جمعہ, اپریل 3, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 187

جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے مسلسل کریں گے جدوجہد: کھڑگے

0
جمہوریت-اور-آئین-کو-بچانے-کے-لیے-مسلسل-کریں-گے-جدوجہد:-کھڑگے

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر آمرانہ انداز میں کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور آئین ملک کی روح ہیں، اس لیے یوم آزادی پر سب کو قومی یکجہتی، سالمیت، محبت، بھائی چارہ، ہم آہنگی جمہوریت اور آئین کے جذبے کو بچائے رکھنے کا کا عزم کرنا ہے۔ یہاں جاری ایک ویڈیو پیغام میں ملک کے عوام کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ قومی تحریک کے دوران بے شمار ہندوستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ہم ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سمیت دیگر تمام وزرائے اعظم کے کام کو یاد کیا اور کہا کہ ان کی شراکت نے ہندوستان کی ترقی کے سفر کو آگے بڑھایا ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ انہیں تکلیف ہے کہ آج ملک کی جمہوریت، آئین اور ادارے تینوں بہت بڑا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، الیکشن کمیشن جیسے اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو معطل کرکے ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کھڑکے نے مودی حکومت پر نام بدل کر پرانی اسکیموں کو آگے بڑھانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ عظیم لوگ نئی تاریخ لکھنے کے لیے پرانی تاریخ کو نہیں مٹاتے۔ وہ اپنی لکیر بڑی کھینچتے ہیں، وہ پہلے سے کھینچی ہوئی لکیر کو کاٹ کر یا مٹا کر چھوٹا نہیں کرتے۔ جو حکومت ہمیشہ نام بدل کر پچھلی حکومتوں کے کاموں کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتی ہے، ان سے زیادہ توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ اب پرانے قوانین کو جس نے ملک کو استحکام اور امن فراہم کیا، امن فراہم کیا، ان کا نام بدل کر نئی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا ’’منی پور ہو، ہریانہ ہو، یوپی ہو – چاہے ملک کا کوئی بھی کونا ہو- جہاں بھی ناانصافی ہوگی، کانگریس پارٹی انصافکے لئے لڑے گی اور آواز اٹھائے گی۔ کانگریس نوجوانوں کے حقوق، کسانوں کی فلاح و بہبود، خواتین کی عزت، سماج کے پسماندہ لوگوں کے انصاف کے لیے، چھوٹے تاجروں کی کمائی کے لیے کھڑی ہے۔‘‘

منی پور واقعہ بھیڑ تنتر کے سامنے ملک، سماج، حکومتیں اور عدلیہ بے معنی ہونے کا پیش خیمہ

0
manipui-violence-women-tribe
منی پور واقعہ بھیڑ تنتر کے سامنے ملک، سماج، حکومتیں اور عدلیہ بے معنی ہونے کا پیش خیمہ

منی پور کے شرمناک واقعات اور وائرل ویڈیو پر بحث سے زیادہ ضرورت اس بات پر غور کرنے کی ہے کہ آخر ہم نے کیسا سماج بنایا ہے

منی پور کے ویڈیو نے پورے ملک میں ایک ہیجان کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ ریاست کی آدی واسی خواتین کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز واقعہ پر پورا ملک شرمندہ ہے، لوگوں میں غم و غصہ ہے۔ جس نے بھی اس ویڈیو کو دیکھاہے، شرم اور غصہ سے بھر گیا۔ ہر کوئی سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر ہمارا سماج کہاں پہنچ چکا ہے۔

اس ملک میں پچھلے کچھ برسوں کے دوران جو بھیڑ اور جو ذہنیت تیار ہوئی ہے یا کی گئی ہے، وہ اس حد تک جا سکتی ہے۔ اس واقعہ نے ملک ہی نہیں پوری دنیا کو جھنجھلا کر رکھ دیا ہے۔ منی پور پچھلے تقریباً تین ماہ سے جل رہا ہے، آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، عورتوں کی عصمت تار تار کی جا رہی ہے، گھروں کو جلایا جا رہا ہے، سڑکوں پر قتل و غارت گری کا ننگا ناچ ہو رہا ہے۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے سے پہلے تک ہر طرف سناٹا تھا، سیاسی گلیاروں سے لے کر سرکاری ایوانوں تک، عدلیہ سے لے کر میڈیا تک سب پر سکوت طاری تھا، ہر طرف خاموشی تھی۔ یہ ایک ویڈیو منظر عام پر آیا ہے، نہ جانے کتنے ویڈیو ہوں گے اور نہ جانے کتنے ایسے واقعات ہوں گے، جو ہمارا سر شرم سے جھکا دیں گے۔ بظاہر تو سر تو ملک کے وزیر اعظم کا بھی شرم سے جھک گیا، مگر واقعہ کے 77 دنوں کےبعد۔

عام طور پر اس طرح کے واقعات پر خاموشی اختیار کر لینے والے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی اپنی خاموشی توڑنے پر مجبور کر دیا۔ وہ بھی تب جب ملک و بیرون ملک سے اٹھنے والی آوازیں ان کے کانوں میں پڑیں۔ سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئےحکومت کی سخت سرزنش کی اور کارروائی کا انتباہ دیا۔

ماضی کے واقعات معاشرہ کے لئے دعوت فکر

منی پور کے شرمناک واقعات اور وائرل ویڈیو پر بحث کرنے سےزیادہ ضرورت اس بات پر غور و فکر کرنے کی ہے کہ آخر ہم نے کیسا سماج بنایا ہے، جہاں انسانیت مرچکی ہے، ضمیر کو گروی رکھ دیا گیا ہے اور ہمدردی و رواداری دم توڑ رہی ہے۔ اگرایسا ہے تو کیسا سماج، کیسا ملک اور کیسی حکومتیں اور عدلیہ، سب بے معنی ہیں۔ منی پور میں خواتین کے وائرل ویڈیوز دیکھ کرایسا ہی محسوس ہورہا ہے۔ ایک سماج کے طور پرہم نے ماضی کے واقعات سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ نہ تو مذہبی تعصب کو ختم کیا اور نہ ہی ذات برادری کے چشمہ کو اتارا۔

کٹھوعہ کی آصفہ کے ساتھ کیا ہوااور پھر گنہگاروں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا گیا، ہم سب نے دیکھا۔ اناؤ میں دلت بیٹی کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا، سب کو یاد ہوگا۔ 2002 کے بد ترین گجرات فساد کی متاثرہ بلقیس بانو کے ساتھ پہلے کیا گیا اور پھر آج 20 سال کے بعد اس کے گنہگاروں کو کس طرح اعزازو اکرام سے نوازا جا رہا ہے، وہ بھی سب دیکھ رہے ہیں۔

منی پور کا تازہ واقعہ ہی لے لیں۔ حکمراں جماعت کے بڑے بڑے لیڈران اور ان کی ’ٹرول آرمی تک کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ منی پور کی خواتین کے ساتھ یہ شرمناک سلوک کیوں کیا گیا، بلکہ فکر اس بات کی ہے کہ آخر یہ ویڈیو منظر عام پر کیوں اور کیسے آیا؟

یہ سب اسی سماج میں ہو رہا ہے اور ایک خاص ذہنیت کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ایسے میں ہم کیسے امید کر سکتے ہیں مظلومین کو انصاف ملے گا اور گنہگاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

خواتین نشانۂ تشدد

فسادات، جنگ یا کسی بھی قسم کے تنازعات و تشدد میں خواتین کو اس طرح نشانہ بنانا معمول کا حصہ رہا ہے اور تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ بعض اوقات انصاف کی مشینری اس کو تحفظ فراہم کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تبھی تو منی پور کا موازنہ دوسری ریاستوں سے کر دیا گیا۔ منی پور کے انسانیت سوز واقعات کا ذکر کرتے ہوئے دیگر ریاستوں کا نام بھی لیا گیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ منی پور پچھلے تین ماہ سے جل رہا ہے، وہیں دیگر ریاستوں میں اس قسم کے ایک دو واقعات ہی ہوئے ہیں، جو نہیں ہونے چاہئے۔

منی پور میں بیشتر مقامات پر انٹرنیٹ خدمات بند ہیں، جبکہ دوسری ریاستوں میں تو ایسا نہیں ہے۔ منی پور میں تو اضافی فورس اور نیم فوجی دستوں کی موجودگی کے باوجود تشدد نہیں رکا، جبکہ دوسری جگہوں پر ایسا نہیں ہے۔ منی پور کے وزیر اعلیٰ خود اعتراف کر رہے ہیں کہ خواتین کے ساتھ ایسے سیکڑوں واقعات ہوئے ہیں۔ کیا دوسری ریاستوں میں بھی ایسا ہی ہے؟ منی پور میں واقعہ کی بمشکل ایف آئی آر درج ہوئی۔ ایف آئی آر ہوئی تو کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ جب تقریباً ڈھائی ماہ کے بعد ویڈیو منظر عام پر آیا تب کچھ گرفتاریاں ہوئیں۔ کیا دوسری ریاستوں میں بھی ایسا ہی ہے؟

دیگر ریاستوں کے واقعات سے موازنہ

منی پور میں اب تک تقریباً ڈیڑھ سو لوگ مارے گئے ہیں، سیکڑوں زخمی ہیں، ہزاروں افراد بے گھر ہیں، کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ بڑی تعداد میں گھر جلائے گئے، مذہبی مقامات جلائے گئے، دوسری ریاستوں میں تو ایسا نہیں ہے۔ پھر آخر دوسری ریاستوں سے منی ور کا موازنہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ کہیں یہ اپنی ناکامی اور گناہوں سے چشم پوشی تو نہیں ہے۔

منی پورتشدد کے پس پشت جتنے سیاسی عوامل کار فرما ہیں، اتنی ہی یہاں کی جغرافیائی صورت حال، ذات برادری اورقبائل آبادی، معدنیات کی دولت وغیرہ بھی اس قضیہ کی بڑی وجہ ہے۔ ایسا صرف منی پور کے ساتھ ہی نہیں ہے، بلکہ مختلف ملکوں اور ریاستوں میں بھی ایسا ہوتاہے۔ جہاں بھی قبائلی اور غریب آبادی والے علاقوں میں قدرتی دولت موجود ہے، وہاں اس کے حصول کے لئے تمام حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔

ایک سروے کے مطابق منی پور کے جنگلات میں تانبے اور پلاٹینم موجود ہے۔ منی پور میں 3 مئی کو تشدد کی شروعات اس وقت ہوئی جب پہاڑی اضلاع میں مئیتی برادری کے درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے درجہ کے خلاف احتجاج کے لیے ’قبائلی یکجہتی مارچ‘ کا انعقاد کیا گیا۔

قبائلی اختلافات

کوکی اور ناگا کمیونٹی کے لوگ اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کوکی اور ناگا برادریوں کو ملک کی آزادی کے بعد سے قبائلی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ’سرکاری لینڈ سروے‘ بھی بڑی وجہ مانی جا رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ریاست کی بی جے پی حکومت نے یہاں ایک مہم شروع کی ہے، جس میں قبائل سے’ریزروجنگلاتی علاقہ‘ خالی کرنے کو کہا گیا ہے۔ جس کی کوکی برادری کے لوگ شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

مئیتی کو منی پور کی سب سے بڑی برادری کہا جاتا ہے۔ دارالحکومت امپھال میں بھی ان کی بڑی آبادی ہے۔ انہیں عرف عام میں منی پوری کہا جاتا ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق یہ لوگ ریاست کی کل آبادی کا64.6   فیصد ہیں۔ یہ لوگ منی پور کےدس فیصد علاقے میں آباد ہیں۔ ان میئتیوں میں سے زیادہ تر ہندو ہیں اورآٹھ فیصد مسلمان ہیں۔

اس کے علاوہ منی پور قانون ساز اسمبلی میں مئیتی برادری کی نمائندگی بھی زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منی پور کی 60 اسمبلی سیٹوں میں سے 40 امپھال وادی سے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں زیادہ تر مئیتی لوگ رہتے ہیں۔ دوسری طرف منی پور کی آبادی میں کوکی اور ناگا قبائلی بھی ہیں۔ یہاں ان کی آبادی تقریباً 40 فیصد ہے۔ جن 33 برادریوں کو قبائل کا درجہ ملا ہے۔ ان کا تعلق ناگا اور کوکی-جومی قبائل سے ہے اور یہ زیادہ تر عیسائی ہیں۔

2011 کی مردم شماری کے مطابق منی پور میں ہندوؤں اور عیسائیوں کی آبادی تقریباً برابر ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ منی پور کی بی جے پی حکومت چاہتی ہے کہ میدانی علاقوں میں رہنے والی میئتی برادری کوایس ٹی کا درجہ دے کر پہاڑوں پر بھی آباد کیا جائے۔ چار مئی کو فسادات بھڑکانے کے لیے ایک فرضی ویڈیو شیئر کیا گیا تھا، جس میں کسی دوسری جگہ کے قتل کے واقعہ کو منی پور کی مئیتی برادری کی خاتون کا بتایا گیا۔ نتیجتاً سیکڑوں مئیتی مردوں نے دوکوکی خواتین کو سرعام برہنہ کیا اور ان کی اجتماعی عصمت دری کی۔

بہر حال، ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ جیسےنعرے بولنے میں تو اچھے لگتے ہیں، خواتین کی فلاح و بہبود اور تحفظ کےلئے زبانی جمع خرچ بھی خوب ہوتا ہے، نئے نئے قوانین بھی بنائے جاتے ہیں، مگر اُس ذہنیت کو تبدیل کرنے کی سنجیدہ ا ور مخلصانہ کوشش نہیں کی جاتی جس کے سبب ایسی گھناؤنی وارداتیں سامنے آتی ہیں۔ انھیں روکنے کے لئے قانون سازوں، قانون کے رکھوالوں اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو جوابدہ بنانا ہوگا۔

اس مضمون میں پیش کئے گئے افکار وخیالات مضمون نگار کے ذاتی ہیں۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

yameen@inquilab.com

برطانوی مسلم مبلغ انجم چودھری پردہشت گردی کے تین الزامات عائد

0
anjum-chaudhari-british-preacher
برطانوی مسلم مبلغ انجم چودھری پردہشت گردی کے تین الزامات عائد

برطانوی مسلم مبلغ انجم چودھری پر گزشتہ ہفتے لندن میں گرفتاری کے بعد دہشت گردی کے تین الزامات عائد کر دئیے گئے

برطانوی پولیس نے برطانوی مسلم مبلغ انجم چودھری پر گزشتہ ہفتے لندن میں گرفتاری کے بعد دہشت گردی کے تین الزامات عائد کر دئیے۔ پولیس نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ 56 سال کے انجم چودھری پر ایک کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے، ایک دہشت گرد تنظیم چلانے اور ایک کالعدم تنظیم کی حمایت کی حوصلہ افزائی کے لیے جلسوں میں تقریریں کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق انجم چودھری کسی زمانے میں برطانیہ کے ممتاز مبلغین میں سے ایک تھے۔ انہوں نے 2016 میں برطانیہ میں دہشت گرد تنظیم "داعش” کی حمایت کی ترغیب دینے کے جرم میں سزا دی گئی تھی۔ اس کے بعد انہیں ساڑھے پانچ سال کی سزا کا نصف پورا کرنے کے بعد 2018 میں رہا کر دیا گیا تھا۔

انجم چودھری نے اس وقت توجہ حاصل کی تھی جب انہوں نے امریکہ پر “نائن الیون” کے حملے کرنے والوں کی تعریف کی اور کہا کہ وہ بکنگھم پیلس کو مسجد میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ انجم چوہدری کالعدم گروپ “المہاجرون” کا سابق سربراہ تھے۔ ان کے پیروکار دنیا بھر میں متعدد سازشوں سے منسلک پائے گئے ہیں۔

انجم چودھری ایک اور معروف مبلغ عمر بکری کے بھی قریب تھے۔ عمر بکری کے ساتھ ملکر ہی انجم نے کالعدم بنیاد پرست تنظیم “المہاجرون” کی بنیاد رکھی تھی۔ انجم چودھری نے جلد ہی اپنے آپ کو "لندنستان” کے حلقوں کے اہم نمائندوں میں سے ایک کے طور پر قائم کیا۔ یہ تنظیم 2000 کی دہائی کے اوائل میں برطانوی دارالحکومت میں بنائی گئی تھی۔ اس کے بہت سے پیروکاروں پر دنیا بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لینے کا الزام لگایا گیا۔

انجم چودھری برطانیہ میں مساجد، سفارت خانوں اور پولیس سٹیشنوں کے سامنے مظاہرے کر کے حکام اور میڈیا کے لیے معروف ہوئے۔ انجم کہتے تھے کہ ان کا آخری مقصد ڈاؤننگ سٹریٹ میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر اسلام کا پرچم بلند کرنا ہے۔ پولیس نے کہا کہ انہوں نے ایک 28 سالہ کینیڈین خالد حسین پر بھی ایک کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کیا اور اسے ہیتھرو ایئرپورٹ پر آمد کے وقت گرفتار کرلیا ہے۔

بالاسور ٹرین حادثہ کے لئے حکومت ذمہ دار، وشنو کے خلاف ایف آئی آر درج ہو: کانگریس

0
بالاسور ٹرین حادثہ کے لئے حکومت ذمہ دار، وشنو کے خلاف ایف آئی آر درج ہو: کانگریس
بالاسور ٹرین حادثہ کے لئے حکومت ذمہ دار، وشنو کے خلاف ایف آئی آر درج ہو: کانگریس

کانگریس کے سینئر لیڈر اجے کمار نے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت حادثے کے ذمہ دار وزیر کو بچانے میں لگی ہوئی ہے اور دن بھر ٹی وی پر یہی خبریں سرخیوں کے طور پر چل رہی ہیں کہ یہ ٹرین حادثہ ایک سازش ہے یا نہیں

نئی دہلی: کانگریس نے بدھ کو بالاسور ٹرین حادثہ کے لئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ریل کی حفاظت میں لاپروائی کی تمام حدیں پار ہو گئی ہیں اس لئے ریلوے کے وزیر اشونی وشنو کے خلاف ایف آئی آر درج کی جانی چاہئے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر اجے کمار نے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت حادثے کے ذمہ دار وزیر کو بچانے میں لگی ہوئی ہے اور دن بھر ٹی وی پر یہی خبریں سرخیوں کے طور پر چل رہی ہیں کہ یہ ٹرین حادثہ ایک سازش ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹرین حادثہ میں سازش کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اسے سرخی بنا کر اور حادثے کی سی بی آئی انکوائری کا اعلان کرکے توجہ ہٹانے کا کام کیا ہے۔ حکومت نے ریل حادثات کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے میں ہمالیائی لاپروائی کا مظاہرہ کیا اور اسی سنگین لاپروائی کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا، اس لیے حکومت حقیقت سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی رہی۔

ڈاکٹر کمار نے کہا کہ حادثے سے متعلق سی بی آئی ایف آئی آر میں تخریب کاری یا سازش کا کوئی ذکر نہیں ہے، صرف لاپروائی کا ذکر ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئی ٹی سیل نے چاروں طرف افواہیں پھیلائیں کہ یہ ایک سازش تھی۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سی بی آئی کو اس معاملے کی جانچ کرنی چاہئے کہ مودی حکومت نے ٹریک کی مرمت اور نئے ٹریک بچھانے کے بجٹ کو 9607 کروڑ سے کم کر کے 7400 کروڑ کیوں کر دیا۔ انہیں بتانا چاہئے کہ جب پچھلے چار سالوں میں تقریباً 1100 بار ٹرین پٹری سے اتری ہے تو پھر ان معاملات میں سی بی آئی کی جانچ کیوں نہیں ہوئی؟

کانگریس لیڈر نے کہا کہ سی بی آئی کو انکوائری کرنی چاہئے اور یہ بھی بتانا چاہئے کہ نیشنل ریل سیفٹی فنڈ کی فنڈنگ ​​میں تقریباً 80 فیصد کمی کیوں کی گئی ہے اور اس کی ایف آئی آر میں ریلوے کے وزیر کا نام کیوں نہیں لیا گیا ہے۔

مختار انصاری کے قریبی سنجیو جیوا کا عدالت کے اندر گولی مار کر قتل

0

لکھنؤ کی ایک عدالت کے اندر مختار انصاری کے قریبی سنجیو جیوا کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا، تین دیگر لوگوں کو بھی لگی گولی

لکھنؤ: مغربی اترپردیش کے شاطر بدمعاش سنجیو مہیشور عرف جیوا پر لکھنؤ کی ضلع عدالت احاطے میں گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ اسے مردہ حالت میں اسپتال لے جایا گیا۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ وکیل کے لباس میں آئے حملہ آوروں نے جیوا پر پیچھے سے ایک کے بعد ایک کئی گولیاں اس وقت چلائی گئیں جب وہ کسی معاملے میں پیشی پر آیا تھا۔ ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے پانچ سے چھ راونڈ فائرنگ کی۔ جیوا کو نزدیکی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ پولیس افسر کچھ بھی کہنے سے پرہیز کررہے ہیں لیکن مصدقہ ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے جیوا کو مردہ قرار دے دیا ہے۔

حملہ آوروں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ اس گولی باری میں ایک بچی کو بھی گولی لگنے کی اطلاع ہے۔ اس واردات کے بعد عدالتی احاطے میں افراتفری مچ گئی۔ کچہری احاطے میں موجود وکیلوں نے واقعہ کے تئیں احتجاج کرتے ہوئے خود کی سیکورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جیوا کا مختار انصاری سے کافی نزیکی تعلقات تھے۔

َبَہارعرب: عالم عرب اب تبدیلی کی جانب رواں دواں

0

کچھ عرب ملکوں میں 2010 میں ’جمہوریت اور آزادی‘ کے نام پر شروع ہوئی ناکام ’بَہارِ عرب‘ کی خونچکاںداستان کا باب بند ہونے کو ہے

ایک دہائی سے زیادہ عرصہ کے بعد عرب دنیاایک بار پھر تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ خطہ کے دو سخت حریفوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان رشتے استوار ہو چکے ہیں۔سفارتی تعلقات میں مزید بہتری آ رہی ہے۔ سربراہان کی آمد و رفت اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان شام کے صدر بشار الاسد کا استقبال کر رہے ہیں۔

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی سعودی عرب کے شاہ سلمان کو تہران آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔مصر کے وزیر خارجہ دمشق کا دورہ کر رہے ہیں۔دونوں ملکوں کے سربراہان فون پر گفتگو کر رہے ہیں۔ترکی اور مصر کے درمیان جمی برف پگھل رہی ہے۔یمن اور شام میں جنگ بندی کے خاتمے اور بحالی امن کی کوششوں کو عملیجامہ پہنایا جا رہا ہے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ ’بہار عرب‘ کا خواب اب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آ رہا ہے۔

یوں تو 2010 کے اواخر میںمختلف عرب ملکوں میں بے روزگاری، رشوت ستانی، بدعنوانی، جابرانہ اوراستحصالی نظام حکومت کے خلاف شروع ہوئے عوامی احتجاج کو ’بہار عرب‘ کا نام دیا گیا تھا۔ مگر اس کی ناکامی نے کئی ملکوں کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیا، کئی ملکوں میں بَہار کے نام پر خونچکاں داستان لکھی گئی۔اس داستان میںکئی حکمرانوں کے اقتدار کا خاتمہ اور کئی کی زندگی کا خاتمہ درج ہو گیا۔

لاکھوں بزرگوں، بچوں، نوجوانوں اور عورتوں کے خون سے لکھی گئی اس داستان میں کئی ممالک کی تباہی کے مناظر اورنشانات مل جائیں گے۔اپنے گھر بار چھوڑ کر در در بھٹکتے کروڑوں لوگوں کی کہانیاں مل جائیں گی۔ یہ سب پچھلے دس بارہ سال میں ہوا ہے۔تیونس، مصر، لیبیا، اردن، شام،الجزائر، لبنان، عراق اور بعض دوسرے ممالک اس کے گواہ ہیں۔ 2010 کے اواخر میں ایک معمولی واقعہ نے ’بہار عرب‘ کی بنیاد ڈالی۔

2010 سے 2012 تک عرب دنیا میں احتجاج، مظاہروں، جلسے اور جلوسوں کی ایسی سونامی آئی کہ اس نے  دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً پوری عرب دنیا کو اپنی زد میں لے لیا۔ کہیں در پردہ اور کہیں براہ راست تبدیلی کی اس لہر کو ’بَہارِعرب‘ کا نام دیا گیا۔

بہار عرب کا واقعہ

واقعہ یہ ہے کہ بحیرہ روم کے کنارے پر واقع خوبصورت ملک تیونس کا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان محمد بو عزیزی تمام کوششوں کے باوجود سرکاری ملازمت حاصل نہیں کر سکا۔ حالات کی مجبوری نے اسےسبزی فروش بنا دیا۔ایک پولیس افسر نے اس نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ بو عزیزی نے سرعام اپنی بےعزتی سے دل برداشتہ ہو کر خود سوزی کر لی۔ اس کے جسم سے نکلنے والی آگ کی لپٹوں نے بہت جلد پورے مشرق وسطیٰ کو جھلسا کر رکھ دیا۔ تیونس کے مختلف شہروں میں عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔

تین دہائیوں سے اقتدار پر قابض علی زین العابدین کی حکومت عوام کی طاقت کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ صدر زین العابدین کو فرار ہو کر سعودی عرب میں پناہ لینی پڑی۔ حالات کو دیکھتے ہوئے کچھ عرصہ کے بعد الجزائر، اردن اور عمان کی حکومتوں نے اعلان کیا کہ وہ بھی اپنے یہاں اصلاحات کرنے جا رہی ہیں، بلکہ اگر ضرورت پڑی تو حکومتیں بھی تبدیل ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مصر کی حسنی مبارک حکومت کے خلاف اسی نوعیت کی تحریک شروع ہو گئی۔بالآخر 11فروری2011 کو تین دہائیوں پر محیط حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا۔ اسی سال20 اکتوبر کو تین دہائی سے زائد عرصہ تک حکمرانی کرنے والے لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی کوانہی کے عوام نے قتل کر دیا۔ فروری 2012 میں یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کو بھی دو دہائی سے زیادہ عرصہ کے بعد ایوان اقتدار سے رخصت ہونا پڑا۔انہیں 4 دسمبر 2017 کو قتل کر دیا گیا۔اس طرح ایک سے دو برس کے اندر چار اہم عرب ملکوں کے  طاقتور حکمرانوں کی حکمرانی قصہ پارینہ بن گئی۔

آج ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد اگر ہم بہار عرب کے نتائج پر نظر ڈالیں تو پورے خطہ عرب کے لئے یہ خزاں ثابت ہوئی۔ تیونس سے لے کر لیبیا تک اور مصر سے لے کر یمن تک آمریت، جمہوریت، بدعنوانی، بے روزگاری اور آزادی کے نام پر شروع ہونے والی اس تحریک نے ناکامی کی ایک لمبی داستان لکھ دی ہے۔ لیبیا اور یمن بدترین خانہ جنگی کے سبب تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔ مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کی جمہوری حکومت کے خاتمہ کے بعد عبدالفتاح السیسی سابقہ حکمرانوں کی طرح مضبوطی سے مسند اقتدار پر قابض ہیں۔ شام میں حکومت مخالف احتجاج خونریز خانہ جنگی اور پھر دنیا بھر کی طاقتوں کی پنجہ آزمائی کے سبب کھنڈہر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ’بہار عرب ‘ کی ناکامی کی سب سے بڑی قیمت شام کے باشندوں نے ہی ادا کی ہے۔ غرض یہ کہ جن ملکوں میں ’بہار عرب‘ کے نام پر احتجاجی مظاہرے ہوئے، وہاں جمہوریت تو پروان نہیں چڑھ سکی، بلکہ انتشار اور افراتفری کا ماحول یہاں کے باشندوں کا مقدر بن گیا۔

عرب کے حالات میں مثبت تبدیلی

اب جبکہ حالات ایک بار پھر کورٹ لے رہے ہیں اورایک مثبت تبدیلی نظر آ رہی تو امید کی جا سکتی ہے کہ بہار عرب کی ناکامی کی داستان ماضی کا حصہ بن جائے گی اور پوری دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی جائے گی۔ حال ہی میں ایک بڑی پیش رفت عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کی شکل میں ہوئی ہے۔خطہ کی دو بڑی طاقتوں ایران اور سعودی عرب نے یقیناً حالات کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نےجدہ میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے افتتاحی کلمات میں دیگر عرب رہنماؤںکے ساتھ جب شامی صدر بشار الاسد کا خیرمقدم کیا تو یہ عرب میں ایک نئی بہارکا پیش خیمہ تھا۔حالانکہ عرب لیگ میں شام کی واپسی پر سعودی قیادت کو کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے،مگران لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ جب حالات ایک مثبت تبدیلی کی طرف کروٹ لے رہے ہیں تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔ اگرچہ ماضی میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی قیادت میں اقدامات کئے جاتے تھے اور امریکی مفادات سب پر حاوی رہتے تھے۔ لیکن عرب لیگ کا حالیہ سربراہی اجلاس باہری اور دیگر عالمی طاقتوں کے مفادات سے پاک نظر آیا اور اس عرب طاقتوں نے اتحاد کی طرف ایک اور قدم بڑھایا۔

سعودی عرب نے گزشتہ  دس ماہ میں تین بڑے سربراہی اجلاسوں کی میزبانی کی ہے۔ پہلےجدہ میں سلامتی اور ترقی سربراہ اجلاس منعقد ہواتھا۔اس میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ رکن ممالک کے علاوہ مصر، اردن اور عراق اور امریکی صدر جو بائیڈن نے شرکت کی تھی۔ دوسرا ریاض میں چینی صدر شی جِن پنگ کے عرب لیڈروں کے ساتھ سربراہی اجلاس کے دو دور ہوئے تھے۔ پہلے ان کا خلیجی ممالک کے ساتھ ایک دور ہواتھا اور پھر عرب ممالک کے ساتھ سربراہی اجلاس کا دوسرا دور ہوا تھا۔ اوراب تیسرا،جدہ میں عرب لیگ کا حالیہ سربراہ اجلاس ہے۔

حالیہ برسوں میں یہ  اجلاس اپنی نوعیت کا اہم اجلاس تھا۔ اسی لئے یہاںکافی  گرمجوشی نظر آئی اور سرخیوں میں بھی رہا۔ عرب لیگ میں شام کی واپسی، اسرائیل کے مقابلے میں فلسطین کی حمایت اور صہیونی حکومت کے حالیہ مظالم کی مذمت مقررین کی گفتگو کا مرکزی محور رہا۔ عرب لیگ کے 32  ویںسربراہی اجلاس میں شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے کہا کہ شامی صدرکی شرکت شام کیلئے امن اور استحکام کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔وہیں شام کے صدر بشار الاسد نے کہا کہ ہمیں مستقبل میں درپیش چیلنجز کے بارے میں ابھی سے ہی غور کرنا چاہئے، تاکہ مستقبل کی نسلوں کو کوئی خطرہ پیش نہ آئے۔ ہم بیرونی مداخلت کے بغیر باہمی گفتگو و شنید کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ان دونوں سربراہان کا یہ بیان عرب لیگ اجلاس کا حاصل کہا جا سکتا ہے۔ یقیناً اگر عرب حکمراں باہری مداخلت اور بیرونی طاقتوں کے حصار سے خود کو آزاد کر لیتے ہیں تو یہ ان کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

yameen@inquilab.com

کرناٹک میں وقف بورڈ نے مسلم اراکین اسمبلی کے لیے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کے ساتھ پانچ وزارتی عہدوں کا مطالبہ کیا

0
کرناٹک میں وقف بورڈ نے مسلم اراکین اسمبلی کے لیے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کے ساتھ پانچ وزارتی عہدوں کا مطالبہ کیا
کرناٹک میں وقف بورڈ نے مسلم اراکین اسمبلی کے لیے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کے ساتھ پانچ وزارتی عہدوں کا مطالبہ کیا

وقف بورڈ کے سربراہ شفیع سعدی نے نامہ نگاروں کو بتایا، مسلم کمیونٹی ایک مسلم نائب وزیر اعلیٰ اور پانچ اچھے وزیر کے طور پر داخلہ، محصول اور تعلیم قلمدان چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارا شکریہ ادا کرے

بنگلورو: کرناٹک اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹروں کے بھاری اکثریت سے کانگریس کے حق میں ووٹ دینے کے پیش نظر وقف بورڈ نے پیر کو مسلم اراکین اسمبلی کے لیے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کے ساتھ پانچ اہم وزارتی عہدوں کا مطالبہ کیا۔


بورڈ نے نو منتخب مسلم قانون سازوں کے لیے گھر، ریونیو اور تعلیم جیسے اہم محکموں کا مطالبہ کیا۔


وقف بورڈ کے سربراہ شفیع سعدی نے نامہ نگاروں کو بتایا، ’’ہمیں مقابلہ کرنے کے لیے 15 سیٹیں ملیں، جن میں سے نو مسلم امیدواروں نے جیتی ہیں۔ تقریباً 72 حلقوں میں کانگریس پوری طرح مسلمانوں کی وجہ سے جیتی۔ ہمیں بدلے میں کچھ ملنا چاہیے۔ مسلم کمیونٹی ایک مسلم نائب وزیر اعلیٰ اور پانچ اچھے وزیر کے طور پر داخلہ، محصول اور تعلیم قلمدان چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارا شکریہ ادا کرے۔


دریں اثناء جنتا دل سیکولر کے لیڈر تنویر احمد نے بھی ایسا ہی مطالبہ کیا اور امید ظاہر کی کہ کانگریس مسلمانوں کو انعام دے گی کیونکہ کمیونٹی نے بھاری اکثریت سے پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔

جنوبی ہند میں بی جے پی کی شکست کے اسباب

0
جنوبی ہند میں بی جے پی کی شکست کے اسباب
جنوبی ہند میں بی جے پی کی شکست کے اسباب

کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج کو کیا جمہوریت کی فتح قرار دیا جائے یا نفرت کی شکست؟


تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری


کرناٹک کے انتخابی نتائج نے کئی پیغام دئے ہیں۔ یہ پیغام پورے ملک کے لئے بھی ہے، سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے لئے بھی ہے۔ اس جماعت کے لئے بھی جو اقتدار سے بے دخل ہوئی ہے اور اس جماعت کے لئے بھی جو فتحیاب ہوئی ہے۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات پر پورے ملک کی نظریں مرکوز تھیں۔ یوں بھی 2024ء کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے کرناٹک کے انتخابات کی اہمیت بڑھ گئی  تھی۔ اگرچہ آئندہ عام انتخابات سے پہلے کئی دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات بھی ہوں گے، مگر یہ نتیجے صرف کرناٹک ہی نہیں، پورے ملک کی سیاست پر اثر انداز ہونے والے ہیں۔ سب سے پہلے اس کا اثر راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور پھر تلنگانہ جیسی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات پر ہوگا۔

ان ریاستوں میں اسی سال انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سبھی سیاسی جماعتوں نے کرناٹک میں اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ ایک طرف کانگریس نے روایت سے ہٹ کر بہت ہی جارحانہ انداز میں اپنی انتخابی مہم چلائی۔ یہاں تک کہ ہندوتوا کے محاذ پر بھی اس نے بی جے پی کا زبردست مقابلہ کیا، جب کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں بجرنگ دل جیسی شدت پسند تنظیم پر پابندی کا وعدہ کیا۔ ایک ایسے دور میں جب بی جے پی کے پاس انتخاب جیتنے کا ہندوتوا اور مذہب ہی ایک سہارا ہو۔ پھر بھی کانگریس نے بجرنگ دل پر پابندی کا وعدہ کرکے کرناٹک کے ساتھ ملک کے عوام کو بھی ایک پیغام دے دیا۔

وہیں دوسری جانب بی جے پی نے پورا الیکشن نریندر مودی کے سہارے لڑا۔ انھوں نے بھی اپنے عہدے کے وقار کا خیال نہ رکھتے ہوئے ہر وہ حربہ اپنایا جس کے لئے مودی اور بی جے پی مشہور ہیں۔ وہی مذہبی نعرے، وہی عوام کے جذبات سے کھیلنا اور بنیادی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کا سلسلہ کرناٹک میں بھی جاری رہا۔ کرناٹک کے عوام چاہتے تھے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی پر بات ہو، مگر بی جے پی نے صرف ہندو مسلمان، حجاب، بیف پر پابندی، حلال فوڈ، بجرنگ بلی، یکساں سول کوڈ، مبینہ لو جہاد، پروپیگنڈہ پر بنی فلم ’دی کیرالہ اسٹوری‘ تک کو پولرائزنگ کے لئے خوب استعمال کیا۔

مودی اور امت شاہ کی جوڑی نے بجرنگ دل جیسی فرقہ پرست تنظیم کو بجرنگ بلی یعنی ہنومان جی سے جوڑنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ایک شدت پسند اور متنازعہ تنظیم کو ہنومان کے مترادف قرار دینے پر الیکشن کمیشن میں شکایت بھی کی گئی۔ لیکن کمیشن نے اس کے لیے نہ تو بی جے پی لیڈروں کے خلاف کوئی کارروائی کی اور نہ ہی انہیں مذکورہ مہم سے روکا۔ صرف آخری دن ہنومان چالیسہ پڑھنے کی اپیل پر روک لگا کر خانہ پری کردی گئی۔ کرناٹک کے عوام کو یہ پسند نہیں آیا، نتیجہ سامنے ہے۔ کرناٹک کے علاوہ بی جے پی جنوبی ہندوستان کی دیگر ریاستوں تلنگانہ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کیرالہ میں طویل عرصہ سے ہاتھ پیر مار رہی ہے، مگر ابھی تک اسے کامیابی نہیں ملی ہے۔ پچھلی مرتبہ خرید و فروخت کرکے کرناٹک میں حکومت بنا لی تھی۔ اس مرتبہ ریاست کے عوام نے اس کا جواب بھی کانگریس کی شاندار جیت کی شکل میں دے دیا ہے۔ اس طرح جنوبی ہندوستان میں ’نفرت کی دکان‘ بند ہو گئی ہے۔


کرناٹک کے اسمبلی انتخاب کانگریس کے نقطہ نظر سے بہت اہم مانے جا رہے تھے۔ کرناٹک کا اقتدار کانگریس کو اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا۔ اس وقت ملک کی سطح پر دیکھیں تو مجموعی طور پر کانگریس کی صورت حال انتہائی قابل رحم ہے۔ یقیناً کرناٹک سے ملنے والی طاقت کانگریس میں ایک نئی جان پھونک دے گی۔ کانگریس کے لئے گزشتہ ایک دہائی کے دوران شاید  یہ پہلا انتخاب ہوگا جو اس نے پورے جوش و خروش، منصوبہ بندی اور دانشمندی کے ساتھ لڑا۔ کانگریس نے اپنی پوری انتخابی مہم میں ریاست کے بنیادی مسائل کو ہی پیش پیش رکھا۔ پہلی بار ایسا محسوس ہوا کہ کانگریس اقتدار مخالف لہر کا فائدہ اٹھانے اور الیکشن جیتنے کیلئے ہی میدان میں اُتری ہے۔

پارٹی لیڈران نے رائے دہندگان کو اعتماد میں لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، سدارمیا اور ڈی کے شیو کمار ایک جنگجو کی طرح میدان میں ڈٹے رہے۔ سونیا گاندھی نے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ویسے انتخابی سیاست میں کانگریس کے لیے پچھلی دہائی بہت مایوس کن رہی ہے۔ اس دوران کانگریس کو پے در پے شکستوں کا سامنا کرنا پڑاہے۔ 2014ء اور2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی بہت خراب رہی۔ اس کے ساتھ ہی ہماچل اور راجستھان کو چھوڑ کر کئی ریاستوں میں اسے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔

2014 کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے اب تک کی سب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اسے صرف 44؍ سیٹیں مل سکیں۔ کانگریس کا ووٹ شیئر بھی پہلی بار 20؍ فیصد سے نیچے آگیا۔ کانگریس اتنی سیٹیں بھی حاصل نہیں کر سکی کہ وہ لوک سبھا میں اہم اپوزیشن پارٹی کا درجہ حاصل کر سکے۔ 2019ء میں بھی کانگریس کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہیں آئی اور اسے صرف 52؍ سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ اسے اپنا ووٹ شیئر بڑھانے میں بھی کامیابی نہیں ملی۔ ان 10؍ برسوں میں ایک ایک کرکے کئی ریاستوں میں کانگریس کے ہاتھ سے اقتدار چلا گیا۔

اب صرف ہماچل پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں کانگریس کی حکومت ہے۔ اس میں بھی اسی سال چھتیس گڑھ اور راجستھان میں انتخابات ہونے والے ہیں، جہاں پارٹی کو داخلی انتشار کا بھی سامنا ہے۔ مسلسل شکستوں کی وجہ سے کانگریس کے کارکنوں اور حامیوں میں بھی مایوسی کا ماحول تھا۔ ایسے میں کرناٹک کے نتیجے کانگریس کا مستقبل طے کرنے والے ہیں۔ کیوں کہ کانگریس کی خستہ حالی کے سبب آہستہ آہستہ باقی اپوزیشن پارٹیاں پہلے کی طرح کھل کر کانگریس پر اپنے اعتماد کا اظہار نہیں کر پا رہی ہیں۔ 2024ء کے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کو اپوزیشن کی قیادت سونپنے سے بھی کترا رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر علاقائی لیڈران محسوس کرتے ہیں کہ کانگریس سے ہاتھ ملانے سے کہیں نہ کہیں ان کا نقصان ہو گا۔ ظاہر ہے اب کرناٹک کے نتائج کے بعد اس صورت حال میں یقیناً بڑی تبدیلی آئے گی۔

 
کرناٹک کے انتخابی نتائج نے بی جے پی کو بھی واضح پیغام دے دیا ہے۔ مودی، اَمت شاہ، نڈا اور پارٹی کے دیگر لیڈران کو اب سمجھ لینا چاہئے کہ ہندوتوا کا سکہ ہر جگہ اور ہر وقت نہیں چلتا۔ ہمیں یاد ہے کہ کرناٹک میں ہندوتوا طاقتوں کے ذریعہ بہت پہلے سے ایسا ماحول بنایا جارہا تھا کہ یہ انتخاب ہندو مسلم کی بنیاد پر ہی لڑا جائے گا۔ کبھی حجاب اور حلال کا مسئلہ کھڑا کیا گیا، کبھی مسلم تاجروں اور دُکانداروں کے بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی، کبھی ٹیپو سلطان کی شہادت پر سوال اُٹھایا گیا اور تاریخی حقائق کو جھٹلاتے ہوئے کہا گیا کہ ٹیپو سلطان انگریزوں سے لڑتے ہوئے شہید نہیں ہوئے، بلکہ اُنہیں کرناٹک کی مشہور برادری ’ووکالیگا‘ کے دو جوانوں نے شہید کیا تھا۔ حالانکہ تاریخ دانوں نے اس دعوے کو غلط قرار دیا، مگر بی جے پی لیڈران کو لگتا تھا کہ وہ اس طرح ووکالیگا طبقے کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ بجرنگ بلی سے بجرنگ دَل کو جوڑنے کی کوشش کو بھی عوام نے مسترد کر دیا۔

عوام کو سمجھ میں آگیا کہ بی جے پی کو فرقہ واریت کے علاوہ بنیادی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ کرناٹک کے نتیجوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ ’نفرت کی دکان‘ شمالی ہند کے علاقوں میں تو چل سکتی ہے، مگر جنوبی ہند میں نہیں چلے گی۔ یعنی کانگریس نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے میں کامیاب ہو گئی۔ بی جے پی اور اس کے لیڈران کو اب سوچنا ہوگا کہ نفرت کے بازار کو یونہی سجاتے رہیں گے یا پھر عوام کے بنیادی مسائل پر بھی بات کریںگے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی ملک میں نفرت کے بازار کو لمبے عرصہ تک نہیں سجایا جا سکتا۔ ملک کے سمجھدار عوام کو بہت دنوں تک نفرت انگیزی، فرقہ پرستی، ذات پات اور غیر ضروری مسائل  میں الجھا کر نہیں رکھا جا سکتا۔

 
yameen@inquilab.com (مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

بلدیاتی انتخابات: امیٹھی میں کانگریس کی واپسی، لیکن بی جے پی کو سبقت

0
بلدیاتی انتخابات: امیٹھی میں کانگریس کی واپسی، لیکن بی جے پی کو سبقت
بلدیاتی انتخابات: امیٹھی میں کانگریس کی واپسی، لیکن بی جے پی کو سبقت

امیٹھی بلدیاتی انتخابات کے ابتدائی رجحانات میں ہی بی جے پی نے سبقت حاصل کرلی تھی جو کہ حقیقی نتیجے میں تبدیل ہوگیا

امیٹھی: گاندھی کنبہ کا رسوخ والا ضلع سمجھے جانے والے امیٹھی میں بلدیاتی انتخابات میں کانگریس نے نگر پالیکا کی ایک سیٹ پر کامیابی درج کر کے لمبے وقت کے بعد واپسی کی ہے۔ وہیں بی جے پی نے تین سیٹوں پر جیت درج کی ہے جبکہ سماج وادی پارٹی (ایس پی) اپنی موجودہ سیٹ ہار گئی۔


امیٹھی بلدیاتی انتخابات کے ابتدائی رجحانات میں ہی بی جے پی نے سبقت حاصل کرلی تھی جو کہ حقیقی نتیجے میں تبدیل ہوگیا۔ 4 بلدیاتی نششتوں والے ضلع امیٹھی میں بی جے پی دو نگر پنچایت اور ایک نگر پالیکا پر اپنا قبضہ کیا ہے۔ وہیں کانگریس نے لمبے وقفے کے بعد جائس نگر پالیکا سیٹ پر جیت درج کر کے واپسی کا اشارہ دیا ہے۔ اس الیکشن میں سماج وادی پارٹی کو اپنی گوری گنج سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑا۔


نگر پنچایت امیٹھی سے بی جے پی امیدوار انجو کسودھان نے جیت درج کی ہے۔ انہوں نے یہاں سے عام آدمی پارٹی امیدوار رینا جیسوال کو شکست دی ہے۔ جبکہ نگر پالیکا گوری گنج سیٹ پر بی جے پی امیدوار نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) سے چھین لیا۔ سماج وادی پارٹی نے تارا دیوی کو میدان میں اتارا تھا۔ جبکہ بی جے پی سے رشمی سنگھ انتخابی میدان میں تھیں۔ رشمی سنگھ کو 7105 جبکہ ایس پی امیدوار کو 4988 ووٹ موصول ہوئے۔


وہیں نگر پالیکا جائس میں ایک دہائی کے بعد کانگریس نے دوبارہ واپسی کی ہے۔ اس سیٹ پر بی جے پی کا قبضہ تھا۔ اس بار کانگریس نے منیشا چوہان کو اپنا امیدوار بنایا تھا۔ کانگریس امیدوار کو 10132 ووٹ ملے جبکہ بی جے پی کے موجودہ چیئرمین مہیش سونکر کی بیوی بینا سونکر کو6552ووٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ جبکہ نگر پنچایت مسافر خانہ میں بی جے پی امیدوار برجیش گپتا نے آزاد امیدوار فیروز کو شکست دی ہے۔

کرناٹک میں غریبوں کی جیت، سرمایہ داروں کی کراری شکست: راہل

0
کرناٹک میں غریبوں کی جیت، سرمایہ داروں کی کراری شکست: راہل
کرناٹک میں غریبوں کی جیت، سرمایہ داروں کی کراری شکست: راہل

راہل گاندھی نے کہا کہ کرناٹک میں نفرت کا بازار بند ہوگیا اور محبت کی دکان کھل گئی، یہ کرناٹک کی جیت ہے، ہمارے پانچ وعدے ہیں، پہلی کابینہ میں پورے کریں گے

نئی دہلی: کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کو کرناٹک اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شاندار جیت کو غریب عوام کی جیت اور سرمایہ دار طاقتوں کی کراری شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات میں نفرت کی دکانیں بند ہو گئیں اور محبت کی دکانیں کھل گئیں۔

مسٹر گاندھی نے کرناٹک کی جیت کے جشن کے درمیان کانگریس ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو بتایا کہ کانگریس غریبوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مقصد کے لیے لڑی ہے، جس میں سرمایہ داری کو شکست ہوئی ہے۔ ایسے ہی نتائج آئندہ اسمبلی انتخابات میں بھی آنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کرناٹک کے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا کام ریاست میں حکومت کی تشکیل کے بعد کابینہ کی پہلی میٹنگ میں شروع کیا جائے گا۔

مسٹر گاندھی نے کہا ’’ہم نے یہ جنگ پیار اور محبت سے لڑی اور کرناٹک کے لوگوں نے ہمیں بتایا کہ یہ ملک محبت سے پیار کرتا ہے۔ کرناٹک میں نفرت کا بازار بند ہوگیا اور محبت کی دکان کھل گئی۔ یہ کرناٹک کی جیت ہے۔ ہمارے پانچ وعدے ہیں، پہلی کابینہ میں پورے کریں گے۔