بدھ, اپریل 1, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 165

بھاری نقصان کے پیش نظر ہماچل پردیش کی آفت کو قومی آفت قرار دیا جائے، پرینکا گاندھی کی مرکزی حکومت سے اپیل

0
بھاری-نقصان-کے-پیش-نظر-ہماچل-پردیش-کی-آفت-کو-قومی-آفت-قرار-دیا-جائے،-پرینکا-گاندھی-کی-مرکزی-حکومت-سے-اپیل

نئی دہلی: ہماچل پردیش میں بارش نے ریاست بھر میں تباہی مچا دی ہے۔ بارش سے ریاستی حکومت کو اب تک آٹھ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی جنرل سکریٹری اور ہماچل اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جیت میں کلیدی کردار ادا کرنے والی پرینکا گاندھی نے ہماچل پردیش میں ہونے والی تباہی کو قومی آفت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ پرینکا گاندھی نے اس مشکل وقت میں ہماچل پردیش کے لوگوں کے لیے دعا بھی کی۔

پرینکا گاندھی نے اس موقع پر ہماچل پردیش حکومت کے اقدامات کی بھی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات قابل ستائش اور حساس ہیں۔ پرینکا گاندھی نے لکھا ’’آفت کے اس مشکل وقت میں میری دعائیں ہماچل کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ کئی ریاستوں نے ہماچل پردیش کی مدد کے لیے قابل ستائش اور حساس قدم اٹھائے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سے اپیل ہے کہ اس سانحے سے ہونے والے بڑے نقصان کے پیش نظر ہماچل پردیش میں آنے والی آفت کو قومی آفت قرار دیا جائے، تاکہ اس آفت سے دوچار ہمارے بہن بھائیوں کو صحیح اور فوری ریلیف مل سکے۔ اس خوفناک آفت کے وقت تمام ہم وطنوں کو ہماچل پردیش کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ان کا حوصلہ بڑھانا چاہیے۔

خیال رہے کہ ہماچل پردیش کو 24 جون سے اب تک 8450.00 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ 2 ہزار 346 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ریاست میں 10 ہزار 135 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ 303 دکانیں اور 5 ہزار 48 جانوروں کے باڑے بھی تباہ ہوئے ہیں۔ 24 جون سے لے کر اب تک ریاست بھر میں 156 لینڈ سلائیڈنگ اور 63 سیلاب کے واقعات درج کیے گئے ہیں۔ ریاست میں 367 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جب کہ 40 لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ ریاست بھر میں بارشوں کے باعث مختلف واقعات میں 343 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اپوزیشن اتحاد ‘اِنڈیا’ کی میٹنگ اب اگست نہیں بلکہ ستمبر میں ہوگی، نتیش کمار نے نئی تاریخ کی دی جانکاری

0
اپوزیشن-اتحاد-‘اِنڈیا’-کی-میٹنگ-اب-اگست-نہیں-بلکہ-ستمبر-میں-ہوگی،-نتیش-کمار-نے-نئی-تاریخ-کی-دی-جانکاری

اپوزیشن اتحاد ‘اِنڈیا’ کی ممبئی میں ہونے والی میٹنگ کی تاریخ تبدیل ہو گئی ہے۔ میٹنگ 30 اور 31 اگست کو ممبئی میں مجوزہ تھی، لیکن اب یہ یکم ستمبر کو ہوگی۔ اس سلسلے میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پٹنہ میں جانکاری دی اور کچھ دیگر تفصیلات سے بھی مطلع کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکز کی بی جے پی حکومت کے خلاف 23 جون کو پہلی بار ملک بھر کی بی جے پی مخالف پارٹیوں کی پٹنہ میں میٹنگ کرانے والے نتیش کمار نے بتایا کہ بنگلورو کی دوسری میٹنگ میں جو کچھ طے پایا تھا، ممبئی کی میٹنگ میں اس سے آگے کی بات ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ بیشتر پارٹیوں کے لیڈران 31 اگست کو ہی ممبئی پہنچ جائیں گے اور اس کے اگلے دن، یعنی یکم ستمبر کو وہ میٹنگ میں شریک ہوں گے۔

نتیش کمار کا کہنا ہے کہ کئی طرح کے سوالات اس وقت اٹھائے جا رہے ہیں جن کا جواب سبھی پارٹی لیڈران کی رائے لینے کے بعد دیا جائے گا۔ نتیش کمار نے یہ بیان تب دیا جب ان سے میڈیا نے اپوزیشن اتحاد اِنڈیا کا کنویر بنائے جانے میں آر جے ڈی صدر لالو پرساد اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے کردار پر سوال کیا گیا۔ نتیش کمار سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا الگ الگ ریاستوں کو ذمہ داری دی جائے گی؟ اس پر نتیش کمار نے کہا کہ تیسری میٹنگ جب ممبئی میں ہوگی تو سبھی باتیں طے کی جائیں گی، اور پھر اس کی جانکاری میڈیا کو بھی دی جائے گی۔ میٹنگ سے پہلے کچھ بھی کہنا ٹھیک نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم مودی کو اس وقت تک ان کے جھوٹ کی یاد دلاتے رہیں گے جب تک وہ سچ نہیں بول دیتے: کانگریس

0
وزیر-اعظم-مودی-کو-اس-وقت-تک-ان-کے-جھوٹ-کی-یاد-دلاتے-رہیں-گے-جب-تک-وہ-سچ-نہیں-بول-دیتے:-کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے جمعہ کو کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ملک سے ان کے جھوٹ کی یاد دلاتی رہے گی جب تک کہ وہ اپنے ’ہماری زمین میں کوئی داخل نہیں ہوا‘ کے ریمارکس پر سچ نہیں بول دیتے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایک ٹوئٹ میں کہا ’’یاد رکھیں کہ وزیر اعظم نے 19 جون 2020 کو کیا کہا تھا۔ جب تک وزیر اعظم سچ نہیں بولیں گے، ہم قوم کو ان کے جھوٹ کو بار بار یاد دلائیں گے۔‘‘

انہوں نے وزیر اعظم کی ایک ویڈیو بھی منسلک کی جس میں وہ ایک آل پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’ہمارے علاقے میں کوئی داخل نہیں ہوا، کوئی وہاں نہیں ہے اور کسی نے بھی چوکی پر قبضہ نہیں کیا ہے۔‘‘

جے رام کا یہ ٹوئٹ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی طرف سے وزیر اعظم کے ریمارکس کو جھوٹ قرار دینے کے فوری بعد کیا گیا۔ راہل گاندھی نے کہا یہ جھوٹ ہے کیونکہ چین نے ہندوستان کی ہزاروں کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔

کرگل میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ’’لداخ ایک اسٹریٹجک مقام ہے اور یہاں آنے کے بعد خاص طور پر جب میں پینگونگ تسو جھیل پر تھا، یہ واضح ہے کہ چین نے ہندوستان کی ہزاروں کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا ہے اور یہ بدقسمتی ہے کہ وزیر اعظم مودی نے اپوزیشن کی میٹنگ میں کہا کہ لداخ میں کسی نے ایک انچ زمین نہیں لی، یہ جھوٹ ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا ’’لداخ میں ہر کوئی جانتا ہے کہ چین نے ہندوستان کی زمین لے لی ہے اور وزیر اعظم بولنے کو تیار نہیں ہیں۔‘‘ خیال رہے کہ کانگریس نے کئی مواقع پر چین کے معاملے پر وزیر اعظم کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔

چندریان-3: واہ، کیا نظارہ ہے! دھیرے دھیرے وکرم لینڈر سے چاند کی سطح پر اترا رووَر پرگیان، اِسرو نے جاری کی ویڈیو

0
چندریان-3:-واہ،-کیا-نظارہ-ہے!-دھیرے-دھیرے-وکرم-لینڈر-سے-چاند-کی-سطح-پر-اترا-رووَر-پرگیان،-اِسرو-نے-جاری-کی-ویڈیو

چندریان-3 کی کامیابی کو لے کر ہندوستانیوں اور سائنسدانوں میں دو دن بعد بھی جشن کا ماحول ہے۔ اِسرو کے سائنسدانوں کو ملی اس تاریخی کامیابی کے بعد اب انتظار ہے چاند کے کچھ اہم معموں کے حل ہونے کا۔ لیکن اس درمیان اِسرو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لگاتار چندریان-3 کی سرگرمیوں کو ویڈیوز اور تصویروں کی شکل میں ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے۔ کچھ گھنٹے پہلے اِسرو نے ایک انتہائی خوبصورت ویڈیو شیئر کی ہے جس میں رووَر پرگیان دھیرے دھیرے وکرم لینڈر سے چاند کی سطح پر اترتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

دراصل وکرم رووَر 23 اگست کو لینڈر ماڈیول کے چاند کی سطح پر اترنے کے کچھ گھنٹے بعد ہی وکرم لینڈر سے نکل کر چاند کی سطح پر اتر گیا تھا، لیکن اس کی ویڈیو اِسرو کے ذریعہ اب جاری کی گئی ہے۔ اس ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ رووَر پہیوں کے سہارے لینڈر سے اتر رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کہ کوئی ٹرین پٹریوں پر آگے کی طرف بڑھتی ہے۔ سامنے چاند کی سطح دکھائی دے رہی ہے جو کہ پوری طرح برابر ہے، یعنی لینڈر ماڈیول چاند پر جس جگہ اترا ہے وہ زیادہ اوبڑ کھابڑ نہیں ہے۔ رووَر کے چاند پر اترنے کا یہ نظارہ انتہائی خوبصورت ہے۔

بہرحال، آج چندریان-3 مشن کے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک دلچسپ تصویر بھی شیئر کی گئی ہے۔ اس تصویر میں چندریان-3 کا لینڈر چاند کی سطح پر بہت باریک دکھائی دے رہا ہے۔ آپ کے لیے یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ تصویر چندریان-2 کے آربیٹر (جو کہ چاند کے مدار میں موجود ہے) میں لگے کیمرے نے کھینچی ہے۔ اس تصویر کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ "آئی اسپائی آن یو (میں تم پر نظر رکھ رہا ہوں)۔ چندریان-3 کی یہ تصویر چندریان-2 کے آربیٹر میں لگے ہائی ریزولوشن کیمرے سے لی گئی ہیں۔” ٹوئٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ تصویر 23 اگست کو اس وقت لی گئی تھی جب چندریان-3 کے لینڈر ماڈیول نے چاند کی سطح پر قدم رکھا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ چندریان-3 کے لیے استعمال مشینیں اور کیمرے تو اس پورے مشن کا گواہ بن ہی رہے ہیں، ساتھ ہی چندریان-2 کا آربیٹر بھی اس تاریخی کامیابی کا گواہ بن رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین کی عبوری ضمانت میں یکم ستمبر تک کی توسیع

0
سپریم-کورٹ-نے-دہلی-کے-سابق-وزیر-ستیندر-جین-کی-عبوری-ضمانت-میں-یکم-ستمبر-تک-کی-توسیع

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعہ درج منی لانڈرنگ کیس میں طبی وجوہات کے پیش نظر عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دہلی حکومت میں سابق وزیر ستیندر جین کی عبوری ضمانت میں یکم ستمبر تک توسیع کر دی۔ مختصر سماعت میں جسٹس اے ایس بوپنا اور ایم ایم سندریش کی بنچ نے یہ حکم دیا۔

تاہم، جین کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے طبی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ عبوری ضمانت میں توسیع کی جانی چاہئے۔ ای ڈی کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے ایمس کے ڈاکٹروں کے ایک پینل سے جین کا طبی جائزہ لینے کی اپنی درخواست کو دہرایا۔

سپریم کورٹ نے 26 مئی کو جین کو اپنی پسند کے ایک نجی اسپتال میں ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کرانے کے لیے چھ ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دی تھی، جسے بعد میں وقتاً فوقتاً بڑھا دیا گیا۔ عدالت عظمیٰ کے سامنے یہ دلیل دی گئی کہ جین کو صحت کے سنگین مسائل ۃٰن اور ان کا وزن 30 کلو سے زیادہ کم ہو گیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے اس سال اپریل میں مرکزی ایجنسی کے ذریعہ زیر تفتیش منی لانڈرنگ کیس میں جین اور ان کے دو ساتھیوں کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔ جین گزشتہ سال 30 مئی سے حراست میں ہیں۔

منی پور تشدد سے منسلک کیسز کا ٹرائل گواہاٹی ہائی کورٹ میں ہی چلے گا، سپریم کورٹ نے جاری کیا حکم

0
منی-پور-تشدد-سے-منسلک-کیسز-کا-ٹرائل-گواہاٹی-ہائی-کورٹ-میں-ہی-چلے-گا،-سپریم-کورٹ-نے-جاری-کیا-حکم

منی پور میں نسلی تشدد کا آغاز ہوئے چار مہینے ہونے کو ہیں، لیکن اب تک ریاست میں حالات معمول پر نہیں آئے ہیں۔ تشدد کا اثر پوری ریاست میں وسیع پیمانے پر دیکھنے کو ملا اور کچھ مقامات سے اب بھی رہ رہ کر تشدد کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ الگ الگ مقامات پر ہوئے تشدد سے جڑی کئی عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھیں جس پر سماعت کو لے کر سپریم کورٹ نے 25 اگست کو ایک اہم حکم جاری کیا۔ تشدد سے جڑے کیس کے ٹرائل کی سماعت گواہاٹی ہائی کورٹ میں کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے گواہاٹی ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ سی بی آئی کی جانچ والے معاملوں کے لیے ایک یا اس سے زیادہ اسپیشل ججوں کی تقرری کرے۔ منی پور کے کئی عرضی دہندگان نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی کہ آسام یا میزورم جیسی ریاستوں میں ان کیسز کی سماعت نہ کی جائے کیونکہ اس سے کئی دقتیں پیدا ہوں گی۔ اسی کے پیش نظر جمعہ کے روز ہوئی سماعت میں سپریم کورٹ نے کئی اہم ہدایات دیں۔ سیکورٹی کو دیکھتے ہوئے اب ملزمین، گواہوں کی پیشی یا ریمانڈ سے متعلق سرگرمی آن لائن کی جا سکے گی تاکہ ان پر کوئی خطرہ پیدا نہ ہو۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے کہا کہ کوئی بھی عدالتی حراست منی پور میں ہی دی جانی چاہیے۔ علاوہ ازیں سی آر پی سی 164 کے تحت کوئی بھی بیان لوکل مجسٹریٹ کے سامنے درج کرانا ہوگا۔ منی پور کے تازہ حالات کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے الگ الگ معاملوں میں آن لائن سماعت کو توجہ دینے کے لیے کہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ متاثرہ فریق نے آسام میں ٹرائل کرانے کی مخالفت کی تھی، جبکہ حکومت کی طرف سے دلیل پیش کی گئی تھی کہ آسام میں بہتر کنکٹیویٹی ہے اس لیے وہاں ٹرائل کی بات کہی گئی ہے۔ حالانکہ اب گواہاٹی ہائی کورٹ سے ریاست میں ہی تمام معاملوں کی سماعت کرنے کو کہا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے یقین دلایا گیا ہے کہ وہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب کرائی جائے گی تاکہ سماعت میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔

وزیر اعلیٰ سورین ای ڈی کے سمن کو منسوخ کرنے کی درخواست لے کر سپریم کورٹ پہنچے

0
وزیر-اعلیٰ-سورین-ای-ڈی-کے-سمن-کو-منسوخ-کرنے-کی-درخواست-لے-کر-سپریم-کورٹ-پہنچے

نئی دہلی: جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین نے جمعہ کو ‘منی لانڈرنگ’ معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے سمن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ اپنی درخواست میں سورین نے ای ڈی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ سمن ان کی شبیہ، جمہوری طور پر منتخب جھارکھنڈ حکومت اور وہاں کے لوگوں کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے دیگر درخواستوں کے علاوہ منی لانڈرنگ کیس میں اپنے خلاف جاری سمن کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ای ڈی نے منی لانڈرنگ کیس میں پوچھ گچھ کے لیے سورین کو دو بار بلایا تھا، لیکن وہ نہیں پہنچے۔ ای ڈی ریاست میں منی لانڈرنگ کے دو بڑے معاملات کی جانچ کر رہی ہے۔ پہلا معاملہ ریاست میں غیر قانونی کانکنی سے متعلق ہے۔ ایجنسی نے گزشتہ سال 17 نومبر کو کانکنی معاملے میں سورین سے پوچھ گچھ کی تھی۔

دوسرا معاملہ ریاستی دارالحکومت رانچی میں مبینہ زمین گھوٹالے سے متعلق ہے۔ مبینہ زمین کے معاملے میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) افسر سی رنجن اور دو تاجروں سمیت تیرہ افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مرکزی تحقیقاتی ایجنسی ای ڈی نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے سورین کو 14 اگست کو رانچی میں واقع اپنے علاقائی دفتر میں بلایا تھا۔ انہوں نے اسے ‘سیاسی طور پر محرک’ کیس قراردیا اورای ڈی کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے سمن پر سوال اٹھایا تھا اور ایجنسی سے اسے واپس لینے کو کہا تھا۔

تاہم ایجنسی نے سورین کے دعووں کو مسترد کر دیا اور دوسرا سمن جاری کرتے ہوئے ایجنسی کے سامنے پیش ہونے کو کہا تھا۔

نئے سروس قانون کی جانچ کرے گی سپریم کورٹ، دہلی حکومت کی درخواست پر مرکز کو نوٹس

0
نئے-سروس-قانون-کی-جانچ-کرے-گی-سپریم-کورٹ،-دہلی-حکومت-کی-درخواست-پر-مرکز-کو-نوٹس

نئی دہلی: دہلی حکومت اب افسران کے ٹرانسفر اور پوسٹنگ معاملہ کو لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ اس کے بارے میں دہلی حکومت نے نئے این سی ٹی ڈی (ترمیمی) ایکٹ، 2023 کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ یہ قانون پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیا جا چکا ہے۔ اس بل کو منظور کرانے کے لیے 131 ارکان پارلیمنٹ نے حق میں ووٹ دیا جبکہ 102 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ اس کے بعد صدر نے رضامندی دے دی ہے۔

اب سپریم کورٹ اس نئے سروس قانون کا جائزہ لے گا۔ دہلی حکومت کی درخواست پر مرکز کو نوٹس بھیج کر چار ہفتوں میں جواب مانگا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے دہلی حکومت کی آرڈیننس کی عرضی میں ترمیم کر کے قانون کو چیلنج کرنے والی عرضی کو منظور کر لیا۔

مرکز کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے درخواست پر کہا کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ دراصل دہلی حکومت نے پہلے 19 مئی کے آرڈیننس کو چیلنج کیا تھا، جس پر سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی تھی۔ دریں اثنا، مرکز نے بل پیش کیا اور پارلیمنٹ نے اسے اگست میں منظور کیا۔

اس کے بعد صدر دروپدی مرمو نے 12 اگست کو اس پر دستخط کیے اور یہ قانون بن گیا۔ ہندوستانی اتحاد نے قومی دارالحکومت میں سروسز کنٹرول قانون کی سخت مخالفت کی۔ اس کے ساتھ ہی دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ٹوئٹ کیا کہ یہ صرف دہلی کے لوگوں کو غلام بنانے کی کوشش ہے۔

چین کے زمین ہتھیانے پر سچ نہیں بول رہے وزیر اعظم مودی! کرگل ریلی سے راہل گاندھی کا خطاب

0
چین-کے-زمین-ہتھیانے-پر-سچ-نہیں-بول-رہے-وزیر-اعظم-مودی!-کرگل-ریلی-سے-راہل-گاندھی-کا-خطاب

لیہ (لداخ): کرگل کا دورہ کر رہے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ ہندودستان کی ہزار کلومیٹر زمین چین نے چھین لی ہے اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودیی نے اس معاملہ میں حزب اختلاف کے ساتھ اجلاس میں جھوٹ بولا۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے یہ اطلاع دی ہے۔

لداخ کے دورے کے تحت کرگل پہنچے راہل گاندھی نے کہا کہ لداخ ایک اسٹریٹیجک جگہ ہے۔ ایک بات تو واضح ہے کہ چین نے بھارت کی زمین چھین لی ہے۔ چین نے ہم سے ہزاروں کلومیٹر زمین چھین لی ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نے اپوزیشن کے اجلاس میں کہا کہ ہندوستان کا ایک انچ بھی کسی نے نہیں لیا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ لداخ کا ہر فرد جانتا ہے کہ چین نے لداخ کی زمین لے لی ہے اور وزیر اعظم سچ نہیں بول رہے ہیں۔

راہل گاندھی ان دنوں لداخ کے دورے پر بائیک سے سفر کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ "کچھ مہینے پہلے، ہم کنیا کماری سے کشمیر تک پیدل گئے تھے۔ اسے ‘بھارت جوڑو یاترا’ کا نام دیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ملک میں بی جے پی آر ایس ایس کی طرف سے پھیلائی گئی نفرت اور تشدد کے خلاف کھڑا ہونا تھا۔ ملک میں بھائی چارہ، محبت پھیلانے کی کوشش کی، یاترا سے جو پیغام آیا وہ تھا- ‘ہم نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے نکلے ہیں۔’ حال ہی میں، میں نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا۔‘‘

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ یاترا سری نگر میں رکنے کے لیے نہیں تھی۔ یاترا لداخ میں آنی تھی۔ اس وقت موسم سرما اور برف باری تھی، انتظامیہ نے کہا تھا کہ ہم لداخ نہ آئیں۔ ہم نے اس کی بات مان لی۔ لیکن دل میں تھا کہ لداخ بھی جانا چاہیے۔ میں نے ایک چھوٹا سا قدم اٹھایا۔ پیدل نہیں بلکہ موٹرسائیکل پر گئے اور لوگوں سے بات کی۔

بٹن کہیں بھی دباؤ، ووٹ کمل کو جائے گا، آئے گا تو مودی ہی! بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے بیان سے کھلبلی

0
بٹن-کہیں-بھی-دباؤ،-ووٹ-کمل-کو-جائے-گا،-آئے-گا-تو-مودی-ہی!-بی-جے-پی-رکن-پارلیمنٹ-کے-بیان-سے-کھلبلی

حیدرآباد: کیا مرکز کی بی جے پی حکومت الیکشن جیتنے کے لیے ای وی ایم کو ہیک کرواتی ہے؟ کیا بی جے پی نے مختلف ریاستوں میں الیکشن جیتنے کے لیے ای وی ایم کو ہیک کیا؟ یہ سوال اب سختی سے پوچھا جا رہا ہے کیونکہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کمار نے ایک بیان دے کر کھلبلی مچا دی ہے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ کوئی بھی بٹن دبائیں لیکن ووٹ کمل کو ہی جائے گا۔ ان کے اس بیان سے اپوزیشن کے الزامات کو مزید تقویت ملی ہے۔ بی جے پی ایم پی ڈی اروند کمار کا بیان آپ نیچے دیے گئے ویڈیو لنک میں دیکھ سکتے ہیں۔

ڈی اروند کمار نے اپنے حلقہ انتخاب نظام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’’اگر آپ اپنا ووٹ نوٹا کو دیں گے تو بھی میں ہی جیتوں گا۔ اگر آپ (بی آر ایس) کو ووٹ دیں تو بھی میں جیتوں گا۔اگر آپ ہاتھ (کانگریس) کو بھی ووٹ دیں گے تو بھی کمل (بی جے پی) ہی جیتے گا۔ جیتے گاا تو مودی ہی!

بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کمار کے اس بیان سے سیاست گرم ہوگئی ہے۔ اپوزیشن بی جے پی سے سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا بی جے پی نے ای وی ایم کو ہیک کرنے کا منصوبہ بنایا ہے؟ کیا بی جے پی نے الیکشن جیتنے کے لیے پہلے بھی ای وی ایم کو ہیک کیا تھا؟ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے یہ بیان ایسے وقت دیا ہے جب اگلے سال تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ لوک سبھا کے انتخابات بھی اگلے سال ہونے والے ہیں۔ کئی سالوں سے اپوزیشن ای وی ایم کو ختم کرنے اور بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کا مسلسل مطالبہ کر رہی ہے۔