جمعرات, اپریل 2, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 182

’بیٹیوں کی سرعام عزت لوٹی جا رہی ہے اور باپ…‘، منی پور معاملے پر کیجریوال نے پی ایم مودی کو بنایا تنقید کا نشانہ

0
’بیٹیوں-کی-سرعام-عزت-لوٹی-جا-رہی-ہے-اور-باپ…‘،-منی-پور-معاملے-پر-کیجریوال-نے-پی-ایم-مودی-کو-بنایا-تنقید-کا-نشانہ

دہلی اسمبلی کا خصوصی اجلاس جاری ہے۔ اس خصوصی اجلاس کے آج دوسرے دن عام آدمی پارٹی چیف اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے منی پور کے واقعہ پر اپنی بات رکھی۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی لیڈران کہہ رہے ہیں کہ اس اسمبلی کا منی پور سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کئی مہینوں سے منی پور جل رہا ہے، لیکن پی ایم مودی نے کچھ نہیں بولا۔ بتا دوں کہ 6500 ایف آئی آر درج ہو گئیں اور 150 اموات ہو گئیں، لیکن پی ایم خاموش رہے۔ پوری دنیا میں تھو تھو ہو رہی ہے، لیکن ہندوستان کے پی ایم خاموش رہے۔ جب ایک دن ویڈیو وائرل ہوا تب بھی پی ایم خاموش رہے۔ ان کے وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ یہ کوئی آئسولیٹیڈ انسیڈنٹ (الگ تھلگ واقعہ) نہیں ہے، یہ تو روزانہ ہو رہا ہے۔‘‘

کیجریوال نے دہلی اسمبلی میں اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہاں تک کہا کہ ’’میں بتا دوں کہ لوگ ہر وقت وزیر اعظم کو نہیں یاد کرتے، لیکن وزیر اعظم کو تب ضرور یاد کرتے ہیں جب سبھی سسٹم فیل ہو جاتے ہیں۔ بے لباس خواتین کے لیے سب کچھ فیل ہو گیا تھا اور ان کے ساتھ غلط کام کیا گیا تھا، لیکن وزیر اعظم نے کچھ نہیں بولا۔ وزیر اعظم کی عمر کے حساب سے وہ ان کے باپ کے برابر ہیں۔ بیٹیوں کی سرعام عزت لوٹی جا رہی ہے اور باپ کہے کہ اس سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے، تو بیٹیاں کہاں جائیں گی۔‘‘

اس درمیان کیجریوال نے ایک وائرل ویڈیو کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں بتا دوں کہ ایک ریٹائر آرمی آفیسر کا ویڈیو سرکولیٹ ہو رہا ہے۔ وہ وزیر اعظم مودی کا اَندھ بھکت ہوتا تھا۔ وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ میں نے ایسا نہیں سوچا تھا۔ بی جے پی والے کہہ رہے ہیں کہ یہ پہلے وزیر اعظم ہیں جو 50 بار نارتھ ایسٹ گئے تھے۔ اب جبکہ منی پور کے اندر مصیبت آئی ہے تب آپ کو خیال نہیں آیا، تب آپ اپنے گھر کے اندر کنڈی مار کر بیٹھ گئے۔‘‘

اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی کی پہلی فہرست جاری، مدھیہ پردیش کے 39، چھتیس گڑھ کے 21 امیدواروں کا اعلان

0
اسمبلی-انتخابات-کے-لیے-بی-جے-پی-کی-پہلی-فہرست-جاری،-مدھیہ-پردیش-کے-39،-چھتیس-گڑھ-کے-21-امیدواروں-کا-اعلان

رواں سال کے آخر میں 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ اس تعلق سے بی جے پی نے بڑی پیش قدمی کرتے ہوئے مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے لیے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر دی ہے۔ مدھیہ پردیش کے 39 اور چھتیس گڑھ کے 21 امیدواروں کا اعلان بی جے پی نے کر دیا ہے جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ بی جے پی آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر پوری طرح کمر کس چکی ہے۔

اس سے قبل بی جے پی کی مرکزی انتخابی کمیٹی (سی ای سی) کی میٹنگ بدھ کے روز نئی دہلی کے پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی تھی۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ رمن سنگھ نے میٹنگ کے دوران صلاح و مشورہ میں حصہ لیا تھا۔ دیر رات تک چلی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، مرکزی وزیر اشونی ویشنو اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا سمیت بی جے پی کے کئی بڑے لیڈران شامل ہوئے تھے۔

اس دوران مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کی انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ سی ای سی اراکین نے آئندہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی تیاریوں کا تجزیہ بھی کیا۔ کمیٹی میں چھتیس گڑھ کی 90 اسمبلی سیٹوں پر سلسلہ وار بات چیت ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 2 گھنٹے تک چھتیس گڑھ کی اسمبلی سیٹوں پر تبادلہ خیال چلتا رہا۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش کی اسمبلی سیٹوں پر گفتگو شروع ہوئی۔ میٹنگ کے دوران پارٹی اعلیٰ کمان کی توجہ سب سے زیادہ کمزور سیٹوں پر مرکوز تھی۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آخر تک پانچ ریاستوں چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ ابھی کسی بھی ریاست کے لیے انتخاب کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔ لیکن بی جے پی نے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر اپنا جارحانہ رخ ظاہر کر دیا ہے۔

مرکزی حکومت کا سستا ہوائی سفر منصوبہ ’اڑان‘ فیل! 774 میں سے محض 54 روٹ پر اڑ رہے طیارے

0
مرکزی-حکومت-کا-سستا-ہوائی-سفر-منصوبہ-’اڑان‘-فیل!-774-میں-سے-محض-54-روٹ-پر-اڑ-رہے-طیارے

مرکزی حکومت نے ’اڑان‘ منصوبہ شروع کیا تھا جس کے تحت عوام کو سستا ہوائی سفر مہیا کرایا جاتا ہے۔ لیکن یہ ’اڑان‘ اسکیم بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ اس بات کا انکشاف سی اے جی کی ایک رپورٹ سے ہو رہا ہے۔ سی اے جی (کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل) کی آڈٹ رپورٹ میں ریجنل کنکٹیویٹی اسکیم کی تین مراحل میں جانچ کی ہے۔ اس میں پتہ چلا ہے کہ ملک بھر میں جو 774 روٹ ’اڑان اسکیم‘ کے لیے طے کیے گئے تھے، ان میں سے 403 پر اب تک پرواز شروع بھی نہیں ہو پائی ہے۔ یعنی 371 روٹ پر پرواز شروع ہوئی، لیکن بعد میں صرف 112 روٹ ہی چالو رہے، یعنی بیشتر روٹ بند ہو گئے۔ مارچ 2023 تک آتے آتے صرف 54 روٹ پر ہی اڑان اسکیم کے تحت پروازیں جاری رہ سکیں۔

واضح رہے کہ 2017 میں لانچ ’اڑان اسکیم‘ کا مقصد ملک کے دور دراز علاقوں میں ہوائی سفر شروع کرنا اور بڑے شہروں یا راجدھانیوں سے ان علاقوں کو ہوائی راستہ سے جوڑنا تھا۔ اس سے چھوٹے شہروں کی کنکٹیویٹی ملک کے بڑے شہروں سے بہتر ہوتی۔

بہرحال، سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں اڑان اسکیم کی مایوس کن کارکردگی کو لے کر کئی اسباب گنائے ہیں۔ منصوبہ کے لیے منتخب ہوائی اڈے یا ہوائی پٹیوں کی وقت پر تعمیر نہیں کیا جانا، یا ان میں موافق اصلاح نہیں ہو پانا ایک بڑی وجہ رہی ہے۔ سی اے جی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 116 ایئرپورٹ اور ہوائی پٹیاں ایسی ہیں جن میں سے 83 پر آپریشن شروع نہیں کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان ہوائی اڈوں پر اب تک 1089 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ایک خاص بات یہ ہے کہ منصوبہ کے تحت التزام تھا کہ آپریٹر پہلے رعایتی کرایہ والے ٹکٹ فروخت کریں گے اور بعد میں غیر رعایتی ٹکٹ فروخت کیے جائیں گے۔ اس سے جڑی جانچ کو لے کر کیبنٹ اسپائس جیٹ انڈیگو سمیت دیگر ایئرلائنز کمپنیوں کے ذریعہ اصول پر عمل نہیں کیے جانے کی بات کہی۔ ایئرلائنز کمپنیوں کی طرف سے واضح طور پر رعایتی شرحوں والی سیٹوں کی دستیابی نہیں بتائی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ سے مسافروں کو ان سیٹوں کی جانکاری نہیں ملتی اور ٹکٹ بکنگ میں شفافیت کی بھی کمی برقرار ہے۔

‘وزیر نہ بنایا گیا تو بیوی خودکشی کر لے گی!‘ شیو سینا کے رکن اسمبلی نے شندے کو کیا بلیک میل، ایم ایل اے کا دعویٰ

0
‘وزیر-نہ-بنایا-گیا-تو-بیوی-خودکشی-کر-لے-گی!‘-شیو-سینا-کے-رکن-اسمبلی-نے-شندے-کو-کیا-بلیک-میل،-ایم-ایل-اے-کا-دعویٰ

ممبئی: مہاراشٹر میں کابینہ کی توسیع میں تاخیر کے درمیان سی ایم ایکناتھ شندے کے ساتھ شیوسینا کے ایم ایل اے بھرت شیٹھ گوگاوالے نے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔ گوگاوالے نے کہا کہ کچھ ایم ایل اے نے وزیر بننے کے لیے کئی طرح کی حربہ استعمال کئے۔ رائے گڑھ میں ایک سیاسی پروگرام کے دوران گوگاوالے نے دعویٰ کیا کہ کچھ ایم ایل اے نے سی ایم ایکناتھ شندے کو کابینہ میں جگہ حاصل کرنے کے لیے بلیک میل کیا تھا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں وزیر کے عہدے کی دوڑ میں شامل تھا لیکن جب وزیراعلیٰ کے سامنے مشکلات آنے لگیں تو میں پیچھے ہٹ گیا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے وزیراعلیٰ کسی مشکل میں پھنسے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایم ایل اے نے آ کر کہا کہ اگر وہ وزیر نہیں بنے تو ان کی بیوی خودکشی کر لے گی! دوسرے نے کہا کہ وزیر نہیں بنے تو نارائن رانے ان کی سیاست ختم کر دیں گے۔ اسی دوران ایک اور ایم ایل اے نے دھمکی دی کہ وہ اسی وقت استعفیٰ دے دیں گے جب حلف برداری کی تقریب ختم ہوگی۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ حلف برداری سے ایک دن پہلے، سی ایم شندے اور انہوں نے ہر ایک ایم ایل اے کو صورتحال کو سمجھنے کے لیے فون کیا تھا۔ انہوں نے سمبھا جی نگر کے ایک ایم ایل اے کو فون کیا اور کہا کہ وہ اتنی جلدی میں کیوں ہیں؟ ان کے ضلع سے دو نام پہلے ہی منتخب کیے جا چکے ہیں لیکن ان کے رائے گڑھ ضلع کے تین ناموں میں سے کوئی بھی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ وہ انتظار کرنے پر راضی ہو گئے اور قائل ہو گئے۔

تاہم گوگاوالے نے کہا کہ دوسرے ایم ایل اے کی بیوی کی جان بچانی ہے، اس لیے انہیں وزیر بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نارائن رانے کے گڑھ میں اپنی سیٹیں برقرار رکھنے کے لیے دیگر ایم ایل ایز کو بھی وزیر بنایا گیا۔ گوگاوالے نے کہا کہ تب سے مجھے انتظار کرنے کو کہا گیا اور میں اب بھی اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوں۔

’بی جے پی کنپٹی پر بندوق لگا کر لیڈروں کو پارٹی میں شامل کرتی ہے‘، راج ٹھاکرے کا بی جے پی پر شدید حملہ

0
’بی-جے-پی-کنپٹی-پر-بندوق-لگا-کر-لیڈروں-کو-پارٹی-میں-شامل-کرتی-ہے‘،-راج-ٹھاکرے-کا-بی-جے-پی-پر-شدید-حملہ

ایسا لگتا ہے جیسے مہاراشٹر نونرمان سینا کے چیف راج ٹھاکرے بی جے پی سے ناراض ہیں۔ اسی ناراضگی کا نتیجہ ہے کہ انھوں نے بی جے پی کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پہلے دوسری پارٹیوں کے لیڈران پر بدعنوانی کا الزام لگاتی ہے اور پھر اسے اپنے ساتھ ملا لیتی ہے۔ بی جے پی کے ساتھ آنے والے گاڑی میں چھپ کر جاتے ہیں۔

راج ٹھاکرے نے یہ بیان نوی ممبئی کے پنویل میں کارکنان اور پارٹی کے عہدیداروں کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے اس خطاب میں بی جے پی کو نصیحت دی کہ ’’بی جے پی کو دیگر پارٹیوں کو توڑنے کی جگہ خود کو مضبوط کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ وہ کنپٹی پر بندوق لگا کر لوگوں کو اپنے پاس بلاتی ہے۔ پہلے 70 ہزار کروڑ کی بدعنوانی کا الزام لگاؤ اور پھر ساتھ لے لو۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں بی جے پی کے ساتھ جانے والے شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار کو بھی راج ٹھاکرے نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ چھگن بھجبل نے اجیت پوار کو بتایا ہوگا کہ جیل کیسا ہوتا ہے، اس لیے اجیت دادا بی جے پی کے ساتھ چلے گئے۔ دراصل چھگن بھجبل منی لانڈرنگ معاملے میں 2018 میں جیل گئے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ پیر کے روز راج ٹھاکرے نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں بی جے پی سے جڑنے کی پیشکش ملی تھی۔ انھوں نے کہا کہ حالانکہ میں نے فیصلہ نہیں لیا ہے۔ راج ٹھاکرے کو یہ پیشکش کس نے دیا، یہ انھوں نے نہیں بتایا۔ حالانکہ انھوں نے یہ ضرور کہا کہ انھوں نے کوئی فیصلہ نہیں لیا کیونکہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا شیوسینا گروپ اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی قیادت والی این سی پی مہاراشٹر حکومت کا حصہ ہیں۔

مسلم فریق اپنا دعویٰ ترک کرے، گیانواپی کو ہمارے حوالے کر دے، ہندو فریق کے وکیل وشنو جین

0
مسلم-فریق-اپنا-دعویٰ-ترک-کرے،-گیانواپی-کو-ہمارے-حوالے-کر-دے،-ہندو-فریق-کے-وکیل-وشنو-جین

لکھنؤ: گیانواپی کیس میں ہندو فریقین نے عدالتی عمل سے باہر مفاہمت کی بحث کو مسترد کر دیا ہے۔ ہندو فریق کے وکیل اور دیگر خواتین درخواست گزاروں نے بیانات دیے ہیں۔ ہندو فریق کی جانب سے چیف ایڈوکیٹ وشنو جین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی مفاہمت سے انکار کر دیا۔ وشنو جین نے کہا کہ ہندو فریق نے مسجد کمیٹی کو بات چیت کے لیے کوئی دعوت نہیں دی ہے۔ اور نہ ہی کسی قسم کی بات چیت کی جا سکتی ہے۔

وشنو جین کے مطابق اس معاملے میں مشورہ کے لیے ایک ساتھ بیٹھے دو لوگ کوئی حل نہیں نکال سکتے۔ مسجد کمیٹی کو صرف ایک فریق راکھی سنگھ اور ان کے وکیل جتیندر سنگھ بسن کی جانب سے عدالت کے باہر بات چیت کی تجویز بھیجی گئی ہے۔ اس پر مسلم فریق نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو اپنی میٹنگ میں رکھے گی۔

وشنو جین نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ ریپریزنٹیشن ایکٹ کے تحت عدالت میں چل رہا ہے، اس لیے کوئی بھی فریق اپنے طور پر بات چیت نہیں کر سکتا۔ اس طرح کے سروے کے دوران اس طرح کی بات چیت کی دعوت دینا سراسر ناانصافی ہے، جو ہندو فریق کو بالکل بھی قبول نہیں ہے۔

جین نے کہا کہ کسی بھی صورت میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ نہ تو ہندو فریق یا اس کی جماعتیں کسی سمجھوتے کے لیے میز پر بیٹھیں گی۔ وہ گیانواپی کی سرزمین پر ایک انچ بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا، یہ دیوتاؤں کی سرزمین ہے اور دیوتاؤں کی سرزمین پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوتا۔ بیریکیڈنگ کے اندر ایک ایک انچ زمین ہمارے پسندیدہ دیوتا کی ہے۔ ایک ہی معاہدہ ہو سکتا ہے کہ مسلمان فریق اپنا دعویٰ ترک کر دے اور گیانواپی مسجد کو خالی کر کے ہمارے حوالے کر دے۔

وشنو جین کے مطابق، یہ ایک نمائندہ سوٹ ہے اور اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ سمجھوتہ کا مطلب ہے کچھ لینا، کچھ دینا۔ ہم دیوتا کی جائیداد کے حوالے سے اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ جو جگہ 300 سال تک ہمارے اصل دیوتا کی جگہ تھی اسے مسجد بنا دیا گیا تو اس میں دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے کسی بھی صورت میں مسلم فریق کے ساتھ تصفیہ کی میز پر بیٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اب وہ عدالت کے ذریعے جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ عدالت کے ذریعے ہی اپنے حق میں فیصلہ لیں گے۔ اگر مدعی میں سے کوئی بھی تصفیہ کے لیے آگے بڑھے تب بھی کوئی تصفیہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب تک یہ سب سیٹلمنٹ ٹیبل پر نہیں آتے، کسی قسم کی آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ نہیں ہو سکتی۔ ہم کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی ایسا کریں گے۔ ہماری لڑائی صرف گیانواپی تک نہیں ہے – ہماری لڑائی ہر اس مذہبی ڈھانچے کے بارے میں ہے، جو پہلے ایک مندر تھا اور جسے مسجد بنانے کے لیے توڑ دیا گیا تھا۔ ہماری لڑائی پلیس آف ورشپ ایکٹ کے خلاف بھی ہے، اس لیے سمجھوتہ یا عدالت سے باہر مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

چندریان-3 سے متعلق بڑی خوشخبری آئی سامنے، آخری مرحلہ میں کامیابی کے ساتھ الگ ہوا لینڈر

0
چندریان-3-سے-متعلق-بڑی-خوشخبری-آئی-سامنے،-آخری-مرحلہ-میں-کامیابی-کے-ساتھ-الگ-ہوا-لینڈر

چندریان-3 نے اب تک مشن چاند کو لے کر انتہائی کامیاب سفر کیا ہے اور تازہ ترین خبر یہ سامنے آئی ہے کہ چاند پر اس کی لینڈنگ سے ٹھیک پہلے ایک بڑی کامیابی مل گئی ہے۔ اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق جمعرات کی دوپہر 1.08 بجے چندریان-3 کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یہ عمل لینڈنگ سے پہلے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں چندریان-3 کے پروپلشن اور لینڈر ماڈیول کو علیحدہ کیا گیا ہے۔ اب وکرم لینڈر چاند کے 100 کلومیٹر احاطہ میں گردش کرے گا اور دھیرے دھیرے لینڈنگ کی طرف بڑھے گا۔

اِسرو نے جو آفیشیل بیان جاری کیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ لینڈر اور پروپلشن کامیابی کے ساتھ الگ ہو گئے ہیں۔ اب جمعہ کی شام 4 بجے لینڈر ماڈیول کو نچلے مدار میں ڈی بوسٹ کیا جائے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب چاند کے پاس ہندوستان کے 3 پروپلشن ماڈیول ہیں۔ یعنی ہندوستان چاند پر قدم رکھنے کے بالکل قریب ہے۔

واضح رہے کہ اگر چندریان-3 کی چاند پر کامیابی کے ساتھ لینڈنگ ہوتی ہے (جس کے پورے امکانات ہیں) تو ہندوستان چاند پر پہنچنے والا دنیا کا چوتھا ملک ہوگا۔ خاص بات یہ ہے کہ چندریان-3 چاند کے جنوبی قطب میں لینڈ ہوگا، جہاں ابھی تک کوئی نہیں پہنچ پایا ہے۔

بہرحال، پروپلشن اور وکرم لینڈر کے علیحدہ ہونے کے بعد اب ایک ہفتے تک ہر کسی کی سانسیں تھمی ہوں گی۔ چندریان-3 کی لینڈنگ 23 اگست کو ہونی ہے، لیکن اس سے پہلے آج کا دن بہت اہم ہے۔ اِسرو کے مطابق جمعرات کو چندریان-3 کے پروپلشن اور لینڈر الگ ہو گئے ہیں، ایسی حالت میں دونوں چاند کے مدار کے 100×100 کلومیٹر رینج میں ہوں گے۔ دونوں کو کچھ دوری پر رکھا جائے گا تاکہ ان میں ٹکر نہ ہو پائے۔ الگ ہونے کے بعد لینڈر اب بیضوی دائرے میں گھومے گا اور اپنی رفتار کو دھیمی کرتا جائے گا۔ دھیرے دھیرے یہ چاند کی طرف بڑھے گا۔ اب 18 اگست کافی اہم دن ہے جب لینڈر کی رفتار دھیمی کی جائے گی اور اس کے بعد ہی لینڈر کو چاند کی طرف بھیجا جائے گا۔ بعد ازاں سافٹ لینڈنگ کا عمل شروع ہوگا۔

شملہ مندر حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 14 تک پہنچ گئی

0
شملہ-مندر-حادثے-میں-مرنے-والوں-کی-تعداد-14-تک-پہنچ-گئی

شملہ: ہماچل پردیش کی راجدھانی میں مٹی کے تودے گرنے کے بعد مندر کے منہدم ہونے کے بعد چوتھے دن بھی تلاش کا کام دوبارہ شروع کرتے ہوئے امدادی کارکنوں نے جمعرات کو ایک لاش برآمد کی۔ اس کے ساتھ ہی اس واقعے میں مرنے والوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔

ایک اہلکار نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ لاش ہماچل پردیش یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی ہے۔ اسے تباہی کے مقام سے دو کلومیٹر دور برآمد کیا گیا۔ حکام کو شبہ ہے کہ ملبے کے نیچے اب بھی کم از کم 7 اور افراد پھنسے ہو سکتے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ایک لاش کو چھوڑ کر سبھی کی شناخت کر کے ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔

لوگوں کے رشتہ داروں نے ان کے ٹھکانے کے بارے میں جاننے کے لیے مقامی حکام سے رابطہ کیا ہے۔ ایک ریسکیو اہلکار نے بتایا کہ ’’اب تک ہمیں سات لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات ملی ہیں اور ہم ان کا سراغ لگانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے سات افراد شامل ہیں، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں، جو آفت کے وقت شیو باوڑی مندر کے اندر تھے۔

سمر ہل مارکیٹ میں ایک دکان کے مالک 60 سالہ پون شرما، ان کی 57 سالہ بیوی سنتوش شرما، 32 سالہ بیٹا امان شرما، 27 ساسلہ بہو ارچنا شرما اور تین پوتیاں، جن کی عمریں 12 سے 1.5 سال کے درمیان تھیں، ہون کے لئے مندر میں تھے جب وہ منہدم ہوا۔ خاندان کے چار افراد کی لاشیں مل گئی ہیں، تین ابھی تک لاپتہ ہیں اور ریسکیورز کا کہنا ہے کہ ان کے بچنے کے امکان بہت کم ہیں۔

وزیر اعلیٰ سکھوندر سکھو، جنہوں نے تباہی کے فوراً بعد جائے وقوعہ کا دورہ کیا، اسے ایک بے مثال سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو گزشتہ 50 سال کی میں بدترین قدرتی آفت کا سامنا ہے۔ اسی دن شملہ کے پھاگلی میں ایک اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ ایک دن بعد، شملہ کے پرانے بس اسٹینڈ کے قریب کرشنا نگر علاقے میں کم از کم پانچ مکانات گر گئے، جس میں دو افراد کی موت ہو گئی۔

مودی حکومت نے جنگلات کو برباد کر دیا: جے رام رمیش

0
مودی-حکومت-نے-جنگلات-کو-برباد-کر-دیا:-جے-رام-رمیش

نئی دہلی: مرکز پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے جمعرات کو کہا کہ ‘ڈیمڈ’ جنگلات کو ختم کرنے کی جلد بازی میں نریندر مودی حکومت نے درحقیقت جنگلات کو تباہ کر دیا ہے۔

کانگریس لیڈر نے ایک ٹوئٹ میں کہا ’’گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کی جانب سے فارسٹ کنزرویشن ایکٹ، 1980 میں خطرناک ترامیم منظور کرنے کے بعد اوڈیشہ حکومت نے فوری طور پر یہ احکامات پاس کیے کہ ‘ڈیمڈ’ جنگلات کو اب جنگلات نہیں سمجھا جائے گا۔‘‘

راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ نے کہا ’’اب مرکزی وزارت کہتی ہے کہ ریاستی حکم نامہ واپس لے لیا گیا ہے۔ یہ ابہام کی صورت حال ہے۔ ‘ڈیمڈ’ جنگلات کو ختم کرنے کی جلد بازی میں مودی حکومت نے درحقیقت جنگلات کو تباہ کر دیا ہے۔‘‘

انہوں نے اوڈیشہ حکومت کی طرف سے ڈیمڈ فاریسٹ آرڈر واپس لینے سے متعلق ایک خبر بھی منسلک کی۔ کانگریس نے پارلیمنٹ میں جنگلات کے تحفظ (ترمیمی) بل 2023 کی مخالفت کی ہے۔

رمیش نے 2 اگست کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں ترامیم کے مقصد کو دبا دیا گیا ہے، جو مودی حکومت کی ذہنیت اور ماحولیات اور جنگلات پر اس کی عالمی بات چیت کے درمیان موجود خلا کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بل کا جلد ہی نافذ ہونے والا سفر ایک کیس اسٹڈی ہے کہ کس طرح قانون سازی کے عمل کو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ: شمالی کیلی فورنیا کے جنگل میں آگ پھیلی، ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا

0
امریکہ:-شمالی-کیلی-فورنیا-کے-جنگل-میں-آگ-پھیلی،-ہزاروں-افراد-کو-محفوظ-مقامات-پر-منتقل-کیا-گیا

سان فرانسسکو: امریکہ میں شمالی کیلیفورنیا کی سسکیو کاؤنٹی میں جنگل میں آگ پھیلنے کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا اور سڑکیں بند کر دی گئیں۔ حکام نے بدھ کو یہ معلومات دی۔

یو ایس فاریسٹ سروس کے حکام نے بدھ تک آگ تقریباً 2,700 ایکڑ (تقریباً 11 مربع کلومیٹر) پر پھیلی گئی تھی جسے ہیڈ فائر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگ منگل کی رات کلماتھ نیشنل فاریسٹ میں لگی۔ یہ جنگل شمالی کیلیفورنیا اور جنوبی اوریگون میں 6,863 مربع کلومیٹر سے زیادہ کے رقبے پر محیط ہے۔

سسکیو کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے کیلیفورنیا اوریگون کی سرحدی لائن سے تقریباً 20 میل دور، وادی سیلاڈ اور ہیمبرگ کے آس پاس کے کئی علاقوں کے لیے انخلاء کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ہائی وے 96 اور اسکاٹ ریور روڈ کو بند کر دیا گیا۔ کیلیفورنیا کے محکمہ جنگلات اور فائر پروٹیکشن کے مطابق منگل کو مینڈوکینو کاؤنٹی میں آسمانی بجلی گرنے سے آگ لگنے کی کچھ اطلاع ملی تھی۔