جمعرات, اپریل 2, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 181

لون اکاؤنٹ میں جرمانے پر آر بی آئی نے بینکوں کو ہدایات کیں جاری

0
لون-اکاؤنٹ-میں-جرمانے-پر-آر-بی-آئی-نے-بینکوں-کو-ہدایات-کیں-جاری

نئی دہلی: ریزرو بینک آف انڈیا نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے نئی ہدایات کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت لون اکاؤنٹس میں جرمانے سے متعلق کئی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ آر بی آئی نے کہا ہے کہ بینکوں اور ریگولیٹڈ اداروں کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے قرض کھاتوں پر جرمانے کے آپشن کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

ریزرو بینک نے ایک سرکلر جاری کیا ہے جس کے تحت اس نے بینکوں کو بتایا ہے کہ وہ قرض کھاتوں پر جرمانے کے اصولوں پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔ آر بی آئی نے یہ فیصلہ کئی حالیہ پیش رفت کے بعد لیا ہے جس میں بینک قرض پر وصول کیے جانے والے سود میں جرمانہ شامل کر رہے ہیں اور اس کی بنیاد پر قرض لینے والوں سے سود کے اوپر سود لے رہے ہیں۔ آر بی آئی نے نئے رہنما خطوط کا اعلان کیا ہے، تاکہ قرض کے ڈیفالٹ کی صورت میں، بینکوں کے ذریعہ عائد جرمانہ کو تعزیرنہیںی چارج سمجھا جائے گا تعزیری سود کے طور پر۔

ریزرو بینک آف انڈیا نے اپنے ایکس (سابقہ ​​ٹوئٹر) پلیٹ فارم پر ان تبدیل شدہ قوانین کے بارے میں معلومات دی ہیں اور اس ایکس پوسٹ میں آر بی آئی کے سرکلر کو شامل کیا ہے۔ اس پر جا کر ان تبدیل شدہ رہنما خطوط کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

آر بی آئی کے سرکلر کے مطابق، یہ نئی ہدایات اگلے سال یعنی یکم جنوری 2024 سے لاگو ہوں گی۔ تمام کمرشل بینک بشمول سمال فنانس بینک، لوکل ایریا بینک اور علاقائی دیہی بینک اس اصول کے دائرے میں آئیں گے اور یہ اصول ادائیگی بینکوں پر بھی لاگو ہوگا۔ تمام پرائمری اربن کوآپریٹو بینک، این بی ایف سی اور ہاؤسنگ فائنانس کمپنیاں تمام ہندوستانی مالیاتی ادارے جیسے ایگزم بینک، نابارڈ، این ایچ بی، ایس آئی ڈی بی آئی اور این بی ایف آئی ڈی بھی آر بی آئی کے ان رہنما خطوط کے دائرے میں آئیں گے۔

عباس انصاری کی بیوی نکہت بانو چترکوٹ جیل سے رہا، 6 مہینے پہلے ہوئی تھی گرفتار

0
عباس-انصاری-کی-بیوی-نکہت-بانو-چترکوٹ-جیل-سے-رہا،-6-مہینے-پہلے-ہوئی-تھی-گرفتار

لکھنؤ: جیل میں قید زورآور لیڈر مختار انصاری کی بہو اور ایم ایل اے عباس انصاری کی بیوی نکہت بانو کو چترکوٹ کی رگولی جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ نکہت چھ ماہ تک جیل میں قید رہیں۔ رہائی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمل میں آئی ہے۔ نکہت پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر جیل میں بند اپنے ایم ایل اے شوہر سے ملنے جاتی تھیں۔ انتظامیہ نے 10 فروری کو چھاپہ ماری کے دوران انہیں گرفتار کیا تھا۔

نکہت بانو کو جمعرات کی شام دیر گئے رہا کیا گیا۔ وہ گھر جانے کے لیے اپنے اہل خانہ کے ساتھ جیل سے نکلیں۔ اس سے پہلے 11 اگست کو سپریم کورٹ نے سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کے ایم ایل اے عباس انصاری کی بیوی نکہت بانو کو ضمانت دے دی تھی۔ جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس ایم ایم سندریش کی بنچ نے راحت دیتے ہوئے کہا کہ عرضی گزار ایک خاتون ہے اور ایک سال کے بچے کی ماں ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت نے کہا کہ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ درخواست گزار خاتون ہے اور اس کا ایک سال کا بچہ ہے اور اس پس منظر میں درخواست گزار پر لگائے گئے الزامات کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔ ٹرائل کورٹ کی جانب سے مناسب شرائط عائد کی جا رہی ہیں۔ ضمانت کی دوسری شرائط میں سے ایک یہ ہوگی کہ ٹرائل کورٹ سے مناسب احکامات ملنے کے بعد ہی وہ اپنے شوہر سے ملنے کے لیے جیل جا سکیں گی۔

سپریم کورٹ نے نکہت بانو کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ ان پر عائد ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی نہ کریں۔ نکہت نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ الزامات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 29 مئی کو ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

خیال رہے کہ 10 فروری کو پولیس اور ضلع انتظامیہ نے چترکوٹ ڈسٹرکٹ جیل پر چھاپہ مارا تھا۔ انتظامیہ کو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عباس انصاری کی اہلیہ نکہت سے ملاقات کی اطلاع ملی تھی۔ ساتھ میں ان کا ڈرائیور نیاز بھی تھا۔ نکہت بانو سے متعدد موبائل فونز اور غیر ملکی کرنسی سمیت دیگر سامان برآمد ہوا۔ بعد ازاں نکہت بانو اور نیاز دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر گواہوں کو دھمکیاں دینے، اپنے شوہر کے لیے جیل میں سہولیات فراہم کرنے، جیل حکام اور ملازمین کو لالچ اور تحائف دینے کا الزام ہے۔

پولیس نے جیل وارڈن جگ موہن، جیلر سنتوش کمار، جیل سپرنٹنڈنٹ اشوک کمار ساگر اور ڈپٹی جیلر چندر کلا کو بھی گرفتار کیا تھا۔ اس معاملے میں عباس انصاری، نکہت بانو، نیاز، خان اور نونیت سچان کے خلاف پہلے ہی چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔ سب انسپکٹر شیام دیو سنگھ کی شکایت پر 11 فروری کو کاروی پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مؤ سے ایم ایل اے عباس انصاری منی لانڈرنگ کیس میں جیل میں قید ہیں۔

اپوزیشن کے زیر اقتدار ریاستی حکومتوں کو ‘غیر مستحکم’ کرنے میں بی جے پی کے کردار پر شرد پوار کی تنقید

0
اپوزیشن-کے-زیر-اقتدار-ریاستی-حکومتوں-کو-‘غیر-مستحکم’-کرنے-میں-بی-جے-پی-کے-کردار-پر-شرد-پوار-کی-تنقید

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے جمعرات کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو مناسب طور پر منتخب اپوزیشن کی حکمرانی والی ریاستی حکومتوں کو کمزور کرنے میں اس کے کردار پر تنقید کی۔ مہاراشٹر کے بیڈ میں ایک ریلی کے دوران پوار نے کہا کہ اگرچہ بی جے پی مستحکم حکمرانی کی وکالت کرتی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ وہ دیگر قانونی طور پر منتخب پارٹیوں کی ریاستی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کرتی ہے۔

یوم آزادی پر لال قلعہ سے وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پوار نے کہا ’’15 اگست کو پی ایم مودی نے کہا تھا کہ ‘میں دوبارہ آؤں گا۔’ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ایسا ہی وعدہ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے بھی کیا تھا۔ وہ اقتدار میں ضرور واپس آئیں گے لیکن کمتر عہدے پر۔‘‘

پوار نے موجودہ حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ اقتدار میں رہنے کے لیے ذات پات، مذہب اور زبان پر مبنی تفرقہ انگیز حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ خیال رہے کہ مہاراشٹرا میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)، کانگریس اور شیوسینا کے اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

ایم وی اے اتحاد کے معمار سمجھے جانے والے شرد پوار کو ایک اور جھٹکا اس وق لگا جب ان کے بھتیجے اجیت پوار نے بھی بغاوت کر دی۔ اجیت نے ایکناتھ شندے کی قیادت والی مہاراشٹر حکومت کے ساتھ اتحاد کیا اور نائب وزیر اعلیٰ بن گئے۔ ان واقعات کے بعد سے شرد پوار این سی پی کے باغیوں کو یہ باور کرانے کے لیے مسلسل ریلیاں کر رہے ہیں کہ وہ غفلت میں غلط جگہ پر چلے گئے ہیں۔

موسم کا حال: دہلی سے بہار تک بارشوں کی پیش گوئی، کئی ریاستوں میں پارہ 35 ڈگری سیلسیس سے تجاوز

0
موسم-کا-حال:-دہلی-سے-بہار-تک-بارشوں-کی-پیش-گوئی،-کئی-ریاستوں-میں-پارہ-35-ڈگری-سیلسیس-سے-تجاوز

نئی دہلی: ملک بھر کی کئی ریاستوں میں بارش کی وجہ سے موسم خوشگوار رہا ہے، جب کہ کئی ریاستوں میں مانسون کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے ہلکی نمی کا سامنا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، جمعہ (18 اگست) کو قومی دارالحکومت میں موسم صاف رہنے کی توقع ہے۔ 19 اور 20 اگست کو بارش کے امکانات ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری سیلسیس اور کم سے کم درجہ حرارت 28 ڈگری سیلسیس ہوسکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 18 اگست بروز جمعہ کو اتر پردیش میں موسم صاف رہنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ ریاست میں 19 اور 20 اگست کو ہلکی بوندا باندی ہوگی جس کے بعد پورے ہفتے موسم صاف رہے گا۔ محکمہ کے مطابق بارش کی کمی کی وجہ سے ریاست کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مدھیہ پردیش میں جمعہ (18 اگست) سے موسلادھار بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جمعہ 18 اگست کو ریاست میں بعض مقامات پر ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ 19 اور 20 اگست کو بھی بارش کا امکان ہے۔ بہار میں کم بارش کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو ہلکی گرمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کی تازہ ترین پیشن گوئی کے مطابق 18 اگست بروز جمعہ ریاست کے بعض علاقوں میں اگلے تین گھنٹوں تک موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ جمعرات 17 اگست کو ریاست میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔

اتراکھنڈ اور ہماچل میں بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ اتراکھنڈ میں شدید بارش کی وجہ سے کہرام مچ گیا ہے۔ رشی کیش میں دریائے گنگا کے پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ نے ریاست میں رہنے والے لوگوں کو ہدایات دی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سیاحوں کے لیے وارننگ بھی جاری کر دی گئی ہے۔ہماچل پردیش کے کئی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے۔ جس کے باعث متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کا کام بھی جاری ہے۔

ہماچل کے تینوں بڑے دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج میں طغیانی ہے۔ ریاست میں سیلاب جیسی صورتحال ہے۔ اس کے علاوہ کئی لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، جمعہ، 18 اگست کو سکم، آسام، اروناچل پردیش اور انڈمان اور نکوبار جزائر میں ایک یا دو مقامات پر تیز بارش کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان، کونکن اور گوا، مراٹھواڑہ، وسطی مہاراشٹر، گجرات، کرناٹک، کیرالہ کے کچھ حصوں میں ہلکی بارش کا امکان ہے۔

میڈیکل انٹرنس امتحان میں ناکامی پر باپ بیٹے نے خودکشی کرلی

0
میڈیکل-انٹرنس-امتحان-میں-ناکامی-پر-باپ-بیٹے-نے-خودکشی-کرلی

بھارت کے جنوبی شہر چینئی میں ایک 19 سالہ طالب علم نے میڈیکل داخلہ جاتی امتحانات میں دوسری مرتبہ بھی ناکام رہنے پر خودکشی کرلی۔ ایسے واقعات کی فہرست کافی طویل ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے جب بیٹے کے غم میں باپ نے بھی اپنی زندگی ختم کرلی۔

پیشے سے فوٹوگرافر سلویسکر کے دوست جب ان کے بیٹے جگدیش ورن کی خودکشی کے واقعے پر تعزیت کے لیے پہنچے تو ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ سلویسکر نے بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا۔

جگدیش ورن 12 اگست کو اپنے کمرے کی چھت سے لٹکتے ہوئے پائے گئے تھے، انہیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا تھا۔ وہ بھارت میں میڈیکل کالجوں میں داخلہ کے لیے ہونے والے مسابقتی امتحان نیٹ (NEET) میں دوسری کوشش میں بھی اتنا اسکور نہیں کرسکے تھے کہ کسی سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ مل پاتا۔ حالانکہ ان کے والد نے دوبارہ کوچنگ کلاس میں داخلہ دلوادیا تھا اور اس کی فیس بھی جمع کردی تھی لیکن انہوں نے مایوسی میں انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سلویسکر کے پاس سے کوئی سوسائیڈ نوٹ نہیں ملا ہے لیکن وہ اپنے بیٹے کی خودکشی کے بعد مسابقتی امتحان نیٹ کے طریقہ کار سے خفا تھے۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، ’’نیٹ امتحان ختم ہونے سے ہی سب کچھ ٹھیک ہوگا۔ نیٹ کی وجہ سے میں نے اپنا بیٹا کھو دیا، جس کی پرورش اکیلے کی تھی۔ میرے جیسا حال کسی کا نہ ہو۔‘‘

بھارت میں پہلے مختلف ریاستیں اپنے یہاں میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے اپنے طورپر مسابقتی امتحانات کا انعقاد کراتی تھیں۔ لیکن سن 2013 میں بھارت سرکار نے”میڈیکل کالجوں میں داخلے میں یکسانیت‘‘ لانے کی دلیل دیتے ہوئے آل انڈیا سطح پر مسابقتی امتحانات شروع کیے۔ متعدد ریاستوں نے اس کی مخالفت کی اور تمل ناڈو اب بھی اس کی مخالفت کررہا ہے۔

ستمبر2017 میں تمل ناڈو کے ارلیار ضلع کی انیتا نامی ایک طالبہ نے اچھے مارکس کے باوجود میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ملنے پر خودکشی کرلی تھی۔ اس واقعے پر ریاست بھر میں احتجاج کیا گیا تھا۔ اس سے اگلے سال سن 2018 میں ولوپورم ضلعے کی ایک طالبہ نے نیٹ میں بہت کم مارکس آنے پر خودکشی کرلی تھی۔

پچھلے چند برسوں میں صرف تمل ناڈو میں ہی 16سے زیادہ طلبہ میڈیکل کالجوں میں داخلہ نہیں ملنے پر خودکشی کرچکے ہیں۔ ریاستی حکومت نیٹ امتحان کو ختم کرنے کے لیے اسمبلی میں ایک بل منظور کرچکی ہے، جو بھارتی صدر کے پاس منظوری کے لیے زیر التوا ہے۔

میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ملنے کی وجہ سے باپ اور بیٹے کی حالیہ خودکشی کے واقعے نے بھارت میں میڈیکل اور انجینئرنگ جیسے پیشہ ورانہ کورسز میں داخلے کے لیے ہونے والی دوڑکے نقصانات کی جانب لوگوں کی توجہ ایک بار پھر مبذول کی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کو کوئی بھی انتہائی قدم نا اٹھانے کی اپیل کی ہے۔

میڈیکل اور انجینئرنگ کورسز کے لیے داخلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے معروف مرکز راجستھان کے کوٹا شہر میں گزشتہ برس 18 طلبہ نے خودکشی کرلی تھی۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف اسی ایک شہرمیں پچھلے چار برسوں کے دوران 52 طلبہ خودکشی کرچکے ہیں۔

بھارت میں میڈیکل کالجوں کے داخلہ جاتی امتحانات دنیا کے انتہائی مشکل ترین امتحانات میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔ رواں سال تقریباً 21 لاکھ طلبہ’ نیٹ’ میں شریک ہوئے حالانکہ ان میں سے ساڑھے گیارہ لاکھ کے قریب کامیاب ہوئے لیکن کٹ آف مارکس کی وجہ سے صرف 80 ہزار طلبہ کو ہی ملک بھر کے سرکاری اور پرائیوٹ میڈیکل کالجوں میں داخلہ مل سکے گا۔

اجئے رائے کو ملی یوپی کانگریس کی کمان، سرجے والا مدھیہ پردیش اور واسنک گجرات کے انچارج جنرل سکریٹری مقرر

0
اجئے-رائے-کو-ملی-یوپی-کانگریس-کی-کمان،-سرجے-والا-مدھیہ-پردیش-اور-واسنک-گجرات-کے-انچارج-جنرل-سکریٹری-مقرر

آئندہ سال ہونے والے لوک سبھا انتخاب سے قبل اتر پردیش میں کانگریس نے تنظیم کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس کے پیش نظر کانگریس نے دو بار وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف انتخاب لڑ چکے اجئے رائے کو اتر پردیش کانگریس کا صدر مقرر کیا ہے۔ اجئے رائے وزیر اعظم مودی کے خلاف وارانسی سے 2014 اور 2019 کا لوک سبھا انتخاب لڑ چکے ہیں۔

اجئے رائے کو موجودہ ریاستی صدر برج لال کھابری کی جگہ لایا گیا ہے۔ 54 سالہ اجئے رائے کی پیدائش وارانسی میں ہوئی تھی۔ وہ لگاتار 5 بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ 1996 میں بی جے پی جوائن کرنے کے بعد سے وہ 2007 تک رکن اسمبلی رہے۔ اس کے بعد بی جے پی اعلیٰ کمان سے نااتفاقی کے سبب انھوں نے سماجوادی پارٹی کا دامن تھام لیا تھا۔ 2009 میں انھوں نے مرلی منوہر جوشی کے خلاف پارلیمانی انتخاب لڑا اور شکست کھا گئے تھے۔ اس کے بعد بطور آزاد امیدوار پنڈرا سے ضمنی انتخاب جیت کر رکن اسمبلی بنے۔ بعد میں انھوں نے کانگریس کی رکنیت اختیار کر لی۔

اس کے علاوہ کانگریس نے تنظیم میں مزید کچھ تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ کانگریس نے سینئر لیڈر مکل واسنک کو گجرات کا انچارج جنرل سکریٹری اور رندیپ سنگھ سرجے والا کو مدھیہ پردیش کا انچارج جنرل سکریٹری مقرر کیا ہے۔ ان دونوں نے بالترتیب رگھو شرما اور جئے پرکاش اگروال کی جگہ لی ہے۔

نوح تشدد: بٹو بجرنگی کے پاس سے برآمد ہوئیں 8 تلواریں، 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا فیصلہ

0
نوح-تشدد:-بٹو-بجرنگی-کے-پاس-سے-برآمد-ہوئیں-8-تلواریں،-14-دن-کی-عدالتی-حراست-میں-بھیجنے-کا-فیصلہ

ہریانہ کے نوح ضلع میں 31 جولائی کو ہوئے فرقہ وارانہ تصادم کے سلسلے میں گرفتار گئو رکشک بٹو بجرنگی کو جمعرات کے روز نوح کی ایک عدالت نے 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ اس درمیان نوح پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے اس کے پاس سے آٹھ تلواریں برآمد کی ہیں۔

اسسٹنٹ پولیس سپرنٹنڈنٹ (اے ایس پی) اوشا کنڈو کی شکایت کی بنیاد پر نوح کے صدر پولیس اسٹیشن میں ایک نئی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد راج کمار عرف بٹو بجرنگی کو منگل کے روز فرید آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بٹو بجرنگی کو بدھ کو نوح کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں سے اسے آگے کی پوچھ تاچھ کے لیے ایک دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا تھا۔

ہریانہ پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد بھڑکانے والے سوشل میڈیا پوسٹ سے پہچانے گئے بٹو بجرنگی نے حامیوں کے ساتھ 31 جولائی کو وی ایچ پی کی برج منڈل جلابھشیک یاترا کے دوران نلہر مندر میں تلوار اور تریشول لے جاتے وقت اے ایس پی اوشا کنڈو اور پولیس ٹیم کے ساتھ مبینہ طور پر غلط سلوک کیا تھا اور انھیں روکا بھی تھا۔

اس سے پہلے یکم اگست کو بٹو بجرنگی کو فرید آباد پولیس نے ایک دیگر معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ اس پر وی ایچ پی کی برج منڈل جلابھشیک یاترا سے پہلے اشتعال انگیز ویڈیو بنانے کا الزام تھا۔ اسے فرید آباد کی ایک عدالت نے بعد میں ضمانت دے دی تھی جس کے بعد وہ رِہا ہو گیا تھا۔ اس کے 15 دن بعد 15 اگست کو پھر اسے فرید آباد میں اس کے گھر کے پاس سے پولیس نے گرفتار کر لیا۔

اس درمیان بٹو بجرنگی کی گرفتاری کے بعد وشو ہندو پریشد نے خود کو اس سے الگ کر لیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ کبھی بھی بجرنگ دل سے نہیں جڑا ہوا تھا۔ حالانکہ فرید آباد اور پورے ہریانہ میں بٹو بجرنگی وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے کارکن کی شکل میں ہی مشہور ہے۔ اس نے اپنی کئی ویڈیوز میں بھی ان تنظیموں سے جڑے ہونے کی بات کہی ہے۔

راہل گاندھی نے ’بھارت جوڑو‘ کیا اور وزیر اعظم مودی ’بھارت توڑو‘ کر رہے: ملکارجن کھڑگے

0
راہل-گاندھی-نے-’بھارت-جوڑو‘-کیا-اور-وزیر-اعظم-مودی-’بھارت-توڑو‘-کر-رہے:-ملکارجن-کھڑگے

نئی دہلی: کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے آج آل انڈیا مہیلا کانگریس کے ذریعہ دہلی کے تال کٹورا اسٹیڈیم میں منعقد قومی سمیلن میں مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھرپور انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’پی ایم مودی کہتے ہیں کانگریس نے 70 سال میں کیا کیا۔ جواب یہ ہے کہ کانگریس نے جمہوریت اور آئین کو بچا کر رکھا، اسی لیے مودی وزیر اعظم بن پائے۔ راہل گاندھی 4500 کلومیٹر پیدل چلے اور انھوں نے یاترا کے ذریعہ ’بھارت جوڑنے‘ کا کام کیا، لیکن مودی ’بھارت توڑو‘ کا کام کرتے ہیں۔‘‘

اپنے خطاب میں کھڑگے نے بی جے پی کے ذریعہ کیے جانے والے خواتین کی خود مختاری سے متعلق دعووں کو کھوکھلا بتاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا نظریہ خواتین کو گھر تک ہی محدود رکھنے کا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’خواتین طاقت کی علامت ہیں۔ ہندوستان میں ہر شعبہ میں خواتین کا تعاون عظیم رہا ہے۔ قوت نسواں کی شراکت داری کے بغیر ملک کی ترقی ادھوری ہے۔ ہماری لیڈر کملا نہرو، سروجنی نائیڈو، ارونا آصف علی، راج کمار امرت کور جیسی کئی خاتون ہستیاں ہیں جنھوں نے انگریزی حکومت کو ہلا دیا تھا۔ وزیر اعظم کی شکل میں اندرا جی کے کاموں کو ملک فراموش نہیں کر سکتا۔ اندرا گاندھی جی نے خواتین کو مضبوط بنانے کا کام کیا اور بنگلہ دیش کو آزاد کرانے کے بعد پاکستان کے ایک لاکھ لوگوں کو جیل میں ڈالا۔ سونیا گاندھی جی نے وزیر اعظم عہدہ کی قربانی دے کر دنیا میں ایک مثال قائم کی۔‘‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ملکارجن کھڑگے کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی اور آر ایس ایس کا نظریہ خواتین کو تعلیم سے دور رکھنے کا ہے، ان سے صرف کام کروانا ان کا مقصد ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین یہ عزم لیں کہ 2024 میں بی جے پی حکومت کو ہٹانا ہے، کیونکہ ان کی حکومت میں کوئی خوش نہیں ہے۔ ملک میں مردون کے مقابلے خاتون ووٹر زیادہ ہیں۔ اگر خواتین عزم کر لیں تو بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا مشکل نہیں۔‘‘

کانگریس صدر نے وزیر اعظم مودی کے ذریعہ 15 اگست کو لال قلعہ سے کیے گئے خطاب پر بھی تبصرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’مودی جی نے کہا کہ وہ 2024 میں بھی لال قلعہ پر ترنگا لہرائیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ ترنگا تو ضرور لہرائیں گے، لیکن لال قلعہ پر نہیں بلکہ اپنے گھر پر۔‘‘ وزیر اعظم مودی پر طنز کستے ہوئے انھوں نے تقریب میں موجود خواتین سے سوال کیا کہ پی ایم مودی نے ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو ملازمت دینے کا وعدہ کیا تھا، کیا انھیں ملا؟ انھوں نے بیرون ممالک میں جمع کالا دھن واپس لا کر ملک کے شہریوں کو 15-15 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، کیا انھیں ملا؟ کھڑگے مزید کہتے ہیں کہ ’’وزیر اعظم مودی نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ وزیر اعظم ہمدردی حاصل کرنے کے لیے خود کو غریب کہتے ہیں۔ اگر کوئی روزانہ 10 لاکھ روپے کا سوٹ پہننے لگے تو وہ غریب کہاں ہے؟‘‘

منی پور کے موجودہ حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ منی پور میں تشدد ہو رہا ہے، خواتین کے ساتھ عصمت دری ہو رہی ہے، لوگ مارے جا رہے ہیں اور اب بھی منی پور بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم نے پارلیمنٹ میں منی پور کے بارے میں بولنے کے لیے وزیر اعظم سے بار بار گزارش کی۔ جب وہ نہیں بولے تب پارلیمنٹ میں ہمیں تحریک عدم اعتماد پیش لانی پڑی۔ وزیر اعظم کے پاس مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ جا کر انتخابی تشہیر کرنے کے لیے وقت ہے لیکن منی پور جانے کا وقت نہیں ہے۔ دوسری طرف راہل گاندھی منی پور گئے اور انھوں نے لوگوں کا دکھ درد جانا۔‘‘

منی پور: 10 قبائلی اراکین اسمبلی نے اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا کیا اعلان، امپھال کو بتایا وادیٔ تباہی

0
منی-پور:-10-قبائلی-اراکین-اسمبلی-نے-اسمبلی-اجلاس-کے-بائیکاٹ-کا-کیا-اعلان،-امپھال-کو-بتایا-وادیٔ-تباہی

منی پور میں تشدد کے بعد سے سیکورٹی اسباب کو لے کر قبائلیوں کے لیے الگ انتظامیہ کا مطالبہ کر رہے 10 قبائلی اراکین اسمبلی نے 21 اگست سے شروع ہونے والے ریاستی اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ قبائلی طبقہ کے وزیر، اراکین اسمبلی اور عام لوگ میتئی اکثریتی راجدھانی مپھال جانے سے ڈرتے ہیں۔

انڈیجنس ٹرائبل لیڈرس فورم (آئی ٹی ایل ایف) کے ترجمان گنزا وولزونگ نے کہا کہ قبائلی وزراء، اراکین اسمبلی اور عوام میتئی اکثریتی ریاست کی راجدھانی امپھال کا دورہ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ وولزونگ نے کہا کہ ’’کوکی، زومی اور دیگر قبائلی طبقات سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی وزیر، رکن اسمبلی اور لیڈر سیکورٹی اسباب کی بنا پر امپھال جانے کا خواہشمند نہیں ہے، اس لیے وہ اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔‘‘

اپوزیشن کانگریس سمیت مختلف طبقات کے مطالبہ کے بعد طلب کیے گئے آئندہ اسمبلی اجلاس میں نسلی تشدد پر بحث ہونے کا امکان ہے، جو 3 مئی کو بھڑکا تھا اور جس میں اب تک 260 سے زائد لوگ مارے گئے ہیں، 600 سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں لوگوں کو ہجرت کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔ تشدد میں ریاست کی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

منی پور کے سرکردہ اور اثر والے قبائلی اداروں میں سے ایک آئی ٹی ایل ایف بھی قبائلیوں کے قتل اور حملوں کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کر رہا ہے۔ 12 مئی سے ریاست کی برسراقتدار بی جے پی کے 7 اراکین اسمبلی سمیت 10 اراکین اسمبلی قبائلیوں کے لیے ایک علیحدہ انتظامیہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ، بی جے پی، میتئی باڈی کوآرڈنیشن کمیٹی آن منی پور انٹگریٹی (سی او سی او ایم آئی) اور کئی دیگر اداروں نے الگ انتظامیہ کے مطالبے کی سخت مخالفت کی ہے۔

بہرحال، قبائلی اراکین اسمبلی نے بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک عرضداشت بھیجا، اس میں پانچ پہاڑی ضلعوں چراچندپور، کانگپوکپی، چندیل، تینگ نوپال اور فیرزو کے لیے چیف سکریٹری اور پولیس ڈائریکٹر جنرل یا ہم منصب عہدوں کی بنیاد ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے زومی-کوکی لوگوں کی مناسب بازآبادکاری کے لیے وزیر اعظم راحت فنڈ سے 500 کروڑ روپے کی منظوری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ ’’تشدد میں ریاستی اسمبلی کے اراکین کو بھی نہیں بخشا گیا۔ رکن اسمبلی وونگزاگن والٹے اور ان کے ڈرائیور کو مئی میں وزیر اعلیٰ کے بنگلے سے ایک میٹنگ سے لوٹتے وقت راستے میں روک لیا گیا۔ ان کے ڈرائیور کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا اور رکن اسمبلی پر ظلم کیا گیا اور پیٹا گیا۔ رکن اسمبلی کو سیکورٹی فورسز نے بچا لیا اور انھیں نئی دہلی لے جایا گیا جہاں وہ جسمانی اور ذہنی طور سے نااہل ہو گئے ہیں۔ دیگر کابینہ وزراء، لیٹ پاؤ ہاؤکپ اور نیمچا کپگین کے گھر جل کر راکھ ہو گئے۔‘‘

قبائلی اراکین اسمبلی نے الزام لگایا کہ امپھال کوکی-زومی لوگوں کے لیے موت اور تباہی کی وادی بن گیا ہے۔ کوئی بھی اس شہر میں واپس جانے کی ہمت نہیں کرتا جہاں اسمبلی، ریاستی سکریٹریٹ اور دیگر اداروں سمیت اہم سرکاری دفاتر واقع ہیں۔ اراکین اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ کوکی-زومی قبائلیوں سے متعلق آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران بھی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں اہل نہیں ہیں۔

ناگپور ایئرپورٹ پر بڑا حادثہ، پرواز سے پہلے بورڈنگ گیٹ پر انڈیگو کا پائلٹ بیہوش، اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی موت

0
ناگپور-ایئرپورٹ-پر-بڑا-حادثہ،-پرواز-سے-پہلے-بورڈنگ-گیٹ-پر-انڈیگو-کا-پائلٹ-بیہوش،-اسپتال-پہنچنے-سے-پہلے-ہی-موت

جمعرات کے روز ناگپور سے پونے جا رہی انڈیگو کی پرواز سے ٹھیک پہلے اسی طیارہ کا ایک پائلٹ بیہوش ہو کر بورڈنگ گیٹ پر گر گیا۔ اسپتال لے جانے کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ انڈیگو کے ترجمان نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’’ناگپور میں ہمارے ایک پائلٹ کا انتقال ہو گیا جس پر ہمیں افسوس ہے۔ ناگپور ہوائی اڈے پر ان کی طبیعت خراب ہو گئی اور انھیں اسپتال لے جایا گیا جہاں بدقسمتی سے ان کا انتقال ہو گیا۔ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں ان کے اہل خانہ اور احباب کے ساتھ ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ اس ہفتہ پائلٹوں کی اچانک موت کا یہ تیسرا معاملہ ہے۔ ان میں سے دو پائلٹ ہندوستانی ہیں۔ قطر ایئرویز کا ایک تجربہ کار پائلٹ بدھ کے روز ایک مسافر کی شکل میں دہلی سے دوحہ جا رہا تھا جب راستے میں اس کی طبیعت خراب ہو گئی۔ طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب ہو گئی تھی جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ پھر فلائٹ کیو آر 579 کو بیچ راستے سے دبئی کے لیے ڈائیورٹ کیا گیا تھا۔ یہ پائلٹ پہلے الائنس ایئر اور اسپائس جیٹ کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔