جمعرات, اپریل 2, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 174

گلزاراعظمی کے انتقال پر رہنماؤں کا اظہار تعزیت، کہا ملت کا ناتلافی نقصان

0
گلزاراعظمی-کے-انتقال-پر-رہنماؤں-کا-اظہار-تعزیت،-کہا-ملت-کا-ناتلافی-نقصان

جمعیتہ علماء ہندلیگل سیل کے سکریٹری گلزاراعظمی کے انتقال پرممبئی اور ریاست کے مسلم رہنماؤں نے اظہار تعزیت کیا ہے ،اس موقع پر سابق ریاستی وزیر اور مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی ( ایم پی سی سی) کے کارگزار صدرعارف نسیم خان نے اسے ملت کا ناتلافی نقصانقرار دیا ہے ۔

عارف نسیم خان نے کہاکہ انہوں نے ملت کی۔فلاح وبہبود کے لیے بہت بڑے بڑے کام کیے ہیں اور ہم نے ایک قیمتی سرمایہ کھودیاہے جس کی تلافی مشکل ہے۔انہوں نے کہاکہ گلزار اعظمی نے ہمیشہ ملت میں اتحاد و اتفاق کی کوشش کی اور اس کے لیے کوشاں رہتے تھے۔

ایک عرصے تک ان کے ساتھ  کامکرنے کا موقعہ ملا اور ان کی فیصلہ کی صلاحیت بھی بھر پور تھی۔جب بھی ریاست یا ملک میں اقلیتی فرقے پر کہیں ظلم ہوتا تو وہ تلملااٹھتے اور اسے انصاف دلانے کے لیے ہرممکن کوشش کرتے تھے۔ انہوں نے فساد متاثرین اور بم دھماکوں میں پھنسائے گئے بے قصوروں کو انصاف دلانے کے لیے اور انہیں قانونی مدد فراہم کرانے کے لیے ہم تم گوش رہتے تھے ۔

‏اس موقع پر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے گلزار اعظمی کی رحلت کو ملت کا عظیم خسار ہ قرار دیاہء، انہوں نے کہا کہ جمعیتہ علماء لیگل سیل کے سر براہ اور جنرل سکریٹری گلزار احمد اعظمی کی رحلت کی خبر افسوسناک ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ گلزار اعظمی کی رحلت قوم و ملت کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے ،آج ہم ایک شفیق اور بزرگ قائد ملت سے محروم ہو گئے اللہ پاک انہیں غریق رحمت کرے گلزار اعظمی کی خدمات کو قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی وہ مسلم مسائل کے ساتھ مسلم نوجوانوں کو اسیری سے نجات دلانے میں ہمیشہ کوشاں رہتے تھے۔وہ۔مظلوموں کی آواز تھے۔

ابو عاصم نے کہاکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق ہو۔ اللہ کی بارگاہ میں دعاہے کہ انہیں اپنی جواررحمت میں جگہ عطا کرے آمین۔

جمعیۃ علماء مہا راشٹرکے صدرمولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے ایک تعزیتی بیان میں کہاکہ یقینايہ خبر بہت ہی رنج و غم کے ساتھ سنی جائے گی ۔ ان کی وفات کی خبر سے صوبے مہاراشٹرکے ملی ،سیاسی و سماجی حلقوں اور عوام میں رنج و غم کا ماحول ہے،اللہ تبارک و تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں  جنت الفردوس میں اعلی مقام سے نوازے۔

حافظ محمد ندیم صدیقی نےگہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تبارک و تعالی نے الحاج گلزار اعظمی کو بے شمار صلاحیتوں اور خوبیوں سے نوازہ تھا ، ان کانام آتے ہی ذہن ميں فوراً ایک تصوير ابھر کر آجا تی ہےکہ وہ بےقصور مسلمانوں کی لڑائی لڑتےتھےاور ا س کےلئے ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار رہتے تھے ۔گلزار اعظمی صاحب جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ايک قديم خادم تھے وہ ایک طویل زمانے سےجمعیۃ علماء سے وابستہ تھے اور زندگی کی آخری سانس تک جمعیۃکے فلیٹ فارم سے کئی اہم نمایاں کام انجام دیئے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اللہ تعالی ان کی جملہ خدمات کو قبول فرمائے ان کو اس کا بہترصلہ عطاء فرمائے اور ملت کونعم البدل عطا فرمائے۔

سنی دیول کے بنگلے کی نیلامی روکنے کی تکنیکی وجوہات  پر  جے رام رمیش کا طنز

0
سنی-دیول-کے-بنگلے-کی-نیلامی-روکنے-کی-تکنیکی-وجوہات- پر- جے-رام-رمیش-کا-طنز

کانگریس رہنما جے رام رمیش نے فلم اداکار اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنی دیول کے گھر کی ای نیلامی پر طنز کیا۔ اس معاملے پر انہوں نے ٹویٹ کیا کہ کل ملک کو پتہ چلا کہ ان کا گھر نیلام ہونے والا ہے اور 24 گھنٹے کے اندر بینک  نے نیلامی کا نوٹس بھی واپس لے لیا۔

انہوں نے ٹویٹ کیا، "کل دوپہر، ملک کو معلوم ہوا کہ بینک آف بڑودہ نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سنی دیول کی جوہو رہائش گاہ کو ای نیلامی کے لیے رکھا ہے کیونکہ انہوں نے بینک کو 56 کروڑ روپے واپس نہیں کیے ہیں۔ آج صبح، 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں، ملک کو معلوم ہوا کہ بینک آف بڑودہ نے ‘تکنیکی وجوہات’ کی وجہ سے نیلامی کا نوٹس واپس لے لیا ہے۔ حیرت ہے کہ ان ‘تکنیکی وجوہات’ کی وجہ کون ہے؟‘‘

نیوز پورٹل’ اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق سنی دیول کے ولا کی نیلامی کے لیے ہفتہ یعنی19 اگست کو بینک آف بڑودہ نے نوٹس جاری کیا  تھا۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سنی نے بینک سے بھاری رقم کا قرض لیا تھا۔ یہ قرض لینے کے لیے اس نے ممبئی کے جوہو میں سنی ولا کو گروی رکھا تھا جس کے لیے انھیں تقریباً 56 کروڑ روپے ادا کرنے تھے۔ قرض اور اس کے سود کی وصولی کے لیے، بینک نے جائیداد نیلام کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک اشتہار دیا۔

اشتہار کے مطابق سنی ولا کی نیلامی 25 ستمبر کو ہونی تھی۔ اکنامک ٹائمز کے مطابق اب بینک نے اس معاملے پر یو ٹرن لے لیا ہے۔ بینک آف بڑودہ نے اپنا ای نیلامی نوٹس واپس لینے کی تکنیکی وجہ بتائی ہے۔ بینک نے اپنے بیان میں کہا کہ اجے سنگھ دیول کے سیل نیلامی نوٹس کے سلسلے میں، تکنیکی وجوہات کی بنا پر ای-آکشن نوٹس واپس لے لیا گیا ہے۔ اب ان کا بنگلہ نیلام نہیں ہوگا۔

الحاج گلزاراحمد اعظمی کا انتقال جمعیۃعلماء ہند اورملت کے لئے ایک بڑاخسارہ: مولانا ارشدمدنی

0
الحاج-گلزاراحمد-اعظمی-کا-انتقال-جمعیۃعلماء-ہند-اورملت-کے-لئے-ایک-بڑاخسارہ:-مولانا-ارشدمدنی

جمعیۃعلماء ہند کے قدیم ترین خادم گلزاراحمد اعظمی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ گلزاراعظمی ؒ انتہائی کم عمری میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ اورجمعیۃعلماء ہند سے وابستہ ہوئے اوراپنی پوری زندگی ملک وملت کی خدمت میں صرف کردی۔

ایک تعزیتی بیان میں مولانا ارشد مدنی  نے کہا کہ یہ وہ زمانہ تھا جب مہاراشٹر جمعیۃعلماء کے روح رواں حکیم اعظمی صاحب مرحوم تھے اسی زمانہ میں 1955میں دینی تعلیمی کنونشن کا انعقاد ممبئی میں ہواتھا جس میں مرکزی دینی بورڈکا قیام عمل میں آیا، اس طرح اعظمی صاحب کی خدمات تقریبا65سال پر محیط ہے، ان کا عقیدہ تھا کہ آخرت کی کامیابی جمعیۃعلماء ہند کے ساتھ منسلک رہنے میں ہے۔ اس درمیان میں بہت سے نشیب وفرازرونماہوئے مگر ان کے پائے استقامت میں ذرہ برابر بھی لغزش نہیں آئی، صداقت، حق گوئی، حق شناسی اوربے باکی ان کا طرہ امتیازتھا وہ عالم نہیں تھے لیکن عالموں کی صحبت نے ان کا مزاج عالمانہ بنادیاتھا، اسی وجہ سے بہت سارے لوگ مولانا سے خطاب کرتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں دہشت گردی کے الزام میں جب نوجوانوں کی اندھادھند گرفتاریاں ہونے لگیں اوران مظلوموں کے سایہ سے بھی لوگ دوربھاگنے لگے، مقدمات کی پیروی تودورکی بات، لوگ خبرگیری سے بھی کترانے لگے ان حالات میں میری درخواست پر گلزاراحمد اعظمیؒ نے کمرہمت باندھی اوردہشت گردی کے الزام میں جیل کی سلاخوں میں مقیدنوجوانوں کے مقدمات کی پیروی کابیڑااٹھایا۔ انہوں نے وکلاء کی ٹیم تیارکی اورپورے ملک میں مظلومین ومحروسین کی امداد ودادرسی میں کوئی کمی نہیں کی جس کے نتیجہ میں سیکڑوں باعزت بری ہوئے اورہزاروں ضمانت پر رہاہوکر اپنے اہل وعیال کی خبرگیری کافریضہ اداکررہے ہیں۔جو لوگ دہشت گردی کے الزام سے باعزت بری ہوئے ہیں ان میں تیس لوگ تووہ ہیں جنہیں نچلی عدالتوں سے پھانسی کی سز اہوچکی تھی، یہی نہیں 89 پھانسی اور125 عمرقیدکی سزاپائے لوگوں کی اب بھی ہائی کورٹ اورسپریم کوٹ میں جمعیۃعلماء ہند کی قانونی امدادکمیٹی پیروی کررہی ہے۔

مولانامدنی نے کہا کہ ان کی رحلت سے ایساخلاپید ہواہے جس کا پرہونا مشکل ہے، اب ان صفات کا حامل دوسراکوئی نظرنہیں آتا، اعظمی صاحب کا شب وروز کا مشغلہ مظلومین، دہشت گردی کے الزام میں محروسین کی امدادودادرسی کاتھا چنانچہ 24گھنٹہ وہ دفتر میں گزارتے تھے، کسی وقت کوئی ان سے رابطہ کرتاوہ حاضررہتے، ان کے یہ کارنامے ان شاء اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت اوترقی درجات کا ذریعہ بنیں گے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ میں ورثاء اوراعزاء واقرباء سے تعزیت کرتاہوں اورملت کے بہی خواہوں اورہمدردان نیزجماعتی احبا ب سے مرحوم کے لئے مغفرت اورترقی درجات کی دعاکی درخواست کرتاہوں نیز مرحوم کے نعم البدل کے لئے بارگاہ رب العزت میں دعاء کی درخواست کرتاہوں۔

یوپی میں موسم نے لی کروٹ ، مغربی یوپی کے کئی علاقوں میں موسلادھار بارش کا امکان

0
یوپی-میں-موسم-نے-لی-کروٹ-،-مغربی-یوپی-کے-کئی-علاقوں-میں-موسلادھار-بارش-کا-امکان

اتر پردیش میں پچھلے کچھ عرصے سے موسم میں کافی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کبھی گرمی سے لوگوں کو پسینہ آ رہا ہے تو کبھی اچانک بارش سے موسم خوشگوار ہو جاتا ہے۔ ریاست میں مانسون کے کم اثر کی وجہ سے صرف ایک یا دو مقامات پر بارش ہوئی، جس کی وجہ سے لوگوں کا گرمی سے برا حال تھا، لیکن پیر سے لوگوں کو گرمی سے راحت ملے گی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے 26 اگست تک ریاست کے تقریباً تمام اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ دیکھنے کو ملے گا۔

محکمہ موسمیات کے لکھنؤ مرکز کے مطابق پیر کو ریاست میں کئی مقامات پر  گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ ریاست میں ایک یا دو مقامات پر گرج چمک کے ساتھ گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے اور مغربی یوپی میں ایک یا دو مقامات پر تیز بارش ہو سکتی ہے۔ 22 اگست سے مغربی یوپی اور مشرقی یوپی میں تقریباً تمام مقامات پر بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے اور 26 اگست تک مغربی یوپی اور مشرقی یوپی میں کئی مقامات پر بارش اور بوندا باندی ہوگی۔

اگلے 48 گھنٹوں میں اتر پردیش میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں کوئی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں، اس کے بعد 2-3 ڈگری سیلسیس کی گراوٹ اگلے پانچ دنوں تک کم سے کم درجہ حرارت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ دوسری طرف، گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریاست میں سب سے زیادہ درجہ حرارت آگرہ میں 36.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جب کہ کم سے کم درجہ حرارت 25.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سہارنپور، شاملی، مظفر نگر، بجنور، امروہہ، سنبھل، بدایوں، بریلی، رام پور، پیلی بھیت، شاہجہاں پور، فرخ آباد، قنوج، ہردوئی، سیتا پور، لکھیم پور کھیری، بہرائچ پور، بہرائچ پور میں آج گرج چمک کے ساتھ ب بارش کا امکان ہے۔ وہیں سہارنپور، بجنور، مرادآباد، رام پور، بریلی، پیلی بھیت، لکھیم پور کھیری میں تقریباً تمام مقامات پر بارش کا امکان ہے۔

آج شاملی، مظفر نگر، میرٹھ، امروہہ، سنبھل، بداون، شاہجہاں پور، سیتا پور، بہرائچ، شراوستی، گونڈہ، بلرام پور، بستی، سدھارتھ نگر، سنت کبیرداس نگر، گورکھپور، گونڈہ، مہاراج گنج، دیوریا، کشی نگر اور آس پاس کے علاقوں میں کئی مقامات پر۔ بارش ہو سکتی ہے.

ای ڈی تحقیقات کے خوف سے این سی پی کے ایم ایل اے بی جے پی حکومت میں شامل ہوئے: شرد پوار

0
ای-ڈی-تحقیقات-کے-خوف-سے-این-سی-پی-کے-ایم-ایل-اے-بی-جے-پی-حکومت-میں-شامل-ہوئے:-شرد-پوار

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے کہا ہے کہ حال ہی میں ہماری ان کی  کے کچھ لوگ ایجنسیوں کی تحقیقات کے خوف سے این ڈی اے میں شامل ہوئے ہیں۔ ان میں سے بہت سے رہنما انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی نظر میں تھے اور وہ تحقیقات کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔

اپنے بھتیجے اجیت پوار کا نام لیے بغیر، سینئر پوار نے کہا، "حال ہی میں ہمارے کچھ لوگ حکومت میں شامل ہوئے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ وہ ترقی کے لیے حکومت میں شامل ہو رہے ہیں، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ حکومت میں شامل ہوئے ہیں کیونکہ وہ  ای ڈی اور تحقیقات کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔

سوشل میڈیا پر پارٹی کی طرف سے منعقدہ میٹنگ میں این سی پی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پوار نے کہا، "کچھ لوگ جیسے انل دیشمکھ نے تحقیقات کا سامنا کیا اور جیل جانا قبول کر لیا۔ انہوں نے 14 مہینے جیل میں گزارے۔ انہیں اس پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے اپنا نظریہ ترک نہیں کیا اور این سی پی نہ چھوڑنے کے اپنے فیصلے پر قائم رہے۔

پوار نے کہا کہ اس نے (انل دیشمکھ) کوئی جرم نہیں کیا ہے اور اس نے قانون کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو مہاراشٹر کے لوگوں کے مسائل پر توجہ دینی چاہئے۔ ریاست کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ عوام کو بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ساتھ ہی کسانوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔

واضح رہے  کہ حال ہی میں اجیت پوار اپنے حمایتی ایم ایل اے کے ساتھ مہاراشٹر حکومت میں شامل ہوئے تھے۔ اس کے بعد، انہوں نے نائب وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا، جب کہ آٹھ دیگر این سی پی ایم ایل اے نے بھی جولائی میں وزیر کے طور پر حلف لیا۔

چھتیس گڑھ میں کانگریس ایم ایل اے پر جان لیوا حملہ، نشے میں دھت ملزم نے چاقو سے کیا حملہ

0
چھتیس-گڑھ-میں-کانگریس-ایم-ایل-اے-پر-جان-لیوا-حملہ،-نشے-میں-دھت-ملزم-نے-چاقو-سے-کیا-حملہ

چھتیس گڑھ میں کانگریس ایم ایل اے چھنی ساہو پر ایک نوجوان نے چاقو سے حملہ کیا۔ یہ حملہ راج ناندگاؤں ضلع میں ہوا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم کی شناخت کھلیشور کے طور پر کی گئی ہے اور اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق پولیس نے بتایا کہ  یہ واقعہ کل شام ڈونگرگاؤں تھانہ علاقے کے تحت جودھرا گاؤں میں پیش آیا، جب کھوجی کی رکن اسمبلی  چھنی ساہو ایک عوامی تقریب میں شریک تھیں۔ ملزمان نے ایم ایل اے  ساہو  پر چاقو سے حملہ کیا۔ جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو گئیں۔

اس حملے کے پیچھے کیا وجہ ہے، یہ بات سامنے نہیں آئی ہے۔ پولیس نے ملزم کو ڈونگر گاؤں تھانے میں رکھا ہوا ہے۔حکمران پارٹی کے ایم ایل اے پر اس حملے سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔

خبر کے مطابق ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ایم ایل اے ساہو ڈائس پر تھیں  جب ایک نشے میں دھت شخص نے ان پر چاقو سے حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ساہو کی کلائی پر معمولی چوٹیں آئی ہیں، جس کے بعد انہیں کمیونٹی ہیلتھ سینٹر چوریا لے جایا گیا، جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

واضح رہے  کہ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی چھنی ساہو نے چھتیس گڑھ کی کھوجی سیٹ پر بی جے پی کے ہیریندر کمار ساہو کو شکست دی تھی۔ اس الیکشن میں انہیں  کو 71,733 ووٹ ملے اور ہیریندر کمار ساہو کو 44,236 ووٹ ملے تھے۔

علیحدگی پسندی اور نفرت کو آج اقتدار کی حمایت حاصل ہے: سونیا گاندھی

0
علیحدگی-پسندی-اور-نفرت-کو-آج-اقتدار-کی-حمایت-حاصل-ہے:-سونیا-گاندھی

سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے یوم پیدائش کے موقع پر کانگریس نے راجیو گاندھی نیشنل سدبھاونا ایوارڈ پروگرام کا اہتمام کیا۔ اس دوران کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی نے کہا کہ راجیو گاندھی نے ملک کی خدمت کرنے کے لیے کم وقت میں  انھوں نے ان گنت کامیابیاں حاصل کیں۔ وہ ہندوستان میں موجود پولیمورفیزم  یعنی کئی طرح کے لوگوں کے حامی تھے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ وہ اس حقیقت کے بارے میں بہت حساس تھے کہ ہندوستان کے اتحاد کو صرف مذہبی، نسلی، زبانوں اور ثقافت کو منا کر ہی مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

سونیا گاندھی نے کہا کہ یہ ایوارڈ ان لوگوں اور اداروں کو دیئے گئے ہیں جنہوں نے امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو آگے بڑھانے میں خصوصی تعاون کیا ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ یہ ایک ایسے وقت میں اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے جب علیحدگی پسندی، نفرت، تعصب اور فرقہ واریت کو فروغ دینے والی طاقتیں زیادہ فعال ہوں اور انہیں اقتدار کی حمایت حاصل ہو۔ پرانے وقتوں کو یاد کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ راجیو گاندھی کی سیاسی زندگی کا خاتمہ انتہائی ظالمانہ طریقے سے ہوا تھا۔ لیکن مختصر وقت میں ملک کی خدمت کرنے کے لیے انہوں نے بے شمار کامیابیاں حاصل کیں۔

پروگرام میں سونیا گاندھی نے کہا کہ راجیو گاندھی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم تھے۔ راجیو جی نے پنچایتوں اور میونسپلٹیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن کے لیے جدوجہد کی۔ 1989 کے پارلیمانی انتخابات میں پہلی بار 18 سال کی عمر کے افراد کو ووٹ کا حق دیا گیا جن میں نصف خواتین تھیں۔

سونیا گاندھی نے کہا کہ جب خواتین تعلیم یافتہ ہوں گی، تب ہی وہ اپنا بہتر مستقبل بنا سکتی ہیں۔ وہ خاندان، معاشرے اور ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔ آج ہم بن استھلی یونیورسٹی کو عزت دیتے ہیں، جو راجیو جی کے اصولوں اور نظریات پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بن استھلی یونیورسٹی خواتین کو تعلیم دینے میں ایک ممتاز تاریخ رکھتی ہے۔ آج ہم یونیورسٹی کے کام، کامیابیوں اور عزم کا احترام کرتے ہیں۔ راجیو گاندھی نیشنل سدبھاونا ایوارڈ کے لیے بن استھلی یونیورسٹی کا انتخاب خوش آئند ہے۔ میں اس ادارے سے وابستہ تمام لوگوں کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

وہیں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بتایا کہ راجیو جی نے قبائلیوں کے درمیان جاکر ان کے مسائل دیکھے اور زمینی صورتحال کے مطابق منصوبہ بنایا۔ وہ ہر قسم کی فرقہ واریت کے خلاف تھے۔ جب آندھرا پردیش میں فسادات ہوئے تو انہوں نے اپنے  وزیر اعلی سے اخلاقی طور پر استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔ راجیو جی نے یونیورسل ویکسینیشن شروع کی۔ کئی قسم کی ویکسین نے لاکھوں لوگوں کو نئی زندگی دی تھی۔

کانگریس صدر کھڑگے نے کہا کہ راجیو گاندھی نے گنگا کی صفائی کے لیے گنگا ایکشن پلان شروع کیا تھا۔ نیشنل بنجر لینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے جامع قوانین بنائے گئے تھے جنہیں آج کمزور کیا جا رہا ہے۔ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ظلم کے خلاف ڈٹ جاتے تھے۔ انہوں نے دنیا کے تمام ممالک کو بغیر تشہیر کے انسانی امداد دی تھی۔

مجلس مشاورت ملی وقار اور ملی حقوق کے حصولیابی کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم: ابو ذر کمال الدین

0
مجلس-مشاورت-ملی-وقار-اور-ملی-حقوق-کے-حصولیابی-کا-ایک-مشترکہ-پلیٹ-فارم:-ابو-ذر-کمال-الدین

مجلس مشاورت قائدین کو عوام سے جوڑنے کی ایک کوشش، ملی تشخص، ملی وقار اور ملی حقوق کے حصولیابی کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے اور وفاق، اتحاد میں یقین رکھتی ہے۔یہ بات آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، بہار کے زیر اہتمام آل بہار کانفرنس میں بہار کے ریاستی صدر ڈاکٹر سید ابو ذر کمال الدین نے کہی۔

آج جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کہاکہ ملت میں جو بھی بڑی بڑی جماعتیں ہیں، ادارے ہیں ان سب کو جوڑکر ایک ایسی قوت بنانے کی ضرورت  ہے جس کا وژن ہماری سیاسی اور سماجی زندگی میں محسوس کیا جائے اور جس کی رائے، مشورے اور ضروریات کو کوئی کوئی نظر انداز نہیں کرسکے۔ اس کیلئے مشاورت نے پرانی بنیاد پر ایک نئی عمارت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نومبر کے مہینے میں 15 نومبر سے 30 نومبر تک فرقہ وارانہ خیرسگالی کی غرض سے ایک پندرہ روزہ مہم نیبر ہڈ مہم برائے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نام سے مشاورت کے بینر تلے پورے بہار میں شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے تاکہ ہم جس محلہ، وارڈ، بستی،پنچایت، بلاک شہر اور ضلع میں رہتے ہیں وہاں ہمارے پڑوس میں جو غیر مسلم آبادی ہے اس سے رابطہ پیدا کرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور خیر سگالی کا ایک ماحول بنائیں۔

انہوں نے مزید بتا یا کہ مشاورت، بہار کا پہلا ایجنڈا ملت کے جان و مال کا تحفظ، ان کے شہری حقوق کی حٖفاظت، ان کو خوف و ہراس کے ماحول سے باہر نکالنا۔ ان کے اندر ہمت اور حوصلے کی بحالی، انکی ریلیف و بازآباد کاری ہے۔ دوسرے ایجنڈا انکی تعلیم، معاش، صحت، روزگار اور زبان و تہذیب اور ملی اداروں کا تحفظ ہے۔ تیسرا ایجنڈا ملت کی صحیح سیاسی تربیت، اپنے ووٹ کی قوت کو پہنچاننا، ووٹر لسٹ میں اپنے نام کا اندراج یقینی بنانا اور اس کے  لئےمحلہ اور وارڈ کی سطح پر مہم چلانا اور الیکشن کے وقت اپنے حق رائے دہندگی کا سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہے۔ چوتھا یجنڈا آپسی بھائی چارے کو مضبوط کرنا، ملت میں انتشار اور افتراق کو کم کرنا، ایک دوسرے سے ربط ضبط بڑھانا، اور اپنے آپسی مسائل کو باہم بیٹھ کر حلا کرنا۔ ہمیں دوسروں کے ہاتھ کا کھلونابننے سے ہر حال میں بچنا ہے۔ پانچواں ایجنڈا اپنی خواتین کی تعلیم اور تربیت پر زور دینا اور ان کو ہر طرح سے طاقتوربنانا۔ خواتین کی حصہ داری کے بغیر ملت کا کام ادھورا رہے گا۔ چھٹا ایجنڈا سماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ یہ کا م وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمارے لئے یہ خوشی اور قدرے اطمینان کی بات ہے حکومت بہار اس معاملہ میں حساس ہے اور اس نے بہت حد تک انتظامی سطح پر حالات کو بگڑنے سے روکا ہے اور ایسی مستعدی آگے بھی برقرار رہنی چاہیئے۔

جموں وکشمیر میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے :غلام نبی آزاد

0
جموں-وکشمیر-میں-غربت-اور-بے-روزگاری-میں-اضافہ-ہوا-ہے-:غلام-نبی-آزاد

ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے سربراہ غلام نبی آزاد نے اتوار کے روز کہاکہ جموں وکشمیر میں بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے کام کریں گے ۔انہوں نے بتایا کہ نئے جموں وکشمیر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی خاطر ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ان باتوں کا اظہار موصوف نے ڈورو اننت ناگ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔

انہوں نے کہاکہ اگر ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو جموں وکشمیر میں بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے کام کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ میں تمام تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے نوکریوں کا وعدہ نہیں کر سکتا لیکن اتنا ضرور ہے کہ ان کے لئے روزی روٹی کے مواقع پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ آزاد نے کہاکہ جموں وکشمیر میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں اس وقت تین قسم کے بے روزگار ہیں تعلیم یافتہ ، ہنر مند اور غیر ہنر مند تینوں کو روزگار فراہم کرنے کی خاطر زمینی سطح پر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ غلام نبی آزاد نے کہاکہ بطور وزیرا علیٰ ٹیولیپ گارڈن بنایا جو آج سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بطور وزیراعلیٰ بہت ساری اسکیموں کو لاگو کیا اور ان اسکیموں سے بے روزگار نوجوان مستفید ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بطور وزیرا علیٰ ہاتھ میں لئے گئے پروجیکٹوں کووقت مقررہ کے اندرا ندر مکمل کیا اور ٹرپل شفٹ کا نظام متعارف کرایا۔

غیرمعمولی جغرافیائی محل وقوع کے نظریئے سے دیا جائے خصوصی ریلیف پیکج: سکھو

0
غیرمعمولی-جغرافیائی-محل-وقوع-کے-نظریئے-سے-دیا-جائے-خصوصی-ریلیف-پیکج:-سکھو

آفت کی وجہ سے ہوئے بھاری نقصان پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعلیٰ ٹھاکر سکھویندر سنگھ سکھو نے کہا کہ ریاست میں کافی نقصان ہوا ہے۔انہوں نے ریاست میں حالات معمول پر لانے کے لیے ریاستی حکومت کی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے کیدارناتھ اور بھوج سانحات کی طرز پر مالی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی۔

 وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرکاری اور نجی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے موجودہ ریلیف قوانین کے مطابق ہماچل پردیش میں ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے مالیاتی التزام ناکافی ہے۔ انہوں نے ریاست کے جغرافیائی حالات اور آفات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک خصوصی امدادی پیکیج پر زور دیا۔

مسٹر سکھو نے مرکزی حکومت کی طرف سے عبوری ریلیف کی پہلی قسط کے تاخیر سے جاری ہونے کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جگت پرکاش نڈا اور مرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر سے اپیل کی کہ وہ مالی امداد فراہم کرنے کے عمل کو تیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ مانسون کے دوران شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی قدرتی آفت سے ریاست کو 10,000 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اسسمنٹ ٹیمیں بھیجنے کے باوجود عبوری ریلیف ابھی تک زیر التوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت متاثرین کو امداد فراہم کرنے کے لیے اپنے محدود وسائل کا استعمال کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (ایس ڈی آر ایف) کے تحت 360 کروڑ روپے جاری کیے ہیں جو دو سالانہ قسطوں میں دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ اعتراضات کو دور کرنے کی ریاستی حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں زیر التواء 315 کروڑ روپے میں سے 189 کروڑ روپے مرکزی حکومت نے جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے بقیہ 126 کروڑ روپے جلد سے جلد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 اگست 2023 تک ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کو ریاست میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ بھیج کر 6,700 کروڑ روپے کا دعویٰ کیا ہے۔ مرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر اور اپوزیشن لیڈر جئے رام ٹھاکر نے بھی میٹنگ کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا۔