: سلیکشن کمیٹی 2016 میں بھرتی کے عمل کے لئے بنائی گئی تھی؟
مانک:جی ہاں مگر یہ فیصلہ کونسل کا تھا۔


جسٹس: کونسل کے سابق صدر کی حیثیت سے آپ کے پاس کیا معلومات ہیں بھرتی کے عمل 2016 کا نتیجہ کس نے جاری کیا؟
مانک: میں یہ نہیں کہہ سکتا۔ خاص طور پر اس سوال کا جواب میرے لیے واضح نہیں ہے۔ بھرتی کے عمل کی کل تعداد مختلف محکموں نے مل کر بنائی ہے۔


جسٹس: کیا نتائج کی تیاری کے لیے کسی بیرونی ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئیں؟
مانک: یہ سارا عمل بورڈ کے زیر انتظام ہے۔ لیکن ہاں، ایک کمپنی کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ لیکن اب اس کا نام یاد نہیں رہا۔
جسٹس: ایس باسو رائے اینڈ کمپنی نامی فرم کے بارے میں سنا ہے؟
مانک: ہاں، اس قسم کا نام سنا ہے۔


جسٹس: بطور صدر آپ کے دور میں تقرری کے عمل سے متعلق جو شکایات سامنے آئیں، کیا وہ درست ہیں؟
مانک: اہلیت کا امتحان لیا گیا۔ تب کسی نے شکایت نہیں کی۔ ایسی کوئی رپورٹ میرے علم میں نہیں آئی۔
جسٹس: کیا آپ تصدیق کر سکتے ہیں کہ اس بھرتی کے عمل میں ریزرویشن پالیسی پر عمل کیا گیا؟
مانک: جہاں تک مجھے یاد ہے یہ قانون کے مطابق تھا۔


جج: ٹھیک ہے۔ اب میں اور کچھ نہیں جانتا۔ آپ نے جو بیان دیا ہے اس پر دستخط کریں اور چلے جائیں۔
مانک: لیکن میں نے جو کہا اس کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ میں نے جو سوچا وہ کہا۔ لیکن جانے سے پہلے میری ایک درخواست ہے۔ اس سے متعلق کسی بھی صورت میں مجھے کال کریں۔ 15 منٹ پہلے کہنا چاہیے تھا۔ میں آئوںگا بعد میں میرے خلاف جو بھی کارروائی ہوگی، میں اسے قبول کروں گا۔
مانک (توقف کرتے ہوئے): میں آپ کو سچ بتانا چاہتا ہوں۔ سچ آسان ہے، سچ خوبصورت ہے۔


جسٹس: کیا کچھ آپ کے خلاف ہوا؟
مانک: جب یہ ٹیسٹ لیا جانا تھا تو کوئی نہیں تھا۔ میں نے دروازے پر دستک دی۔ کسی نے مدد نہیں کی۔ میں آج عدالت میں اسی حالت میں ہوں۔


ہائی کورٹ کے شیرف کو جسٹس: وہ ایک معزز آدمی ہے۔ چائے پلائیں دیکھیں کہ غیر متوقع واقعات رونما نہ ہوں۔ عدالت صرف سچ جاننا چاہتی ہے۔ انہوں نے تعاون کیا ہے۔


سوال و جواب کے سیشن کے اختتام پر جج مانک کو ڈپٹی شیرف کے کمرے میں لے گئے اور اسے چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس دینے کو کہا۔ اس کے بعد جج نے اچانک تبصرہ کیا کہ دسویں چکر میں بھگوان بھی بھوت بن جاتا ہے۔ یہ مانک بھٹاچاریہ ہمارے ڈپٹی شیرف کے استاد تھے۔

رام نومی ختم ہونے کے بعد بھی جلوس نکال کر حالات خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے بی جے پی: ممتا بنرجی

0
رام نومی ختم ہونے کے بعد بھی جلوس نکال کر حالات خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے بی جے پی: ممتا بنرجی
رام نومی ختم ہونے کے بعد بھی جلوس نکال کر حالات خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے بی جے پی: ممتا بنرجی

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ اجازت نہیں ملنے کے باوجود اقلیتی آبادی پر مشتمل علاقے میں جلوس نکالا جا رہا ہے۔ اشتعال انگیز نعرے لگائے جارہے ہیں، بنگال میں امن و امان کی فضا کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے رام نومی ختم ہو جانے کے بعد ریاست کے مختلف علاقوں میں رام نومی کے نام پر جلوس نکالے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد بنگال میں امن و امان کی فضا کو خراب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجازت نہیں ملنے کے باوجود اقلیتی آبادی پر مشتمل علاقے میں جلوس نکالا جا رہا ہے۔ اشتعال انگیز نعرے لگائے جارہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے ریاست کے نوجوانوں کو آگے آکر اس کا خاتمہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قانون شرپسندوں سے سختی سے نمٹنے گی۔


مدنی پور کے کھجوری میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ گزشتہ دنوں رام نومی کے موقع پر بی جے پی کے ہوڑہ اور ہگلی کے جلوس کے دوران ہنگامہ برپا ہوگیا۔ جمعرات کو رام نومی تھا مگر اس کے تین دن بعد اتوار کو بھی ہگلی میں رام نومی کا جلوس نکالا گیا اور اس درمیان حالات خراب ہوگئے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ہر روز کون جلوس نکالتا ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میں نے اعتراض نہیں کیا۔ لیکن رام نومی کا جلوس پانچ دن کیوں نکالا جائے؟


رام نومی اناپورنا پوجا کے نویں دن منائی جاتی ہے۔ ملک بھر میں رام کے بھکت اس دن کو دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ گزشتہ جمعرات کو رام نومی تھی۔ ہوڑہ میں اس موقع پر نکالے گئے جلوس کے دوران افراتفری مچ گئی۔ رام نومی ختم ہونے کے باوجود جلوس کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کی رات ہگلی کے رشڑا میں بھی جلوس نکالا گیا۔ حالانکہ کیلنڈر کے مطابق، نومی اس دن اور دوادشی کو گزرتی ہے۔ اس جلوس میں بی جے پی لیڈر دلیپ گھوش تھے۔ اس جلوس کے دوران بھی ہنگامہ آرائی پھیل گئی۔


بدامنی کی خبر ملنے کے بعد گورنر سی وی آنند بوس نے سخت بیان جاری کیا تھا۔ راج بھون ذرائع کے مطابق انہوں نے اتوار کو وزیر اعلیٰ سے بھی بات کی۔ پیر کو ممتا نے رام نومی کی تقریبات کو طول دینے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پنچایتی انتخابات سے قبل مغربی بنگال میں اس جلوس کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پیر کو ممتا نے کہا کہ ’’اب رمضان کا مہینہ چل رہا ہے۔ وہ رام نومی کے جلوس نکال رہے ہیں اور حساس علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہ ہونے کے باوجود اس علاقوں میں جلوس لے کر جارہے ہیں ۔ پھلوں کی گاڑیوں کو جلایا جارہا ہے۔ بندوق لے کر رقص کیا جارہا ہے۔


رشڑا میں جلوس کے دوران بی جے پی ممبر اسمبلی زخمی ہوگئے۔ صورتحال کو سنبھالتے ہوئے مقامی او سی اور متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ امن وا انتظام کی ذمہ داری حکومت کے پاس ہے۔حکومت حالات کے مطابق جلوس نکالنے اور اس کے راستے کا تعین کرتی ہے مگر حکومت کی ہدایات کو نہیں مانا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاست میں امن و امان کے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ بلڈوزر لے کر مارچ کررہے ہیں۔ بلڈوزر سے سڑک بنائے جاتے ہیں۔ وہ مارچ کر رہے ہیں! پنچایتی انتخابات اور 2024 میں ایسے لوگوں کو ووٹ نہ دیں جو اپنے مفادات کی خاطر ریاست میں امن وامان کی صورت حال کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔


ممتا بنرجی نے کہا کہ مرکز کی ٹیمیں یہاں آرہی ہیں مگر فائیواسٹار ہوٹلوں میں دعوت اور بی جے پی لیڈروں کے ساتھ مل کر پارٹی کرکے چلی جاتی ہے۔ پیر کی میٹنگ میں، انہوں نے کہا، ’’160 مرکزی ٹیمیں بھیجی گئی ہیں۔