بدھ, اپریل 1, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 163

مدھیہ پردیش: شیوراج چوہان نے 3 وزرا کو کابینہ میں شامل کیا

0
مدھیہ-پردیش:-شیوراج-چوہان-نے-3-وزرا-کو-کابینہ-میں-شامل-کیا

بھوپال: مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل آج وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے تین وزراء کو شامل کرتے ہوئے کابینہ کی توسیع کی، جس میں گوری شنکر بسن اور راجندر شکلا کابینی وزیر اور راہل سنگھ لودھی بطور وزیر مملکت بنائے گئے ہیں۔

گورنر منگو بھائی پٹیل نے راج بھون میں منعقدہ ایک مختصر اور باوقار تقریب میں تینوں نو تعینات وزراء کو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ چوہان کے علاوہ کئی عوامی نمائندے، چیف سکریٹری اقبال سنگھ بینس اور سینئر افسران موجود تھے۔

اسمبلی انتخابات سے عین قبل علاقائی، ذات پات اور سیاسی توازن کے مقصد سے نئے وزراء کو حلف دلایا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ کے علاوہ اب کابینہ میں وزراء کی تعداد 33 ہو گئی ہے۔ اس میں 25 کابینی وزیر اور آٹھ وزرائے مملکت شامل ہیں۔ 230 رکنی ریاستی اسمبلی میں مقررہ معیار کے مطابق وزیر اعلیٰ سمیت زیادہ سے زیادہ 35 وزراء ہو سکتے ہیں۔ اس طرح اب بھی ایک جگہ خالی ہے۔

وندھیا سے تعلق رکھنے والے راجندر شکلا ریوا اسمبلی سیٹ کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس سے پہلے وزیر رہ چکے ہیں۔ مہا کوشل زون سے آنے والے تقریباً 70 سالہ گوری شنکر بسین، بالاگھاٹ اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ پہلے بھی وزیر رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ راہل لودھی، جو سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی کے قریبی رشتہ دار ہیں، بندیل کھنڈ کی کھڑگاپور اسمبلی سیٹ سے ایم ایل اے ہیں اور سال 2018 میں پہلی بار ایم ایل اے بنے ہیں۔

انہیں ریاستی وزیر بنا کر دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) برادری کو راغب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ریاست میں آنے والے نومبر-دسمبر مہینے میں اسمبلی انتخابات کی تجویز ہے۔ تاہم ابھی تک انتخابی پروگرام طے نہیں ہوا ہے۔

دہلی پولیس کے لیے نئی سوشل میڈیا گائیڈ لائنز جاری، ریل پر دی گئی سخت ہدایت

0
دہلی-پولیس-کے-لیے-نئی-سوشل-میڈیا-گائیڈ-لائنز-جاری،-ریل-پر-دی-گئی-سخت-ہدایت

نئی دہلی: دہلی پولیس کمشنر سنجے اروڑہ نے جمعہ کو پولیس اہلکاروں کے لیے سوشل میڈیا گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔ انہوں نے ایک ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ وہ یونیفارم کے وقار کو برقرار رکھیں اور ریل یا ویڈیو کے لیے کسی سامان یا لوازمات کا استعمال نہ کریں۔

نئی گائیڈ لائنز کے مطابق پولیس اہلکاروں کو کسی زیر التوا مقدمے یا مشتبہ یا گرفتار شخص سے متعلق کوئی بھی خفیہ معلومات پر تبصرہ، پوسٹ یا شیئر نہیں کرنا چاہیے۔

کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکار تحریری اجازت کے بغیر محکمہ جاتی تربیت، سرگرمیوں یا فرائض سے متعلق کوئی بیان، تصویر یا ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ نہ کریں۔ اس کے علاوہ ایسے کسی بھی تبصرے کو پوسٹ کرنے سے گریز کریں جو متاثرین، مشتبہ افراد یا کسی گروپ کے لیے توہین آمیز ہو۔

گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نابالغ یا جنسی ہراسانی کی شکایت کرنے والے کی شناخت ظاہر کرنا غیر قانونی ہے۔ پولیس اہلکاروں کے لیے کسی محفوظ شخص یا اعلیٰ حفاظتی علاقے/ احاطے کی تصاویر یا ویڈیوز کو ریکارڈ اور منتقل کرنا غیر قانونی ہے۔

پولیس کمشنر نے کہا کہ ڈسپلنڈ فورس کا رکن ہونے کے ناطے پولیس اہلکاروں کو سوشل میڈیا پر ایسی کوئی بھی پوسٹ نہیں کرنی چاہیے جو ملکی مفاد یا داخلی سلامتی کے خلاف ہو۔

ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے پوسٹ کیا جانے والا مواد غیر قانونی، فحش، تضحیک آمیز، دھمکی آمیز یا دانشورانہ املاک کے حقوق کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس اہلکاروں اور افسران کو ایسی کوئی بھی پوسٹ نہیں کرنی چاہیے جس سے طرز عمل کی خلاف ورزی ہو۔

اس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی گروہ یا فورم میں ان کی شرکت غیر قانونی ہے اگر وہ کسی بھی مذہب، ذات، نسل یا ذیلی ذات کو فروغ دیتی ہو۔ پولیس اہلکاروں پر کسی سیاسی موضوع کے خلاف یا کسی بھی سوشل میڈیا مہم کا حصہ بننے پر بھی پابندی ہے۔

ایسی کئی مثالیں ہیں جہاں آپریشنل کوریج کے لیے پولیس اہلکاروں کے موبائل فون اور کیمرے استعمال کیے گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر حساس مواد اپ لوڈ کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایسی کوئی بھی تصویر یا ویڈیو صرف سرکاری استعمال کے لیے ہونی چاہیے۔

دہلی میں اختیارات پر تنازع جاری! ’وزرا کی بات نہیں سن رہے چیف سکریٹری‘ آتشی نے ایل جی سے کی شکایت

0
دہلی-میں-اختیارات-پر-تنازع-جاری!-’وزرا-کی-بات-نہیں-سن-رہے-چیف-سکریٹری‘-آتشی-نے-ایل-جی-سے-کی-شکایت

نئی دہلی: دہلی حکومت میں وزیر برائے سروسز اینڈ ویجیلنس آتشی نے جمعہ کو لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے دہلی کے چیف سکریٹری نریش کمار پر منتخب حکومت کے حکم کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

خط میں آتشی نے لکھا ’’چیف سکریٹری نے اپنے نوٹ میں جی این سی ٹی ڈی ترمیمی ایکٹ کی دفعہ 45 جے (5) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جی این سی ٹی ڈی ایکٹ سے سیکشن 3 اے کو حذف کرنے کے باوجود ‘سروسز اینڈ ویجیلنس’ سے متعلق تمام معاملات پر موثر انتظامی اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہوں گے نہ کہ منتخب حکومت کے پاس! دہلی حکومت اس قانونی تشریح کو درست نہیں مانتی۔‘‘

آتشی نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ جی این سی ٹی ڈی (ترمیمی) ایکٹ، 2023 سروسز اس سلسلے میں صرف لیفٹیننٹ گورنر کو مخصوص اختیارات دیتا ہے، جو صرف نیشنل کیپیٹل سول سروسز اتھارٹی کی سفارشات پر ایل جی استعمال کر سکتا ہے۔ انہوں نے خط میں اس بات پر بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ نے بھی دہلی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ این سی ٹی ڈی کو خدمات پر قانون سازی اور انتظامی اختیارات حاصل ہیں۔

دہلی کی سروسز منسٹر آتشی نے ایل جی ونے سکسینہ سے خط میں اس معاملے پر نظر ثانی کی اپیل کرتے ہوئے ان کی رائے بھی مانگی ہے۔ آتشی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ نظم و نسق، زمین اور پولیس کو چھوڑ کر دہلی کی وزارتی کونسل آرٹیکل 239اے اے کی شق (3) اور (4) کے تحت ریاستی فہرست یا کنکرنٹ لسٹ میں شامل تمام معاملات کے سلسلے میں ہندوستان کے آئین کے مطابق ، ایگزیکٹو پاور کا استعمال کرتی ہے اور ایل جی ان کے علاوہ تمام معاملات میں وزارتی کونسل کو مشورہ دے سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ دہلی میں خدمات پر کنٹرول اور حقوق کو لے کر مرکز اور اروند کیجریوال حکومت کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چل رہا ہے۔ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچ گیا۔ مئی میں سپریم کورٹ نے دہلی حکومت کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ‘سروسز’ پر صرف منتخب حکومت کو قانون سازی اور انتظامی اختیارات حاصل ہوں گے۔ تاہم، اس کے بعد مرکزی حکومت نے ایک آرڈیننس متعارف کراتے ہوئے ایل جی کو خدمات کا کنٹرول دے دیا۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں آرڈیننس کی جگہ لینے والے دہلی سروسز بل کو بھی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری مل گئی۔ صدر کے دستخط سے نیا قانون بھی نافذ ہو گیا ہے۔

جموں و کشمیر: بانڈی پورہ میں ملی ٹنٹ ماڈیول کا پردہ فاش، ہائی برڈ ملی ٹینٹ گرفتار

0
جموں-و-کشمیر:-بانڈی-پورہ-میں-ملی-ٹنٹ-ماڈیول-کا-پردہ-فاش،-ہائی-برڈ-ملی-ٹینٹ-گرفتار

سری نگر: پولیس نے شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں ایک ہائی برڈ جنگجو کو گرفتار کرکے پاکستان نشین ملی ٹنٹوں کی طرف سے ملی ٹنسی کو بحال کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔

ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پولیس نے 26 آسام رائفلز اور سی آر پی ایف کی تیسری بٹالین کی مدد سے شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں دہشت گردی کے ایک ماڈیول کا پردہ فاش کیا اور ضلع میں دہشت گردی کو زندہ کرنے کے لئے پاکستان نشین دہشت گرد ہینڈلرز کے مذموم عزائم کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔

انہوں نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا: ’25 اگست کو ایک ہائبرڈ دہشت گرد کی نقل و حرکت کے بارے میں جموں وکشمیر پولیس کے ذریعے تیار کردہ مخصوص ان پٹ کی بنیاد پر پولیس اسٹیشن پیٹھ کوٹ کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقے درد گنڈ میں مشترکہ طور پر ایک ناکہ لگا دیا گیا’۔

ان کا کہنا تھا: ‘ناکہ پر سیکورٹی فورسز کو دیکھتے ہی ایک مشتبہ شخص نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اس کو دھر لیا گیا تلاشی کے دوران اس کی تحویل سے ایک پستول، ایک پستول میگزین، 8 گولیاں اور کچھ قابل اعتراض مود بر آمد کیا گیا’۔

بیان میں گرفتار شدہ کی شناخت شفاعت زبیر ریشی ساکن نسہ بل سمبل کے بطور کی گئی۔ پولیس بیان میں کہا گیا کہ پوچھ تاچھ کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ منیرہ بیگم زوجہ مہلوک جنگجو اور ائیریا کمانڈر یوسف چوپان نامی خاتون سے اسلحہ و گولہ بارود حاصل کرنے کے لئے پزال پورہ جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا: ‘ملزم پاکستان نشین ٹیرر ہینڈلر مشتاق احمد میر کے ساتھ رابطے میں تھا جو سال 1999 میں پاکستان چلا گیا تھا اور وہیں سے ضلع میں دہشت گردی کو بحال کرنے کے لئے کام کر رہا ہے’۔

پولیس بیان میں کہا گیا: ‘وہ سال 2000 میں کوٹھی باغ میں ہوئے آئی ای ڈی دھماکے میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں 12 پولیس اہلکاروں سمیت 14 افراد کی موت واقع ہوئی تھی اور پہلے کالعدم تنظیم حزب المجاہدین کے ساتھ وابستہ تھا اور بعد میں البدر نامی جنگجو تنظیم کے ساتھ وابستہ ہوا تھا’۔

بیان میں کہا گیا: ‘شفاعت زبیر ریشی سال 2009 میں سمبل میں ایک فوجی گاڑی کو نذر آتش کرنے میں بھی ملوث تھا اور اس کیس میں ضمانت پر رہا ہے’۔

موصوف پولیس ترجمان نے کہا: ‘مزید بر آں منیرہ بیگم کے انکشاف پر اسلحہ و گولہ بارود کی ایک کھیپ جس میں ایک اے کے 47 رائفل، 3 میگزین، 90 گولیاں، 1 پین پستول کو ایک جنگل علاقے سے بر آمد کیا گیا جو شفاعت ریشی کو سپرد کرنا تھا’۔ انہوں نے کہا: ‘تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ منیرہ بھی دو بار پاکستان گئی ہے’۔

ان کا کہنا تھا: ‘شفاعت ریشی نے دوران پوچھ تاچھ یہ بھی تسلیم کیا کہ اس کو دہشت گردی کی بحالی کے لئے 47 لاکھ روپیے حاصل کرنے تھے بعد میں اس رقم پاکستان نشین ہینڈلر مشتاق احمد میر کے ہدایات پر کسی کو دینی تھی’۔ پولیس نے اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت ایک کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہیں۔

‘ای وی ایم ہیک کر کے جیتتی ہے الیکشن‘ سامنا میں بی جے پی پر حملہ، الیکشن کمیشن کو بتایا کٹھ پتلی

0
‘ای-وی-ایم-ہیک-کر-کے-جیتتی-ہے-الیکشن‘-سامنا-میں-بی-جے-پی-پر-حملہ،-الیکشن-کمیشن-کو-بتایا-کٹھ-پتلی

ممبئی: شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) نے اپنے ترجمان ’سامنا‘ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر حملہ کیا ہے۔ سامنا کے اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ بی جے پی ای وی ایم کو ہیک کرکے الیکشن جیتتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن کو بھی نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اب الیکشن کمیشن سے کچھ امید نہیں رکھی جا سکتی۔ ای وی ایم کے ساتھ حکمراں پارٹی نے الیکشن کمیشن کو بھی ہیک کیا ہے۔

اداریے میں لکھا گیا ہے کہ سچ کو جتنا بھی دبانے کی کوشش کی جائے، وہ لاوے کی طرح نکلتا ہے۔ بی جے پی ایم پی ڈی اروند نے کہا ہے کہ ووٹر کوئی بھی بٹن دبائیں، ووٹ صرف بی جے پی کو جائے گا! اس کا سیدھا مطلب ہے کہ بی جے پی ای وی ایم کو ہیک کرکے الیکشن جیتتی ہے۔

الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے ترجمانن لکھتا ہے کہ الیکشن کمیشن اب منصفانہ نہیں رہا۔ وہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کا کام کرنے والا ہی بن چکا ہے۔ الیکشن کمیشن میں ‘گجرات ماڈل’ افسران کو لا کر ان سے جو چاہیں، اچھا یا برا کرایا جا رہا ہے۔ مہاراشٹرا میں جس طرح شیو سینا اور کمان اور تیر کے نشانات شندے دھڑے کو سونپے گئے، اس سے اس من مانی پر مہر لگ گئی ہے۔

سامنا مزید لکھتا ہے کہ آج بی جے پی ای وی ایم سے محبت دکھا رہی ہے لیکن ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہو سکتی ہے، اس کا ثبوت بی جے پی نے دیا۔ بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی تو ‘ای وی ایم گھوٹالہ’ پر ایک مقالہ لکھ کر اس کے خلاف سپریم کورٹ تک گئے تھے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، یورپ، جاپان، جرمنی، بنگلہ دیش، فرانس جیسے ممالک نے ای وی ایم کو ہٹا دیا ہے لیکن عوام کا اعتماد کھو چکی مودی حکومت ‘ناقابل اعتماد’ ای وی ایم کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی صرف لوک سبھا انتخابات میں ای وی ایم کا استعمال کرتی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ مودی-شاہ کو ریاستوں کے اقتدار میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ای وی ایم گھوٹالہ کو لوک سبھا الیکشن جیتنے کا واحد فارمولہ بنایا گیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ای وی ایم میں دیے گئے ووٹ پر ووٹر کا شک جمہوریت کی شکست ہے۔ اگر الیکشن کمیشن ان شکوک و شبہات کا ازالہ نہیں کر سکتا کہ ہم نے کس کو ووٹ دیا اور امیدوار کو ملا یا نہیں تو پھر بی جے پی کی ان کٹھ پتلیوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ الیکشن کمیشن کو بی جے پی کے دفتر میں تبدیل کرنا درست ہوگا۔

سامنا کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ ای وی ایم گھوٹالہ کا اعتراف کر رہے ہیں لیکن ملک کا الیکشن کمیشن اسے سکون سے برداشت کر رہا ہے۔ اگر آج ٹی این شیشن ہوتے تو وہ ای وی ایم کے گودام پر بلڈوزوزر چلوا دیتے اور جمہوریت کی حفاظت کرتے۔

پارلیمنٹ میں پیش 83 فیصد بلوں کو نظرثانی کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے پاس نہیں بھیجا گیا: رپورٹ

0
پارلیمنٹ-میں-پیش-83-فیصد-بلوں-کو-نظرثانی-کے-لیے-پارلیمانی-کمیٹی-کے-پاس-نہیں-بھیجا-گیا:-رپورٹ

راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے 18 اگست کو تین بلوں کو نظر ثانی کے لیے اسٹینڈنگ پینل برائے امور داخلہ کو بھیج دیا۔ پی آر ایس لیجسلیٹو ریسرچ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار سالوں میں نظرثانی کے لیے بھیجے گئے بلوں کی کل تعداد 37 ہے۔ پینل کو بھیجے گئے 37 بلوں میں سے 6 وزارت صحت اور خاندانی بہبود کے ہیں اور 5 وزارت داخلہ کے ہیں۔

پی آر ایس کے اعداد و شمار کے مطابق 17ویں لوک سبھا میں کل 210 بل پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے تھے لیکن ان میں سے صرف 37 بل پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے نظرثانی کے لیے بھیجے گئے۔ یعنی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بلوں میں سے صرف 17 فیصد ہی نظرثانی کے لیے بھیجے گئے اور 83 فیصد بلوں کو نظر ثانی کے لیے نہیں بھیجا گیا۔

جس میں اسسٹڈ ری پروڈکٹو ٹیکنالوجی (ریگولیشن) بل 2020، بجلی (ترمیمی) بل 2022، انڈین سول ڈیفنس کوڈ 2023، انڈین جسٹس کوڈ 2023، انڈین ایویڈینس بل 2023، حیاتیاتی تنوع (ترمیم) 2021 اور ایئرپورٹس اکنامک اتھارٹی بل 2021 شامل ہیں۔

اس کے علاوہ بجلی (ترمیمی) بل 2022، فیکٹرنگ ریگولیشن (ترمیمی) بل 2020، جنگلات (کنزرویشن) ترمیمی بل 2023، صنعتی تعلقات کوڈ 2019، دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن کوڈ (دوسری ترمیم) بل 2019، انٹرگنائزیشن آرگنائزیشن بل 2019۔ کنٹرول اینڈ ڈسپلن) بل 2023، پبلک ٹرسٹ (ترمیمی دفعات) بل 2022 اور الائیڈ اینڈ ہیلتھ کیئر پروفیشنز بل 2018 بھی پینل کو بھیج دیا گیا ہے۔

واضح کریں کہ 17 ویں لوک سبھا کے دوران پیش کیے جانے والے 210 بلوں میں سے کل 62 قوانین بنائے گئے تھے جن میں تخصیص (منی) بل اور وزارت خزانہ کا فنانس بل شامل ہیں۔ دوسری جانب وزارت داخلہ کی جانب سے 25 قوانین بنائے گئے اور وزارت قانون نے 16 بل پاس کر کے قوانین بنائے۔

اس کے علاوہ وزارت صحت نے 15 اور قبائلی امور کی مرکزی وزارت نے نو قوانین بنائے۔ 8 مرکزی وزارتوں نے ایک ایک بل اور نو وزارتوں نے دو دو بل پارلیمنٹ میں پیش کئے۔

پی آر ایس لیجسلیٹیو ریسرچ کے مطابق، 16ویں لوک سبھا میں 25 فیصد بل پارلیمانی کمیٹیوں کو بھیجے گئے تھے۔ 15ویں لوک سبھا میں 71 فیصد اور 14ویں لوک سبھا میں 60 فیصد بل نظرثانی کے لیے بھیجے گئے تھے۔

لکھنؤ-رامیشورم ٹورسٹ ٹرین میں آگ لگنے کا اندوہناک واقعہ، 10 افراد ہلاک

0
لکھنؤ-رامیشورم-ٹورسٹ-ٹرین-میں-آگ-لگنے-کا-اندوہناک-واقعہ،-10-افراد-ہلاک

مدورائی: تمل ناڈو کے مدورائی ریلوے اسٹیشن پر ہفتہ کی صبح ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ یہاں ایک مسافر ٹرین کے کوچ میں آگ لگنے سے کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ 20 دیگر افراد شدید زخمی ہیں۔ ریلوے ذرائع نے بتایا کہ یہ واقعہ لکھنؤ-رامیشورم ایکسپریس میں پیش آیا۔ سدرن ریلوے نے حادثے میں مرنے والوں کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا دینے کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ تمام 10 متاثرین اتر پردیش کے رہنے والے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ جس کوچ میں آگ لگی اس میں کل 55 مسافر سوار تھے۔

رپورٹ کے مطابق مدورائی اسٹیشن پر ٹورسٹ ٹرین کے ایک ڈبے میں اچانک زبردست آگ لگ گئی۔ یہ واقعہ ہفتہ کی صبح تقریباً 5 بجے پیش آیا، جب لکھنؤ-رامیشورم ٹورسٹ ٹرین کے کچھ مسافر کوچ کے اندر چائے بنانے لگے۔ حادثہ ایل پی جی سلنڈر پھٹنے سے پیش آیا۔ فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پالیا ہے۔

آگ پر قابو پانے کے لیے کئی فائر ٹینڈرز موقع پر بھیجے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین نمبر 16730 (پنالور-مدورائی ایکسپریس) کی کوچ صبح 3.47 بجے مدورائی ریلوے اسٹیشن پر پہنچی۔ جمعہ کو ناگرکوئل جنکشن پر پرائیویٹ پارٹی کوچز کو شامل کیا گیا۔ پارٹی کوچ کو الگ کر دیا گیا اور مدورائی اسٹیبلنگ لائن پر رکھا گیا۔

معلومات کے مطابق، حادثے کا شکار ہونے والے کوچ کے مسافروں نے 17 اگست کو لکھنؤ سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ وہ اتوار کو ٹرین نمبر 16824 کولم-چنئی-ایگمور-اننت پوری ایکسپریس کے ذریعے لکھنؤ جانا چاہتے تھے۔

سدرن ریلوے کے چیف پبلک ریلیشن آفیسر بی گگنشن نے بتایا کہ تمل ناڈو میں ٹرین میں آگ لگنے کے واقعے میں 10 افراد ہلاک اور 20 دیگر زخمی ہوئے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو دس دس لاکھ روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسافروں کے ڈبے میں گیس سلنڈر غیر قانونی طور پر لائے گئے تھے۔ جس کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی۔

ٹیچر کا دوسرے بچوں سے مسلم بچے کی پٹائی کروانا بی جے پی-آر ایس ایس کی نفرت بھری سیاست کا نتیجہ: کھڑگے

0
ٹیچر-کا-دوسرے-بچوں-سے-مسلم-بچے-کی-پٹائی-کروانا-بی-جے-پی-آر-ایس-ایس-کی-نفرت-بھری-سیاست-کا-نتیجہ:-کھڑگے

مظفرنگر: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک اسکول کی ویڈیو سے ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ راہل گاندھی کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی اس پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کھڑگے نے کہا ’’ٹیچر جس طرح سے ایک بچے کو دوسرے بچوں سے پٹوا رہی ہے وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی پریشان کن سیاست کا نتیجہ ہے۔

مظفرنگر ضلع میں منصورپور کے ایک گاؤں کی اس ویڈیو میں خاتون ٹیچر اپنی کلاس میں ایک بچے کو پہاڑا یاد نہ کرنے پر کلاس کے دوسرے بچوں سے پٹوا رہی ہے۔ یہی نہیں پیٹ پیٹنے والا بچہ مسلسل روتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود استاد کو کوئی ترس نہ آیا۔ وہ ایک ایک کر کے بچوں کو بلاتی اور متاثرہ بچے کو تھپڑ لگواتی نظر آتی ہے۔ یہ ویڈیو منصور پور تھانہ علاقے کے کھبا پور گاؤں میں نیہا پبلک اسکول چلانے والی ٹیچر ترپتا تیاگی کا ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے ٹوئٹ کیا ’’یوپی کے اسکول میں جس طرح ایک ٹیچر نے مذہبی امتیاز کر کے ایک بچے کو دوسرے بچوں سے پٹوایا ہے، وہ آر ایس ایس-بی جے پی کی نفرت انگیز سیاست کا پریشان کن نتیجہ ہے۔ ایسے واقعات دنیا میں ہماری شبیہ پر کالک پوت دییتے ہیں۔ یہ آئین کے خلاف ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’سماج میں برسراقتدار جماعت کی تقسیم کاریی کی سوچ کا زہر اتنا گھل گیا ہے کہ ایک طرف ایک تعلیم دینے والی ٹیچر ترپتا تیاگی بچپن میں ہی مذہبی دشمنی کا سبق پڑھا رہی ہے تو دوسری طرف تحفظ دینے والا آر پی ایف جوان، چیتن کمار مذہب کے نام پر بے قصوروں کی جان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔‘‘

جے رام رمیش نے لکھا ’’کسی بھی طرح کی مذہبی کٹرتا اور تشدد ملک کے خلاف ہے۔ قصورواروں کو بخشنا ملک کے خلاف جرم ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ اس معاملہ میں فوری طور پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور سزا دی جانی چاہئے تاکہ کوئی اور ایسا زہر گھولنے سے قبل سو بار سوچے۔‘‘

چندریان 3 نے جس مقام پر لینڈنگ کی اسے اب ’شیو شکتی پوائنٹ‘ کے نام سے جانا جائے گا، اسرو میں وزیر اعظم مودی کا اعلان

0
چندریان-3-نے-جس-مقام-پر-لینڈنگ-کی-اسے-اب-’شیو-شکتی-پوائنٹ‘-کے-نام-سے-جانا-جائے-گا،-اسرو-میں-وزیر-اعظم-مودی-کا-اعلان

بنگلورو: وزیر اعظم نریندر مودی بنگلورو میں اسرو ہیڈکوارٹر پہنچے اور یہاں چندریان-3 کے سائنسدانوں سے ملاقات کی۔ اس دوران اسرو کے سائنسدانوں سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی بھی جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا ’’آج آپ کے درمیان آنا بہت خوشی کی بات ہے۔ آج میرا جسم اور دماغ خوشی سے بھر گئے ہیں۔ میں جلد از جلد آپ سے ملنا چاہتا تھا۔ آپ سب کو سلام کرنا چاہتا تھا۔‘‘

پی ایم مودی نے بتایا کہ جس مقام پر چندریان 3 کا مون لینڈر اترا تھا، اسے اب ‘شیو شکتی’ پوائنٹ کے نام سے جانا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ جہاں چندریان-2 نے اپنے قدموں کے نشان چھوڑے ہیں، اسے ‘ترنگا’ کے نام سے جانا جائے گا۔ جبکہ 23 اگست کو، جس دن چندریان-3 چاند پر پہنچا، ہندوستان اب اس دن کو ‘نیشنل اسپیس ڈے’ کے طور پر منائے گا۔

سائنسدانوں نے اسرو کمانڈ سینٹر میں پی ایم مودی کو چندریان کا مکمل ماڈل دکھایا۔ انہیں چندریان 3 مشن کے نتائج اور پیش رفت کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ اسرو میں سائنسدانوں سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا ‘‘ہندوستان اب چاند پر ہے، جس کے لیے میں آپ کو سلام کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کے صبر اور طاقت کو سلام کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے میں یہاں آنے کا بے صبر سے انتظار تھا۔‘‘

پی ایم مودی نے کہا ’’آج جب ہر گھر ترنگا ہے، جب ہر ذہن ترنگا ہے اور چاند پر بھی ترنگا ہے۔ پھر ترنگے سے جڑے چندریان-2 کی اس جگہ کو اور کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے چاند پر وہ جگہ جہاں چندریان-2 نے اپنے قدموں کے نشان چھوڑے تھے اب اسے ترنگا کہا جائے گا۔ یہ ترنگا پوائنٹ ہمیں سکھائے گا کہ کوئی بھی ناکامی حتمی نہیں ہوتی۔ پختہ ارادہ ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’ہندوستان آج چاند کی سطح کو چھونے والا دنیا کا چوتھا ملک ہے۔ یہ کامیابی اور بھی بڑی ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان نے یہ سفر کہاں سے شروع کیا تھا۔ ایک وقت تھا جب ہندوستان کے پاس صحیح ٹیکنالوجی بھی نہیں تھی۔ پہلے ہمارا شمار تیسری دنیا کے ملک میں ہوتا تھا۔ وہاں سے نکلنے کے بعد آج ہندوستان دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گیا ہے۔ آج خلا سے لے کر ٹیکنالوجی تک ہندوستان کا شمار پہلی صف کے ممالک میں کیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اسرو جیسے اداروں کی وجہ سے تیسری صف سے پہلی قطار تک پہنچے ہیں۔ اسرو آج میک ان انڈیا کو چاند پر لے گیا ہے۔‘‘

اسرو کے سائنسدانوں کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا، "میں ہم وطنوں کو آپ کی محنت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ چاند کے قطب جنوبی تک چندریان کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔ چاند کے لینڈر کی سافٹ لینڈنگ کو یقینی بنانے کے لیے، اس کے لیے ہمارے سائنسدانوں نے اسرو میں مصنوعی چاند بھی بنایا، مون لینڈر کا کئی بار تجربہ کیا گیا، اس کے بعد ہی اسے چاند پر بھیجا گیا۔ آج جب میں دیکھ رہا ہوں کہ ہندوستان کی نوجوان نسل سائنس، خاص اور اختراعات میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اتنی توانائی سے بھرا ہوا ہے تو اس کے پیچھے ہمارے سائنسدانوں کی کامیابی ہے، آج ہندوستان چھوٹے بچوں کے ہونٹوں پر چندریان کا نام ہے، آج ہندوستان کا ہر بچہ اپنا مستقبل آپ سائنسدانوں میں دیکھ رہا ہے، اسی لیے آپ کی کامیابی صرف ایسا نہیں ہے کہ آپ نے چاند پر ترنگا لہرایا، آپ کا ایک اور کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے ذریعے ہندوستان کی پوری نسل کو بیدار کیا، آپ نے اس نسل کو نئی توانائی دی، وہ دیکھے گا کہ وہ یقین کرے گا کہ جس ہمت سے میرا ملک چاند پر پہنچ گیا ہے، اتنی ہی ہمت اس بچے میں ہے۔‘‘

پارلیمنٹ میں ‘غدر 2’ کی نمائش! جے رام رمیش نے کہا- ’خود ساختہ وشواگرو نے ہندوستانی جمہوریت کو ’مضحکہ خیز تھیٹر‘ میں تبدیل کر دیا!‘

0
پارلیمنٹ-میں-‘غدر-2’-کی-نمائش!-جے-رام-رمیش-نے-کہا-’خود-ساختہ-وشواگرو-نے-ہندوستانی-جمہوریت-کو-’مضحکہ-خیز-تھیٹر‘-میں-تبدیل-کر-دیا!‘

نئی دہلی: سنی دیول کی فلم ’غدر 2‘ کی نمائش پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں کئے جانے پر کانگریس نے مودی حکومت پر حملہ کیا ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کی اداکاری والی فلم ‘غدر 2’ کی نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں نمائش کی خبروں پر کانگریس نے کہا ’’ہندوستانی سیاست کو تماشہ میں تبدیل کرنے کے بعد اب ’خود ساختہ وشواگورو‘ ہندوستانی جمہوریت کو مضحکہ خیز تھیٹر میں تبدیل کر رہے ہیں!‘‘

کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے ایک ٹوئٹ میں کہا ’’نئے ہندوستان میں سیاست کو تماشہ میں تبدیل کرنے کے بعد خود ساختہ وشوا گرو اب ہندوستانی جمہوریت کو مضحکہ خیز تھیٹر میں بدل رہے ہیں، وہ بھی نئی پارلیمنٹ میں!‘‘

انہوں نے کہا کہ فلم میں مرکزی کردار میں ایک بی جے پی ایم پی ہیں جو بینک آف بڑودہ کو 56 کروڑ روپے کے واجبات ادا کرنے میں ناکام رہے، جس نے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں اپنی کارروائی واپس لے لی۔

راجیہ سبھا ایم پی رمیش نے ایک خبر کو منسلک کرتے ہوئے کہا، "پارلیمنٹ میں غیر حاضری کا ایک قابل ذکر ریکارڈ رکھنے والا رکن پارلیمنٹ۔ ہماری جمہوریت ہر گزرتے دن کے ساتھ جس گہرائی میں ڈوب رہی ہے وہ شرمناک ہے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں بہتر کاروبار کر رہی غدر 2 کی 25 اگست سے نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں نمائش کی جا رہی ہے۔ فلم کی پارلیمنٹ ہاؤس میمں نمائش گزشتہ روز صبح 11 بجے شروع ہوئی اور یہ 3 دن تک جاری رہے گی۔ نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں لوک سبھا ممبران کے لیے ہر روز پانچ شو ہوں گے۔