بدھ, اپریل 1, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 169

چاند پر فتح تو صرف ایک شروعات ہے، اِسرو نے تو سورج، مریخ اور زہرہ کی طرف بھی بڑھا دیے ہیں قدم

0
چاند-پر-فتح-تو-صرف-ایک-شروعات-ہے،-اِسرو-نے-تو-سورج،-مریخ-اور-زہرہ-کی-طرف-بھی-بڑھا-دیے-ہیں-قدم

ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اِسرو) کا چندریان-3 بدھ کے روز چاند کی سطح پر کامیابی کے ساتھ اتر گیا۔ یہ نہ صرف مشہور خلائی ایجنسی کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے فخر کا لمحہ ثابت ہوا۔ اس وقت چندریان-3 ہمارے لیے ایک بہت بڑی حصولیابی ہے، لیکن اِسرو کے سامنے کئی دیگر مشن لائن اَپ میں تیار ہیں۔ ابھی تو اِسرو سورج، مریخ اور زہرہ تک جانے کی تیاری میں ہے۔ آئیے جانتے ہیں چندریان-3 کے بعد اِسرو کے پاس کیا پروجیکٹس ہیں۔

گگن یان مشن:

اِسرو کا گگن یان مشن ہندوستان کے ذریعہ خلاء میں انسان کو بھیجنے کی طرف پہلا قدم ہے۔ گگن یان مشن 2022 میں ہی لانچ ہو جانا تھا، لیکن اس میں تاخیر ہو گئی ہے۔ اب اس کے 2025 کے بعد ہی لانچ ہونے کا امکان ہے۔ فی الحال گگن یان ہیومن اسپیس فلائٹ مشن سے پہلے اِسرو نے دو ایسے مشن پلان کیے ہیں جس میں انسان نہیں ہوں گے۔ اِسرو اگلے سال کے شروع میں پہلا بغیر انسان کا فلائٹ ٹیسٹ کرنے والا ہے۔ اس فلائٹ کو ‘ویوم متر’ نام دیا گیا ہے۔ اس کی تشریح ہاف ہیومنائڈ (نصف انسان) کے طور پر کی جا رہی ہے۔ یہ اِسرو کے کمانڈ سنٹر سے جڑا رہے گا۔ گگن یان پروجیکٹ کے لیے اِسرو نے کرایو اسٹیج انجن کوالیفکیشن ٹیسٹ، کرو اسکیپ سسٹم کے ساتھ ہی پیراشوٹ ایئرڈراپ ٹیسٹ پورے کر لیے ہیں۔ ٹیسٹ وہیکل کرو اسکیپ سسٹم کو ستیش دھون اسپیس سنٹر میں تیار کیا گیا ہے۔

آدتیہ ایل-1:

اِسرو سورج کے معمہ کو حل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے لیے ستمبر کے پہلے ہفتے میں آدتیہ ایل-1 کو لانچ کیا جا سکتا ہے۔ 2015 میں اِسرو نے ایسٹروسیٹ لانچ کیا تھا اور آدتیہ ایل-1 ہندوستان کا دوسرا ایسٹرونومی مشن ہوگا۔ اسپیس کرافٹ سورج-زمین کے سسٹم میں لینگرینج پوائنٹ-1 (ایل 1) کے پاس بنے ہیلو آربٹ میں رہے گا۔ یہ زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر دور ہے۔ اس فلائٹ کی مدد سے سورج کا لگاتار مطالعہ ممکن ہوگا۔ گہن اور دیگر خلائی واقعات بھی اس میں خلل نہیں ڈالیں گے۔ آدتیہ ایل-1 کو پی ایس ایل وی راکٹ سے لانچ کیا جائے گا اور یہ چندریان مشن کی طرح ہی ہوگا۔ اسپیس کرافٹ زمین کے نچلے مدار میں ہوگا اور اسے ایل 1 کی طرف دھکیلا جائے گا۔ لانچ سے ایل 1 کی طرف اس فلائٹ کا سفر چار مہینے کا ہوگا۔ اس مشن میں سات پے لوڈ ہوں گے۔ چار سورج کی ریموٹ سنسنگ کریں گے اور تین اس پر ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھیں گے۔

نثار:

ناسا اور اِسرو کی مشترکہ مہم نثار (این آئی ایس اے آر) زمین کے بدلتے ایکو سسٹم کا مطالعہ کرے گا۔ یہ زمین پر موجود پانی کی روانی کے ساتھ ہی آتش فشاں، گلیشیر کے پگھلنے کی شرح، زمین کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کرے گا۔ نثار دنیا بھر میں سطح پر ہو رہی تبدیلیوں پر نظر رکھے گا، جو خلاء اور وقت کی وجہ سے نہیں ہو پاتا۔ یہ ہر بارہ دن میں ڈیفارمیشن میپ (نقشہ) بنائے گا اور اس کے لیے دو فریکوئنسی بینڈس کا استعمال کرے گا۔ اس سے زلزلہ کے اندیشہ والے علاقوں کی شناخت کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کی لاگت تقریباً 1.5 بلین ڈالر ہوگی اور یہ دنیا کا سب سے مہنگا سیٹلائٹ ہوگا۔ اس کی لانچنگ جنوری 2024 میں مجوزہ ہے۔ 2800 کلو کا یہ سیٹلائٹ ایل بینڈ اور ایس بینڈ سنتھیٹک اپرچر رڈار (ایس اے آر) مشینوں سے مزین ہوگا۔ اس سے یہ ڈوئل فریکوئنسی امیجنگ رڈار سیٹلائٹ بنے گا۔

منگل یان-2:

ہندوستان کا دوسرا انٹر-پلینیٹری مشن منگل یان-2 بھی مجوزہ ہے۔ اس بار ہائپر اسپیکٹرل کیمرہ اور رڈار بھی آربیٹل پروب میں لگا ہوگا۔ اس مشن کے لیے لینڈر رد کر دیا گیا ہے۔ ہندوستان کا پہلا منگل مشن یعنی منگل یان-1 کامیابی کے ساتھ منگل کے مدار میں پہنچا تھا۔ لانچ وہیکل، اسپیس کرافٹ اور گراؤنڈ سیگمنٹ کی لاگت 450 کروڑ روپے آئی تھی، جو اب تک کا سب سے کفایتی منگل مشن تھا۔

مشن زہرہ:

مارس آربیٹر مشن یا منگل یان-1 کی کامیابی کے بعد اِسرو کی نگاہیں زہرہ سیارہ پر جم گئی ہیں۔ امریکہ، یوروپی اسپیس ایجنسی اور چین نے بھی زہرہ سیارہ کے لیے اپنے مشن پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہندوستان کا مشن ویسے تو 2024 کے لیے مجوزہ تھا، لیکن فی الحال اس کے 2031 سے پہلے پورے ہونے کے آثار نہیں ہیں۔ حکومت سے اب تک اس سلسلے میں ضروری منظوریاں بھی نہیں مل سکی ہیں۔

اسپیڈیکس (اسپیس ڈاکنگ ایکسپیرمنٹ):

ہندوستان مستقبل میں اپنا اسپیس اسٹیشن بناتا ہے تو اسے اسپیس ڈاک کی ضرورت ہوگی۔ اس کے لیے سودیشی اسپیڈیکس بنایا جا رہا ہے۔ اس کا ہدف زمین کے مدار میں دو اسپیس کرافٹ کو ڈاک (پارک) کرنے کی تکنیک تیار کرنا ہے۔ ملٹی-ماڈیول اسپیس اسٹیشن بنانے کے لیے یہ اہم ہوتا ہے۔ ساتھ ہی اس سے دیگر سیاروں پر انسانوں کو بھیجنے کے مشن اور مدار میں کسی اسپیس کرافٹ میں ایندھن بھرنے میں بھی ہندوستان مہارت حاصل کر لے گا۔

کلائمیٹ آبزرویشن سیٹلائٹ:

اِسرو جلد ہی کلائمیٹ آبزرویشن سیٹلائٹ (ماحولیاتی مشاہدہ سیٹلائٹ) ‘اِنسیٹ 3 ڈی ایس’ لانچ کرنے والا ہے۔ اِسرو کے افسران کے مطابق تیاریاں آخری شکل لے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ آنے والے مہینوں میں کچھ ڈیفنس اور ماحولیاتی مطالعہ سے جڑے سیٹلائٹس بھی لانچ ہونے والے ہیں۔

چندریان-3 نے چاند کے جنوبی قطب پر لہرایا ہندوستانی پرچم، آئیے جانتے ہیں کامیاب لینڈنگ کے 5 اہم اسباب

0
چندریان-3-نے-چاند-کے-جنوبی-قطب-پر-لہرایا-ہندوستانی-پرچم،-آئیے-جانتے-ہیں-کامیاب-لینڈنگ-کے-5-اہم-اسباب

چندریان-3 نے آج ہندوستان کا سر پوری دنیا کے سامنے اونچا کر دیا ہے۔ 23 اگست کی شام جب ہندوستان میں 6 بج رہے تھے تو چندریان-3 کے وکرم لینڈر نے چاند کے جنوبی قطب پر کامیابی کے ساتھ سافٹ لینڈنگ کی اور اس کا نظارہ پوری دنیا نے براہ راست دیکھا۔ اس کامیاب لینڈنگ کے ساتھ ہی ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے چاند کے جنوبی قطب پر لینڈر اتارنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن یہ کامیابی اتنی آسان نہیں تھی، بلکہ سائنسدانوں کی سخت جدوجہد اور گزشتہ ناکامیوں سے حاصل تجربات کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کا نام دنیا میں روشن ہو رہا ہے۔ آئیے یہاں جانتے ہیں کہ وہ کون سے 5 بڑے اسباب ہیں جس نے وکرم لینڈر کی چاند پر سافٹ لینڈنگ کو آسان بنایا۔

1. طاقتور وکرم لینڈر:

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے ایرو اسپیس سائنٹسٹ پروفیسر رادھاکانت پادھی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس بار لینڈر وکرم کو 6 سگما باؤنڈ سے ڈیزائن کیا گیا ہے، اس لیے یہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہے۔ اس سے اِسرو کے سائنسداں کو یہ اطمینان حاصل ہوا کہ اگر وکرم لینڈر کی رفتار کچھ تیز بھی رہی تو لینڈنگ میں کسی طرح کی پریشانی نہیں ہوگی۔

2. چندریان-2 سے زیادہ ایندھن:

چندریان-3 میں چندریان-3 کے مقابلے زیادہ فیوئل یعنی ایندھن بھرا گیا تھا۔ اس سے یہ ممکن ہو سکا کہ لینڈر وکرم کو صحیح اور برابر جگہ پر اتارنے میں کسی بھی طرح کی کوئی دقت نہ ہو، بھلے ہی اس میں تھوڑا زیادہ وقت لگے۔

3. چندریان-2 کی ناکامی سے سیکھا سبق:

چندریان-2 اور چندریان-3 کی لانچنگ کا حصہ رہ چکے پروفیسر رادھاکانت نے کہا کہ چندریان-2 کا لینڈر وکرم اپنی رفتار کنٹرول نہیں کر سکا، جس کی وجہ سے وہ گر گیا۔ وہ الگوریدم کی ناکامی تھی، جس کو اس بار ٹھیک کر لیا گیا تھا۔

4. نئے سنسر کا استعمال:

چندریان-3 میں لیجر ڈاپلر ویلوسٹی میٹر سنسر جوڑا گیا ہے۔ اس کی مدد سے وکرم لینڈر کو چاند پر صحیح طریقے سے اتارنے میں مدد ملی۔ سنسر نے چاند کی سطح کو کیمرے کی مدد سے چیک کیا اور او کے کمانڈ دیا تبھی وکرم چاند کی سطح پر اترا۔

5. مضبوط لینڈنگ لیگس:

وکرم لینڈر کے روبوٹک لیگس (پیر) کو چندریان-2 کے مقابلے زیادہ مضبوط کیا گیا۔ اس کی مدد سے ہی وکرم لینڈر چاند پر اترا۔ یہ جانکاری پہلے ہی دے دی گئی تھی کہ لینڈنگ کے دوران 3 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار ہونے پر بھی اس کے لیگس یعنی پیر ٹوٹیں گے نہیں۔

‘آج کا لمحہ ہمارے لیے قابل فخر ہے، ہم اِسرو کو سلامی دیتے ہیں’، چندریان-3 کی کامیابی پر جئے رام رمیش کا بیان

0
‘آج-کا-لمحہ-ہمارے-لیے-قابل-فخر-ہے،-ہم-اِسرو-کو-سلامی-دیتے-ہیں’،-چندریان-3-کی-کامیابی-پر-جئے-رام-رمیش-کا-بیان

چندریان-3 کا وکرم لینڈر کامیابی کے ساتھ بدھ کی شام تقریباً 6 بجے چاند کے جنوبی قطب پر اتر گیا۔ یہ لمحہ سبھی ہندوستانیوں کے لیے قابل فخر ہے۔ اِسرو نے اس لمحہ کا براہ راست نشریہ کیا جس میں وکرم لینڈر کی سافٹ لینڈنگ کے وقت سائنسدانوں کو تالیاں بجاتے ہوئے اور اس کامیابی پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس قابل فخر موقع پر کانگریس کے سرکردہ لیڈر جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر اِسرو اور ہندوستانی سائنسدانوں کی تعریف کرتے ہوئے کچھ اہم باتوں کا تذکرہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ "اِسرو کی آج کی حصولیابی واقعی شاندار ہے، بے مثال ہے۔ 1962 کے فروری ماہ میں ہومی بھابھا اور وکرم سارابھائی کی دور اندیشی کے سبب INCOSPAR کا قیام ہوا۔ INCOSPAR یعنی انڈین نیشنل کمیٹی آن اسپیس ریسرچ۔ اس میں جو پہلے شخص شامل تھے، پہلے چار پانچ شخص جو شامل تھے، ان میں اے پی جے عبدالکلام بھی تھے۔”

جئے رام رمیش نے مزید لکھا ہے کہ "اس کے بعد 1969 میں، اگست ماہ میں وکرم سارابھائی، جو ہمیشہ خلائی سائنس اور خلائی تحقیق کو ترقی کے نظریہ سے دیکھا کرتے تھے، نے اِسرو کا قیام کیا۔ سال 1972 اور 1984 کے درمیان ستیش دھون آئے اور انھوں نے غیر معمولی قیادت کا مظاہرہ کیا۔ سائنسی، تکنیکی اور مینجمنٹ کے نظریہ سے جو تعاون ان کا رہا، وہ بالکل بے مثال تعاون رہا ہے۔ ان کے ساتھ برھم پرکاش جی تھے۔ برھم پرکاش واحد ایسے شخص رہے ہیں جنھوں نے ہمارے نیوکلیائی توانائی پروگرام اور خلائی تحقیقی پروگرام میں بھی انقلابی تعاون دیا ہے۔ ستیش دھون کے بعد یو آر راؤ سے شروعات ہوئی اور کئی چیئرمین آئے۔ ان سبھی نے اپنا خاص تعاون اِسرو میں اور ہمارے خلائی پروگراموں میں دیا۔”

اپنے پوسٹ کے آکر میں کانگریس لیڈر نے لکھا کہ "آج ہم جو کامیابی دیکھ رہے ہیں وہ ایک اجتماعی عزم، ایک اجتماعی کارگزاری ہے، اور جیسا کہ کہا جاتا ہے یہ ایک کلیکٹیو ٹیم ایفرٹ کا نتیجہ ہے۔ یہ سسٹم کا نتیجہ ہے۔ ایک شخص کا نہیں ہے۔ جہاں لوگ ایک ٹیم وَرک کے ساتھ، ایک اجتماعی ذہنیت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اور گزشتہ کچھ سالوں میں اِسرو کی جو پارٹنرشپ ہے، جو شراکت داری ہے- الگ الگ تعلیم کے ادارے ہیں، پرائیویٹ سیکٹر کی چھوٹی چھوٹی کمپنیاں ہیں، جنھیں آج اسٹارٹ اَپس کہتے ہیں، ان کے ساتھ جو شراکت داری کا پروگرام اِسرو کی طرف سے ہوا ہے- اس کا بھی اثر ہم دیکھ رہے ہیں۔ آج کا لمحہ ہمارے لیے بہت ہی فخر کا لمحہ ہے اور ہم اِسرو کو سلامی دیتے ہیں۔”

‘مجھے فخر ہے…’، چاند کی سطح پر چندریان-3 کی کامیاب لینڈنگ کے بعد وزیر اعظم مودی کا اظہارِ خوشی

0
‘مجھے-فخر-ہے…’،-چاند-کی-سطح-پر-چندریان-3-کی-کامیاب-لینڈنگ-کے-بعد-وزیر-اعظم-مودی-کا-اظہارِ-خوشی

ہندوستان نے 23 اگست کو ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ چندریان-3 نے چاند کی سطح پر کامیابی کے ساتھ سافٹ لینڈنگ کی اور اس کے ساتھ ہی ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے چاند کے جنوبی قطب پر رسائی حاصل کی ہے۔ وکرم لینڈر جب چاند کی سطح کی طرف بڑھ رہا تھا تو اس لمحہ کا گواہ پورا ہندوستان تو بنا ہی، وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی جنوبی افریقہ سے براہ راست نشریہ دیکھا اور ہندوستان کی کامیابی پر ترنگا لہرا کر خوشی کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے وکرم لینڈر کی کامیاب لینڈنگ کے بعد جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ سے ورچوئل انداز میں ہندوستانی عوام کو خطاب کیا اور کہا کہ یہ ملک کے لیے انتہائی فخر کا لمحہ ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ "زندگی خوشیوں سے بھر گئی ہے۔ یہ لمحہ فتح کی راہ پر آگے بڑھنے کا ہے۔ یہ لمحہ 140 کروڑ دھڑکنوں کے لیے ہے، آج ہر گھر میں جشن شروع ہو گیا ہے۔ میں چندریان-3 کی ٹیم، اِسرو اور ملک کے سبھی سائنسدانوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔” پی ایم مودی نے چندریان-3 کی کامیابی پر سائنسدانوں کا خاص طور سے تذکرہ کیا اور کہا کہ ان کی محنت سے ہی ہم چاند کے اس جنوبی قطب پر پہنچ گئے جہاں پر آج تک کوئی نہیں پہنچ پایا ہے۔ آج سبھی متھک بدل جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ "کبھی کہا جاتا تھا چندا ماما بہت دور کے ہیں، اب ایک دن وہ بھی آئے گا جب بچے کہا کریں گے چندا ماما بس ایک ٹور (سیاحت) کے ہیں۔”

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے چندریان-3 کی کامیاب سافٹ لینڈنگ کے ساتھ ان ممالک کی فہرست میں بھی اپنا نام شامل کر لیا ہے جنھوں نے چاند پر سافٹ لینڈنگ کے ذریعہ رسائی حاصل کی ہے۔ چاند کی سطح پر ہندوستان سے پہلے چین، امریکہ اور سوویت یونین نے سافٹ لینڈنگ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ بہرحال، خبر رساں ایجنسی نے اِسرو کے افسران کے حوالے سے بتایا ہے کہ سافٹ لینڈنگ کے بعد اب رووَر اپنے ایک سائیڈ پینل کا استعمال کر کے لینڈر کے اندر سے چاند کی سطح پر اترے گا، جو ریپ کی شکل میں کام کرے گا۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ لینڈنگ کے بعد لینڈر کو اس میں موجود انجنوں کے چاند کی سطح کے قریب سرگرم ہونے کے سبب دھول کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے اعظم خان کی آواز کا نمونہ دینے کے ٹرائل کورٹ کے حکم پر لگائی روک

0
عدالت-عظمیٰ-نے-اعظم-خان-کی-آواز-کا-نمونہ-دینے-کے-ٹرائل-کورٹ-کے-حکم-پر-لگائی-روک

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2007 کے مبینہ ’نفرت انگیز‘تقریر کیس میں اتر پردیش کے سابق وزیر اعظم خان کو اپنی آواز کا نمونہ دینے کے ٹرائل کورٹ کے حکم پر بدھ کو روک لگا دی۔

جسٹس اے ایس بوپنا اور پرشانت کمار مشرا کی بنچ نے سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر خان کی عرضی پر سماعت کے بعد، ٹرائل کورٹ کے حکم پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے اس معاملے میں اتر پردیش حکومت اور دیگر کو نوٹس جاری کیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے 25 جولائی کو نچلی عدالت کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ خان نے نچلی عدالت کے حکم کو سپریم کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

مبینہ نفرت انگیز تقریر کا یہ کیس اگست 2007 کا ہے۔ خان نے اتر پردیش کے رام پور میں ایک جلسہ عام میں تقریر کی۔ الزام لگایا گیا کہ سابق وزیر خان نے اجتماع میں ایک مخصوص کمیونٹی کے لیے قابل اعتراض ریمارکس کیے تھے۔ اس کیس میں پیش کی گئی سی ڈی کی حقیقت جاننے کے لیے ان کی آواز کا نمونہ طلب کیا گیا۔

مظفر نگر: بھارتیہ کسان یونین تومر کے قومی صدر سنجیو تومر سمیت 45 کے خلاف مقدمہ درج، تحقیقات شروع

0
مظفر-نگر:-بھارتیہ-کسان-یونین-تومر-کے-قومی-صدر-سنجیو-تومر-سمیت-45-کے-خلاف-مقدمہ-درج،-تحقیقات-شروع

مظفر نگر واقع گنگا نہر پل پر 17 اگست کو بڑی تعداد میں کسانوں نے انتظامیہ کے خلاف دھرنا و مظاہرہ کیا تھا اور نعرے بازی بھی کی تھی۔ ان مظاہرین پر الزام ہے کہ انھوں نے سڑک پر جام لگا کر عوام کو پریشان کیا اور بچوں و خواتین کو بھی شدید گرمی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اس معاملے میں بھارتیہ کسان یونین تومر کے قومی صدر سنجیو تومر سمیت 45 کارکنان کے خلاف سنگین دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر معاملے کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہے۔

بھوپا تھانہ کے ڈپٹی انسپکٹر سمت کمار نے مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایا کہ 17 اگست کی دوپہر بھوپا گنگا نہر پل پر بھارتیہ کسان یونین تومر گروپ کے تقریباً 50-60 عہدیداروں و کارکنان کے ذریعہ دھرنا دیا گیا تھا۔ مظاہرہ کے دوران انتظامیہ، محکمہ بجلی کے افسران و ملازمین کے خلاف نعرہ لگاتے ہوئے مین روڈ نہر پٹری بھوپال پل روڈ کو رخنہ انداز کرنے کے لیے لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ سے جارحانہ زبان میں بیان بازی کی گئی۔

مظاہرین پر الزام ہے کہ انھوں نے بھیڑ کو اکسا کر ایک رائے ہوتے ہوئے خطرناک اسلحوں کے ساتھ مین روڈ نہر پٹری بھوپال نہر پل سڑک کو جام کیا۔ چاروں طرف سے آنے جانے والی گاڑیوں اور لوگوں کو ان کی خواہش کے برخلاف راستے میں رکاوٹ پیدا کی گئی۔ گاڑیوں میں سوار خاتون، بچے، بزرگ وغیرہ کو اُمس بھری گرمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعہ میں بھارتیہ کسان یونین تومر گروپ کے قومی صدر سنجیو تومر، قومی صدر نمائندہ پون تیاگی، ٹریزرار سشروَن تیاگی، ریاستی انچارج، حبیب، واجد رضا، کمانڈو ورما، حاجی عباس راؤ، سلیم بابو، اجے تیاگی، شہزاد، نوشاد، انتظار، سنجے تیاگی، جتیندر چودھری، سوربھ تیاگی، راشد، ابھی چودھری، آشیش شرما، فرحان اور دیگر پچیس تیس نامعلوم کارکنان شریک پائے گئے۔ انچارج انسپکٹر راجیو کمار شرما نے بتایا کہ 19 نامزد سمیت 45 ملزمین کے خلاف دفعہ 147، 148، 149، 283، 342، 353 کے تحت مقدمہ درج کر جانچ کی جا رہی ہے۔

زرعی صارفین کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی راجستھان حکومت کی ترجیح: اشوک گہلوت

0
زرعی-صارفین-کو-بلاتعطل-بجلی-کی-فراہمی-راجستھان-حکومت-کی-ترجیح:-اشوک-گہلوت

جے پور: راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ زراعت کے لیے بجلی کی مناسب فراہمی ریاستی حکومت کی ترجیح بتاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے تاکہ کسانوں کو آبپاشی میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

گہلوت نے منگل کی دیر رات تک وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پرریاست میں بجلی کی فراہمی کی جائزہ میٹنگ کر رہے تھے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کٹوتی ناگزیر ہو تو اس سے متاثرہ علاقے کے لوگوں کو پیشگی اطلاع دی جانی چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جون جولائی میں اچھی بارشوں کے باعث فصلوں کی بوائی میں تاریخی اضافہ ہوا ہے جب کہ اگست میں بارش نہ ہونے سے آبپاشی کے لیے بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ چھتیس گڑھ سے بھی کوئلے کی عدم فراہمی، گرمی کی وجہ سے گھریلو صارفین کی مانگ میں اضافہ سمیت دیگر وجوہات کی وجہ سے بجلی کی طلب اورفراہمی میں بڑا فرق پیدا ہوا ہے۔ 10 اگست سے تقریباً 3300 لاکھ یونٹ بجلی مسلسل دستیاب کرائی جا رہی ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ گزشتہ سال اگست کے مہینے میں اوسطاً کھپت تقریباً 2300 لاکھ یونٹس ہی تھی لیکن اس سال بجلی کے لوڈ میں اچانک اضافہ کے باعث ٹرانسفارمر ٹرپنگ کا مسئلہ درپیش ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگست میں ریاست میں ہی نہیں بلکہ پورے شمالی ہندوستان میں بجلی کی مانگ میں غیر متوقع طور پر اضافہ ہوا ہے۔ گہلوت نے کہا کہ ریاستی حکومت صارفین کو بجلی کی مناسب دستیابی کے لیے مہنگی قیمت پر بھی بجلی خریدنے کے لیے تیار ہے، لیکن پاور ایکسچینج میں بجلی کی دستیابی نہیں ہوپا رہی ہے۔

انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ضرورت پڑنے پر صنعتوں کو دی جانے والی بجلی کو کم کرکے زرعی صارفین کو بجلی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پہلے دن میں زرعی بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن زرعی بجلی کے لوڈ میں اچانک اضافہ کی وجہ سے اب کئی اضلاع میں رات کو بجلی فراہم کی جانی چاہئے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ موجودہ ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے قلیل مدتی بنیادوں پر بجلی خریدیں۔

میٹنگ میں گہلوت نے تینوں ڈسکام سیکٹر میں بجلی کی اوسط طلب اور دستیابی، ٹرانسفارمر کی تبدیلی، کوئلے کی دستیابی سمیت دیگر نکات کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ اجلاس میں محکمہ توانائی کے حکام نے بجلی کی ہموار فراہمی کی کوششوں، اگست 2023 سے مارچ 2024 تک بجلی کی طلب اور دستیابی، ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ کے بارے میں بتایا۔

وزیراعلیٰ نے افسران کو بروقت بجلی کی مناسب دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ بارش کے باعث دیہی علاقوں میں خراب ہونے والے ٹرانسفارمرز کی تبدیلی یا مرمت کا کام تیزی سے کیا جائے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ زیادہ سے زیادہ دیہی علاقوں کا دورہ کرکے عوامی نمائندوں اور صارفین سے رائے لیں۔

میٹنگ میں توانائی کے وزیر مملکت بھنور سنگھ بھاٹی اور جودھ پور و اجمیر ڈسکام کے منیجنگ ڈائریکٹر وی سی کے ذریعے شامل ہوئے۔ سی ایم آر پر چیف سکریٹری اوشا شرما، ایڈیشنل چیف سکریٹری فینانس اکھل اروڑہ، پرنسپل گورنمنٹ سکریٹری توانائی بھاسکر اے ساونت، راجستھان اسٹیٹ الیکٹرسٹی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر آشوتوش اے۔ ٹی پیڈنیکر، محکمہ توانائی کے مشیر اے کے۔ گپتا، راجستھان پاور جنریشن کارپوریشن کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر آر کے شرما اور جے وی وی این ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر آر این۔ کماوت موجود تھے۔

دہلی ایئرپورٹ پر بڑا حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا، 2 فلائٹس کو ایک ہی وقت پر لینڈنگ اور پرواز کی ملی تھی اجازت

0
دہلی-ایئرپورٹ-پر-بڑا-حادثہ-ہوتے-ہوتے-ٹل-گیا،-2-فلائٹس-کو-ایک-ہی-وقت-پر-لینڈنگ-اور-پرواز-کی-ملی-تھی-اجازت

دہلی ایئرپورٹ پر آج اس وقت افرا تفری کا عالم پیدا ہو گیا جب ایک ہی ایئرلائنس کی دو فلائٹس کو ایک ہی وقت پر پرواز بھرنے اور لینڈنگ کی اجازت مل گئی۔ حالانکہ کنٹرول روم نے وقت رہتے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑا حادثہ ٹال دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی ایئرپورٹ پر بدھ کی صبح وِستارا ایئرلائنس کی ایک فلائٹ کو لینڈ کرنے کی اے ٹی سی سے اجازت ملی تھی، دوسری طرف اسی وقت وِستارا کی ہی ایک دیگر فلائٹ کو پرواز بھرنے کے لیے بھی اجازت مل گئی۔ اس طرح ایک بڑا حادثہ سرزد ہونے کے آثار پیدا ہو گئے، لیکن وقت رہتے معاملے کو سنبھال لیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ٹھیک وقت پر اے ٹی سی کے ذریعہ پرواز بھرنے والی فلائٹ کو لے کر ایک ہدایت جاری کی گئی اور کہا گیا کہ پرواز کو کچھ دیر کے لیے روک دی جائے۔ اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے فلائٹ کے عملہ نے رَنوے سے ہٹا کر مسافر طیارہ کو پارکنگ میں لگا دیا جس سے ایک انہونی ہوتے ہوتے بچ گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ وِستارا کی فلائٹ یوکے725 دہلی سے باگ ڈوگرا کے لیے پرواز بھرنے والی تھی۔ اسی وقت وِستارا کی ہی فلائٹ احمد آباد سے دہلی لینڈ کرنے جا رہی تھی۔ یہ دونوں فلائٹ برابر والے رَنوے کا استعمال کرنے والی تھیں۔ دونوں طیاروں کو ایک ہی وقت پر اجازت ملی، لیکن اے ٹی سی نے معاملے کو اپنے کنٹرول میں لیا اور باگ ڈوگرا جا رہی فلائٹ کی پرواز روک لی۔

ایئرپورٹ کے ایک افسر کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ ایئر ٹرافک کنٹرول (اے ٹی سی) کی ہدایت کے بعد باگ ڈوگرا جا رہی فلائٹ پارکنگ میں لوٹ آئی۔ افسران کے مطابق اس کے بعد فلائٹ میں دوبارہ ایندھن بھرا گیا اور بریک وغیرہ بھی چیک کیا گیا تاکہ یہ یقینی کیا جا سکے کہ خراب موسم ہونے پر فلائٹ واپس آ سکے۔

چندریان 3 کی کامیابی کے لیے مساجد میں دعائیں، مدارس میں تیاریاں، کھتولی میں منائی جائے گی عید

0
چندریان-3-کی-کامیابی-کے-لیے-مساجد-میں-دعائیں،-مدارس-میں-تیاریاں،-کھتولی-میں-منائی-جائے-گی-عید

جہاں ایک طرف چندریان 3 کی کامیابی کو لے کر پوری دنیا میں جوش و خروش ہے، وہیں اس وقت تمام ہندوستانیوں کے دلوں کی دھڑکنیں بڑھ گئی ہیں۔ آج شام چاند پر لینڈ کرنے جا رہے چندریان 3 کی کامیابی کے لیے ملک بھر میں دعائیں جاری ہیں۔ تنوع میں اتحاد کے ملک ہندوستان میں تمام ہندوستانی خدا سے دعائیں کر رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں مندروں میں پوجا ہو رہی ہے وہیں مساجد میں بھی نماز کے بعد دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ دیوبند سمیت کئی مدارس میں چندریان 3 کی لائیو لینڈنگ دیکھنے کی تیاریاں کی گئی ہیں۔ مظفر نگر ضلع کے کھتولی قصبے میں تو عید جیسا ماحول ہے، یہاں سوئیاں بن رہی ہے اور جشن کا ماحول ہے۔ اس قصبے کا ایک نوجوان محمد اریب چندریان 3 کو روانہ کرنے والی اسرو کی مکینیکل ٹیم کا حصہ ہے۔

لکھنؤ میں نماز کے بعد چندریان 3 کی کامیابی کے لیے دعا کرنے والے امام خالد رشید فرنگی محلی نے اسرو کو اپنی نیک تمنائیں دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مدرسے، اسلامی مرکز اور مسجد میں چندریان 3 کی کامیابی کے لیے دعائیں کی گئی ہیں۔ آج تمام طلبا کو لینڈنگ بھی دکھائی جا رہی ہے۔ تمام مذاہب میں چاند کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ ہمارے ملک کے لیے بہت خوبصورت اور قابل فخر لمحہ ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ چندریان کی لینڈنگ بحسن خوبی مکمل ہو، ہم اسرو کو مبارکباد دیتے ہیں۔ یہاں سے ہم جانتے ہیں کہ اگر یہ لینڈنگ ساؤتھ زون میں کامیابی سے ہو جاتی ہے تو ہندوستان ایسا کرنے والا پہلا ملک ہوگا۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

مدرسہ اسلامیہ جامعہ مظفر نگر کے مہتمم مولانا ارشد قاسمی نے بھی اسے ملک کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا ’’یہاں بڑی اسکرین پر لائیو لینڈنگ دیکھنے کی تیاریاں کی گئی ہیں۔ مدرسہ کے سینکڑوں طلبا بیک وقت چندریان3 کو چاند پر اترتے دیکھ سکیں گے۔ یہ پورے ملک کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے اور یہ ہمارے ملک کی طاقت اور پوری دنیا کے سائنسدانوں کی قابلیت کا ایک انوکھا ثبوت بھی ہے۔ یہ ملک کی بہت اہم اور ضروری کامیابی ہے۔ اس کے لیے اسرو کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا جانا چاہیے۔ ہم نے نماز میں چندریان کی کامیابی کے لیے دعا کی ہے۔ اللہ ہمارے ملک کو یہ کامیابی عطا فرمائے۔‘‘

دو سال قبل اسرو میں شامل ہونے والے محمد اریب اسرو میں مکینیکل انجینئر ہیں اور ان کا تعلق مظفرنگر کے کھتولی سے ہے۔ اریب بات کرتے ہیں تو جذباتی ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اسرو میں شامل ہوئے صرف تیسرے سال میں ہے اور اتنی جلدی وہ اتنی بڑی کامیابی کا حصہ بن رہے ہیں، یہ اس کے لیے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے کہا ’’اللہ سے دعا ہے کہ ہمارا ملک آج یہ کامیابی ضرور حاصل کرے۔‘‘

خاص بات یہ ہے کہ اریب کے گھر میں ٹی وی نہیں ہے لیکن علاقہ مکینوں نے بڑی اسکرین لگا کر لینڈنگ کو لائیو دیکھنے کا انتظام کیا ہے۔ لانچنگ کے دوران سری ہری کوٹا میں گیلری میں اریب کے والد مہتاب ضیاء بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو منظر تھا اسے بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ اب ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ملک ضرور یہ کامیابی حاصل کرے۔

میزورم میں زیرِ تعمیر ریلوے پل گرنے سے اندوہناک حادثہ، 17 افراد ہلاک

0
میزورم-میں-زیرِ-تعمیر-ریلوے-پل-گرنے-سے-اندوہناک-حادثہ،-17-افراد-ہلاک

ریاست میزورم میں زیر تعمیر ریلوے پل گرنے کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے۔ خبروں کے مطابق حادثہ صبح 10 بجے کے قریب پیش آیا اور اس وقت کئی مزدور حادثے کی جگہ پر کام میں مصروف تھے۔

پولیس کے مطابق ملبے سے 17 لاشوں کو نکال لیا گیا ہے جبکہ کچھ دیگر افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ میڈیا کے مطابق حادثے کی جگہ پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ زورامتھانگا نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جائے حادثہ کی ایک ویڈیو شئیر کی جس میں پل کا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان میں افسوس ناک واقعہ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔