جمعرات, اپریل 2, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 177

منی پور اسمبلی کا اجلاس پیر سے ہوگا شروع، کوکی ارکان اسمبلی کریں گ ے بائیکاٹ

0
منی-پور-اسمبلی-کا-اجلاس-پیر-سے-ہوگا-شروع،-کوکی-ارکان-اسمبلی-کریں-گ-ے-بائیکاٹ

نئی دہلی: اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے بڑے مطالبات کی وجہ سے بیرن سنگھ کی قیادت والی منی پور حکومت نے پیر (21 اگست) سے اسمبلی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن 10 کوکی زو ارکان اسمبلی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

دریں اثنا، بی جے پی کے رکن اسمبلی پاولین لال ہاکیپ نے کہا کہ زعفرانی پارٹی کے سات ایم ایل اے اور تین دیگر بھی کوکی زو کمیونٹی کے خلاف ’سرکار کے زیر اہتمام‘ قتل عام میں ’مجرمانہ حملوں‘ کے خلاف احتجاج میں اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وادی امپھال نہ صرف کوکی-زو برادری کے لیے بلکہ دیگر تمام نسلی میزو لوگوں کے لیے بھی موت کی وادی میں تبدیل ہو گئی ہے۔

جن قانون سازوں نے اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے وہ ہاؤ ہولیٹ کیپگن (آزاد)، کمنیو ہوکیپ ہینگشنگ (کے پی اے)، چن لونگتھانگ (کے پی اے)، اور ایل ایم کھوٹے، نیمچا کیپگن، نگرسنگلور سناٹے، لیٹپاو ہاکیپ، لیٹزمنگ ہوکیپ، پاولن لال ہوکیپ اور ونگجاگین والٹے سبھی بی جے پی کے ایم ایل اے ہیں۔ لیٹپاو ہاکیپ اور نیمچا کپگن بیرن سنگھ حکومت میں وزیر ہیں۔

کوکی زو قانون سازوں کی طرف سے کارروائی کے بائیکاٹ سے کیس نرم ہو جائے گا، حالانکہ اب تمام نظریں ناگا قانون سازوں پر ہوں گی۔ خیال رہے کہ تشدد زدہ منی پور کے چالیس ایم ایل ایز، بشمول آٹھ ناگا ممبران اسمبلی، نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے، جس میں کوکی باغی گروپوں کے ساتھ آپریشنز کی معطلی (ایس او او) معاہدے کو واپس لینے اور ریاست میں این آر سی کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوکی گروپوں کی جانب سے ‘علیحدہ انتظامیہ’ کا مطالبہ قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔

’فرقہ پرستی کے خلاف ملک کے اکثریتی طبقہ کو کھڑا ہونا ہوگا‘ مولانا محمود مدنی کی دعوت پر دانشوروں، سیاسی اور سماجی رہنماؤں کا اہم اجتماع

0
’فرقہ-پرستی-کے-خلاف-ملک-کے-اکثریتی-طبقہ-کو-کھڑا-ہونا-ہوگا‘-مولانا-محمود-مدنی-کی-دعوت-پر-دانشوروں،-سیاسی-اور-سماجی-رہنماؤں-کا-اہم-اجتماع

نئی دہلی: ’’موجودہ صور ت حال پر باہمی مذاکرہ‘‘ کے عنوان سے ایک اہم اجتماع جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر نئی دہلی کے مدنی ہال میں منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبۂ حیات سے وابستہ شخصیات ، ماہر ین معیشت، سماجی کارکنان، مفکر اور پروفیسر حضرات شریک ہوئے۔ اجتماع میں ملک کو درپیش فرقہ پرستی سے چیلنج، سماجی تانے بانے کے بکھرائو اوراس کی روک تھام کے مختلف پہلوؤوںکا جائزہ لیا گیا اور زمینی سطح پر کام کرنے اور سمواد کی ضرورت پر اتفاق کیاگیا ۔سبھی دانشوروں نے یہ محسوس کیا کہ فرقہ پرستی اس ملک کی فطرت سے میل نہیں کھاتی او رنہ وطن عزیز کی اکثریت ایسی سوچ کی طرف دار ہے ، لیکن اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ جو لوگ مثبت سوچ کے حامل ہیں ، انھوں نے یا تو خاموشی کی چادر اوڑھ لی ہے یا ان کی بات سماج کے آخری حصے تک نہیں پہنچ رہی ہے،جس کی وجہ سے جو لوگ ملک کی سماجی ڈھانچہ کو بدل دینا چاہتے ہیں یا نفرت کی دیوار کھڑی کرکے اپنی ملک دشمن آئیڈیالوجی کو کامیاب کرنا چاہتے ہیں ، وہ بظاہر حاوی ہوتے نظر آرہے ہیں، حالاں کہ یہ حقیقت نہیں ہے۔اس لیے سماج کی اکثریت کو خاموشی کے بجائے میدان عمل میں آنا ہوگا اور بھارت کی عظمت اوراس کے فطری وجود کو بچانے کی متحدہ و متفقہ لڑائی لڑنی پڑے گی۔

اپنے افتتاحی کلمات میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر اور پروگرام کے داعی مولانا محمود اسعد مدنی نے دانشوروں و سماجی رہ نمائوں کا استقبال کرتے ہوئے سوال کیا کہ ایسے حالات میں جب کہ ملک کی ایک بڑی اقلیت کو ان کے مذہب وعقیدے کی وجہ سے مایوس کرنے یا دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ، ہمیں اس کے سدباب کے لیے کیاضروری اقدامات کرنے چاہییں؟ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کے بزرگوں نے گزشتہ سوسال سے باضابطہ اور دوسو سال سے نا ن آفیشل طور پرملک کو جوڑنے کی کوشش کی اور وطن کی عظمت کو حرز جاں بنایا، جب ملک کی تقسیم کی بنیاد رکھی گئی تو ہمارے اکابر نے اپنوں سے مقابلہ کیا ، ملک کے لیے بے عزتی برداشت کی اور آزادی کے بعد قومی یک جہتی کے لیے اپنی قربانیوں کے انمٹ نقوش چھوڑے اور تمام مشقتوں کے باوجود ہم آج تک اپنی ڈگر سے نہیں ہٹے ہیں ۔ آج کے حالات میں بھی ہم ڈائیلاگ کے حق میں ہیں ، ہمارا موقف ہے کہ سب کے ساتھ ڈایئلاگ ہونا چاہیے اور ایک ایسی مشترکہ مہم چلنی چاہیے کہ وطن کا ہر دھاگہ ایک دوسرے سے جڑ جائے۔

معروف سماجی مفکر جناب وجے پرتاپ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے باہمی مذاکرہ ( سنواد) پر زوردیا اور کہا کہ جمعیۃ علماء ہندنے جو قربانیاں دی ہیں ،وہ بے کار نہیں گئی ، اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ تقسیم ہند کے انتہائی فرقہ وارانہ ماحول کے باوجود ملک کا آئین سیکولر بنیاد پر بنا۔اسلام کے نظریات و افکارکی جو ترقی ہندستان میں ہوئی ، بڑے بڑے اسلامی مفکر یہاں پیدا ہوئے ، جن کے تذکرے کے بغیر عالمی سطح پر اسلام کا تذکرہ ادھورا اور نامکمل ہے ، اس کے علاوہ ملک کی ترقی کے جتنے عناوین ہیں ،ان میں مسلمانوں کا دیگر اہل وطن کی طرح بڑا کردار ہے، اس لئے ہمیں موجودہ حالات میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، ہر قوم کے ساتھ ایسے حالات ہو تے ہیں اورجو قوم ہوش مندی کا ثبوت دیتی ہے وہ حالات سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب ہو تی ہے۔

ماہر معاشیات پروفیسر ارو ن کمار نے کہا کہ ملک میں معاشی نابرابری کی وجہ سے دائیں بازو کے عناصر کو اپنے خیالات کے فروغ کا موقع مل جاتا ہے، انھوں نے کہا کہ سرکار نے جو دعوی کیا کہ تیرہ کروڑ سے زائد افراد غریبی کی لکیر سے اوپر اٹھ گئے ہیں ،یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ غیر منظم سیکٹر میں 94 فی صد سے زائد لوگ دس ہزار سے کم ماہانہ تنخواہ پاتے ہیں ، جو غربت سے کبھی نہیں ابھر سکتے۔

سپریم کورٹ کے معروف وکیل سنجے ہیگڑے نے کہا کہ ہم ایک عجیب دور میں رہے ہیں ۔ آج لوگ آئین کو بدلنے کی بات کررہے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ آئین کی حفاظت کی جائے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب ہم آئین کو اس کے حقیقی معنوں میں نافذ کریں اور آئین کو ختم کرنے والوں کو یہ پیغام پہنچائیں۔

دوسری نشست میں موجودہ حالات کے تدارک پراپنے خیالات پیش کرتے ہوئے جناب ڈاکٹر سوربھ باجپائی مورخ دہلی یونیورسٹی نے کہا کہ مجھے تاریخ کے مطالعہ کے دوران جن اداروں پر فخر کا احساس ہوا ، ان میں ایک جمعیۃ علما ء ہند بھی ہے ۔ اس جماعت کے سرخیل رہ نما حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے پاکستان بننے کی مخالفت کی ، ان کے ساتھ اس ملک کے اکثر مسلمان تھے ، یہ بات سراسرخلاف واقعہ ہے کہ ۹۰ فی صد مسلمانوں نے مسلم لیگ کو ووٹ دیا ،وہ عام مسلمان نہیں تھے بلکہ جاگیردار مسلمان تھے ،جن کو ہی ووٹ کاحق تھا ۔ دہلی کی جامع مسجد کے پاس پاکستان کے حامیوں اور مخالفوں کا اجلاس ہوا۔ حمایت کرنے والوں کے جلسہ میں صرف پانچ سو لوگ تھے اور جو حامی تھے جن کی قیادت جمعیۃ علماء کررہی تھی، ان کے جلسہ میں دس ہزار کا مجمع تھا۔انھوں نے کہا کہ جو قوم اپنی تاریخ بھلا دیتی ہے ، وہ خود کو مٹا دیتی ہے ۔ ہندستان کے مسلمانوں کی اکثریت نے تقسیم کی مخالفت کی تھی ، یہ ایک تاریخ ہے ، ایک طرف صرف مسلم لیگ تھی تو دوسری طرف جمعیۃ علماء کے ساتھ ۱۹ ؍ مسلم جماعتیں تھیں ، اس لیے ملک پر مسلمانوں کا حق اتنا ہی ہے جتنا کسی اور کا ہے۔انھوں نے کہا کہ باہمی مکالمہ تب ہی کامیاب ہو گا جب کہ دونوں فریقین اپنی آئیڈیالوجی اور سوچنے کا طریقہ درست کر لیں۔

معروف مصنفہ محترمہ رجنی بخشی نے موجود ہ حالات میں گاندھیائی تحریک اہنسا کی وکالت کی او رکہا کہ اہنسا کا مطلب ظلم کے خلاف خاموش رہنا نہیں ہے اور نہ اس کے لیے کسی کو مہاتما بننے کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں برے سے برے لوگوں میں اچھا ئی کا احساس پیدا کرنا ہے اور برائی کی وجہ سے کسی کی ذات سے نفرت نہیں کرنی ہے ۔

رماشنکر سنگھ بانی چانسلر آئی ٹی ایم یونیورسٹی گوالیر نے کہا کہ موجود ہ لڑائی کوئی فرقہ وارانہ نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے وجود کی لڑائی ہے، ہمیں ایسے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے سبھی طبقوں اور تنظیموں کا فیڈریشن بنانا چاہیے ، اس ملک میں سادھوسنتوں اور صوفیوں کے مشترکہ پیغامات تیار کرکے نئی نسلوں کو پہنچائیں اور آزادی کے نائیکوں اور ان کی قربانیوں کو ہر طبقے تک پہنچائیں ۔ ہماری لڑائی جس طاقت سے ہے وہ بہت منظم ہے ، اس کا نظام صبح کی شاکھا سے شروع ہوتا ہے ، وہ نئی نسلوں کے درمیا ن پہنچتے ہیں ، ان کی ذہنی تربیت کرتے ہیں اور ہم نے جو خلا چھوڑدیا ہے اسے وہ اپنی رنگ سے بھرتے ہیں۔

معروف عیسائی رہ نما جان دیال نے کہا کہ آج فرقہ پرستی ملک کے نظام کا حصہ بنتی جارہی ہے ، یہاں اقلیتوں پر ظلم ہو تاہے اور پھر سزا بھی اسے ہی دی جاتی ہے ، ملک کے آئین نے اقلیتوں کے حقوق طے کردیے ہیں ، اگریہ حقوق سلب کرلیے گئے تو ڈائیلاگ کا کیا فائد ہ ہے ۔

سکھ انٹرنیشنل فارم کے رکن سردار دیا سنگھ نے کہا کہ مسلمان جو آج حالات کا سامنا کررہا ہے ، ہم نے ماضی میں ایسے حالات دیکھے ہیں ، ہم مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں ۔اخیر میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔اویس سلطان خاں اور مولانا مہدی حسن عینی دیوبند نے مہمانوں کا استقبال کیا اور ان کی ضیافت کی ۔ مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند نے نظامت کے فرائض انجام دیے ، انھوں نے موجودہ حالات پر بہت ہی موثر پرزینٹیشن پیش کیا ۔

دیگر جن شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ان میں ڈاکٹر اندو پرکاش سنگھ، وجے مہاجن ،پروفیسر ریتو پریا جے این یو ،پروفیسر ایم ایم جے وارثی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،ڈاکٹر لینن رگھونشی فائونڈر پی وی سی ایچ آر،کیلاش مینا آرٹی آئی ایکٹویسٹ،بھائی تیج سنگھ،تبسم فاطمہ،مریتون جے سنگھ ریسرچر،پشپا راج دیش پانڈے، فادر نکولس، جینت جگیاسوجی ، انوپم جی ، اوی کٹھپالیا، ہریش مشرا بنارس والے ،ڈاکٹر ہیرا لال ایم ایل اے، فادر نکولس برالا،موہن لال پانڈا،ایڈوکیٹ ستیش ٹمٹا، فادر وجے کمار نائک،ابھیشیک شری واستوکے نام خاص طور قابل ذکر ہیں۔

چھتیس گڑھ کے بعد راجستھان حکومت ہماچل کی مدد کے لیے آگے آئی، آفت سے نمٹنے کے لیے دئے 15 کروڑ روپے

0
چھتیس-گڑھ-کے-بعد-راجستھان-حکومت-ہماچل-کی-مدد-کے-لیے-آگے-آئی،-آفت-سے-نمٹنے-کے-لیے-دئے-15-کروڑ-روپے

شملہ: ہماچل پردیش میں بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ شدید بارشوں کے باعث راجدھانی شملہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رونما ہوئے اور جان و مال کا ضیاع ہوا۔ دریں اثنا، دیگر ریاستیں اس مشکل وقت میں ہماچل کی مدد کے لیے آگے آ رہی ہیں۔ چھتیس گڑھ کے بعد اب راجستھان حکومت نے متاثرین کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا ہے۔ گہلوت حکومت نے ہماچل پردیش کو 15 کروڑ روپے کی امداد فراہم کی ہے۔

ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے ہفتہ کو کہا کہ راجستھان حکومت نے قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ میں 15 کروڑ روپے کی امداد دی ہے۔ سکھو اور لوگوں نے آفت کی اس گھڑی میں مدد فراہم کرنے پر راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم آفت سے متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کرنے میں کارگر ثابت ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے مختلف تنظیموں اور عوام پر زور دیا کہ وہ اس فنڈ میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ متاثرہ افراد کو مناسب امداد فراہم کی جا سکے۔ اس سے قبل ریاست میں آفت کے پیش نظر چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے بھی مدد کے لیے فنڈز جاری کیے تھے۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے ہماچل اور متاثرین کی مدد کے لیے 11 کروڑ کی امدادی رقم کا اعلان کیا۔

خیال رہے کہ سی ایم بھوپیش بگھیل نے کل ہماچل کے وزیر اعلی سکھویندر سنگھ سے فون پر بات کی تھی۔ بھوپیش بگھیل نے کہا کہ آفت کی اس گھڑی میں ہم سبھی چھتیس گڑھی ہماچل پردیش کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس دوران وزیراعلیٰ نے ہماچل پردیش کی صورتحال کے بارے میں دریافت کیا۔

قابل ذکر ہے کہ ہماچل پردیش میں شدید بارشوں سے ہونے والے نقصان کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے پوری ریاست کو ‘قدرتی آفت سے متاثرہ علاقہ’ قرار دیا ہے۔ ہماچل میں اس سال مانسون نے بڑی تباہی مچائی ہے اور پوری ریاست میں جان و مال کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔

خبردار! ہلدی کا استعمال جان لیوا بھی ہو سکتا ہے

0
خبردار!-ہلدی-کا-استعمال-جان-لیوا-بھی-ہو-سکتا-ہے

آسٹریلوی میڈیکل ریگولیٹری تھارٹی نے کہا ہے کہ انہیں آسٹریلوی باشندوں سے جگر کے مسائل کی 18رپورٹس موصول ہوئی ہیں جنہوں نے ہلدی اس کے پودے پر مشتمل ہربل سپلیمنٹس کا استعمال کیا تھا۔

ٹیلی ویژن نیٹ ورک 9 نیوز کے مطابق ریگولیٹری باڈی نے مزید کہا کہ نو کیسز کے بارے میں کافی معلومات موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جگر خرابی ہلدی کی وجہ سے ہو سکتی ہے جسے کرکوما لونگا کہا جاتا ہے یا ہلدی میں پائے جانے والے کرکومین کمپاؤنڈ کی وجہ سے۔ مذکورہ بالا چار صورتوں میں کوئی اور اجزا موجود نہیں تھے جو اس بیماری میں حصہ لے سکتے تھے۔ جگر کی تکلیف کی وجہ سے ایک شخص کی موت بھی ہوئی ہے۔

آسٹریلوی میڈیکل اتھارٹی نے خبردار کیا کہ جڑی بوٹیوں کی دوائیں اور سپلیمنٹس، جن میں جڑی بوٹی ہلدی اور/یا کرکومین شامل ہیں غیر معمولی معاملات میں جگر کو چوٹ پہنچا سکتے ہیں۔

خطرہ یہ ہے کہ مصنوعات سپر مارکیٹوں، ہیلتھ فوڈ اسٹورز اور فارمیسیوں سے نسخے کے بغیر خریدی جا سکتی ہیں اور کسی مخصوص برانڈ کا نام نہیں دیا گیا ہے، لیکن کہا جاتا ہے کہ آسٹریلوی رجسٹر آف تھیراپیوٹک گڈز میں 600 سے زائد دوائیں درج ہیں جن میں یہ اجزاء شامل ہیں۔

فی الحال اس بات کا مطالعہ کیا جا رہا ہے کہ کیا ایسی مصنوعات کی پیکیجنگ پر انتباہی لیبل لگانے کی ضرورت ہے جن میں ہلدی یا کرکومین شامل ہوں، خاص طور پر چونکہ جگر کے مسائل کی علامات میں جلد یا آنکھوں کا پیلا ہونا، گہرا پیشاب، متلی، الٹی، غیر معمولی تھکاوٹ یا کمزوری شامل ہیں۔

آسٹریلوی میڈیکل کور نے اس بات کی تصدیق کی کہ "دستیاب شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ہلدی اور/یا کرکومین کو دواؤں کی خوراک کی شکلوں میں لینے سے جگر کی بیماری کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ بہتر جذب، حیاتیاتی دستیابی اور زیادہ مقدار والی مصنوعات کی وجہ سے خطرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔

جگر کے موجودہ یا پچھلے مسائل میں مبتلا افراد کو اس نایاب منفی واقعے کی نشوونما کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جبکہ اس وقت اس بات کا تعین کرنے کے لیے کافی معلومات نہیں ہیں کہ کون سی دوائیں سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔”

حکام نے وضاحت کی کہ کھانے میں ہلدی کی عام مقدار سے کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ ہلدی ایک ایسا پودا ہے جو 4000 سال سے زائد عرصے سے کھانے کے مسالے کے ساتھ ساتھ روایتی ہندوستانی اور چینی ادویات میں دواؤں کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا آرہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

سڑک پر ہر روز ایک شخص کی جان لیتا ہے سانڈ، وہ کہتے ہیں یہ نندی ہے! اکھلیش یادو

0
سڑک-پر-ہر-روز-ایک-شخص-کی-جان-لیتا-ہے-سانڈ،-وہ-کہتے-ہیں-یہ-نندی-ہے!-اکھلیش-یادو

نئی دہلی: یو پی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے یوپی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ یوپی میں ٹریفک پولیس میں نئی ​​بھرتی ہوئی ہے، جو ہر سڑک پر نظر آتی ہے۔ یہ ایک نئی بھرتی ہے جس کی وجہ سے روزانہ ایک شخص مر رہا ہے۔ اکھلیش نے کہا کہ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب اس نئی بھرتی کی وجہ سے اتر پردیش میں کسی کسان، غریب شخص یا تاجر کی جان نہ جاتی ہو۔

یہاں اکھلیش یادو بغیر نام لیے سانڈ (بیل) کے مسئلہ پر پر بول رہے تھے۔ اکھلیش نے کہا کہ وہ ان کا نام نہیں لینا چاہتے، جن کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔ اکھلیش نے بیلوں کو لے کر ریاستی حکومت پر حملہ کیا کہ وہ بیلوں کو نندی مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ارے، ہم کیسے کہہ دین کہ یہ نندی ہے جو روز ایک شخص کی جان لے گا۔‘‘

خیال رہے کہ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو بیل کے معاملے پر ریاستی حکومت کو لگاتار ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ حال ہی میں اکھلیش نے اسمبلی میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔ اکھلیش نے کہا تھا کہ اگر کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ‘سانڈ سفاری’ ہی بنا دیں۔ انہوں نے کہا کہ لائن سفاری تو آپ ٹھیک نہیں کر پائے، آپ اس پر کام کیوں نہیں کر رہے؟ کیا آپ کے پاس بجٹ کم ہے؟

جن دھن کھاتوں کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز، وزیر اعظم مودی کا اظہار مسرت

0
جن-دھن-کھاتوں-کی-تعداد-50-کروڑ-سے-تجاوز،-وزیر-اعظم-مودی-کا-اظہار-مسرت

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جن دھن کھاتوں کے 50 کروڑ کے ہندسے کو عبور کرنے کی اہم کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ جن دھن کھاتوں کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ اس پر وزیر اعظم مودی نے آج کہا کہ وہ یہ دیکھ کر خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ ان میں سے آدھے سے زیادہ کھاتے ہماری ناری شکتی کے ہیں۔

پی آئی بی انڈیا کے ایک ٹویٹ کے جواب میں، وزیر اعظم نے کہا ’’یہ ایک اہم سنگ میل ہے۔انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ ان میں سےنصف سے زیادہ کھاتے ہماری ناری شکتی کے ہیں۔ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں 67 فیصد اکاؤنٹ کھولنے کے ساتھ، ہم اس بات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ مالی شمولیت کے فوائد ہمارے ملک کے ہر کونے تک پہنچیں۔‘‘

پی ایم مودی نے ہماچل پردیش میں قدرتی آفت کو لے کر کی اعلیٰ سطحی میٹنگ، جے پی نڈا کل ریاست کا کریں گے دورہ

0
پی-ایم-مودی-نے-ہماچل-پردیش-میں-قدرتی-آفت-کو-لے-کر-کی-اعلیٰ-سطحی-میٹنگ،-جے-پی-نڈا-کل-ریاست-کا-کریں-گے-دورہ

ہماچل پردیش میں موسلادھار بارش اور جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ کے سبب لوگوں میں زبردست دہشت کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ سینکڑوں افراد کے گھر تباہ ہو گئے ہیں اور سرکاری ملکیت کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ اس درمیان ریاست میں آفت کے بعد بچاؤ کام کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہماچل پردیش میں موسلادھار بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ہونے والے نقصانات کو طلب اعلیٰ سطحی میٹنگ کی میں حالات و راحت رسانی کے کاموں کا جائزہ لیا۔

یہ اعلیٰ سطحی میٹنگ وزیر اعظم کی سرکاری رہائش 7 لوک کلیان مارگ پر تقریباً ایک گھنٹے تک چلی۔ اس میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا بھی موجود رہے۔ اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ جے پی نڈا بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ہماچل پردیش میں ہوئے زبردست نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے کل یعنی 20 اگست کو اپنی آبائی ریاست کا دورہ کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جے پی نڈا اس دورہ کے دوران قدرتی آفت میں ہلاک لوگوں کے اہل خانہ سے ملاقات کریں گے اور ساتھ ہی وہ سمر ہل، شملہ میں زبردست بارش کے سبب منہدم ہوئے قدیم شیو مندر کا معائنہ کریں گے۔ شملہ اور بلاس پور میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ وہ میٹنگ کر راحت، بچاؤ اور بازآبادکاری کے کاموں پر تبادلہ خیال بھی کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ نڈا اتوار کی صبح 9 بجے پانوٹا صاحب (سرمور) پہنچیں گے، اور پھر اس کے بعد سڑک کے راستے 9.35 بجے سرموری تال اور کچی ڈھانگ گاؤں پہنچیں گے جہاں وہ سرموری تال علاقہ میں بادل پھٹنے سے پیدا حالات کا جائزہ لیں گے۔ وہ یہاں اس حادثہ میں ہلاک 5 اراکین کے کنبوں سے ملاقات بھی کریں گے۔ تقریباً 11.30 بجے نڈا شملہ کے شیوباؤڑی، سمرہل پہنچیں گے۔ یہاں منہدم شیو مندر کا وہ معائنہ کریں گے جس میں اب تک 16 لوگوں کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں اور ہنوز راحت و بچاؤ کا عمل جاری ہے۔

گوا میں چرچ کے سامنے دیوی کی مورتی رکھنے پر تنازعہ، 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج

0
گوا-میں-چرچ-کے-سامنے-دیوی-کی-مورتی-رکھنے-پر-تنازعہ،-10-افراد-کے-خلاف-مقدمہ-درج

پنجی: گوا پولیس نے چرچ کے سامنے ایک ڈھانچہ کے اوپر دیوی کی مورتی رکھنے کے الزام میں 10 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کو جنوبی گوا کے سانکولے میں پیش آیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں مورتی پکڑے ہوئے لوگ لوگوں سے آنے اور دیوی کا آشیرواد لینے کی درخواست کرتے نظر آ رہے ہیں۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد علاقے کے لوگوں نے پولیس کو واقعے کی اطلاع دی اور امن برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کرنے کو کہا۔ جس کے نتیجے میں علاقے میں پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی۔

اس معاملے میں، ورنا پولیس نے 10 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس نے کہا کہ ہم نے 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کے لیے انہیں تھانے بلانے کی رسمی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

‘معافی مانگ کر بچ نہیں سکتے’، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ شیئر کرنے والوں پر سپریم کورٹ سخت

0
‘معافی-مانگ-کر-بچ-نہیں-سکتے’،-سوشل-میڈیا-پر-قابل-اعتراض-پوسٹ-شیئر-کرنے-والوں-پر-سپریم-کورٹ-سخت

سپریم کورٹ نے اداکار اور تمل ناڈو کے سابق رکن اسمبلی ایس وی شیکھر کی اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں انھوں نے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ سے متعلق اپنے خلاف درج ایک معاملے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو اس کے اثرات اور رسائی کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔

آج جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس پی کے مشرا کی بنچ مدراس ہائی کورٹ کے 14 جولائی کے حکم کے خلاف شیکھر کی داخل عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ ہائی کورٹ نے ان کے ذریعہ شیئر کردہ پوسٹ سے متعلق مجرمانہ کارروائی کو رد کرنے کے مطالبہ والی عرضی خارج کر دی تھی۔ اس معاملے میں سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسے سوشل میڈیا پوسٹ پر ملزم کو سزا ملنی ضروری ہے، ایسے معاملوں میں صرف معافی مانگنے سے کام نہیں چلے گا، ایسے لوگ مجرمانہ کارروائی سے نہیں بچ سکتے۔

آج ہوئی سماعت میں بنچ نے عرضی دہندہ کی نمائندگی کر رہے وکیل سے کہا کہ "اگر کوئی سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہے، تو اسے اس کے اثرات اور رسائی کے بارے میں زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔” وکیل نے دلیل دی کہ شیکھر نے حادثہ کی تاریخ پر اپنی آنکھوں میں کچھ دوا ڈالی تھی، جس کی وجہ سے وہ اپنے ذریعہ شیئر کردہ پوسٹ کو نہیں پڑھ سکے اور پوسٹ کر دیا۔ بنچ نے اس پر کہا کہ کسی کو بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرتے وقت محتاط رہنا ہوگا۔ ساتھ ہی بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی کو سوشل میڈیا کا استعمال کرنا ضروری لگتا ہے، تو اسے نتائج بھگتنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مدراس ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ شیکھر نے 19 اپریل 2018 کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک قابل اعتراض اور فحش تبصرہ پوسٹ کیا تھا، جس کے بعد چنئی پولیس کمشنر کے سامنے ایک شکایت درج کی گئی تھی۔ عدالت نے اس بات پر بھی توجہ دی کہ تمل ناڈو کے مختلف حصوں میں شیکھر کے خلاف دیگر نجی شکایات بھی درج کی گئی تھیں۔

شیکھر کے وکیل نے اس دوران کہا تھا کہ پوسٹ میں شامل قابل اعتراض تبصرہ کے بارے میں پتہ چلنے کے بعد شیکھر نے اسی دن کچھ گھنٹوں کے اندر پوسٹ کو ہٹا دیا اور اس کے بعد 20 اپریل 2018 کو ایک خط لکھا جس میں انھوں نے بلاشرط متعلقہ خاتون صحافی اور میڈیا سے معافی مانگی تھی۔

کھڑگے نے ‘اڑان’ اسکیم کے تعلق سے سی اے جی کی رپورٹ پر حکومت کو نشانہ بنایا

0
کھڑگے-نے-‘اڑان’-اسکیم-کے-تعلق-سے-سی-اے-جی-کی-رپورٹ-پر-حکومت-کو-نشانہ-بنایا

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ہفتہ کے روز اڑان اسکیم سے متعلق کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ پر مرکز کی بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کا چپل پہن کر فضائی سفر کرنے کا وعدہ بھی دوسرے وعدوں کی طرح ہوا میں اڑ گیا ہے، کیونکہ یہ اسکیم 93 فیصد روٹس پر کام نہیں کرتی۔

اس مہینے کے اوائل میں پارلیمنٹ میں پیش کی گئی سی اے جی کی رپورٹ پر کھڑگے نے کہا ’’مودی حکومت کا چپل پہن کر ہوائی سفر کرنے کا وعدہ ان کے دوسرے وعدوں کی طرح ہوا میں اڑ گیا ہے۔ یہ ہم نہیں، سی اے جی کی رپورٹ کہہ رہی ہے۔ کانگریس صدر نے کہا ’’یہ اسکیم 93 فیصد راستوں پر کام نہیں کرتی۔ ایئر لائنز کا کوئی آزاد آڈٹ بھی نہیں ہوا۔ بہت زیادہ مشہور ہیلی کاپٹر خدمات بھی ٹھپ ہیں۔ صرف جھوٹ اور بیان بازی چل رہی ہے۔ ہندوستان اب ایسی نااہل حکومت کو کبھی برداشت نہیں کر گا۔

ان کے تبصرے سی اے جی کی ایک رپورٹ کے کچھ دن بعد آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اڑان-3 تک الاٹ کیے گئے راستوں میں سے 52 فیصد (774 میں سے 403 روٹس) آپریشنل نہیں ہو سکے۔ شروع کئے گئے راستوں میں سے صرف 112 روٹس (30 فیصد) نے آپریشن مکمل کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان 112 راستوں میں سے صرف 54 روٹس (راستوں کا 7 فیصد) جو کہ 17 RCS ہوائی اڈوں کو جوڑتے ہیں، مارچ 2023 تک تین سال کی رعایتی مدت کے بعد آپریشن جاری رکھ سکے۔