منگل, مارچ 31, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 157

چندریان-3: ہندوستان کی خلائی قوت کا مظہر

0
چندریان-3:-ہندوستان-کی-خلائی-قوت-کا-مظہر

چندریان-3 مشن کی کامیابی بلا شبہ عالمی جشن اور خوشی کی ایک وجہ ہے۔ چندریان 3 نے خلا میں ایک ماہ طویل سفر کے بعد چاند کے قطب جنوبی پر لینڈنگ کی ہے۔ 23 اگست کو شام 6:04 بجےچاند کی سطح پر چندریان 3 کی کامیاب لینڈنگ ہندوستان کے خلائی تحقیق کے سفر میں ایک تاریخی لمحہ ہے۔ بلا شبہ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے کامیاب مشن نے ہندوستان اور بیرون ملک مقیم ہم وطنوں کو بے پناہ جوش و خروش اور فخر سے ہمکنارکرایا ۔ یہ کامیابی قوم کی سائنسی صلاحیت، عزم اور انسانی علم کی حدود کو آگے بڑھانے کے لیے غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ چندریان 3 کو 14 جولائی 2023 کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کیا گیا تھا۔

ہندوستان چاند کے قطب جنوبی پر پہنچنے والا پہلا ملک

اسرو ٹیلی میٹری، ٹریکنگ، اور کمانڈ نیٹ ورک (ISTRAC)، بنگلور میں مشن آپریشن کمپلیکس (MOX) میں خوشیاں منائی گئیں جب بدھ 23 اگست کو شام 6.04 بجے لینڈر وکرم نے چاند کی سطح کو چھوا اور ہندوستان امریکہ، روس اور چین جیسے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ یوں ہندوستان چاند پر سافٹ لینڈنگ حاصل کرنے والا چوتھا ملک بن گیا ، لیکن ہندوستان پہلا ملک ہے جس نے چاند کے قطب جنوبی کے قریب خلائی جہاز اتارا جبکہ چند روز قبل اسی علاقے میں روس کی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔تجزیہ کاروں کے مطابق چندریان -3 کی کامیاب لینڈنگ نہ صرف ہندوستان کے وقار کو بڑھاوا دے گی بلکہ ملک کی بڑھتی ہوئی خلائی صنعت کو نئی بلندیوں تک پہنچائے گی۔

اسرو کے مطابق قطب جنوبی کا اسٹریٹجک انتخاب، تقریباً 70 ڈگری عرض بلد پر، ’سورج سے کم روشن ہونے‘ کی وجہ سے مختلف فوائد پیش کرتا ہے۔ یہ انوکھی خصوصیت مشن کی سائنسی صلاحیت کو بڑھاتی ہے جو گہری کھوج اور تجزیہ کوممکن بناتی ہے۔

چندریان 3 کی واپسی نہیں ہوگی

اسرو کے سربراہ ایس سوما ناتھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سافٹ لینڈنگ کے بعد چندریان -3 زیادہ تر سائنسی مشن کے مقاصد پورے کر لے گا۔ لینڈر وکرم میں موجود روور پرگیان (دانائی) باہر نکلنے کے بعد 14 دنوں کے لیے(چاند کےایک دن کے برابر ) چاند کی سطح پر تجربات انجام دے گا۔ اس کے بعد اگلے 14 دنوں تک ، جب چاند پر رات ہوگی ، وکرم اور پرگیان غیر فعال ہو جائیں گے کیونکہ وہ شمسی توانائی پر انحصار کرتے ہیں اور صرف سورج کی روشنی میں کام کر سکتے ہیں ۔ تاہم، اسرو کے سائنسدانوں نے سورج کے دوبارہ طلوع ہونے پر ان دونوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔ویسے چندریان 3 قمری مشن زمین پر واپسی کے سفر کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا ہے۔ ایک بار جب ریسرچ مکمل ہو جائے گی، سامان چاند پر چھوڑ دیا جائے گا۔

قبل ازیں خلائی جہاز کا لینڈر وکرم ماڈیول 17 اگست کو پروپلشن ماڈیول سے کامیابی کے ساتھ الگ ہو گیاتھا۔ وکرم لینڈر تقریباً 2 میٹر لمبا ہے اور اس کا وزن 1,700 کلوگرام سے زیادہ ہے۔ اس کا نام ہندوستانی خلائی پروگرام کے بانی وکرم سارا بھائی کے نام پر رکھا گیا ہے۔

چندریان 3 کا ہدف

چندریان 3 میں لینڈر وکرم، روور پرگیان اور ایک پروپلشن ماڈیول شامل ہے۔مشن کا بنیادی مقصد چاند کے قطب جنوبی کے قریب لینڈر اور روور کو اتارنا اور آخر تک لینڈنگ اور گھومنے کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہے۔ یہ سطح اور مدار سے متعدد سائنسی پیمائشیں بھی کرے گا۔ لینڈر وکرم سطح کی حرارتی خصوصیات کی پیمائش کرنے کے لیے، چندر کا سرفیس تھرمو فزیکل ایکسپیریمنٹ (ChaSTE) نامی ایک آلہ لے گیا ہے۔ یہ لینڈنگ سائٹ کے ارد گرد زلزلے کی پیمائش کے لیے انسٹرومنٹ فار لیونر سسمک ایکٹیوٹی(ILSA)، اور دیگر کئی آلات سے لیس ہے۔

چاند کی سطح پر پانی کی تلاش چندریان-3 مشن کے اہم مقاصدمیں شامل ہیں۔ چاند کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں اہم معدنیات ہیں- قطب جنوبی کے علاقے کے بڑے گڑھے مستقل طور پر سائے میں ہیں، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان پر برف موجود ہے جو مستقبل میں چاند پر انسانی رہائش کو سہارا دے سکتی ہے۔ وکرم لینڈر ایک مقررہ پوزیشن ۔شو شکتی پوائنٹ ،جہاں وہ اترا تھا ، پر رہ کر تجربات کرے گا جبکہ روور پرگیان سائنسی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے چاند کی سطح کا جائزہ لے گا۔

لینڈر وکرم باکس کی شکل کا ہے۔ اس کا سائز (200 x 200 x 116.6) سینٹی میٹر ہے جس میں چار لینڈنگ ٹانگیں اور چار لینڈنگ تھرسٹر ہیں۔ اس کا وزن 1749 کلوگرام ہے، جس میں روور کے 26 کلوگرام بھی شامل ہے۔ یہ سائیڈ ماونٹڈ سولر پینلز کا استعمال کرتے ہوئے 738-W توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ لینڈر کے محفوظ ٹچ ڈاؤن کو یقینی بنانے کے لیے متعدد سینسر لگائے گئے ہیں ۔ دوسری جانب روور پرگیان (دانائی یا حکمت کے لیے سنسکرت لفظ) کا سائز(91.7 x 75.0 x 39.7) سینٹی میٹر ہے، جو چھ پہیوں والی راکر بوگی وہیل ڈرائیو اسمبلی پر نصب ہے۔ اس میں نیویگیشن کیمرے اور ایک سولر پینل ہے جو50-W توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ اینٹینا کے ذریعے لینڈر کے ساتھ براہ راست بات چیت کرتا ہے۔

چندریان 3 کا ایندھن

چندریان 3 کو لے جانے والے راکٹ میں ٹھوس اور مائع دونوں ایندھن کا استعمال کیا گیا ۔ پہلا مرحلہ میں ٹھوس ایندھن کا استعمال ہوا، جبکہ دوسرے مرحلے میں مائع ایندھن کا استعمال کیا گیا ہے۔ آخری مرحلے کے لیے، ایک کرائیوجینک انجن استعمال کیا گیا ، جو مائع ہائیڈروجن اور آکسیجن پر چلتا ہے۔ راکٹ کی ایندھن کی گنجائش 27000 کلوگرام سے زیادہ ہے۔

چندریان 3 خلائی قوت کا مظہر

چندریان 3 کی کامیابی ہمیں دوسرے سیارے تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب ہم نہ صرف اس صلاحیت کے حامل مٹھی بھر ممالک میں شامل ہیں بلکہ چاند کے قطب جنوبی پر ترنگا نصب کرنے کے بعد اس ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہیں۔ اور اس وجہ سے، ہم مستقبل میں سیاروں کی تلاش ، وہاں معدنیات کی تحقیق اور خلا سے وسائل کے اخراج سے متعلق تمام فیصلہ سازی کا حصہ ہوں گے۔

منی پور تشدد کے بعد ریاست میں آج پہلا اسمبلی اجلاس، کوکی طبقہ کے ارکان اسمبلی نے کیا بائیکاٹ

0
منی-پور-تشدد-کے-بعد-ریاست-میں-آج-پہلا-اسمبلی-اجلاس،-کوکی-طبقہ-کے-ارکان-اسمبلی-نے-کیا-بائیکاٹ

امپھال: منی پور تشدد کے بعد پہلی بار ریاستی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے فروری اور مارچ کے مہینوں میں اسمبلی کا بجٹ اجلاس منعقد ہوا تھا۔ منی پور اسمبلی کے اسپیکر تھوک چوم ستیہ برت سنگھ نے کہا ہے کہ ایک روزہ اسمبلی اجلاس کے دوران ریاست کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس دوران وقفہ سوالات نہیں ہوگا اور کوئی پرائیویٹ ممبر موشن نہیں لایا جا سکے گا۔

اسمبلی اجلاس پر کانگریس پارٹی نے کہا کہ یہ اجلاس عوامی مفادات کے حق میں نہیں ہے۔ خیال رہے کہ کوکی زومی قبائلی تنظیموں نے ایک روزہ اجلاس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور برادری کے 10 ارکان اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ تاہم ناگا ارکان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی توقع ہے۔

کوکی برادری کا کہنا ہے کہ کوکی قانون سازوں کے لیے میتئی کے زیر اثر وادی امپھال (جہاں منی پور اسمبلی واقع ہے) جانا غیر محفوظ ہوگا۔ کوکی برادری نے گورنر سے اسمبلی اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کی لیکن حکومت نے انکار کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران منی پور میں موجودہ نسلی بحران کے حوالے سے کچھ قراردادیں منظور کیے جانے کا امکان ہے۔

دوسری جانب کوکی برادری نے کہا ہے کہ وہ اسمبلی کی کسی قرارداد پر کوکی علاقے میں عمل درآمد نہیں ہونے دیں گے۔ گزشتہ ماہ، منی پور حکومت نے 21 اگست تک اجلاس طلب کرنے کی سفارش کی تھی لیکن گورنر کی جانب سے منظوری نہ ملنے کی وجہ سے تاریخ کو تبدیل کر کے 29 اگست کر دیا گیا تھا۔

دہلی: سرکاری اسکول کی خاتون ٹیچر پر مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام، پولیس نے کہا- کارروائی کی جائے گی

0
دہلی:-سرکاری-اسکول-کی-خاتون-ٹیچر-پر-مذہبی-منافرت-پھیلانے-کا-الزام،-پولیس-نے-کہا-کارروائی-کی-جائے-گی

نئی دہلی: دہلی کے ایک سرکاری اسکول میں ایک خاتون ٹیچر کے بچوں کے سامنے مبینہ طور پر مذہبی منافرت سے پر الفاظ استعمال کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ والدین نے اسکول پر الزام عائد کیا ہے۔ والدین نے ایک خاتون ٹیچر پر طالب علموں کے سامنے مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق اسکول میں زیر تعلیم بچوں کی والدہ کوثر نے کہا ’’میرے دو بچے یہاں پڑھتے ہیں – ایک ساتویں کلاس میں اور دوسرا چوتھی کلاس میں۔ اگر ٹیچر کو سزا نہیں دی گئی تو دوسرے اساتذہ کو بھی ہمارے دیین کے خلاف بولنے کی ہمت ملے گی۔‘‘

کوثر نے کہا کہ ٹیچر سے کہا جائے کہ وہ صرف پڑھائیں اور ان چیزوں کے بارے میں بات نہ کریں جن کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں۔ ایسے استاد کا کوئی فائدہ نہیں جو طلبہ میں اختلافات پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ٹیچر کو ہٹا دیا جائے اور اس اسکول تو کیا کسی اسکول میں نہ پڑھانے دیا جائے کیونکہ یہ جہاں جائے گی یہی سب کرے گی۔

وہیں، ڈی سی پی روہت مینا نے بھی اس معاملے میں رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول ٹیچر نے مذہبی الفاظ استعمال کیے ہیں اوار اسکول سرکاری ہے۔

ڈی سی پی شاہدرہ روہت مینا نے کہا کہ ’’ہمیں شکایت ملی تھی کہ ایک اسکول ٹیچر نے طلبہ کے سامنے کچھ مذہبی الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ہم نے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ ہمارے جوونائل ویلفیئر آفیسر کونسلر کے ساتھ مل کر کونسلنگ کر رہے ہیں۔ قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسے 2-3 طالب علم ہیں، اس لیے ہم ان سب کی کونسلنگ کر رہے ہیں۔ درست حقائق کے ساتھ، ہم مناسب دفعات کے تحت مقدمہ درج کریں گے۔‘‘

متھرا میں شاہی عیدگاہ مسجد اور کرشن جنم بھومی کے قریب تجاوزات مخالف مہم پر روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار

0
متھرا-میں-شاہی-عیدگاہ-مسجد-اور-کرشن-جنم-بھومی-کے-قریب-تجاوزات-مخالف-مہم-پر-روک-لگانے-سے-سپریم-کورٹ-کا-انکار

متھرا: اترپردیش کے متھرا میں شاہی عیدگاہ مسجد اور کرشنا جنم بھومی کے قریب تجاوزات ہٹانے کی مہم پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ درخواست گزار کو سپریم کورٹ سے ریلیف نہیں ملا۔ سپریم کورٹ نے انسداد تجاوزات مہم پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو نچلی عدالت سے رجوع کرنے کو کہا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ درخواست گزار نچلی عدالت میں زیر التوا معاملے میں اپنا موقف پیش کریں اور عدالت میرٹ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے سے متھرا میں شری کرشنا جنم بھومی اور شاہی مسجد کے قریب نئی بستی میں ریلوے اراضی پر مبینہ قبضہ کرنے والوں کے مکانات پر بلڈوزر کی کارروائی پر روک لگانے کی درخواست کرنے والوں کو دھچکا لگا ہے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس سدھانشو دھولیا اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے گزشتہ ہفتے بلڈوزر کی کارروائی پر پابندی ہٹا دی اور سماعت بند کر دی۔ سپریم کورٹ نے تجاوزات کے خلاف کارروائی سے روک اٹھاتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نچلی عدالت میں زیر التوا کیس کی سماعت کے دوران اپنے معاوضے اور بحالی کے مطالبات برقرار رکھیں۔

عدالت نے متھرا ڈسٹرکٹ کورٹ کو ہدایت دی کہ ہمارے حکم سے متاثر نہ ہوتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر سماعت کرے۔ یوپی حکومت نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ اس نے متھرا-ورنداون ریل کی میٹر گیج لائن کو براڈ گیج میں تبدیل کرنے کے سلسلے میں تجاوزات کو صاف کر دیا ہے۔ اس لیے اس درخواست پر سماعت روک دی جائے۔

گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے 14 اگست کو بلڈوزر کی کارروائی پر روک لگا دی تھی۔ دو دن بعد جمعہ کو عدالت نے روک کی مدت میں توسیع سے انکار کر دیا۔ کیونکہ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ یہ ریل گیج کی تبدیلی کے منصوبے میں رکاوٹ ہے اور اسی فیصد تجاوزات ہٹا دی گئی ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے اسٹے کی مدت میں توسیع سے انکار کر دیا۔ اب عدالت نے اس معاملہ میں سماعت ہی بند کر دی ہے۔

گیتیکا سریواستو پاکستان میں انڈین ہائی کمیشن کی سربراہ مقرر، اس عہدے پر پہنچنے والی پہلی خاتون

0
گیتیکا-سریواستو-پاکستان-میں-انڈین-ہائی-کمیشن-کی-سربراہ-مقرر،-اس-عہدے-پر-پہنچنے-والی-پہلی-خاتون

نئی دہلی: گیتیکا سریواستو اسلام آباد میں واقع انڈین ہائی کمیشن کی نئی انچارج ہوں گی۔ آزادی کے بعد پہلی بار پاکستان میں ہندوستانی ہائی کمیشن کی کمان کسی خاتون کو سونپی جا رہی ہے۔ 2005 بیچ کی آئی ایف ایس آفیسر گیتیکا سریش کمار کی جگہ لیں گی، جن کے جلد ہی نئی دہلی واپس آنے کا امکان ہے۔

اگست 2019 میں مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد ہندوستان اور پاکستان نے سفارتی تعلقات کی حیثیت کو کم کر دیا تھا۔ یعنی فی الحال دونوں ممالک میں کوئی ہائی کمشنر نہیں ہے۔ اس کے بعد اسلام آباد اور دہلی میں پاکستانی اور ہندوستانی ہائی کمیشنز کی سربراہی ان کے متعلقہ انچارج کر رہے ہیں۔

گیتیکا سریواستو اس وقت وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے ہیڈکوارٹر میں جوائنٹ سکریٹری کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ وہ انڈو پیسفک ڈویژن سے وابستہ ہیں اور انہوں نے غیر ملکی زبان کی تربیت کے دوران مینڈارن (چینی زبان) سیکھی تھی۔ وہ 2007 سے 2009 تک چین میں ہندوستانی سفارت خانے میں تعینات تھیں۔ وہ کولکاتا میں علاقائی پاسپورٹ آفس اور وزارت خارجہ میں بحر ہند کے علاقہ ڈویژن کی ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ جلد اسلام آباد میں چارج سنبھالیں گی۔

1947 میں سری پرکاش کو پاکستان میں پہلا ہندوستانی ہائی کمشنر مقرر کیا گیا تھا۔ تب سے ہندوستان کی نمائندگی ہمیشہ مرد سفارت کاروں نے کی ہے۔ اسلام آباد میں آخری ہندوستانی ہائی کمشنر اجے بساریہ تھے، جنہیں 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ہائی کمیشن کی پوزیشن کم کرنے کے پاکستان کے فیصلے کے بعد واپس بلا لیا گیا تھا۔

تاہم اس سے قبل بھی خواتین سفارت کاروں کو پاکستان میں تعینات کیا جا چکا ہے لیکن انہیں کبھی چارج نہیں ملا تھا۔ پاکستان میں پوسٹنگ کو مشکل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ چند سال پہلے اسلام آباد کو ہندوستانی سفارت کاروں کے لیے ’غیر فیملی‘ پوسٹنگ قرار دیا گیا تھا۔

بی جے پی وقت سے پہلے کرا سکتی ہے لوک سبھا انتخابات، دسمبر تک ممکن! ممتا بنرجی

0
بی-جے-پی-وقت-سے-پہلے-کرا-سکتی-ہے-لوک-سبھا-انتخابات،-دسمبر-تک-ممکن!-ممتا-بنرجی

کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بی جے پی اگلے لوک سبھا انتخابات اس سال دسمبر یا اگلے سال جنوری میں کرا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت الیکشن کمیشن آف انڈیا کے آئین کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پارٹی کے طلبہ ونگ ’ترنمول چھاتر پریشد‘ کے یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ممتا نے کہا ’’مجھے خدشہ ہے کہ لوک سبھا کے لیے پولنگ اس سال دسمبر یا اگلے سال جنوری تک ہو سکتی ہے۔ بی جے پی کے لیے سب کچھ ممکن ہے۔ یاد رکھیں اگر بی جے پی اقتدار میں رہتی ہے، تو پورا ملک مکمل آمریت کی طرف بڑھ جائے گا۔‘‘

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرکز کی مودی حکومت الیکشن کمیشن آف انڈیا کے آئین کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ممتا نے کہا ’’انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری کے لیے بنائی گئی کمیٹی سے چیف جسٹس آف انڈیا کا نام ہٹا دیا ہے۔ وہ ہر چیز پر اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

ٹی ایم سی کی سربراہ ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی زندگی کا پہلا مشن مغربی بنگال میں بائیں محاذ کی 34 سالہ حکمرانی کو ختم کرنا تھا، جو انہوں نے 2011 میں پور کر دیا تھا۔ اب ان کا مشن بی جے پی کی حکمرانی کو ختم کرنا ہے اور وہ اس کے لیے سخت محنت کر رہی ہیں۔

’مردم شماری جیسا کوئی عمل صرف مرکزی حکومت کرا سکتی ہے‘ مرکز نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ یہ حلف نامہ لیا واپس

0
’مردم-شماری-جیسا-کوئی-عمل-صرف-مرکزی-حکومت-کرا-سکتی-ہے‘-مرکز-نے-سپریم-کورٹ-میں-داخل-کردہ-یہ-حلف-نامہ-لیا-واپس

نئی دہلی: بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کی مخالفت کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے ایک حلف نامہ داخل کیا تھا، جس کے پیرا 5 میں کہا گیا تھا کہ مردم شماری جیسا عمل صرف اور صرف مرکزی حکومت ہی کرا سکتی ہے۔ مرکزی حکومت نے اب اپنے اس حلف نامہ کو واپس لے لیا ہے اور نیا حلف نامہ داخل کیا ہے۔ مرکز نے ترمیم شدہ حلف نامہ میں کہا ہے کہ پیرا 5 کو نادانستہ طور پر شامل کیا گیا تھا۔ اس پیرا میں کہا گیا تھا کہ مردم شماری یا مردم شماری جیسی کوئی کارروائی ریاستی حکومت نہیں کرا سکتی۔

مرکز نے کہا تھا کہ مردم شماری ایک قانونی عمل ہے اور مردم شماری ایکٹ 1948 کے تحت کرائی جاتی ہے اور یہ موضوع یونین لسٹ انٹری 69 کے تحت ساتویں شیڈول میں شامل ہے۔ حالانکہ اس نئے حلف نامے میں بھی حکومت کا کہنا ہے کہ مردم شماری ایکٹ 1948 کے تحت صرف مرکزی حکومت کو ہی جامع مردم شماری کرانے کا حق حاصل ہے لیکن اس نئے حلف نامے میں ‘مردم شماری جیسا کوئی اور عمل’ کا لفظ ہٹا دیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق ریاستی حکومت اپنی جگہ پر کسی بھی قسم کا سروے کر سکتی ہے۔ کوئی بھی سروے یا ڈیٹا جمع کرنے کے لیے کوئی بھی کمیٹی یا کمیشن تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اس حق کے تحت اتراکھنڈ نے یو سی سی کے لیے ایک کمیٹی بنائی اور سروے کر کے ڈیٹا جمع کیا۔ بہار حکومت کے حلف نامے میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وہ مردم شماری بھی نہیں کروا رہی، وہ صرف ذات کا سروے کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ پٹنہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی پہل کو مکمل طور پر درست اور قانونی طور پر جائز قرار دیا تھا۔ اس کے بعد تقریباً تین ماہ سے رکے ہوئے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ ذات پر مبنی مردم شماری کا فیصلہ بہار کی کابینہ نے گزشتہ سال لیا تھا۔

کیا کشمیری لکچرر کو ‘انتقاماً’ معطل کیا گیا؟ بھارتی سپریم کورٹ

0
کیا-کشمیری-لکچرر-کو-‘انتقاماً’-معطل-کیا-گیا؟-بھارتی-سپریم-کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ نے پیر کو بھارت کے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ وہ جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا سے بات کریں اور یہ معلوم کریں کہ کشمیر کے لکچرر ظہور احمد بھٹ کو آئین کی دفعہ 370 کی منسوخی کے خلاف بحث کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہونے کے چند دنوں بعد کیوں معطل کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ آیا معطلی کا تعلق لکچرر کی عدالت میں پیشی سے ہے اور اشارہ دیا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو اسے منظور نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے اس بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ اس اقدام کو "انتقام” کے طور پر دیکھ سکتی ہے۔

ظہور احمد بھٹ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کی اس بنچ کے سامنے پیش ہوئے تھے جو جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والے آئین کی دفعہ 370 کی منسوخی کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کررہی ہے۔ وہ سری نگر کے جواہر نگر میں گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں پولیٹکل سائنس کے سینیئر لکچرر اور قانون کی ڈگری یافتہ ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ دفعہ 370 کو ختم کرنے کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بنچ کے سربراہ ہیں۔ سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے دو دن بعد جمعے کو جموں و کشمیر کے محکمہ تعلیم نے بھٹ کو جموں و کشمیر سول سروس ریگولیشنز، جموں و کشمیر گورنمنٹ ایمپلائز کنڈکٹ رولز اور جموں و کشمیر لیو رولز کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ملازمت سے فوری طورپر معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔

سیینئر وکیل کپل سبل نے اس نوٹس کو سپریم کورٹ کے علم میں لاتے ہوئے کہا، "جو استاذ یہاں آئے تھے اور چند منٹ کے لیے اپنے دلائل پیش کیے انہیں 25 اگست کو عہدے سے معطل کردیا گیا۔ حالانکہ انہوں نے دو دن کی باضابطہ چھٹی لی تھی اور پھر واپس چلے گئے تھے لیکن انہیں معطل کردیا گیا۔”

اس پر چیف جسٹس چندر چوڑ نے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی کو اس معاملے کو دیکھنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا،” مسٹر اٹارنی جنرل دیکھئے یہ کیا ہوا ہے۔ کوئی شخص عدالت میں حاضر ہوا تھا اور اب اسے معطل کردیا گیا… آپ لیفٹننٹ گورنر سے بات کریں۔”

چیف جسٹس چندر چوڑ نے مزید کہا،” اگر کچھ اور ہے تو الگ بات ہے لیکن عدالت میں حاضر ہونے اور اس کے فوراً بعد معطل کردیے جانے کی وجہ کیا ہے؟ سالسٹر جنرل توشار مہتا نے اس پر کہا کہ معطلی کی وجہ کچھ اور تھی۔ لیکن جب جسٹس ایس کے کول نے اس معطلی کے وقت کی طرف اشارہ کیا تو اعلیٰ حکومتی وکیل نے تسلیم کیا کہ "یہ یقینی طورپر مناسب نہیں تھا۔”

پانچ رکنی آئینی بنچ میں شامل ایک اور جج جسٹس بی آر گوائی کا کہنا تھا کہ حکومت کی کارروائی انتقامی کارروائی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا "اتنی آزادی کا مطلب ہی آخر کیا ہے….اگر صرف عدالت میں حاضر ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے تو واقعتاً یہ انتقام ہے۔”

خیال رہے کہ ظہور احمد بھٹ نے ذاتی نوعیت میں عدالت میں حاضر ہوکر پانچ منٹ کی اپنے دلائل پیش کیے تھے۔انہو ں نے عدالت کو بتایا تھا کہ اگست 2019 کے بعد سے، جب بھارت سرکار نے آئین کی دفعہ 370 کو منسوخ کردیا تھا، جموں و کشمیر میں طلبہ کو بھارتی سیاست کے بارے میں پڑھانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ظہور احمد بھٹ کا کہنا تھا،” طلبہ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب بھی جمہوریت ہیں؟”

انہوں نے دفعہ 370 کو ختم کرنے کے خلاف اپنے دلائل میں کہا تھا کہ یہ اقدام”بھارتی آئین کی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام وفاقیت اور آئین کی بالادستی کے بھی خلاف تھا۔ "

سماجی کارکن ڈاکٹر علیم اللہ خان کو اتر پردیش کانگریس کا ترجمان بنایا گیا

0
سماجی-کارکن-ڈاکٹر-علیم-اللہ-خان-کو-اتر-پردیش-کانگریس-کا-ترجمان-بنایا-گیا

نئی دہلی: اجے رائے کو اتر پردیش کانگریس کمیٹی کی کمان ملنے کے بعد پارٹی میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کانگریس نے اتوار کو ریاستی ترجمانوں اور میڈیا پینلسٹ کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست کے مطابق 15 ریاستی ترجمان، 17 میڈیا پینلسٹ بنائے گئے ہیں۔ معروف صحافی اور مصنف ڈاکٹر علیم اللہ خان کو ریاستی ترجمانوں کی فہرست میں جگہ ملی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر علیم اللہ کو سماجی تحریکوں کا ایک بڑا چہرہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ ظاہر ہے کہ کانگریس پارٹی دانشوروں اور زمینی سطح پر کام کرنے والے لوگوں کو پارٹی میں جگہ دے کر لوک سبھا الیکشن کے لیے اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے۔

ڈاکٹر علیم اللہ خان زمانہ طالب علمی سے ہی کانگریس کے نظریہ پر کام کر رہے ہیں۔ طالب علمی کے دوران، ملک کی باوقار یونیورسٹیوں میں سے ایک جے این یو میں این ایس یو آئی سے نائب صدر کے عہدے پر انتخاب لڑے اور یہ پہلا موقع تھا کہ این ایس یو آئی کے کسی امیدوار کو 1000 سے زیادہ ووٹ ملے۔ اس کے بعد انہوں نے کئی سال تک تنظیم کی خدمت کی، اور این ایس یو آئی میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

ڈاکٹر علیم اللہ خان نے اعلی کمان کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سابق صدر راہل گاندھی، جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، ریاستی صدر اجے رائے، قومی سکریٹری توقیر عالم اور ستیہ نارائن پٹیل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک اور ریاست اتر پردیش میں جس طرح کے حالات ہیں، نفرت کی سیاست جس طرح پروان چڑھ رہی ہے، ان حالات میں ہماری ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں۔ کوشش کی جائے گی کہ ہم ایک مثبت کردار پیدا کر سکیں اور اعلی قیادت کے اعتماد پر پورا اتر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ ملک کی مشترکہ وراثت کی حفاظت کی ہے۔ سماج کے ہر طبقے کے لیے ترقی کا ایک ماڈل دیا ہے، آج وہ میراث بکھر رہی ہے، اس وراثت کو بچانے کی ضرورت ہے۔ کانگریس نفرت کی سیاست کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر علیم اللہ خان نے جے این یو، این ایس یو آئی میں 3 سال جنرل سکریٹری اور 2 سال نائب صدر کی ذمہ داری کے علاوہ ڈوسو الیکشن میں فعال کردار ادا کیا اور ملک بھر میں چھوٹی بڑی طلبا تحریکوں میں مضبوط کردار ادا کیا ہے۔ وہ گجرات کے سانحہ کے بعد ملک گیر تحریک میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر علیم اللہ خان این آر سی تحریک سے تمام پسماندہ لوگوں کی ایک مضبوط آواز بن چکے ہیں۔ تاہم ڈاکٹر علیم اللہ خاں مشہور کتاب ’باعزت بری‘ کے مصنف ہیں۔

کلاس میں تھپڑ کھانے والے مسلم لڑکے کی شناخت ظاہر کرنے کے الزام میں محمد زبیر پر ایف آئی آر

0
کلاس-میں-تھپڑ-کھانے-والے-مسلم-لڑکے-کی-شناخت-ظاہر-کرنے-کے-الزام-میں-محمد-زبیر-پر-ایف-آئی-آر

اتر پردیش پولیس نے آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے خلاف ایک سوشل میڈیا پوسٹس کے لیے ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس پوسٹ میں مبینہ طور پر ایک سات سالہ مسلم لڑکے کی شناخت ظاہر کی گئی ہے جسے اس کے استاد کے حکم پر اس کے ہم جماعتوں نے تھپڑ مارا تھا۔ مظفر نگر پولیس نے پیر کو وشنودت نامی ایک شخص کی شکایت پر جوینائل جسٹس ایکٹ کی دفعہ 74 کے تحت یہ مقدمہ درج کیا۔ اس قانون کے مطابق اگر کوئی شخص متاثرہ بچے یا کسی جرم کے گواہ کی شناخت ظاہر کرتا ہے تو یہ قابل سزا ہے۔ قصوروار ٹھہرائے جانے والوں کو 6 ماہ قید یا 2 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ادا کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ (25 اگست) کو ایک ایسی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں خاتون ٹیچر نے ایک مسلم طالب علم کو تھپڑ مارنے کے لیے دوسرے مذہب سے جڑے ایک دیگر طالب علم کو ہدایت دی۔ جب یہ ویڈیو تیزی کے ساتھ پھیلنے لگی تو نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) نے خبردار کیا تھا کہ ایسی ویڈیو کو شیئر نہ کریں۔ این سی پی سی آر کے سربراہ پریانک قانونگو نے لوگوں سے کہا کہ ’’بچوں کی شناخت ظاہر کر کے جرم کا حصہ نہ بنیں۔‘‘

اس پورے معاملے میں محمد زبیر نے پیر کو میڈیا پلیٹ فارم ’اسکرول‘ کو بتایا کہ انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اس ویڈیو کو کئی دیگر لوگوں نے بھی شیئر کیا تھا، لیکن ایف آئی آر میں صرف میرا نام ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ پولیس نے ابھی تک اس معاملے میں ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ مسلم طالب علم کی پٹائی کا واقعہ مظفر نگر کے نیہا پبلک اسکول میں پیش آیا جس کی مالکن ترپتی تیاگی ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والی ٹیچر مسلم طالب علم کے ہم جماعت سے اسے مارنے کے لیے کہہ رہی ہیں۔ ویڈیو میں ترپتی تیاگی کہہ رہی ہیں ’’اس کی کمر پر مارو… اس کا چہرہ سرخ ہو رہا ہے، اسے کمر پر مارو۔‘‘ جب غیر مسلم طلبا اپنے استاد کی ہدایت پر عمل کرتا ہے تو زوردار تھپڑ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ایک موقع پر وہ کہتی ہیں ’’تم زور سے مارتے کیوں نہیں؟ کس کی باری ہے؟‘‘ محترمہ تیاگی کو بچوں کو اکساتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

بہرحال، ترپتی تیاگی پر تعزیرات ہند کی دفعہ 323 اور 504 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کے خلاف مقدمہ ناقابل شناخت الزامات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پولیس اسے بغیر وارنٹ کے گرفتار نہیں کر سکتی۔ اس میں پولیس کو بھی تفتیش شروع کرنے کے لیے عدالت سے اجازت درکار ہوتی ہے۔ تاہم، ترپتی تیاگی نے مسلم لڑکے کو نشانہ بنائے جانے پر مشتمل وائرل ویڈیو کے بعد عائد الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے اسے ایک معمولی معاملہ قرار دیا ہے جسے غیر ضروری طور پر بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی اس بات سے بھی انکار کیا ہے کہ اس واقعہ میں فرقہ واریت کا عنصر موجود ہے۔

متاثرہ طالب علم کے والد نے اس واقعہ کے بارے میں پولیس کو بتایا کہ لڑکے کی تذلیل کی گئی اور گھنٹوں کھڑے رہنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ٹیچر نے دیگر طلبا سے میرے بچے کو بار بار پٹوایا، میرے بیٹے کو ایک یا دو گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا، وہ خوفزدہ ہے۔‘‘ ساتھ ہی والد نے جانکاری دی کہ بچے کو میڈیکل چیک اپ کے لیے میرٹھ لے جایا گیا تھا اور اب وہ بہتر ہے۔