بدھ, اپریل 1, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 167

ایک طرف چندریان-3 نے چاند پر قدم رکھا، دوسری طرف اڈیشہ کے ایک اسپتال میں 4 بچوں کی ہوئی ولادت!

0
ایک-طرف-چندریان-3-نے-چاند-پر-قدم-رکھا،-دوسری-طرف-اڈیشہ-کے-ایک-اسپتال-میں-4-بچوں-کی-ہوئی-ولادت!

چندریان-3 نے 23 اگست کی شام ٹھیک 6.04 بجے چاند کی سطح پر کامیابی کے ساتھ لینڈنگ کی۔ اس لینڈنگ کے ساتھ ہی پورے ملک میں جشن کا ماحول چھا گیا۔ ہندوستان ہی نہیں، دنیا کے تمام لوگ اِسرو کو اس موقع پر مبارکبادیاں پیغام بھیجنے لگے اور پیغامات کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اس درمیان اڈیشہ سے ایک دلچسپ خبر سامنے آ رہی ہے۔ دراصل اڈیشہ کے ایک اسپتال میں چندریان-3 کے ٹھیک لینڈنگ کے بعد چار بچوں کی ولادت ہوئی ہے۔ اب ان بچوں کا نام ‘چندریان’ رکھے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسپتال کی ایک نرس انجنا ساہو کا کہنا ہے کہ چاروں بچوں کے والدین ان بچوں کا نام چندریان پر رکھنا چاہتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اڈیشہ کے کیندرپاڑا ضلع واقع اسپتال میں 23 اگست کی شام چار بچوں کی ولادت ٹھیک اسی وقت ہوئی جب چندریان-3 کے لینڈر ماڈیول نے چاند کے جنوبی قطب پر کامیاب لینڈنگ کی۔ ان چار بچوں میں تین لڑکے ہیں اور ایک لڑکی۔ اب مشن چاند کی کامیابی سے خوش ہو کر ان چاروں بچوں کے والدین نے ان کا نام ‘چندریان’ رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

23 اگست کی شام پیدا ہونے والے چار میں سے ایک بچے کے والد پراوَت ملک نے کہا کہ چندریان کی کامیابی اور ہمارے بچوں کی پیدائش، ہمارے لیے دوہری خوشی کی بات ہے۔ چندریان کی کامیابی کے کچھ منٹ بعد ہی ہمارے بچوں کی پیدائش ہوئی۔ اس لیے ہم نے بچے کا نام اس چاند مہم پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک دیگر بچے کی ماں رانو نے کہا کہ گھر کے بڑے بزرگوں کو بچے کا نام ‘چندریان’ کے نام پر رکھنے کا مشورہ دیا جائے گا۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ بچے کا نام ‘چندر’ یا ‘لونا’ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ چندریان کا مطلب ‘چاند کے لیے گاڑی’ ہوتا ہے۔

گجرات ہائی کورٹ کا سابق آئی پی ایس سنجیو بھٹ پر درج ایف آئی آر منسوخ کرنے سے انکار

0
گجرات-ہائی-کورٹ-کا-سابق-آئی-پی-ایس-سنجیو-بھٹ-پر-درج-ایف-آئی-آر-منسوخ-کرنے-سے-انکار

احمد آباد: گجرات ہائی کورٹ نے 27 ساسل پرانے ڈرگ پلانٹنگ معاملہ میں انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) کے سابق عہدیدار سنجیو بھٹ کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کی عرضی جمعرات کو منسوخ کر دی۔

’سنجیو راجندر بھائی بھٹ بمقابلہ ریاست گجرات‘ میں بھٹ کی ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی اپیل شامل تھی۔ جسٹس سمیر دوے نے سنگل جج کی حیثیت سے صدارت کرتے ہوئے بھٹ کی ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا اور بھٹ کے وکیل کی درخواست کے باوجود فوری حکم یا مقدمے کی کارروائی کے اثر کو ایک ماہ کے لیے روک دیا۔ مقدمے کی سماعت روکنے کی درخواست پر جسٹس دوے نے ریمارکس دیئے کہ جب کبھی اسٹے ہی نہیں تھا تو میں کیسے روک سکتا ہوں، معذرت، کوئی روک نہیں۔‘‘

خیال رہے کہ یہ معاملہ 1996 کا ہے، جب راجستھان میں مقیم ایک وکیل کو بناسکانٹھا پولیس نے راجستھان کے پالن پور میں اس کے ہوٹل کے کمرے سے منشیات برآمد ہونے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ اس دوران بھٹ بناسکانٹھا میں پولیس سپرنٹنڈنٹ تھے لیکن گرفتاری کے بعد راجستھان پولیس نے الزام لگایا کہ بھٹ کی ٹیم نے جائیداد کے تنازعہ کے سلسلے میں وکیل کو غلط طریقے سے ہراساں کرنے کے لیے جھوٹا مقدمہ درج کیا تھا۔ بھٹ کو اس معاملے میں ستمبر 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ حراست میں ہیں۔

ایک الگ قانونی واقعہ میں سپریم کورٹ نے اس سال فروری میں بھٹ کی ایک عرضی کو خارج کر دیا۔ درخواست کا مقصد گجرات ہائی کورٹ کے جنوری 2023 کے فیصلے کو چیلنج کرنا تھا، جس نے مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کی آخری تاریخ 31 مارچ 2023 تک بڑھا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے درخواست کو ‘بے نتیجہ’ سمجھا اور بھٹ پر 10000 روپے کا جرمانہ عائد کیا۔

سنجیو بھٹ نریندر مودی حکومت پر اپنی زبانی تنقید کے لیے جانے جاتے ہیں۔ آئی پی ایس سے برطرفی سے قبل انہوں نے سپریم کورٹ کے سامنے ایک حلف نامہ داخل کیا تھا، جس میں 2002 کے گجرات فسادات میں اس وقت کی مودی کی قیادت والی گجرات حکومت پر ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ انہیں 2015 میں مرکزی وزارت داخلہ نے ڈیوٹی سے غیر مجاز غیر حاضری کی بنیاد پر ملازمت سے برخاست کر دیا تھا۔

کیرالہ: این سی ای آر ٹی کے ذریعہ ہٹائے گئے ابواب نصاب میں پھر ہوئے شامل، وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے بتائی وجہ

0
کیرالہ:-این-سی-ای-آر-ٹی-کے-ذریعہ-ہٹائے-گئے-ابواب-نصاب-میں-پھر-ہوئے-شامل،-وزیر-اعلیٰ-پینارائی-وجین-نے-بتائی-وجہ

این سی ای آر ٹی نے گیارہویں اور بارہویں درجہ کے کتابوں سے کچھ ابواب گزشتہ دنوں ہٹا دیا تھا، لیکن کیرالہ میں طلبا ان ہٹائے گئے ابواب کو بھی پڑھیں گے۔ دراصل کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے این سی ای آر ٹی کی کتابوں کے ساتھ گیارہویں اور بارہویں درجہ کے لیے ایڈیشنل کتابیں جاری کی ہیں۔ اس میں وہ ابواب بھی شامل ہیں جو مبینہ طور سے این سی ای آر ٹی کی کتابوں سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ کتابوں سے جو حصے ہٹائے گئے ہیں ان میں مہاتما گاندھی کے قاتلوں کا بیان ہے۔ یعنی گاندھی جی کے قاتلوں اور تنظیموں کی شبیہ کو وہائٹ واش کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ این سی ای آر ٹی نے ریشنلائزیشن کے نام پر 2023-24 کی کتابوں میں کئی بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ کچھ ابواب کو کتاب سے پوری طرح ہٹا دیے گئے ہیں۔ ریاست نے اس معاملے کو بہت ہی سنجیدگی سے لیا ہے۔ پینارائی وجین کے مطابق جن ابواب کو بچوں کو ضروری طور پر پڑھایا جانا چاہیے انھیں تاریخ، سیاسیات، معاشیات، سماجیات کی کتابوں میں ایڈیشنل طور پر جوڑا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے این سی ای آر ٹی کے ذریعہ ہٹائے گئے ابواب پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا کہ یہ ادارہ یکطرفہ فیصلہ لے رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کو دی جانے والی ابتدائی تعلیم کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہے۔ حالانکہ پورے ملک کو ایک ایجوکیشن پالیسی کی ضرورت ہے جس میں آئینی اقدار، سماجوادی نظریات، جنسی انصاف اور سائنسی روش جیسے موضوعات کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔ پینارائی وجین کا کہنا ہے کہ این سی ای آر ٹی نے ان ایشوز پر توجہ دینے کی جگہ ان ابواب کو ہٹا دیا جن میں سائنسی روش اور آئینی اقدار کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔ اس نصاب میں سے ایک باب مہاتما گاندھی کے قتل کا بھی ہٹایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سبھی کو پتہ ہے کہ گاندھی جی کو کس نے مارا تھا اور کون سی تنظیم اس کے پیچھے تھی۔ انھوں نے سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ کتابوں کے وزن کو کم کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس طرح کے ابواب کو ہٹایا جائے۔

سپریم کورٹ نے آبرو ریزی کیس میں سابق چیف سیکرٹری کی ضمانت کے خلاف درخواست خارج کر دی

0
سپریم-کورٹ-نے-آبرو-ریزی-کیس-میں-سابق-چیف-سیکرٹری-کی-ضمانت-کے-خلاف-درخواست-خارج-کر-دی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو انڈمان اور نکوبار جزائر کے سابق چیف سکریٹری جتیندر نارائن کو ایک خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے معاملے میں ہائی کورٹ سے دی گئی ضمانت کو چیلنج دینے والی درخواست کو خارج کردیا۔

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس احسن الدین امان اللہ کی بنچ نے کلکتہ ہائی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے حکام کو متاثرہ (21) کو خطرے کے کسی بھی اندیشے پر غور کرنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی، نچلی عدالت کو اس معاملے کی جلد سماعت کرنے کی ہدایت کی۔

سپریم کورٹ نے کلکتہ ہائی کورٹ کی پورٹ بلیئر سرکٹ بنچ کی طرف سے دی گئی ضمانت کے خلاف نکوبار انتظامیہ (ریاست) اور متاثرہ کی طرف سے دائر کی گئی اپیل کو خارج کر دیا۔ ملزم نارائن کو کلکتہ ہائی کورٹ کی پورٹ بلیئر سرکٹ بنچ نے 20 فروری کو ضمانت دے دی تھی۔

یکم اکتوبر 2022 کو ایف آئی آر درج ہونے کے بعد نارائن کو 10 نومبر 2022 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے وقت وہ دہلی فنانشل کارپوریشن کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ اس سے قبل انہیں حکومت نے 17 اکتوبر کو معطل کر دیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ایف آئی آر کا حکم دینے والے جج کو تلنگانہ ہائی کورٹ نے کیا معطل

0
چیف-الیکشن-کمشنر-کے-خلاف-ایف-آئی-آر-کا-حکم-دینے-والے-جج-کو-تلنگانہ-ہائی-کورٹ-نے-کیا-معطل

تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایم پی-ایم ایل اے کورٹ کے ایک جج کو معطل کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔ یہ حکم اس لیے جاری ہوا کیونکہ اس جج نے گزشتہ دنوں چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس جج کا نام جیہ کمار ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ جج کی معطلی کا فیصلہ ایڈمنسٹریٹو ہے۔

دراصل انتخابی کمیشن کے افسران نے چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر کی مخالفت میں ایک عرضی تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی تھی۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے جج کو معطل کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ جیوڈیشیل افسر نے بغیر کوئی ابتدائی جانچ کیے اور شکایت دہندہ کا بیان درج کیے ہی جلد بازی میں یہ کام کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے کہا کہ افسر نے اپنی ذمہ داریوں کو ٹھیک سے نہیں نبھایا، اس عمل میں سنگین غلطی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ راگھویندر راجو نامی ایک شخص نے سی آر پی سی کے سیکشن 200 کے تحت یہ معاملہ درج کرایا تھا۔ عدالت نے راجو کی شکایت کی بنیاد پر اس معاملے کو پولیس کے پاس بھیج دیا۔ 11 اگست کو تلنگانہ پولیس نے ریاست کے آبکاری وزیر وی شرینواس گوڑ، چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار اور دیگر افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔ شکایت دہندہ نے الزام عائد کیا تھا کہ گوڑ نے 2018 میں انتخاب لڑنے کے دوران کچھ چیزوں کو چھپانے کے لیے حلف نامہ میں چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ راگھویندر راجو نے کہا کہ وزیر کے ساتھ مل کر افسران نے بغیر کارروائی حلف نامہ کے معاملے کو بند کر دیا۔

توجہ طلب بات یہ ہے کہ شکایت دہندہ نے آبکاری وزیر کا نام ملزم کے طور پر پیش کیا تھا جبکہ چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار اور دیگر افسران کو شریک ملزم بنایا تھا۔ بہرحال، ذرائع نے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے ذریعہ سیشن کورٹ کے جج کو تلنگانہ سول سروس رول 1991 کے تحت معطل کیا گیا ہے۔

جنس تبدیل کرانا کسی بھی شخص کا آئینی حق ہے: الہ آباد ہائی کورٹ

0
جنس-تبدیل-کرانا-کسی-بھی-شخص-کا-آئینی-حق-ہے:-الہ-آباد-ہائی-کورٹ

الہ آباد: الہ آباد ہائی کورٹ نے جنس کی دوبارہ تفویض کو آئینی حق قرار دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر ہم جدید معاشرے میں اپنی شناخت کو تبدیل کرنے کے کسی فرد کو اس موروثی حق سے محروم کرتے ہیں یا اسے قبول نہیں کرتے تو ہم صرف ‘جینڈر آئیڈینٹی ڈس آرڈر سنڈروم’ کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

جسٹس اجیت کمار نے خاتون کانسٹیبل کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ جنس تبدیل کرنا کسی شخص کا آئینی حق ہے۔ جدید معاشرے میں کسی شخص کو اپنی شناخت بدلنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

ہائی کورٹ نے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ درخواست گزار کے جنس کی تبدیلی کے مطالبے کو جلد نمٹا دیں۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو حلف نامہ داخل کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 21 ستمبر کو ہوگی۔

وکیل کے مطابق ہائی کورٹ نے کہا کہ بعض اوقات ایسا مسئلہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ایسا شخص کھانے کی خرابی، بے چینی، ڈپریشن، منفی خود کی شبیہ اور کسی کی جنسی اناٹومی سے ناپسندیدگی کا شکار ہو سکتا ہے۔

اگر نفسیاتی اقدامات اس طرح کی تکلیف کو کم کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر سرجیکل مداخلت کی جانی چاہئے۔ اس معاملے میں درخواست گزار نے ہائی کورٹ کے سامنے استدعا کی کہ وہ جنس کی خرابی کا شکار ہے اور خود کو مرد کے طور پر شناخت کرتی ہے۔ وہ سیکس ری اسائنمنٹ سرجری کروانا چاہتی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں 11 مارچ کو پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو ایک درخواست دی گئی ہے لیکن ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ اس لیے اس نے یہ عرضی دائر کی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی بمقابلہ یونین آف انڈیا اور دیگر کے معاملے میں سپریم کورٹ کی طرف سے دیے گئے حکم کا حوالہ دیا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ درخواست کو روکنا مناسب نہیں ہے۔

چندریان-3 کے ذریعہ پوری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کرنے والے اِسرو کا کوئی بھی سائنسداں کروڑپتی نہیں!

0
چندریان-3-کے-ذریعہ-پوری-دنیا-میں-ہندوستان-کا-نام-روشن-کرنے-والے-اِسرو-کا-کوئی-بھی-سائنسداں-کروڑپتی-نہیں!

چندریان-3 کا لینڈر ماڈیول (ایل ایم) 23 اگست کی شام چاند کی سطح پر اتر گیا اور اس کے ساتھ ہی ہندوستان چاند کے جنوبی قطب پر پہنچنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔ چندریان-3 کی اس کامیابی نے پوری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کر دیا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ملک کا وقار بلند کرنے والے اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) کا کوئی بھی سائنسداں کروڑپتی نہیں ہے۔ جی ہاں، یہ انکشاف کیا ہے اِسرو کے سابق چیف جی. مادھون نایر نے۔

مادھون چندریان-3 کی کامیابی سے بے حد خوش ہیں اور انھوں نے اِسرو کے سائنسدانوں کو اس کے لیے مبارکباد بھی پیش کی ہے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس خلائی ایجنسی کے سائنسدانوں نے ترقی یافتہ ممالک کے سائنسدانوں کے پانچویں حصے کے برابر تنخواہ پا کر یہ تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ ساتھ ہی اِسرو کے سابق چیف یہ بھی کہتے ہیں کہ اِسرو میں سائنسدانوں کے لیے کم تنخواہ ایک سبب ہے کہ وہ خلائی تحقیق کے لیے کم لاگت والے سامان تلاش کر سکے۔

جی. مادھون نایر کا کہنا ہے کہ اِسرو کے سائنسدانوں میں کوئی کروڑپتی نہیں ہے اور وہ ہمیشہ بہت سادہ اور صبر والی زندگی گزارتے ہیں۔ وہ واقعی میں پیسے کے بارے میں فکرمند نہیں ہیں، بلکہ اپنے مشن کے تئیں جذباتی اور وقف ہیں۔ اسی طرح ہم نے زیادہ اونچائیاں حاصل کیں۔ نایر مزید کہتے ہیں کہ اِسرو کے سائنسداں محتاط منصوبہ اور طویل مدتی نظریہ کے ذریعہ اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم نے ماضی میں جو سیکھا ہے اسے اگلے مشن کے لیے استعمال کیا۔ واقعی میں ہم نے قطبی سیٹلائٹ لانچنگ طیارہ کے لیے تقریباً 30 سال قبل جو انجن تیار کیا تھا، وہی انجن جی ایس ایل وی کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

مادھون نایر بتاتے ہیں کہ ہندوستان اپنی خلائی مہموں کے لیے گھریلو تکنیک کا استعمال کرتا ہے اور اس سے انھیں لاگت کو بہت کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی خلائی مہم کی لاگت دیگر ممالک کی خلائی مہموں کے مقابلے میں 50 سے 60 فیصد کم ہے۔ نایر کا کہنا ہے کہ چندریان-3 کی کامیابی ہندوستان کے سیاروں کی تلاش شروع کرنے کے لیے پہلا قدم ہے اور یہ ایک بہترین شروعات ہے۔

اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی معیشت کے لیے خطرناک: آر بی آئی گورنر

0
اشیائے-خوردونوش-کی-قیمتوں-میں-مسلسل-اضافہ-مہنگائی-معیشت-کے-لیے-خطرناک:-آر-بی-آئی-گورنر

نئی دہلی: ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر شکتی کانت داس نے بدھ کے روز اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کو مہنگائی پر قابو پانے کی راہ میں خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے جھٹکوں کو کم کرنے کے لیے سپلائی کو بہتر بنانے کے لیے وقتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ داس نے کہا کہ سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کا جھٹکا قلیل المدتی ہے اور مانیٹری پالیسی موجودہ جھٹکے کے ابتدائی اثرات کو کم کرنے کا انتظار کر سکتی ہے۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ آر بی آئی محتاط رہے گا کہ جھٹکوں کے دوسرے دور کے اثرات کو باہر نہ آنے دیں۔ خوراک کی قیمتوں میں بار بار اضافے کا جھٹکا مہنگائی کی توقعات کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا مرحلہ ستمبر 2022 سے ہی شروع ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے جھٹکوں کی شدت اور دورانیہ کو کم کرنے کے لیے سپلائی سائیڈ سے متعلق مسلسل اور بروقت مداخلت بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آر بی آئی مہنگائی کو 4 فیصد پر رکھنے کے ہدف کے لیے پرعزم ہے اور ملک میں بلند شرح سود طویل عرصے تک برقرار رہنے والی ہے۔ گزشتہ سال فروری میں روس-یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے افراط زر میں اضافے کے درمیان آر بی آئی نے شرح سود کو مسلسل 6.50 فیصد تک بڑھایا ہے۔ آر بی آئی نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ایسا کیا ہے۔

چھتیس گڑھ: ’ای ڈی نے چھاپہ ماری نہیں کی بلکہ ڈکیتی ڈالی!‘ ونود ورما کا سنگین الزام

0
چھتیس-گڑھ:-’ای-ڈی-نے-چھاپہ-ماری-نہیں-کی-بلکہ-ڈکیتی-ڈالی!‘-ونود-ورما-کا-سنگین-الزام

رائے پور: ای ڈی نے بدھ کے روز چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کے سیاسی مشیر ونود ورما کی رائے پور میں واقع رہائش پر چھاپہ ماری کی۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ کے او ایس ڈی آشیش ورما اور منیش بانچھور کی بھیلائی میں واقع رہائش پر بھی چھاپہ ماری کی گئی۔ مرکزی ایجنسی کی اس کارروائی کے خلاف کانگریس نے شدید احتجاج کیا ہے۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آتے ہیں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے چھاپے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں اور ان کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے شروع کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس ریاست میں بی جے پی مقابلہ نہیں کر پاتی ہے وہ ای ڈی اور سی ڈی کے ذریعے الیکشن لڑتی ہے۔ چھتیس گڑھ، راجستھان اور جھارکھنڈ جیسی ریاستوں میں چند مہینوں میں انتخابات ہیں اور ان ریاستوں میں ای ڈی کی چھاپے ماری جاری ہے۔

دریں اثنا، وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کے سیاسی مشیر ونود ورما نے اس کارروائی کو ڈکیتی قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ورما نے کہا ’’ای ڈی کی چھاپہ ماری ایک ڈکیتی ہے۔ میرے گھر میں جو سامان موجود تھا، میں نے اس کے ثبوت، دستاویزات اور سورس دئے۔ پھر بھی ای ڈی کو لگا کہ ذرائع واضح نہیں ہیں۔

ونود ورما نے مزید کہا ’’میں نے اپنے گھر سے برآمد ہونے والے سونے کے تمام بل پیش کیے ہیں، پھر بھی ای ڈی نے یہ کہتے ہوئے تمام سونا لے لیا کہ یہ سونا کہاں سے خریدا گیا تھا اس بات کی تصدیق کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ وہ آئی پی آر اور سی آر پی سی کی نئی تعریف کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے کانگریس نے اس کارروائی کے خلاف پریس کانفرنس کرکے بی جے پی پر حملہ کیا تھا۔ چھتیس گڑھ پردیش کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے صدر سشیل آنند شکلا نے کہا کہ بی جے پی چھتیس گڑھ میں کانگریس اور وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کے ساتھ سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے، اس لیے وہ ای ڈی کو آگے بڑھا رہی ہے۔ کانگریس کی سیاسی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کے لیے آج ای ڈی کے چھاپے مارے گئے۔

جھارکھنڈ: ماؤنوازوں نے سڑک کی تعمیر میں مصروف 8 گاڑیوں کو کیا آگ کے حوالے

0
جھارکھنڈ:-ماؤنوازوں-نے-سڑک-کی-تعمیر-میں-مصروف-8-گاڑیوں-کو-کیا-آگ-کے-حوالے

رانچی: بھاری ہتھیاروں سے لیس ماؤنوازوں کے ایک دستے نے کل رات جھارکھنڈ کے پلامو ضلع کے مہوڈنڈ میں سڑک کی تعمیر کے مقام پر دھاوا بول دیا اور 8 گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ زیادہ تر گاڑیاں ایسی ہیں جو سڑک کی تعمیر میں استعمال ہو رہی تھیں۔ نکسلیوں نے سڑک کی تعمیر میں لگے اہلکاروں کو مارا پیٹا اور ہوا میں گولی چلا کر دہشت پھیلا دی۔

بتایا گیا کہ ضلع کے ہردیہ وادی، حسین آباد اور چھتر پور کے سرحدی علاقوں میں کھڑے جے سی بی، ہائیوا، ٹریکٹر، روڈ رولرس جل گئے۔ یہاں پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت چھتر پور کے کالاپہاڑ سے حسین آباد میں مہوڈنڈ سے کاربار تک سڑک بنائی جا رہی ہے۔

بدھ کی رات نکسلیوں کا ایک دستہ سڑک کی تعمیر کے مقام پر پہنچا اور منشی کو تلاش کیا اور مار پیٹ کرنے لگے۔ اس کے بعد انہوں نے سڑک کی تعمیر میں مصروف ایک گاڑی سے ڈیزل نکال کر وہاں کھڑی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ اطلاع ملنے پر پولیس کی ٹیم رات کو ہی جائے وقوعہ پر روانہ ہو گئی۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر ماؤنوازوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔

اطلاع مل رہی ہے کہ یہ واقعہ ممنوعہ نکسلی تنظیم سی پی آئی ماووسٹ کے نتیش اسکواڈ نے انجام دیا ہے۔ مہوڈنڈ میں پولیس پیکٹ کے قیام کے بعد علاقے میں نکسلائیٹس کی سرگرمیوں پر روک لگ گئی تھی لیکن ماؤنوازوں نے سڑک کی تعمیر کے کام میں خلل ڈال کر ایک بار پھر علاقے میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ چار سال قبل ماؤنوازوں نے اس سڑک پر بارودی مائن دھماکہ کے ذریعے 9 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔