جمعہ, اپریل 3, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 184

اب سپریم کورٹ میں افیئر، ہاؤس وائف اور ایو ٹیزنگ جیسے الفاظ کا نہیں ہوگا استعمال، لفظوں کی نئی فہرست جاری

0
اب-سپریم-کورٹ-میں-افیئر،-ہاؤس-وائف-اور-ایو-ٹیزنگ-جیسے-الفاظ-کا-نہیں-ہوگا-استعمال،-لفظوں-کی-نئی-فہرست-جاری

عدالت عظمیٰ نے 16 اگست کو ایک ہینڈبک ریلیز کیا ہے جس میں ایسے الفاظ کا ذکر ہے جو جنسی قدامت پسندی کو قائم رکھتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان جنسی قدامت پسندی والے الفاظ کا عدالت میں استعمال کرنے سے پرہیز کیے جانے کی تلقین کی گئی ہے۔ ایسے الفاظ میں افیئر (معاشقہ)، ہاؤس وائف (خاتون خانہ)، پراسٹیٹیوٹ (طوائف) اور ایو ٹیزنگ (چھیڑخانی) وغیرہ شامل ہیں۔

اس تعلق سے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ اس ہینڈبک کے ذریعہ یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کون سے الفاظ قدامت پسند ہیں اور ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ہینڈ بک میں ان قابل اعتراض الفاظ کی فہرست موجود ہے، ساتھ ہی ان کی جگہ استعمال کیے جانے والے الفاظ کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔

چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کا کہنا ہے کہ قدامت پسندی والے الفاظ کی جگہ ایسے الفاظ دیے گئے ہیں جن کو عدالت میں دلیلیں پیش کرنے، حکم صادر کرنے اور اس کی کاپی تیار کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہینڈ بک وکیلوں کے ساتھ ساتھ ججوں کے لیے بھی ہے۔ اس ہینڈ بک میں ان الفاظ کے بارے میں بتایا گیا ہے جو اب تک عدالت میں استعمال کیے گئے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ لفظ غلط کیوں ہیں۔ اس کی مدد سے خواتین کے خلاف قابل اعتراض زبان کے استعمال سے بھی بچ سکیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جاری کردہ ہینڈبک میں افیئر کی جگہ پر شادی کے باہر رشتہ، پراسٹیٹیوٹ/ہوکر کی جگہ سیکس ورکر، اَنویڈ مدر (بن بیاہی ماں) کی جگہ صرف ماں، چائلڈ پراسٹیٹیوٹ کی جگہ پر اسمگلنگ کر کے لایا گیا بچہ، باسٹرڈ (حرامی) کی جگہ ایسا بچہ جس کے والدین نے شادی نہ کی ہو، ایو ٹیزنگ کی جگہ اسٹریٹ سیکسوئل ہراسمنٹ، ہاؤس وائف کی جگہ ہوم میکر، مسٹریس کی جگہ وہ خاتون جس کے ساتھ کسی مرد نے شادی سے الگ رومانی یا جنسی تعلقات بنائے ہوں… کا استعمال کرنے کو کہا گیا ہے۔

الٹا ترنگا لہرانے پر آسام بی جے پی صدر کے خلاف ایف آئی آر درج

0
الٹا-ترنگا-لہرانے-پر-آسام-بی-جے-پی-صدر-کے-خلاف-ایف-آئی-آر-درج

گوہاٹی: یوم آزادی کی تقریبات کے دوران گوہاٹی میں پارٹی ہیڈکوارٹر پر ترنگے کو الٹا لہرانے کے الزام میں آسام بی جے پی کے صدر بھابیش کلیتا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق تین لوگوں نے منگل کی شام ناگاؤں صدر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی، جس میں کلیتا پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی بی جے پی لیڈر اس حقیقت سے واقف تھے کہ ترنگا الٹا رکھا گیا تھا اور پھر بھی انہوں نے اسے لہرایا۔جب جھنڈا الٹا لہرانے کی نشاندہی کی گئی تو اس کی اصلاح کی گئی۔

اس واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، کلیتا نے بدھ کو آئی اے این ایس کو بتایا، "پارٹی کارکنان جو جھنڈا لہرانے کے انچارج تھے، وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ اسے الٹا لہرایا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے علم میں لائے بغیر اسے الٹا کر دیا گیا۔”

پی ایم مودی کے ذریعہ لال قلعہ سے اعلان کے ایک روز بعد ہی ’وشوکرما یوجنا‘ کو مل گئی کابینہ کی منظوری

0
پی-ایم-مودی-کے-ذریعہ-لال-قلعہ-سے-اعلان-کے-ایک-روز-بعد-ہی-’وشوکرما-یوجنا‘-کو-مل-گئی-کابینہ-کی-منظوری

وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 اگست کے موقع پر لال قلعہ سے ’وشوکرما یوجنا‘ کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے 24 گھنٹے کے اندر، یعنی محض ایک روز بعد ہی مرکزی حکومت سے منظوری مل گئی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق بدھ کو ہوئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں ’وشوکرما یوجنا‘ پر مہر لگا دی گئی۔ 2024 کے لوک سبھا انتخاب سے قبل مودی حکومت کے اس منصوبہ کے ذریعہ او بی سی طبقہ کو خوش کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ اس ’وشوکرما یوجنا‘ کو ستمبر میں وشوکرما جینتی کے دن لانچ کیا جائے گا۔ مرکز کے اس منصوبہ کا مقصد سنار، راج مستری، نائی، لوہار جیسے کام کرنے والے لوگوں کو مدد پہنچانا ہے۔ لال قلعہ سے پی ایم مودی نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ شروع میں اس منصوبہ کو 15 ہزار کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ لانچ کیا جائے گا اور بعد میں اسے بڑھایا جائے گا۔ لانچنگ کے وقت مرکزی حکومت اس منصوبہ کے بارے میں تفصیلی جانکاری دے گی۔

واضح رہے کہ 15 اگست کو جب وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ سے ملک کو خطاب کیا تھا تب انھوں نے کچھ اہم اعلانات کیے تھے۔ وشوکرما یوجنا کے علاوہ پی ایم مودی نے ’لکھ پتی دیدی‘ منصوبہ سے متعلق بھی اہم جانکاری دی تھی۔ پی ایم مودی نے بتایا تھا کہ حکومت کا ہدف 2 کروڑ لکھ پتی دیدی بنانے کا ہے۔ اس کے ذریعہ دیہی خواتین کو ڈرون چلانے اور اس کا استعمال کرنے کی ٹریننگ دی جائے گی۔ اس کا خصوصی استعمال ایگریکلچر سیکٹر میں ہوگا۔

راہل گاندھی کو مودی ہتک عزت کیس میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے راحت

0
راہل-گاندھی-کو-مودی-ہتک-عزت-کیس-میں-جھارکھنڈ-ہائی-کورٹ-سے-راحت

رانچی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے ‘مودی کنیت’ تبصرہ سے متعلق معاملے میں بڑی راحت ملی ہے۔ جسٹس ایس کے دویدی کی عدالت نے انہیں رانچی کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں اس معاملے کی سماعت کے دوران جسمانی طور پر حاضر ہونے سے استثنیٰ دیا ہے۔

اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے رانچی کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے راہل گاندھی کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ اس عدالت نے راہل گاندھی کی ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کو بھی خارج کر دیا تھا۔ دریں اثنا، راہل گاندھی نے خصوصی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ کے حکم کے خلاف جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی، جس پر آج دوسری سماعت ہوئی۔

انہوں نے سی آر پی سی (ضابطہ فوجداری) کے سیکشن 205 کے تحت جسمانی جانچ سے استثنیٰ طلب کیا تھا۔ پچھلی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کے خلاف کسی بھی قسم کی سخت کارروائی کرنے سے روکتے ہوئے اس معاملے میں شکایت کنندہ پردیپ مودی سے جواب طلب کیا تھا۔

بدھ کو دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کو ذاتی حاضری سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔ راہل گاندھی کی جانب سے پیوش چتریش اور دیپانکر رائے نے اپنا موقف پیش کیا۔

خیال رہے کہ یہ مقدمہ رانچی کے رہنے والے پردیپ مودی نے دائر کیا تھا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے دوران، راہل گاندھی ایک انتخابی میٹنگ سے خطاب کرنے کے لیے رانچی آئے تھے، اس وقت انھوں نے مودی کنیت والے لوگوں پر تبصرہ کیا تھا۔ پردیپ مودی کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے اور مکمل برادری کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ یہ ہتک عزتی کا مقدمہ ہے۔

جئے پور-ممبئی ایکسپریس واقعہ: آر پی ایف کانسٹیبل نے برقع پوش خاتون سے لگوایا تھا ’جئے ماتا دی‘ کا نعرہ، جانچ میں انکشاف

0
جئے-پور-ممبئی-ایکسپریس-واقعہ:-آر-پی-ایف-کانسٹیبل-نے-برقع-پوش-خاتون-سے-لگوایا-تھا-’جئے-ماتا-دی‘-کا-نعرہ،-جانچ-میں-انکشاف

جئے پور-ممبئی ایکسپریس میں گزشتہ 31 جولائی کو ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کے جوان نے 4 لوگوں کا گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ اس واقعہ کو پیش آئے دو ہفتہ گزر چکا ہے اور اس معاملے میں جاری تفتیش کے دوران کئی حیرت انگیز انکشافات ہو رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گولی چلانے والے آر پی ایف جوان چیتن چودھری نے مسافروں کو بے حد پریشان کیا تھا اور ایک برقع پوش خاتون کو جبراً ’جئے ماتا دی‘ کا نعرہ لگانے کو کہا تھا۔

انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق واقعہ کی جانچ گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) کر رہی ہے اور اس وقت ٹرین میں موجود لوگوں سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ برقع پوش جس خاتون سے بندوق کی نوک پر مذہبی نعرہ لگوایا گیا تھا، اس نے بھی جانچ ایجنسی کے سامنے اپنا بیان درج کرا دیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ٹرین میں پیش آیا یہ پورا واقعہ قید ہو گیا ہے۔

جو خبریں سامنے آئی ہیں اس کے مطابق چیتن چودھری نے چلتی ٹرین میں گولی باری کی تھی جس میں اس نے اپنے سینئر اے ایس آئی تلک رام مینا اور 3 دیگر ریل مسافروں کو گولی مار دی تھی۔ اسی حادثہ کے بعد سے کانسٹیبل پولیس کی حراست میں ہے۔ جئے پور-ممبئی ایکسپریس جب پالگھر کے پاس تھی، اس وقت چیتن نے بی-5 کوچ میں بیٹھے اپنے سینئر اے ایس آئی کو گولی مار دی، اور پھر باقی دیگر مسافروں کو چیتن نے الگ الگ کوچ میں گولی ماری تھی۔

تازہ ترین رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب کانسٹیبل چیتن ہاتھ میں بندوق لیے ٹرین میں بھاگ دوڑ کر رہا تھا تبھی اس نے برقع پہنی ہوئی خاتون کو نشانہ بنایا۔ خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ کانسٹیبل نے اس سے بہ آواز بلند جئے ماتا دی کا نعرہ لگانے کو کہا تھا۔ جب خاتون نے اس کی بندوق نیچے کرنے کی کوشش کی تب کانسٹیبل نے گولی مارنے کی دھمکی دی۔

واضح رہے کہ ٹرین میں فائرنگ کرنے کے بعد کانسٹیبل چیتن کی ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں وہ زور زور سے چیخ رہا تھا۔ پولیس نے آڈیو بھی چیک کیا ہے جو چیتن کی ہی معلوم ہوتی ہے۔ پولیس نے اس پورے واقعہ میں آر پی ایف کانسٹیبل پر کئی معاملوں میں کیس درج کیا ہے۔ ان میں سیکشن 153اے، 302، 363، 341، 342 کے علاوہ ریلوے ایکٹ اور آرمس ایکٹ کے تحت کارروائی ہوئی ہے۔

باندرہ ٹرمینس پر ہندو لڑکی سے بات کرنے پر ہجوم نے مسلم نوجوان کو زدوکوب کیا

0
باندرہ-ٹرمینس-پر-ہندو-لڑکی-سے-بات-کرنے-پر-ہجوم-نے-مسلم-نوجوان-کو-زدوکوب-کیا

ممبئی: ممبئی میں ایک چونکا دینے والے واقعے میں یہاں باندرہ ٹرمینس اسٹیشن پر ایک ہندو لڑکی سے بات کرنے پر ایک مسلم نوجوان کو نام نہاد ‘اخلاقی پولیس’ کے ہجوم نے زد و کوب کیا۔

اس واقعے کی ویڈیوز منگل کو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ اس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ایم ایل اے رئیس خان اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے اس معاملے میں سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

بغیر تاریخ والی اس ویڈیو میں مکمل بازو والی سرخ ٹی شرٹ اور براؤن ٹراؤزر میں ملبوس نامعلوم شخص کو گالیاں دی جاتی ہیں، تھپڑ مارا جاتا ہے، لاتیں ماری جاتی ہیں اور دھکا دیا جاتا ہے۔ جبکہ نامعلوم لڑکی حملہ آوروں سے رکنے اور ’اسے جانے دو‘ کی التجا کرتی نظر آتی ہے۔

برقع پوش لڑکی نے ہجوم سے التجا کی ’اسے مت مارو‘، جب کہ وہ اسے اس کا کالر اور بالوں سے پکڑ کر اور ‘جے شری رام’ کا نعرہ لگا کر باندرہ ٹرمینس سے باہر لے گئے۔

ویڈیو میں موجود دیگر آوازوں نے دعویٰ کیا کہ لڑکی کی عمر محض 16 سال تھی، جب کہ کچھ دیگر نے سوشل میڈیا پر دلیل دی کہ وہ مبینہ طور پر راجستھان سے ایک ایسے شخص کے ساتھ فرار ہوئی ہے جس کے مذموم عزائم ہو سکتے ہیں۔

تھانے کے بھیونڈی شہر سے ایس پی کے ایم ایل اے پٹھان نے کہا ’’باندرہ اسٹیشن پر لو جہاد کے نام پر ہندوتوا کے غنڈوں نے ایک نہتے مسلم لڑکے کو بے رحمی سے پیٹا۔ آج ہم آزادی کے 76 سال کا جشن منا رہے ہیں! ہمارے شہداء نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مسلمانوں کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔‘‘

انہوں نے ممبئی پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کا فوری نوٹس لیا جائے اور اس میں ملوث تمام غنڈوں کو گرفتار کر کے انہیں سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔

شیخ نے کہا ’’باندرہ ٹرمینس میں ہونے والے ہولناک واقعے سے بہت پریشان ہوں۔ ہمارے معاشرے میں تشدد اور نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ مذہب یا کسی اور بہانے سے تشدد کی ایسی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔ حکام کو پہلے ویڈیو کی تصدیق کرنی چاہیے اور مناسب کارروائی کرنی چاہیے۔‘‘

پرتشدد ہجوم میں سے کچھ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک نابالغ ہندو لڑکی کو اس شخص کے چنگل سے آزاد کرایا ہے اور دوسروں نے ‘لو جہاد بند کرو’ جیسے نعرے لگائے۔

شری کرشن جنم بھومی کے پاس جاری بلڈوزر کارروائی پر سپریم کورٹ نے لگائی روک، درجنوں گھر ہو چکے منہدم

0
شری-کرشن-جنم-بھومی-کے-پاس-جاری-بلڈوزر-کارروائی-پر-سپریم-کورٹ-نے-لگائی-روک،-درجنوں-گھر-ہو-چکے-منہدم

اتر پردیش کے متھرا واقع شری کرشن جنم بھومی کے پاس ریلوے کی زمین پر چل رہی بلڈوزر کارروائی پر روک لگ گئی ہے۔ یہ روک سپریم کورٹ نے لگائی ہے اور روک لگنے تک درجنوں گھر منہدم ہو چکے ہیں۔

دراصل ریلوے کے ذریعہ غیر قانونی بستیوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی تھی اور ابھی تک 100 سے زائد مکان توڑے گئے تھے۔ بدھ کے روز ہوئی سماعت میں سپریم کورٹ نے بلڈوزر چلانے پر اگلے 10 دن کے لیے روک لگا دی ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 7 دن بعد ہوگی۔

16 اگست کو سپریم کورٹ کی 3 ججوں کی بنچ کے سامنے جب اس مسئلے کی سماعت شروع ہوئی تب عرضی دہندہ کی طرف سے اپیل کی گئی تھی کہ ریلوے نے ابھی تک یہاں 100 سے زیادہ گھروں کو توڑ دیا ہے۔ یہاں 80-70 گھر بچے ہیں لیکن اس پر فوراً روک لگنی چاہیے۔ عرضی دہندہ کی اپیل پر سپریم کورٹ نے بلڈوزر کارروائی پر 10 دن کی روک لگائی اور مرکزی و ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ اب اس مسئلہ پر 7 دن بعد جب سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی، تب حکومتوں کی دلیل سنی جائے گی۔

واضح رہے کہ متھرا سے ورنداون کی ریلوے لائن براڈگیج میں تبدیل کی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے ریلوے یہاں غیر قانونی طور سے بسی بستی کو ہٹانے کا کام کر رہا ہے۔ ریلوے کا کہنا ہے کہ اسے 30 میٹر جگہ خالی کروانی ہے اور وہ مہینوں پہلے ہی مکان مالکوں کو نوٹس دے چکا ہے۔ نوٹس جاری کرنے کے بعد ریلوے تجاوزات ہٹانے بھی پہنچا تھا، لیکن مقامی لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے کارروائی نہیں ہو پائی۔

حالانکہ گزشتہ ہفتے جب سیکورٹی فورس کے ساتھ ریلوے کی ٹیم پہنچی تب اس نے گھروں کو منہدم کرنا شروع کیا، اسی کے بعد معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تھا۔ ریلوے کی کارروائی کو دیکھتے ہوئے کئی لوگوں نے اپنے گھروں کو خود ہی توڑنا شروع کیا اور سامان ہٹایا۔ ریلوے نے بھی اپیل کی تھی کہ بلڈوزر سے زیادہ نقصان ہوگا۔ ایسے میں جنھیں نوٹس ملے ہیں وہ خود ہٹنا شروع کر دیں۔

بٹو بجرنگی کا بجرنگ دل سے کوئی تعلق نہیں رہا: وی ایچ پی

0
بٹو-بجرنگی-کا-بجرنگ-دل-سے-کوئی-تعلق-نہیں-رہا:-وی-ایچ-پی

نئی دہلی: ہریانہ کے نوح میں تشدد کے سلسلے میں پولیس کے ذریعہ گرفتار کیے گئے بٹو بجرنگی کو بجرنگ دل کا کارکن بتانے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے وشو ہندو پریشد نے دعویٰ کیا ہے کہ بٹو بجرنگی کا کبھی بجرنگ دل سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یہاں تک کہ وی ایچ پی اس کے ذریعہ مبینہ طور پر جاری کردہ ویڈیو کے مواد کو بھی صحیح نہیں مانتی۔

وشوا ہندو پریشد نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ (پہلے ٹوئٹر) پر اپنی تنظیم بجرنگ دل کی جانب سے بٹو بجرنگی کے حوالے سے موقف واضح کرتے ہوئے کہا ’’راج کمار عرف بٹو بجرنگی، جسے بجرنگ دل کا کارکن بتایا جا رہا ہے، اس کا بجرنگ دل سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔‘‘

وی ایچ پی نے مزید لکھا کہ ’’وشوا ہندو پریشد اس کے (بٹو بجرنگی) کے ذریعہ جاری کردہ ویڈیو کے مواد کو مناسب نہیں سمجھتی ہے۔‘‘

چین کے ساتھ فوجی مذاکرات پھر ناکام، سرجےوالا نے پوچھا- ’چین کو سرخ آنکھیں دکھا کر 2020 کا جمود کب بحال ہوگا؟‘

0
چین-کے-ساتھ-فوجی-مذاکرات-پھر-ناکام،-سرجےوالا-نے-پوچھا-’چین-کو-سرخ-آنکھیں-دکھا-کر-2020-کا-جمود-کب-بحال-ہوگا؟‘

نئی دہلی: چین کے ساتھ بات چیت کے 19 ویں دور کی ناکامی کے بعد کانگریس نے بدھ کو سوالات اٹھائے اور بی جے پی زیرقیادت مرکز پر اپریل 2020 کے جمود کو بحال نہ کرنے پر تنقید کی۔ اہم بات یہ ہے کہ 13 اور 14 اگست کو دو روزہ ہندوستان اور چین کے درمیان فوجی مذاکرات ہوئے تھے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا نے ایکس (سابقہ ​​ٹوئٹر) پر لکھا ’’چین کے ساتھ بات چیت کا 19 واں دور ناکام ہو گیا ہے۔ پچھلے تین سالوں سے ہر بار بات چیت ناکام رہی ہے۔ اپریل 2020 کا جمود تین سال اور تین مہینے اس کے بعد بھی بحال نہیں ہو سکا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’ہندوستانی فورسز ڈیم چوک کے قریب اسٹریٹجک ڈی بی او فضائی پٹی یا س اجنکشن کے قریب ڈیپسنگ کے میدانوں پر 65 میں سے 26 گشت پوائنٹس پر گشت نہیں کر سکتیں۔ گشت پوائنٹس 10، 11، 11A ،12 ،13 کو چینیوں نے بلاک کر دیا ہے۔‘‘

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سرجے والا، جو راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ بھی ہیں، نے کہا، "مودی حکومت سے سوال – چینیوں کے زیر قبضہ ہندوستانی علاقے کو کب خالی کرایا جائے گا اور چینی فوج کو کب پیچھے دھکیلا جائے گا؟ حکومت چین کی مدد کرتی ہے؟ کیا مودی حکومت چین کے قبضہ کئے ہندوستانی علاقہ کا تقریباً 1000 کلومیٹر چھوڑنے کو تیار ہو گئی ہے؟ چین کو ’سرخ آنکھیں‘ دکھا کر اپریل 2020 کا جمود کب بحال ہوگا؟ کیا مودی جی آج بھی اس بات پر قائم ہیں جو انہوں نے 20 جون 2020 کو آل پارٹی میٹنگ میں کہا تھا کہ ’کوئی ہندوستانی علاقہ میں داخل نہیں ہوا ہے۔‘‘

کانگریس لیڈر نے کہا ’’اگر کوئی ہندوستانی علاقے میں داخل نہیں ہوا تو پھر چینیوں سے بات چیت کیوں کی جا رہی ہے اور کیا آرمی چیف کا یہ کہنا غلط ہے کہ چینیوں نے ہندوستانی سرزمین پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے؟ مودی حکومت ’بھارت ماتا’ کے تحفظ کے لیے بیان بازی سے آگے کب بڑھے گی؟‘‘

دونوں افواج کے درمیان مذاکرات کے 19ویں دور میں ڈیپسانگ کے میدانوں میں چینی موجودگی کے اہم مسئلے پر کوئی فوری پیش رفت نہیں ہوئی لیکن دونوں فریقین نے بقیہ مسائل کو تیزی سے حل کرنے پر اتفاق کیا۔ منگل کو وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ میٹنگ 13-14 اگست کو چشول-مولڈو سرحدی میٹنگ پوائنٹ کے ہندوستانی حصے میں ہوئی تھی۔

اس میں مزید کہا گیا کہ قیادت کی طرف سے دی گئی رہنمائی کے مطابق دونوں فریقوں نے کھلے اور دوراندیش طریقہ سے خیالات کا تبادلہ کیا۔ بیان کے مطابق ’’دونوں فریقوں نے مغربی سیکٹر میں ایل اے سی کے ساتھ ساتھ بقایہ مسائل کے حل پر مثبت، تعمیری اور گہرائی سے بات چیت کی۔‘‘

بقیہ مسائل کو تیزی سے حل کرنے اور فوجی اور سفارتی ذرائع سے بات چیت اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ دونوں فریقوں نے سرحدی علاقوں میں زمینی امن برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ حکومت اپریل 2020 تک ان علاقوں میں جمود کی بحالی کا خواہاں ہے جہاں مئی 2020 سے کشیدگی دیکھی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ڈیپسنگ میدانی سمیت پہلے کے اختلافات کا حل بھی مذاکرات کا حصہ ہے۔

اتراکھنڈ میں موسلا دھار بارش کی وجہ سے مکان گرنے سے دو افراد کی موت، 5 زخمی

0
اتراکھنڈ-میں-موسلا-دھار-بارش-کی-وجہ-سے-مکان-گرنے-سے-دو-افراد-کی-موت،-5-زخمی

چمولی: اتراکھنڈ کے چمولی ضلع کے جوشی مٹھ بلاک کے ہیلنگ قصبے میں 15 اگست کی دیر شام ایک رہائشی عمارت گرنے سے دو افراد کی موت ہو گئی۔

اطلاع ملتے ہی ضلع انتظامیہ نے پولیس، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف کے ساتھ مل کر فوری طور پر راحت اور بچاؤ کام شروع کردیا۔ رات بھر جاری ریسکیو آپریشن میں ملبے تلے دبے تمام 7 افراد کو باہر نکال لیا گیا۔ ان میں سے دو لوگوں کو مردہ قرار دیا گیا اور 5 لوگوں کو کمیونٹی ہیلتھ سنٹر (سی ایچ سی) جوشی مٹھ میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا ہے۔

اسپتال میں داخل 2 شدید زخمیوں کو بدھ کی صبح ہیلی ایمبولینس کے ذریعے ہائر سنٹر ریفر کر دیا گیا ہے۔ جبکہ تین دیگر زخمیوں کا سی ایچ سی جوشی مٹھ میں علاج چل رہا ہے۔ وہیں بدری ناتھ میں ایک بیمار مزدور کو بھی اس ہیلی ایمبولینس کے ذریعے ہائر سینٹر بھیجا گیا ہے۔