جمعرات, اپریل 2, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 172

نفرت انگیز تقریر معاملہ: سپریم کورٹ اعظم خان کی عرضی پر سماعت کے لئے راضی

0
نفرت-انگیز-تقریر-معاملہ:-سپریم-کورٹ-اعظم-خان-کی-عرضی-پر-سماعت-کے-لئے-راضی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سینئر لیڈر محمد اعظم خان کی عرضی پر بدھ کو سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جس میں 2007 کے نفرت انگیز تقاریر کے مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لئے رامپور کی ایم پی / ایم ایل اے کورٹ نے انہیں اپنی آواز کا نمونہ دینے کی ہدایت کی تھی۔

جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس ایس وی این بھٹی کی بنچ کو سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے بتایا کہ ٹرائل جج نے یہ بتانے کے باوجود کہ عدالت عظمیٰ میں خصوصی چھٹی کی درخواست زیر التوا ہے، التوا سے انکار کر دیا۔ اس کا نوٹس لیتے ہوئے بنچ نے بدھ کو درخواست کی فہرست بند کرنے کی ہدایت کی۔

اعظم خان نے اپنی عرضی میں الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے، جس نے ٹرائل کورٹ کے اس حکم میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا تھا جس میں ایس پی لیڈر کو یہ ثابت کرنے کے لیے اپنی آواز کا نمونہ فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی کہ آیا آڈیو کیسٹ میں ریکارڈ کی گئی آواز ان کی ہے یا نہیں۔

اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے اس کی طرف سے منظور کیے گئے مذکورہ حکم کو واپس لینے کی ان کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔ 2007 میں رام پور کے ٹانڈہ پولیس اسٹیشن میں سابق ایم ایل اے کے خلاف دھیرج کمار شیل نامی ایک مخبر کے کہنے پر ایک مخصوص کمیونٹی کے خلاف توہین آمیز اور قابل اعتراض تقریر کرنے کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

ایم پی/ایم ایل اے عدالت نے 2009 میں تفتیشی ایجنسی کی طرف سے پیش کی گئی چارج شیٹ کا نوٹس لیا اور اعظم خان کو بھی طلب کیا۔ حال ہی میں اعظم کو 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف ان کے ریمارکس کے لیے دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اعظم خان کو 2019 میں نفرت انگیز تقریر کے ایک اور کیس میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور 17 اکتوبر 2022 کو ایم پی-ایم ایل اے مجسٹریٹ عدالت نے تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ دو دن بعد انہیں اتر پردیش قانون ساز اسمبلی سے نااہل قرار دے دیا گیا۔

مہنگائی بڑھ رہی ہے اور کسانوں کو ان کی پیداوار کی صحیح قیمت نہیں مل رہی: کانگریس

0
مہنگائی-بڑھ-رہی-ہے-اور-کسانوں-کو-ان-کی-پیداوار-کی-صحیح-قیمت-نہیں-مل-رہی:-کانگریس

نئی دہلی: کانگریس پارٹی نے مہنگائی کے حوالہ سے مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور کسانوں کو ان کی فصلوں کی واجب قیمت نہیں مل پا رہی ہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ’’مودی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ سبزیوں، آٹا، چاول، دالوں سمیت تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 1.5 ماہ میں پلیٹ 28 فیصد مہنگی ہو گئی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’ایک طرف مہنگائی بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف کسانوں کو ان کی پیداوار کی صحیح قیمت نہیں مل رہی۔ ایم ایس پی کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ کسان کم قیمت پر اناج بیچنے پر مجبور ہیں لیکن جیسے ہی زرعی مصنوعات سرمایہ داروں کے گوداموں میں پہنچتی ہیں ان کی قیمتیں اچانک بڑھ جاتی ہیں۔‘‘

جے رام رمیش نے کہا ‘‘پیاز پر ایکسپورٹ ڈیوٹی میں 40 فیصد اضافے کی وجہ سے ناسک میں ایشیا کی سب سے بڑی پیاز مارکیٹ بند ہے۔ عوام بھی اب سمجھ چکے ہیں کہ اس حکومت کی ساری توجہ صرف وزیر اعظم کی شبیہ بچانے اور اپنے سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچانے پر ہے۔‘‘

کسانوں نے مرکزی حکومت کے خلاف ایک بار پھر کھولا محاذ، پنجاب کے سنگرور میں تھانے کے باہر احتجاج

0
کسانوں-نے-مرکزی-حکومت-کے-خلاف-ایک-بار-پھر-کھولا-محاذ،-پنجاب-کے-سنگرور-میں-تھانے-کے-باہر-احتجاج

سنگرور: کسانوں نے ایک بار پھر اپنے مطالبات کو لے کر مرکز کی مودی حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ پنجاب کے سنگرور کے لونگووال تھانے کے باہر کسان دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ کسانوں کے نمائندے دلباغ سنگھ ہری گڑھ نے کہا کہ کسانوں کو نقصان کا سامنا ہے، اس لیے 16 کسان یونینوں نے مرکزی حکومت سے ریلیف فنڈ کے طور پر 50000 کروڑ روپے جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہماری فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ہم نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مرکز کیرالہ کی طرز پر ایم ایس پی قانون بنائے تاکہ ہمیں لوٹا نہ جائے۔‘‘

سنگرور کے ایس پی پلویندر سنگھ نے کسانوں کے دھرنے پر کہا کہ انہوں نے (کسانوں نے) کل دھرنا دیا تھا۔ جب ہم نے ان سے بات کی اور کہا کہ وہ مرکزی شاہراہ یا ٹول پلازہ کو بلاک نہ کریں تو انہوں نے کہا کہ وہ یہاں (پولیس اسٹیشن کے قریب) دھرنا دیں گے۔ اچانک اس نے آگے بڑھنے کا منصوبہ بنایا جس پر متعلقہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی نے اس سے بات کی اور انہیں یہیں رہنے کو کہا۔

ایس پی نے کہا کہ کسانوں نے ہماری بات نہیں سنی۔ ہم ان سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس فورس کو تعینات کیا ہے۔ ہم نے تقریباً 300-350 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے اور ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے۔

مدھیہ پردیش اسمبلی الیکشن: کھڑگے آج ساگر میں جلسہ عام سے کریں گے خطاب، کانگریس دکھائے گی طاقت

0
مدھیہ-پردیش-اسمبلی-الیکشن:-کھڑگے-آج-ساگر-میں-جلسہ-عام-سے-کریں-گے-خطاب،-کانگریس-دکھائے-گی-طاقت

بھوپال: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے منگل کو مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرنے والے ہیں۔ اس جلسہ عام کو بندیل کھنڈ میں کانگریس کی طاقت کے مظاہرہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کچھ دن پہلے ہی اس علاقے کا دورہ کیا تھا۔

ریاستی کانگریس کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے منگل کو ساڑھے گیارہ بجے بھوپال پہنچیں گے۔ کھڑگے اور کمل ناتھ بھوپال سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے روانہ ہوں گے اور ساڑھے بارہ بجے ساگر پہنچیں گے۔

وہاں سے قائدین دوپہر 12 بجے بذریعہ سڑک ساگر کے کجلی ون میدان پہنچیں گے، جہاں وہ ایک جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ پارٹی کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق، کھڑگے اور کمل ناتھ دوپہر 1.30 بجے ہیلی کاپٹر سے ساگر سے روانہ ہوں گے اور 2.15 بجے بھوپال پہنچیں گے۔

کھڑگے کے جلسہ عام کے لیے کانگریس نے بھرپور تیاری کی ہے۔ پارٹی کے کئی بڑے لیڈر، سابق وزیر اعلیٰ دگوجے سنگھ، سابق مرکزی وزیر ارون یادو اور دیگر ایک دن پہلے ہی ساگر پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے وہاں پہنچ کر تیاریوں کا جائزہ بھی لیا۔

راہل گاندھی کے لیہ بازار پہنچتے ہی امنڈا جمِ غفیر، سبزیاں اور پھل خریدے، دکانداروں اور لوگوں سے کی ملاقات

0
راہل-گاندھی-کے-لیہ-بازار-پہنچتے-ہی-امنڈا-جمِ-غفیر،-سبزیاں-اور-پھل-خریدے،-دکانداروں-اور-لوگوں-سے-کی-ملاقات

لیہ (لداخ): کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی ان دنوں لداخ کے دورے پر ہیں اور گزشتہ شام انہوں نے لیہ کے مرکزی بازار کا دورہ کیا۔ یہاں پہنچتے ہی نوجوانوں اور لوگوں کا جمِ غفیر امنڈ پڑا۔ نوجوانوں میں راہل گاندھی کے ساتھ سیلفی لینے کی ہوڑ مچ گئی۔

ہجوم میں سے ایک بچہ راہل گاندھی کا آٹو گراف لینے کے لیے سیکورٹی کے دائرے کو بھی عبور کر گیا۔ راہل گاندھی نے پیار بھری مسکراہٹ کے ساتھ بچے کو آٹوگراف بھی دیا اور اس کے ساتھ تصویر بھی کھنچوائی۔ راہل گاندھی پورے وقت لوگوں کے ہجوم سے گھرے رہے اور لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے چاروں طرف سے جمع ہوتے رہے۔ اس دوران راہل گاندھی لیہ لداخ کی وادیوں سے لطف اندوز ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ خیال رہے کہ راہل گاندھی موٹر سائیکل پر لداخ کی سیر کر رہے ہیں۔

لیہ بازار میں مقامی لوگوں سے ملاقات کے دوران راہل گاندھی نے پھلوں اور سبزیوں کی دکان پر خریداری بھی کی۔ اس دوران بازار کو روشنیوں سے سجایا گیا تھا۔

قبل ازیں، راہل گاندھی نے ہفتہ کو لداخ کے پینگونگ تسو کا بائیک سے سفر کیا تھا۔ اتوار کی صبح لداخ میں پینگونگ جھیل کے کنارے انہوں نے اپنے والد اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو ان کی 79 ویں یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا۔ راہل گاندھی جمعرات کو لیہ پہنچے ہیں، وہ لداخ میں 25 اگست تک موجود رہیں گے۔

کورونا سے شفایاب ہونے والے 6.5 فیصد مریض ایک سال کے اندر فوت ہو گئے! رپورٹ

0
کورونا-سے-شفایاب-ہونے-والے-6.5-فیصد-مریض-ایک-سال-کے-اندر-فوت-ہو-گئے!-رپورٹ

نئی دہلی: کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے اپنی جان گنوا دی۔ اب ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا سے صحت یاب ہونے کے بعد بھی بہت سے لوگ جلد ہی فوت ہو گئے! اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 6.5 فیصد مریض اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے ایک سال کے اندر فوت ہو گئے۔ فوت ہونے والے مریضوں میں سے تقریباً 73.3 فیصد لوگ ایک یا زیادہ بیماریوں میں مبتلا تھے۔

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے یہ مطالعہ ان مریضوں پر کیا ہے جو 14 دن یا اس سے زیادہ عرصے سے اسپتال میں داخل تھے۔ نیشنل کلینیکل رجسٹری برائے کوویڈ 19 (این سی آر سی) کے محققین نے ایک سال تک ملک کے مختلف علاقوں کے 31 اسپتالوں میں داخل سنگین مریضوں کو ڈسچارج ہونے کے بعد ان کی نگرانی کی۔

فروری 2023 تک اس مانیٹرنگ کے دوران ہر 3 ماہ بعد 14419 مریضوں سے رابطہ کیا گیا۔ اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان میں سے 952 افراد ایک سال کے اندر ہی مر گئے یعنی 6.5 فیصد لوگ ایک سال سے زیادہ زندہ نہیں رہے۔

انڈین جرنل آف میڈیکل ریسرچ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں دیکھا گیا کہ مردوں کی اموات کی شرح خواتین کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو ڈسچارج ہونے کے 10 دن کے اندر فوت ہو گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق نوجوانوں کی اموات کی شرح کم اور بڑی عمر کے لوگوں کی موت زیادہ رہی۔ اسی تحقیق کے مطابق 17.1 فیصد لوگ ایسے تھے جن میں 4 سے 8 ہفتوں کے اندر ضمنی اثرات ظاہر ہونے لگے۔ باقی 73.3 فیصد ایسے لوگ تھے جو کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا تھے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے کووِڈ سے متاثر ہونے سے پہلے ویکسین لی تھی، وہ شدید بیمار ہونے کے بعد اسپتال میں داخل ہوئے لیکن ڈسچارج ہونے کے بعد انہیں موت سے 60 فیصد تک تحفظ حاصل ہوا۔ مرنے والوں میں کم از کم 197 افراد ایسے تھے جنہوں نے ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لی تھی۔

स्टडी का कहना है कि जिन लोगों ने कोविड संक्रमित होने से पहले वैक्सीन ली थी, वे भले ही गंभीर रूप से बीमार होकर अस्पताल में भर्ती हुए लेकिन डिस्चार्ज होने के बाद से उन्हें मृत्यु से 60 फीसदी तक सुरक्षा प्राप्त हुई. मरने वालों में कम से कम 197 लोग ऐसे थे जिन्होंने वैक्सीन के कम से एक डोज जरूर लिए थे.

ایم سی ڈی ملازمین کو 13 سال بعد مہینے کی پہلی تاریخ کو ملی تنخواہ: کیجریوال

0
ایم-سی-ڈی-ملازمین-کو-13-سال-بعد-مہینے-کی-پہلی-تاریخ-کو-ملی-تنخواہ:-کیجریوال

نئی دہلی: وزیر اعلی اروند کیجریوال نے پیر کو تیاگ راج اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک پروگرام میں صفائی ملازمین سے ملاقات کی اور 317 کارکنوں کو مستقل ملازمت کے سرٹیفکیٹ پیش کیے۔ پروگرام کے دوران کیجریوال نے کہا کہ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے ملازمین کو 13 سال بعد مہینے کی پہلی تاریخ کو تنخواہ مل گئی۔

انہوں نے کہا ’’میں نے تمام ملازمین سے ملاقات کی اور سب بہت خوش ہیں۔ اس سے قبل 2010 میں ملازمین کو مقررہ تاریخ پر تنخواہ دی گئی تھی۔ ہم اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ باقی ملازمین کو بھی مستقل کیا جائے۔‘‘

کیجریوال نے کہا، "یہ میری گارنٹی ہے۔ ہم ہر وعدہ کو پورا کریں گے۔ ساتھ مل کر ہم دہلی کو نہ صرف ملک کا بلکہ دنیا کا سب سے صاف ستھرا شہر بنائیں گے۔ ہم اس پہل میں دہلی کے لوگوں کو بھی شامل کریں گے۔

اس تقریب میں شہری ترقی کے وزیر سوربھ بھاردواج، ایم سی ڈی کی میئر شیلی اوبرائے اور میونسپل کارپوریشن کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

وزیر اعظم مودی جنوبی افریقہ کے لیے روانہ، برکس اجلاس میں کریں گے شرکت

0
وزیر-اعظم-مودی-جنوبی-افریقہ-کے-لیے-روانہ،-برکس-اجلاس-میں-کریں-گے-شرکت

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی جوہانسبرگ میں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے جنوبی افریقہ روانہ ہو گئے ہیں۔ برکس کے اس اجلاس میں کئی ممالک کے سربراہان وزیر اعظم مودی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کر سکتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اور پی ایم مودی کی جوہانسبرگ میں آمنے سامنے ملاقات ہو سکتی ہے، حالانکہ وزارت خارجہ کی طرف سے جن پنگ سے ملاقات کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے بعد پی ایم مودی یونان کے دورے پر روانہ ہوں گے، جس کی جانکاری خود پی ایم او نے دی ہے۔

برکس سربراہی اجلاس کے لیے روانگی سے قبل وزیر اعظم کے دفتر سے ایک بیان جاری کیا گیا۔ اس میں پی ایم مودی نے اپنے دورے کی جانکاری دی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "میں جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کی دعوت پر 22 سے 24 اگست 2023 تک جمہوریہ جنوبی افریقہ کا دورہ کر رہا ہوں، تاکہ جنوبی افریقہ کی صدارت میں جوہانسبرگ میں ہونے والے 15ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی جا سکے۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا ’’میں جوہانسبرگ میں موجود کچھ رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتوں کا بھی منتظر ہوں۔ یونانی وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکس کی دعوت پر میں 25 اگست 2023 کو جنوبی افریقہ سے ایتھنز، یونان کا سفر کروں گا۔اس قدیمی سرزمین کا یہ میرا پہلا دورہ ہوگا۔ مجھے 40 سال بعد یونان کا دورہ کرنے والا پہلا ہندوستانی وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی 22 سے 24 اگست تک جنوبی افریقہ کے جوہانسبرگ میں منعقد ہونے والی 15ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے پی ایم مودی کو برکس اجلاس میں مدعو کیا تھا۔ یہ کورونا کے دور کے بعد برکس (برازیل-روس-بھارت-چین-جنوبی افریقہ) رہنماؤں کا پہلا جسمانی اجلاس ہے، جس میں تمام ممالک کے رہنما پہنچ رہے ہیں۔

وزارت خارجہ کی جانب سے پی ایم مودی کے دورے کے حوالے سے معلومات دی گئی، اس دوران جب سکریٹری خارجہ سے پوچھا گیا کہ کیا اس کانفرنس کے دوران مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان کوئی بات چیت ہوگی؟ اس پر سیکرٹری خارجہ کویترا نے کہا کہ وزیراعظم کی دو طرفہ ملاقاتوں کو ابھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اگر جنوبی افریقہ میں جن پنگ کے ساتھ دو طرفہ ملاقات ہوتی ہے تو یہ مئی 2020 میں مشرقی لداخ میں سرحدی تعطل کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی ملاقات ہوگی۔ مودی اور شی جن پنگ نے آخری بار بالی میں گزشتہ سال نومبر میں جی-20 سربراہی اجلاس میں ایک مختصر آمنے سامنے ملاقات کی تھی۔

بھارت اور پاکستان کی خواتین کے لیے بریسٹ کینسر کی پیشگی تشخیص میں اے آئی مددگار

0
بھارت-اور-پاکستان-کی-خواتین-کے-لیے-بریسٹ-کینسر-کی-پیشگی-تشخیص-میں-اے-آئی-مددگار

ہر سال 20 لاکھ سے زائد خواتین پر چھاتی کے سرطان کا حملہ ہوتا ہے۔ اے آئی یا مصنوعی ذہانت کے ساتھ ابتدائی تشخیص اور خطرے کی پیشین گوئی بھارت اورپاکستان کی مدد کر رہی ہے۔

بریسٹ کینسر: سارہ ( فرضی نام) کبھی سوچا بھی نہ تھا اور نہ ہی وہ یہ الفاظ سننا گوارہ کر سکتی تھی تاہم 31 سال کی عمر میں جب وہ نئی نئی شادی کے بعد ماں بننے کے خواب دیکھ رہی تھی اُس وقت اُسے پتا چلا کہ وہ بریسٹ کینسر کے عارضے میں مبتلا ہے۔

سارہ کے لیے یہ انتہائی مشکل مرحلہ تھا کیونکہ بریسٹ کینسر کا عموماً علاج چھ سالوں پر مبنی ہوتا ہے۔ ایک سال کیموتھراپی کے اور پانچ سال ہورمونل یا اینڈوکرائن تھراپی کے۔ یہ ہورمونل تھراپی حمل کے عمل میں نا صرف رکاوٹ کا سبب بنتی ہے بلکہ اکثر خواتین اس تھراپی کے سائیڈ ایفکٹس یا ضمنی اثرات کی وجہ سے حمل یا تولیدی صلاحیت کھو بیٹھتی ہیں۔ ماں بننے کی اپنی خواہش پورا کرنے کے لیے سارہ کے پاس ایک رستہ یہ تھا کہ وہ اپنے بیضہ کو منجمد کروا دیتی اور پھر چھ سال کی تھراپی کے بعد جب وہ 37 برس کی ہو جاتی تب ”ان وٹرو فرٹیلائزیشن آئی وی ایف ‘‘ یا مصنوعی طور پر حمل ٹھہرانے کی کوشش کرتی۔ مگر خوش قسمتی سے ڈاکٹروں نے سارہ کا کینسر ٹیسٹ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یا اے آئی کی مدد سے کیا۔ اُس وقت جب انہیں سارہ کے اندر ‘ہارمون ریسیپٹر کی حساسیت سے ابتدائی مرحلے کے کینسر‘ کے اشارے مل رہے تھے۔ اسی مرحلے پر ڈاکٹروں نے اُس کا مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایک ٹیسٹ کیا۔ اس ٹیسٹ سے سارہ کے اندر بریسٹ کینسر کی تشخیص تو ہوئی مگر ساتھ ہی یہ بھی پتا چل گیا کہ اُس کے بریسٹ کا ٹیومر ”جارحانہ قسم‘‘ کا نہیں ہے اور اس طرح آئندہ پانچ سالوں میں اس کی چھاتی کے کینسر کے دوبارہ ہونے کا خطرہ کم ہو جائے گا۔

بھارت میں OncoStem Diagnostics کے ذریعہ بنائے گئے AI پر مبنی پروگنوسٹک ٹیسٹ کی مدد سے کیموتھراپی سے بچنے والے ڈھائی ہزار مریضوں میں سارہ بھی شامل ہے۔ سارہ آج ایک پانچ سالہ بچے کی خوشحال ماں ہے اور اب وہ اپنی ہارمونل تھراپی کروا رہی ہے۔ OncoStem Diagnostics جنوبی ایشیا میں AI ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرنے والی چند کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ نومبر 2022ء میں Open AI کے ChatGPT کے آغاز کے بعد سے مصنوعی ذہانت نے عوامی بیداری میں تیزی دیکھی، لیکن AI صحت کے شعبے میں کی جانے والی تحقیق میں کچھ عرصے سے موجود ہے اور اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ طبی امیجز کا تجزیہ کرنے کے لیے مشین لرننگ کا استعمال 1980ء کی دہائی میں شروع ہوا تھا۔ ان دنوں، محققین کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کی ایک خاص سطح موجود ہے جو ان مشینوں کو 40 سال پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ترقی یافتہ بنا رہی ہے۔ لہذا، وہ ایسی چیزیں دیکھ رہے ہیں جو انسان بطور ڈاکٹر ضروری طور پر نہیں دیکھتے، یا نہیں دیکھ سکتے۔

بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرطان کی اسکریننگ کے لیے اب تک ڈاکٹرز میموگرام ٹیسٹ کیا کرتے تھے جو چھاتی کے ایکس رے امیجز ہوتے ہیں۔ تاہم نت نئے تجربے بتاتے ہیں کہ میموگرافی کی تشخیص ہمیشہ سو فیصد درست نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ خواتین کی چھاتی کے اندر کی کثافت سمیت دیگر عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ چھاتی کی کثافت کا تعین فیٹی ٹشو کی مقدار کے مقابلے میں عورت کے سینوں میں ریشے دار اور غدود کے ٹشو کی مقدار سے ہوتا ہے۔

سینوں میں پائی جانے والی کثافت گھنی ہونے اور امیجنگ یا اسکریننگ کرنے والی تکنیک کمزور یا ناقص ہو تو میموگرام میں ٹیومر کا پتا لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور یہ خاص طور پر اہم ہے جیسا کہ ‘یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن‘ کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ اگر آپ کی چھاتی گھنی ہے، تو آپ کو چھاتی کاکینسر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ایک مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ 10 تا 30 فیصد تک چھاتی کے کینسر کی تشخیص میموگرافی سے نہیں ہو سکتی۔ پاکستان میں چھاتی کے کینسر کا پتا لگانے والے اسٹارٹ اپ RŌZ کی بانی، مہر النساء کیچلو، ایک AI محقق اورمائیکروسافٹ ایپک چیلنج 2022ء جیتنے والی رسرچر ہیں ، ان کا کہنا ہے،” AI کا استعمال کینسر کا جلد پتہ لگانے اور اس سے بچاؤ میں سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔‘‘

مہر النساء کیچلو کا کہنا ہے کہ بشمول روبوٹک سرجری AI کے امکانات لامتناہی ہیں۔ تاہم OncoStem Diagnostics کی سی ای او اور بانی، منجیری بیکر کا کہنا ہے کہ انسانی ڈاکٹر ابھی تک غیرضروری نہیں ہوئے ہیں۔ بیکر نے کہا، ”اب بھی انسانی مداخلت کی ضرورت ہے کیونکہ AI کے استعمال میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ سارہ اے آئی کی بدولت کینسر کے بعد بھی اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرنے کے قابل رہی تاہم دوسری خواتین شاید اتنی خوش قسمت نہ ہوں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان کا چھاتی کا کینسر زیادہ جارحانہ نوعیت کا ہو اور اس قسم کے کینسر کے لیے AI ماڈل تیار ہونا ابھی باقی ہے۔

آخر یہ ثابت ہو ہی گیا کہ کسانوں کے لیے لائے گئے تینوں زرعی قوانین امیروں کے حق میں تھے: کانگریس

0
آخر-یہ-ثابت-ہو-ہی-گیا-کہ-کسانوں-کے-لیے-لائے-گئے-تینوں-زرعی-قوانین-امیروں-کے-حق-میں-تھے:-کانگریس

کانگریس نے آج مرکز کی مودی حکومت پر کسانوں سے دھوکہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کورونا کی آڑ میں جس طرح سے تین زرعی قوانین کو نافذ کیا گیا تھا، اس سے تبھی ملک کے کسان کو سازش کی بو آ گئی تھی، اور اب تو ‘دی رپورٹرس کلیکٹیو’ کی رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ تینوں سیاہ قوانین کسانوں کے نہیں بلکہ امیروں کے حق میں تھے۔

یہ بیان کانگریس رکن پارلیمنٹ اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن دیپیندر ہڈا نے نئی دہلی واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے دیا۔ انھوں نے کہا کہ "مشہور جرنلسٹ پلیٹ فارم ویب سائٹ ‘دی رپورٹرس کلیکٹیو’ کے انکشاف نے ثابت کر دیا ہے کہ بی جے پی حکومت کی سوٹ بوٹ کے لیے لوٹ کی سنک نے 750 کسانوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس انکشاف سے پتہ چلتا ہے کہ مودی حکومت نے کسانوں کو ‘آندولن جیوی’ کیوں بولا، کیوں کسان ان کی ناانصافی اور لوٹ کے خلاف تحریک کر رہے تھے۔”

دیپیندر ہڈا نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا کسانوں اور جوانوں کے مفادات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ حکومت نہ کسان کی ہے اور نہ جوان کی۔ یہ حکومت صرف امیروں کی ہے۔ انھوں نے زرعی قوانین کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بار بار کہتی رہی کہ ان تین زرعی قوانین کے فائدے کسانوں کو سمجھا نہیں پائی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسان ان قوانین سے ہونے والی زبردست تباہی کو وقت رہتے سمجھ گئے تھے۔

دیپیندر ہڈا کا کہنا ہے کہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کی آڑ میں بی جے پی کے قریبی این آر آئی صنعت کار شرد مراٹھے کے ذریعہ نیتی آیوگ کو ارسال کردہ ایک تجویز میں زرعی سیکٹر کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دینے کا قدم اٹھایا گیا، جبکہ 1960 سے امریکہ میں رہ رہے شرد مراٹھے کا زرعی سیکٹر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہڈا نے مزید کہا کہ حکومت نے دلوئی کمیٹی کی رپورٹ کو نہ مان کر شرد مراٹھے والی ٹاسک فورس کے ذریعہ جمع خوری پر لگام لگانے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے والے ضروری اشیاء ایکٹ کو ختم کرنے کی سفارش کو فوراً مان لیا، جس میں تین قوانین میں سے ایک کے طور پر بچولیوں کو جمع خوری کی اجازت دینے اور ایم ایس پی پر خریدنے کی لازمیت نہیں ہونے کی سفارش شامل ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ کے مطابق حکومت نے اس بل کو پارلیمنٹ میں لانے کی جگہ آرڈیننس جاری کر نافذ کر دیا۔ حکومت کا کسانوں کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا تھا، وہ بھی دھوکہ ثابت ہوا۔ حکومت نے کسانوں کو فصل کی لاگت میں 50 فیصد منافع جوڑ کر ایم ایس پی ابھی تک نہیں دیا۔ کسان تحریک کے دوران مرنے والے 750 کسانوں کے اہل خانہ کو معاوضہ بھی نہیں ملا، نہ ہی انھیں شہید کا درجہ دیا اور نہ ہی ان کے اہل خانہ میں سے کسی کو ملازمت دی۔ پارلیمنٹ میں بھی ایک منٹ کی خاموشی نہیں رکھی گئی، حتیٰ کہ ان کے خلاف درج کیس بھی واپس نہیں ہوئے۔