ہفتہ, مارچ 21, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 18

دہلی کی ووٹنگ: کیجریوال کی امیدوں کا جھرمٹ، عوام کی اپیل

0
<b>دہلی-کی-ووٹنگ:-کیجریوال-کی-امیدوں-کا-جھرمٹ،-عوام-کی-اپیل</b>
دہلی کی ووٹنگ: کیجریوال کی امیدوں کا جھرمٹ، عوام کی اپیل

دہلی میں اسمبلی انتخابات کے لیے آج ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جس میں عوام نے خوشی خوشی اپنے حق رائے دہی کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ اس موقع پر، عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ایک اہم سوشل میڈیا پیغام کے ذریعے دہلی کی عوام سے بڑی اپیل کی ہے کہ وہ ووٹ ڈالیں، جو صرف ایک بٹن نہیں بلکہ ان کے بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔

مہم کا مقصد: ترقی اور ایمانداری کی فتح

کیجریوال نے اپنے پیغام میں کہا کہ "پیارے دہلی والوں، آج ووٹ کا دن ہے، آپ کا ووٹ صرف ایک بٹن نہیں، یہ آپ کے بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔” انہوں نے دہلی کے عوام سے اپیل کی کہ وہ جھوٹ، نفرت اور خوف کی سیاست کو شکست دے کر سچائی، ترقی اور ایمانداری کو فتح دلائیں۔ یہ ووٹ نہ صرف ان کی زندگیوں بلکہ آئندہ نسلوں کے مستقبل کے لیے بھی اہم ہے۔

کیجریوال نے مزید کہا کہ "خود بھی ووٹ کریں اور اپنے دوستوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں کو بھی راغب کریں۔ غنڈہ گردی ہارے گی، دلّی جیتے گی۔” ان کی یہ باتیں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ یہاں صرف ایک سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں کا سوال بھی ہے۔

کون، کیا، کہاں، کب اور کیوں؟

دہلی کی اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ کا عمل بدھ، 5 فروری 2023 کو ایک ساتھ ہو رہا ہے۔ اس میں مختلف سیاسی جماعتیں میدان میں ہیں، جن میں عام آدمی پارٹی، کانگریس، بی جے پی اور مختلف آزاد امیدوار شامل ہیں۔ اس بار کُل 699 امیدواروں میں سے ہر ایک اپنی جیت کے لیے کوشاں ہے۔ کیجریوال نئی دہلی سیٹ سے انتخاب لڑ رہے ہیں، جہاں انہیں کانگریس کے سندیپ دیکشت اور بی جے پی کے پرویش سنگھ ورما سے سخت مقابلہ درپیش ہے۔

اس موقع پر عآپ کے سینئر رہنما منیش سسودیا نے بھی اپنی پارٹی کی کامیابی پر یقین ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے عوام اروند کیجریوال کو ایک بار پھر وزیر اعلیٰ بنائیں گے۔ سسودیا نے کالکاجی کے درشن کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ خود جنگ پورہ سیٹ سے انتخاب جیتیں گے۔

انتخابی عمل کی تفصیلات

دہلی میں اس انتخاب کے لیے 13 ہزار سے زیادہ بوتھ بنائے گئے ہیں جہاں سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ ووٹنگ جاری ہے۔ عوام کی دلچسپی اور بوٹ ڈالنے کی شرح میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ عوام کی سیاسی شمولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انتخابی ماحول: کیجریوال کا چیلنج

کیجریوال کی سیاسی کہانی میں یہ ایک اہم موقع ہے، کیونکہ انہیں دو سابق وزیر اعلیٰ کے بیٹوں سے چیلنج کا سامنا ہے۔ وہ یہ بات سمجھتے ہیں کہ ووٹ کا حق نہ صرف ان کی پارٹی بلکہ دہلی کی ترقی کے لیے بھی اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عوام سے عزم کے ساتھ ایک ساتھ ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے، تاکہ مضبوط اور ترقی یافتہ دہلی کی تشکیل کی جا سکے۔

عوامی شمولیت: ایک نئی امید

دہلی کے عوام نے بڑی تعداد میں ووٹ کے عمل میں شرکت کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے ووٹ دینے کی ایک بڑی تعداد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عوام اب اپنے مستقبل کے لئے سوچنے لگے ہیں اور وہ سیاسی تحریک کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں۔

قومی سیاست میں دہلی کا کردار

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں دہلی کا انتخابی عمل اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ ملک کی سیاست پر ایک واضح اثر ڈال سکتا ہے۔ دہلی کی عوام کی سیاسی مضبوطی دیگر ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔

اس موقع پر، انتخابی عمل میں شفافیت اور ایمانداری کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ عوام کی شمولیت کے ساتھ ساتھ، آپ کی قیادت والے حکومت کی ذمہ داری بھی ہوگی کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرے۔

دہلی کے انتخابات: مودی اور شاہ کی عوام سے ووٹنگ کی زور دار اپیل

0
<b>دہلی-کے-انتخابات:-مودی-اور-شاہ-کی-عوام-سے-ووٹنگ-کی-زور-دار-اپیل</b>
دہلی کے انتخابات: مودی اور شاہ کی عوام سے ووٹنگ کی زور دار اپیل

آج دہلی میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری

آج، 5 فروری، دہلی میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ صبح 7 بجے سے پولنگ مراکز پر ووٹ ڈالنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور یہ شام 6 بجے تک جاری رہے گا۔ اس بار کی انتخابی مہم میں عوامی شرکت کو بڑھانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے عوام سے ایک خاص اپیل کی ہے کہ وہ جمہوریت کے اس تہوار میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں دہلی کے رائے دہندگان سے کہا ہے کہ وہ اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کریں اور انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں، خاص طور پر نوجوان ووٹروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پہلی بار ووٹ دیتے وقت اس موقع کو یادگار بنائیں۔

دوسری طرف، وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ اگر لوگ بڑھ چڑھ کر ووٹ ڈالیں تو دہلی کو ایک ترقی یافتہ راجدھانی بنایا جا سکتا ہے۔ ان دونوں رہنماؤں کی اپیلوں نے دہلی کے عوام میں ایک نئی امید پیدا کی ہے اور لوگ اپنے اپنے پولنگ اسٹیشنز کی طرف جستجو کر رہے ہیں۔

انتخابی عمل میں اہمیت

دہلی کی 70 اسمبلی سیٹوں پر ہونے والی یہ ووٹنگ دراصل دہلی کے عوام کی اپنی حکومت منتخب کرنے کا موقع ہے۔ یہ انتخابات عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کے ایجنڈے پر مرکوز ہیں۔ ایسے میں ووٹ دینے کے عمل میں شامل ہونا نہ صرف ایک قومی فریضہ ہے بلکہ ایک عوامی ذمے داری بھی سمجھنا چاہئے۔

وزیر اعظم نے نوجوان ووٹروں کو خاص طور پر یاد دلایا کہ "پہلے متدان (ووٹنگ) پھر جلپان (کھانا)” کا اصول اپنائیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ لوگ عملی طور پر ووٹنگ کے عمل میں شامل ہوں اور اسے اپنی قومی ذمہ داری سمجھیں۔

بین الاقوامی تناظر اور دہلی کی ترقی

دہلی کے اسمبلی انتخابات کی اہمیت صرف مقامی سطح پر نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ہے۔ ماضی میں دہلی کی حکومت کا ترقیاتی ماڈل دنیا کے دیگر شہروں کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔ وزیر داخلہ شاہ نے بھی کہا کہ "آپ کا ایک ووٹ دہلی کو دنیا کی سب سے ترقی یافتہ راجدھانی بنا سکتا ہے”۔

مقامی حکومت کی کارکردگی، انتظامی مہارت اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت دہلی نے اپنے آپ کو دیگر شہروں سے ممتاز کیا ہے۔ دہلی کی عوامی آمدورفت، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مسلسل بہتری کا عمل جاری ہے، اور ان انتخابات میں عوامی رائے دہی اس کی توثیق کر سکتی ہے۔

مزید اپیلیں اور توقعات

دہلی کے وزیر اعلیٰ اور دیگر سیاسی رہنما بھی عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ انتخابات میں بھرپور شرکت کریں۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے بھی دہلی عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتخابات نئی حکومت کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوں گے جو عوام کے مفادات کو مدنظر رکھ سکے۔

واضح رہے کہ دہلی کی اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان 8 فروری کو کیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف حکومت کی تشکیل ہوگی بلکہ عوامی مسائل پر بھی توجہ دی جائے گی جو دہلی کے عوام کے لیے اہم ہیں۔

دہلی اسمبلی انتخابات: ملکارجن کھڑگے کی بھرپور ووٹ ڈالنے کی اپیل

0
<b>دہلی-اسمبلی-انتخابات:-ملکارجن-کھڑگے-کی-بھرپور-ووٹ-ڈالنے-کی-اپیل</b>
دہلی اسمبلی انتخابات: ملکارجن کھڑگے کی بھرپور ووٹ ڈالنے کی اپیل

نئی دہلی: دہلی کی عوام کی ذمہ داری اور انتخابات کی اہمیت

ملکارجن کھڑگے، جو کہ کانگریس کے صدر ہیں، نے دہلی اسمبلی انتخابات کے ضمن میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں اپنے گھروں سے باہر نکل کر ووٹ ڈالیں۔ انہوں نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ دہلی کے تمام ووٹرز کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لینا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ووٹ دینا ایک قیمتی حق ہے اور ہر ووٹ دہلی کی ترقی کی راہ میں ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

ہمارے ملک کی جمہوریت میں ووٹنگ کا عمل نہایت اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً دہلی جیسے اہم شہر میں جہاں پر ہر ایک ووٹ کی اہمیت ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ انتخابی عمل کے دوران ووٹر کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کس امیدوار کو منتخب کرتے ہیں، کیونکہ منتخب نمائندے ہی عوام کی زندگی میں بہتری لانے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

کون، کیا، کہاں، کب، کیوں اور کیسے؟

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے دہلی کے عوام سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔ انتخابات کا یہ سلسلہ بدھ کے روز شروع ہوا ہے۔ دہلی کی اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے، اور یہ موقع ہر شہری کے لیے اپنی رائے کا اظہار کرنے کا ہے۔ کھڑگے نے نوجوانوں اور خصوصاً پہلی بار ووٹ ڈالنے والوں سے درخواست کی ہے کہ وہ جمہوریت کے اس تہوار میں بھرپور شرکت کریں۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ عوام ایسے امیدواروں کو منتخب کریں جو واقعی دہلی میں بہتری کے لیے کام کر چکے ہوں۔ کھڑگے نے زور دیا کہ ووٹنگ کے وقت عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ کس لوگ کو منتخب کر رہے ہیں، کیونکہ کچھ امیدوار صرف وعدے کرتے ہیں لیکن زمینی حقیقت سے دور رہتے ہیں۔

کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ دہلی کے عوام کو خالصتاً ترقی کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہئے، نہ کہ کسی بھی قسم کی سیاست یا بہانوں کی بنیاد پر۔ یہ بات یقینی بناتی ہے کہ عوام کا فیصلہ دہلی کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

دہلی کی ترقی کے لیے عوام کا کردار

کھڑگے نے اس بات پر زور دیا کہ دہلی کی ترقی کے لیے عوام کو چاہیے کہ وہ اپنا قیمتی ووٹ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی بھائی چارہ، ہم آہنگی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ عوام ایسے لوگوں کو منتخب کریں جو واقعی خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کرتے ہوں۔

کھڑگے نے کہا، "جب آپ ای وی ایم کا بٹن دبانے جائیں تو یہ سوچیں کہ کون واقعی آپ کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے، اور کون صرف اقتدار کے لیے آپ کا استحصال کرتا ہے۔” اس طرح کی سوچ ووٹرز کو صحیح راستہ دکھا سکتی ہے اور انہیں اس بات پر بھی غور کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے کہ ان کے ووٹ کا اثر دہلی کی ترقی پر کیا ہوگا۔

نوجوانوں کی شرکت اور جمہوریت کی اہمیت

ملکارجن کھڑگے نے خاص طور پر نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جمہوریت کے اس تہوار میں اپنی بھرپور شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی رائے دہی دہلی کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ یہی نوجوان کل کے رہنما بنیں گے۔ کھڑگے نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو اپنی طاقت کو پہچاننا چاہیے اور اس کا استعمال اپنے مستقبل کے تعین کے لیے کرنا چاہیے۔

"یہ وقت ہے کہ آپ اپنی آواز بلند کریں اور اپنے حقوق کے لیے لڑیں۔ ووٹنگ آپ کی واحد طاقت ہے، جو آپ کو اپنے روشن مستقبل کی تعمیر کا موقع فراہم کرتی ہے۔”

دہلی کے مسائل اور ان کا حل

کھڑگے نے دہلی کی عوام کو یاد دلایا کہ شہر کو کئی مسائل کا سامنا ہے، جیسے ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، گندے پانی کا نظام، آلودگی، اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ عوام ایسے امیدواروں کو منتخب کریں جو ان چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

"صرف وعدے کرنے والے نہیں، بلکہ وہ لوگ جو عملی طور پر ان مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہیں منتخب کریں۔”

دہلی اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کا عمل شروع، سکیورٹی کے بلند ترین انتظامات

0
<b>دہلی-اسمبلی-انتخابات-میں-ووٹنگ-کا-عمل-شروع،-سکیورٹی-کے-بلند-ترین-انتظامات</b>
دہلی اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کا عمل شروع، سکیورٹی کے بلند ترین انتظامات

نئی دہلی: دہلی اسمبلی کی تمام 70 نشستوں کے لیے بدھ کی صبح 7 بجے ووٹنگ کا عمل شروع ہوا ہے۔ یہ عمل شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ ووٹرز میں واضح جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے، اور پولنگ مراکز پر لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ دہلی کے ساتھ ساتھ تمل نادوں اور اتر پردیش کی اسمبلی سیٹوں پر بھی ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔

کون، کیا، کہاں، کب، کیوں، اور کیسے:
دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر آر ایلس واز نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھرپور طریقے سے جمہوری عمل میں حصہ لیں۔ یہ انتخابات دہلی کی تمام 70 نشستوں کے لیے ہو رہے ہیں، جن کا فوری اثر دہلی کی سیاسی صورتحال پر ہوگا۔ یہ ووٹنگ عمل موجودہ ذہنیت اور سیاسی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ ووٹنگ کا یہ عمل آج صبح 7 بجے شروع ہوا اور شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ اس کا مقصد ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

سکیورٹی کے حوالے سے انتخابات کے دوران سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ تقریباً 97,955 انتخابی عملہ اور 8,715 رضاکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ سکیورٹی کے لیے سنٹرل ریزرو پولیس فورس کی 220 کمپنیاں، 19,000 ہوم گارڈ اہلکار اور 35,626 دہلی پولیس کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

انتخابی عمل میں سہولیات:
انتخابی عمل کے دوران بزرگ شہریوں اور معذور ووٹروں کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ سہولیات میں وہیل چیئرز اور علیحدہ قطاروں کا انتظام شامل ہے تاکہ انہیں ووٹ ڈالنے میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مزید یہ کہ الیکشن کمیشن نے ووٹنگ کے دوران بھیڑ کم کرنے کے لیے ایک خصوصی ایپ بھی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے ووٹرز پولنگ اسٹیشنز پر موجود بھیڑ کی صورتحال جان سکتے ہیں۔

نتائج کی تاریخ:
دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج 8 فروری کو جاری کیے جائیں گے، جب یہ دیکھا جائے گا کہ کون سی جماعت کو دہلی میں اقتدار حاصل ہوتا ہے۔ ان انتخابات کا نتیجہ نہ صرف دہلی کی سیاسی منظرنامہ پر اثر ڈالے گا بلکہ یہ قومی سیاست پر بھی گہرا اثر مرتب کر سکتا ہے۔

سکیورٹی کا خاص خیال:
تقریباً 3,000 پولنگ بوتھس کو حساس قرار دیا گیا ہے، جہاں اضافی سکیورٹی تعینات کی گئی ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ڈرون بھی پولنگ کے عمل پر نظر رکھیں گے تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورت حال کا فوری سامنا کیا جا سکے۔

عوام کی توقعات:
عام عوام کی جانب سے بھی یہ توقعات وابستہ ہیں کہ ان کے ووٹ کا اثر نہ صرف دہلی بلکہ ملک کی بھلائی کے لیے بھی ہوگا۔ دہلی ایک اہم ریاست ہے، جہاں کی سیاسی صورتحال کا ملکی سیاست پر اثر دہندہ ہوتا ہے۔

مناسب ساتھی روابط:
مزید معلومات کے لیے ہمارے دیگر مضامین بھی دیکھیں:[دہلی کے انتخابات کی تاریخ](#) اور[انتخابی عمل کی تفصیلات](#).

عوامی دلچسپی کے پیش نظر، ہمیں اس بارے میں بھی دیکھنا ہوگا کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے پیش کردہ منصوبے عوام کے لیے کس حد تک مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایپ کی بدولت سہولت:
نئے ٹیکنالوجی کے استعمال کی بدولت، عام شہریوں کو ان کی پسند کے ممبر کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کرنے میں آسانی ہوگی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ خصوصی ایپ سے نہ صرف ووٹنگ کا عمل جاری رکھا جائے گا بلکہ یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ کس پولنگ اسٹیشن پر کتنی بھیڑ ہے، تاکہ ووٹرز بہتر طور پر منصوبہ بندی کرسکیں۔

عزت فزوں:
دہلی اسمبلی انتخابات 2023 کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صرف ایک ریاستی انتخابات نہیں ہیں بلکہ اس کے نتائج ملکی سیاست کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ دہلی میں سیاسی مقابلے ہمیشہ سے سخت رہے ہیں، اور اس بار بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ انتخابی مہم میں شدت دیکھنے کو ملے گی۔

منموہن سنگھ کی یادگار کی تعمیر کے لیے زمین کی پیشکش، حکومت کی جانب سے اہم اقدام

0
<b>منموہن-سنگھ-کی-یادگار-کی-تعمیر-کے-لیے-زمین-کی-پیشکش،-حکومت-کی-جانب-سے-اہم-اقدام</b>
منموہن سنگھ کی یادگار کی تعمیر کے لیے زمین کی پیشکش، حکومت کی جانب سے اہم اقدام

سابق وزیر اعظم کے اہل خانہ کے لیے زمین کی فراہمی: تفصیلات اور پس منظر

مرکزی حکومت نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے یادگاری اسمارک کی تعمیر کے لیے ان کے اہل خانہ کو زمین فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یہ فیصلہ منموہن سنگھ کے انتقال کے بعد کیا گیا ہے، جو کہ گزشتہ سال دسمبر میں 26 تاریخ کو ہوا تھا۔ اسمارک کی تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے، حکومت نے ایک اہم اقدام اٹھایا ہے تاکہ منموہن سنگھ کی خدمات کو یاد رکھا جا سکے۔ حکومت کے ذرائع کے مطابق، یہ زمین راج گھاٹ کے احاطے میں فراہم کی جائے گی اور یہ جگہ سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے اسمارک کے قریب واقع ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، حکومت اس وقت منموہن سنگھ کے اہل خانہ کی طرف سے ٹرسٹ کی تشکیل کا انتظار کر رہی ہے۔ ٹرسٹ کی تشکیل کے بعد ہی اسمارک کی تعمیر کے لیے زمین کی باقاعدہ الاٹمنٹ عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں، حکومت اس ٹرسٹ کو اسمارک کی تعمیر کے لیے 25 لاکھ روپے بھی فراہم کرے گی، تاکہ یادگار کی تعمیر کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

کیا ہے اسمارک کا مقصد اور اس کی اہمیت؟

منموہن سنگھ کو ملک کے معاشی لبرلائزیشن کا بانی سمجھا جاتا ہے، اور ان کے فیصلوں کے اثرات آج بھی ملک کی معیشت پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ 1991 میں جب وہ وزیر خزانہ تھے، تو انہوں نے ہندوستان میں بے مثال اقتصادی اصلاحات کیں، جنہوں نے ملک کو عالمی معاشی منظر نامے پر ایک نئی شناخت دی۔ وہ 2004 سے 2014 تک ملک کے وزیر اعظم رہے اور اس دوران انہوں نے کئی اہم اقتصادی اور سماجی فیصلے کیے جو ملک کی ترقی کے لیے معاون ثابت ہوئے۔

حکومت کے اس فیصلے پر کانگریس پارٹی نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب انہوں نے مرکزی حکومت پر تنقید کی تھی کہ وہ منموہن سنگھ کے اسمارک کے لیے مناسب جگہ تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اب اس زمین کی پیشکش منموہن سنگھ کے خاندان کے لیے ایک روزن کی مانند ہے، جہاں وہ اپنے والد کی خدمات کو قوم کے سامنے پیش کر سکیں گے۔

کیا کہتی ہیں مختلف شخصیات اور سیاسی جماعتیں؟

چند سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک خوش آئند فیصلہ ہے اور اس سے حکومت کی نیت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ سابقہ حکومت کی وراثت کا احترام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، منموہن سنگھ کی یادگار کی تعمیر سے نوجوان نسل کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ان کا دور کس طرح ملک کی معاشرت اور معیشت کے لیے اہم تھا۔

کانگریسی رہنما بھی اس فیصلے کی تعریف کر رہے ہیں، اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے رہنماؤں کی خدمات کو یاد رکھیں اور ان کی تعلیمات کو نئی نسل تک پہنچائیں۔ حالیہ دنوں میں، کئی رہنما اور تجزیہ کاروں نے اظہار خیال کیا ہے کہ منموہن سنگھ کی یادگار ملک کی ترقی کی ایک علامت ہوگی۔

اسمارک کا ڈیزائن اور تعمیرات: حکومتی منصوبے

موصولہ اطلاعات کے مطابق، منموہن سنگھ کا اسمارک ‘راشٹریہ اسمرتی استھل’ کے تحت بنایا جائے گا، جس کی تجویز یو پی اے حکومت نے 2013 میں پیش کی تھی۔ یہ احاطہ اس وقت بھی مشہور ہے کیونکہ یہاں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا اسمارک بھی واقع ہے۔

جنوری کے آغاز میں، مرکزی پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے اس جگہ کا معائنہ کیا، اور سنجے گاندھی کی سمادھی کے قریب زمین دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ اسمارک کی تعمیر کا مقصد یہ ہے کہ یہ صرف ایک یادگار نہ ہو بلکہ ہماری معاشرتی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہو۔

منوج جھا کا مذہبی توہم پرستی کے خلاف سخت بیان، سیاسی جماعتوں کیلئے مشترکہ وصیت کا مشورہ

0
<b>منوج-جھا-کا-مذہبی-توہم-پرستی-کے-خلاف-سخت-بیان،-سیاسی-جماعتوں-کیلئے-مشترکہ-وصیت-کا-مشورہ</b>
منوج جھا کا مذہبی توہم پرستی کے خلاف سخت بیان، سیاسی جماعتوں کیلئے مشترکہ وصیت کا مشورہ

راجیہ سبھا میں اہم بحث: مذہبی باباؤں کی فیکٹری بند کرنے کی ضرورت

راجیہ سبھا میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی تقریر پر شکریہ کی تجویز کے دوران، آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ منوج کمار جھا نے ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی توہم پرستی پر سخت الفاظ میں اظہار خیال کیا۔ منوج جھا نے کہا کہ ملک میں ایک "باباؤں کی فیکٹری” وجود میں آ چکی ہے، جسے بند کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ یہ صورتحال ہر مذہب میں توہم پرستی کی بڑھتی ہوئی علامات کی عکاسی کرتی ہے۔

منوج جھا کے مطابق، سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ایک مشترکہ وصیت تیار کرنی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وصیت میں یہ واضح کیا جانا چاہئے کہ کوئی بھی "وی وی آئی پی درشن” کسی بھی مندر یا درگاہ میں نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں مذہبی توہم پرستی اور مذہبیت کا فرق کم ہوتا جا رہا ہے، جو کہ آئین کے نظریہ سے متصادم ہے۔

مکالمہ کا پس منظر: بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات

راجیہ سبھا میں منوج جھا نے محض مذہبی توہم پرستی کی بات نہیں کی بلکہ معاشی مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشی عدم مساوات بڑھ رہی ہے، جو آنے والے سالوں میں مزید مسائل پیدا کرے گی۔ بے روزگاری کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ "ہر تین نوجوانوں میں سے دو بے روزگار ہیں۔” یہ ایک تشویشناک مسئلہ ہے، خصوصاً بہار جیسے ریاستوں میں جہاں ترقی کے مواقع محدود ہیں۔

منوج جھا نے بہار میں اعلیٰ عہدوں کے امتحانات کی بے ضابطگیوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "کریکولم ویٹا” کے مطابق، گزشتہ کچھ سالوں میں کوئی بھی امتحان بے ضابطگی سے پاک نہیں رہا۔ جب نوجوان انصاف مانگنے جاتے ہیں تو ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے، جو کہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔

مذہبی توہم پرستی کا خاتمہ: ایک اجتماعی کوشش کی ضرورت

منوج جھا نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی توہم پرستی کے خاتمے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک موزوں اقدام اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ قومی سطح پر ایک مشترکہ سیاسی وصیت تیار کی جائے تاکہ لوگ حقیقت کو سمجھ سکیں اور دھوکہ دہی سے بچ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں "بابا” کی ترقی کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنی مشکلات کے حل کے لئے ان کے پاس جاتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک خیال ہے جو کہ عوام کی عقل و فہم کو چیلنج کرتا ہے۔

مستقبل کی راہیں: نوجوانوں کو بااختیار بنانا

منوج جھا نے کہا کہ کشمیر، بہار اور دیگر علاقوں کے نوجوانوں کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا تاکہ وہ مذہبی توہم پرستی کے جال سے نکل سکیں۔ نوجوانوں کی تعلیم اور ان کی بااختیاری کے لئے اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر ہم نوجوانوں کو درست تربیت اور مواقع فراہم کریں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لا سکتے ہیں۔

اجتماعی بصیرت: آئندہ کی ذمہ داری

اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا حل نکالیں۔ اگرچہ ہر جماعت کا اپنا نظریہ ہوتا ہے، لیکن مذہبی توہم پرستی اور بے روزگاری جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ جب ہم ایک قوم کی حیثیت سے کھڑے ہوتے ہیں تو ہم اپنی قوت میں اضافہ کرتے ہیں۔

تمام جماعتوں سے اپیل

منوج جھا نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آئیں اور اس مسئلے کا مؤثر حل نکالیں۔ "ہم سب کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ ان مسائل کا حل صرف سیاست کی دنیا میں نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی تلاش کرنا ہوگا۔”

مہاراشٹر: وزیر دھننجے منڈے کے لیے نئے الزامات، 88 کروڑ روپے کے زراعت گھوٹالے کی تحقیقات کا آغاز

0
<b>مہاراشٹر:-وزیر-دھننجے-منڈے-کے-لیے-نئے-الزامات،-88-کروڑ-روپے-کے-زراعت-گھوٹالے-کی-تحقیقات-کا-آغاز</b>
مہاراشٹر: وزیر دھننجے منڈے کے لیے نئے الزامات، 88 کروڑ روپے کے زراعت گھوٹالے کی تحقیقات کا آغاز

### مہاراشٹر کی مہایوتی حکومت میں مشکلات کا سامنا: دھننجے منڈے پر الزامات

مہاراشٹر کی مہایوتی حکومت میں وزیر دھننجے منڈے کی مشکلات اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ بیڈ ضلع میں ایک سرپنچ کے قتل کے معاملے کے بعد، اب ان پر محکمہ زراعت میں 88 کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ سماجی کارکن انجلی دمانیا نے اس گھوٹالے کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزامات اس وقت کی حکومت کی بدعنوانیوں کی عکاسی کرتے ہیں جب دھننجے منڈے وزیر زراعت تھے۔ دمانیا نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح ریاست کے کسانوں کو براہ راست مالی فوائد فراہم کرنے کے بجائے انہیں overpriced مصنوعات فراہم کی گئیں۔

جیسے ہی یہ الزامات منظر عام پر آئے، ریاستی وزیر نے ابھی تک ان پر کوئی واضح رد عمل نہیں دیا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے، انجلی دمانیا نے مبینہ گھوٹالے کے ثبوت بھی پیش کیے ہیں، جن میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح سرکار نے کسانوں کے پیسوں کا غلط استعمال کیا۔ مہایوتی حکومت کی موجودگی میں یہ الزامات مزید سنجیدہ ہو گئے ہیں، اور اس کے اثرات سیاسی میدان میں بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔

### دھننجے منڈے پر عائد الزامات کی تفصیل

انجلی دمانیا کے مطابق، 2016 میں مرکزی حکومت نے کسانوں کے لیے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کے تحت امداد فراہم کرنے کے طریقہ کار کو وضع کیا تھا۔ لیکن، سابق مہایوتی حکومت نے اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسانوں کو براہ راست مالی فوائد دینے کے بجائے overpriced اشیاء فراہم کیں، جس کے نتیجے میں 88 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا۔

انجلی دمانیا کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے مخصوص ایگریکلچرل آئٹمز کی خریداری میں بڑے پیمانے پر دھوکہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نینو یوریا، بیٹری اسپرے، اور دیگر زرعی کیمیکلز کی خریداری میں بھی مبینہ بدعنوانی کی گئی ہے۔ خاص طور پر، نینو ڈی اے پی کی ایک بوتل کی مارکیٹ قیمت 92 روپے ہے، جب کہ محکمہ زراعت نے یہ بوتل 220 روپے میں خریدی، جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

### وزیر دھننجے منڈے کا مؤقف اور حکومتی رد عمل

مہاراشٹر کی موجودہ مہایوتی حکومت میں، دھننجے منڈے محکمہ خوراک و فراہمی کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ ان الزامات پر ابھی تک کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، مہاراشٹر حکومت میں وزیر برائے سماجی انصاف سنجے شرساٹ نے کہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی اور اگر دمانیا کے پیش کردہ ثبوت درست ثابت ہوتے ہیں تو کارروائی کی جائے گی۔

شرساٹ نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ اس معاملے کی تفصیلات کا بغور جائزہ لیں گے اور اگر ضروری ہوا تو منڈے کی وزیر سے استعفیٰ کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ یہ کہنا سچ ہے کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنا اہم ہوگا، کیونکہ اگر دھننجے منڈے پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف ان کی سیاسی حیثیت کو متاثر کرے گا بلکہ حکومت کی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

### آئندہ کی صورت حال اور ممکنہ اثرات

مہاراشٹر میں آئندہ عام انتخابات قریب ہیں اور اس طرح کے الزامات حکومت کے لیے ایک چیلنج بن سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اگر یہ الزامات صحیح ثابت ہوتے ہیں تو یہ مہایوتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، خاص طور پر کسانوں کے درمیان۔

انجلی دمانیا کے دعوے کے مطابق، حکومت نے جو نئی ہدایات جاری کی ہیں وہ 12 مارچ 2024 کے بعد آتی ہیں، جس میں ایگریکلچر کمشنر کو زراعتی انپٹ خریدنے کے لیے کنٹرولنگ افسر مقرر کیا گیا ہے۔ اگر اس کے پیچھے کوئی بدعنوانی کا مقصد ہو تو یہ حکومت کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

مہاراشٹر کے سیاسی منظر نامے میں یہ علیحدہ روایات اور الزامات ایک نئے سیاسی بحران کا باعث بن سکتے ہیں۔ آئندہ ہفتوں میں، اس معاملے میں پیش رفت کا انتظار ہے اور ساتھ ہی ساتھ دھننجے منڈے کے سیاسی مستقبل پر بھی نظر رکھی جائے گی۔

سپریم کورٹ نے یو اے پی اے کی دفعات چیلنج کرنے والی درخواستیں دہلی ہائی کورٹ منتقل کرنے کی منظوری دے دی

0
<b>سپریم-کورٹ-نے-یو-اے-پی-اے-کی-دفعات-چیلنج-کرنے-والی-درخواستیں-دہلی-ہائی-کورٹ-منتقل-کرنے-کی-منظوری-دے-دی</b>
سپریم کورٹ نے یو اے پی اے کی دفعات چیلنج کرنے والی درخواستیں دہلی ہائی کورٹ منتقل کرنے کی منظوری دے دی

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعات 35 اور 36 کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت سے انکار کر دیا ہے اور معاملہ دہلی ہائی کورٹ کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اہم قانونی معاملات کو سر فہرست عدالت میں سننے سے پہلے ہائی کورٹ میں سنا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

کون، کیا، کہاں، کب، کیوں اور کیسے؟

سپریم کورٹ کی یہ فیصلہ چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور دیگر ججوں کی بنچ کی جانب سے آیا، جن میں جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے وی وشوناتھن شامل تھے۔ یہ درخواستیں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس اور ایک شہری حقوق کارکن سجل اوستھی کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔ درخواست گزاروں نے یہ شکوہ کیا کہ 1967 کے یو اے پی اے قانون میں 2019 میں کی گئی ترامیم حکومت کو اجازت دیتی ہیں کہ وہ کسی بھی شخص کو من مانی طور پر دہشت گرد قرار دے سکتی ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ فرد کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

عدالت نے یہ بھی وضاحت کی کہ اگر سپریم کورٹ براہ راست ان درخواستوں کی سماعت کرے تو اس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جیسا کہ دونوں فریقین کے دلائل کے کچھ نکات رہ سکتے ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ سی یو سنگھ، جو درخواست گزاروں کے وکیل ہیں، نے عدالت میں یہ بات پیش کی کہ یہ معاملہ پچھلے پانچ سال سے زیر سماعت ہے اور جب عدالت دیگر اہم آئینی مسائل کا جائزہ لے رہی ہے تو اس معاملے کو بھی سنا جانا چاہیے۔

یو اے پی اے کے خلاف اعتراضات

درخواست گزاروں کی جانب سے بیان کیا گیا کہ ان کی رائے میں، یہ ترمیمات بنیادی حقوق جیسے کہ برابری، آزادی، اور عزت کے خلاف ہیں۔ اس پر چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے واضح کیا کہ ان کے دلائل کی اہمیت یوں ہی برقرار رہے گی اگر یہ معاملہ ہائی کورٹ میں سنا جائے۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کی اپیل قبول کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو دہلی ہائی کورٹ کو منتقل کر دیا جائے گا تاکہ وہاں مناسب قانونی کارروائی کی جا سکے۔

عدالت نے ان درخواست گزاروں کی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ دہلی ہائی کورٹ میں یہ معاملہ زیادہ موزوں طور پر دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ وہ ریٹائرڈ سرکاری افسران ہیں اور دیگر ہائی کورٹوں میں پیروی کرنا ان کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ عدالت کی جانب سے یہ اقدام اس بات کا مظہر ہے کہ قانونی نظام میں انصاف کی فراہمی کو محسوس کیا جا رہا ہے، خاص طور پر جب بڑی تعداد میں اس طرح کی درخواستیں مختلف ہائی کورٹوں میں زیر التوا ہیں۔

مزید قانونی پس منظر

درخواست گزاروں نے اپنی درخواست میں یہ بھی ذکر کیا کہ یو اے پی اے کی دفعات میں تبدیلیاں حکومت کو یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ بلا وجہ لوگوں کو دہشت گرد قرار دے، جو کہ آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے تحت، عوامی حقوق کے تحفظ کی تنظیمیں اور شہری حقوق کے کارکنوں نے اپنی آواز بلند کی ہے کہ حکومت کی طرف سے اس طرح کی من مانی کارروائیاں انسانی حقوق کی پامالی کا سبب بن سکتی ہیں۔

یہ معاملہ عدالت میں محض قانونی نہیں بلکہ انسانی حقوق کے تناظر میں بھی اہم حیثیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے سپریم کورٹ نے اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اسے دہلی ہائی کورٹ کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں شہری حقوق کے تحفظ کی ضرورت کو محسوس کیا جا رہا ہے اور مختلف تنظیمیں اس بارے میں آواز اٹھا رہی ہیں۔

آگے کا راستہ

آگے بڑھتے ہوئے، اب یہ دہلی ہائی کورٹ پر ہے کہ وہ اس معاملے کی سماعت کرے اور دیکھے کہ کیا یو اے پی اے کی موجودہ دفعات آئین کے تحت دیے گئے حقوق کے مطابق ہیں یا نہیں۔ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا حکومت کو اتنی طاقت دی جا سکتی ہے کہ وہ کسی بھی فرد کو بغیر کسی ثبوت کے دہشت گرد قرار دے سکے، جو کہ ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے۔

عدالت کی جانب سے اس معاملے کو ہائی کورٹ کو منتقل کرنے کی اجازت کے بعد، درخواست گزاروں کی امیدیں ایک نئی سمت میں بڑھ گئی ہیں کہ وہ اپنی آواز کو قانونی طور پر بلند کر سکیں گے اور اپنی حقوق کی حفاظت کے لیے جدوجہد جاری رکھ سکیں گے۔ یہ ایک اہم موقع ہوگا جب عدالت میں اس قسم کی دفعات پر گفتگو کی جائے گی اور یہ دیکھا جائے گا کہ آیا ان کا مقصد عوامی تحفظ ہے یا صرف حکومت کی طاقت میں اضافہ۔

یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے نہ صرف قانونی نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ اس کے ذریعے عوامی سطح پر بھی شعور بیدار ہونے کی امید ہے کہ انہیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔

اکھلیش یادو کی پارلیمنٹ میں مہاکمبھ حادثے پر حکومت کی سخت تنقید، اعداد و شمار کی شمولیت کا مطالبہ

0
<b>اکھلیش-یادو-کی-پارلیمنٹ-میں-مہاکمبھ-حادثے-پر-حکومت-کی-سخت-تنقید،-اعداد-و-شمار-کی-شمولیت-کا-مطالبہ</b>
اکھلیش یادو کی پارلیمنٹ میں مہاکمبھ حادثے پر حکومت کی سخت تنقید، اعداد و شمار کی شمولیت کا مطالبہ

نئی دہلی: سماجوادی پارٹی کے قائد کی جانب سے زبردست سوالات اٹھائے گئے

نئی دہلی: سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے مہاکمبھ کے حادثے کے حوالے سے پارلیمنٹ میں حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے مہلوکین کے اعداد و شمار جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "حکومت اب تک مرنے والوں کے اعداد و شمار فراہم نہیں کر سکی، جبکہ بچوں کے اعداد و شمار تو بالکل ہی غائب ہیں۔ لوگ آج بھی اپنے پیاروں کو کھویا پایا مراکز پر تلاش کر رہے ہیں۔ مہاکمبھ میں کئی لوگ اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے۔”

ادیگر، اکھلیش نے مزید کہا کہ یہ مہاکمبھ کا انعقاد پہلی بار نہیں ہوا، بلکہ اس سے قبل بھی مختلف حکومتوں نے اس کا اہتمام کیا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ مہلوکین کے لئے ایک مخصوص وقت نکالا جا سکے۔ اکھلیش یادو نے کہا، "حادثے کے دن شاہی اسنان کا عمل وقت پر نہیں ہو سکا، جس کی ایک خاص مہورت ہوتی ہے۔ یہ سناتن روایت کا حصہ ہے، لیکن وہ روایت اس دن ٹوٹ گئی۔”

ہمیں اعداد و شمار کیوں نہیں مل رہے؟

اکھلیش یادو نے اعداد و شمار کی عدم دستیابی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "اگر حکومت مہاکمبھ کے لیے بڑے پیمانے پر تشہیر کر سکتی ہے تو پھر مرنے والوں کے اعداد و شمار فراہم کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟” انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے دعوے غلط ثابت ہوئے تو وہ پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کو تیار ہیں۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ "خواتین کے کپڑے اور لوگوں کی چپلیں جے سی بی کے ذریعے اٹھا کر ٹرالیوں میں پھینکی گئیں۔ حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ لاشیں کہاں لے جائی گئیں۔” ان کا کہنا تھا کہ "ڈیجیٹل کمبھ کرانے والی حکومت آج مرنے والوں کے اعداد و شمار تک نہیں دے پا رہی، جبکہ وزیر اعلیٰ نے مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔”

مہاکمبھ کی انتظامیہ فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ

اکھلیش یادو نے مہاکمبھ کی انتظامیہ کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ "جب ڈیجیٹل تکنیک اتنی ترقی کر گئی ہے تو پھر یہ اعداد و شمار فراہم کرنے میں حکومت کو کیا مشکل ہے؟” انہوں نے صدر کے خطاب پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "خطاب میں وہی پرانی باتیں دہرائی گئیں جیسے 80 کروڑ لوگوں کو مفت راشن فراہم کرنا، 25 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالنا، 10 کروڑ گیس کنکشن دینا، جبکہ آبادی 105 کروڑ ہو رہی ہے تو حکومت کس آبادی کے لئے کام کر رہی ہے؟”

انہوں نے کہا، "دس سال پہلے جس جگہ کو کیوٹو بنانے کی بات کی گئی تھی، وہاں آج تک میٹرو شروع نہیں ہو سکی۔ اتر پردیش میں جو بھی میٹرو چل رہی ہے، وہ سماجوادی حکومت کی دین ہے۔” یہ تصدیق کی جا رہی ہے کہ اکھلیش یادو نے موجودہ حکومت کی پرفارمنس پر سوالات اٹھائے ہیں اور اس معاملے میں عوامی جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔

کسانوں کی زمین اور ان کے حقوق

اکھلیش یادو نے زمین کے حصول پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ "کسانوں کو ان کی زمین کا مناسب معاوضہ کیوں نہیں دیا جا رہا؟ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس پر حکومت کو غور کرنا ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "سماجوادی حکومت نے جب ایکسپریس وے بنایا تو اس کا افتتاح سخوئی اور میراج طیارے اتار کر کیا گیا۔ یہ واضح ہے کہ اس کا ڈیزائن بی جے پی نے نہیں بنایا تھا۔”

طلبا کے سرپرستوں کی شکایت پر ‘فٹ جی’ کی 300 بینک کھاتے منجمد، تحقیقات جاری

0
<b>طلبا-کے-سرپرستوں-کی-شکایت-پر-‘فٹ-جی’-کی-300-بینک-کھاتے-منجمد،-تحقیقات-جاری</b>
طلبا کے سرپرستوں کی شکایت پر ‘فٹ جی’ کی 300 بینک کھاتے منجمد، تحقیقات جاری

نوئیڈا: ‘فٹ جی’ کوچنگ سینٹر کے خلاف بڑی کارروائی

نوئیڈا پولیس نے ایف آئی آئی ٹی جے ای ای (FIITJEE) کے مختلف بینکوں میں کھلے 300 کھاتوں کو منجمد کر دیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب طلبا کے والدین کی جانب سے یہ شکایت کی گئی کہ سینٹر نے فیس لے کر بھی کورس مکمل نہیں کرایا اور اچانک سینٹر بند کر دیا۔ یہ معاملہ نوئیڈا کے سیکٹر-58 تھانے میں گور سیٹی رہائشی ستسنگ کمار کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے بعد سامنے آیا۔

اس کارروائی کی وجوہات اور اثرات

پولیس ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی 31 ٹیچروں کے جواب کے بعد کی گئی ہے جو کہ ادارے میں کام کر چکے تھے، لیکن ابھی تک اس ادارے کے مالک دنیش کمار گوئل کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ موجودہ صورت حال میں 205 بینک کھاتوں میں 60 لاکھ روپے منجمد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس معاملے کی تفتیش جاری ہے تاکہ مزید کھاتوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ جواب میں، ڈی سی پی رام بدن سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ تمام کارروائیاں طلبا کے حقوق کے تحفظ کے لئے کی جا رہی ہیں۔

طلاب اور ان کے سرپرستوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کا داخلہ جے ای ای (JEE) کی تیاری کے لئے فٹ جی میں کرایا تھا، لیکن سینٹر کی بندش نے ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان والدین نے ڈی سی پی نوئیڈا سے بھی ملاقات کی اور اپنی شکایت درج کرائی۔ شکایت میں کئی دیگر افراد کے نام بھی شامل ہیں جو اس سینٹر کے انتظام میں شامل تھے۔

معاملے کی تفصیلات

اس معاملے میں، 350 سے زیادہ سرپرستوں کے بیانات بھی درج کیے جا چکے ہیں۔ ان والدین کا کہنا ہے کہ ‘فٹ جی’ نے جان بوجھ کر طلبا کو دھوکہ دیا، کیونکہ سینٹر نے فیس کی 95 فیصد رقم پہلے ہی وصول کر لی تھی۔ پولیس اطلاعات کے مطابق، اس سینٹر پر 1500 سے زائد طلبا کو کوچنگ دی جا رہی تھی۔ اس کے باوجود، اب تک صرف 40 فیصد کورس مکمل ہوا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سینٹر صرف نوئیڈا نہیں بلکہ غازی آباد اور پٹنہ میں بھی کام کر رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر پہنچنے والی معلومات کے مطابق، سینٹر کے منیجر اور دیگر عملے کے لوگوں نے اپنی موبائل فون سروس بھی بند کر دی ہے، جس سے معاملے کی پیچیدگیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

توقعات اور آئندہ کی کارروائیاں

پولیس نے 31 سابق ٹیچروں کے بیانات بھی درج کر لئے ہیں۔ ان ٹیچروں نے معلومات فراہم کی ہیں کہ انہیں تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے انہوں نے ادارہ چھوڑ دیا۔ ان ٹیچروں کا کہنا ہے کہ نئے اداروں میں کام کر رہے ہیں، لیکن یہ معاملہ ان کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

اس پوری صورت حال کی جانچ کے دوران یہ توقع کی جا رہی ہے کہ پولیس جلد ہی مزید معلومات اکٹھی کرے گی اور اس معاملے میں مزید افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی تیاری کرے گی۔ آئندہ دنوں میں ‘فٹ جی’ کے مالک دنیش گوئل سے دوبارہ پوچھ گچھ کی جائے گی، اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی ممکن ہے۔