جمعہ, اپریل 3, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 186

جو بات دل سے نکلتی ہے وہ دل میں اترتی ہے: راہل گاندھی

0
جو-بات-دل-سے-نکلتی-ہے-وہ-دل-میں-اترتی-ہے:-راہل-گاندھی

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے 15 اگست کی دوپہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر ایک پوسٹ شیئر کیا جس میں اپنی ’بھارت جوڑو یاترا‘ اور اس کے تجربات کا تفصیل سے تذکرہ کیا ہے۔ اس ٹوئٹ میں انھوں نے 4 صفحات کی تحریر ڈالی ہے جس میں خاص طور سے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کا بھی تذکرہ ہے اور اتحاد و سالمیت کی بھی بات کہی گئی ہے۔ ہندی زبان میں لکھے گئے ان 4 صفحات میں راہل گاندھی نے کئی اہم باتیں لکھی ہیں جس کا اردو ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بھارت ماتا

ہر ایک ہندوستانی کی آواز

’جو بات دل سے نکلتی ہے وہ دل میں اترتی ہے‘

گزشتہ سال اپنے گھر، یعنی بھارت ماتا کے آنگن میں، میں 145 دن تک پیدل چلا۔ ساحل سمندر سے میں نے شروعات کی اور دھول، دھوپ، بارش سے ہو کر گزرا۔ جنگلوں، چوراہوں، شہروں، کھیتوں، گاؤں، ندیوں اور پہاڑوں سے ہوتے ہوئے میں محبوب کشمیر کی نرم برف تک پہنچا۔

راستے میں کئی لوگوں نے مجھ سے پوچھا: یہ آپ کیوں کر رہے ہیں؟ آج بھی کئی لوگ مجھ سے یاترا کے ہدف کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کیا تلاش کر رہے تھے؟ آپ کو کیا ملا؟ دراصل میں اس چیز کو سمجھنا چاہتا تھا جو میرے دل کے اتنے قریب ہے، جس نے مجھے موت سے آنکھ ملانے اور ’چریویتی‘ (چلتے رہو) کی ترغیب دی، جس نے مجھے درد اور بے عزتی سہنے کی طاقت دی۔ اور جس کے لیے میں سب کچھ قربان کر سکتا ہوں۔

سالوں سے روزانہ ورزش میں تقریباً ہر شام میں 10-8 کلومیٹر دوڑ لگاتا رہا ہوں۔ میں نے سوچا: بس ’25‘؟ میں تو آرام سے 25 کلومیٹر چل لوں گا۔ میں پراعتماد تھا کہ یہ ایک آسان پد یاترا ہوگی۔ لیکن جلد ہی درد سے میرا سامنا ہوا۔ میرے گھٹنے کی پرانی چوٹ، جو طویل علاج کے بعد ٹھیک ہو گئی تھی، پھر سے ابھر آئی۔ اگلی صبح، لوہے کے کنٹینر کی تنہائی میں میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ باقی بچے 3800 کلومیٹر کیسے چلوں گا؟ میرا تکبر ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا تھا۔

بھنوسارے ہی پد یاترا شروع ہو جاتی تھی (اور ٹھیک اس کے ساتھ ہی درد بھی) ایک بھوکے بھیڑے کی طرح درد ہر جگہ میرا پیچھا کرتا اور میرے رکنے کا انتظار کرتا۔ کچھ دنوں بعد میرے پرانے ڈاکٹر دوست آئے، انھوں نے کچھ مشورے بھی دیے۔ مگر درد جس کا تس۔

لیکن تبھی کچھ انوکھا تجربہ ہوا۔ یہ ایک نئی یاترا کی شروعات تھی۔ جب بھی میرا دل ڈوبنے لگتا، میں سوچتا کہ اب اور نہیں چل پاؤں گا، اچانک کوئی آتا اور مجھے چلنے کی طاقت دے جاتا۔ کبھی خوبصورت لکھاوٹ والی آٹھ سال کی ایک پیاری بچی، کبھی کیلے کے چپس کے ساتھ ایک بزرگ خاتون، کبھی ایک آدمی، جو بھیڑ کو چیرتے ہوئے آئے، مجھے گلے لگائے اور غائب ہو جائے۔ جیسے کوئی خاموش اور نظر نہ آنے والی طاقت میری مدد کر رہی ہو، گھنے جنگلوں میں جگنوؤں کی طرح وہ ہر جگہ موجود تھی۔ جب مجھے واقعی اس کی ضرورت تھی یہ طاقت میری راہ روشن کرنے اور مدد کرنے وہاں پہلے سے تھی۔

پد یاترا آگے بڑھتی گئی۔ لوگ اپنے مسائل لے کر آتے رہے۔ شروعات میں میں نے سب کو اپنی بات بتانی چاہی۔ میں نے انھیں بہت سمجھنے کی کوشش کی۔ میں نے لوگوں کی پریشانیوں اور ان کی ترکیبوں پر باتیں کیں۔ جلد ہی لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی اور میرے گھٹنے کا درد بدستور، ایسے میں، میں نے لوگوں کو محض دیکھنا اور سننا شروع کر دیا۔ یاترا میں شور بہت ہوتا تھا۔ لوگ نعرے لگاتے، تصویریں کھینچتے، باتیں کرتے، دھکا دیتے چلتے۔ روز کا یہی معمول تھا۔ روزانہ 10-8 گھنٹے میں صرف لوگوں کی باتیں سنتا اور گھٹنے کے درد کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتا۔

پھر ایک دن میں نے ایکدم انجانے اور حیرت انگیز خاموشی کا تجربہ کیا۔ سوائے اس شخص کی آواز کے، جو میرا ہاتھ پکڑے مجھ سے بات کر رہا تھا، مجھے اور کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا۔ میرے اندر کی آواز، جو بچپن سے مجھ سے کچھ کہتی سنتی آ رہی تھی، خاموش ہونے لگی۔ ایسا لگا جیسے کوئی چیز ہمیشہ کے لیے چھوٹ رہی ہو۔

وہ ایک کسان تھا اور مجھے اپنی فصل کے بارے میں بتا رہا تھا۔ اس نے راتے ہوئے کپاس کی سڑی ہوئی لڑیاں دکھائیں، مجھے اس کے ہاتھوں میں برسوں کی تکلیف دکھائی پڑی۔ اپنے بچوں کے مستقبل کو لے کر اس کا خوف میں نے محسوس کیا۔ اس کی آنکھوں کے کٹورے تمام بھوکی راتوں کا حال بتاتے تھے۔ اس نے کہا کہ اپنے بستر مرگ پر پڑے والد کے لیے وہ کچھ بھی نہیں کر پایا۔ اس نے کہا کہ کبھی کبھی اپنی بیوی کو دینے کے لیے اس کے ہاتھ میں ایک کوڑی بھی نہیں ہوتی۔ شرمندگی اور پریشانی کے وہ لمحات جو اس نے اپنی شریک حیات کے سامنے محسوس کیے، مانو میرے دل میں کوندھ گئے۔ میں کچھ بول نہیں پایا۔ بے بس ہو کر میں رکا اور اس کسان کو بانہوں میں بھر لیا۔

اب بار بار یہی ہونے لگا۔ اجلی ہنسی والے بچے آئے، مائیں آئیں، طلبا آئے، سب سے مل کر یہی جذبہ بار بار مجھ تک آیا۔ ایسا ہی تجربہ دکانداروں، بڑھئی، موچیوں، نائیوں، کاریگروں اور مزدوروں کے ساتھ بھی ہوا۔ فوجیوں کے ساتھ یہی محسوس ہوا۔ اب میں بھیڑ کو، شور کو اور خود کو سن ہی نہیں پا رہا تھا۔ میری توجہ اس شخص سے ہٹتی ہی نہیں تھی جو میرے کان میں کچھ کہہ رہا ہوتا۔ آس پاس کا شور غل اور میرے اندر چھپا ہوا اہرنش مجھ پر فیصلے دینے والا آدمی، نہ جانے کہاں غائب ہو چکا تھا۔ جب کوئی طالب علم کہتا کہ اسے فیل ہونے کا خوف ستا رہا ہے، مجھے اس کا خوف محسوس ہوتا۔ چلتے چلتے ایک دن سڑک پر بھیک مانگنے کو مجبور بچوں کا ایک جھنڈ میرے سامنے آ گیا۔ وہ بچے ٹھنڈ سے کانپ رہے تھے۔ انھیں دیکھ کر میں نے طے کیا کہ جب تک ٹھنڈ برداشت کر سکوں گا، یہی ٹی شرٹ پہنوں گا۔

میری عقیدت کی وجہ اچانک خود بہ خود مجھ پر ظاہر ہو رہی تھی۔ میری بھارت ماتا زمین کا ٹکڑا بھر نہیں، کچھ نظریات کا گچھا بھر بھی نہیں ہے، نہ ہی کسی ایک مذہب، ثقافت یا مخصوص تاریخ کا بیان، نہ ہی کوئی خاص ذات بھر۔ بلکہ ہر ایک ہندوستانی کی پارہ پارہ آواز ہے بھارت ماتا، چاہے وہ کمزور ہو یا مضبوط۔ ان آوازوں میں گہرے پیٹھ کی جو خوشی ہے، جو خوف اور جو درد ہے، وہی ہے بھارت ماتا۔

بھارت ماتا کی یہ آواز سب جگہ ہے۔ بھارت ماتا کی اس آواز کو سننے کے لیے آپ کی اپنی آواز کو، آپ کی خواہشات کو، آپ کی امیدوں کو خاموش ہونا پڑے گا۔ بھارت ماتا ہر وقت بول رہی ہیں۔ بھارت ماتا کسی اپنے کے کان میں کچھ نہ کچھ بدبداتی ہیں، مگر تبھی جب اس اپنے کی روح پوری طرح سے پرسکون ہو، جیسے ایک دھیان میں گم انسان کی خاموشی۔

سب کچھ کتنا آسان تھا۔ بھارت ماتا کی روح کا وہ موتی جسے میں اپنے اندر کی ندی میں تلاش رہا تھا، صرف بھارت ماتا کی سبھی اولادوں کے ہہراتے ہوئے نہ ختم ہونے والے سمندر میں ہی پایا جا سکتا ہے۔

– راہل گاندھی، وائناڈ سے کانگریس رکن پارلیمنٹ

آسام میں یومِ آزادی تقریب کے دوران 22 بچے بیہوش، شدید گرمی سے سبھی ہوئے بے حال

0
آسام-میں-یومِ-آزادی-تقریب-کے-دوران-22-بچے-بیہوش،-شدید-گرمی-سے-سبھی-ہوئے-بے-حال

آسام کے موریگاؤں ضلع میں منگل کو یومِ آزادی پریڈ کے دوران پریڈ میں حصہ لے رہے تقریباً 22 بچے بیہوش ہو کر گر گئے۔ ضلع انتظامیہ کے ایک افسر کے مطابق واقعہ کے وقت بچے پریڈ مارچ میں حصہ لے رہے تھے۔ اس دوران کمشنر کی تقریر کے دوران شدید گرمی کے سبب کچھ بچے بیہوش ہو کر گر گئے۔

یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب پروگرام کے مہمانِ خصوصی ضلع کمشنر دیواشیش شرما تقریر کر رہے تھے۔ اس دوران کافی دیر سے سخت دھوم اور شدید گرمی میں کھڑے کئی بچے پریشان ہو گئے اور غش کھا کر وہیں گر گئے اور بیہوش ہو گئے۔ ضلع انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ حادثہ کے فوراً بعد آناً فاناً میں سبھی متاثرہ بچوں کو فوراً موریگاؤں سول اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ افسر نے بتایا کہ طلبا کو فی الحال اسپتال میں علاج مل رہا ہے اور ان کی حالت مستحکم ہے۔

اس درمیان بچوں کے والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ ایمبولنس وہاں موجود نہیں تھا اور بیشتر بچوں کو انھوں نے ہی اسپتال پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق جائے تقریب پر سخت دھوپ سے بچپنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں کیا گیا تھا، اور نہ ہی پینے کا پانی ہی دستیاب تھا۔ اسی وجہ سے بچوں کی طبیعت بگڑ گئی۔

شملہ: شیو مندر کے ملبہ سے دو مزید لاشیں برآمد، اب بھی کئی لوگوں کے لاپتہ ہونے کا اندیشہ، تلاشی مہم جاری

0
شملہ:-شیو-مندر-کے-ملبہ-سے-دو-مزید-لاشیں-برآمد،-اب-بھی-کئی-لوگوں-کے-لاپتہ-ہونے-کا-اندیشہ،-تلاشی-مہم-جاری

شملہ میں بچاؤ اہلکاروں نے منگل کو بھگوان شیو کے مندر کے ملبہ سے دو مزید لاشیں برآمد کی ہیں۔ ابھی کئی دیگر لوگوں کے لاپتہ ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ ایک دن قبل ہماچل پردیش کی راجدھانی شملہ کے سمر ہل علاقے میں موسلادھار بارش کے سبب لینڈ سلائڈنگ ہوا تھا، جس میں کئی لوگ دب گئے تھے۔

پیر کے روز سے اب تک شملہ میں لینڈ سلائڈنگ سے جڑے دو واقعات پیش آئے ہیں جن میں مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 16 ہو گئی ہے، جبکہ ریاست ہماچل پردیش میں یہ تعداد 53 ہو گئی ہے۔ شملہ میں مزید ایک لینڈ سلائڈنگ پھاگلی علاقہ میں ہوا، جس میں پانچ لوگوں کی جان چلی گئی۔

14ویں این ڈی آر ایف کی دو ٹیموں نے تلاشی اور بچاؤ مہم چلائی اور شیو باؤڑی کے پاس سمر ہل سے دو لاشیں برآمد کی ہیں۔ این ڈی آر ایف نے کہا ہے کہ آپریشن ابھی جاری ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رد عمل فورس کے علاوہ فوج، پولیس اور ریاستی ڈیزاسٹر رد عمل فورس کی ٹیمیں تلاشی مہم چلا رہی ہیں۔

شیو مندر والی جگہ میں کم از کم ایک درجن لوگوں کے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔ حادثہ کے بعد وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے مندر دھنسنے کی حالت کا جائزہ لیا اور افسران کو بچاؤ مہم تیز کرنے کی ہدایت دی۔ وزیر اعلیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ ساون کے پاکیزہ مہینے کے سبب آفت کے وقت بھگوان شیو کے مندر میں بھیڑ تھی۔ انھوں نے کہا کہ بھاری لینڈ سلائڈنگ کے سبب کئی لوگوں کے ملبہ میں پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔

لوگوں کی تلاشی کے لیے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ سکھو نے کہا کہ پوری ریاست سنگین حالت سے نبرد آزما ہے کیونکہ کئی حصوں میں بادل پھٹنے اور لینڈ سلائڈنگ سے جان و مال کا زبردست نقصان ہوا ہے۔

سلبھ انٹرنیشنل کے بانی بندیشور پاٹھک کا 80 سال کی عمر میں انتقال، پرچم کشائی کے بعد بگڑی تھی طبیعت

0
سلبھ-انٹرنیشنل-کے-بانی-بندیشور-پاٹھک-کا-80-سال-کی-عمر-میں-انتقال،-پرچم-کشائی-کے-بعد-بگڑی-تھی-طبیعت

عالمی شہرت یافتہ شخصیت اور سلبھ انٹرنیشنل کے بانی بندیشور پاٹھک کی طبیعت اچانک 15 اگست کو بگڑی اور پھر علاج کے دوران ایمس اسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے دہلی واقع مرکزی دفتر میں وہ یومِ آزادی کے پیش نظر پرچم کشائی تقریب میں شامل ہوئے اور پرچم کشائی کے بعد اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ انھیں فوری طور پر ایمس میں داخل کرایا گیا جہاں علاج کے دوران ان کی موت واقع ہو گئی۔

موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ 16 اگست (بدھ) کی صبح 7 بجے سلبھ میوزیم میں ان کا جسد خاکی رکھا جائے گا جہاں عام لوگ ان کا آخری بار دیدار کر پائیں گے۔ بدھ کے روز 12 بجے ان کا آخری سفر شروع ہوگا جس میں کثیر تعداد میں لوگوں کے موجود رہنے کی قوی امید ہے۔

واضح رہے کہ بندیشور پاٹھک کی شناخت ایک بڑے سماجی مصلح کی رہی ہے۔ انھوں نے ذیلی طبقے کے لوگوں کے لیے اپنی پوری زندگی قربان کر دی۔ سماجی کارکن رہے بندیشور پاٹھک نے ہاتھ سے غلاظت ڈھونے والی رسم کے خلاف بڑے پیمانے پر لڑائی لڑی۔ اس نظریہ سے دیکھا جائے تو ’سلبھ‘ نے ایک اینوویٹو ڈیزائن کی بنیاد پر تقریباً 1.3 ملین گھریلو بیت الخلاء اور 54 ملین سرکاری بیت الخلاء کی تعمیر کی ہے۔ بیت الخلاء کی تعمیر کے علاوہ سلبھ انٹرنیشنل نے انسانی غلاظت کی مینوئل کلیننگ کو ختم کرنے کے لیے ایک تحریک کی قیادت کی۔

قابل ذکر ہے کہ بندیشور پاٹھک کی قیادت میں سلبھ انٹرنیشنل تنظیم کی ملکیت 275 کروڑ روپے سے زیادہ کی ہو گئی تھی۔ اس تنظیم میں 60 ہزار معاون رکن ان کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ہندوستان کے سماجی پیرامڈ میں سب سے نچلے پائیدان پر کام کرنے والے لوگوں کی زندگی کو بدل دیا۔

2003 میں بندیشور پاٹھک نے راجستھان کے الور میں ایک ووکیشنل سنٹر قائم کیا، جہاں خواتین کو سلائی، کشیدہ کاری، فوڈ پروسیسنگ اور بیوٹیشین کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ جولائی 2011 میں کبھی اچھوت تصور کیے جانے والے طبقہ کی 200 خواتین کو بندیشور پاٹھک نے اپنے ساتھ کاشی وشوناتھ مندر (کے وی ٹی) میں پوجا کروائی تھی۔ وہاں انھوں نے برہمنوں اور دیگر اعلیٰ ذات کے لوگوں کے ساتھ کھانا بھی کھایا تھا۔ انھوں نے ایک انسانی فضلات پر مبنی بایو گیس پلانٹ بھی تیار کیا ہے جو ہیٹنگ، کھانا پکانے اور بجلی کے لیے بایو گیس پیدا کرتا ہے۔

1880 کے بعد جولائی رہا اب تک کا سب سے گرم مہینہ، امریکہ میں بھی گرمی نے توڑے سبھی ریکارڈ

0
1880-کے-بعد-جولائی-رہا-اب-تک-کا-سب-سے-گرم-مہینہ،-امریکہ-میں-بھی-گرمی-نے-توڑے-سبھی-ریکارڈ

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے جانکاری دی ہے کہ 1880 کے بعد سے جولائی اب تک کا سب سے گرم مہینہ رہا۔ اس سال امریکہ اور یوروپ کے کئی شہر لو اور جنگل کی آگ کی زد میں تھے۔ امریکہ میں اس سال گرمی نے سبھی ریکارڈ توڑ دیے۔ نیویارک میں ناسا کے گوڈارڈ انسٹی ٹیوٹ فار اسپیس اسٹڈیز (جی آئی ایس ایس) کے سائنسدانوں کے مطابق جولائی 2023 عالمی درجہ حرارت ریکارڈ میں کسی بھی دیگر مہینے کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا۔

جولائی 2023 ناسا کے ریکارڈ میں کسی بھی دیگر ماہ کے مقابلے میں 0.24 ڈگری سلسیس زیادہ گرم تھا۔ یہ درجہ حرارت 1951 اور 1980 کے درمیان اوسط جولائی کے مقابلے میں 1.18 ڈگری سلسیس زیادہ رہا۔ اونچے درجہ حرارت کی ایک وجہ سمندر کی سطح کی گرمی بھی رہی۔ ناسا نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ مشرقی ٹروپیکل بحرالکاہل علاقہ میں گرم سمندری سطح کی درجہ حرارت مئی 2023 میں بڑھنا شروع ہوا تھا، جو النینو کا ثبوت ہے۔

ناسا ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے کہا کہ ناسا ڈاٹا تصدیق کرتا ہے کہ دنیا بھر کے اربوں لوگوں نے حقیقت میں کیا محسوس کیا ہے۔ جولائی 2023 میں درجہ حرارت نے سبھی ریکارڈ توڑتے ہوئے اسے سب سے گرم مہینہ بنا دیا۔ امریکی ماحولیاتی بحران کے اثرات کا صاف طور پر تجربہ کر رہے ہیں۔

تجزیہ کے مطابق جنوبی امریکہ، شمالی افریقہ، شمالی امریکہ اور انٹارکٹیکا جزیرہ نما کے حصے خصوصی طور سے گرم تھے، جہاں درجہ حرارت اوسط سے تقریباً 4 ڈگری سلسیس زیادہ بڑھ گیا۔ مجموعی طور پر اس بہت زیادہ گرمی نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا جو سینکڑوں لوگوں میں بیماریوں اور موت کی وجہ بنا۔

واشنگٹن ڈی سی میں ناسا ہیڈکوارٹر میں چیف سائنٹسٹ اور سینئر ماحولیاتی مشیر کیتھرین کیلون نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی دنیا بھر کے لوگوں اور ماحولیاتی نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ گوڈارڈ انسٹی ٹیوٹ فار اسپیس اسٹڈیز (جی آئی ایس ایس) کے ڈائریکٹر گیون شمٹ نے کہا کہ یہ ہمارے ریکارڈ میں 1880 کے بعد جولائی 2023 سب سے گرم مہینہ تھا۔

ہریانہ کے نوح میں ڈرون کی نگرانی اور حفاظت کے سخت انتظامات کے درمیان منایا گیا یومِ آزادی

0
ہریانہ-کے-نوح-میں-ڈرون-کی-نگرانی-اور-حفاظت-کے-سخت-انتظامات-کے-درمیان-منایا-گیا-یومِ-آزادی

نوح: کرفیو کے اوقات میں نرمی اور انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کے بعد ہریانہ کے نوح ضلع نے منگل کو ڈرون نگرانی اور پولیس کی بھاری حفاظت کے درمیان یومِ آزادی منایا۔ 31 جولائی کو ضلع میں پرتشدد فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد نوح آہستہ آہستہ معمول پر آ رہا ہے۔

تشدد کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے یوم آزادی کی تقریبات کے دوران ضلع بھر میں سکیورٹی بڑھا دی، ریاستی وزیر مول چند شرما نے ترنگا لہرایا۔ ضلع کے حساس علاقوں میں ریپڈ ایکشن فورس سمیت سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے، جب کہ راجستھان کی سرحد سے متصل علاقوں میں سیکورٹی میں اضافہ کیا گیا۔

دریں اثنا، پولیس نے مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون کا استعمال کیا ہے۔ ایس پی نریندر بجارنیا نے آئی اے این ایس کو بتایا ’’حالیہ جھڑپوں کی وجہ سے سکیورٹی کو بڑھا دیا گیا ہے لیکن صورتحال مکمل طور پر معمول پر ہے۔ پولیس کی ٹیمیں ضلع بھر میں گشت کر رہی ہیں۔ سرحدوں پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور نوح میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ 24 گھنٹے ڈرون سے نگرانی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا ’’انٹرنیٹ خدمات اتوار کو بحال کر دی گئیں اور کرفیو میں 14 گھنٹے کے لیے نرمی کر دی گئی۔ اسکول، بینک، اے ٹی ایم اور بازار سبھی معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔‘‘

پولیس کے مطابق انٹرنیٹ سروسز بحال ہوتے ہی جرائم کے سائبر ماہرین کی ایک ٹیم غلط معلومات کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

پولیس کا سائبر سیل مختلف سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ حالیہ فرقہ وارانہ جھڑپوں یا برج منڈل جلابھشیک یاترا کی مجوزہ بحالی سے متعلق کوئی اشتعال انگیز پیغامات یا ویڈیو شیئر نہ ہوں۔

منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا مرکز، ای ڈی سمن واپس لے ورنہ…: ہیمنت سورین

0
منتخب-حکومت-کو-غیر-مستحکم-کرنے-کی-کوشش-کر-رہا-مرکز،-ای-ڈی-سمن-واپس-لے-ورنہ…:-ہیمنت-سورین

جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے انفورسمنٹ دائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے خلاف قانونی محاذ کھول دیا ہے۔ انھوں نے ای ڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر دیوورَت جھا کو خط لکھا جس میں کہا ہے کہ ایجنسی انھیں بھیجا گیا سمن واپس لے، ورنہ وہ قانون کا سہارا لیں گے۔

دراصل ای ڈی نے وزیر اعلیٰ کو سمن بھیج کر 14 اگست کو رانچی واقع دفتر میں حاضر ہونے کو کہا تھا۔ ایجنسی نے سورین سے ان کی ملکیت کو لے کر بیان ریکارڈ کرنے کو کہا تھا۔ وزیر اعلیٰ سمن پر حاضر نہیں ہوئے۔ ان کے خصوصی ایلچی نے ای ڈی دفتر پہنچ کر وزیر اعلیٰ کا خط سونپا۔ وزیر اعلیٰ نے خط میں لکھا ہے کہ ان کو بے وجہ سمن بھیج کر پریشان کیا جا رہا ہے۔ جس تاریخ کو بلایا گیا تھا، اس سے انھیں کسی طرح کی حیرانی نہیں ہوئی۔

وزیر اعلیٰ نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ اور آپ کے پالیٹیکل ماسٹر اچھی طرح جانتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کو 15 اگست کو پرچم کشائی کرنی ہوتی ہے۔ اس کی تیاری ایک ہفتہ پہلے سے شروع ہو جاتی ہے۔ یہ جاننے کے باوجود 14 اگست کو بلایا گیا۔ اس سے صاف ہے کہ قصداً نہ صرف ان کی بلکہ جمہوری طور سے منتخب کی گئی حکومت اور جھارکھنڈ کے لوگوں کے وقار کو مندمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے لکھا ہے کہ یہ ایک منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔ سمن میں ایسی کسی بھی بات کا ذکر نہیں ہے جس سے میرے خلاف ملکیت کو لے کر جانچ کا امکان بنتا ہو۔ جہاں تک ملکیت کی بات ہے تو اس سے جڑی تمام جانکاری انکم ٹیکس ریٹرن میں وقت وقت پر دی جاتی رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر ای ڈی کو کسی ایسے کاغذ کی ضرورت ہے جس کا ذکر قبل میں نہیں کیا گیا ہے تو وہ مہیا کرانے کو تیار ہیں۔ لہٰذا ایجنسی کو سمن واپس لینا چاہیے نہیں تو وہ قانون کا سہارا لینے کے لیے مجبور ہوں گے۔ سورین نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ مرکزی حکومت گزشتہ ایک سال سے ان پر بلاوجہ دباؤ ڈال رہی ہے۔ ایسا نہیں کرنے پر مرکزی ایجنسیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہیمنت سورین نے ای ڈی کے طور طریقے پر سنگین سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی پتھر کانکنی معاملے میں گزشتہ سال 17 نومبر کو پوچھ تاچھ کے لیے بلایا گیا تھا۔ اس وقت انھوں نے اپنے اور اپنے کنبہ کی منقولہ اور غیر منقولہ ملکیت کی مکمل تفصیل بھی دی تھی۔ 30 نومبر 2022 کو غیر منقولہ ملکیت کے ڈیڈ کی سرٹیفکیٹ کاپی مہیا کرائی گئی تھی۔ بینک کی تفصیل بھی مہیا کرائی گئی تھی۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ کیا وہ کاغذات ای ڈی آفس میں گم ہو گئے ہیں؟ اگر آپ چاہیں گے تو دوبارہ بھجوا دیا جائے گا۔ ای ڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو لکھے خط میں سی بی آئی پر بھی سوال کھڑے کیے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ 2020 میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ ششی کانت دوبے کی شکایت پر لوک پال نے ان کے والد شیبو سورین کی ملکیت کی جانچ کی ذمہ داری سی بی آئی کو دی تھی۔ جانچ کے دوران غیر قانونی طریقے سے سی بی آئی نے ان کی غیر منقولہ ملکیت کو بھی کھنگالا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے لکھا ہے کہ ای ڈی چاہے تو سی بی آئی سے رپورٹ لے سکتی ہے۔

ٹماٹر کے داموں میں گراوٹ، مگر 100 روپے فی کلو پر برقرار

0
ٹماٹر-کے-داموں-میں-گراوٹ،-مگر-100-روپے-فی-کلو-پر-برقرار

لکھنؤ: ہماچل پردیش اور مدھیہ پردیش سے تازہ اسٹاک کی آمد کے بعد لکھنؤ میں ٹماٹر کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پچھلے پانچ دنوں میں ریٹیل ریٹ 180 روپے فی کلو سے کم ہو کر 100-120 روپے فی کلو پر آ گئے ہیں۔ تاجروں کو توقع ہے کہ اگلے 15 دنوں میں قیمتیں مزید گر جائیں گی۔

تاجروں نے کہا کہ اتر پردیش سمیت شمالی منڈیوں کا اہم سپلائی کرنے والے ہماچل پردیش میں ٹماٹر کی پیداوار اگست میں 2000 ،ہٹرل ٹم سے بڑھ کر 26000 میٹرک ٹن ہو گئی، جس کی وجہ سے سپلائی میں اضافہ ہوا اور قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔ کرناٹک، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، تمل ناڈو، تلنگانہ اور مدھیہ پردیش میں اگست سے اکتوبر تک ٹماٹر کی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

سیتا پور روڈ کے ایک تھوک فروش نے کہا، ’’گزشتہ پانچ دنوں میں ٹماٹر کی ہول سیل قیمت 180 روپے سے کم ہو کر 60 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ مہاراشٹر کی فصل کی آمد کے ساتھ قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے۔ تاہم، کچھ خوردہ فروش اب بھی اسے 120 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں۔‘‘

ایک اور ڈیلر، سونو سونکر نے کہا کہ وہ پھر سے روزانہ 13 ٹرک ٹماٹر حاصل کر رہے ہیں، جو جولائی میں کم ہو کر تین ٹرک تک آ گئے تھے۔

دوبگہ منڈی کے تھوک فروشوں نے کہا ’’بہت سے لوگوں نے زیادہ قیمتوں کی وجہ سے ٹماٹر خریدنا چھوڑ دیا تھا لیکن اب مانگ واپس آ گئی ہے۔ ہم توقع کر رہے ہیں کہ مہینے کے آخر تک ٹماٹر خوردہ میں 60 روپے فی کلو فروخت ہوں گے۔

نیا پارلیمنٹ ہاؤس وقت سے پہلے تیار: وزیراعظم

0
نیا-پارلیمنٹ-ہاؤس-وقت-سے-پہلے-تیار:-وزیراعظم

مودی نے 77 ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے ملک کے عوام سے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ہم نے فیصلہ کیا ہے، جس پر 25 سال سے ہمارے ملک میں بحث ہو رہی تھی کہ ملک میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت بنائی جائے۔ یہ مودی ہی ہیں جنہوں نے وقت سے پہلے نئی پارلیمنٹ بنا کر دکھا دی۔ یہ ایک ایسی حکومت ہے جو کام کرتی ہے، ایک ایسی حکومت جو مقررہ اہداف کو عبور کرتی ہے، یہ ایک نیا ہندوستان ہے، یہ ایک ایسا ہندوستان ہے جو خود اعتمادی سے بھرا ہوا ہے، یہ ایک ایسا ہندوستان ہے جو قراردادوں کو حقیقت بنانے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان رکتا نہیں ہے، یہ ہندوستان تھکتا نہیں ہے، یہ ہندوستان ہانپتا نہیں ہے اور یہ ہندوستان ہارتا نہیں ہے۔ معاشی طاقت بھری ہوئی ہے تو ہماری اسٹریٹجک طاقت کو نئی طاقت ملی ہے، ہماری سرحدیں پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گئی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں آپ میں سے آتا ہوں، آپ میں سے نکلا ہوں، آپ کے لیے جیتا ہوں۔ یہاں تک کہ اگر میں خواب دیکھتا ہوں تو وہ آپ کے لئے آتے ہیں۔ اگر میں پسینہ بہاتا ہوں تو ہ آپ کے لیے بہاتا ہوں، کیونکہ اس لیے نہیں کہ آپ نے مجھے ذمہ داری دی ہے، میں یہ اس لیے کر رہا ہوں کہ آپ میری فیملی ہیں اور آپ میرے خاندان کے فرد ہیں اور آپ کے کنبے کا رکن ہونے کے ناطے میں آپ کے خوابوں کو ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا، میں آپ کے عزم کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے آپ کا ایک ساتھی بن کر، آپ کا ایک خدمت گار بن کر، آپ کے ساتھ جڑے رہ کر آپ کے ساتھ جینے کا، آپ کے لئے سامنا کرنے کا عزم لے کر چلا ہوا انسان ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے آزادی کی جنگ لڑی تھی، وہ خواب دیکھے تھے وہ خواب ہمارے ساتھ ہیں۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی تقریر کے دوران ایک شخص حفاظتی حصار میں داخل، پولیس حراست میں لیا گیا

0
بہار-کے-وزیر-اعلیٰ-نتیش-کمار-کی-تقریر-کے-دوران-ایک-شخص-حفاظتی-حصار-میں-داخل،-پولیس-حراست-میں-لیا-گیا

پٹنہ: بہار میں سی ایم نتیش کمار کی تقریر کے دوران ایک شخص نے ان کا حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے اس شخص کو حراست میں لے لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ شخص زبردستی حفاظتی حصار توڑ کر آگے بڑھ رہا تھا۔ پولیس اس شخص کو حراست میں لینے کے بعد مزید کارروائی کر رہی ہے۔

قبل ازیں، جون کے شروع میں صبح کی سیر کے دوران دو موٹر سائیکل سوار حفاظتی حصار توڑ کر ان کے پاس پہنچ گئے تھے۔ دونوں موٹر سائیکل سوار بہت تیزی سے آئے تھے اور وزیر اعلیٰ سے ٹکر لگنے سے بال بال بچ گئے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے تیزی سے فٹ پاتھ پر چڑھ کر بائیک سواروں سے خود کو بچایا تھا۔

پچھلے سال مارچ میں بھی پٹنہ کے بختیار پور علاقے میں ایک پروگرام کے دوران ایک نوجوان وزیر اعلیٰ کے بہت قریب آ گیا تھا اور پیچھے سے انہیں گھونسا مار دیا تھا۔