منگل, مارچ 31, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 155

دہلی کے بھجن پورہ میں ایمیزون کے سینئر مینیجر کا گولی مار کر قتل

0
دہلی-کے-بھجن-پورہ-میں-ایمیزون-کے-سینئر-مینیجر-کا-گولی-مار-کر-قتل

نئی دہلی: دہلی کے بھجن پورہ علاقے میں نامعلوم حملہ آوروں نے ایمیزون کے ایک سینئر مینیجر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ ایک اہلکار نے بدھ کو بتایا کہ فائرنگ میں ایک اور شخص زخمی بھی ہوا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ہرپریت گل کے طور پر کی گئی ہے اور زخمی گووند سنگھ (32) اسپتال میں زیر علاج ہے۔

پولیس کے مطابق، یہ واقعہ بھجن پورہ کے سبھاش وہار میں منگل کی رات تقریباً 11:37 بجے پیش آیا اور 11:53 بجے پولیس کنٹرول روم پر کال کی گئی۔ موقع پر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ہرپریت اور گووند اپنی اسپلنڈر بائک پر گلی نمبر 8 کے قریب جا رہے تھے کہ اسکوٹی اور بائک پر سوار 5 لوگوں نے انہیں روک لیا۔

ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ حملہ آوروں نے بغیر اشتعال کے فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہو گئے۔ ایمیزون میں سینئر مینیجر کے طور پر کام کرنے والے ہرپریت کے سر میں گولی لگی اور اسے جگ پرویش چندر ہسپتال میں مردہ قرار دے دیا گیا۔ عہدیدار نے کہا ’’گووند کو بھی گولی لگی ہے اور اسے مزید علاج کے لیے ایل این جے پی اسپتال ریفر کیا گیا ہے۔‘‘

عہدیدار نے بتایا کہ مجرموں کی شناخت اور ان کو پکڑنے کے لیے علاقے میں سی سی ٹی وی کی جانچ کی جا رہی ہے۔ عہدیدار نے کہا ’’فائرنگ کے واقعے کے پیچھے محرکات کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔‘‘

دہلی کی عدالت سے سمبت پاترا کی عرضی خارج، کیجریوال کی فرضی ویڈیو پوسٹ کرنے کے معاملہ میں ایف آئی آر برقرار

0
دہلی-کی-عدالت-سے-سمبت-پاترا-کی-عرضی-خارج،-کیجریوال-کی-فرضی-ویڈیو-پوسٹ-کرنے-کے-معاملہ-میں-ایف-آئی-آر-برقرار

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے منگل کے روز بی جے پی لیڈر سمبت پاترا کی نظرثانی کی اس درخواست کو خارج کر دیا، جس میں مجسٹریٹ عدالت کے ان الزامات کے جواب میں ایف آئی آر درج کرنے کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جس میں انہوں نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی چھیڑ چھاڑ کی گئی ویڈیو پوسٹ کی تھی۔

سیشن کورٹ نے درخواست کو خارج کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی کہ پاترا کو ملزم بنائے بغیر تفتیش کی جائے۔ عدالت نے ابتدائی پولیس رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ پاترا نے غیر دانستہ طور پر فرضی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کی تھی، تاہم وہ اس کے موجد نہیں تھے۔

نظرثانی کی درخواست ایک مجسٹریٹ عدالت کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی، جس نے پولیس کو عام آدمی پارٹی (عآپ) کی رکن اسمبلی آتشی کی طرف سے دائر کی گئی شکایت کی بنیاد پر انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی متعلقہ دفعات کے تحت پاترا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تھی۔

آتشی نے دعویٰ کیا تھا کہ چھیڑ چھاڑ کی گئی ویڈیو میں زرعی قوانین پر دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عآپ کے موقف کے خلاف بیان ہے، جس سے کسانوں میں عدم اطمینان پیدا ہوا۔ اسسٹنٹ سیشن جج، دھیرج مارم نے کہا کہ مجسٹریٹ عدالت کا حکم قانون کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے نظرثانی کی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

جج نے کہا ’’اس طرح نظرثانی کی درخواست متعلقہ ایس ایچ او کو اس ہدایت کے ساتھ خارج کر دی گئی ہے کہ درخواست گزار کو ایف آئی آر میں ملزم کے طور پر نامزد کرنے کے علاوہ متعلق حکم پر فوری اور من و عن عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔‘‘

عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر کے لیے ملزم کا نام لینا ضروری نہیں ہے، کیونکہ اس کا بنیادی جزو قابلِ سزا جرم کے بارے میں معلومات ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ فرضی ویڈیوز معاشرے اور امن و امان کے لیے خطرہ ہیں، کیونکہ اس طرح کا جھوٹا پروپیگنڈہ بے قابو تشدد کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے اس مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کا دو روزہ اجلاس کل سے ممبئی میں شروع، عام انتخابات کی حکمت عملی سمیت متعدد موضوعات پر بحث متوقع

0
اپوزیشن-اتحاد-’انڈیا‘-کا-دو-روزہ-اجلاس-کل-سے-ممبئی-میں-شروع،-عام-انتخابات-کی-حکمت-عملی-سمیت-متعدد-موضوعات-پر-بحث-متوقع

ممبئی: حزب اختلاف کے اتحاد ’انڈیا‘ کا اجلاس کل سے ممبئی میں شروع ہونے جا رہا ہے۔ نیوز 18 کی رپورٹ کے مطابق انڈیا کا دو روزہ اجلاس 31 اگست سے یکم ستمبر تک منعقد ہوگا اور اس کے لئے ممبئی کے ہوٹل گرینڈ حیات میں 150 کمرے بک کئے گئے ہیں۔

اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے اجلاس کے ایجنڈے میں اتحاد کے لوگو کی نقاب کشائی، رابطہ کمیٹی کی تشکیل، کنوینرز کی تقرری، عام انتخابات کے لیے ممکنہ سیٹ شیئرنگ فارمولے پر بحث، عام انتخابات کے لیے حکمت عملی اور کئی دیگر موضوعات شامل ہیں۔

شیو سینا یو بی ٹی نے پیر کے روز اپوزیشن اتحاد انڈیا کے ممبئی اجلاس کے حوالہ سے پہلا ویڈیو ٹیزر جاری کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ہوٹل میں کمروں کی بکنگ اور 31 اگست کو عشائیہ کا انتظام شیو سینا یو بی ٹی کی جانب سے کیا جا رہا ہے، اس دن اتحاد کے لیڈران غیر رسمی ملاقات کریں گے۔ جبکہ اگلے دن یعنی یکم ستمبر کو کانگریس کی جانب سے ظہرانہ کا اہتمام کیا جائے گا اور اس دن تمام لیڈران رسمی ملاقات کریں گے۔

اتحاد کے اجلاس کے حوالہ سے تمام اخباروں اور دیگر مقامات پر اشتہارات کی ذمہ داری بھی کانگریس پارٹی کو سونپی گئی ہے۔ این سی پی کی جانب سے تمام مہمانان کے لئے گاڑیوں کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ سنجے نروپم ایئرپورٹ پر تمام مہمانوں کا استقبال کریں گے۔ جبکہ ملند دیوڑا مہمانوں کا ہوٹل میں خیرمقدم کریں گے۔

راہل گاندھی کرناٹک حکومت کی ’گرہ لکشمی یوجنا‘ کی افتتاحی تقریب کے لیے میسور روانہ، چینی جارحیت کے حوالہ سے وزیر اعظم مودی پر حملہ

0
راہل-گاندھی-کرناٹک-حکومت-کی-’گرہ-لکشمی-یوجنا‘-کی-افتتاحی-تقریب-کے-لیے-میسور-روانہ،-چینی-جارحیت-کے-حوالہ-سے-وزیر-اعظم-مودی-پر-حملہ

نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی آج کرناٹک کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ میسور میں ریاستی حکومت کی گرہ لکشمی یوجنا کا افتتاح کریں گے۔ اس اسکیم کے تحت گھر کی خاتون سربراہ کو ماہانہ 2000 روپے کی نقد امداد فراہم کی جائے گی۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے افتتاحی پروگرام میں مہمان خصوصی ہوں گے۔

کرناٹک کے لیے روانہ ہوتے وقت کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے چینی حکومت کے ’چین کے معیاری نقشے کے 2023 ایڈیشن‘ پر بات کی اور وزیر اعظم مودی پر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا ’’جو وزیر اعظم نے کہا ہے کہ لداخ میں ایک انچ زمین نہیں گئی ہے، وہ سراسر جھوٹ ہے۔ پورا لداخ یہ جانتا ہے کہ چائنا نے ہماری زمین ہڑپ لی ہے۔ یہ میپ کی بات تو بڑی سنگین ہے مگر انہوں نے زمین تو لے لی ہے۔ اس کے بارے میں بھی وزیر اعظم کو کچھ کہنا چاہئے۔‘‘

دریں اثنا، پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے ٹوئٹ کیا ’’کانگریس کی قیادت والی کرناٹک حکومت میسور میں انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کی موجودگی میں خواتین کے لئے دنیا کی سب سے بڑی فلاحی اسکیم ’گرہ لکشمی یوجنا‘ متعارف کرنے جا رہی ہے۔‘‘

اس پروگرام میں 1.5 لاکھ سے زیادہ خواتین استفادہ کنندگان کی شرکت متوقع ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے میسور میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مہاراجہ کالج گراؤنڈ میں عظیم الشان پنڈال بنایا گیا ہے۔

حکومت کے مطابق 1.9 کروڑ خواتین نے گرہ لکشمی یوجنا کے لیے رجسٹریشن کرایا ہے، جن کی حکومت کی طرف سے مدد کی جائے گی۔ کانگریس پارٹی نے کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران پانچ انتخابی وعدے کیے تھے جن میں گرہ لکشمی یوجنا بھی شامل ہے۔ اس اسکیم کے لیے رجسٹریشن 19 جولائی سے شروع ہوئے تھے۔

مودی-شاہ کتنی بھی کوشش کریں 2024 میں آمریت کا خاتمہ یقینی، سامنا میں بی جے پی پر حملہ

0
مودی-شاہ-کتنی-بھی-کوشش-کریں-2024-میں-آمریت-کا-خاتمہ-یقینی،-سامنا-میں-بی-جے-پی-پر-حملہ

ممبئی: شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) نے اپنے ترجمان سامنا میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پھر نشانہ بنایا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سامنا میں لکھا گیا ہے کہ لوک سبھا انتخابات وقت سے پہلے یعنی دسمبر کے مہینے میں ہی ہوں گے۔ اس کے لیے پرائیویٹ چھوٹے طیاروں، ہیلی کاپٹروں کی بکنگ شروع ہو چکی ہے۔

اداریہ میں بی جے پی پر طاقت کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا کہ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی بکنگ سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے کا اقدام ہے۔ اختیارات کا یہ غلط استعمال انتخابات کے دوران اس بات کو یقینی بنانے کے لیے شروع ہوا ہے کہ مخالفین کو تیز رفتار وسائل نہ ملیں، یہ قابل اعتراض ہے۔

بی جے پی پر بدعنوانی سے کمائی کا الزام لگاتے ہوئے اداریہ میں لکھا گیا کہ بی جے پی اور اس کے حامیوں کے پاس بے پناہ دولت ہے۔ یہ پراپرٹی کیسے بنتی ہے؟ اس میں کہا گیا ہے کہ چندریان-3 کی لاگت 650 کروڑ روپے بتائی گئی ہے اور دہلی میں دوارکا ایکسپریس وے کی تقریباً تین کلومیٹر سڑک کی لاگت 750 کروڑ روپے سے زیادہ ہو گئی ہے!

مزید کہا گیا ہے کہ 3 کلومیٹر کے پیچھے 500 کروڑ خرچ کرنے والوں نے انتخابی مہم کے لیے ملک کے تمام پرائیویٹ طیارے، ہیلی کاپٹر بک کر لیے ہیں، پھر اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ بی جے پی کے ایم پی ڈی اروند پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ای وی ایم کا کوئی بھی بٹن دبائیں، ووٹ صرف بی جے پی کو جائے گا! اس کا مطلب ہے کہ بی جے پی نے ہیلی کاپٹر کے ساتھ لاکھوں ای وی ایم بھی بک کرائی ہیں۔

اخبار میں مزید کھتا گیا ہے کہ چاہے آپ کتنی ہی بکنگ کر لیں، پھر بھی ووٹر کرپٹ ای وی ایم کی چھاتی پر پیر رکھ کر آمریت کو شکست دیے بغیر نہیں رہیں گے۔

سامنا میں کہا گیا ہے کہ سرکاری نجومیوں نے بی جے پی کو 2024 کے بجائے 2023 میں انتخابات کرانے کا مشورہ دیا ہے۔ الیکشن 2024 میں کرائیں یا 2023 میں، مودی-شاہ کی زائچہ میں اب ’راج یوگ‘ نہیں ہے۔ اگر وہ بے ایمانی سے کچھ کرنے کی کوشش بھی کریں گے تو معاملہ ان پر ہی پلٹ جائے گا۔

اخبار نے الزام لگایا کہ مودی-شاہ اور گجرات کے ان کے امیر دوستوں نے طویل عرصے سے جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ 2024 میں عوام آمرانہ فطرت کو شکست دے کر جمہوریت کو بحال کریں گے۔ اسی لیے ‘انڈیا’ اتحاد نے جنم لیا ہے۔

اداریہ میں آخر میں کہا گیا ہے کہ انتخابات چاہے 2024 میں ہوں یا 2023 میں، ہیرانیاکشیپ کی صورت میں آمریت کا خاتمہ یقینی ہے۔ ‘انڈیا’ اتحاد نے ملک کی فضا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عوام بیدار ہو چکے ہیں اور کسی جھانسہ میں نہیں آنے والے۔

اقلیتی اسکالرشپ گھوٹالہ: سی بی آئی نے 144.33 کروڑ روپے کے گھوٹالہ معاملہ میں درج کیا کیس

0
اقلیتی-اسکالرشپ-گھوٹالہ:-سی-بی-آئی-نے-144.33-کروڑ-روپے-کے-گھوٹالہ-معاملہ-میں-درج-کیا-کیس

سی بی آئی نے اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلبا کے لیے مختص اسکالرشپ کو لے کر ایک بڑے گھوٹالہ کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں سی بی آئی نے نامعلوم افسران، نوڈل افسران اور پی ایس یو بینک ملازمین کے خلاف معاملہ درج کر لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ اقلیتی اسکالرشپ گھوٹالہ تقریباً 144.33 کروڑ روپے کا ہے۔ اس سلسلے میں شکایت وزارت برائے اقلیتی امور نے درج کرائی ہے۔

سی بی آئی کے ذریعہ درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق اقلیتی معاملوں کی وزارت نے اقلیتی اسکالرشپ کی تقسیم کے سلسلے میں نامعلوم افسران کے خلاف 144.33 کروڑ روپے کے مبینہ گھوٹالے کا معاملہ ظاہر کیا ہے۔ ایف آئی آر تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی، آر ڈبلیو 420، 468 اور 461، اور پی سی ایکٹ 1988 کی دفعہ 13(2)، 13(1)(C) اور (D) کے تحت درج کی گئی ہے۔ الزامات میں مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی، جعلسازی، جعلی دستاویزوں کو اصلی شکل میں استعمال کرنا اور مجرمانہ روش شامل ہے۔

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق مشتبہ ملزمین میں حکومت کے نامعلوم افسران، کئی پی ایس یو بینک کے افسران اور 18 ریاستوں میں واقع 830 مختلف اداروں کے نوڈل افسران شامل ہیں۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں سے (2017 سے 2022 کے درمیان) تقریباً 65 لاکھ طلبا کو مرکزی حکومت سے تین الگ الگ منصوبوں پری میٹرک اسکالرشپ، پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اور میرٹ کم مینس کے تحت ہر سال 6 اقلیتی طبقات یعنی مسلم، عیسائی، سکھ، جین، بودھ اور پارسی طلبا کے لیے اقلیتی اسکالرشپ ملتی ہے۔ یہ سبھی اسکالرشپ ڈی بی ٹی منصوبہ کے تحت ہیں، جہاں طلبا کو براہ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں رقم حاصل ہوتا ہے۔ فنڈ غبن کی رپورٹس کو دوبارہ جانچ کرنے کے بعد وزارت نے اسکالرشپ منصوبہ کے تیسرے فریق کی تشخیص کو پورا کرنے کے لیے نیشنل کونسل آف ایپلائیڈ اکونومک ریسرچ (این سی اے ای آر) کو مقرر کیا ہے۔ مشتبہ اداروں اور درخواستوں کو نشان زد کرنے کے لیے قومی اسکالرشپ پورٹل کے ذریعہ سے بھی ایک تشخیص کی گئی تھی۔ تشخیص کی بنیاد پر مجموعی طور پر 830 ادارے فرضی، جزوی طور سے فرضی یا غیر فعال پائے گئے۔

’الفاظ تلواروں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں‘، بی جے پی لیڈر ایچ راجہ کی عرضی مدراس ہائی کورٹ سے خارج

0
’الفاظ-تلواروں-سے-زیادہ-طاقتور-ہوتے-ہیں‘،-بی-جے-پی-لیڈر-ایچ-راجہ-کی-عرضی-مدراس-ہائی-کورٹ-سے-خارج

مدراس ہائی کورٹ نے بی جے پی لیڈر ایچ راجہ کو آج اُس وقت شدید جھٹکا دیا جب ان کی عرضی کو مسترد کرنے کا فیصلہ سنایا۔ اس عرضی میں بی جے پی لیڈر نے دراوڑ لیڈر ای وی آر پیریار سمیت کچھ دیگر قابل اعتراض بیانات سے متعلق مختلف معاملوں میں ذیلی عدالتوں میں ان کے خلاف چل رہی کارروائی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ حالانکہ عدالت نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کیسز کو متعلقہ خصوصی عدالتوں میں منتقل کر دیا۔

دراصل بی جے پی لیڈر ایچ راجہ نے تمل ناڈو ہندو مذہبی اور مذہبی بندوبستی محکمہ کے افسران، آنجہانی دراوڑ آئیکن ای وی راماسامی پیریار اور آنجہانی ڈی ایم کے چیف ایم کروناندھی کے گھروں کی خواتین کے بارے میں قابل اعتراض تبصرے کیے تھے۔ اس کے علاوہ بھی کئی دیگر معاملے ایچ راجہ کے خلاف چل رہے تھے۔ بی جے پی لیڈر نے ان سبھی معاملوں کو منسوخ کرنے کی عرضی عدالت میں داخل کی تھی جسے مدراس ہائی کورٹ کے جج این آنند ونکٹیش نے مسترد کر دیا۔

عدالت نے آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بھلے ہی عرضی دہندہ پیریار کے نظریات اور خیالات سے متفق نہیں ہوگا، اس کے باوجود وہ حد کو پار نہیں کر سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسا بیان نہیں دے سکتا جو براہ راست تمل ناڈو کے لوگوں کے جذبات کو متاثر کرتا ہے۔ عدالت نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’الفاظ تلواروں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں اور تلوار کسی ایک شخص کو چوٹ پہنچا سکتی ہے، لیکن الفاظ لوگوں کے ایک بڑے طبقہ پر بہت سنگین اثر ڈال سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے عرضی دہندہ کو اس بات کا احساس نہیں تھا۔‘‘

اتر پردیش: پرنسپل کی فحش حرکتوں سے پریشان طالبات نے خون سے وزیر اعلیٰ یوگی کو لکھا خط

0
اتر-پردیش:-پرنسپل-کی-فحش-حرکتوں-سے-پریشان-طالبات-نے-خون-سے-وزیر-اعلیٰ-یوگی-کو-لکھا-خط

اتر پردیش کے غازی آباد ضلع میں ایک اسکول کی طالبات نے اپنے اسکول پرنسپل پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ طالبات کا الزام ہے کہ پرنسپل لڑکیوں کو کمرے میں بلا کر فحش حرکتیں کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں لڑکیوں نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو اپنے خون سے سے خط لکھ کر بھیجا ہے۔ چار صفحات کے خط میں لڑکیوں نے اپنی پریشانی بیان کی ہے۔

خط کے مطابق طالبات کا کہنا ہے کہ اسکول پرنسپل راجیو پانڈے یکے بعد دیگرے لڑکیوں کو اپنے دفتر میں بلاتے ہیں اور ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ لڑکیوں نے لکھا ہے کہ ’’بابا جی، ہم بمہیٹا گاؤں کے کسان آدرش ہائر سیکنڈری اسکول میں پڑھنے والی لڑکیاں ہیں۔ ہمارے اسکول کے پرنسپل راجیو پانڈے آئے دن کسی نہ کسی لڑکی کو اپنے دفتر میں بلاتے تھے اور ہمارے ساتھ غلط سلوک کرتے تھے اور دھمکی دیتے تھے کہ اگر ہم نے یہ بات کسی کو بتائی تو وہ ہمیں برباد کر دیں گے۔ ان کے خوف سے بیشتر لڑکیاں خاموش رہتی ہیں۔ ہم میں سے کچھ لڑکیوں نے 21 اگست کو گھر پر اپنی پریشانی بیان کرنے کی ہمت کی، جس کے بعد ہمارے والدین جمع ہوئے اور خاتون کونسل پرموش یادو کے ساتھ اسکول گئے اور انھوں نے منیجر سے بات کی۔

خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ والدین کے اعتراض کرنے پر پرنسپل ناراض ہو گئے اور انھوں نے سبھی کو گالی دینا شروع کر دیا۔ جھگڑا بڑھنے پر والدین نے پرنسپل کی پٹائی کر دی۔ اس کے بعد والدین نے اس معاملے کی اطلاع اے سی پی سلونی اگروال کو دی، جنھوں نے الٹے لڑکیوں اور ان کے والدین کو ہی ڈانٹا اور انھیں چار گھنٹے تک پولیس اسٹیشن میں بٹھائے رکھا۔ پولیس نے لڑکیوں کے گھر بھی جا کر انھیں دھمکایا۔

خون سے لکھا خط منظر عام پر آنے کے فوراً بعد پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے لڑکیوں کے والدین کے خلاف جسمانی استحصال کا الزام لگاتے ہوئے جوابی شکایت درج کرا دی ہے۔ اے سی پی سلونی اگروال نے کہا ہے کہ لڑکیوں کی شکایت کی بنیاد پر فوراً پرنسپل کے خلاف معاملہ درج کر لیا گیا ہے۔

’جب ووٹ لگے گھٹنے، انتخابی تحفے لگے بٹنے‘، سلنڈر کی قیمت 200 روپے گھٹائی گئی تو کھڑگے نے مودی حکومت پر کیا طنز

0
’جب-ووٹ-لگے-گھٹنے،-انتخابی-تحفے-لگے-بٹنے‘،-سلنڈر-کی-قیمت-200-روپے-گھٹائی-گئی-تو-کھڑگے-نے-مودی-حکومت-پر-کیا-طنز

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کی آج میٹنگ ہوئی جس میں ایل پی جی گیس سلنڈر کی قیمت 200 روپے کم کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ اس فیصلے کو کانگریس نے انتخاب سے جوڑا ہے اور مرکزی حکومت کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس صدر کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ ’’جب ووٹ لگے گھٹنے تو انتخابی تحفے لگے بٹنے! عوام کی محنت کی کمائی لوٹنے والی بے رحم مودی حکومت اب ماؤں-بہنوں سے دکھاوٹی ہمدردی ظاہر کر رہی ہے۔‘‘

کھڑگے نے اپنے پوسٹ میں مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ساڑھے نو سالوں تک 400 روپے کا ایل پی جی سلنڈر 1100 روپے میں فروخت کر عام آدمی کی زندگی تباہ کرتے رہے، تب کسی تحفہ کی یاد کیوں نہیں آئی؟ بی جے پی حکومت یہ جان لے کہ 140 کروڑ ہندوستانی کو ساڑھے نو سال تڑپانے کے بعد انتخابی لالی پاپ تھمانے سے کام نہیں چلے گا۔ آپ کی ایک دہائی کے گناہ اس طرح دھلنے والے نہیں۔‘‘

کھڑگے نے اپنے پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کی کمرتوڑ مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے کانگریس پارٹی پہلی بار کئی ریاستوں میں غریبوں کے لیے صرف 500 روپے کا سلنڈر کرنے والی ہے۔ کئی ریاستوں مثلاً راجستھان اسے نافذ بھی کر چکے ہیں۔ مودی حکومت یہ جان لے کہ 2024 میں ملک کی پریشان عوام کے غصے کو 200 روپے کی سبسیڈی سے کم نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں ’’اپوزیشن اتحاد اِنڈیا سے خوف اچھا ہے مودی جی! عوام نے ذہن تیار کر لیا ہے۔ مہنگائی کو شکست دینے کے لیے بی جے پی کو ایگزٹ ڈور دکھانا ہی واحد متبادل ہے۔‘‘

دوسری طرف کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے بھی ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 200 روپے کم کیے جانے کے بعد مودی حکومت پر طنز کے تیر چلائے ہیں اور اپنے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’یہ قصہ ہے ’ڈیموکرسی‘ کا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وہ لکھتے ہیں کہ ’’وزیر اعظم مودی نے رسوئی گیس کی قیمتوں میں اچانک سے کٹوتی کر دی ہے۔ لیکن ایسا ابھی ہی کیوں کیا گیا، آپ پوچھ سکتے ہیں؟‘‘

جئے رام رمیش اس پوسٹ میں آگے لکھتے ہیں ’’یہ قصہ ہے ’ڈیموکرسی‘ کا… کرناٹک میں بی جے پی کی شکست- ایل پی جی کی اونچی قیمت انتخاب کے اہم ایشوز میں سے ایک تھی۔ دو مہینوں میں (اپوزیشن اتحاد) اِنڈیا کی دو بے حد کامیاب میٹنگیں اور تیسری اگلے دو دنوں میں ہونے والی ہے۔ کرناٹک میں کانگریس حکومت نے 100 دنوں میں اپنی 5 گارنٹی نافذ کر دی ہے۔ راجستھان میں کانگریس حکومت 500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر دے رہی ہے۔ لوگوں کا شاندار رد عمل مل رہا ہے، کیونکہ وہ بی جے پی کی بدتر حکمرانی سے پریشان تھے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے مزید لکھا ہے کہ ’’5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سے تین ماہ قبل، جہاں بی جے پی یقینی طور سے ہارنے جا رہی ہے، اور لوک سبھا انتخاب سے چھ ماہ قبل بی جے پی واقعی میں تنکے کا سہارا لے رہی ہے۔ آنے والے مہینوں میں ایسے ’تحائف‘ کی امید ہے کیونکہ وزیر اعظم اپنی کرسی سے چپکے رہنے کے لیے مزید بے چین نظر آ رہے ہیں۔‘‘

چندریان-3 کو ملی بڑی کامیابی، جنوبی قطب پر سلفر کی موجودگی کا چلا پتہ، ہائیڈروجن کی تلاش جاری

0
چندریان-3-کو-ملی-بڑی-کامیابی،-جنوبی-قطب-پر-سلفر-کی-موجودگی-کا-چلا-پتہ،-ہائیڈروجن-کی-تلاش-جاری

ہندوستان کے مشن چاند یعنی چندریان-3 کو ایک بہت بڑی کامیابی ہاتھ لگی ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) نے 29 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں جانکاری دی گئی ہے کہ رووَر پر لگے پے لوڈ کے ذریعہ سے چاند کے جنوبی قطب میں سلفر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ اسی کے ساتھ اِسرو نے یہ بھی بتایا کہ چاند کے جنوبی قطب پر ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔

اِسرو نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’اِن-سیٹو (مقررہ جگہ پر) سائنسی تجربات جاری ہیں… پہلی بار اِن-سیٹو میزرمنٹس کے ذریعہ رووَر پر لگی مشین ’لیزر-انڈیوسڈ بریک ڈاؤن اسپیکٹروسکوپ‘ (ایل آئی بی ایس) واضح طور سے جنوبی قطب کے پاس چاند کی سطح میں سلفر کی موجودگی کی تصدیق کرتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’امید کے مطابق الومنیم، کیلشیم، آئرن، کرومیم، ٹائٹانیم، مینگنیز، سلیکان اور آکسیجن کا پتہ چلا ہے۔ ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔‘‘ مزید جانکاری دیتے ہوئے اِسرو نے بتایا ہے کہ ایل آئی بی ایس نامی یہ پے لوڈ بنگلورو واقع اِسرو کی تجربہ گاہ الیکٹرو-آپٹکس سسٹمز (ایل ای او ایس) میں تیار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل آج ’اِسرو سائٹ‘ کے ایکس ہینڈل سے جانکاری دی گئی تھی کہ پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر دونوں ٹھیک طرح کام کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں۔ پوسٹ میں یہ بھی جانکاری دی گئی تھی کہ جلد ہی اچھا نتیجہ سامنے آنے والا ہے۔ غالباً سلفر اور کچھ دیگر اشیاء کی موجودگی سے متعلق جانکاری سامنے آنے کا ہی اشارہ چندریان-3 کے ایکس ہینڈل سے دیا گیا تھا۔ اِسرو کے ذریعہ دی گئی تازہ جانکاری سائنسداں طبقہ کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔