جمعرات, اپریل 2, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 173

وزیر اعلیٰ کیجریوال نے ایم سی ڈی ملازمین کی تنخواہ کا جشن منایا، لیکن وقف بورڈ کے اماموں کی تنخواہ پر اب تک خاموش

0
وزیر-اعلیٰ-کیجریوال-نے-ایم-سی-ڈی-ملازمین-کی-تنخواہ-کا-جشن-منایا،-لیکن-وقف-بورڈ-کے-اماموں-کی-تنخواہ-پر-اب-تک-خاموش

نئی دہلی: دہلی وقف بورڈ کے اماموں اور موذنین کو پچھلے 16 مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ اس کیلئے وہ کئی مرتبہ وقف کے دفتر کے باہر اپنی جائز تنخواہوں کو لے کر احتجاج بھی کر چکے ہیں، حالانکہ اس کا کوئی اثر دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ امام اور موذن قرض کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں لیکن اپنے آپ کو کٹر ایماندار پارٹی کہنے والی عام آدمی پارٹی (عآپ) اماموں کو تنخواہ دینے کا مسئلہ حل نہیں کر پائی ہے۔

ذرائع کے مطابق چار دن بعد 26 اگست کو وقف بورڈ کی پانچ سالہ مدت ختم ہو جائیگی۔ اگلے بورڈ میں کون آئے گا، اگلا بورڈ کب تشکیل دیا جائے گا، یہ بھی نہیں معلوم۔ دہلی میں انتخابات کے دوران عام آدمی پارٹی کے مسلم لیڈران کیجریوال حکومت کے کاموں کو بیان کرتے کرتے نہیں تھکتے اور ‘جھاڑو’ کی لہر بتاتے ہوئے ایک ایماندار پارٹی کو ووٹ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن جب بات اماموں کی تنخواہ کی آتی ہے تو یہی مسلم لیڈران اپنے منہ میں دہی جما کر بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں نکالتے۔

آج اماموں کا کیا حال ہے، ان کی روز مرہ کی زندگی کس طرح گزر رہی ہے اس کو ہر کس و ناکس اچھی طرح جانتا ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے۔ ایم سی ڈی ملازمین کو پہلی تاریخ کو ملی تنخواہ پر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے پیر کے روز دہلی تیاگ راج اسٹیڈیم میں ایک بڑا اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں وزیر اعلی نے اپنی فطرت کے مطابق اپنی حکومت کی تعریفوں کے پل باندھے اور اس کام کو تاریخی دن بتایا۔ اس دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ 13 سال بعد ایم سی ڈی کے ملازمین کو ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ مل رہی ہے۔ یہ اس لیے ہوا کہ اب ایک ایماندار حکومت آئی ہے۔

کیجریوال نے یہ بھی کہا کہ میں نے تمام ملازمین سے ملاقات کی۔ سب کے چہروں پر خوشی ہے، سب بہت خوش ہیں۔ اس سے قبل 2010 میں ملازمین کو ایک تاریخ کو تنخواہ ملتی تھی۔ ہم باقی ملازمین کو بھی اسی طرح تنخواہ ملنے کو یقینی بنائیں گے۔ یہ میری ضمانت ہے۔ ہم ہر وعدہ پورا کریں گے۔ اب ہم سب مل کر دہلی کو نہ صرف ملک میں بلکہ دنیا میں بھی صاف ستھرا شہر بنائیں گے۔ ہم دہلی کے لوگوں کو بھی اس مہم میں شامل کریں گے۔ کیجریوال مزید کہتے ہیں کہ جب ایماندار حکومت آتی ہے تو ماحول بدل جاتا ہے۔ ملازمین کو تنخواہ وقت پر مل جائے تو وہ اپنے کام میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس دوران دہلی کے شہری ترقی کے وزیر سوربھ بھاردواج، ایم سی ڈی میئر ڈاکٹر شیلی اوبرائے سمیت ایم سی ڈی کے سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔

اب وقف بورڈ کے اماموں اور موذنین کی تنخواہ کے بارے میں سوچیں تو فکر لازمی ہے۔ واضح رہے کہ 2019 میں جب دہلی وقف بورڈ کے اماموں اور موذنین کی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا تھا، اس دوران دہلی کے ماتا سندری روڈ پر واقع ایوان غالب میں بڑا پروگرام منعقد ہوا تھا اور دہلی وقف بورڈ کے امام و موذنین سمیت دہلی کی مختلف مساجد کے اماموں کا جم غفیر ایوان غالب کے آڈیٹوریم میں دکھائی دیا تھا۔ پروگرام میں وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بڑے ہی جوش بھرے انداز میں یہ کلمات اپنے زبان سے کہے تھے کہ "تن من دھن سے کیجریوال بھی اور دہلی سرکار بھی دہلی وقف بورڈ کے ساتھ ہے۔”

آج کیجریوال کو اپنے ان کلمات کو یاد کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اماموں کی تنخواہ کا جو مسئلہ ہے اس کو فوری حل کرانا چاہئے۔ 16 مہینوں کا وقت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس درمیان وقف اماموں نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال سے ملاقات کیلئے وقت بھی مانگا لیکن کیجریوال نے اماموں سے ملاقات تو دور ان سے بات تک کرنا گوارا نہ سمجھا اور امام الٹے پیر وزیر اعلی کے گھر کے دروازے سے لوٹ کر آگئے۔

واضح رہے کہ دہلی وقف بورڈ کے تحت آنے والی مساجد میں تقریبا 280 ائمہ کرام اور موذنین شامل ہیں۔ امام کو 18 ہزار روپے اور موذن کو 16 ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے۔ اسی تنخواہ سے ائمہ کرام اپنا گھر اور سارے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ تنخواہ کے تعلق سے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان سے بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بات نہیں ہو سکی۔

چندریان-3: اگر 23 اگست کو نہیں ہوئی لینڈنگ تو پھر اس کے لیے 27 اگست تک کرنا پڑے گا انتظار!

0
چندریان-3:-اگر-23-اگست-کو-نہیں-ہوئی-لینڈنگ-تو-پھر-اس-کے-لیے-27-اگست-تک-کرنا-پڑے-گا-انتظار!

ہندوستان کا چندریان-3 کامیابی سے محض دو دن دور ہے۔ ہر گزرتے وقت کے ساتھ وکرم لینڈر چاند کے قریب پہنچ رہا ہے۔ اِسرو نے سافٹ لینڈنگ کے لیے 23 اگست کی شام تقریباً 6 بجے کا وقت بھی مقرر کر رکھا ہے، لیکن اِسرو کی طرف سے یہ جانکاری بھی دی گئی ہے کہ لینڈنگ کی تاریخ میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ اس تعلق سے اِسرو کے ایک سینئر افسر نے خود جانکاری مہیا کی ہے۔

دراصل چندریان-3 کی لینڈنگ چاند کے جس حصے میں ہونی ہے، وہاں اسپیس کرافٹ کو اتارنے کے لیے ایسی زمین کی تلاش کرنی ہے جہاں نہ تو زیادہ پہاڑ ہوں اور نہ ہی زیادہ گڈھے۔ یعنی برابر سطح والے حصے کی تلاش ہے جو ایک مشکل امر ہے۔ لینڈر ماڈیول میں لگے خاص کیمروں کے ذریعہ کھینچی گئی کچھ تصویروں کو شیئر کیا گیا ہے جس پر اِسرو کے سائنسدانوں کی گہری نظر ہے۔ اِسرو کے افسران کیمرے کے ذریعہ ہی لینڈنگ کے لیے زمین تلاش کر رہے ہیں۔ اگر لینڈنگ کے لیے زمین کی تلاش وقت مقررہ پر کر لی جاتی ہے تب تو 23 اگست کو یہ عمل انجام دیا جائے گا، ورنہ کسی دوسری تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

گجرات کے احمد آباد واقع اِسرو کے اسپیس ایپلی کیشن سنٹر (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش ایم دیسائی نے تاریخ بدلنے کو لے کر ایک اہم جانکاری دی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ چندریان کو چاند پر اتارنے سے دو گھنٹے پہلے لینڈر اور چاند کی حالت کا جائزہ لیا جائے گا۔ سبھی حالات پر نظر رکھنے کے بعد ہی لینڈر کو چاند پر لینڈ کرانے کا فیصلہ ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر اِسرو کو لگتا ہے کہ لینڈر یا چاند کی حالت لینڈنگ کے لیے مناسب نہیں ہے، تو چاند پر لینڈنگ کی تاریخ 27 اگست تک کے لیے آگے بڑھا دی جائے گی۔

منی پور اسمبلی اجلاس پر تذبذب والی حالت، ابھی تک راج بھون سے جاری نہیں ہوا نوٹیفکیشن

0
منی-پور-اسمبلی-اجلاس-پر-تذبذب-والی-حالت،-ابھی-تک-راج-بھون-سے-جاری-نہیں-ہوا-نوٹیفکیشن

منی پور کی گورنر انوسوئیا اوئیکے سے منی پور کابینہ کے ذریعہ سفارش کی گئی تھی کہ 21 اگست سے اسمبلی اجلاس بلایا جائے، لیکن اس کے باوجود پیر کے روز ایوان کی میٹنگ نہیں ہوئی۔ یعنی منی پور اسمبلی اجلاس پر تذبذب والی حالت پیدا ہو گئی ہے۔ افسران کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق راج بھون کی طرف سے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے تذبذب والی حالت بن گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ منی پور میں حالات اس وقت کشیدہ ہیں۔ اس شمال مشرقی ریاست میں جاری تشدد کے درمیان مختلف پارٹیوں سے منسلک کوکی طبقہ کے دس اراکین اسمبلی نے اسمبلی اجلاس میں شامل نہ ہونے کا اعلان بھی کیا ہوا ہے۔ ایک افسر نے میڈیا کو بتایا کہ "ایک عام اسمبلی اجلاس کے لیے اجلاس کی شروعات سے 15 دن پہلے نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ گورنر کے دفتر کی طرف سے فی الحال ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔”

واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے رواں ماہ کے شروع میں ہوئی کابینہ کی میٹنگ کے بعد گورنر سے اسمبلی اجلاس بلانے کی سفارش کی تھی۔ 4 اگست کو جاری ایک آفیشیل بیان میں کہا گیا تھا کہ "ریاستی کابینہ نے منی پور کی عزت مآب گورنر سے 21 اگست 2023 سے منی پور کی بارہویں اسمبلی کا چوتھا اجلاس بلانے کی سفارش کی ہے۔” منی پور میں گزشتہ اسمبلی اجلاس مارچ میں منعقد کیا گیا تھا، اور مئی میں نسلی تشدد کی آگ پھیلنی شروع ہوئی تھی۔

ایک افسر کا منی پور اسمبلی اجلاس کے تعلق سے کہنا ہے کہ "گزشتہ اسمبلی اجلاس مارچ میں غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ یہ آئینی مجبوری ہے کہ اگلا اجلاس 2 ستمبر سے پہلے منعقد کیا جائے۔” اس پورے معاملے پر کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر ایبوبی سنگھ نے کہا کہ "ریاستی کابینہ کے ذریعہ اسمبلی اجلاس منعقد کرنے کے فیصلہ کے باوجود اجلاس نہیں بلایا گیا ہے۔ ریاستی اسمبلی کے لیے ہر چھ مہینے پر ایک اجلاس منعقد کرنا لازمی ہے۔”

پٹنہ لاٹھی چارج معاملے پر لوک سبھا اسپیکر نے اوم برلا اٹھایا سخت قدم، ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کو کیا طلب

0
پٹنہ-لاٹھی-چارج-معاملے-پر-لوک-سبھا-اسپیکر-نے-اوم-برلا-اٹھایا-سخت-قدم،-ضلع-مجسٹریٹ-اور-ایس-ایس-پی-کو-کیا-طلب

بہار کی راجدھانی پٹنہ میں بی جے پی لیڈران پر پولیس لاٹھی چارج کا معاملہ اب دہلی پہنچ گیا ہے۔ لاٹھی چارج کو لے کر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ چندرشیکھر سنگھ اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس ایس پی) راجیو مشرا کو طلب کیا ہے۔

دراصل رواں سال 13 جولائی کو ریاست میں ٹیچرس کی تقرری کو لے کر بہار حکومت کے خلاف بی جے پی لیڈران و کارکنان نے مظاہرہ کیا تھا۔ اس مظاہرہ کے دوران پٹنہ پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کر دیا تھا۔ بہار کے سارن سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ جناردن سگریوال نے اس معاملے میں لوک سبھا اسپیکر کے پاس شکایت درج کرائی تھی اور کہا تھا کہ عوامی نمائندہ ہونے کے باوجود سازش کے تحت انھیں لاٹھیوں سے بری طرح پیٹا گیا۔ اسپیکر اوم برلا کو دی گئی شکایت میں سگریوال نے بتایا تھا کہ لاٹھی چارج کے دوران انھیں مارنے کی سازش ہوئی تھی۔ اس حادثہ میں وہ بری طرح زخمی ہو گئے تھے اور انھیں کئی دنوں تک اسپتال میں علاج کرانا پڑا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے 30 اگست کو دہلی طلب کیا ہے۔ سگریوال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے خود اس تاریخ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ انھیں لوک سبھا اسپیکر کے پاس جواب دینا ہوگا۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر کہیں بھی خصوصی استحقاق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس کا جواب دینا ہوگا۔

‘ایشوریہ جیسی خوبصورت آنکھیں چاہیے تو روزانہ مچھلی کھائیں’، مہاراشٹر کے وزیر کے بیان پر ہنگامہ

0
‘ایشوریہ-جیسی-خوبصورت-آنکھیں-چاہیے-تو-روزانہ-مچھلی-کھائیں’،-مہاراشٹر-کے-وزیر-کے-بیان-پر-ہنگامہ

مہاراشٹر کے وزیر وجئے کمار گاوِت کے ایک بیان پر ہنگامہ ہو گیا ہے۔ شندے-فڑنویس-اجیت اتحاد والی حکومت میں وزیر وجئے کمار گاوِت نے کہا ہے کہ اداکارہ اشیوریہ رائے ہر دن مچھلی کھاتی تھیں اس لیے ان کی آنکھیں اور جِلد خوبصورت ہیں۔ گاوِت نے لوگوں سے مچھلی کھانے کی اپیل بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ مچھلی کھانے سے آپ کی آنکھیں بھی خوبصورت ہوں گی۔

گاوِت مہاراشٹر کے نندوربار سے بی جے پی لیڈر ہیں اور حکومت میں وزیر برائے قبائل ڈیولپمنٹ کا عہدہ سنبھال رہے ہیں۔ انھوں نے ایشوریہ رائے سے متعلق بیان تب دیا جب دھولے ضلع کے انترلی میں قبائلی ماہی گیروں کو مچھلی پکڑنے کے سامان تقسیم کرنے کے لیے ایک تقریب منعقد کی گئی تھی۔ اس موقع پر گاوِت نے ماہی گیروں سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ بالا بیان دیا جس پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اب ان کے بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

وجئے کمار گاوِت نے کہا کہ مچھلی کھانے سے دو فائدے ہوتے ہیں۔ اگر خاتون کھاتی ہے تو اس سے چہرہ چمک اٹھتا ہے۔ جو بھی اسے دیکھے گا اسے یقین ہو جائے گا۔ کیا کسی نے ایشوریہ رائے کو دیکھا ہے؟ اس نے کیا کھایا یا نہیں، ایشوریہ رائے بنگلورو سے سمندر کے کنارے سے وہ ہر دن مچھلی کھاتی تھی، اس کی آنکھیں کیسی ہیں؟ آپ کی بھی ہوں گی۔ مچھلی کھانے سے ایک فائدہ یہ ہے کہ ہماری جِلد میں چمک آتی ہے۔ اس میں تیل ہے۔ اس کا آنکھوں پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ وجئے کمار گاوِت نے کہا کہ مچھلی کے تیل سے جسم کی جِلد اچھی نظر آتی ہے۔

گاوِت کے اس بیان پر کانگریس پارٹی رکن اسمبلی امول مٹکاری نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر کو اس طرح کے تبصرے کرنے کی جگہ قبائلیوں کے ایشوز پر توجہ دینی چاہیے۔ دوسری طرف بی جے پی رکن اسمبلی نتیش رانے نے کہا کہ میں روزانہ مچھلی کھاتا ہوں، میری آنکھیں ویسی ہو جانی چاہیے تھیں۔ میں گاوِت صاحب سے پوچھوں گا کہ کیا اس پر کوئی ریسرچ ہے؟

ہندوستان کے 17 نوجوانوں کی لیبیائی جیل سے رِہا ہو کر وطن واپسی، والدین سے مل کر زار و قطار روئے، دیکھیں ویڈیو

0
ہندوستان-کے-17-نوجوانوں-کی-لیبیائی-جیل-سے-رِہا-ہو-کر-وطن-واپسی،-والدین-سے-مل-کر-زار-و-قطار-روئے،-دیکھیں-ویڈیو

لیبیا کے ترپولی میں پھنسے 17 ہندوستانی نوجوان 20 اگست کو ہندوستان لوٹے اور وہ پیر کے روز یعنی 21 اگست کو اپنے والدین سے ملے۔ یہ ان کے لیے ایک جذباتی لمحہ تھا اور ملاقات کے وقت سبھی کی آنکھیں نم نظر آ رہی تھیں۔

دراصل ہندوستان واپس آئے سبھی نوجوانوں کو لیبیا پولیس نے ملک میں ناجائز طریقے سے داخل ہونے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ ان میں سے بیشتر نوجوان پنجاب اور ہریانہ کے ہیں۔ شمالی افریقی ملک لیبیا سے لوٹے نوجوانوں کے کنبہ والوں نے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا، اس درمیان کئی لوگوں کو روتے ہوئے دیکھا گیا۔ لیبیا پولیس کے ذریعہ حراست میں لیے جانے سے پہلے ان نوجوانوں کو لیبیا کے جوارا شہر میں مسلح گروپ نے کئی مہینوں تک قید میں رکھا تھا۔

ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انھیں دہلی اور پنجاب کے کچھ سیاحتی ایجنٹس نے اٹلی میں پرکشش ملازمت کی پیشکش کی تھی۔ ملازمت کے لالچ میں آ کر سبھی نوجوان غیر قانونی طریقے سے لیبیا پہنچے۔ اتنا ہی نہیں، ایجنٹس نے ان سے لاکھوں روپے کی ٹھگی بھی کی۔ اس معاملے میں جولائی ماہ میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران پنجاب سے راجیہ سبھا رکن وکرمجیت سنگھ ساہنی نے ایوان کو بتایا تھا کہ ان نوجوانوں کو گزشتہ مہینے ترپولی جیل سے رِہا کیا گیا تھا۔

ساہنی نے ایوان میں بتایا کہ وہ سبھی فروری 223 میں دبئی اور مصر کے راستے ہندوستان سے اٹلی کے لیے روانہ ہوئے۔ کچھ دنوں کے بعد وہ لیبیا میں اترے اور جوارا شہر میں رہے، جہاں انھیں کھانا اور پانی جیسی بنیادی سہولیات بھی نہیں دی گئیں۔ اتنا ہی نہیں، ان کے ساتھ مار پیٹ بھی کی گئی۔ ساہنی نے یہ بھی کہا کہ معاملہ مئی میں سامنے آیا تھا، جس کے بعد انھوں نے ان نوجوانوں کے بچاؤ کے لیے تیونیشیا میں ہندوستانی سفارتخانہ سے رابطہ کیا۔

اداکار پنکج ترپاٹھی پر ٹوٹا غموں کا پہاڑ، والد کے انتقال کی خبر سنتے ہی گوپال گنج کے لیے فوراً ہوئے روانہ

0
اداکار-پنکج-ترپاٹھی-پر-ٹوٹا-غموں-کا-پہاڑ،-والد-کے-انتقال-کی-خبر-سنتے-ہی-گوپال-گنج-کے-لیے-فوراً-ہوئے-روانہ

فلم ‘او ایم جی 2’ میں اپنی اداکاری سے لوگوں کو محظوظ کرنے والے پنکج ترپاٹھی کے والد بنارس تیواری کا آج انتقال ہو گیا۔ یہ خبر پنکج ترپاٹھی کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ بنارس تیواری 99 سال کے تھے، اور اس کی خبر ملنے کے بعد پنکج کی فیملی میں ماتم کا ماحول چھا گیا۔ بنارس تیواری کا انتقال بہار کے آبائی گاؤں بلسنڈ میں ہوا جو کہ گوپال گنج ضلع میں پڑتا ہے۔ ان کی موت کی اصل وجہ تو فی الحال سامنے نہیں آئی ہے، لیکن یہ ضرور بتایا جا رہا ہے کہ بنارس تیواری ضعیفی سے متعلق بیماریوں میں مبتلا تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی پنکج ترپاٹھی گوپال گنج کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

پنکج ترپاٹھی اور ان کے اہل خانہ نے اداکار کے والد کی موت کو لے کر ایک آفیشیل بیان بھی جاری کیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ "بھاری من سے اس کی تصدیق کی جا رہی ہے کہ پنکج ترپاٹھی کے والد پنڈت بنارس تیواری اب نہیں رہے۔ انھوں نے 99 سال کی صحت مند زندگی گزاری۔ ان کی آخری رسومات آج ان کے قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں ادا کی جائے گی۔ پنکج ترپاٹھی اس وقت گوپال گنج واقع اپنے گاؤں جا رہے ہیں۔”

واضح رہے کہ پنکج کے والدین بہار میں رہتے تھے، جبکہ پنکج اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ ممبئی میں رہتے ہیں۔ پنکج ترپاٹھی اپنے والد کے بہت قریب تھے۔ ایسے میں والد کا سایہ سر سے اٹھ جانے سے اداکار کافی غمگین ہیں۔ پنکج اکثر اپنے انٹرویوز میں اپنے والد کا ذکر کرتے تھے اور ان کے ساتھ گزارے گئے اپنے خوبصورت لمحات کو بھی شیئر کرتے تھے۔ ایک انٹرویو کے دوران پنکج نے انکشاف کیا تھا کہ ان کے والد کو یہ نہیں پتہ کہ وہ فلم انڈسٹری میں کیا کام کرتے ہیں۔

حکومت کے خلاف کسانوں کی آر پار کی جنگ! چنڈی گڑھ میں کسان تحریک سے قبل کسان یونینوں کے 16 لیڈران حراست میں

0
حکومت-کے-خلاف-کسانوں-کی-آر-پار-کی-جنگ!-چنڈی-گڑھ-میں-کسان-تحریک-سے-قبل-کسان-یونینوں-کے-16-لیڈران-حراست-میں

سیلاب اور دیگر وجوہات سے فصل کی بربادی نے کئی ریاستوں کے کسانوں کو بے حال کر دیا ہے۔ ایسے میں چنڈی گڑھ میں کسانوں کی ایک تحریک 22 اگست کو شروع ہونے والی ہے جس میں حکومت سے برباد فصل کے لیے معاوضہ سمیت کچھ دیگر مطالبات بھی رکھے جائیں گے۔ لیکن اس دھرنے سے پہلے ہی پنجاب-ہریانہ کے کسانوں کو دونوں ریاستوں کی پولیس نے حراست میں لینا شروع کر دیا ہے۔ سیلاب متاثرہ لوگوں کو راحتی رقم نہ ملنے کے احتجاج میں ہونے والے مظاہرہ سے ایک دن قبل پیر کو کسان مزدور سنگھرش سمیتی کی قیادت میں 16 یونینوں کے کسان لیڈروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

حراست میں لیے گئے لیڈروں کی شناخت کسان مزدور سنگھرش سمیتی کے ریاستی صدر سرون سنگھ پندھیر، بی کے یو (کرانتی کاری) کے بلدیپ سنگھ، کنور دلیپ سنگھ کے کنور دلیپ سنگھ، چمکور سنگھ اور بورہ سنگھ، دونوں بی کے یو (بہرامکے) کی شکل میں کی گئی ہے۔ کسان یونینوں نے 22 اگست سے چنڈی گرھ میں احتجاجی مظاہرہ کی اپیل کی ہے۔ یہ یونینوں سنیوکت کسان مورچہ کے ساتھ اتحاد میں نہیں ہیں۔ اتوار کو حکومت اور پنڈھیر کی قیادت والے کسانوں کے درمیان بات چیت مبینہ طور پر ناکام رہی۔ بعد میں کسان لیڈروں نے یہاں پنجاب کے گورنر بنواری لال پروہت سے ملاقات کی، جنھوں نے انھیں یقین دلایا ہے کہ وہ پنجاب اور ہریانہ دونوں کے افسران سے ان کی شکایتیں سننے کے لیے کہیں گے۔

واضح رہے کہ پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش، چنڈی گڑھ اور اتراکھنڈ سمیت شمالی ریاستوں میں اچانک آئے سیلاب کے سبب ہوئے نقصان کے معاوضہ سے متعلق مطالبات کو لے کر 16 کسان مزدور یونین کے ریاستی صدور سریش کوتھ نے کہا کہ اچانک آئے سیلاب کے سبب کھیتوں اور گاؤں میں 20000 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے، جس کا ازالہ مرکز کو فوراً کرنا چاہیے۔

تلنگانہ اسمبلی انتخاب: بی آر ایس نے 115 امیدواروں کی فہرست کی جاری، وزیر اعلیٰ کے سی آر 2 سیٹوں سے لڑیں گے چناؤ

0
تلنگانہ-اسمبلی-انتخاب:-بی-آر-ایس-نے-115-امیدواروں-کی-فہرست-کی-جاری،-وزیر-اعلیٰ-کے-سی-آر-2-سیٹوں-سے-لڑیں-گے-چناؤ

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ (کے سی آر) نے پیر کے روز رواں سال کے آخر تک ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخاب کے پیش نظر بی آر ایس (بھارتیہ راشٹر سمیتی) کے 115 امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ تلنگانہ میں اسمبلی کی 119 سیٹیں ہیں، یعنی صرف 4 سیٹیں ایسی ہیں جس کے لیے بی آر ایس امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں ہوا۔ بی آر ایس کے ذریعہ جاری فہرست کو دیکھا جائے تو گزشتہ بار کے مقابلے سات امیدوار بدلے گئے ہیں۔ خود وزیر اعلیٰ کے سی آر دو سیٹوں گجویل اور کاماریڈی سے انتخاب لڑیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ کے سی آر نے تلنگانہ کے آئندہ اسمبلی انتخاب میں 95 سے 105 سیٹیں جیتنے کی پیشین گوئی کی ہے۔ ریاستی حکومت میں وزیر اور وزیر اعلیٰ کے بیٹے کے ٹی آر سرسلا اسمبلی سیٹ سے انتخاب لڑیں گے۔ آئیے یہاں دیکھتے ہیں کہ ان امیدواروں کی مکمل فہرست جو بی آر ایس پارٹی کی طرف سے اسمبلی انتخاب میں کھڑے ہوں گے۔

چندریان-3 تاریخ رقم کرنے سے محض 2 دن دور، لینڈنگ سے پہلے اِسرو نے شیئر کی چاند کی کچھ نئی تصویریں

0
چندریان-3-تاریخ-رقم-کرنے-سے-محض-2-دن-دور،-لینڈنگ-سے-پہلے-اِسرو-نے-شیئر-کی-چاند-کی-کچھ-نئی-تصویریں

ہندوستان کا چاند مشن ‘چندریان 3’ چاند کی سطح پر جلد ہی لینڈ کرنے والا ہے۔ اس کے بعد اِسرو ایک نئی تاریخ رقم کر دے گا۔ اِسرو کے مطابق محض دو دن بعد یعنی 23 اگست کو چندریان-3 چاند پر لینڈ کرے گا۔ اس درمیان اِسرو نے چندریان-3 کے ذریعہ کھینچی گئی چاند کی کچھ نئی تصویریں جاری کی ہیں۔ اِسرو نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ چاند کا یہ دور دراز والا علاقہ ہے۔ اسے لینڈر ہزارڈ ڈٹیکشن اور اوائیڈنس کیمرہ (ایل ایچ ڈی اے سی) سے کلک کیا گیا ہے۔ یہ کیمرہ چندریان-3 کے لیے محفوظ لینڈنگ والے علاقے کی تلاش کرے گا۔ جہاں پر کوئی پتھر اور گہرے غار نہیں ہوں گے، اس کی تلاش کی جائے گی۔ اسے ایس اے سی/اِسرو کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے۔ ان تصویروں کو 19 اگست 2023 کو کلک کیا گیا ہے۔”

چندریان-3 کی براہ راست اسٹریمنگ آپ اِسرو کی آفیشیل ویب سائٹ isro.gov.in پر دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یوٹیوب پر آپ اِسرو کے آفیشیل چینل ‘اِسرو آفیشیل’ پر دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ اِسرو کے فیس بک پیج پر بھی لائیو اسٹریمنگ دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ اسے ٹی وی پر دیکھنا چاہتے ہیں تو دوردرشن نیشنل ٹی وی پر شام 5.27 بجے براہ راست نشریہ دیکھ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل روس کا چاند مشن لونا-25 چاند کی سطح پر کریش ہو گیا ہے۔ یعنی روس مشن چاند کی دوڑ سے باہر ہو گیا ہے۔ اس سے یہ امکان بڑھ گیا ہے کہ ہندوستان چاند کے جنوبی قطب پر پہنچنے والا پہلا ملک بن جائے گا۔ لونا-25 کو ہندوستان سے دو دن قبل یعنی 21 اگست کو چاند پر اترنا تھا۔