بدھ, اپریل 1, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 162

’کے سی آر اور بی جے پی دوست ہیں، دونوں کے درمیان خفیہ معاہدہ‘، تلنگانہ میں کھڑگے نے اختیار کیا جارحانہ رخ

0
’کے-سی-آر-اور-بی-جے-پی-دوست-ہیں،-دونوں-کے-درمیان-خفیہ-معاہدہ‘،-تلنگانہ-میں-کھڑگے-نے-اختیار-کیا-جارحانہ-رخ

تلنگانہ میں اسمبلی انتخاب قریب ہے، اور اس تعلق سے سبھی پارٹیوں کی تیاریاں زوروں پر چل رہی ہیں۔ کانگریس نے بھی ریاست میں انتخابی تشہیر شروع کر دی ہے اور آج کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے انتہائی جارحانہ انداز میں ریاست کی کے سی آر حکومت اور مرکز کی مودی حکومت پر حملہ آور نظر آئے۔ انھوں نے ہفتہ کے روز ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے. چندرشیکھر راؤ (کے سی آر) اور بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور دونوں کے درمیان خفیہ معاہدہ ہو چکا ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے تلنگانہ کی عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے آپ لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں۔ تلنگانہ عوام کی وجہ سے اور کانگریس لیڈران کی وجہ سے بنا، لیکن اس کا کریڈٹ ایک آدمی لے رہا ہے۔ کیا تب کے سی آر کے پاس اتنی طاقت تھی؟ ہم نے انھیں طاقت دی۔ سونیا گاندھی نے انھیں طاقت دی۔‘‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کے سی آر اور وہ (بی جے پی) دوست بن گئے ہیں۔ یہ اندرونی دوستی ہے، اس بارے میں وہ کھل کر نہیں بول سکتے۔

کانگریس صدر نے اس موقع پر راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ جو بھی وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں۔ کانگریس عوام کے لیے کام کرنا چاہتی ہے، لیکن بی جے پی کہتی ہے کہ ہم نے گزشتہ 53 سال میں کچھ نہیں کیا۔ وہ ہم سے رپورٹ کارڈ دکھانے کو کہتے ہیں۔ کھڑگے کہتے ہیں کہ ’’آج کل امت شاہ جی پوچھ رہے ہیں کہ کانگریس نے 53 سال میں کیا کچھ کیا؟ کانگریس نے آزادی کے بعد 562 ریاستوں کو ملک میں ملایا۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے ملک کو متحد کیا۔ ملک کو آئین بابا صاحب امبیڈکر اور کانگریس نے دیا۔ آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، ایمس، اِسرو اور ڈی آر ڈی او یہ سب پنڈت جواہر لال نہرو اور کانگریس کی دین ہے۔‘‘

اس درمیان کھڑگے نے وعدہ کیا کہ جو زمین درج فہرست ذات (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) سے چھین لی گئی ہے، اسے پھر سے واپس دیں گے۔ کرناٹک میں قانون بنا کر زمینوں کو واپس کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں سب ایک ہو کر بی جے پی کی حکومت کو نکالنے کے لیے تیار ہیں، لیکن کے سی آر نے کبھی نہیں کہا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ یہاں پر سیکولر کہتے ہیں اور اندر میں بی جے پی سے سانٹھ گانٹھ کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد کے سی آر کو ہٹانا ہے۔ کھڑگے نے ساتھ ہی بتایا کہ 30 اگست کو کرناٹک کے میسور میں راہل گاندھی کے ساتھ گرہ لکشمی یوجنا شروع کریں گے۔ اس منصوبہ کے تحت کانگریس کی ریاستی حکومت غریب کنبہ کی خواتین کو ہر مہینے دو ہزار روپے دے گی۔

بی جے پی لیڈر کے متنازعہ بیان پر ہنگامہ، قومی اقلیتی کمیشن نے مدھیہ پردیش حکومت سے مانگا جواب

0
بی-جے-پی-لیڈر-کے-متنازعہ-بیان-پر-ہنگامہ،-قومی-اقلیتی-کمیشن-نے-مدھیہ-پردیش-حکومت-سے-مانگا-جواب

مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخاب قریب آتے ہی بی جے پی لیڈروں کے بول بگڑنے لگ گئے ہیں۔ کوئی دعویٰ کر رہا ہے کہ ای وی ایم میں کوئی بھی بٹن دباؤ لیکن جیت تو بی جے پی کی ہی ہوگی، اور کوئی بی جے پی کے علاوہ کسی دوسری پارٹی کو ووٹ نہیں دینے کی بات کہہ رہا ہے۔ ان بیانات پر تنازعہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ تازہ معاملہ بھوپال کے سابق میئر اور ریاستی بی جے پی کے نائب صدر آلوک شرما کا ہے جنھوں نے کچھ دن قبل مسلم ووٹرس سے کہا تھا کہ آپ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے ہیں تو پھر کسی کو ووٹ نہ دیں۔

آلوک شرما کے اس بیان پر قومی اقلیتی کمیشن نے مدھیہ پردیش حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ کمیشن نے ریاستی حکومت سے مبینہ متنازعہ بیان کی جانچ کرانے کی سفارش کی ہے اور اگلے تین ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ دراصل گزشتہ ہفتے آلوک شرما کو جورا اسمبلی حلقہ میں بی جے پی کارکنان کے ایک جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے اقلیتی طبقہ کے لوگوں سے یہ کہتے سنا گیا تھا کہ ’’اگر آپ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے ہیں تو پھر کسی کو بھی ووٹ نہ کریں۔‘‘

آلوک شرما کی تقریر کے اس حصے پر مشتمل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ اس سے انتخابی ریاست میں سیاسی تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ ویڈیو میں آلوک شرما کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’میں جاورا کے اپنے مسلم بھائیوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ شرما کو ووٹ نہیں دینا چاہتے ہیں تو مت دیجیے، لیکن میری آپ سے گزارش ہے کہ ایسی حالت میں آپ بالکل بھی ووٹ کرنے نہ جائیں۔ آپ اس بات کو دل سے قبول کریں کہ آپ جس گھر میں رہ رہے ہیں، وہ آپ کو وزیر اعظم رہائش منصوبہ کے تحت دیا گیا ہے۔ یاد رکھیں کہ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے مدھیہ پردیش میں ایک حج ہاؤس بھی بنوایا۔‘‘

مدھیہ پردیش کانگریس میڈیا سیل کے ترجمان اور نائب صدر عباس حفیظ نے شرما کے تبصرہ پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اسے اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو دھمکانے کی کوشش بتایا تھا۔ حافظ نے اس کے بعد اقلیتی کمیشن کو خط لکھ کر دعویٰ کیا تھا کہ آلوک شرما کے تبصرہ سے واضح ہے کہ بی جے پی اقلیتی طبقہ کے لوگوں کے درمیان خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس لیے اقلیتی کمیشن کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ کمیشن نے اس معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے مدھیہ پردیش کی شیوراج حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’’قومی اقلیتی کمیشن کو عباس حفیظ سے ایک شکایت ملی ہے۔ گزارش ہے کہ اس معاملے کی جانچ کریں اور آئندہ 21 دنوں میں رپورٹ جمع کریں۔‘‘

بی جے پی نے بھوپال شمال اسمبلی سیٹ سے آلوک شرما کو امیدوار مقرر کیا ہے جہاں 55 فیصد آبادی اقلیتی طبقہ کی ہے۔ 2018 میں اس سیٹ سے کانگریس کے عارف عقیل انتخاب جیتے تھے۔ وزیر اعلیٰ چوہان کے قریبی مانے جانے والے آلوک شرما 2008 میں اسی سیٹ سے انتخاب لڑے تھے۔ حالانکہ وہ اس انتخاب میں بھی عقیل سے کثیر ووٹوں کے فرق سے ہار گئے تھے۔

مشن سورج: چندریان-3 کے بعد اِسرو ’آدتیہ ایل 1‘ کے ذریعہ نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، بس 7 دنوں کا انتظار

0
مشن-سورج:-چندریان-3-کے-بعد-اِسرو-’آدتیہ-ایل-1‘-کے-ذریعہ-نئی-تاریخ-رقم-کرنے-کے-لیے-تیار،-بس-7-دنوں-کا-انتظار

چاند پر فتح حاصل کرنے کے بعد اب اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) سورج کو مٹھی میں کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا ہے۔ ابھی چندریان-3 کی کامیابی کا جشن ختم بھی نہیں ہوا ہے، لیکن ’آدتیہ ایل 1‘ کی لانچنگ کے لیے 2 ستمبر کی تاریخ کا اعلان ہو گیا ہے۔ یعنی چندریان-3 کے بعد اِسرو ’آدتیہ ایل 1‘ کے ذریعہ نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہے، اور اس مشن کی لانچنگ میں اب محض 7 دن باقی رہ گئے ہیں۔ 2 ستمبر کو جب اِسرو اپنا پہلا مشن سورج لانچ کرے گا تو پوری دنیا کی نگاہیں آندھرا پردیش کے شری ہری کوٹا واقع ستیش دھون اسپیس سنٹر پر مرکوز ہوں گی، کیونکہ یہیں سے ’آدتیہ ایل 1‘ کو لانچ کیا جائے گا۔ آئیے یہاں ہم کچھ پوائنٹس میں اس مشن کی اہمیت و افادیت اور ’آدتیہ ایل 1‘ کی کارگزاریوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایل 1 سے کیا مراد ہے؟

  • ایل 1 کا مطلب ہے لیگرینج پوائنٹ 1۔

  • دراصل 1772 میں فرانس کے ریاضی داں جوسف لوئس لیگرینج نے اس پوائنٹ کی دریافت کی تھی، اس لیے اسے لیگرینج پوائنٹ کہتے ہیں۔

  • لیگرینج پوائنٹ ایسے پوائنٹ کو کہتے ہیں جو خلاء میں دو سیاروں کے درمیان ہوتے ہیں، مثلاً سورج اور زمین کے درمیان کا ایک خاص مقام۔

  • اس پوائنٹ پر سورج اور زمین کا کشش ثقل برابر ہوتا ہے، اس لیے یہاں موجود خلائی طیارہ مستحکم رہتا ہے اور بہت کم ایندھن خرچ کر کے چیزوں کا مطالعہ کرتا ہے۔

  • اس پوائنٹ پر سورج گہن کا اثر نہیں پڑتا۔

  • لیگرینج پوائنٹ 1 زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کی دوری پر ہے اور اسی لیگرینج پوائنٹ 1 سے ہندوستان کا مشن سورج یعنی آدتیہ ایل 1 سورج کے بارے میں تحقیق کرے گا۔

5 سال تک سورج کا مطالعہ کرے آدتیہ ایل 1:

  • یہ پہلا ہندوستانی مشن ہوگا جو سورج کا مطالعہ کرے گا۔

  • اس مشن کے دوران شمسی طوفانوں کا بھی مطالعہ کیا جائے گا۔

  • سورج سے جو لپٹیں نکلتی ہیں، ان کے بارے میں جانکاری حاصل کی جائے گی۔

  • سورج کی طرف سے جو بھی ذرات یا شعاعیں زمین پر آتی ہیں، ان پر تحقیق کی جائے گی۔

  • سورج کے باہری احاطہ کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کی کوشش ہوگی۔

  • شمسی طوفان کے زمین پر ہو رہے اثرات کو ڈیکوڈ کیا جائے گا۔

آدتیہ ایل 1 کس طرح کام کرے گا؟

  • آدتیہ ایل 1 میں 7 پے لوڈ یعنی خاص مشینیں لگی ہوں گی۔

  • یہ مشینیں سورج کی شعاعوں کی جانچ الگ الگ طرح سے کریں گی۔

  • شمسی طوفانوں سے متعلق شماریات کی جائیں گی۔

  • آدتیہ ایل 1 میں ایچ ڈی (ہائی ڈیفنشن) کیمرے لگے ہوں گے۔

  • سورج کی ہائی ریزولوشن تصویریں دیگر ڈاٹا کے ساتھ ہمیں بھیجی جائیں گی۔ اس ڈاٹا پر اِسرو کے سائنسداں بعد میں تحقیق کریں گے۔

آدتیہ ایل 1 اور اس کا بجٹ:

  • پہلی مرتبہ 2016 میں مشن سورج کے لیے 3 کروڑ روپے کا تجرباتی بجٹ دیا گیا۔

  • آدتیہ ایل 1 کے لیے 2019 میں 378 کروڑ روپے کا بجٹ جاری کیا جس میں لانچنگ کا خرچ شامل نہیں تھا۔

  • بعد میں لانچنگ کے لیے 75 کروڑ روپے کا بجٹ فراہم کیا گیا۔

  • مجموعی طور پر آدتیہ ایل 1 مشن پر اب تک مجموعی طور پر 456 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ یعنی کئی ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلموں سے بھی آدتیہ ایل 1 کا بجٹ کم ہے۔

کھباپور گاؤں سے گراؤنڈ رپورٹ: بات صرف پٹائی کی نہیں بلکہ مذہبی تفریق کی ہے، اسی لیے برداشت نہیں ہو رہا!

0
کھباپور-گاؤں-سے-گراؤنڈ-رپورٹ:-بات-صرف-پٹائی-کی-نہیں-بلکہ-مذہبی-تفریق-کی-ہے،-اسی-لیے-برداشت-نہیں-ہو-رہا!

3000 کی آبادی والے کبھاپور گاؤں میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 800 ہے۔ گرام پردھان پال سماج سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن گاؤں کو ’تیاگیوں‘ کے کھباپور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ گاؤں میں بچوں کی پٹائی کے بعد مشہور ہوئی ٹیچر ترپتا تیاگی کے علاوہ بچے کے والد بھی تیاگی سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا نام ارشاد تیاگی ہے۔ دونوں سماج کی گاؤں میں برابر کی آبادی ہے۔ ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک ہیں۔ مذہب الگ الگ ضرور ہے، لیکن ذات ایک ہی ہونے کے سبب آپسی بھائی چارہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ارشاد کے گھر کھڑے یوسف تیاگی کہتے ہیں کہ ترپتا تیاگی ہماری برادری کی بہن ہے، وہ بچوں کی علامتی پٹائی کر سکتی تھیں۔ پہلی بات تو یہ کہ دوسرے بچوں سے پٹوانا ہی نہیں چاہیے تھا، اور پھر ’محمڈن‘ لفظ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا، اس نے دل کو گہری چوٹ پہنچائی ہے۔

یوسف تیاگی کا کہنا ہے کہ گاؤں کا معاملہ دیکھتے ہوئے کل مقامی لوگوں نے متاثرہ کے والد ارشاد کو سمجھا کر سمجھوتہ بھی کرا دیا تھا، لیکن کچھ باتوں کو سننے کے بعد ہم کارروائی چاہتے ہیں۔ یہ بات اب ایک اسکول اور ایک ٹیچر کی نہیں رہ گئی ہے، بلکہ حوصلہ شکنی کی ہے۔ اگر یہاں سے ہم خاموش بیٹھ جاتے ہیں تو ہمارے بچے احساس کمتری کا شکار ہو جائیں گے۔

یہ الگ بات ہے کہ پولیس نے اس معاملے میں این سی آر درج کی ہے۔ اس میں پولیس گرفتاری نہیں کرتی ہے۔ ارشاد تیاگی کہتے ہیں کہ پہلے تو ایک بار سمجھوتہ ہی کرا دیا تھا، یہ تو اس کے بعد پولیس نے خود ہی مقدمہ درج کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی دباؤ کے سبب یہ کیا گیا ہے۔ اب انتظامیہ جو بھی کارروائی کرے گی، یہ ان پر منحصر کرتا ہے۔ میں تو بس یہی کہہ رہا ہوں کہ اس سب کے درمیان میرے بچے کے ذہن پر جو اثر پڑ رہا ہے، وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ ہم اپنے بچوں کو اس لیے پڑھا رہے ہیں کیونکہ وہ قابل آدمی بنے اور سماج و ملک کا نام روشن کرے۔ لیکن جو کچھ اس کے ساتھ ہوا ہے وہ حوصلہ کمزور کرنے والا ہے۔ میں اپنے بچوں کی ہمت ٹوٹنے نہیں دوں گا۔ میں کوشش کروں گا کہ وہ یہ سب بھول جائے۔

ارشاد تیاگی کسان ہیں اور آج صبح ہی ان سے آر ایل ڈی چیف جینت چودھری، کاگنریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بھی فون پر بات کی ہے۔ ارشاد بتاتے ہیں کہ تمام لوگ بات کر رہے ہیں اور ملنے بھی آ رہے ہیں۔ لیکن میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھے یہیں رہنا ہے اور بھائی چارہ قائم رہنا چاہیے۔ میں ان سبھی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سبھی نے مجھے یہ احساس کرایا ہے کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔ ایک رکن اسمبلی چندن چوہان نے میرے فون پر جینت چودھری سے بات کرائی جس میں انھوں نے میرے بچوں کو دوسرے اسکول میں داخلہ کرانے کی بھی بات کہی۔ میرا بچہ ابھی صرف 7 سال کا ہے، اس کے ساتھ واقعی زیادتی ہوئی ہے۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ ٹیچر ترپتا تیاگی کو سخت سزا ملے بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ کسی بھی دوسرے بچوں کے ساتھ اس طرح کا کوئی تفریق نہ ہو۔

کھباپور، منصور پور تھانہ حلقہ کا ایک گاؤں ہے۔ اس میں آپ کو شاہ پور روڈ پر تقریباً 5 کلومیٹر چلنا پڑتا ہے۔ گاؤں میں بیشتر کسان ہیں۔ جس اسکول ’نیہا پبلک اسکول‘ کی ٹیچر کے ذریعہ پٹائی کی بحث ہو رہی ہے، گاؤں میں اس نام کا اسکول نہیں ہے۔ دبی زبان میں ایک نوجوان بتاتا ہے کہ پاس کے ایک گاؤں گھاسی پورہ میں اس نام کا اسکول ہے، وہ یہاں سے دو کلومیٹر دور ہے۔ یہاں جو بچے پڑھ رہے ہیں وہ وہیں ایڈجسٹ کیے گئے ہیں۔ مظفر نگر کے بی ایس اے معاملے کے طویل پکڑنے کے بعد اسی گاؤں میں جانچ کرنے پہنچے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں اس پوائنٹ کے بارے میں اطلاع ملی ہے اور اس کی بھی جانچ کریں گے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی گاؤں میں کسی طرح کا کوئی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں ہے۔ گاؤں کے چندرپال کہتے ہیں کہ میڈم نے غلط طریقہ اختیار کیا، انھیں بچوں کی پٹائی دوسرے بچوں سے نہیں کرانی چاہیے۔ تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے جو الفاظ کہے وہ بھی غلط تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی نیت ٹھیک ہو، لیکن جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ بہت زیادہ غلط تھا۔

بچوں کی پٹائی کا معاملہ اب سیاسی طول پکڑ رہا ہے۔ معاملہ کا رخ پلٹنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ بھیم آرمی اور سماجوادی پارٹی کے بھی کچھ کارکنان گاؤں میں بچوں کے گھر پہنچے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے مقامی لیڈر ساجد حسن نے تھانہ میں درج ہوئی رپورٹ پر اعتراض ظاہر کیا، وہ بھی گاو۷ں پہنچے تھے۔ ساجد نے کہا کہ اتنے سنگین جرائم والے معاملے میں پولیس نے محض این سی آر درج کی ہے۔ کم از کم ایف آئی آر تو لکھنی چاہیے تھی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کارروائی کی نمائش کی جا رہی ہو۔ اگر اس طرح کے واقعہ میں متاثرہ اور ملزم کو مذہب الگ ہوتے تو اب تک این ایس اے اور بلڈوزر دونوں کا استعمال ہو جاتا۔ ویڈیو میں صاف نفرت دکھائی دے رہی ہے، لیکن رپورٹ میں اس کی دفعات نہیں لکھی گئی ہے۔ مقدمہ بے حد کمزور دفعات میں درج ہوا ہے۔

دوسری طرف ملزم ٹیچر ترپتا تیاگی کی گرفتاری کے مطالبہ کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ معاملے نے اب سیاسی شکل اختیار کر لی ہے۔ مظفر نگر بی جے پی کے ضلع صدر رہ چکے دیوورَت تیاگی ملزم ٹیچر کے حق میں کھڑے ہو چکے ہیں۔ دیوورَت تیاگی نے بتایا کہ ٹیچر کی نیت خراب نہیں تھی۔ وہ بچوں کو پہاڑا یاد کروا رہی تھیں۔ معذور ہونے کے سبب اس نے بچوں کو ہی پیٹنے کے لیے کہہ دیا۔ انھوں نے کسی مذہب پر کوئی تبصرہ بھی نہیں کیا، ٹیچر کی ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے۔ ویڈیو بنانے والے اور وائرل کرنے والوں نے سازشاً ایسا کیا ہے۔ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ملزم ٹیچر بھی یہی بات کہہ رہی ہے۔ ترپتا تیاگی کا کہنا ہے کہ ان سے غلطی ہوئی ہے۔ لیکن ان کی نیت صاف تھی اور وہ بچوں کے بھلے کے لیے ہی سوچ رہی تھی۔

مظفر نگر کے ضلع مجسٹریٹ اروند ملپا بنگاری نے اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پولیس انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور محکمہ اطفال فلاح تینوں کو ان کے کردار میں غیر جانبدارانہ کارروائی کے لیے کہا گیا ہے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی یقینی طور پر کی جائے گی۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس گاؤں کھباپور کی دوری کھتولی سے محض 10 کلومیٹر ہے۔ اس علاقے میں چندریان-3 کی لینڈنگ کے بعد سے جشن کا ماحول ہے۔ اِسرو کی ٹیم میں شامل رہے اریب احمد یہی کے رہنے والے ہیں۔ کھتولی کے اریب احمد کی دھوم گاؤں گاؤں تک پھیلی ہے۔ اس گاؤں میں بھی اریب احمد کی ویڈیو دیکھی گئی تھی۔ گاؤں کا ایک نوجوان ثاقب تیاگی تازہ پٹائی معاملہ کو لے کر کہتا ہے کہ ایسے کیسے بنیں گے مستقبل کے اریب! ان کا حوصلہ تو بچپن میں ہی ٹوٹ جائے گا۔ ثاقب کہتے ہیں کہ انھیں بہت برا لگ رہا ہے۔ اسکولوں میں تفریق کے کئی واقعات ہو رہے ہیں۔ یہ ایک معاملہ سامنے آ گیا، لیکن معاملے تو اور بھی ہیں۔

اڈانی-ہنڈن برگ تنازعہ: سیبی کی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکامی انتہائی تشویشناک، کانگریس کا بیان

0
اڈانی-ہنڈن-برگ-تنازعہ:-سیبی-کی-حتمی-نتیجے-پر-پہنچنے-میں-ناکامی-انتہائی-تشویشناک،-کانگریس-کا-بیان

نئی دہلی: کانگریس نے ہفتہ کے روز کہا کہ اسٹاک مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کا اڈانی گروپ کے ذریعہ راؤنڈ ٹرپنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکامی گہری تشویشناک کا باعث ہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے سپریم کورٹ میں اپنی اسٹیٹس رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے اور کہا کہ صرف ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) اس بات کی جانچ کر سکتی ہے کہ حکومت نے وزیر اعظم نریندر مودی کے پسندیدہ کاروباری گروپ کی مدد کے لیے کس طرح اصولوں اور طریقہ کار کی خلاف ورزی کی۔

رمیش نے اپنے بیان میں کہا ’’سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کی اڈانی گروپ کی طرف سے راؤنڈ ٹرپنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکامی، جیسا کہ اس نے سپریم کورٹ میں اپنی 25 اگست 2023 کی اسٹیٹس رپورٹ میں اعتراف کیا ہے، بہت پریشان کن ہے۔‘‘

ٹوئٹر (ایکس) پر بیان شیئر کرتے ہوئے انہوں نے پوسٹ کیا ‘‘اڈانی گروپ کے خلاف راؤنڈ ٹرپنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے معاملے میں حتمی نتیجے پر پہنچنے میں سیبی کی ناکامی گہری تشویشناک ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے کہا کہ سیبی نے اس معاملے سے متعلق جن 24 معاملات کی جانچ کی ہے، ان میں سے دو کو اب بھی عبوری حیثیت حاصل ہے۔

رمیش نے کہا کہ ایک عبوری رپورٹ اس اہم سوال سے متعلق ہے کہ آیا اڈانی نے سیکورٹیز کنٹریکٹس (ریگولیشن) رولز کے رول 19اے کے تحت کم از کم پبلک شیئر ہولڈنگ کی ضرورت کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’’سادہ الفاظ میں، کیا اڈانی نے بیرون ملک ٹیکس پناہ گاہوں میں واقع مبہم اداروں کا استعمال اس طرح کی راؤنڈ ٹرپنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے لئے کیا جس کی مخالفت کرنے کا وزیر اعظم نے ہمیشہ دعوی کیا ہے؟ سیبی نے کہا ہے کہ تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ بیرونی ایجنسیوں اور اداروں سے معلومات کا ابھی بھی انتظار ہے۔‘‘

رمیش نے کہا کہ ملک واضح طور پر سیبی کے 2018 میں کمزور کرنے اور 2019 میں غیر ملکی فنڈز کی حتمی فائدہ مند ملکیت سے متعلق رپورٹنگ کی ضروریات کو حذف کرنے کے فیصلے کی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ کانگریس لیڈر نے سپریم کورٹ کی ایکسپرٹ کمیٹی سے کم نہیں بتائی کہ سیبی اڈانی کمپنیوں میں بیرون ملک مقیم سرمایہ کاروں کی فائدہ مند ملکیت کی نشاندہی کرنے میں ناکام ہونے کی وجہ یہ تھی کہ سکیورٹیز مارکیٹ ریگولیٹر کو غلط کام کا شبہ ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ صرف جے پی سی ہی اس بات کی جانچ کر سکتی ہے کہ مودی حکومت نے کس طرح وزیر اعظم کے پسندیدہ کاروباری گروپ کی مدد کے لیے اصولوں اور طریقہ کار کی خلاف ورزی کی۔ اڈانی گروپ اور اب بھی اس گروپ میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پیچھے اصل مالکان کے بارے میں پانچ ٹیکس پناہ گاہوں سے معلومات کا انتظار کر رہا ہے۔

دھنباد: غنڈوں سے خوفزدہ 600 تاجر اسلحہ لائسنس کے لیے اجتماعی طور پر دیں گے درخواست

0
دھنباد:-غنڈوں-سے-خوفزدہ-600-تاجر-اسلحہ-لائسنس-کے-لیے-اجتماعی-طور-پر-دیں-گے-درخواست

دھنباد: غنڈوں اور مجرموں کی طرف سے دھمکی آمیز کالوں، فائرنگ، بم دھماکوں کے واقعات سے پریشان دھنباد کے 600 تاجروں نے اجتماعی طور پر اسلحہ لائسنس کے لیے درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ جب پولیس سکیورٹی نہیں دے سکتی تو پھر انہیں اپنے دفاع کے لیے اسلحہ لائسنس دیا جائے۔ پیشہ ور تنظیموں کی کال پر لوگ اسلحہ لائسنس کے لیے فارم بھر رہے ہیں۔ یہ فارم ضلعی انتظامیہ کے پاس اجتماعی طور پر جمع کرائے جائیں گے۔

گزشتہ دو مہینوں کے اندر ضلع پولیس نے دھنباد میں پرنس خان اور امن سنگھ سمیت بھتہ خور گینگ کے ڈیڑھ درجن کارندوں کو گرفتار کیا ہے لیکن اس کے بعد بھی دھمکی آمیز کالوں اور فائرنگ کا سلسلہ نہیں رکا۔ اب گینگسٹر دھمکی آمیز کال کرنے کے لیے انٹرنیٹ ایپس اور ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ غیر ملکی نمبروں سے کال کر کے تاجروں سے بھتہ مانگ رہے ہیں۔

دھنباد پولیس تکنیکی طور پر اتنی اہل نہیں ہے کہ اس سے نمٹ سکے۔ پولیس نے اس معاملے میں ریاستی حکومت، پولیس ہیڈکوارٹر اور سائبر سیل سے خط و کتابت کرکے مدد طلب کی ہے۔

پولیس کو یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ کچھ مجرم جیل میں رہتے ہوئے یہاں کے تاجروں کو غیر ملکی نمبروں سے فون کرکے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ سائبر سیل سے موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر، پولیس نے اس اطلاع کی تصدیق کی ہے کہ دھنباد جیل میں 11 موبائل نمبر فعال ہیں۔ جن میں سے 4 موبائل بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

جیل کے باہر ان نمبروں سے فون کالز، میسجز اور واٹس ایپ کالز کی جا رہی ہیں۔ دھنباد پولیس نے اسے روکنے کے لیے جھارکھنڈ پولیس ہیڈ کوارٹر کو خط لکھا ہے۔

دھنباد شہر میں یہ چرچا ہے کہ پرنس خان کے بھتہ خوری کے کاروبار کو اس کا بھائی گوپی خان آگے بڑھا رہا ہے۔ گوپی خان اس وقت دھنباد جیل میں بند ہیں۔ پولیس کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، گوپی خان وصی پور کے گینگسٹر پرنس خان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے بعد تاجروں کو اپنی دہشت برقرار رکھنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

گوپی خان جیل میں ہے اور اندر سے کال کر رہا ہے۔ وہ ایسی کالوں کے لیے انٹرنیٹ ایپ استعمال کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے وہ تاجروں کو بلیک میل کر کے پیسے مانگتا ہے۔

پولیس کے پاس ان نمبروں کو ٹریس کرنے کا کوئی نظام نہیں ہے۔ اس وجہ سے پولیس نے ہیڈ کوارٹر کو خط لکھ کر مدد طلب کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ شریر مجرم جعلی ناموں سے موبائل سم خرید رہے ہیں۔ اس کے بعد جرائم پیشہ افراد انٹرنیٹ سے کالنگ ایپ خرید کر سم سے کال کر رہے ہیں۔

ایپ سے کال کرتے وقت غیر ملکی فون نمبرز کا کوڈ +1(519) ہوتا ہے۔ دھنباد میں بہت سے تاجروں کو اس کوڈ سے کال موصول ہوئی ہیں۔ انٹرنیٹ پر یہ کوڈ شمالی امریکہ کے بارے میں بتاتا ہے۔ یہ پولیس کو الجھا رہا ہے۔ جھارکھنڈ پولیس ہیڈکوارٹر سے موصولہ اطلاع کے مطابق، کچھ تکنیکی افسران جلد ہی دھنباد پہنچنے والے ہیں، جو پولیس اور سائبر سیل کی مدد کریں گے۔

سونیا گاندھی دو روزہ دورے پر سری نگر پہنچیں، نگین جھیل میں ناؤ پر سواری کی ویڈیو آئی سامنے

0
سونیا-گاندھی-دو-روزہ-دورے-پر-سری-نگر-پہنچیں،-نگین-جھیل-میں-ناؤ-پر-سواری-کی-ویڈیو-آئی-سامنے

کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی ہفتہ کے روز سری نگر پہنچیں۔ یہاں انھوں نے سب سے پہلے نگین جھیل میں ناؤ کی سواری کی جس کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ ویڈیو میں وہ اپنے سیکورٹی گارڈ کے ساتھ نگین جھیل میں کشتی کی سواری کرتی ہوئی انتہائی پرسکون دکھائی دے رہی ہیں۔ وہ سری نگر کے دو روزہ دورے پر پہنچی ہیں جہاں وہ جلد ہی اپنے بیٹے اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سے ملاقات کریں گی۔

قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی گزشتہ کچھ دنوں سے لداخ کے دورے پر تھے اور 25 اگست کو سری نگر پہنچے ہیں۔ انھوں نے لداخ کے دور دراز علاقوں کا اسپورٹس بائک سے دورہ کیا جس کی تصویریں اور ویڈیوز پہلے ہی سرخیاں بٹور چکی ہیں۔ اب سونیا گاندھی کی کشتی میں سواری کی ویڈیو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہے۔

کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق راہل گاندھی کی بہن اور کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی اپنے شوہر رابرٹ وڈرا کے ساتھ سری نگر جلد ہی پہنچنے والی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ راہل گاندھی نگین جھیل میں ایک ہاؤس بوٹ میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور امکان ہے کہ دو دن بعد گاندھی فیملی گلمرگ پہنچے گی۔ حالانکہ اس سلسلے میں کوئی آفیشیل جانکاری ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔

کچھ ارکان اسمبلی کا چلے جانا پارٹی ٹوٹ نہیں، میں ہوں این سی پی کا صدر: شرد پوار

0
کچھ-ارکان-اسمبلی-کا-چلے-جانا-پارٹی-ٹوٹ-نہیں،-میں-ہوں-این-سی-پی-کا-صدر:-شرد-پوار

کولہاپور: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے ہفتہ کو ایک بار پھر اپنی پارٹی میں پھوٹ کی تردید کی۔ انہوں نے کہا، یہ درست ہے کہ کچھ ایم ایل اے چلے گئے ہیں لیکن صرف ایم ایل اے کے جانے کا مطلب پوری سیاسی پارٹی کا ٹوٹنا نہیں ہے۔ پوار نے مزید کہا }}میں این سی پی کا قومی صدر ہوں اور جینت پاٹل مہاراشٹر میں پارٹی کے ریاستی صدر ہیں۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پارٹی سے بغاوت کرنے والے لیڈروں کے تئیں نرم رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ باغیوں کا نام لے کر انہیں اہمیت کیوں دی جائے؟

اس سے قبل شرد پوار کی بیٹی اور پارٹی کی کارگزار صدر سپریہ سولے نے ایک بیان میں کہا تھا کہ این سی پی میں کوئی پھوٹ نہیں ہے اور اجیت پوار پارٹی کے لیڈر رہیں گے۔ اس سوال پر شرد پوار نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ شرد نے کہا تھا- ہاں، اس پر کوئی تنازعہ نہیں ہے لیکن چند گھنٹوں کے بعد پوار نے یو ٹرن لیا اور کہا – انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔

خیال رہے کہ اجیت پوار اور این سی پی کے آٹھ دیگر ممبران اسمبلی نے 2 جولائی کو پارٹی کے خلاف بغاوت کی اور مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا-بی جے پی حکومت میں شامل ہو گئے۔ اس الٹ پھیر سے سیاسی ماحول بھی گرم ہوگیا۔ اجیت نے پوری پارٹی پر اپنا دعویٰ کیا اور الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا۔

شرد پوار نے اعتراف کیا ہے کہ جب 2022 میں مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کی قیادت والی حکومت گر گئی تو این سی پی کے کچھ ایم ایل اے نے انہیں شندے کی قیادت والی حکومت میں شامل ہونے کے لیے لکھا۔ حالانکہ ہم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ پوار نے بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میں فاشسٹ طاقتوں کی مخالفت کرتا رہوں گا۔ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 31 اگست اور یکم ستمبر کو ممبئی میں اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کا اجلاس ہوگا۔ اس دوران 2024 کے لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا اور مشترکہ مہم پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’’میں مہاراشٹر میں تبدیلی دیکھ رہا ہوں۔ بی جے پی کے ساتھ جانے والوں سے لوگ مایوس ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ عوام انتخابات میں صحیح مینڈیٹ دیں گے اور بی جے پی کو اس کا صحیح مقام دکھائیں گے۔‘‘

جب شرد سے این سی پی لیڈر حسن مشرف کے اجیت پوار کے دھڑے میں شامل ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ’’مشرف کو ای ڈی کے چھاپوں کا سامنا ہے لیکن اب کارروائی روک دی گئی ہے۔ پتہ نہیں انہوں نے اس کے لیے کس سے بات شروع کی؟ مشرف حکمران جماعت کی تعریف کر کے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔‘‘

تمل ناڈو: سیاحتی ٹرین میں سلنڈر دھماکہ سے لگی آگ، 10 مسافروں کی موت، 20 زخمیوں کو اسپتال میں کیا گیا داخل

0
تمل-ناڈو:-سیاحتی-ٹرین-میں-سلنڈر-دھماکہ-سے-لگی-آگ،-10-مسافروں-کی-موت،-20-زخمیوں-کو-اسپتال-میں-کیا-گیا-داخل

تمل ناڈو کے مدورئی ریلوے اسٹیشن پر آج صبح ایک اندوہناک حادثہ پیش آیا جس میں کم از کم 10 مسافروں کی موت ہو گئی۔ دراصل مدورئی ریلوے اسٹیشن پر ایک ٹرین کے ڈبہ میں ہفتہ کی علی الصبح آگ لگ گئی جس میں نہ صرف 10 لوگوں کی موت ہو گئی، بلکہ 20 دیگر مسافر زخمی بھی ہوئے جنھیں فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس درمیان مہلوکین کے کنبوں کو 10-10 لاکھ روپے معاوضہ کی رقم دینے کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی ریلوے نے ناجائز طریقے سے لے جائے گئے گیس سلنڈر کو حادثہ کی وجہ بتایا ہے۔ موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ جس ڈبے میں آگ لگی وہ ایک پرائیویٹ پارٹی کوچ تھا، یعنی کسی شخص کے ذریعہ بک کرایا گیا پورا ڈبہ تھا۔ اس میں سوار مسافر اتر پردیش کے لکھنؤ سے مدورئی پہنچے تھے۔ اچانک اس ڈبے میں سلنڈر دھماکہ ہوا اور پھر ایک افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ریلوے اہلکاروں کے علاوہ پولیس، فائر بریگیڈ اور بچاؤ اہلکاروں نے ڈبے سےلاشوں کو باہر نکالا۔

ابتدائی جانکاری میں بتایا جا رہا ہے کہ ٹرین رامیشورم جا رہی تھی۔ اس کا نام پونالور مدورئی ایکسپریس ہے۔ آگ لگنے کی خبر صبح تقریباً 5.15 بجے ملی۔ اس وقت ٹرین مدورئی یارڈ جنکشن پر رکی ہوئی تھی۔ صبح 7.15 بجے آگ کی لپٹوں پر قابو پا لیا گیا۔ دیگر ڈبوں کو اس آگ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ایک پرائیویٹ پارٹی کوچ تھا جسے 25 اگست کو ناگرکووِل جنکشن پر ٹرین نمبر 16730 (پانولور-مدورئی ایکسپریس) میں جوڑا گیا تھا۔ ڈبے کو الگ کر مدورئی ریلوے اسٹیشن پر کھڑا کیا گیا تھا۔ اس ڈبے میں مسافر ناجائز طریقے سے گیس سلنڈر لے کر آئے تھے، اسی وجہ سے آگ لگی۔ آگ لگنے کی خبر ملنے پر کئی مسافر کوچ سے باہر نکل گئے۔ کچھ مسافر پلیٹ فارم پر ہی اتر گئے تھے۔

متاثرہ ڈبے میں سوار مسافروں نے 17 اگست کو لکھنؤ سے سفر شروع کیا تھا اور ان کا 27 اگست کو چنئی جانے کا پروگرام تھا۔ چنئی سے ان کا لکھنؤ لوٹنے کا منصوبہ تھا۔ جائے حادثہ پر بکھرے ہوئے سامان میں ایک سلنڈر اور آلو کی ایک بوری ملی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ڈبہ میں کھانا پکایا جا رہا تھا۔ مدورئی کی ضلع کلکٹر ایم ایس سنگیتا نے کہا کہ آج صبح 5.30 بجے مدورئی ریلوے اسٹیشن پر کوچ میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ کوچ میں تیرتھ یاتری تھے اور وہ اتر پردیش کے باشندے تھے۔ آج صبح جب انھوں نے کافی بنانے کے لیے گیس اسٹو جلانے کی کوشش کی تو سلنڈر میں دھماکہ ہو گیا۔ 55 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے اور اب تک 10 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

واضح رہے کہ اصولوں کے مطابق کوئی بھی شخص آئی آر سی ٹی سی کے پورٹل کا استعمال کر کے پرائیویٹ پارٹی کوچ بک کر سکتا ہے، لیکن اسے ڈبے میں گیس سلنڈر یا کوئی شعلہ فشاں شئے لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ کوچ کا استعمال صرف سفر کے مقصد کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

مشن چندریان 3 میں جامعہ کے تین سابق طلبا شامل، وی سی نجمہ اختر نے دی مبارکباد

0
مشن-چندریان-3-میں-جامعہ-کے-تین-سابق-طلبا-شامل،-وی-سی-نجمہ-اختر-نے-دی-مبارکباد

نئی دہلی: مشن چندریان 3 کی کامیابی کے بعد پورے ملک میں خوشی کا ماحول ہے۔ چاند کے قطب جنوبی پر کامیاب لینڈنگ کے بعد پوری دنیا نے ہندوستانی سائنسدانوں کا لوہا مانا ہے۔ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبا اسرو کے اس انتہائی اہم مشن میں شامل رہے ہیں۔ جبکہ، ملک کے باوقار ادارے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 3 سابق طلبا بھی مشن چندریان 3 کا حصہ تھے۔ یونیورسٹی نے بھی اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور سابق طلبا کو ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تین طلبا محمد کاشف، اریب احمد اور امت کمار بھاردواج بھی مشن چندریان 3 میں شامل تھے۔ ان تینوں طلبا نے جامعہ کے مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے 2019 میں بی ٹیک مکمل کیا تھا۔ ان طلبا نے اسرو 2019 کے سینٹرلائزڈ ریکروٹمنٹ بورڈ کے سائنٹسٹ/انجینئر کے عہدے کے لیے کوالیفائی کیا، جس کا نتیجہ ستمبر 2021 میں جاری کیا گیا تھا۔ ان تینوں میں سے محمد کاشف نے پہلے ہی امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے یونیورسٹی کا اعزاز بڑھا دیا ہے۔

مشن چندریان-3 میں شامل جامعہ کے سابق طالب علم اریب احمد نے میڈیا سے کہا کہ یہ کامیابی ہم سب کے لیے بہت خاص ہے اور تمام ہم وطنوں کو پرجوش دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ مختلف جگہوں سے پیغامات آ رہے ہیں، لوگ فون کر کے مبارکباد دے رہے ہیں۔ یہ لمحہ پوری زندگی کا ایک بہت ہی خاص لمحہ ہے۔ ہماری ٹیم کے باقی ارکان نے بھی اس مشن کو کامیاب بنانے کے لیے سب کچھ قربان کر دیا اور ہم ہمیشہ اسرو کے تمام مشنوں کے لیے وقف رہیں گے۔

مشن چندریان 3 میں شامل سائنسدان امت کمار بھاردواج نے کہا ’’میں اپنی پوری ٹیم اور ملک کی کامیابی سے بہت پرجوش ہوں۔ یہ زندگی کا ایک بہت ہی ناقابل فراموش لمحہ ہے۔ کالج اور اسکول کے دوست بھی فون کر کے مبارکباد دے رہے ہیں۔ اس مشن کی کامیابی کے حوالے سے لوگوں کے چہروں پر جو خوشی ہے وہ بھی بہت اطمینان بخش ہے۔ مستقبل میں بھی ملک کے ایسے ہر مشن کے لیے پوری طرح تیار ہوں گے۔‘‘

امت سے جب اس مشن کے دوران خاندان سے ان کے رابطے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ خاندان کا بہت تعاون ملا لیکن اس مشن کے دوران ان کی فیملی سے بہت کم بات چیت ہوئی۔ امت نے ہندوستان کے سابق صدر اور عظیم سائنسدان ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو اپنا آئیڈیل بتایا اور کہا کہ ان کی پوری زندگی نہ صرف سائنس کے لوگوں کے لیے بلکہ ایک عام آدمی کے لیے بھی ایک تحریک ہے۔

مسرت کا اظہار کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے ملک کی اس عظیم کامیابی پر پرجوش انداز میں کہا کہ اس موقع پر سب سے پہلے میں محترم وزیر اعظم نریندر مودی کو مشن کی کامیابی کے لیے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ یہ قومی جشن کا موقع ہے اور ہمیں یہ جان کر خاص طور پر خوشی ہوئی کہ ہمارے طلبا بھی اس تاریخی مشن کا حصہ تھے۔ میں اسے اس کی کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ وائس چانسلر نے یہ بھی کہا کہ پوری یونیورسٹی کو ان پر فخر ہے اور تینوں طلبہ یونیورسٹی کے موجودہ طلبہ کے لیے رول ماڈل بن چکے ہیں۔ موجودہ طلبا کو ملک کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے محنت کرنے کی تحریک ملے گی۔