بدھ, اپریل 1, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 160

مظفرنگر: مسلم بچے کی پٹائی معاملہ میں محکمہ تعلیم کی کارروائی، اسکول بند کرنے کا حکم جاری!

0
مظفرنگر:-مسلم-بچے-کی-پٹائی-معاملہ-میں-محکمہ-تعلیم-کی-کارروائی،-اسکول-بند-کرنے-کا-حکم-جاری!

مظفر نگر: ہوم ورک نہ کرنے پر مسلم بچے کی کلاس کے دوسرے طلبا سے پٹائی کرنے کے معاملہ میں محکمہ تعلیم نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسکول (نیہا پبلک اسکول) سے جواب طلب کیا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک اسکول کو بند رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اے بی پی نیوز کی رپورٹ کے مطابق منصورپور کے اسکول میں طالب علم کی پٹائی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکول کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسکول کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے اس حوالہ سے بھی نوٹس بھیج دیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے اسکول کے معیار کے حوالے سے کئی نکات پر جواب طلب کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تحقیقات مکمل ہونے تک اسکول بند کرنے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔ بی ایس اے نے کہا کہ اسکول نہیں چلایا جاسکتا، بلاک ایجوکیشن آفیسر اسکول کے طلبہ کو دوسرے اسکول میں داخل کرائے گا۔

خیال رہے کہ منصورپور کے اسکول میں مسلم بچے کی پٹائی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ریاستی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔ پولیس نے اس معاملے پر ملزم خاتون ٹیچر کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی ہے۔ اس معاملے کے حوالے سے پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کھباپور گاؤں میں واقع اسکول کی ٹیچر نے ہوم ورک نہ کرنے پر کلاس کے دیگر طلبا سے ایک طالب علم کی پٹائی کرانے اور اس کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کرنے کے معاملہ میں بچے کے والد نے تحریر دی ہے۔

وہیں، سوشل میڈیا پر ہنگاممہ آرائی کے بعد ٹیچر ترپتا تیاگی نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے وضاحت کی۔ اس نے کہا ’’میرا مقصد کسی کے مذہبی اور سماجی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ ویڈیو کو کاٹ کر سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ہے۔ میں معذور ہوں اس لیے بچوں کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔‘‘

راہل گاندھی کی ان کہی کہانی

0
راہل-گاندھی-کی-ان-کہی-کہانی

گزشتہ دنوں سینئر صحافی نیرجا چودھری کی ایک کتاب شائع ہوئی ہے ”ہاؤ پرائم منسٹرس ڈیسائڈ“۔ یعنی وزرائے اعظم کیسے فیصلہ کرتے ہیں۔ نیرجا چودھری ایک غیر جانبدار صحافی، تجزیہ کار اور مبصر ہیں۔ وہ گزشتہ پچاس برسوں سے صحافت سے وابستہ ہیں اور انھیں متعدد حکومتی و سیاسی فیصلوں کو بذات خود دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں چھ وزرائے اعظم کے کام کے طریقوں اور فیصلوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور مذکورہ کتاب میں بیان کر دیا۔ یہ چھ وزرائے اعظم ہیں: اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، وی پی سنگھ، نرسمہا راؤ، اٹل بہاری واجپئی اور ڈاکٹر من موہن سنگھ۔

انھوں نے چھ اہم تاریخی فیصلوں کی روشنی میں ان وزرائے اعظم کے کاموں کا جائزہ لیا ہے۔ یہ فیصلے ہیں: 1977 میں شرمناک شکست کے بعد اندرا گاندھی کے ذریعے 1979 میں جنتا پارٹی کو توڑنے اور دوبارہ اقتدار میں واپسی کے لیے اختیار کردہ حکمت عملی۔ راجیو گاندھی کے ذریعے شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹنا۔ اپنی حکومت بچانے کی خاطر وی پی سنگھ کی جانب سے منڈل کمیشن کا نفاذ۔ نرسمہا راؤ کا وہ فیصلہ جس کے نتیجے میں بابری مسجد کا انہدام ہوا۔ تیزی سے تغیر پذیر سیاسی صورت حال میں اٹل بہاری واجپئی کا نیوکلیئر دھماکے کا فیصلہ اور ڈاکٹر من موہن سنگھ کا امریکہ کے ساتھ تاریخی نیوکلیائی معاہدہ۔

نیرجا چودھری نے اپنی کتاب میں سونیا گاندھی کی جانب سے وزیر اعظم کے منصب کو اختیار نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں بھی لکھا ہے اور جو کچھ لکھا ہے اسے بہت کم لوگ جانتے ہیں بلکہ شاید کوئی نہیں جانتا۔ انھوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا، کس کے کہنے پر کیا اور اس سے راہل گاندھی کا کیا تعلق ہے اس پر بڑے جذباتی انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ سینئر صحافی آشوتوش نے اپنے ایک مضمون میں اس کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ راہل گاندھی پختہ عزم و ارادے کے مالک ہیں اور وہ جو فیصلہ کر لیتے ہیں اس کو کوئی بھی نہیں بدلوا سکتا۔

نیرجا چودھری ڈاکٹر من موہن سنگھ کو وزیر اعظم بنائے جانے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ سونیا گاندھی سوفے پر بیٹھی تھیں۔ پرینکا گاندھی اور من موہن سنگھ بھی تھے۔ اتنے میں سمن دوبے وہاں پہنچتے ہیں۔ سونیا گاندھی پریشان لگ رہی تھیں۔ دریں اثنا راہل گاندھی داخل ہوتے ہیں اور ہم سب کے سامنے اپنی ماں سے کہتے ہیں کہ میں آپ کو وزیر اعظم نہیں بننے دوں گا۔ میرے والد کو قتل کیا گیا، میری دادی کو قتل کیا گیا، چھ ماہ میں آپ بھی ہلاک کر دی جائیں گی۔ وہ لکھتی ہیں کہ راہل گاندھی نے دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی بات نہیں مانیں گی تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

نیرجا سابق مرکزی وزیر اور نہرو گاندھی خاندان کے معتمد نٹور سنگھ کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ یہ کوئی معمولی دھمکی نہیں تھی۔ راہل ایک مضبوط قویٰ کے انسان ہیں۔ انھوں نے اپنی ماں کو فیصلہ کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کا وقت دیا۔ جیسا کہ دنیا جانتی ہے کہ پھر سونیا گاندھی وزیر اعظم نہیں بنیں۔ انھوں نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کو وزیر اعظم بنا دیا۔ وہ کانگریس میں تھے لیکن کوئی بڑا سیاسی قد نہیں رکھتے تھے۔ اس وقت راہل گاندھی کی عمر انیس سال تھی۔ اور اگر اس وقت انھوں نے اصرار کیا ہوتا کہ ان کی والدہ ہی وزیر اعظم بنیں گی تو اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ کسی عظیم شخص کے لیے بھی وزیر اعظم کا منصب ٹھکرانا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن راہل گاندھی نے سونیا گاندھی کو پی ایم نہیں بننے دیا۔

آشوتوش لکھتے ہیں کہ چند کو چھوڑ کر باقی تمام صحافیوں نے راہل گاندھی کی اس خوبی کو نظرانداز کیا۔ انھوں نے انھیں ایک کمزور اور جھجکنے والا یا متزلزل سیاست داں قرار دیا۔ لیکن ابتدائی جھجک کے بعد ان کے اس نظریے میں وضاحت اور شفافیت آگئی ہے کہ وہ کانگریس کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں اور مودی کی زیرقیادت بی جے پی سے اسے کس طرح مقابلہ کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا معاملہ سامنے آیا اور نہ صرف یہ کہ ان کی لوک سبھا کی رکنیت چلی گئی بلکہ ان سے ان کا بنگلہ بھی چھین لیا گیا، اگر وہ چاہتے تو معافی مانگ کر اس بے عزتی سے بچ جاتے جو ان کے حصے میں آنے والی تھی۔ لیکن وہ اپنے موقف پر قائم رہے اور اس کا نتیجہ جس شکل میں بھی نکلے اس کے لیے تیار ہو گئے۔

ان کے خیال میں راہل گاندھی کی شخصیت کو پہچاننے کے بارے میں ایماندارانہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس میں کچھ ان کی خامی تھی تو بہت کچھ ان کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈے کا ہاتھ تھا۔ اس دوران ایک ایسا سیاسی ماحول بنا دیا گیا کہ جس میں اپوزیشن پارٹیوں اور ان کے رہنماؤں کے بارے میں حقیقت پسندانہ جائزہ گناہ سمجھا جانے لگا اور مودی پر تنقید اہانت مان لی گئی۔ راہل گاندھی نے یہ محسوس کیا کہ کانگریس ایک گہرے بحران میں مبتلا ہے اور اس بحران سے اسے نکالنے اور اس کی صحت کو ٹھیک کرنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے یہ محسوس کیا کہ پارٹی کو سڑک پر اتارنے اور اس میں نیا جوش بھرنے کے لیے ضروری ہے کہ نہرو گاندھی فیملی پچھلی نشست پر بیٹھے اور ڈرائیونگ سیٹ پر کسی اور کو بٹھایا جائے۔ البتہ یہ فیملی پس پشت رہ کر حوصلہ اور جوش بھرتی رہے۔

راہل گاندھی کو سمجھنے کے لیے سیاسی تناطر کو سمجھنا ضروری ہے۔ بد عنوانی کے خلاف انا ہزارے کی کامیاب تحریک کے بعد راہل گاندھی کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ ڈاکٹر من موہن سنگھ کی جگہ پر وزیر اعظم بن جاتے اور اس وقت یہ افواہ تھی کہ راہل گاندھی من موہن سنگھ کو ہٹا کر حکومت اور کانگریس کو بچا سکتے ہیں۔ اگر ان کے اندر اپنے چچا سنجے گاندھی کے عزائم کا ذرا بھی انش ہوتا تو وہ یہ کام کر ڈالتے۔ ایمرجنسی کے دوران سنجے گاندھی کی عمر بیس سال کے آس پاس تھی۔ اس وقت وہ اندرا گاندھی کے بعد دوسرے طاقتور سیاست داں تھے۔ ادھر یو پی اے کی دس سالہ حکومت میں راہل گاندھی ممبر آف پارلیمنٹ تھے۔ لیکن انھوں نے کبھی اس کا اظہار نہیں کیا کہ وہ اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔

2019 کے پارلیمانی انتخابات میں جب کانگریس کی شکست ہوئی تو وہ پارٹی صدر تھے۔ انھوں نے اس شکست کی ذمہ داری لیتے ہوئے صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ ان پر بہت دباؤ پڑا مگر انھوں نے استعفیٰ واپس نہیں لیا۔ انھوں نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ ان کے خاندان سے بھی کوئی وزیر اعظم نہ بنے۔ اگر وہ اقتدار کے بھوکے ہوتے تو صدارت سے استعفیٰ نہیں دیتے۔ تقریباً ہر پارٹی کسی ایک خاندان کے ارد گرد گھومتی ہے اور کوئی بھی نیتا الیکشن ہارنے کے بعد پارٹی کی باگ ڈور دوسرے ہاتھ میں نہیں سونپتا۔ آج اگر ملکارجن کھڑگے کی قیادت میں کانگریس بہتر پوزیشن میں نظر آرہی ہے تو اس کا سہرا راہل گاندھی کے سر جاتا ہے۔ انھوں نے متعدد صحافیوں اور سیاست دانوں کی قیاس آرائیوں کو جھوٹا ثابت کرتے ہوئے تقریباً چار ہزار کلو میٹر تک پیدل یاترا کی۔ بھارت جوڑو یاترا نے ہی پارٹی کے اندر نیا جوش پیدا کیا ہے۔

آج ایسی افواہ ہے کہ راہل گاندھی اپوزیشن کے اتحاد ”انڈیا“ کی قیادت کرنے کے سنجیدہ دعوے دار ہیں۔ اس افواہ کا مقصد اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات پیدا کرانا ہے۔ کھڑگے نے واضح طور پر کہا ہے کہ کانگریس کو وزیر اعظم کے عہدے میں دلچسپی نہیں ہے۔ ان کے بقول ہم صرف بی جے پی کو ہرانا چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی بھی یہ بات کہہ چکے ہیں۔ پارلیمانی انتخاب کا وقت قریب آتا جا رہا ہے۔ الیکشن میں عوام کا کیا فیصلہ ہوگا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اب کوئی بھی راہل کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں بی جے پی کی جانب سے راہل پر حملہ تیز کر دیا جائے گا۔

‘چاند کو ہندو سناتن راشٹر، شیو شکتی پوائنٹ کو اس کی راجدھانی قرار دیں!’ سوامی چکرپانی کا مودی سے مطالبہ

0
‘چاند-کو-ہندو-سناتن-راشٹر،-شیو-شکتی-پوائنٹ-کو-اس-کی-راجدھانی-قرار-دیں!’-سوامی-چکرپانی-کا-مودی-سے-مطالبہ

نئی دہلی: چندریان 3 کی کامیاب لینڈنگ کے بعد ملک بھر میں جشن کا ماحول ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس جگہ پر چندریان 3 اترا ہے اسے شیو شکتی پوائنٹ کے نام سے جانا جائے گا۔ اب آل انڈیا ہندو مہاسبھا/سنت مہاسبھا کے قومی صدر سوامی چکرپانی کا بیان سامنے آیا ہے۔

سوامی چکرپانی مہاراج نے کہا کہ چاند کو پارلیمنٹ میں ہندو سناتن راشٹر قرار دیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ چندریان-3 کے لینڈنگ کی جگہ ‘شیو شکتی پوائنٹ’ کو اس کی راجدھانی کے طور پر تیار کیا جائے، تاکہ ’جہادی ذہنیت کا حامل‘ کوئی ’دہشت گرد‘ وہاں نہ پہنچ سکے۔

سوامی چکرپانی نے کہا ’’میں وزیر اعظم نریندر مودی کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے چاند پر چندریان-3 کے لینڈنگ کی جگہ کو ‘شیو شکتی پوائنٹ’ کا نام دیا اور اس کا اعلان کیا لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ اس سے پہلے کہ کسی دوسرے نظریے کے لوگ اور دوسرے ممالک کے لوگ وہاں جا کر غزوہ ہند کا اعلان کرے، پارلیمنٹ سے قرارداد پاس کر کے چاند کو ہندو راشٹر قرار دیا جائے اور ‘شیو شکتی پوائنٹ’ کو وہاں کی راجدھانی بنایا جائے۔

چکرپانی نے کہا کہ ہندو سناتنیوں کا چندا ماما سے پرانا رشتہ ہے۔ ہمارے صحیفوں میں چاند کے حوالے سے بہت سے حوالہ جات موجود ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ چاند کی پاکیزگی اور تقدس قائم رہے، اس لیے ایک قرارداد منظور کر کے چاند کو ہندو سناتن راشٹر قرار دیا جائے!

منی پور تشدد: کانگریس کی وزیر اعظم مودی پر تنقید، ’کیا سماجی ہم آہنگی بگاڑنے والوں کو سخت وارننگ دی جائے گی؟‘

0
منی-پور-تشدد:-کانگریس-کی-وزیر-اعظم-مودی-پر-تنقید،-’کیا-سماجی-ہم-آہنگی-بگاڑنے-والوں-کو-سخت-وارننگ-دی-جائے-گی؟‘

نئی دہلی: کانگریس نے منی پور معاملے پر ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کیا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ وزیر اعظم کو ان لوگوں کو خبردار کرنا چاہئے جو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو خراب کرتے ہیں۔

کانگریس نے کہا کہ ’’آج آپ کی 104ویں ‘من کی بات’ ہے۔ آپ نے اسرو، جی20 اور دوسری بات کی لیکن کیا منی پور کے لیے کچھ مرہم، کچھ ہیلنگ ٹچ ہوگا؟‘‘

وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے لکھا ’’کیا قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں اور سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے والوں کو سخت وارننگ دی جائے گی؟”

اس سے قبل قومی دارالحکومت میں موجود وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے کہا ’’ریاست میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔‘‘ خیال رہے کہ منی پور میں 3 مئی کو نسلی تنازعہ شروع ہوا تھا اور اس کے بعد سے اب تک سو سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جب کہ ہزاروں افراد ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

زرمبادلہ کے ذخائر 7.3 ارب ڈالر کم ہو کر 594.9 ارب ڈالر رہ گئے

0
زرمبادلہ-کے-ذخائر-73-ارب-ڈالر-کم-ہو-کر-594.9-ارب-ڈالر-رہ-گئے

ممبئی: غیر ملکی کرنسی اثاثوں، سونا، خصوصی ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے 18 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 7.3 بلین ڈالر کم ہو کر 594.9 بلین ڈالر رہ گئے جبکہ اس کے پچھلے ہفتے میں یہ 708 ملین ڈالر کے اضافے سے 602.2 بلین ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔

ریزرو بینک کے جاری کردہ ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی کرنسی کے اثاثے، جو کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا سب سے بڑا جزو ہے، 18 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں 66 ملین ڈالر کی کمی کے ساتھ 527.8 بلین ڈالر رہ گئے تھے۔ اسی طرح اس عرصے کے دوران سونے کے ذخائر 515 ملین ڈالر کم ہو کر 43.8 بلین ڈالر رہ گئے۔

زیر نظر ہفتے کے دوران خصوصی ڈرائنگ کے حقوق میں 119 ملین ڈالر کی کمی ہوئی اور وہ کم ہو کر 18.2 بلین ڈالر پر آ گئے۔ اسی طرح اس عرصے کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ذخائر 25 ملین ڈالر کم ہو کر 5.07 بلین ڈالر رہ گئے۔

جی-20 اجلاس سے قبل دہلی میں خالصتان حامیوں کی حرکت، میٹرو اسٹیشنوں پر لکھے ملک مخالف نعرے

0
جی-20-اجلاس-سے-قبل-دہلی-میں-خالصتان-حامیوں-کی-حرکت،-میٹرو-اسٹیشنوں-پر-لکھے-ملک-مخالف-نعرے

نئی دہلی: جی-20 سربراہی اجلاس سے قبل خالصتانیوں کی حرکت منظر عام پر آئی ہے۔ دہلی میٹرو کے پانچ مختلف اسٹیشنوں پر ملک مخالف نعرے لکھے گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں کارروائی شروع کر دی ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق دہلی کے 5 سے زیادہ میٹرو اسٹیشنوں کی دیواروں پر نعرے لکھے گئے ہیں۔

دہلی کے مہاراجہ سورجمل اسٹیڈیم میٹرو اسٹیشن کی دیوار پر بھی خالصتان کے حق میں نعرے لکھے پائے گئے۔ اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور انہیں دیوار سے مٹا دیا۔ نیچے دیے گئے لنک میں ویڈیو دیکھی جا سکتی ہے۔

دہلی پولیس کے مطابق جی-20 سربراہی اجلاس سے قبل سکھ فار جسٹس (ایس ایف جے) نے دہلی میٹرو اسٹیشنوں کی فوٹیج جاری کی ہے۔ ان پر خالصتان کے حق میں نعرے درج ہیں۔ ایس ایف جے کارکنوں کو شیواجی پارک سے پنجابی باغ تک دہلی کے کئی میٹرو اسٹیشنوں پر خالصتان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اسٹیشنوں پر ‘دہلی بنے گا خالصتان’ اور ‘خالصتان زندہ باد’ لکھا گیا ہے۔

امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توسیع کی ہندوستان کی مانگ کا پرزور حامی: امریکی سفیر

0
امریکہ-اقوام-متحدہ-کی-سلامتی-کونسل-کی-توسیع-کی-ہندوستان-کی-مانگ-کا-پرزور-حامی:-امریکی-سفیر

نئی دہلی: امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توسیع کی ہندوستان کی مانگ کی پرزور حمایت کرتا ہے۔ ہمیں ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو وقت کے تقاضوں کو پورا کریں۔ ہندوستان میں امریکی سفیر ایرک گارسیٹی نے یو این آئی اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹریو میں یہ بات کہی۔

اس سوال پر کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی مستقل رکنیت میں کس طرح کی رکاوٹیں ہیں اور یہ کہ ہندوستان کب تک اسکا رکن بن سکتاہے، ہندوستان میں امریکہ کے سفیر نے کہاکہ’’ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توسیع کی ہندوستان کی مانگ کی پرزور حمایت کرتا ہے ۔ ہمیں ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو وقت کے تقاضوں کوپورا کریں ۔ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں نئے ممالک آگے بڑھ رہے ہیں ،ہم نے برکس سربراہ کانفرنس میں دیکھا،صرف چھوٹے گروپوں میں ہی نہیں بلکہ اصل گروپ اقوام متحدہ میں بھی خطوں اور ملکوں کی طاقت اور اہمیت کی یکساں طورپر عکاسی ہونی چاہئے ۔‘‘

انھوں نے کہاکہ ’’ اقوام متحدہ میں ضابطے ہیں، اور ہم زیادہ سے زیادہ ووٹوں کے حصول کی کوشش میں ہندوستان کے بھرپور حامی ہیں، لیکن بنیادی طور پر،بدقسمتی سے ،امریکہ نہیں ،بلکہ کسی اورملک کی طرف سے اعتراض ہوتارہاہے اور ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ مزید ممالک یہ دیکھیں گے کہ جی -20 کے بعد ہندوستان کی قیادت کتنی اہم ہے، اور مجھے امید ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ حامیوں کواپنی طرف کرنے کی ہندوستان کی مہم میں مدد ملے گی، اور یہ کہ ایک دن جلد ہی ہم بالآخر اسے سچ ہوتا دیکھ سکیں گے۔ ‘‘

ہندوستان کی جی -20صدارت کو وہ کس طرح دیکھتے ہیں ، اس سوال پر مسٹر ایرک گارسیٹی نے کہاکہ ’’ یہ حیرت انگیز رہی ہے۔ میں بہت متاثر ہوا ہوں۔ میں مختلف شہروں کودیکھ کر متاثر ہوا ہوں۔ میں جغرافیائی وسعت سے متاثر ہوا ہوں، لیکن میں اس میں پائی جانے والی اصل گہرائی سے بھی متاثر ہوا ہوں، چاہے وہ ٹکنالوجی ہو، ثقافت ہو، تجارت ہو، سیاحت ہو، فنون ہو،سکیورٹی ہو،داخلی سکیورٹی ہو۔ ہم نے 60شہروں میں بہت سے موضوعات کودیکھا اور ہندوستان اس میں خوبصورتی کےساتھ کامیاب ہواہے ہندوستان نے اس میں دنیا بھر سے لوگوں کو جمع کیا ہے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ہندوستان ماضی اور مستقبل کے درمیان، مشرق اور مغرب کے درمیان، شمال اور جنوب کے درمیان ایک عظیم کڑی رہا ہے۔ ہم دنیا کے لیے نہ صرف ایک کامیاب جی -20 دیکھنا چاہتے ہیں، بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، ماحولیات اور متبادل ادویات جیسے شعبوں میں ہندوستان کی قیادت مستحکم ہو۔ ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ہندوستانی اقدار دنیا کی بہتری میں کس طرح معاون ہو سکتی ہیں۔ ‘‘

اس سوال پر کہ ہندوستان اور امریکہ اس وقت ایک قریبی اتحادی اور اسٹریٹجک شراکت دار ہیں ، امریکی سفیر نے کہاکہ ’’ مجھے لگتا ہے کہ ہم نے شروعات کی ہے ، امریکہ نے ہندوستان کی آزادی کی وکالت کی تھی۔ صدر روزویلٹ نے ونسٹن چرچل کے ساتھ ایک اہم کردار ادا کیا، اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم ایک طویل عرصے سے فطری دوست رہے ہیں۔ لوگوں کے درمیان دوستی وقت کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی گئی ہے۔ امریکہ ہجرت کرنے والے ہندوستانی، امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی، اور کئی دہائیوں سے یہاں آنے والے امریکی، کمپنیاں اور لوگ۔ امریکی ثقافت یہاں ہر جگہ ہے۔ امریکہ میں ہندوستانی ثقافت کانظارہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ہر چار میں سے ایک امریکی شہری کا علاج ہندوستانی ڈاکٹر کرتا ہے۔ تو یہ اب ذاتی ہے، اور یہ ہمارے لیڈروں، وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن کے لیے ذاتی ہے۔ یہ ہماری حکومتوں کے لیے ذاتی ہے، اور یہ ہمارے لوگوں کے لیے ذاتی ہے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم فطری دوست ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس وقت ایک دوسرے کی ضرورت ہے، اقتصادی طورپر ، اسٹریٹجک طورپر ، اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ جب ہم ایک ساتھ ہوتے ہیں، تو یہ صرف دو ملکوں ہندوستان اور امریکہ کا قریب آنانہیں بلکہ مستقبل میں اس کے بے پناہ امکانات ہیں ۔ ‘‘

پاکستان سے ہونے والی سرحدپار دہشت گردی کا ہندوستان طویل عرصے سے شکار رہا ہے ، کیاامریکہ پاکستان میں دہشت گردوں پر پابندی لگانے اورانعام کا اعلان کرنے سے زیادہ کچھ کرے گا اس پر مسٹر گارسیٹی نے کہاکہ

’’ جب بات دہشت گردی کے خلاف ہونے کی آتی ہے تو ہم اپنے ہندوستانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ہم نے کبھی اتنے قریب ہوکر کام نہیں کیا جتنااب ہیں ، چاہے رانا کی حوالگی کا معاملہ ہو، چاہے خفیہ معلومات کا تبادلہ ہو، یا عالمی اداروں میں دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہونا ہو۔ اور اس معاملے میں ہماراموقف بہت واضح ہے ، چاہے وہ ہندوستان کے پڑوس میں ہو یا یہ دنیا میں کہیں بھی ہو، آپ جانتے ہیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اس کی حدود ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ پابندیاں، خفیہ معلومات کا تبادلہ، بین الاقوامی انصاف کا مطالبہ، آگے بڑھنے کے سب سے مضبوط راستے ہیں۔ لیکن پاکستان کے ساتھ ہم جڑے ہیں کیونکہ یہ دنیا کے لیے اہم ہے، اور یہ ہندوستان کے لیے بھی اہم ہے کہ وہاں ہمارا اثر رہے، اور ہم آواز اٹھاتے رہیں گے، جیسا کہ حالیہ مہینوں میں ہم نے پرزورطریقے سے پاکستان سے پنپنے والی دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے، جوہندوستان یا کسی دوسرے ملک کو متاثر کرسکتے ہیں ۔‘‘

ہندوستان میں اقلیتوں سے متعلق سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کے بیان کےبارے میں پوچھے جانے پر امریکی سفیر نے کہا ’’ ہم سب آزادی اظہار پر بہت پختہ یقین رکھتے ہیں۔ لوگوں کی اپنی رائے ہوسکتی ہے اور انھیں اسکے اظہار کی اجازت ہونی چاہئے، چاہے ہم ان سے اتفاق کرتے ہوں یا اختلاف ۔ لیکن میں یہ کہوں گا، جمہوریت اور گوناگونیت مشکل ہے، لیکن وہ متبادل سے بہتر ہیں۔ میں صرف ایک ثقافت یا مذہب یا روایت والے ملک کے بجائے ہندوستان یا ریاستہائے متحدہ امریکہ جیسے گوناگونیت والے ملک میں رہنا پسند کروں گا ۔ اور میں مطلق العنانیت میں رہنے کے بجائے جمہوریت میں رہنا پسند کروں گا۔ اور اس لیے میں امید کروں گا کہ ہمارے پاس اختلاف رائے کو قبول کرنے کی گنجائش اور جگہ ہو، لوگوں سے نہ بولنے کے لیے نہ کہیں ۔ میں نے ہمیشہ کہا، آپ کوجوبات پسند نہیں ہے اس سے اختلاف کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی بات کہنے کے حق کا استعمال کریں۔ ‘‘

مغربی بنگال کی پٹاخہ فیکٹری میں دھماکہ، 8 افراد ہلاک

0
مغربی-بنگال-کی-پٹاخہ-فیکٹری-میں-دھماکہ،-8-افراد-ہلاک

کولکاتا: مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ علاقے میں دتپکور کی پٹاخہ فیکٹری میں دھماکہ ہوا ہے جس میں 8 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ دھماکے سے کئی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ ایگرا، بج بج کے بعد اب ریاست کے دتپکور میں پٹاخے کی ایک غیر قانونی فیکٹری میں دھماکہ ہوا ہے۔ اے بی پی نیوز کی رپورٹ کے مطابق واقعے میں آٹھ لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے باراسات اسپتال لے جایا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ پٹاخوں کے یہ غیر قانونی کارخانے لیڈروں کی مدد سے چلائے جا رہے ہیں اور اس کے لیے پولیس کو رقم بھی دی جاتی ہے۔ اس واقعہ کے بعد مقامی لوگوں نے پٹاخوں کی ایک اور فیکٹری میں توڑ پھوڑ کی۔

اس سے قبل مئی کے شروع میں، مشرقی مدنی پور ضلع کے ایگرا میں ایک غیر قانونی پٹاخہ فیکٹری میں دھماکہ ہوا تھا۔ اس واقعے میں 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ ایگرا علاقہ اڈیشہ سرحد کے قریب ہے۔ معاملہ کے ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس واقعے کے مرکزی ملزم کی بعد میں اڈیشہ کے کٹک اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔ اس معاملے میں پولیس نے بتایا تھا کہ یہ ملزم دھماکے کے وقت وہاں موجود تھا اور 80 فیصد جھلس گیا تھا۔ پولیس جب اسے گرفتار کرنے کٹک پہنچی تو ہسپتال میں معلوم ہوا کہ اس کی موت ہو گئی ہے۔

دھماکے میں اپنے رشتہ داروں کو کھونے والے مقامی لوگوں نے الزام لگایا تھا کہ اس فیکٹری میں پٹاخے بنانے کی آڑ میں کروڈ بم تیار کیے جاتے ہیں۔ وہیں، مشرقی مدنی پور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) امرناتھ کے نے کہا تھا کہ ریاست میں کئی مقامات پر ایسی غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ کئی غیر قانونی فیکٹریوں کا بھی پتہ چلا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ریاستی پولیس کو ایسی غیر قانونی پٹاخہ فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم، اسی طرح کا ایک اور واقعہ منظر عام پر آیا ہے۔

اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے آئندہ اجلاس میں مستقبل کی سیاست سے متعلق کئی اہم فیصلے لیے جائیں گے: اسٹالن

0
اپوزیشن-اتحاد-’انڈیا‘-کے-آئندہ-اجلاس-میں-مستقبل-کی-سیاست-سے-متعلق-کئی-اہم-فیصلے-لیے-جائیں-گے:-اسٹالن

چنئی: تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے کہا ہے کہ اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ کے آئندہ اجلاس میں مستقبل کی سیاست سے متعلق کئی اہم فیصلے لیے جائیں گے۔ وہ اتوار کو یہاں ایک پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ بھارت کے اگلے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بدعنوانی پر بولنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔

اسٹالن نے کہا کہ ڈی ایم کے بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنا اتحاد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد ایک نظریاتی اتحاد ہے۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انڈیا فرنٹ اگلے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی قیادت والے اتحاد کو شکست دے گا۔

तमिलनाडु के मुख्यमंत्री एम.के. स्टालिन ने कहा है कि अगली ‘इंडिया’ की बैठक में भविष्य की राजनीति को लेकर कई महत्वपूर्ण निर्णय लिए जाएंगे। वह रविवार को यहां एक कार्यक्रम में बोल रहे थे।

सीएम ने कहा कि वे इंडिया की अगली बैठक में शामिल होंगे। मुख्यमंत्री ने कहा कि प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी को भ्रष्टाचार पर बोलने का कोई नैतिक अधिकार नहीं है।

स्टालिन ने कहा कि डीएमके वामपंथी राजनीतिक दलों के साथ अपना गठबंधन जारी रखेगी। उन्होंने कहा कि वाम दलों के साथ गठबंधन एक वैचारिक गठबंधन है। तमिलनाडु के मुख्यमंत्री ने कहा कि इंडिया फ्रंट अगले लोकसभा चुनाव में भाजपा के नेतृत्व वाले गठबंधन को हरा देगा।

من کی بات: چندریان 3 کو سب کی کوششوں سے کامیابی ملی، وزیر اعظم مودی

0
من-کی-بات:-چندریان-3-کو-سب-کی-کوششوں-سے-کامیابی-ملی،-وزیر-اعظم-مودی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ چندریان -3 کی کامیابی ملک کی اجتماعی کامیابی ہے اور ملک کو یہ کامیابی سب کی کوششوں سے حاصل ہوئی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اتوار کو آل انڈیا ریڈیو پر نشر ہونے والے اپنے ماہانہ پروگرام ‘من کی بات’ کے 104ویں ایپی سوڈ میں کہا کہ چندریان -3 کی کامیابی نے ملک کا سر فخر سے بلند کیا ہے اور اس کامیابی نے تہوار میں کئی گنا اضافہ کیا ہے، اس لیے مہم کی کامیابی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا، ”مشن چندریان-3 نئے ہندوستان کی شناخت بنا ہے۔ ہم چاند تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے کیونکہ آج ہمارے خواب بڑے ہیں اور ہماری کوششیں بھی بڑی ہیں۔ چندریان 3 کی کامیابی میں ہمارے سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے شاعرانہ انداز میں کہا، ’’23 اگست کو ہندوستان نے اور ہندوستان کے چندریان مشن نے ثابت کر دیا ہے کہ عزم کے کچھ سورج جانچ پر بھی طلوع ہوتے ہیں۔ مشن چندریان نئے ہندوستان کے اس جذبے کی علامت بن گیا ہے، جو ہر قیمت پر جیتنا چاہتا ہے اور یرقیمت پر جیتنا جانتا بھی ہے۔ ہندوستان کا مشن چندریان، ناری شکتی کی بھی زندہ مثال ہے۔ اس پورے مشن میں بہت سی خواتین سائنسدان اور انجینئرز براہ راست شامل رہی ہیں۔ انہوں نے مختلف سسٹمز کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، پروجیکٹر مینیجر جیسی کئی اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ ہندوستان کی بیٹیاں اب لامحدود خلا کو بھی چیلنج کر رہی ہیں۔

اس دوران وزیراعظم نے اپنی ایک نظم بھی سنائی۔ انہوں نے کہا، ’’ آج جب آپ سے بات کر رہا ہوں تو مجھے اپنی ایک پرانی نظم کی چند سطریں یاد آرہی ہیں۔

آسمان میں سر اٹھا کر

گھنے بادلوں کو چیر کر

روشنی کا سنکلپ لے

ابھی تو سورج اُگا ہے

درڑھ نشچئے کے ساتھ چل کر

ہر مشکل کو پار کر

گھور اندھیرے کو مٹانے

ابھی تو سورج اگا ہے

آسمان میں سر اٹھا کر

گھنے بادلوں کو چیر کر

ابھی تو سورج اگا ہے