بدھ, اپریل 1, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 158

چندریان-3: سمجھداری کے ساتھ آگے بڑھ رہا پرگیان رووَر، 4 میٹر کا گڈھا دیکھا تو فوراً بدل لیا راستہ!

0
چندریان-3:-سمجھداری-کے-ساتھ-آگے-بڑھ-رہا-پرگیان-رووَر،-4-میٹر-کا-گڈھا-دیکھا-تو-فوراً-بدل-لیا-راستہ!

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) لگاتار اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے چندریان-3 سے متعلق نئی نئی جانکاریاں دے رہا ہے۔ پیر کے روز اس نے ایک نئی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ 27 اگست کو چندریان-3 کے رووَر پرگیان کے سامنے 4 میٹر چوڑا ایک کریٹر (گڈھا) آ گیا۔ یہ گڈھا رووَر کے پاس سے تقریباً 3 میٹر آگے تھا۔ ایسے میں رووَر کا راستہ بدلنے کا کمانڈ دیا گیا۔ اب یہ محفوظ طریقے سے ایک نئے راستے پر بڑھ رہا ہے۔ یعنی کمانڈ ملتے ہی رووَر پرگیان نے فوراً اپنا راستہ بدل لیا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جب پرگیان نے اپنے قریب کریٹر کو دیکھ کر راستہ بدلا ہے۔ اس سے پہلے رووَر تقریباً 100 ملی میٹر کی گہرائی والے ایک چھوٹے کریٹر سے گزرا تھا۔ چاند پر رووَر کے آپریشن سنٹی میٹر-آٹونامس ہے۔ اسے چلانے کے لیے گراؤنڈ اسٹیشنوں کو کمانڈ کو اَپ لنک کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ رووَر کے راستے کی پلاننگ کے لیے رووَر کے آن بورڈ نیویگیشن کیمرہ ڈاٹا کو گراؤنڈ پر ڈاؤن لوڈ کیا جاتا ہے۔ پھر گراؤنڈ اور میکانزم ٹیم طے کرتی ہے کہ کون سا راستہ لینا ہے۔ اس کے بعد رووَر کو راستے کی جانکاری دینے کے لیے کمانڈ کو اَپ لنک کیا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح انسان کی آنکھیں ایک خاص دوری تک ہی دیکھ سکتی ہیں، ویسے ہی رووَر کے بھی حدود ہیں۔ رووَر کا نیویگیشن کیمرہ صرف 5 میٹر تک کی ہی تصویر بھیج سکتا ہے۔ ایسے میں ایک بار کمانڈ دینے پر یہ زیادہ سے زیادہ 5 میٹر کی دوری طے کر سکتا ہے۔

انسانیت شرمسار! مدھیہ پردیش میں دلت نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل، ظالموں نے اس کی ماں کو کیا برہنہ

0
انسانیت-شرمسار!-مدھیہ-پردیش-میں-دلت-نوجوان-کا-پیٹ-پیٹ-کر-قتل،-ظالموں-نے-اس-کی-ماں-کو-کیا-برہنہ

مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں دلتوں کے خلاف استحصال کے معاملے لگاتار بڑھتے جا رہے ہیں۔ انسانیت کو شرمسار کر دینے والا تازہ معاملہ ساگر ضلع میں پیش آیا ہے۔ یہاں سینکڑوں لوگوں کی بھیڑ نے ایک دلت کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا اور ظالموں نے اس کی ماں کو برہنہ کر کے علاقے میں گھمایا۔ بتایا جا رہا ہے کہ مہلوک دلت کی بہن اور دلت خاتون کی بیٹی نے 2019 کے ایک معاملے میں سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا تھا، اسی بات سے ناراض بھیڑ نے ان کے گھر پر حملہ بول دیا۔

بھیڑ نے مہلوک دلت کی بہن کو پیٹا اور جب اس کی ماں نے اسے حملہ آوروں سے بچانے کی کوشش کی تو انھیں بے لباس کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق اس معاملے کے 9 کلیدی ملزمین کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔ ان میں سے تین کے خلاف قتل کا الزام اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجیو اوئیکے کے مطابق اس معاملے میں 8 ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

مہلوک دلت نوجوان کی ماں نے دل دہلا دینے والے حادثہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’حملہ آوروں نے بیٹے کو اتنا پیٹا کہ اس کی موت ہو گئی۔ وہ بچ نہیں سکا۔ مجھے برہنہ کر دیا گیا۔ خبر ملنے کے بعد پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور جسم کو ڈھانکنے کے لیے ایک تولیہ دیا۔‘‘ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ وہ وہاں تولیہ سے اپنا جسم چھپائے کھڑی رہی جب تک کہ ساڑی نہیں دی گئی۔ دلت خاتون کا کہنا ہے کہ بھیڑ نے اس کے گھر میں خوب توڑ پھوڑ کی، یہاں تک کہ حملہ آوروں نے پختہ چھت کو بھی توڑ دیا۔ اس کے بعد حملہ آور اس کے دو دیگر بیٹوں کی تلاش میں دوسرے گھر میں گھس گئے۔

مہلوک دلت نوجوان کی چچی نے بتایا کہ کچھ لوگ ان کے گھر میں بھی گھس گئے اور ان کے شوہر اور بچوں کو دھمکی دی۔ انھوں نے کہا کہ حملہ آور میرے بچوں اور شوہر کا بھی قتل کرنے پر آمادہ تھے۔ حملہ آور ہمارے گھر میں گھسے اور فریز چیک کیا۔ ہم بہت ڈر گئے تھے، کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔

پولیس کے مطابق 2019 میں متاثرہ کی بہن نے دھمکی دینے اور پیٹنے کے الزام میں چار لوگوں کے خلاف کیس درج کرایا تھا۔ اس معاملے میں چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ کیس عدالت میں زیر التوا ہے۔ حملہ آور اس تعلق سے سمجھوتہ کے لیے دباؤ بنا رہے تھے۔ جب متاثرہ کی بہن سمجھوتہ کے لیے تیار نہیں ہوئی تو ان کے گھر پر حملہ کر دیا گیا۔

بہرحال، واقعہ کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ گاؤں میں پولیس فورس تعینات ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ضلع کلکٹر کے ذریعہ سرکاری منصوبوں کے تحت مدد کی یقین دہانی اور بدمعاشوں کی گرفتاری کی خبر دیے جانے کے بعد متاثرہ کنبہ نے مہلوک نوجوان کی آخری رسومات ادا کی۔

ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ میں ایشا، آکاش اور اننت کو بنایا گیا نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، نیتا امبانی کا استعفیٰ منظور

0
ریلائنس-انڈسٹریز-لمیٹڈ-میں-ایشا،-آکاش-اور-اننت-کو-بنایا-گیا-نان-ایگزیکٹیو-ڈائریکٹر،-نیتا-امبانی-کا-استعفیٰ-منظور

ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ (آر آئی ایل) میں آج کچھ انتہائی اہم فیصلے کیے گئے۔ ایشا، آکاش اور اننت امبانی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کے نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بن گئے ہیں۔ شیئر ہولڈرس کی منظوری کے بعد آر آئی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے پیر کے روز یعنی 28 اگست کو مکیش امبانی کے تینوں بچوں کو نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیتا امبانی کے استعفیٰ کو بھی بورڈ نے منظور کر لیا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ نیتا امبانی ریلائنس فاؤنڈیشن کی فاؤنڈر چیئرپرسن کے کردار میں بنی رہیں گی۔ ریلائنس فاؤنڈر کی چیئرپرسن کے طور پر نیتا امبانی آر آئی ایل بورڈ میٹنگوں میں شامل ہوتی رہیں گی۔ نیتا نے ریلائنس فاؤنڈیشن کو زیادہ وقت دینے کے لیے کمپنی کے بورڈ سے استعفیٰ دیا ہے۔

اس موقع پر مکیش امبانی نے کہا کہ وہ اگلے پانچ سال تک ریلائنس کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر بنے رہیں گے۔ امبانی نے بتایا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں بیوی کے ساتھ دادا-دادی بننے کا لطف لے رہے ہیں۔ انھوں نے خود کو تین ذمہ داریاں سونپی ہیں- (1) ریلائنس میں اگلی نسل کے سبھی لیڈرس کو تیار کرنا، (2) خاص طور سے آکاش، ایشا اور اننت کی رہنمائی کرنا، (3) پرانے ساتھیوں کے ساتھ کمپنی کے کلچر کو خوشحال کرنا۔

واضح رہے کہ اب تک آکاش، ایشا اور اننت تینوں بچے صرف آپریٹنگ بزنس سطح پر شامل تھے اور کوئی بھی ہندوستان کی سب سے بڑی لسٹیڈ کمپنی کے بورڈ میں نہیں تھے۔ کمپنی نے اسٹاک ایکسچینج فائلنگ میں کہا کہ ریلائنس کے بورڈ نے تینوں کی تقرری کو منظوری دی ہے۔ گزشتہ سال مکیش امبانی نے اپنے بڑے بیٹے آکاش امبانی کو ریلائنس جیو انفوکام لمیٹڈ کا چیئرمین بنایا تھا۔ ایشا امبانی ریلائنس ریٹیل کو سنبھال رہی ہے اور اننت امبانی نیو انرجی بزنس کو دیکھ رہے ہیں۔

بہرحال، نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کمپنی کے ڈے ٹو ڈے مینجمنٹ میں شامل نہیں ہوتے ہیں۔ یہ آزاد ایڈوائزر کی شکل میں کام کرتے ہیں۔ پالیسی میکنگ اور پلاننگ ایکسرسائز میں شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹرس اور مینجمنٹ کے کاموں پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ گزشتہ سال ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کی 45ویں اے جی ایم میں مکیش امبانی نے کہا تھا کہ ’’تینوں بچوں کو پوری طرح سے ہمارے بانی ممبران کی ذہنیت وراثت میں ملی ہے۔ انھیں ہمارے سینئر لیڈرس سے ڈیلی بیسس پر مینٹر کیا جاتا ہے۔ میں اور بورڈ آف ڈائریکٹرس بھی مینٹر میں شامل ہیں۔‘‘

نوح میں وی ایچ پی سے منسلک 51 لوگوں نے کیا جلابھشیک، 11 لوگوں نے سخت سیکورٹی کے درمیان نکالی یاترا!

0
نوح-میں-وی-ایچ-پی-سے-منسلک-51-لوگوں-نے-کیا-جلابھشیک،-11-لوگوں-نے-سخت-سیکورٹی-کے-درمیان-نکالی-یاترا!

ہریانہ کے نوح میں وی ایچ پی (وشو ہندو پریشد) لیڈروں کے ذریعہ برج منڈل یاترا نکالنے کی ضد بالآخر پوری ہو ہی گئی، حالانکہ یہ یاترا انتہائی محدود تعداد پر مشتمل وی ایچ پی لیڈران نے نکالی اور ان کے ساتھ سیکورٹی اہلکار بھی رہے تاکہ کسی بھی طرح کا خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وی ایچ پی، سروجاتیہ ہندو مہاپنچایت اور بجرنگ دل کی اپیل پر ہندو تنظیم آج دوبارہ برج منڈل یاترا نکالنے پر بضد رہے۔ ہریانہ حکومت اور نوح ضلع انتظامیہ نے اس یاترا کے لیے اجازت نہیں دی تھی، لیکن پیر کی صبح انتظامیہ نے نلہریشور مندر میں جلابھشیک کے لیے سادھو سَنتوں اور وی ایچ پی کے لوگوں کو اجازت دے دی۔

ہندی نیوز پورٹل ’بھاسکر ڈاٹ کام‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوح بائپاس سے پولیس 3 گاڑیوں سے 51 لوگوں کو نلہریشور مندر کے لیے لے کر نکلی۔ انھوں نے پٹودی آشرم کے مہامنڈلیشور سوامی دھرم دیو اور وی ایچ پی لیڈر آلوک کمار رائے کی قیادت میں جلابھشیک کیا۔ اس کے بعد کچھ لوگ فیروزپور جھرکا اور سنگار پہنچے۔ موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ لوگوں کو یاترا نکالنے کی اجازت دی گئی اور موصولہ اطلاعات کے مطابق سنگار کے رادھاکرشن مندر میں جلابھشیک کے بعد یاترا کا اختتام کر دیا جائے گا۔

اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ ہریانہ کے نوح میں برج منڈل یاترا کے دوران ڈیوٹی پر تعینات سَب انسپکٹر حاکم الدین کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا۔ حاکم الدین نوح میں بڑکلی چوک پر تعینات تھے۔ ان کی ڈیوٹی آر اے ایف ٹیم کے ساتھ لگائی گئی تھی۔ حاکم نگینہ تھانہ میں ایڈیشنل ایس ایچ او کے عہدہ پر تعینات تھے۔

بہرحال، وی ایچ پی کے ذریعہ برج منڈل یاترا نکالے جانے کی ضد کو دیکھتے ہوئے نہ صرف مقامی انتظامیہ نے سخت سیکورٹی کا انتظام کیا تھا، بلکہ مسلم طبقہ نے بھی بہت احتیاط کیا۔ اتوار کو ہی ضلع کے سبھی گاؤں میں مسجدوں سے اناؤنسمنٹ کرائی گئی کہ پیر کو یاترا کے پیش نظر مسلم طبقہ کے لوگ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ گاؤں میں کسی بھی جگہ 4 سے زیادہ لوگوں کے اکٹھا نہ ہونے اور لوگوں کے گاؤں سے باہر نہ جانے کی اپیل کی بھی کی گئی تھی۔

چارہ گھوٹالہ معاملے میں عدالت نے سنایا اپنا فیصلہ، 35 ملزمین بری اور 52 قصورواروں کو ملی 3 سال قید کی سزا

0
چارہ-گھوٹالہ-معاملے-میں-عدالت-نے-سنایا-اپنا-فیصلہ،-35-ملزمین-بری-اور-52-قصورواروں-کو-ملی-3-سال-قید-کی-سزا

ڈورنڈا ٹریزری سے جڑے چارہ گھوٹالہ معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے آج اپنا فیصلہ سنا دیا۔ سی بی آئی کے اسپیشل جج وشال شریواستو کی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا جس میں 125 ملزمین میں سے 35 کو بری کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق 52 کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 3 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ باقی ملزمین پر فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔

واضح رہے کہ بہار (جب جھارکھنڈ نہیں بنا تھا) میں جب چارہ گھوٹالہ ہوا تھا تو اس وقت ریاست کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو ہوا کرتے تھے۔ اس دران ڈورنڈا ٹریزری سے 36 کروڑ 59 لاکھ روپے ناجائز طریقے سے نکالے گئے تھے۔ یہ معاملہ 1990 سے 1995 کے دوران پیش آیا تھا۔ اس تعلق سے سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج وشال شریواستو کی عدالت میں بحث پوری ہو چکی ہے اور آج 87 (35 کو بری کیا گیا اور 52 کو 3 سال کی سزا ملی) ملزمین کے بارے میں فیصلہ سنا دیا گیا۔

دورنڈا ٹریزری معاملے میں 27 سال تک چلی سماعت کے دوران سی بی آئی کے اسپیشل پبلک پرازیکیوٹر روی شنکر نے مجموعی طور پر 616 گواہوں کا بیان درج کرایا ہے۔ اس معاملے میں اُس وقت کے سپلائر اور سابق رکن اسمبلی گلشن لال آجمانی سمیت 125 ملزمین نے ٹرائل کا سامنا کیا۔ ٹرائل کے دوران 62 ملزمین کا انتال ہو چکا ہے۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے مجموعی طور پر 192 ملزمین کے خلاف کیس درج کیا تھا۔ ان ملزمین میں سے 38 پبلک سرونٹس رہے ہیں، جن میں سے 8 ٹریزری کے افسر ہیں۔ 86 سپلائر معاملے میں ملزم ہیں۔ ملزمین میں 16 خواتین بھی شامل ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملزمین میں سب سے عمر دراز 90 سالہ ضلع مویشی پروری افسر ڈاکٹر گوری شنکر پرساد بھی شامل ہیں۔ ان میں 12 سے زیادہ ایسے لوگ بھی ہیں جن کی عمر 80 سال یا اس سے زیادہ ہے۔

نوح پہنچے وی ایچ پی لیڈر آلوک کمار کا جارحانہ انداز، کہا ’وزیر اعلیٰ کھٹر کی اپیل ناقابل قبول‘

0
نوح-پہنچے-وی-ایچ-پی-لیڈر-آلوک-کمار-کا-جارحانہ-انداز،-کہا-’وزیر-اعلیٰ-کھٹر-کی-اپیل-ناقابل-قبول‘

ہریانہ کے نوح میں برج منڈل یاترا پھر سے نکالے جانے کے اعلان کو پیش نظر رکھتے ہوئے مقامی انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہے۔ ہریانہ حکومت نے اس یاترا کی اجازت نہیں دی ہے، لیکن وی ایچ پی نے ہر حال میں برج منڈل یاترا نکالنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد نوح میں جگہ جگہ سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور دفعہ 144 بھی نافذ ہے۔ اس درمیان وی ایچ پی (وشو ہندو پریشد) لیڈر آلوک کمار نوح پہنچ گئے اور کہا کہ ’’میں نے اپنی زندگی میں ایڈمنسٹریشن کی اتنی بدانتظامی نہیں دیکھی۔ یہ افرا تفری ہے۔ ہمیں وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی اپیل قطعی قبول نہیں ہے۔ ہم لوگ جلابھشیک کریں گے اور یاترا بھی کریں گے۔‘‘

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وی ایچ پی لیڈر آلوک کمار کی ضد کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ اپنی سیکورٹی میں انھیں اور کچھ دیگر لوگوں کو لے کر نلہڑ مندر جلابھشیک کرانے کے لیے پہنچی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے ہر حال میں یہ یقینی بنانے کی کوشش کی کسی بھی طرح کا تشدد یا پھر اشتعال انگیزی پیش نہ آئے۔ ہریانہ کی ڈی جی پی ممتا سنگھ کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’نوح میں کسی بھی طرح کی یاترا کی اجازت نہیں ہے۔ تشدد کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔‘‘

دوسری طرف سَنت جگت گرو پرمہنس آچاریہ مہاراج کو انتظامیہ نے نلہڑ مندر جانے سے روک دیا۔ انھیں سوہنا ٹول پلازہ کے پاس روکا گیا۔ اس موقع پر جگت گرو پرمہنس نے کہا کہ ’’میں ایودھیا سے آیا ہوں۔ سبھی رام بھومی کی مٹی اور سریو اور سبھی پیٹھوں کا پانی لے کر یہاں پہنچا ہوں۔ مجھے بجرنگ دل کے جو کارکنان مارے گئے تھے اس جائے حادثہ پر خراج عقیدت پیش کرنی تھی اور سریو کے جل سے جلابھشیک کر کے واپس چلے جانا تھا۔ میرے ساتھ بہت سی گاڑیاں اور لوگ تھے، لیکن جب مجھے پتہ چلا کہ وہاں دفعہ 144 نافذ ہے تو میں نے سب کو واپس لوٹا دیا۔ اب صرف ہم دو تین لوگ وہاں جانا چاہتے تھے، لیکن ہمیں انتظامیہ نے روک لیا۔‘‘

جگت گرو پرمہنس آچاریہ مہاراج نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ جب انھوں نے سوہنا میں ہی جلابھشیک کر واپس لوٹنے کا ارادہ ظاہر کیا، تو اسے بھی منظور نہیں کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’جب ہم یہیں خراج عقیدت پیش کر کے واپس لوٹنا چاہ رہے تھے تو بھی ہمیں واپس نہیں جانے دیا جا رہا۔ میں اب یہاں تامرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گیا ہوں۔ جب تک خراج عقیدت اور جلابھشیک کے لیے مجھے اجازت نہیں ملے گی، تب تک میں یہاں بیٹھا رہوں گا۔‘‘

اس درمیان خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ نوح پولیس آس پاس کے علاقوں سے آئے عقیدتمندوں کو لے کر تین بسوں میں بھر کر نلہڑ مہادیو مندر پہنچی۔ وی ایچ پی لیڈر دیویندر یادو بھی ان عقیدتمندوں کے ساتھ بس میں سوار ہو کر مندر پہنچے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تقریباً 30 عقیدتمندوں کو پولیس نلہڑ مہادیو مندر لے کر گئی ہے۔

مودی ملازمین کے پرموشن کو بھی تقرری بتا کر تشہیر کرتے ہیں: کھڑگے

0
مودی-ملازمین-کے-پرموشن-کو-بھی-تقرری-بتا-کر-تشہیر-کرتے-ہیں:-کھڑگے

کانگریس صدر ملک ارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری ملازمین کو پروموشن لیٹر بانٹتے ہیں اوران کے ساتھ فوٹو کھینچوا کر انہیں بھی سرکاری ملازمت میں نئی تقرری بتاکر تشہیر کرتے ہیں۔

مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی صرف اپنی تشہیر میں یقین رکھتے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کو پروموشن لیٹر دے کر بھی انہیں نئی نوکریاں دینے کے طور پر تشہیر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’سالانہ دو کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرکے، مودی جی ماہانہ قسطوں کی شکل میں ہمارے نوجوانوں کو چند ہزار تقرری نامے بانٹ رہے ہیں۔ وہ آج بھی ایسے ہی لیٹر تقسیم کریں گے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ان میں سرکاری ملازمتوں میں پرموشن پانے والوں کے نام بھی ہیں۔

انہوں نے کہا، "مثال کے طور پر، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، موہالی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس سال اپریل میں، انسٹی ٹیوٹ نے 15 نئی تقرریاں کیں اور 21 افراد کو اونچے عہدوں پر ترقی دینے کی منظوری دی۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے اپریل 2023 میں اپنے جواب میں کہا تھا کہ 38 لوگوں کو تقرری نامے جاری کیے گئے ہیں۔ ان 38 افراد میں 18 پروموشن والے ملازمین شامل ہیں۔

کانگریس صدر نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "مودی جی، اگر آپ کو نوجوانوں کے مستقبل کے لیے ذرہ بھی فکر ہوتی تو آپ اس پی آر اسٹنٹ میں ملوث ہو کر ان کی امنگوں سے نہ کھلواڑ نہ کرتے۔ ملک کے نوجوانوں نے بی جے پی کے جھوٹ، جملے بازی اور دھوکہ دہی کو پہچان لیا ہے اور وہ 2024 میں مودی حکومت کو ضرور باہر کا راستہ دکھائیں گے۔”

نہرو نے صرف بڑی باتیں ہی نہیں کیں بلکہ بڑے فیصلے بھی لیے: جے رام رمیش

0
نہرو-نے-صرف-بڑی-باتیں-ہی-نہیں-کیں-بلکہ-بڑے-فیصلے-بھی-لیے:-جے-رام-رمیش

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے انڈین اسپیس ریسرچ ایجنسی (اسرو) کی تشکیل میں ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو کے تعاون کو ‘ہضم نہ کرنے’ کے لئے بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ پنڈت نہرو صرف بڑی باتیں نہیں کرتے تھے۔

چندریان 3 کی چاند پر تاریخی لینڈنگ کے بعد حکمران جماعت بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس کے درمیان ہندوستان کے خلائی پروگرام پر لفظی جنگ جاری ہے۔ کانگریس اس کے لیے ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی کوششوں کو کریڈٹ دے رہی ہے، جب کہ حکمراں بی جے پی کا کہنا ہے کہ 2014 کے بعد اس علاقے میں بڑی ترقی ہوئی ہے۔ اس دوران جے رام رمیش نے بی جے پی پر تازہ حملہ کیا ہے۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (پہلے ٹویٹر) پر لکھا، ‘نہرو سائنسی نقطہ نظر کو فروغ دیتے تھے۔ جو لوگ اسرو کی تشکیل میں ان کے تعاون کو ہضم نہیں کر پا رہے ہیں، وہ ٹی آئی ایف آر (ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامینٹل ریسرچ) کے یوم تاسیس پر ان کی تقریر سنیں۔ بادلوں سے راڈار کی حفاظت کرنے والے سائنسدان کی طرح انہوں  نے صرف بڑی باتیں نہیں کیں بلکہ بڑے فیصلے لیے۔ اس کے ساتھ انہوں نے تقریر بھی شیئر کی۔

23 اگست کو، اسرو کے تیسرے چاند مشن چندریان نے چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ کرکے تاریخ رقم کی۔ بھارت چاند کے اس خطے تک پہنچنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ یہ امریکہ، سابق سوویت یونین اور چین کے بعد چاند پر کامیابی سے اترنے والا چوتھا ملک بھی بن گیا۔

چندریان 3 کی کامیابی کے بعد کانگریس نے کہا تھا کہ یہ ہر ہندوستانی کی اجتماعی کامیابی ہے۔ یہ اسرو کی کامیابیوں کے تسلسل کی کہانی کو ظاہر کرتا ہے، جو واقعی شاندار ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ہندوستان کا خلائی سفر 1962 میں انڈین نیشنل کمیٹی فار اسپیس ریسرچ کے قیام سے شروع ہوا، جو ہومی بھابھا اور وکرم سارا بھائی کی دور اندیشی کے ساتھ ساتھ ملک کے پہلے وزیر اعظم کی پرجوش حمایت کا نتیجہ تھا۔ نہرو نے بعد میں، اگست 1969 میں سارا بھائی نے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو)قائم کیا۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلی کا بی جے پی پر حملہ :سی اے جی رپورٹ میں مرکز کے 7 گھوٹالے

0
تمل-ناڈو-کے-وزیر-اعلی-کا-بی-جے-پی-پر-حملہ-:سی-اے-جی-رپورٹ-میں-مرکز-کے-7-گھوٹالے

تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں جاری کی گئی سی اے جی رپورٹ میں وزیر اعظم  مودی حکومت کے سات گھوٹالے سامنے آئے ہیں۔ تروورور میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے سی ایم اسٹالن نے وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سی وی سی کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر شکایات وزارت داخلہ کے افسران کے خلاف ہیں۔

وزیر اعلی  اسٹالن نے کہا، ‘سی اے جی کی رپورٹ میں حکومت کو بدعنوان بتایا گیا ہے۔ یہ ہم نہیں بلکہ سی اے جی کہہ رہا ہے۔ سات گھوٹالے منظر عام پر آئے ہیں۔ بھارت مالا پروجیکٹ، دوارکا ریپڈ ٹرانزٹ پروجیکٹ، ٹول بوتھ کلیکشن، آیوشمان بھارت، ایودھیا ڈیولپمنٹ پروجیکٹ، رورل ڈیولپمنٹ پروجیکٹ اور ایچ اے ایل ایئرپلین مینوفیکچرنگ اسکیم۔ سی اے جی نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام سات منصوبوں میں بدعنوانی شامل ہے۔‘

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق وزیر اعلی اسٹالن نے کہا، "ایک جعلی فون نمبر جو 99999 99999 ہے آیوشمان بھارت اسکیم میں شامل کیا گیا تھا جس میں 7.5 لاکھ مستفیدین کو شامل کیا گیا تھا۔ اسکیم کے تحت 88,760 مریضوں کی موت ہوچکی ہے لیکن ان کی موت کے بعد بھی ان کے علاج کے لیے بیمہ کی رقم دی گئی۔ اسکیم میں نااہل خاندانوں کو شامل کرکے 22.44 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا گیا ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں، لیکن سی اے جی کی رپورٹ یہی کہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوارکا ریپڈ ہائی وے اسکیم کے تحت 1 کلومیٹر سڑک کو ہموار کرنے کی رقم 18 کروڑ روپے سے بڑھا کر 250 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ یہ تخمینہ لاگت سے 278فیصد  زیادہ ہے۔

اسٹالن نے کہا کہ ایودھیا ترقیاتی پروجیکٹ میں ٹھیکیداروں کو بہت سے غیر ضروری فائدے دیے گئے۔ ملک بھر میں 609 ٹول گیٹ ہیں، جن میں سے سی اے جی نے صرف پانچ کی جانچ کی ہے، جہاں این ایچ اے آئی نے قواعد کے خلاف مسافروں سے 132.5 کروڑ روپے وصول کیے ہیں۔ اس میں تمل ناڈو کا پرانور ٹول گیٹ بھی شامل ہے جہاں قواعد کے خلاف 6.5 کروڑ روپے جمع کیے گئے۔ اس سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پورے ملک کی جانچ میں کئی ہزار کروڑ کا گھوٹالہ سامنے آئے گا۔

سی اے جی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سی ایم اسٹالن نے کہا کہ ایچ اے ایل پروجیکٹ کی وجہ سے حکومت کو 151 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ مرکزی حکومت نے دیہی ترقی اور پنشن اسکیم کے لیے مختص رقم کا استعمال کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی اے جی کی رپورٹ میں 7.5 لاکھ کروڑ کی بدعنوانی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے سی ایم اسٹالن نے کہا کہ سی وی سی کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ شکایات وزارت داخلہ کے افسران کے خلاف ہیں۔

اسٹالن نے دعویٰ کیا، "گزشتہ سال مرکزی حکومت کے اہلکاروں کے خلاف 1,15,203 شکایات درج کی گئی تھیں، جن میں سے 46,634 شکایتیں وزارت داخلہ کے افسران کے خلاف درج کی گئی تھیں، جب کہ وزیر داخلہ بدعنوانی کو ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں”۔ یہ سب چھپانے کے لیے وہ ہم پر جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں اور ہمیں دھمکی دینے کے لیے سی بی آئی اور ای ڈی کا استعمال کر رہے ہیں۔

نوح  شوبھایاترا کی وجہ سے ہریانہ میں ہائی ایلرٹ ،سبھی اسکول کالج اور بینک بند

0
نوح -شوبھایاترا-کی-وجہ-سے-ہریانہ-میں-ہائی-ایلرٹ-،سبھی-اسکول-کالج-اور-بینک-بند

ہریانہ کے نوح میں وشو ہندو پریشد کے اعلان کے بعد آج برج منڈل جل ابھیشیک یاترا نکالنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی جانب سے جلوس کی اجازت نہ دینے کے باوجود، ہریانہ کے نوح ضلع میں پیر کو سرو جاتیہ ہندو مہاپنچایت نے ‘شوبھا یاترا’ بلائی ہے۔ انتظامیہ نے ریاستی پولیس کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔

جلوس کے پیش نظر علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔نیوز پورٹل ’اے بی پی ‘ پر شائع خبر کے مطابق نوح کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ اشونی کمار نے کہا کہ ضلع میں اسکول، کالج اور بینک سمیت تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

سرو جاتیہ ہندو مہاپنچایت نے نوح میں برج منڈل شوبھا یاترا کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے کہا ہے۔ جولائی کے آخر میں نوح میں تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد یاترا روک دی گئی تھی۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے یاترا نکالنے کی اجازت نہیں دی۔

پنچکولہ میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کھٹر نے کہا، "چونکہ گزشتہ ماہ یاترا کے دوران امن و امان کی صورتحال  بگڑ گئی تھی اور اب امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے،‘‘ اجازت نہ ملنے کے باوجود وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے کہا کہ برج منڈل شوبھا یاترا پرامن طریقے سے منعقد کی جائے گی۔ امن و امان سے متعلق کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے، وی ایچ پی لیڈر نے کہا، "ہمیں معلوم ہے کہ جی 20 شروع ہونے والا ہے، اس لیے ہم اس یاترا کو مختصر کر دیں گے۔” لیکن ہم اسے نہیں چھوڑیں گے اور اسے مکمل کر لیں گے۔ میں بھی اس میں شرکت کروں گا۔ حکومت امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے موجود ہے تاکہ لوگ پرامن اور محفوظ طریقے سے اپنے مذہبی کام انجام دے سکیں۔

نوح میں پولیس کے مطابق ہریانہ پولیس کے 1900 اہلکار اور نیم فوجی دستوں کی 24 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ نوح ضلع کے تمام داخلی راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے اور ملہار مندر کی طرف جانے والی سڑک کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ریاستی حکومت نے 26 سے 28 اگست تک موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نوح میں کسی بھی قسم کی نقل و حرکت سے گریز کریں۔