بدھ, اپریل 1, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 161

اوٹی میں چاکلیٹ فیکٹری چلانے والی خواتین سے راہل گاندھی کی ملاقات، دیکھیں ویڈیو…

0
اوٹی-میں-چاکلیٹ-فیکٹری-چلانے-والی-خواتین-سے-راہل-گاندھی-کی-ملاقات،-دیکھیں-ویڈیو…

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے تمل ناڈو کے نیلگری میں چاکلیٹ فیکٹری چلانے والی خواتین سے متعلق ایک کہانی شیئر کی ہے۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ’’70 ناقابل یقین خواتین کی ایک ٹیم اوٹی کی مشہور چاکلیٹ فیکٹریوں میں سے ایک کو چلاتی ہے! موڈیز چاکلیٹس کی کہانی ہندوستان کے ایم ایس ایم ایز کی عظیم صلاحیت کا ایک قابل ذکر ثبوت ہے۔ میں نے اپنے حالیہ نیلگری کے سفر کے دوران جو دیکھا وہ پیش خدمت ہے۔‘‘

خیال رہے کہ 13 اگست کو راہل گاندھی نے نیلگری میں تھلائی کوندھا کے قریب ٹوڈا قبائلی بستی موتھنادمنڈ کا بھی دورہ کیا تھا اور قبائلی برادری کے ارکان سے بات چیت کی تھی۔ یہاں انہوں نے مندروں کا بھی دورہ بھی کیا تھا۔

کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ حال ہی میں وائناڈ کا دورہ کرتے ہوئے مجھے اوٹی کے مشہور برانڈز میں سے ایک موڈیز چاکلیٹس کی فیکٹری کا دورہ کر کے خوشی ہوئی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اس چھوٹے سے کاروبار کے پیچھے جوڑے مرلیدھر راؤ اور سواتی کا کاروباری جذبہ متاثر کن ہے۔ اس کے ساتھ کام کرنے والی تمام خواتین کی ٹیم یکساں طور پر قابل ذکر ہے۔ 70 خواتین کی یہ سرشار ٹیم بہترین چاکلیٹ بناتی ہے، جس کا میں نے بھی ذائقہ لیا۔

انہوں نے کہا ’’تاہم، ملک بھر میں ان گنت دیگر چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی طرح ان کا کاروبار بھی گبر سنگھ ٹیکس (جی ایس ٹی) کے بوجھ سے دوچار ہے۔ ایک ایسے منظر نامے میں جہاں حکومت ایم ایس ایم ای سیکٹر کو نقصان پہنچاتے ہوئے بڑے کارپوریٹس کی حمایت کرتی نظر آتی ہے۔ یہ ان خواتین جیسے محنتی ہندوستانیوں کی ہمت ہے، جن سے میں نے یہاں ملاقات کی جو ہندوستان کو ترقی کے راستہ پر گامزن رکھتے ہیں۔‘‘

مدھیہ پردیش کے ساگر میں دلت نوجوان کا قتل، کھڑگے نے مودی اور شیوراج پر کیا حملہ

0
مدھیہ-پردیش-کے-ساگر-میں-دلت-نوجوان-کا-قتل،-کھڑگے-نے-مودی-اور-شیوراج-پر-کیا-حملہ

بھوپال: مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع میں ایک دلت نوجوان کے قتل کے معاملے میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان پر حملہ بولا ہے۔

کھڑگے نے ایکس کیا، ‘مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع میں ایک دلت نوجوان کو پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا۔ غنڈوں نے اس کی ماں کو بھی نہیں بخشا۔ ساگر میں سنت روی داس مندر بنوانے کا ڈرامہ کرنے والے وزیر اعظم مدھیہ پردیش میں مسلسل ہو رہے دلت اور قبائلی ظلم اور ناانصافی پر چوں تک نہیں کرتے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ صرف کیمرے کے سامنے غریبوں کے پاؤں دھو کر اپنا جرم چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بی جے پی نے مدھیہ پردیش کو دلت مظالم کی تجربہ گاہ بنا دیا ہے۔ بی جے پی کی حکومت والی مدھیہ پردیش میں دلتوں کے خلاف جرائم کی شرح سب سے زیادہ ہے، جو قومی اوسط سے بھی تین گنا زیادہ ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس بار مدھیہ پردیش کے لوگ بی جے پی کے جھانسے میں آنے والے نہیں ہیں، سماج کے محروم اور استحصال زدہ طبقوں کو تڑپانے-ترسانے کا جواب چند ماہ بعد مل جائے گا۔ بی جے پی کی رخصتی یقینی ہے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے بھی اس معاملے پر بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے غریب لوگوں پر بی جے پی کے مظالم بڑھ رہے ہیں۔ سنت رویداس مہاراج کا مندر بنانے سے ان غریبوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہیں حقوق دینا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود رکھشا بندھن پر متاثرہ خاندان سے ملنے جائیں گے۔ ساگر ضلع کے کھرائی تھانہ علاقے میں واقع گاؤں برودیا نوناگیر میں 24 اگست کی رات ایک نوجوان نتن اہیروار کو ملزمان نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔ واقعے کے دوران بیٹے کو بچانے آئی ماں کو بھی ملزمان نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ خاتون کو تشویشناک حالت میں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

شیوراج حکومت کا اصل رپورٹ کارڈ

0
شیوراج-حکومت-کا-اصل-رپورٹ-کارڈ

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھوپال پہنچے اور 2003-2023 کے لیے 32 صفحات پر مشتمل ‘غریب کلیان مہا ابھیان’ کے نام سے رپورٹ کارڈ جاری کیا، لیکن ان سے متعلق ویڈیوز اب بی جے پی پر بھاری پڑ رہی ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پردھان منتری آواس یوجنا کے ذریعے تقریباً 44 لاکھ غریب خاندانوں کو دیہی اور شہری علاقوں میں پکے مکان ملے ہیں۔ پردھان منتری آواس یوجنا (دیہی) کے تحت تعمیر کیے گئے مکانات کی تعداد میں مدھیہ پردیش ملک میں دوسرے نمبر پر ہے لیکن اس بارے میں ویڈیوز دیکھتے اور سنتے ہوئے لوگ خود مختلف جگہوں پر اس کی حقیقت بتا رہے ہیں۔ سیونی ضلع کے لاوی سرا پنچایت کے دیو سنگھ ورکاڑے کو ہی لے لیں۔ ان کا مکان سال 2020 میں منظور ہوا تھا تھا لیکن ابھی تک یہ مکمل نہیں ہوا، پلاسٹر کا کام زیر التوا ہے۔ اسے تین اقساط میں ایک لاکھ 20 ہزار روپے ملے اور کمیشن وغیرہ کی ادائیگی کے بعد رقم اتنی کم ہو گئی کہ مکان مکمل کرنا ناممکن ہو گیا اس لیے اس نے نجی بینک سے قرض لیا۔ پھر بھی کام ادھورا ہے۔

اس کی بھی ایک وجہ ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں اینٹ، سیمنٹ اور لوہے کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو گئی ہیں لیکن اس سکیم کی رقم میں اضافہ نہیں ہوا۔ یہ ایک عام سی بات ہے کہ اضافی رقم پر قرض حاصل کرنے کے لیے لوگوں نے اپنے گھر کی عورتوں کے زیورات تک گروی رکھ دئے ہیں یا قرض نہ ملنے کی صورت میں لوگ اپنے مویشی بیچ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بیتول کے کیکڑیا کلاں گاؤں کے مشری لال وشوکرما کو لے لیں۔ وہ صرف دیواریں کھڑی کر سکے اور اب اس میں چھت لگانے کی ہمت نہیں ہے کیونکہ اس انہوں نے سود پر ایک لاکھ روپے اتھائے ہیں۔ منڈلا ضلع کے دوپٹہ گاؤں کے گیان سنگھ بھی صرف دیواریں تعمیر کرنے میں کامیاب رہے ہیں کیونکہ انہیں کہیں سے قرض نہیں مل رہا ہے۔

ویسے تو اس نام نہاد رپورٹ کارڈ کی سب سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوچھ سرویکشن-2022 میں مدھیہ پردیش کو صفائی کے معاملے میں ملک کی بہترین ریاست کے طور پر منتخب کیا گیا ہے لیکن اس میں بیت الخلاء کی تعداد کا ذکر تک نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب بی جے پی سمجھ چکی ہے کہ بیت الخلاء کی تعمیر کی اسکیم کا آخر کار کیا حشر ہوا۔ صورتحال یہ ہے کہ بالاگھاٹ ضلع کی گڑھدا پنچایت کے بورینا گاؤں میں رہنے والے خوشیال مارسکول جیسے لوگ اس اسکیم کی بات کرتے ہی مشتعل ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے والد اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ سال 2020 میں ان کے نام پر بیت الخلا بنایا جانا تھا۔ پنچایت کے لوگوں نے رقم نکال لی ہے لیکن آج تک بیت الخلا نہیں بنایا گیا۔ مارسکول کا کہنا ہے کہ پنچایت والے کہتے رہے کہ وہ آج بیت الخلا بنائیں گے، کل بنائیں گے لیکن آخرکار وہ نہیں بنایا۔ گاؤں میں جو 75 فیصد بیت الخلاء بنے ہیں وہ خستہ حال ہو چکے ہیں، ان کا استعمال بالکل نہیں ہو رہا۔ لوگ باہر رفع حاجت کرنے جا رہے ہیں۔

دراصل، کم از کم مدھیہ پردیش میں اس اسکیم کو لے کر گورکھ دھندہ ہوا تھا۔ سال 2018-19 میں بیتول ضلع کے کھڑکاڈھانا، بوچاکھیڑا میں چار گاؤں والوں کے ناموں سے رقم نکلوائی گئی لیکن بیت الخلاء نہیں بنائے گئے۔ بعد میں شکایت بھی ہوئی تو بس اتنا ہوا کہ سرپنچ سیکرٹری سے 48 ہزار روپے کی ریکوری کی گئی اور کھانا فراہم کیا گیا۔ درحقیقت، یہاں بھی بہت سے گاؤں والوں نے حکومت کی طرف سے بنائے گئے بیت الخلاء کا استعمال چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ خستہ حال ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کارڈ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پردھان منتری اجولا یوجنا کے تحت 82 لاکھ سے زیادہ خواتین نے کچن کے کالے دھوئیں سے نجات حاصل کی لیکن حکومت بھی اس کی حقیقت سے واقف ہے۔ جس طرح سے کھانا پکانے والی گیس کی قیمت دن دگنی رات چوگنی ہو گئی ہے، اس سے کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ لوگ گیس کو بالکل ری فل نہیں کرا رہے۔ چھندواڑہ کے کھٹیا گاؤں میں رہنے والی سروپ وتی آدیواسی اس کی صرف ایک مثال ہے۔ وہ اب بھی چولہے پر کھانا بنا رہی ہے۔ ان کے شوہر اندرلال تومڑام کا کہنا ہے کہ صرف گاؤں ہی نہیں آس پاس کے لوگوں کا بھی یہی حال ہے۔ اس گاؤں کے چندر لال آدیواسی نے لکڑی کو محفوظ کرنے کے لیے گھر میں صرف ایک چھپرا بنایا ہے۔ جنگل سے لکڑیاں نہ لائیں تو ان کے گھر کھانا بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔

ریاست کے عام لوگوں کی کیا حالت ہے، یہ رپورٹ کارڈ میں ہی بیان کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 5 سالوں میں مدھیہ پردیش کے ایک کروڑ 36 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو غربت سے نجات دلائی گئی ہے لیکن اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غریب کلیان انا یوجنا سے 5 کروڑ سے زیادہ لوگ مفت راشن حاصل کر رہے ہیں۔ ریاست کی تخمینہ آبادی 8.5 کروڑ ہے۔ ایسے میں حکومت خود تسلیم کر رہی ہے کہ اب بھی نصف سے زیادہ آبادی کو اناج دینا ہے کیونکہ ان کے پاس ذریعہ معاش نہیں ہے۔ اسی لیے سابق وزیر خزانہ اور کانگریس لیڈر ترون بھانوٹ کہتے ہیں کہ ‘بی جے پی آدھا سچ بول رہی ہے’۔

شیوراج حکومت یوپی اور اتراکھنڈ کی طرح مدھیہ پردیش میں مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کی بات کرتی ہے لیکن جس طرح سے ان سے جڑے پروجیکٹوں میں تعمیرات کے معیار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، مہاکال لوک اس کی ایک مثال ہے جہاں ابھی مئی کے مہینے میں ہی سات میں سے چھ رشیوں کی مورتیاں طوفان میں خرد برد ہو گئیں اور اس معاملے پر حکومت کی شبیہ لوگوں کے سامنے خراب ہو گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال اکتوبر میں اس اسکیم کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا تھا۔ اس رپورٹ کارڈ میں اومکاریشور میں اکاتم دھام کی تعمیر اور آدی گرو شنکراچاریہ، ادویت ویدانت سنستھان، ادویت وان کے 108 فٹ اونچے مجسمے کی ترقی کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔ اس کے لیے یہاں 1300 درخت کاٹے گئے، جنہیں نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے فروری میں ہی ‘غیر قانونی’ قرار دیا تھا۔

بھارت ہترکشا ابھیان کے ایک کارکن ڈاکٹر سبھاش باروڈ کا یہاں تک کہنا ہے کہ ‘اومکاریشور میں ابھے گھاٹ سے لے کر مورتی کے مقام تک 20 میٹر چوڑی اور 1.2 کلومیٹر لمبی سڑک بنانے کے لیے درخت ہی نہیں کاٹے گئے بلکہ پہاڑ کی شکل ہی بدل گئی۔ مورتی کی جگہ کے سامنے میوزیم بنانے کے لیے پانچ ہیکٹر اراضی کو صاف کیا گیا، چٹانیں اور درخت کاٹے گئے۔ قدرتی پہاڑ پر 10 ہزار سے زائد درخت کاٹے گئے، جس کی تلافی اب کبھی نہیں ہو پائے گی۔ ویسے بھی شیوراج حکومت کو ماحولیات کی کم سے کم فکر ہے۔ ہیروں کی کان کنی کے نام پر بخشواہا جنگل میں ڈھائی لاکھ درختوں کی کٹائی پر جاری جدوجہد نے بھلے ہی کام سست کر دیا ہو، لیکن خطرہ برقرار ہے۔

ریونیو اکٹھا کرنے کے خیال سے ایسے عجیب و غریب فیصلے لینے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ریاستی حکومت مالی طور پر مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔ رپورٹ کارڈ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شیوراج کے دور حکومت میں ریاست ‘بیمارو’ اسٹیٹس سے باہر آ چکی ہے اور ریاست کی معیشت عروج پر ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر وویک تنکھا کا کہنا ہے ’’سچ یہ ہے کہ مدھیہ پردیش ناکام ریاست کے زمرے میں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں بدعنوانی اپنے عروج پر ہے۔‘‘ اس کا پردہ فاش کرنے کے لیے 8 اگست کو کانگریس نے ‘گھوٹالہ شیٹ’ جاری کی ہے۔ تنکھا کا کہنا ہے ’’بی جے پی کے دعوے کتنے جھوٹے ہیں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بی جے پی حکومت نے کئی سرمایہ کاری کانفرنسیں منعقد کیں اور کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تجاویز کا دعویٰ کیا۔ اگر یہ زمین پر اترے ہوتے تو مدھیہ پردیش کے شہر بنگلورو اور حیدرآباد کی طرح آئی ٹی ہب بن چکے ہوتے لیکن ایسا کچھ نہیں ہو پایا۔‘‘

مدھیہ پردیش: کانگریس کا 11 وعدوں کے ساتھ خوشحالی کا عزم، کمل ناتھ

0
مدھیہ-پردیش:-کانگریس-کا-11-وعدوں-کے-ساتھ-خوشحالی-کا-عزم،-کمل-ناتھ

بھوپال: کانگریس کی مدھیہ پردیش یونٹ کے صدر اور سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے آج کہا کہ کانگریس مدھیہ پردیش کے ہر گھر میں خوشیاں لانے کی قرارداد کولے کر11 وعدوں کے ساتھ عوام کے درمیان ہے۔

کمل ناتھ نے کہا، کانگریس اپنے 11 وعدوں کے ساتھ مدھیہ پردیش کے ہر گھر میں خوشیاں لانے کے عزم کے ساتھ عوام کے درمیان ہے۔ مدھیہ پردیش کے عوام کو یقینی بنانا ہے کہ ووٹوں کی بولیاں لگانے والی سوداگر حکومت کے مذموم منصوبے کامیاب نہ ہوں، اب سچ کی سیاست کوہی حمایت اور آشیرواد ملے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت عوام کو راحت دینے کے لیے نہیں بلکہ اپنے ڈوبتی ہوئی کشتی کوبچانے کے لیے روزانہ چہرے بدل رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمل ناتھ نے کانگریس کے 11 وعدوں کو بھی دہرایا، جس میں خواتین کو ڈیڑھ ہزار روپے ماہانہ اور 500 روپے میں گیس سلنڈر شامل ہے۔

شیروں کو راجستھان لانے کے لیے مرکزی حکومت کے نام خط تحریر کریں گے: اشوک گہلوت

0
شیروں-کو-راجستھان-لانے-کے-لیے-مرکزی-حکومت-کے-نام-خط-تحریر-کریں-گے:-اشوک-گہلوت

جے پور: راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ راجستھان میں جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے قابل ستائش اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اب ریاست میں شیروں کو لانے کے لیے مرکزی حکومت کو خط لکھا جائے گا۔

گہلوت نے ہفتہ کی رات وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر ریاستی وائلڈ لائف بورڈ کی 14ویں میٹنگ میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے آج ریاست میں ٹائیگرز کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ہماری کوششوں کی وجہ سے 2022 میں نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کی گئی جائزہ رپورٹ میں رنتھمبور اور سریسکا ٹائیگر ریزرو کی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے۔ ریاست میں 29 کنزرویشن ریزرو میں سے 16 موجودہ حکومت کے دور میں بنائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ، پروجیکٹ ٹائیگر وغیرہ کے ذریعے ملک میں ماحولیاتی تحفظ کی حوصلہ افزائی کی۔ پروجیکٹ ٹائیگر میں جودھ پور کے کیلاش سانکھلا کو پہلا پروجیکٹ ڈائریکٹرمقرر کیا گیا۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے اس سمت میں انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ، گنگا ایکشن پلان اور ویسٹ لینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ جیسی اختراعات کیں۔ سابقہ مرکزی حکومت نیشنل گرین ٹریبونل ایکٹ لے کر آئی۔ اسی سلسلے میں ہماری حکومت بھی ریاست کے جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار اس کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ التزام کیا گیا ہے۔ ریاست کے ٹائیگر ریزرو میں سے تین موجودہ حکومت کے دور میں بنائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 10 ہزار ہیکٹر سے زیادہ گھاس کا میدان تیار کیا جا رہا ہے۔ مختلف ٹائیگر ریزرو سے 741 خاندانوں کو دوبارہ آباد کیا گیا ہے جس سے مین-وائلڈ تصادم میں کمی آئی ہے۔ پروجیکٹ گوڈاون کے تحت انکیوبیشن سنٹر میں آرٹفشیل ہیچنگ سے گوڈاون کے انڈوں سے نکلے بچوں کی دوسری نسل کے بچے بھی ہوچکے ہیں۔

گہلوت نے کہا کہ ریاست میں شیروں کو لانے کے لیے مرکزی حکومت کو خط لکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ریاستی انیمل ویلفیئر بورڈ کا نام تبدیل کرکے امرتا دیوی کے نام پر رکھنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ امرتا دیوی کی قربانی ہر کسی کو ماحول کے تحفظ کی ترغیب دیتی ہے۔

نوح میں ہندو تنظیموں نے برج منڈل یاترا نکالی تو ہم بھی ’ٹریکٹر مارچ‘ نکالیں گے! کسانوں کا اعلان

0
نوح-میں-ہندو-تنظیموں-نے-برج-منڈل-یاترا-نکالی-تو-ہم-بھی-’ٹریکٹر-مارچ‘-نکالیں-گے!-کسانوں-کا-اعلان

الور: ہریانہ کے نوح میں کشیدگی کے درمیان ہندو تنظیموں کی طرف سے کسی بھی حالت میں دوبارہ یاترا نکالنے کے اعلان کے بعد کسان تنظیموں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کسانوں نے کہا ہے کہ اگر نوح میں دوبارہ برج منڈل یاترا کا انعقاد کیا گیا تو وہ بھی ٹریکٹر مارچ نکالیں گے۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے راجستھان کے الور میں کسان-مزدور بھائی چارہ مہاپنچایت کے دوران یہ اعلان کیا۔

سنیوکت کسان مورچہ کے زیر اہتمام مہاپنچایت میں کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے ہریانہ کی بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ نوح تشدد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی ان ریاستوں میں ماحول خراب کرنا چاہتی ہے جہاں اس کی حکومت ہے۔

ٹکیت نے کہا کہ اگر ہریانہ حکومت 28 اگست کو نوح میں برج منڈل یاترا کرنے کی اجازت دیتی ہے تو وہ بھی ٹریکٹر مارچ نکالیں گے، جس کی تاریخ بعد میں طے کی جائے گی۔ ٹکیت نے کہا کہ اس سب سے ملک کی ترقی نہیں ہوتی، ترقی کرنی ہے تو اسکول کالج، اسپتال کھولیں، نوجوانوں کو روزگار دیں۔

راکیش ٹکیت نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ملک کو نہیں بچا سکتی، ملک کو صرف تحریک بچا سکتی ہے۔ کسان، مزدور، بے روزگار اور استحصال زدہ سبھی اس تحریک میں حصہ لیں گے، تب ہی حکومتیں جھکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بادشاہ کی پالیسی ہے کہ عوام کو لڑاؤ اور خود حکومت کرو۔

انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کو پڑھائیں، انہیں ملازمت پر لگاؤ۔ فسادات میں نہ بھیجیں۔ ٹکیت نے کہا کہ ہم سب ہندو ہیں۔ ہندو دو طرح کے ہیں، ایک وہ ہندو ہیں جو ناگپور سے چلتے ہیں اور ایک ہندو ہم ہندوستانی ہندو ہیں اور ہندوستانی ہندو کبھی نہیں لڑتے۔

الور کے بڑودہ میو شیتل میں منعقدہ مہا پنچایت میں راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور اتر پردیش کے کسانوں اور عام لوگوں نے حصہ لیا۔ مہاپنچایت میں سابق گورنر ڈاکٹر ستیہ پال ملک، گرنام سنگھ چڈھونی، کسان لیڈر راکیش ٹکیت، ڈاکٹر درشن پال اور مولانا ارشد مدنی سمیت کئی اہم شخصیات موجود رہیں۔

داماد کو والدین سے علیحدہ ہونے، ’گھر جمائی‘ بن کر رہنے کے لیے کہنا ظلم کے مترادف: دہلی ہائی کورٹ

0
داماد-کو-والدین-سے-علیحدہ-ہونے،-’گھر-جمائی‘-بن-کر-رہنے-کے-لیے-کہنا-ظلم-کے-مترادف:-دہلی-ہائی-کورٹ

دہلی ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ میں کہا ہے کہ کسی شخص پر والدین کو چھوڑنے اور سسرال والوں کے ساتھ ’گھر جمائی‘ بن کر رہنے پر مجبور کرنا ظلم کے مترادف ہے۔ یہ فیصلہ اس شخص کی طلاق کی درخواست کو ابتدائی طور پر خاندانی عدالت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔

ہائی کورٹ کے جسٹس سریش کمار کیت اور نینا بنسل کرشنا کی بنچ نے فیملی کورٹ کے حکم کو منسوخ کر دیدا اور بیوی کی طرف سے کئے گئے ظلم اور ترک کرنے کی بنیاد پر جوڑے کی طلاق پر مہر ثبت کر دی۔

اپنی درخواست میں اس شخص نے کہا تھا کہ اس کی شادی مئی 2001 میں ہوئی تھی۔ ایک سال کے اندر اس کی بیوی حاملہ ہو گئی اور گجرات میں اپنی سسرال چھوڑ کر دہلی میں اپنے والدین کے گھر لوٹ آئی۔

اس شخص نے کہا کہ اس نے صلح کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں لیکن اس کی بیوی اور اس کے والدین کا اصرار تھا کہ وہ گجرات سے دہلی آ جائے اور ان کے ساتھ ’گھر جمائی‘ کی طرح زندگی گزارے۔ مگر اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اسے اپنے بوڑھے والدین کی دیکھ بھال کرنی تھی۔

دوسری جانب خاتون نے جہیز کے لیے ہراساں کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ شخص شرابی تھا، جو اسے جسمانی طور پر ہراساں اور تشدد کرتا تھا۔ چنانچہ مارچ 2002 میں اس نے اپنے شوہر کا گھر چھوڑ دیا۔ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ کسی کے بیٹے کو اس کے خاندان سے الگ کرنے کے لیے کہنا ظلم کے مترادف ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ہندوستان میں کسی بیٹے کے لیے شادی کے بعد اپنے خاندان سے الگ ہونا مناسب نہیں ہے، اور یہ کہ اس کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ بڑھاپے میں اپنے والدین کی دیکھ بھال کرے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ بیوی کے گھر والوں کی طرف سے شوہر پر اپنے والدین کو چھوڑ کر ’گھر جمائی‘ بننے پر اصرار کرنا ظلم کے مترادف ہے۔

ہائی کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ دونوں فریق کچھ مہینوں تک ساتھ رہے تھے جس کے دوران انہیں ازدواجی تعلقات برقرار رکھنے میں ناکامی کا پتہ چلا۔

عدالت نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس شخص کو اس کی بیوی کی طرف سے دائر فوجداری مقدمے میں بری کر دیا گیا تھا، جس میں اس نے اس پر ظلم اور اعتماد کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔ خاتون کے الزامات ثابت نہیں ہوئے اور عدالت نے کہا کہ جھوٹی شکایتیں ظلم کے مترادف ہیں۔

غیر ازدواجی تعلقات کے الزامات کے حوالے سے عدالت نے نوٹ کیا کہ طویل علیحدگی کے سبب مرد اور عورت دونوں کو اپنی شادی سے باہر ساتھی تلاش کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ عدالت نے بالآخر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ عورت بغیر کسی معقول وجہ کے رہ رہی تھی، جس کی وجہ سے طلاق ہو گئی۔

چندریان 3 نے دو اہداف کئے حاصل، تیسرے پر کام جاری: اسرو

0
چندریان-3-نے-دو-اہداف-کئے-حاصل،-تیسرے-پر-کام-جاری:-اسرو

نئی دہلی: چندریان 3 کے لینڈر ماڈیول (ایل ایم) کے چاند کی سطح پر اترتے ہی ہندوستان نے تاریخ رقم کر دی۔ ہندوستان یہ کارنامہ انجام دینے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ چاند کے قطب جنوبی پر اترنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ وکرم لینڈر کے قطب جنوبی پر اترنے کے بعد وہاں سے مسلسل تصویریں آ رہی ہیں۔ دریں اثنا، اسرو نے بتایا ہے کہ چندریان 3 نے مشن کے تین اہداف میں سے دو کو حاصل کر لیا ہے، جبکہ تیسرے کے لیے کام جاری ہے۔

اسرو نے ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’’چندریان 3 نے مشن کے 3 میں سے دو اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ پہلا ہدف چاند کی سطح پر محفوظ اور سافٹ لینڈنگ تھا۔ دوسرا روور کو چاند کی سطح پر اتارنا اور اب تیسرا ان-سیٹو سائنسی تجربہ جاری ہے۔ تمام پے لوڈ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔‘‘

دراصل، لینڈر اور روور چاند کی ساخت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اندرونی مشاہدات اور تجربات کریں گے۔ چندریان 3 چاند پر 14 دن تک کام کرے گا۔ چاند کا ایک دن زمین کے 14 دنوں کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی یہاں 14 دن کا دن ہوتا ہے اور 14 دن کی رات ہوتی ہے۔ ایسی صورت حال میں پرگیان صرف ایک قمری دن تک فعال رہے گا۔ اس دوران روور پرگیان پانی، معدنی معلومات کی تلاش کرے گا اور وہاں زلزلے، گرمی اور مٹی کا مطالعہ کرے گا۔

ہندوستان بہت جلد گگن یان کا آزمائشی مشن شروع کرنے جا رہا ہے۔ یہ لانچنگ ڈیڑھ ماہ میں ہونے کا امکان ہے۔ اس لانچنگ میں بغیر پائلٹ گاڑی کو راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا۔ تمام سسٹمز کو چیک کیا جائے گا۔ ٹیم کے ریکوری سسٹم اور تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس مشن میں ہندوستانی بحریہ اور کوسٹ گارڈ بھی شامل ہیں۔

اگلے سال کے ابتدائی مہینوں میں ویوم مترا روبوٹ کو گگن یان کے ذریعے بھیجا جائے گا۔ اسرو نے 24 جنوری 2020 کو ویوم مترا خاتون ہیومنائیڈ روبوٹ متعارف کرایا تھا۔ اس روبوٹ کو بنانے کا مقصد اسے ملک کے پہلے انسان بردار مشن گگن یان کے عملے کے ماڈیول میں بھیج کر خلا میں انسانی جسم کی حرکات کو سمجھنا ہے۔ یہ فی الحال بنگلور میں ہے۔ اسے دنیا کے بہترین خلائی ایکسپلورر ہیومنائیڈ روبوٹ کا خطاب مل چکا ہے۔

ہندو تنظیم نوح میں شوبھا یاترا نکالنے پربضد، انتظامیہ نے منظوری نہیں دی، کل اسکول کالج بند

0
ہندو-تنظیم-نوح-میں-شوبھا-یاترا-نکالنے-پربضد،-انتظامیہ-نے-منظوری-نہیں-دی،-کل-اسکول-کالج-بند

ہریانہ کے نوح میں تشدد کے بعد برجمنڈل شوبھایاترا نکالنے کی بات  دوبارہ ہو رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ہندو تنظیم کل یعنی  28 اگست کو یہ جلوس نکالے گی لیکن انتظامیہ کی طرف سے اس کی منظوری نہیں دی گئی۔ جلوس کو روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

نیوز پورٹل ’آج تک ‘ پر شائع خبر کے مطابق نوح کے ڈپٹی کمشنر دھیریندر کھڈگتا نے کہا کہ پولیس  نے برجمنڈل جلوس نکالنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ لیکن پھر بھی کچھ لوگ اس یاترا پر بضد ہیں۔ لیکن ہم نے علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

برجمنڈل شوبھایاترا سرو ہندو سماج کے بینر تلے منعقد کی جائے گی۔ اس دوران کئی سماجی اور مذہبی رہنما شریک ہوں گے۔ 52 پال کے صدر ارون زیلدار نے کہا کہ برجمنڈل مذہبی یاترا ایک تاریخی یاترا ہے، جو 31 جولائی کو ہونے والے تشدد کی وجہ سے ادھوری رہ گئی۔ لیکن اب 28 اگست کو یہ یاترا میوات کے سرو ہندو سماج کی طرف سے دوبارہ نکالی جائے گی۔ وشو ہندو پریشد نے اس یاترا کو منظم شکل دی تھی۔ وہ اب بھی ایک ذیلی تنظیم کے طور پر ہمارے ساتھ رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ جی 20 جیسے اہم پروگراموں اور میوات میں فسادیوں پر پولیس کارروائی کے پیش نظر ہم انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں اور جلوس میں شریک لوگوں کی تعداد پر غور کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر وشو ہندو پریشد کے مرکزی جوائنٹ جنرل سکریٹری ڈاکٹر سریندر کمار جین نے کہا کہ اس بار میوات کے ہندو سماج نے عزم کے ساتھ یاترا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی وجہ سے وشو ہندو پریشد میوات سے باہر ہندو سماج کو مدعو نہ کرکے پوری ریاست کے لیے کا اعلان کر رہی ہے۔ اس دن ریاست کے ہر بلاک میں شیو مندر میں جل ابھیشیک کا پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ اس پروگرام میں وہاں کی ہندو سوسائٹی حصہ لیں گی۔

بتا دیں کہ نوح انتظامیہ نے 25 سے 29 اگست تک انٹرنیٹ سروس اور بلک ایس ایم ایس پر پابندی لگا دی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے تشدد اور ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔ اس دوران صرف کالنگ سروس کام کرے گی۔

پولیس کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ بھی حرکت میں آگئی۔ نوح کے ڈپٹی کمشنر دھیریندر کھڈگتا نے بتایا کہ نوح میں اسکول، کالج اور بینک پیر کو یعنی آج  بند رہیں گے۔ یہ فیصلہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔

برج منڈل یاترا گزشتہ ماہ کی آخری تاریخ یعنی 31 جولائی کو ہریانہ کے میوات نوہ میں نکالی گئی تھی۔ اس یاترا  کے دوران تشدد بھڑک اٹھا ۔ کچھ ہی دیر میں یہ دونوں برادریوں کے درمیان تشدد میں بدل گیا۔ سینکڑوں کاروں کو آگ لگا دی گئی۔ سائبر پولیس اسٹیشن پر بھی حملہ کیا گیا۔ شرپسندوں نے پولیس اہلکاروں پر بھی حملہ کیا۔ نوح کے بعد سوہنا میں بھی پتھراؤ اور فائرنگ کی گئی۔ گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ اس کے بعد تشدد کی آگ نوح سے فرید آباد اورگروگرام تک پھیل گئی۔

نوح کے تشدد میں دو ہوم گارڈز سمیت چھ افراد مارے گئے تھے۔ اس کے بعد نوح، فرید آباد، پلول سمیت کئی مقامات پر انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ نوح میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کی جانب سے نو منتخب ڈائریکٹر سی سی آر یو ایم ڈاکٹر این ظہیر احمد کو استقبالیہ

0
آل-انڈیا-یونانی-طبی-کانگریس-کی-جانب-سے-نو-منتخب-ڈائریکٹر-سی-سی-آر-یو-ایم-ڈاکٹر-این-ظہیر-احمد-کو-استقبالیہ

نئی دہلی: آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے زیر اہتمام نئی دہلی کے رفیع مارگ پر واقع کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس کی صدارت پروفیسر مشتاق احمد نے کی۔پروگرام کا آغاز ڈاکٹر نعیم رضا کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر خبیب احمد نے بخوبی انجام دئے، جبکہ پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر طبی کانگریس کے سر پر ست ڈاکٹر سید فاروق،پروفیسر مشتاق احمد، ڈاکٹر عارف زید ی، پروفیسر ادریس احمد پر نسپل یونانی طبی کالج قرول باغ نے شرکت کی۔پروگرام کے روح رواں آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں تھے۔ پروگرام میں ڈاکٹر این ظہیر احمد، ڈائریکٹر آف جنرل سی سی آریو ایم منسٹری آف آیوش گورنمنٹ آف انڈیا کو شاندار استقبالیہ دیا گیا۔جس کو ڈاکٹر ظہیر نے خوشی خوشی قبول کیا۔

اس موقع پرڈاکٹر ادریس نے کہا کہ آج ہمارے لئے بے حد مسرت کی بات ہے کہ ہمارے حلقہ میں سے ایک دوست بڑے عہدے پر فائز ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ این ظہیر احمد کا وصف یہ ہے کہ انہوں نے چنئی میں رہتے ہوئے طب کی دنیا میں جو ریسرچ کی ہے وہ قابل ستائش بھی ہے اور قابل فخر بھی۔ ان کی اسی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے انہیں ڈائریکٹر جنرل بنایا ہے۔ہمیں امید ہے کہ ان کی صلاحیتو ں سے یونانی کو مزید فروغ ملے گا۔

ڈاکٹر این ظہیر نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں طب کو بڑے پیمانے پر فروغ دینا ہے تو اس کی نصابی کتابوں کوہمیں انگریزی، ہندی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنا ہوگا۔ چونکہ جب کوئی فرد بیرون سے طب سیکھنے آتا ہے اس کو اس طریقہ علاج کی کتابیں انگریزی میں نہیں ملتی جس کے سبب یونانی کا دائرہ آج تک محدود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اُردو زبان کا مخالف نہیں ہوں اُردو ہماری بنیاد ہے لیکن بدلتے ہوئے دور کے ساتھ ہمیں انگریزی زبان کا استعمال یونانی ادویات میں کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر این ظہیر نے سوشل میڈیا کی اہمیت و افادیت پر کہا کہ ہمیں منسٹری آف آیوش کے پورٹل پر اپنا اندراج ضرور کرانا چاہئے تاکہ معلوم ہوسکے کہ یونانی کے ڈاکٹر کتنے لوگوں کا اعلاج کر رہے ہیں اور لوگوں کو اس پیتھی سے کتنا فائدہ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم یونانی سے جڑی تنظیموںکے ذمہ داران سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ یونانی کا سائنٹیفکلی فروغ کیا جاسکے۔

ڈاکٹر عارف زیدی نے یونانی کے فروغ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ طب یونانی کا فروغ تبھی ممکن ہے جب ہم زمانے کے ساتھ اس پیتھی میں بدلاﺅ کریں گے۔ ہمیں آج اس بات پر غور و فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے یونانی ادویات کا استعمال کون کون لوگ زیادہ کرتے ہیں۔ تاہم اس کادائرہ بڑھانے کیلئے تکنیک کا استعمال بے حد ضروری ہے تاکہ مریض پوری طرح سے مطمئن ہو سکے۔ ڈاکٹر زیدی نے ڈاکٹر این ظہیر احمد کی شخصیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ظہیر اچھے ریسرچر بھی ہیں اور کلینیشن بھی اور یونانی کے خدمتگار بھی ان کی دیکھ ریکھ میں یونانی کو مزید بلندی ملے گی۔

ڈاکٹر سید فاروق نے اپنے خطاب میں کہا کہ سب سے پہلے میں چندریان 3 کامیابی پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں کہ ہمارے سائنس دانوں کی کڑی محنت رنگ لائی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان میں لوگ سائنس کی طرف لوگ دیکھ رہے ہیں اور ہر شعبہ میں ریسرچ کا کام آگے بڑھ رہا ہے اور نئی نئی تحقیقات سے پر دے اٹھ رہے ہیں۔ ادویات کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ یوں تو ہمارے یہاں پیشتر ادویات موجود ہیں لیکن ان ادویات پر ریسرچ کا کام نہیں ہو پارہا ہے۔ نیز ہمیں ادویات پر ریسرچ کے ساتھ ساتھ ان کا ڈاکومینٹیشن کرانا ضروری ہے۔

پروفسر مشتاق احمد نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کی کاوشوں سے یونانی کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی ہے اور آگے بھی ہم اسی طرح یونی کے فروغ کیلئے کام کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے کہ ڈاکٹر این ظہیر احمد نے بڑی ذمہ داری سنبھالی ہے ہمیں اُمید ہے پانچ سال کی مدت کار میں طب یونانی کا خوب فروغ ہوگا۔پروگرام کے اخیر میں ڈاکٹر لائق علی نے اظہار تشکر کیا۔اہم شرکاءمیں حکیم آفتاب، عمران قنوجی، ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹر فہیم ملک، ڈاکٹر خورشید احمد شفقت اعظمی، کے نام قابل ذکر ہیں۔