جمعرات, اپریل 2, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 175

ممبران پارلیمنٹ نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو خراج عقیدت پیش کی

0
ممبران-پارلیمنٹ-نے-سابق-وزیر-اعظم-راجیو-گاندھی-کو-خراج-عقیدت-پیش-کی

راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے، مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم و امور خارجہ ڈاکٹر راج کمار رنجن سنگھ، لوک سبھا کی رکن محترمہ سونیا گاندھی نے آج پارلیمنٹ ہاؤس کے سنٹرل ہال میں ہندوستان کے سابق وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی کو ان کی یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا۔

ممبران پارلیمنٹ، سابق ممبران پارلیمنٹ، لوک سبھا کے سکریٹری جنرل اُتپل کمار سنگھ، راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل پی سی مودی اور دیگر معززین نے بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے سنٹرل ہال میں مسٹر راجیو گاندھی کو گلہائے عقیدت پیش کئے۔

مسٹر راجیو گاندھی ہندوستان کے چھٹے وزیر اعظم تھے جنہوں نے 31 اکتوبر 1984 سے 2 دسمبر 1989 تک بطور وزیراعظم خدمات انجام دیں۔ 20 اگست 1993 کو اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر شنکر دیال شرما نےپارلیمنٹ ہاؤس کے سینٹرل ہال میں آنجہانی راجیو گاندھی کی تصویر کی نقاب کشائی تھی۔

 جھارکھنڈ ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر راجیش ٹھاکر کی صدارت میں آج ریاستی کانگریس ہیڈ کوارٹر، کانگریس بھون، رانچی میں بھارت رتن سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا 79 ویں یوم پیدائش منایا گیا۔ اس موقع پر کانگریسیوں نے راجیو گاندھی کی تصویر پر گلہائے عقیدت نذر کرکے خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر اور وزیر عالمگیر عالم، ریاستی ورکنگ صدر بندھو ترکی، سابق مرکزی وزیر سبودھ کانت سہائے، ایم ایل اے شلپی نیہا ترکی موجود تھے۔

اس سے قبل چیشائر ہوم، بریاتو میں، ریاستی کانگریس کے صدر راجیش ٹھاکر نے رانچی ضلع کے پارٹی عہدیداروں کے ساتھ معذوروں سے ملاقات کی اور آنجہانی راجیو گاندھی کے یوم پیدائش کے موقع پر ان کے درمیان محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہوئے ضروری سامان وغیرہ تحفہ کے طور پر دیا۔
اس موقع پر جھارکھنڈ ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر مسٹر ٹھاکر نے کہا کہ آنجہانی راجیو گاندھی جدید ہندوستان کی تخلیق کے ساتھ مواصلاتی انقلاب کے بانی تھے۔ خود ایک طرف، گاندھی نے مواصلاتی انقلاب کے ذریعے ہندوستان کو جدید بنانے کی پہل کی، وہیں دوسری طرف گاؤں کو پنچایتی راج دے کر ہندوستان کی روح کو مضبوط کرنے کا کام کیا۔ دیہی ہندوستان کو پنچایتی راج کے ذریعے بااختیار بنایا گیا۔

آنجہانی گاندھی نے ملک کے نوجوانوں کو مرکزی دھارے سے جوڑنے کے لیے ووٹ کے حق کو 21 سال سے کم کرکے 18 سال کرنے کا کام کیا۔ راجیو گاندھی کے پنجاب کے مسائل کے حل، انسداد ڈیفیکشن قانون پر کنٹرول، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی اہم شراکت کو ملک کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ مسٹر گاندھی کی ہر کوشش ہندوستان کو دنیا کے سامنے مضبوط بنانے کی رہی ہے۔

کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر اور وزیر عالمگیر عالم نے کہا کہ یہ راجیو گاندھی ہی تھے جو ہندوستان میں ٹیلی کام انقلاب لائے تھے۔ ڈیجیٹل انڈیا کا تصور جس پر آج بحث ہو رہی ہے اس کا تصور راجیو گاندھی نے اپنے وقت میں پیش کیا تھا۔ راجیو گاندھی کی ایک بڑی کامیابی نوودیا ودیالیہ کا قیام بھی ہے۔ اس وقت ملک میں کھولے گئے 551 نوودیا ودیالیوں میں 1.80 لاکھ سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

ٹماٹر کے بعد حکومت پیاز بھی سستے داموں پر فروخت کرے گی،مہنگائی سے حکومت پریشان

0
ٹماٹر-کے-بعد-حکومت-پیاز-بھی-سستے-داموں-پر-فروخت-کرے-گی،مہنگائی-سے-حکومت-پریشان

حکومت عوام کو مہنگائی سے راحت  دینے کے لیے مسلسل مداخلت کر رہی ہے کیونکہ اس سال چار صوبوں میں اسمبلی انتخابات ہیں جن کو اگلے سال ہونے والے عام انتخابات کے لئے سیمی فائنل قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے تقریباً ایک ماہ سے عام لوگوں کو ٹماٹر سستے داموں دستیاب ہو رہے ہیں۔ اب حکومت پیاز بھی سستے داموں  پر دستیاب کرنے جا رہی ہے۔ اس کے تحت لوگوں کو 25 روپے فی کلو کے حساب سے پیاز ملے گا۔

پیاز کی رعایتی قیمت پر فروخت پیر 21 اگست یعنی کال  سے شروع ہوگی۔ سستی قیمت پر پیاز کی یہ فروخت کوآپریٹو ایجنسی نیشنل کوآپریٹو کنزیومر فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (این سی سی ایف) کرے گی۔

ایک سرکاری ریلیز میں بتایا گیا کہ پیر سے این سی سی ایف پیاز 25 روپے فی کلو کی رعایتی شرح پر فروخت کرے گا۔ اس سے پہلے ہفتے کے روز حکومت نے پیاز کی برآمد پر پابندی لگانے کی اطلاع دی تھی۔ مرکزی حکومت نے ملک سے پیاز کی برآمد پر 40 فیصد کی بھاری ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برآمدات پر یہ پابندی 31 دسمبر 2023 تک نافذ رہے گی۔

مرکزی حکومت کے اس قدم کو پیاز کی قیمتوں میں اضافے کے خدشے کو دور کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ ٹماٹر کے بعد پیاز بھی عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے اور ستمبر سے اس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے پہلے سے ہی تیاریوں کو تیز کر دیا ہے، تاکہ آنے والے مہینوں میں تہواروں کے موسم میں مہنگائی لوگوں کو زیادہ پریشان نہ کرے۔

پیاز کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، حکومت نے اپنے بفر اسٹاک کی حد میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل پیاز کے لیے بفر کی حد 3 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کی گئی تھی۔ مقررہ ہدف کے مطابق خریداری مکمل ہونے کے بعد حکومت نے اب اسے بڑھا کر 5 لاکھ ٹن کر دیا ہے۔ حکومت نے دونوں کوآپریٹو ایجنسیوں این سی سی اف اور نیفڈ سے کہا ہے کہ وہ اضافی 1 لاکھ ٹن خریدیں۔

دوسری جانب حکومت نے بفر اسٹاک سے پیاز کو منڈی میں بھیجنا شروع کردیا ہے۔ اب تک ریزرو سے تقریباً 1400 ٹن پیاز مارکیٹ میں لایا جا چکا ہے۔ یہ گھریلو مارکیٹ میں پیاز کی مانگ کو پورا کرنے اور مناسب دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہے، تاکہ مقامی مارکیٹ میں پیاز کی قیمتیں ٹماٹروں کی طرح آسمان کو نہ چھو سکیں۔

اس سے قبل ٹماٹر کی قیمتوں نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں ایک وقت میں ٹماٹر کی قیمت 200 سے 250 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔ ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث جولائی میں خوردہ مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔

کرناٹک حکومت نے مندروں کو دی جانے والی گرانٹ روکنے کا حکم واپس لیا

0
کرناٹک-حکومت-نے-مندروں-کو-دی-جانے-والی-گرانٹ-روکنے-کا-حکم-واپس-لیا

کرناٹک کی کانگریس حکومت نے سرکاری ہندو مندروں کے ترقیاتی کاموں کے لیے گرانٹ روکنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔کرناٹک کے مجرئی کے وزیر راملنگا ریڈی نے حکم سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ کی طرف سے جاری کردہ سرکلر گمراہ کن تھا اور حکومت مندروں کو دی جانے والی کسی بھی گرانٹ کو روکنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔

مسٹر ریڈی نے کہا کہ کمشنر اور پرنسپل سکریٹری سمیت مجرئی محکمہ کے عہدیداروں سے حکم واپس لینے کے لئے کہا گیا ہے۔یہ فیصلہ سرکاری ہندو مندروں کو ملنے والی گرانٹ کے خلاف حکم پر عوامی غصے کا سامنا کرنے کے بعد کیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ مئی میں کانگریس کی حکومت بننے کے بعد سے اسے اپنے ہندو مخالف موقف کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چیف منسٹر سدارامیا کو اُڈپی کی فلم بندی سے نمٹنے اور مویشیوں کے ذبیحہ کو مجرمانہ قرار دینے کے منصوبے جیسے مسائل پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مجرتی کمشنر نے 14 اگست کو ایک سرکلر جاری کیا تھا جس میں تمام ضلعی منتظمین کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ سرکاری مندروں کو دی جانے والی گرانٹس کو روک دیں۔

یہ رقم مندروں کی مرمت اور ترقیاتی کاموں کے لیے دی جاتی تھی۔ یہ ان مندروں پر نافذ ہوتا ہے جہاں 50 فیصد فنڈز فراہم کیے گئے تھے یا فنڈز منظور کیے گئے تھے، لیکن کام آگے نہیں بڑھا تھا۔کرناٹک میں تقریباً 34,000 اوقافی مندر ہیں جنہیں سالانہ حاصل ہونے والی آمدنی کی مقدار کے لحاظ سے اے، بی اور سی زمروں میں درجہ بندی کی گئی ہے۔

25 لاکھ روپے سے زیادہ کی سالانہ آمدنی والے مندروں کی اے زمرہ کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے، جبکہ 5 لاکھ سے 25 لاکھ روپے کے درمیان سالانہ آمدنی والے مندروں کو بی اور 5 لاکھ روپے سے کم آمدنہ والے مندروں کی سی کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے۔ ریاست کے 34,000 بندوبستی مندروں میں سے 175 زمرہ اے کے مندر، 158 کیٹیگری بی اور باقی کیٹیگری سی کے ہیں۔

بے قصوروں کی قانونی لڑائی لڑنے والے گلزار احمد اعظمی نہیں رہے

0
بے-قصوروں-کی-قانونی-لڑائی-لڑنے-والے-گلزار-احمد-اعظمی-نہیں-رہے

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے قانونی امداد کمیٹی کے سکریٹری گلزار احمد اعظمی آج صبح انتقال کرگئے، چندروز قبل انہیں ممبئی کے مسینا اسپتال میں علاج کے لیے داخل کیاگیا اور اتوار کو انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔

گلزار اعظمی 89 سال کے تھے،ان۔کے پسماندگان میں چھ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں،گلزار اعظمی 1954ءسے جمعیت سے وابستہ رہے اور 69سال تک خدمت انجام دی،ملک اور خصوصاً فرقہ وارانہ فسادات اور قدرتی آفات کے دوراثراحتی کاموں میں بڑھ چڑھ حصہ لیتے رہے،خصوصی طورپرسری کرشناکمشن کی کارروائی اور متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرانے میں ان کا اہم رول رہا،پھر قانونی امدادی کمیٹی کے ذریعے فسادات کے بعد گرفتار بے قصوروں کی رہائی اور بم دھماکوں کے ملازمین کی باعزت رہائی کے لیے تین دہائیوں سے کوشاں رہے بلکہ سینکڑوں نوجوانوں کو باعزت بری کرانے میں بھی ہر طرح کی قانونی کوشش میں مصروف رہے۔بلکہ جوانوں کی طرح جمعیۃ علماء کے لئے آخری دم تک خدمات انجام دیتے رہے۔

جمعیتہ علماء ہند کی تقسیم کے وقت انہوں نے ارشد مدنی گروپ میں شمولیت اختیار کر لی اور قانونی امداد کمیٹی کے سکریٹری مقرر کیے گئے ۔کئی بے قصور ان کی کوشش کے نتیجے میں دو دہائی بعد باعزت بری ہوگئے،جن کی کفالت بھی تنظیم کے ذریعے کی گئی۔

آج مرحوم گلزار اعظمی کی رہائش گاہ پیرو لین بھنڈی بازار پہنچنے والوں میں سابق ریاستی وزیر اور ایم پی سی سی کے کارگزار صدر عارف نسیم خان،سماج وادی پارٹی صدر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی ،مقامی ایم ایل اے امین پٹیل ،کارپوریٹر جاوید جونیجو اور جمعیت علماء کے کارکن اور دیگر تنظیموں کے لیڈروں اور رضاکاروں نے دورہ کیااور تعزیت پیش کی۔تدفین اتوار کی شب بعد نماز عشاء بڑے قبرستان میں کی جائے گی۔

سنجے راوت نے اجیت پوار کو کہا ’کٹھ پھوڑا‘، کہا شندے کی کرسی میں سوراخ کریں گے

0
سنجے-راوت-نے-اجیت-پوار-کو-کہا-’کٹھ-پھوڑا‘،-کہا-شندے-کی-کرسی-میں-سوراخ-کریں-گے

کچھ دن پہلے این سی پی سربراہ شرد پوار اور مہاراشٹر کے نئے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی پونے میں ملاقات سے ریاست کی سیاست میں گرمی پیدا ہو گئی ۔ اس پر سیاسی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ان کی ملاقات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے،  رکن پارلیمنٹ اور شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر سنجے راوت نے کہا، ‘ان کی ملاقات سیاست سے بالاتر تھی۔ دونوں کی ملاقات کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شرد پوار اور اجیت پوار کئی غیر سیاسی تنظیموں کے لیے کام کر رہے ہیں، یہ تنظیمیں وقتاً فوقتاً میٹنگیں کرتی ہیں اور وہ ان کے کام میں شامل ہے۔

سنجے راوت نے سامنا کے ہفتہ وار مضمون میں ان کی ملاقات اور دونوں کے سیاسی طریقوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا، ‘کئی ماہرین مہاراشٹر میں پوار خاندان کی سیاست کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں’۔ ایم پی سنجے راوت نے بالاصاحب ٹھاکرے کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ‘بالا صاحب ٹھاکرے نے مہاراشٹر کے سیاسی رہنماؤں پر ایک کارٹون بنایا تھا، جس میں انہوں نے شرد پوار کو  کٹھ پھوڑا  کے طور پر دکھایا تھا۔واضح رہے کٹھ پھوڑا ایک پرندہ ہے جس کا نام ہد ہد ہے اور وہ لکڑی میں سوراخ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے  خیال میں اجیت پوار ایک کٹھ پھوڑا  کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے این سی پی میں سوراخ کر دیا ہے۔

مہاراشٹر کے ڈپٹی سی ایم دیویندر فڑنویس پر الزام لگاتے ہوئے، انہوں نے کہا، ‘دیویندر فڑنویس اس کٹھ پھوڑا (اجیت پوار) کو ایکناتھ شندے کی کرسی میں سوراخ کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ شیوسینا (یو بی ٹی) لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ مہاراشٹر کے ایک وفد نے دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وفد کا ماننا ہے کہ سی ایم شندے کو مہاراشٹر کا وزیر اعلیٰ بنانا بی جے پی کی سیاسی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ راوت نے کہا کہ اب بھی سی ایم شندے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں ریاست کے وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو اجیت پوار کو اس اتحاد میں شامل نہیں ہونا چاہئے تھا۔

ہندوستان ٹائمز میں شائع خبر کے مطابق سنجے راوت نے اجیت پوار پر طنز کرتے ہوئے کہا، ‘شرد پوار اجیت پوار کو سیاست میں لائے ہیں، اجیت پوار آج جو کچھ بھی ہیں وہ شرد پوار کی وجہ سے ہیں۔ ان سب کے باوجود اجیت پوار نے شرد پوار کو دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی ہلچل کے درمیان ملاقات کر رہے ہیں، اس لیے لوگوں میں کنفیوژن پیدا ہونے لازمی  ہے۔ تاہم جہاں تک انہیں  معلوم ہے یہ ملاقات غیر سیاسی تھی۔ شرد پوار کئی تعلیمی اور زرعی اداروں کے لیے کام کر رہے ہیں، اس میں انہوں نے اجیت پوار کو بھی شامل کیا ہے۔ شاید یہ ملاقات ان اداروں کے مستقبل کے پروگرام کے بارے میں تھی۔

منی بالی ووڈ کی جھلک گروگرام گلوبل سٹی میں نظر آئے گی

0
منی-بالی-ووڈ-کی-جھلک-گروگرام-گلوبل-سٹی-میں-نظر-آئے-گی

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے کہا کہ گلوبل سٹی گروگرام بین الاقوامی سطح کی آرٹ کی نمائش کا ایک پلیٹ فارم بن گیا ہے اور اب وہ دن دور نہیں جب یہاں منی بالی ووڈ کی جھلک نظر آئے گی۔

 وزیر اعلی  کھٹر نے عالمی یوم فوٹوگرافی کے موقع پر یہاں واقع ‘میوزیو کیمرہ’ میوزیم کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ نو برسوں سے ریاست کے خوشحال فن اور ثقافت کو محفوظ رکھنے کے لیے ریاست کی نئی فلم پالیسی تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گروگرام میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ معاہدہ کرکے یہ عالمی معیار کا میوزیم قائم کیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنے ‘من کی بات’ پروگرام میں میوزیم کے قیام کی تعریف کی ہے جہاں نہ صرف فوٹوگرافی بلکہ ملک کی سیاسی، ثقافتی اور سماجی تاریخ کے بارے میں بھی معلومات دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہاں نہ صرف ملک و دنیا کے فوٹو شائقین آئیں گے جو فوٹو گرافی میں دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ بالی ووڈ کے فلمساز اور فنکار بھی یہاں آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ فوٹو گرافی 18ویں صدی میں فرانس کے جوزف نیسفور نیپس نے ایجاد کی تھی جو کہ 21ویں صدی تک پہنچتے پہنچتے ایک سائنس کی شکل اختیار کر چکی ہے۔اس موقع پر میوزیو کیمرہ کے بانی اور ڈائریکٹر آدتیہ آریہ نے چیف منسٹر میوزیم تک پہنچنے اور میوزیم کے قیام میں تعاون کرنے پر ہریانہ حکومت کا خاص طورپر شکریہ ادا کیا۔

پنجاب کو پبلسٹی منسٹر کی نہیں وزیراعلیٰ کی ضرورت ہے : شیرگل

0
پنجاب-کو-پبلسٹی-منسٹر-کی-نہیں-وزیراعلیٰ-کی-ضرورت-ہے-:-شیرگل

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان جےویر شیرگل نے پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان پر حملہ کرتے ہوئے ان پر دوسری ریاستوں میں پارٹی کی انتخابی مہم میں سرکاری وسائل کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔

اتوار کو جاری ایک بیان میں مسٹر شیرگل نے چھتیس گڑھ کے رائے پور میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی انتخابی ریلی میں مسٹر بھگونت مان کی شرکت کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ جب پنجاب کو سیلاب کی وجہ سے بھاری نقصان ہوا ہے اس وقت  بھگونت مان اپنے سپر باس اروند کیجریوال کو خوش کرنے کے لیے انتخابی ریاستوں میں سیاسی ریلیاں کرنے میں مصروف ہیں۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ پنجاب کو وزیر اعلیٰ کی ضرورت ہے نہ کہ پبلسٹی منسٹرکی۔ انہوں نے کہا کہ بھگونت مان دوسری ریاستوں کا سفر کر کے پنجاب کے مفادات کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ان کا واحد ایجنڈا پارٹی سپریمو اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی سیاسی خواہشات کو پورا کرنا ہے جو کہ نام نہاد جھوٹے پنجاب ماڈل کا دکھاوا کرکے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے مان کو انتخابی ریاستوں میں لے جاتے ہیں ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسٹر کیجریوال ملک میں اے اے پی کو پھیلانے کے لئے بھگونت مان کا استعمال کر رہے ہیں۔ پنجاب کا پیسہ سیاسی سیاحت کے لیے استعمال ہو رہا ہے، ایسے میں اب کئی محکموں کے ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سراپا احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلی  بھگونت مان نے مسٹر کیجریوال کے ساتھ مشترکہ طور پر 5 مارچ کو رائے پور (چھتیس گڑھ)، 18 جون کو گنگا نگر (راجستھان)، یکم جولائی کو گوالیار (مدھیہ پردیش) اور 2 جولائی کو بلاس پور (چھتیس گڑھ) میں ریلیاں کیں۔ جب پنجاب کے 23 میں سے 19 اضلاع سیلاب کی زد میں تھے۔ بھگونت مان 17 جولائی کو بنگلورو میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے، جو اپنی ریاست کے لوگوں کی تکالیف سے واضح طور پر بے حس تھے اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ظاہر کرتے تھے۔

روسی خلائی مشن لونا-25 کی چاند کے مدار میں داخل ہونے کی کوشش ناکام

0
روسی-خلائی-مشن-لونا-25-کی-چاند-کے-مدار-میں-داخل-ہونے-کی-کوشش-ناکام

ماسکو: چاند پر بھیجے گئے روسی خلائی مشن لونا 25 کو چاند پر لینڈنگ سے قبل ایمرجنسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور چاند کے مدار میں داخل ہونے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ خیال رہے کہ لونا 25 کو روس نے 11 اگست کو لانچ کیا تھا۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس کا کہنا ہے کہ چاند پر بھیجے گئے روسی خلائی مشن لونا 25 میں غیرمعمولی ایمرجنسی صورتحال کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

روسی خلائی ایجنسی کے مطابق آپریشن کے دوران خودکار اسٹیشن پر ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی، چاند کی سطح پر اترنے سے پہلے ایمرجنسی صورتحال کا پتاچلا ہے، ماہرین لونا 25 میں پیش آنے والی ایمرجنسی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

روسکوسموس کے سربراہ یوری بوریسوف نے جون کے مہینے میں صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ چاند کے مشن جوکھم سے بھرے ہوتے ہیں اور ان کی کامیابی کا امکان صرف 70 فیصد ہوتا ہے۔

ہندوستان کے چاند مشن چندریان 3 کے ساتھ ساتھ روس کا لونا 25 بھی چاند کی سطح پر اترنے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا۔ اسی دوران 19 اگست کو لونا 25 میں تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی اور اسے ایمرجنسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔

روسی خلائی ایجنسی کو لونا-25 کی جانچ کے دوران ہی ہفتہ کو ہنگامی صورتحال کا علم ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کا چندریان 3 بھی چاند کے بہت قریب پہنچ گیا ہے۔ اس دوران لینڈر ماڈیول (ایل ایم) کو چاند کے قریب لے جانے کے لیے ڈی بوسٹنگ کا عمل بحفاظت مکمل ہو گیا ہے۔

کھڑگے نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کا کیا اعلان، ان لیڈران کو ملی جگہ

0
کھڑگے-نے-کانگریس-ورکنگ-کمیٹی-کا-کیا-اعلان،-ان-لیڈران-کو-ملی-جگہ

کانگریس نے اس سال ہونے والے اسمبلی انتخابات اور اگلے سال 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لیے اپنی نئی ٹیم تیار کر لی ہے۔ کانگریس کی نئی ورکنگ کمیٹی کی فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں کل 39 لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔

سی ڈبلیو سی کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کانگریس میں فیصلہ سازی کی سب سے بڑی کمیٹی ہے۔ تاہم اس نئی کمیٹی میں پرانی کے مقابلہ زیادہ تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ فہرست جاری کرنے سے پہلے گزشتہ کئی ماہ سے ملاقاتوں کا دور دورہ ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سے کئی ملاقاتیں کیں۔

سی ڈبلیو سی میں ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، منموہن سنگھ، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، اے کے انٹونی، امبیکا سونی، ادھیر رنجن چودھری، دگ وجے سنگھ، چرنجیت سنگھ چنی، آنند شرما سمیت کل 39 رہنما شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 32 مستقل مدعو ارکان، 9 خصوصی مدعو ارکان، یوتھ کانگریس، این ایس یو آئی، مہیلا کانگریس اور سیوا دل کے صدور کو بھی جگہ دی گئی ہے۔

کانگریس کی ورکنگ کمیٹی میں نئے نام سچن پائلٹ، ششی تھرور، اشوک چوان، دیپک باوریا کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ گورو گگوئی، ناصر حسین، دیپا داس منشی کو بھی سی ڈبلیو سی میں شامل کیا گیا ہے۔ خصوصی مدعو کرنے والوں میں پون کھیرا، سپریا شرینے اور الکا لامبا شامل ہیں۔

ہماچل میں حالات قابو میں لیکن آج پھر بھاری بارش کا انتباہ، نقصان کا جائزہ لینے پہنچے جے پی نڈا

0
ہماچل-میں-حالات-قابو-میں-لیکن-آج-پھر-بھاری-بارش-کا-انتباہ،-نقصان-کا-جائزہ-لینے-پہنچے-جے-پی-نڈا

نئی دہلی: ہماچل پردیش کے وزیر اعلی سکھویندر سنگھ سکھو نے کہا کہ ریاست میں حالات اب قابو میں ہیں۔ جب تیز بارش ہوتی ہے تو لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات ہوتے ہیں لیکن اس بار 13 سے 16 اگست کے درمیان ایسے واقعات زیادہ دیکھنے میں آئے ہیں۔ ہماچل میں مٹی کے تودے گرنے سے کئی لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ریاست میں موسلادھار بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے کافی نقصان ہوا ہے۔ خیال رہے کہ ہماچل پردیش کا راج بھون ہفتہ کو عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا تھا اور پہلے دن تقریباً 60 طلباء نے اس تاریخی عمارت کا دورہ کیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جے پی نڈا آج ہماچل پردیش پہنچ رہے ہیں تاکہ حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہوئے بھاری نقصان کا جائزہ لیں۔

وہیں، ہماچل کے شملہ میں شیو مندر کے ملبے سے ایک اور لاش برآمد ہونے کے بعد ریاست میں بارش سے متعلق واقعات میں جان گنوانے والوں کی تعداد ہفتہ کو بڑھ کر 78 ہو گئی۔ حکام نے بتایا کہ مقامی محکمہ موسمیات نے ‘اورنج الرٹ’ جاری کیا ہے جس میں اگلے دو دنوں کے دوران شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق ہماچل پردیش میں 24 جون کو مانسون کے آغاز سے بارش سے متعلق واقعات اور سڑک حادثات میں 338 افراد ہلاک اور 38 لاپتہ ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 338 مرنے والوں میں سے 221 لوگوں کی موت بارش سے متعلق واقعات میں ہوئی۔ ایمرجنسی سنٹر کی طرف سے بتایا گیا کہ 11600 مکانات کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچا ہے اور تقریباً 560 سڑکیں ابھی بھی بند ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 253 ٹرانسفارمر اور 107 واٹر سپلائی سکیمیں رک گئی ہیں۔

مقامی محکمہ موسمیات نے 20 اور 21 اگست کے لیے موسلا دھار بارش کے لیے ‘اورنج الرٹ’ جاری کیا ہے، جب کہ 22 اور 23 اگست کے لیے شدید بارش کے لیے ‘یلو الرٹ’ جاری کیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شملہ، سرمور اور چمبا اضلاع میں سیلاب کا خطرہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ موسلادھار بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ، طوفانی سیلاب اور دریاؤں اور نالوں کے پانی کی سطح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ فصلوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔