جمعہ, اپریل 3, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 190

مکل رائے کے بی جے پی میں لوٹنے کے اعلان کے باوجود بنگال بی جے پی ان کی اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کے حق میں

0
مکل رائے کے بی جے پی میں لوٹنے کے اعلان کے باوجود بنگال بی جے پی ان کی اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کے حق میں
مکل رائے کے بی جے پی میں لوٹنے کے اعلان کے باوجود بنگال بی جے پی ان کی اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کے حق میں

اب بی جے پی کی ریاستی یونٹ نے فیصلے کا اعلان کیا ہے کہ وہ مکل رائے کی اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کے اپنے مطالبے پر قائم ہیں، کسی بھی صورت میں اس درخواست کو واپس نہیں لیا جائے گا

کلکتہ: مغربی بنگال کی سیاست میں ایک زمانے میں چانکیہ کہے جانے والے مکل رائے بنگال کی سیاست میں اب اس قدر غیر اہم ہوچکے ہیں کہ ان کے بی جے پی میں لوٹنے کے اعلان کے باوجود بی جے پی ان کو اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے۔ اب بی جے پی کی بنگال قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسمبلی سے ان کی رکنیت برطرف کرانے کی درخواست واپس نہیں لی جائے گی۔


2021 کے اسمبلی انتخابات میں ندیا ضلع کے کرشنا نگر شمال سے بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب جیتنے کے چند مہینوں بعد ہی ترنمول کانگریس میں دوبارہ شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کے بعد سے ہی بی جے پی ان کے خلاف دل بدلو قانون کے تحت کارروائی کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ تاہم ان کی سیاسی سرگرمیاں محدود ہوتی چلی گئی۔ وہ مسلسل سیاست سے کنارہ کش تھے مگر دو ہفتے قبل وہ اچانک نئی دہلی جاکر خبرو ں میں لوٹ گئے۔

ایک طرف ان کے بیٹے سبھرانشو نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد بیمار ہیں، ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ انہیں سازش کے تحت اغوا کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایف آئی آر بھی درج کرائی۔ مگر دہلی پہنچ کر مکل رائے نے پریس کانفرنس کی کہ وہ بی جے پی کا حصہ ہیں۔ آئندہ بھی بی جے پی میں رہیں گے۔ تاہم نئی دہلی میں ان کی بی جے پی کے کسی اعلیٰ لیڈر سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔


اب بی جے پی کی ریاستی یونٹ نے فیصلے کا اعلان کیا ہے کہ وہ مکل رائے کی اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کے اپنے مطالبے پر قائم ہیں۔ کسی بھی صورت میں اس درخواست کو واپس نہیں لیا جائے گا۔


ترنمول کانگریس میں مکل رائے کی واپسی کے بعد اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری نے مکل رائے کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسپیکر بیمن بنرجی سے اپیل کی تھی۔ اس معاملے کو لے کر کلکتہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ تاہم شوبھندو ادھیکاری کی درخواست ابھی بھی عدالت میں زیر التوا ہے۔ لیکن مکل رائے چاہے کتنی ہی نئی دہلی چلے جائیں، بنگال بی جے پی کے لیڈر انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔


اس دوران انہوں نے نئی دہلی سے ایک پریس کو بتایا کہ انہیں ترنمول کانگریس میں کام کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ اس لیے بی جے پی میں واپسی چاہتے ہیں۔ تاہم، مکل کے تبصرے کے تناظر میں، بی جے پی کے ریاستی صدر سوکانت مجمدار نے اس معاملے کو ٹال دیا اور کہا کہ مکل رائے جب پارٹی چھوڑ کر گئے تھے تو مرکزی کمیٹی کے نائب صدر تھے۔ اس لیے ان کے بارے میں مرکزی قیادت فیصلہ کرے گی۔ اور اسمبلی میں اپوزیشن پارٹی کے لیڈر نے کہا کہ وہ پارٹی سے منحرف ہونے والے کسی ایم ایل اے کو لینے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مکل رائے کے حوالے سے یہ موقف بالکل واضح ہے۔


دوسری طرف مکل رائے اب بھی نئی دہلی میں پڑے ہیں۔ لیکن اب تک کسی مرکزی لیڈر نے ان سے ملاقات نہیں کی ہے۔ اس کے بعد ہی بنگال بی جے پی نے اپنے پرانے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر سبویندو ادھیکاری کے دفتر نے میڈیا کو بتایا، ”درخواست واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“

عتیق کے کربلا واقع منہدم دفتر میں ملے خون کے نشان، علاقے میں ہلچل

0
عتیق کے کربلا واقع منہدم دفتر میں ملے خون کے نشان، علاقے میں ہلچل
عتیق کے کربلا واقع منہدم دفتر میں ملے خون کے نشان، علاقے میں ہلچل

ذرائع نے بتایا کہ خون کے دھبے عتیق کے نچلی منزل سے لے کر دوسری منزل کے کمروں، کچن اور سیڑھیوں پر ہیں۔ کچن میں رکھا سامان پھیلا ہوا ہے۔ ایک کمرے میں صوفے پر خاتون کے کپڑے پر بھی خون کے نشان ہیں

پریاگ راج: شہ زور لیڈر و سابق ایم پی عتیق احمد اور ان کے بھائی سابق ایم ایل اے اشرف کے قتل کے آٹھ دن بعد خلد آباد تھانہ کے کربلا واقع منہدم کئے گئے دفتر میں اتوار کی دیر رات خون کے نشان اور چاقو ملنے سے علاقے میں ہلچل مچ گئی۔


پریاگ راج ڈی سی پی دیپک بھوکر نے بتایا کہ کربلا واقعہ منہدم کئے گئے دفتر میں خون کے نشان ملے ہیں۔ وہاں پر ایک چاقو بھی برآمد کیا گیا ہے۔ فورنسک ٹیم نے موقع سے شواہد جمع کئے ہیں۔ اس کی ابتدائی رپورٹ آنے کے بعد ہی حقیقت کا پتہ چل سکتا ہے۔ ایک کمرے میں پیچھے کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا ملا ہے اس طرف سے بھی کسی کے اندر آنے کا امکان ہے۔ سبھی نکات پر جانچ کی جارہی ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ خون کے دھبے نچلی منزل سے لے کر دوسری منزل کے کمروں، کچن اور سیڑھیوں پر ہیں۔ کچن میں رکھا سامان پھیلا ہوا ہے اور ہیٹر سمیت دوسری تمام اشیاء ٹوٹے پڑے ملے ہیں۔ ایک کمرے میں صوفے پر خاتون کے کپڑے پر بھی خون کے نشان ہیں۔

نتیش کمار اور تیجسوی یادو کی ممتا بنرجی سے ملاقات

0
نتیش کمار اور تیجسوی یادو کی ممتا بنرجی سے ملاقات
نتیش کمار اور تیجسوی یادو کی ممتا بنرجی سے ملاقات

ممتا بنرجی نے نتیش کمار کو اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پٹنہ میں ایک احتجاجی جلسہ انعقاد کرنے کی تجویز دی

کلکتہ: 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل اپوزیشن اتحاد کو مضبوط کرنے کے لئے آج دوپہر میں ریاستی سیکریٹریٹ میں بہار کے ویر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر تیجسوی یادو نے ممتا بنرجی سے ملاقات کی۔


ملاقات کے بعد ممتا بنرجی نے کہا کہ ان دونوں لیڈروں سے ملاقات مثبت رہی، اپوزیشن لیڈر کے مسئلے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ان کے درمیان انا کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ممتا بنرجی نے نتیش کمار کو اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پٹنہ میں ایک احتجاجی جلسہ انعقاد کرنے کی تجویز دی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ نتیش کمار آں جہانی جے پرکاش نارائن کی تربیت میں سیاسی منزلیں طے کی ہیں۔ جے پرکاش احتجاجی سیاست کے لئے اہم ہیں، ہم میں انا کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ہم سب ایک ہیں۔


ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی جو ہیرو بن رہی ہے اس کو زیر بننے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے تمام وفاقی ادارے کو کمزور کردیا ہے، نصاب میں تبدیلی کی جارہی ہے۔ ہم ان تمام مسائل پر اتحاد و اتفاق قائم کرکے کام کرنے کو تیار ہیں۔


وزیر اعلیٰ نتیش کمار گزشتہ کئی مہینوں سے اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس سے قبل انہوں نے کانگریس کے صدر ملک ارجن کھڑگے اور راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے وزیرا علیٰ اروند کیجریوال سے ملاقات کی تھی۔ نتیش کمار نے ممتا بنرجی سے ملاقات کو مثبت قرار دیا۔


ممتا بنرجی راہل گاندھی کی تنقید کرتی رہی ہیں۔ مگر ان کی لوک سبھا کی رکنیت منسوخ ہونے کے بعد ممتا بنرجی کے رویے میں نرمی آئی ہے۔ اس سے قبل ممتا بنرجی نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن سے ملاقات کی تھی۔ تمل ناڈو کے گورنر اور اسٹالن کے درمیان رسہ کشی چل رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے اس معاملے میں اسٹالن کی ٹوئیٹ کی تھی۔ اس تناظر میں ممتا بنرجی اور نتیش کمار کے درمیان ملاقات کافی اہم سمجھا جاتا ہے۔

کچھ لوگ ملک کی تاریخ بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں: نتیش

0
کچھ لوگ ملک کی تاریخ بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں: نتیش
کچھ لوگ ملک کی تاریخ بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں: نتیش

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کچھ لوگ پورے ملک کی تاریخ بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اتنی بڑی آزادی کی جنگ لڑی گئی، اس کا علم نئی نسل کو ہونا چاہیے لیکن کچھ لوگ سب کچھ بدلنا چاہتے ہیں

پٹنہ: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت کا نام لیے بغیر اس پر پورے ملک کی تاریخ بدلنے کا الزام لگایا اور خبردار کیا کہ کچھ لوگوں نے نئی ٹیکنالوجی پر قبضہ کر لیا ہے۔ پرانی چیزوں کو ختم کیا جارہا ہے، اس لیے وہ پورے ملک کی اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے میں مصروف ہیں۔


مسٹر کمار نے گورنر راجندر وشواناتھ ارلیکر کی موجودگی میں 1857 میں پہلی ہندوستانی جنگ آزادی کے عظیم ہیرو بابو ویر کنور سنگھ کے گھڑ سوار مجسمے پر پھول چڑھانے کے بعد نامہ نگاروں سے خطاب کیا، اس موقع پر منعقدہ ایک سرکاری تقریب میں بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے ملاقات کے سوال پر کہا کہ وقت آنے پر سب بتا دیں گے۔ جب ہم سب سے ملیں گے تو آپ لوگوں کو سب کچھ بتا دیں گے۔ اب ایسا سوال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے میں مصروف ہیں۔ اپنے لیے کچھ نہیں چاہتے۔ ہماری کوئی ذاتی خواہش نہیں ہے۔ ہم پورے ملک کے لیے سوچ رہے ہیں۔


وزیراعلیٰ نے کہا کہ کچھ لوگ پورے ملک کی تاریخ بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اتنی بڑی آزادی کی جنگ لڑی گئی، اس کا علم نئی نسل کو ہونا چاہیے لیکن کچھ لوگ سب کچھ بدلنا چاہتے ہیں۔ جب سب مل جل کر رہیں گے تو ملک محفوظ رہے گا۔ وہ اس کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام کو آگاہ کیا کہ کچھ لوگوں نے نئی ٹیکنالوجی پر قبضہ کر لیا ہے، پرانی چیزوں کوختم کیا جارہا ہے۔ وہ ملک بھر کی اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے میں مصروف ہیں۔ بہت سے لوگوں سے بات چیت ہوئی ہے، اب ہم کچھ اور لوگوں سے بات کریں گے۔


سیاست کو مٹی میں ملانے کے سوال پر مسٹر کمار نے کہا، ”جو لوگ ایسا کہہ رہے ہیں ان سے کہیں کہ مجھے مٹی میں ملا دیں۔ ہم اس طرح کبھی بات نہیں کرتے۔ جو ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے تو سمجھ لیجیئےان میں عقل نہیں ہے۔ ایسے شخص جو دل میں آئے وہ بولے ۔ ہم سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جی کی کتنی تعریف کرتے ہیں۔

ویر کنور سنگھ وجے اتسو سے متعلق ایک سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ویر کنور سنگھ جی کا یہ پروگرام ہر سال منعقد کیا جاتا ہے۔ آج بھی لوگوں نے انہیں یہاں بلایا۔ ان لوگوں نے بابو ویر کنور سنگھ کا مجسمہ نصب کیا ہے، یہ بڑی خوشی کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبھی جانتے ہیں کہ بابو ویر کنور سنگھ نے ملک کے لئے بہت بڑا تعاون کیا ہے۔


اس کے بعد مسٹر کمار نے کوآپریٹو لینڈ ڈیولپمنٹ بینک کمیٹی کے احاطے میں ہندوستانی جدوجہد آزادی کے عظیم ہیرو بابو ویر کنور سنگھ کے نئے تعمیر شدہ مجسمے کی نقاب کشائی کی۔ اس موقع پر نیشنل کوآپریٹیو ہاؤسنگ اسوسی ایشن کے صدر کم قانون ساز کونسلر وجے کمار سنگھ نے وزیر اعلیٰ کو پگڑی، لباس، پھولوں کے ہار پہنا کر اور تلوار اور نشان پیش کرکے ان کا استقبال کیا۔


اس موقع پر خزانہ، تجارتی ٹیکس اور پارلیمانی امور کے وزیر وجے کمار چودھری، خوراک اور صارفین کے تحفظ کے وزیر لیشی سنگھ، رکن پارلیمنٹ گردھاری یادو، ایم ایل اے چیتن آنند، نیشنل کوآپریٹو ہاؤسنگ ایسوسی ایشن کے صدر وجے کمار سنگھ، لینڈ ڈیولپمنٹ بینک کی صدر ممتا سنگھ، بہار ریاستی کوآپریٹیو ہاؤسنگ ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر رنجیت کمار جھا سمیت دیگر عوامی نمائندے، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری انوپم کمار، پٹنہ ڈویژن کے کمشنر کمار روی، وزیر اعلیٰ کے خصوصی ڈیوٹی کے افسر گوپال سنگھ، پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ چندر شیکھر سنگھ، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پٹنہ۔ پولیس راجیو مشرا اور دیگر معززین موجود تھے۔

سعودی عرب میں چاند نظر نہیں آیا، عید 22 اپریل کو

0
سعودی عرب میں چاند نظر نہیں آیا، عید 22 اپریل کو
سعودی عرب میں چاند نظر نہیں آیا، عید 22 اپریل کو

13 ممالک سے تعلق رکھنے والے فلکی علوم کے 25 ماہرین نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے مطابق سعودی عرب میں رمضان المبارک 30 روز کا ہوگا جب کہ عید ہفتہ 22 اپریل کو ہوگی۔

نئی دہلی: عید کے چاند سے متعلق تذبذب جاری ہے، سعودی عرب میں عید کا چاند نظر نہیں آیا ہے جب کہ پاکستان میں بھی چاند نہ دیکھے جانے کی اطلاع ہے البتہ فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے، رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری ہے۔


ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں آج شام عید الفطر (شوال) کا چاند نظر آنا ممکن نہیں۔


13 ممالک سے تعلق رکھنے والے فلکی علوم کے 25 ماہرین نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے مطابق سعودی عرب میں رمضان المبارک 30 روز کا ہوگا جب کہ عید ہفتہ 22 اپریل کو ہوگی۔


دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ آج ہونے والے سورج گرہن کے دوران ہی نئے چاند کی پیدائش ہوئی ہے، چاند کی عمر کم ہونے کے باعث آج چاند نظر آنے کا امکان نہیں ہے۔


پیرامیٹرز کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب میں عیدالفطر 22 اپریل کو ہوگی۔


لاہور میں شوال کا چاند نظر آنے کا وقت ختم، کوئی شہادت موصول نہ ہوئی۔ زونل کمیٹی کے مطابق لاہور میں چاند کے نظر آنے کا وقت 7:10 منٹ تک تھا، لاہور میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا ۔


پنجاب بھر میں شوال کے چاند سے متعلق کوئی بھی شہادت موصول نہیں ہوئی۔ لاہور میں گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں اور تیز ہوائیں چلنے کے باعث موسم خوشگوار ہے۔


زونل کمیٹی کے مطابق لاہور میں چاند کے نظر آنے کا وقت 7:10 منٹ تک تھا، لاہور میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا تاہم چاند کے حوالے سے حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی۔


ڈائریکٹر جنرل محکمہ اوقاف کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اب تک چاند سے متعلق شہادت موصول نہیں ہوئی۔


دوسری جانب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس بھی چیئرمین عبدالخبیر آزاد کی سربراہی میں جاری ہے جبکہ زونل کمیٹیوں کے اجلاس بھی اپنے اپنے علاقوں میں جاری ہیں۔


محکمہ موسمیات کے مطابق ملک بھر میں کہیں بھی شوال کا چاند نظر آنے کے امکانات نہیں ہیں۔


اب امکان ہے کہ ہندوستان میں اس سال سعودی عرب کے ساتھ ایک ہی دن منایا جائے گا۔ اس سال ہندوستان میں عید ہفتہ یا اتوار کو ہو سکتی ہے تاہم قوی امکان یہ ہے ہندوستان بھر میں رواں سال عیدالفطر کا تہوار سعودی عرب کے ساتھ ہفتے کے روز ہی منائی جائے گی کیونکہ سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں عید الفطر 22 اپریل 2023 بروز ہفتہ کو منائے جانے کا امکان ہے۔


بین الاقوامی فلکیات کے مرکز کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بیشتر ممالک میں جمعرات کو شوال کے مہینے کا چاند آنکھ یا ٹیلی اسکوپ سے دیکھا جانا تقریباً ناممکن ہے۔ یہاں تک کہ برطانوی حکومت کی رپورٹ بھی بتاتی ہے کہ جمعرات کو مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور برطانیہ سے چاند نظر آنے کا امکان نہیں ہے۔


ان اطلاعات کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں عید الفطر 22 اپریل 2023 بروز ہفتہ کو منائے جانے کا امکان ہے۔

ہندوستان میں جمعے کو 29 روزہ ہوگا اگر وہاں اس دن چاند نظر آگیا تو عرصہ دراز بعد ہندوستان اور سعودی عرب میں ایک ہی دن عیدالفطر کا تہوار منایا جائے گا۔

اسرائیلی فوج کا 24 اپریل سے 3 دن کے لیے فلسطینی علاقوں کے داخلی اور خارجی راستے بند کرنے کا اعلان

0
اسرائیلی فوج کا 24 اپریل سے 3 دن کے لیے فلسطینی علاقوں کے داخلی اور خارجی راستے بند کرنے کا اعلان
اسرائیلی فوج کا 24 اپریل سے 3 دن کے لیے فلسطینی علاقوں کے داخلی اور خارجی راستے بند کرنے کا اعلان

اسرائیلی فوج کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سیکیورٹی صورتحال کے جائزوں اور اسرائیلی انتظامیہ کے احکامات کے مطابق کیا گیا ہے

تل ابیب: اسرائیلی فوج نے 24 اپریل سے "یومِ یادگار” اور "یومِ آزادی” کے موقع پر فلسطینی علاقوں کے داخلی اور خارجی راستے 3 دن کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔


اسرائیلی فوج کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سیکیورٹی صورتحال کے جائزوں اور اسرائیلی انتظامیہ کے احکامات کے مطابق کیا گیا ہے۔


بتایا گیا ہے کہ یوم آزادی کے موقع پر بندشیں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر محیط ہوں گی۔


بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ بندش کے دوران انسانی، طبی اور غیر معمولی معاملات کے لیے فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی حکومت کی سرگرمیوں کی منظوری کے بعد ہی اجازت دی جائے گی۔


یادگاری دن، اسرائیل کی طرف سے اپنی جنگوں میں مرنے والے فوجیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے، عبرانی کیلنڈر میں اس سال 25 اپریل کو آتا ہے۔ یوم آزادی، جس پر اسرائیل کی تاسیسی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں، 26 اپریل کو منایا جاتا ہے۔

عتیق اور اشرف قتل معاملے میں شاہ گنج تھانے کے ایس ایچ او سمیت پانچ پولیس اہلکار معطل

0
عتیق اور اشرف قتل معاملے میں شاہ گنج تھانے کے ایس ایچ او سمیت پانچ پولیس اہلکار معطل
عتیق اور اشرف قتل معاملے میں شاہ گنج تھانے کے ایس ایچ او سمیت پانچ پولیس اہلکار معطل

پولیس ذرائع نے بتایا کہ عتیق اور اشرف قتل معاملے میں شاہ گنج تھانہ ایس ایچ او اشونی کمار سنگھ، دو سب انسپکٹر اور تین کانسٹیبل کو بدھ کو معطل کردیا گیا

پریاگ راج: شہ زور لیڈر و سابق ایم پی عتیق احمد اور ان کے بھائی خالد عظیم عرف اشرف علی کی پولیس حراست میں قتل کے معاملے میں شاہ گنج تھانے کے ایس ایچ او اشونی کمار سنگھ سمیت پانچ پولیس اہلکار کو بدھ کو معطل کردیا گیا۔


پولیس ذرائع نے بتایا کہ عتیق اور اشرف قتل معاملے میں شاہ گنج تھانہ ایس ایچ او اشونی کمار سنگھ، دو سب انسپکٹر اور تین کانسٹیبل کو بدھ کو معطل کردیا گیا۔ ایس آئی ٹی کی جانچ میں ڈیوٹی کی ادائیگی میں لاپرواہی پائ جانے پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کو سابق ایم پی عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کی پولیس حراست میں اس وقت گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا جب پولیس انہیں میڈیکل جانچ کے لئے اسپتال لے جارہی تھی۔ شاہ گنج تھانہ کالون اسپتال سے چند قدم کی دوری پر واقع ہے۔


پولیس کمشنر روی شرما نے اس واقعہ کی جانچ کے لئے اڈیشنل پولیس کمشنر (کرائم) ستیش چندر کی قیادت میں تین رکنی خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ دو دیگر اراکین میں اے سی پی کوتوالی ستیندر پرساد تیواری اور انسپکٹر اوم پرکاش شامل ہیں۔

اسٹاک مارکیٹ آج مسلسل تیسرے دن بھی گراوٹ

0
اسٹاک مارکیٹ آج مسلسل تیسرے دن بھی گراوٹ
اسٹاک مارکیٹ آج مسلسل تیسرے دن بھی گراوٹ

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 159.21 پوائنٹس کی کمی سے 59567.80 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 41.40 پوائنٹس پر آگیا

ممبئی: عالمی مارکیٹ کی گراوٹ کے دباؤ میں مقامی سطح پر آئی ٹی، ٹیک، پاور اور یوٹیلٹیز سمیت 14 گروپوں میں فروخت ہونے کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ آج مسلسل تیسرے دن بھی گراوٹ پر بند ہوئی۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 159.21 پوائنٹس کی کمی سے 59567.80 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 41.40 پوائنٹس پر آگیا۔ اس دوران بی ایس ای کا مڈ کیپ 0.18 فیصد گر کر 24,941.78 پوائنٹس پر آگیا، جب کہ اسمال کیپ 0.12 فیصد کے تیزی لیکر 28,281.10 پوائنٹس پر آگیا۔

اس عرصے کے دوران بی ایس ای پر مجموعی طور پر 3634 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 1811 میں خریداری 1701 فروخت ہوئی جبکہ 122 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای میں، 31 کمپنیاں سرخ رنگ میں تھیں جبکہ 18 سبز نشان پر تھیں، جبکہ ایک کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

بی ایس ای کے 14 گروپوں میں گراوٹ رہی۔ آئی ٹی 1.68، ٹیک 1.48، پاور 1.13، کموڈیٹیز 0.03، سی ڈی 0.20، ایف ایم سی جی 0.17، فنانشل سروسز 0.10، انڈسٹریز 0.14، ٹیلی کام 0.23، یوٹیلیٹیز 0.97، بینکنگ گڈز 0.18 فیصد اور کنزیومر ڈیوریبلز کی شئیر 0.01 فیصد گرے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی فروخت کا دباؤ رہا۔ اس دوران برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.40، جرمنی کا ڈی اے ایکس 0.26، جاپان کا نکئی 0.18، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.37 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.68 فیصد گر گیا۔

عتیق اور اشرف قتل واقعہ کی جانچ کے لئے جوڈیشیل کمیشن کی تشکیل

0
عتیق اور اشرف قتل واقعہ کی جانچ کے لئے جوڈیشیل کمیشن کی تشکیل
عتیق اور اشرف قتل واقعہ کی جانچ کے لئے جوڈیشیل کمیشن کی تشکیل

ترجمان نے بتایا کہ کمیشن اپنی جانچ رپورٹ دو مہینوں میں ریاستی حکومت کو سونپے گا

لکھنؤ: سابق ایم پی عتیق احمد اور ان کے بھائی خالد عظیم عرف اشرف کو کل پولیس کی موجودگی میں میڈیکل انکوائری کے لئے لے جاتے وقت گولی مار کر قتل کئے جانے کے معاملے کی جانچ کے لئے اترپردیش حکومت نے اتوار کو تین رکنی جوڈیشیل کمیشن کی تشکیل دی ہے۔


ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر محکمہ داخلہ نے اس حوالے سے آرڈر جاری کردیا ہے۔

کمیشن کی تشکیل کمیشن آف انکوائری ایکٹ 1952 کے تحت کی گئی ہے۔ آرڈرکے مطابق کمیشن کی قیادت الہ آباد ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس اروند کمار ترپاٹھی (11) کریں گے جبکہ سابق ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سبھیش کمار سنگھ اور ریٹائرڈ جج برجیش کمار سونی کو کمیشن کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔


ترجمان نے بتایا کہ کمیشن اپنی جانچ رپورٹ دو مہینوں میں ریاستی حکومت کو سونپے گا۔ قابل ذکر ہے کہ عتیق اور ان کے بھائی اشرف کا گذشتہ کل تین مسلح حملہ آوروں کے ذریعہ اس وقت مار کر قتل کردیا تھا جب وہ پولیس کے ذریعہ میڈیکل انکوائری کے لئے کولون اسپتال لے جائے جارہے تھے۔


دونوں کو تین مسلح افراد نے اپنا نشانہ بنایا جو میڈیا اہلکار کے بھیس میں آئے تھے۔ بعد میں پولیس نے تینوں کو گرفتارکرلیا۔ امیش پال قتل واردات کے سلسلے میں عتیق اور اشرف پانچ دنوں کی پولیس تحویل میں ہے۔

عتیق کے بقیہ بیٹوں کا بھی ہوسکتا ہے انکاونٹر: پروفیسر رام گوپال

0
عتیق کے بقیہ بیٹوں کا بھی ہوسکتا ہے انکاونٹر: پروفیسر رام گوپال
عتیق کے بقیہ بیٹوں کا بھی ہوسکتا ہے انکاونٹر: پروفیسر رام گوپال

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر رام گوپال نے کہا کہ وزیر اعلی ایوان میں بولے تھے کہ مٹی میں ملا دیں گے اس لئے عتیق کو مارنے والے لوگوں کا کچھ ہونے والا نہیں ہے

اٹاوہ: سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو نے اترپردیش کے پریاگ راج میں پولیس حراست میں مارے گئے عتیق اور اشرف کے قتل کو منظم سازش قرار دیا ہے۔

یہاں سیفئی میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پروفیسر یادو نے آج کہا کہ پولیس کے ہاتھ میں عتیق اور ان کے بھائی اشرف کی ہتھکڑی تھی۔ یہ منظم قتل کیا گیا ہے۔ جانچ کرنے والی ایجنسی صحیح ہوگی تو بڑے بڑے لوگ اس میں پھنسیں گے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی ایوان میں بولے تھے کہ مٹی میں ملا دیں گے اس لئے عتیق کو مارنے والے لوگوں کا کچھ ہونے والا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ اترپردیش میں ہورہا ہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔ جمہوریت کے خاتمے والا راستہ ہے۔ پہلے راج شاہی میں ایسا ہوتا تھا۔ میڈیا ٹرائل کی وجہ سے عتیق کو مارا گیا۔ کسی بھی کیس میں عتیق پر الزامات ثابت نہیں ہوئے تھے۔ ایسے لوگ بھی بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہیں جنہوں نے بم پھینک کر لوگوں کو مروایا تھا۔ ان کو کئی نہیں کہتا ہے کہ گینگسٹر ہیں۔

پروفیسر یادو نے کہا کہ الہ آباد کے لوگوں کا کہنا ہے کہ عتیق کے پانچ بچے ہیں۔ اس میں ایک کو پولیس مار چکی ہے۔ جو بقیہ بچے ہیں ان کو بھی کسی نہ کسی بہانے سے مار دیا جائے گا۔ چاہے ملک برباد ہوجائے الیکشن جیتنے کے لئے لوگ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

ایس پی جنرل سکریٹری نے کہا کہ انہوں نے پہلے بھی کہا تھا کہ عتیق کے لڑکے کا قتل ہوسکتا ہے۔ یہ بات سچ نکلی۔ اس کا فرضی انکاونٹر کردیا گیا۔ عتیق نے سپریم کورٹ میں خود رٹ کی تھی کہ مجھے سیکورٹی دی جائے۔ جمہوریت کی تاریخ میں کسی بھی ملک میں پولیس حراست میں اس طرح کا قتل نہیں ہوا۔ یہ جمہوریت کا قتل ہے۔