منگل, مارچ 31, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 154

کانگریس رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری کو ملی راحت، لوک سبھا کمیٹی نے معطلی رد کرنے کا سنایا فیصلہ

0
کانگریس-رکن-پارلیمنٹ-ادھیر-رنجن-چودھری-کو-ملی-راحت،-لوک-سبھا-کمیٹی-نے-معطلی-رد-کرنے-کا-سنایا-فیصلہ

کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری 30 اگست کو لوک سبھا کی خصوصی استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ بعد ازاں خصوصی استحقاق کمیٹی نے پارلیمنٹ سے ادھیر رنجن چودھری کی معطلی کو رد کرنے کے لیے اتفاق رائے سے تجویز کو پاس کیا۔ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد ادھیر رنجن نے لوک سبھا میں کیے گئے اپنے تبصروں کو لے کر افسوس ظاہر کیا، جس کے بعد کمیٹی نے معطلی رد کرنے کی تجویز پاس کی۔

قابل ذکر ہے کہ ادھیر رنجن چودھری کو مانسون اجلاس کے آخری دن 11 اگست کو پارلیمنٹ سے معطل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں ادھیر رنجن نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنیل کمار سنگھ کی صدارت والی کمیٹی سے کہا کہ ان کا ارادہ کسی کے بھی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ بعد ازاں خصوصی استحقاق کمیٹی کے ایک رکن نے کہا کہ ’’کمیٹی نے لوک سبھا سے ادھیر رنجن چودھری کی معطلی کو رد کرنے کے لیے ایک تجویز پاس ہوا ہے۔ یہ تجویز جلد از جلد لوک سبھا اسپیکر کو بھیجا جائے گا۔‘‘

واضح رہے کہ مانسون اجلاس کے دوران مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور پرہلاد جوشی نے ادھیر رنجن کے پارلیمنٹ میں برے سلوک کا حوالہ دے کر ان کی معطلی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تجویز پیش کی تھی۔ انھوں نے ادھیر پر الزام لگایا تھا کہ مانسون اجلاس کے دوران جب وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر پارلیمنٹ کو مخاطب کر رہے تھے تو انھوں نے برا رویہ اختیار کیا۔ مرکزی حکومت کے خلاف لائی گئی تحریک عدم اعتماد کے نامنظور ہوتے ہی حکومت نے ادھیر رنجن کے خلاف معطلی کی تجویز پیش کی تھی جو ذیلی ایوان میں صوتی ووٹ سے پاس ہو گئی تھی۔

نوح میں تشدد بھڑکانے کے ملزم بٹو بجرنگی کو ملی ضمانت

0
نوح-میں-تشدد-بھڑکانے-کے-ملزم-بٹو-بجرنگی-کو-ملی-ضمانت

نوح: نوح میں تشدد بھڑکانے کے ملزم بٹو بجرنگی عرف راج کمار کو ضمانت مل گئی ہے۔ اسے 15 اگست کی شام فرید آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ بٹو بجرنگی نے نوح میں برج منڈل یاترا کے دوران سوشل میڈیا پر کئی اشتعال انگیز پوسٹس کی تھیں۔

بٹو بجرنگی کو یاترا کے دوران اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں سی آئی اے تاؤڑو پولیس نے فرید آباد میں واقع اس کے گھر سے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اسے نوح ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کیا گیا۔ 14 دن کی عدالتی حراست کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا گیا جس کے بعد اے ڈی جے عدالت نے آج بٹو بجرنگی کی ضمانت منظور کر لی۔

بٹو بجرنگی کے خلاف نوح تھانہ صدر میں مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ بٹو بجرنگی کے خلاف اے ایس پی اوشا کنڈو کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں اب تک 60 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، جن میں سے 49 فسادات اور 11 سائبر ایف آئی آر ہیں۔ اس کے علاوہ نوح تشدد میں 306 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ان میں سے 305 گرفتاریاں فسادات میں اور ایک گرفتاری سائبر کیس میں ہوئی ہے۔

بٹو بجرنگی کی گرفتاری کے بعد وشو ہندو پریشد نے اپنے آپ کو بجرنگ دل کا کارکن بتانے والے بٹو کے ساتھ کسی قسم کے تعلق سے انکار کر دیا تھا۔ وی ایچ پی نے کہا کہ بٹو کا بجرنگ دل سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ انہوں نے جو ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا، وشو ہندو پریشد بھی اسے غلط سمجھتی ہے۔

اس معاملے میں درج ایف آئی آر کے مطابق بٹو اور اس کے حامیوں نے اے ایس پی اوشا کنڈو کی ٹیم کے ساتھ بدتمیزی کی اور دھمکی بھی دی جب انہیں تلوار اور ترشول لے کر نلہڑ مندر جاتے ہوئے روکا گیا، جس کے بعد بجرنگی کی شناخت سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ہوئی۔

مدھیہ پردیش: مورینا کی فیکٹری میں زہریلی گیس کا رساؤ، 5 مزدوروں کی موت، جائے حادثہ پر پہنچے افسران

0
مدھیہ-پردیش:-مورینا-کی-فیکٹری-میں-زہریلی-گیس-کا-رساؤ،-5-مزدوروں-کی-موت،-جائے-حادثہ-پر-پہنچے-افسران

مدھیہ پردیش کے مرینا ضلع واقع ایک فیکٹری میں زہریلی گیس کے رساؤ سے پانچ مزدوروں کی موت ہو گئی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق حادثہ ساکشی فوڈ پروڈکٹ نامی فیکٹری میں پیش آیا ہے۔ اس فیکٹری میں چیری بنانے کا کام کیا جاتا ہے۔ جب یہ حادثہ پیش آیا، اس وقت فیکٹری میں کئی مزدور کام کر رہے تھے اور فوری طور پر سبھی کو فیکٹری سے باہر نکالا گیا۔

حادثہ کی خبر ملنے کے بعد انتظامیہ کے افسران اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئی ہیں۔ سبھی مہلوکین کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھی بھیج دیا گیا ہے۔ حادثہ پیش آنے کے بعد فیکٹری کو خالی کرایا گیا ہے اور وہاں کسی بھی طرح کے کام کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فیکٹری مرینا ضلع کے جیروا علاقہ میں موجود ہے ہجاں دو مزدور زہریلی گیس کی زد میں آ گئے تھے، اور انھیں بچانے کی تین مزدوروں نے کوشش کی اور وہ بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ساکشی فوڈ فیکٹری میں دو مزدور 9 فیٹ گہرے ٹینک کو صاف کرنے کے لیے اترے تھے۔ ٹینک میں زہریلی گیس کا رساؤ ہونے کے سبب دونوں مزدوروں کو بچانے کے لیے ایک کے بعد ایک تین دیگر مزدور اسی ٹینک میں اتر گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پانچوں زہریلی گیس کی زد میں آ گئے اور موت کی نیند سو گئے۔ پانچوں مزدوروں کی موت ٹینک کے اندر ہی ہو گئی۔ مہلوکین میں تین مزدور کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سگے بھائی ہیں۔

کرناٹک میں گرہ لکشمی یوجنا کا افتتاح، خواتین کو ہر ماہ ملیں گے 2000 روپے، راہل گاندھی نے کہا- ’ہم جو کہتے ہیں کر کے دکھاتے ہیں‘

0
کرناٹک-میں-گرہ-لکشمی-یوجنا-کا-افتتاح،-خواتین-کو-ہر-ماہ-ملیں-گے-2000-روپے،-راہل-گاندھی-نے-کہا-’ہم-جو-کہتے-ہیں-کر-کے-دکھاتے-ہیں‘

انبنگلورو: راہل گاندھی نے آج (30 اگست) میسور میں کرناٹک حکومت کی گرہ لکشمی اسکیم کا افتتاح کیا۔ اس پروگرام میں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا، نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اور رندیپ سرجے والا موجود تھے۔

جیسے ہی راہل گاندھی نے اسکیم کا افتتاح کیا، 2000 روپے ان ایک کروڑ 09 لاکھ 54 ہزار خواتین کے کھاتوں میں پہنچ گئے جنہوں نے اسکیم کے لیے رجسٹریشن کرایا تھا۔ اس اسکیم کا فائدہ ان خواتین کو ملے گا جن کے نام پر راشن کارڈ ہے۔ انکم ٹیکس ادا کرنے والی خواتین یا ان کے شوہر اس اسکیم کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔

اس موقع پر راہل نے کہا ’’ان دنوں ایک فیشن ہے کہ دہلی میں حکومت صرف ارب پتیوں کے لیے کام کرتی ہے۔ ہم اپنے وعدوں پر قائم ہیں۔ ہم نے انتخابات میں جو پانچ وعدے کیے تھے، وہ حکومت سازی کے 100 دنوں کے اندر پورے ہو گئے ہیں۔ ان پانچ وعدوں میں سے چار خواتین کے لیے ہیں۔ اس کے پیچھے ہماری سوچ یہ ہے کہ جس طرح ایک بڑا درخت مضبوط جڑوں کے بغیر کھڑا نہیں رہ سکتا، اسی طرح کرناٹک کی طاقت کی بنیاد یہاں کی مائیں اور بہنیں ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا بڑے سے بڑا درخت بھی جڑوں کے بغیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ جڑ مضبوط ہو تو کتنا ہی بڑا طوفان آجائے، درخت گرتا نہیں، جھکتا نہیں۔ بنیاد کے بغیر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی۔ بنیاد جتنی مضبوط ہوتی ہے عمارت اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا ’’میں نے بھارت جوڑو یاترا کے دوران ہزاروں خواتین سے ملاقات کی۔ کرناٹک میں تقریباً 600 کلومیٹر پیدل چل کر میں نے آپ (خواتین) سے بات کی۔ یہاں مجھے ایک بات گہرائی سے سمجھ آئی۔ آپ نے فرمایا کہ مہنگائی تکلیف دے رہی ہے۔ چاہے وہ پٹرول ہو، ڈیزل ہو یا گیس سلنڈر۔ آخر کار ہماری ماؤں بہنوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ ہزاروں خواتین نے مجھے بتایا کہ وہ مہنگائی برداشت نہیں کر سکتیں۔ کرناٹک کی خواتین اس ریاست کی بنیاد ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ کرناٹک کی یہ اسکیم دنیا کی سب سے بڑی کیش ٹرانسفر اسکیم ہے۔ دنیا میں کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں حکومت خواتین کو اتنا پیسہ دے رہی ہو۔ یہ دو ہزار روپے کوئی معمولی بات نہیں۔ اس سے خواتین کو تحفظ ملے گا۔ اس سے وہ کچھ رقم بچا سکیں گے۔ بچوں کی کتابیں خرید سکیں گے۔ یہ خواتین پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ’’میں اس بات کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس ملک کی تمام کامیابیاں ماؤں بہنوں کی کامیابیاں ہیں۔ اس ملک نے 70 سالوں میں جو کچھ بھی حاصل کیا ہے، آپ نے کیا ہے۔ ہم آپ سے جھوٹے وعدے نہیں کریں گے۔ اگر ہم ایسا نہیں کر سکتے تو ہم آپ کو بتائیں گے۔ یہ اسکیم کانگریس کے تھنک ٹینک صنعتکار نے نہیں بلکہ آپ نے بنائی ہے۔‘‘

اسمائل پلیز! چاند پر موجود چندریان 3 کے روور ’پرگیان‘ نے لینڈر ’وکرم‘ کی تصویر کھینچی

0

چندریان 3 کے روور پرگیان نے آج وکرم لینڈر کی ایک تصویر شیئر کی ہے، جسے اس نے اپنے نیویگیشن کیمرے کا استعمال کرتے ہوئے پہلی بار کلک کیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے چاند کی سطح پر اترنے والا چندریان چاند کے کئی راز کھول رہا ہے۔ روور پرگیان نے آکسیجن، سلفر، ایلومینیم سمیت کئی عناصر کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، جبکہ ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔ چندریان 3 کے روور پرگیان میں لیزر انڈیوسڈ بریک ڈاؤن اسپیکٹروسکوپ نے چاند کے قطب جنوبی پر سلفر کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

آکسیجن کا بھی پتہ چل گیا ہے، تاہم ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔ اسرو نے ٹوئٹ کرکے یہ جانکاری دی اور یہ بھی بتایا کہ اندرون ان-سیٹو جاری ہیں۔ روور پر نصب ’نیو کیمز‘ کو بنگلورو میں لیبارٹری فار الیکٹرو آپٹکس سسٹم (ایل ای او ایس) نے تیار کیا ہے۔ پچھلے ہفتے چندریان-3 لینڈر وکرم چاند کی سطح پر اترا تھا، جس سے ہندوستان یہ کارنامہ انجام دینے والا چوتھا ملک بن گیا۔ جبکہ زمین کے قریب ترین آسمانی پڑوسی کے نامعلوم جنوبی قطب پر اترنے والا پہلا ملک گیا۔

نئی تصویر چاند کے جنوبی قطب کے قریب روور کے سلفر کی دریافت کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ اسرو نے کل اعلان کیا کہ روبوٹ نے ایلومینیم، کیلشیم، آئرن، کرومیم، ٹائٹینیم، مینگنیز، سلکان اور آکسیجن کا بھی پتہ لگایا ہے۔ خلائی ایجنسی نے ایک بیان میں کہا ’’چندریان 3 کے روور پر نصب لیزر انڈسڈ بریک ڈاؤن اسپیکٹروسکوپی (ایل آئی بی ایس) کے آلے نے قطب جنوبی کے قریب چاند کی سطح کی بنیادی ساخت پر پہلی بار ان-سیٹو جانچ پڑتال کی ہے۔ اس جانچ پڑتال سے چاند کی سطح پر سفر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔‘‘

بہار: روہتاس میں اندوہناک سڑک حادثہ، 7 افراد ہلاک، 5 زخمی

0
بہار:-روہتاس-میں-اندوہناک-سڑک-حادثہ،-7-افراد-ہلاک،-5-زخمی

پٹنہ: بہار میں ضلع روہتاس کے شیو ساگر تھانہ علاقے میں بدھ کی صبح اسکارپیو اور کنٹینر کے ٹکرانے سے سات لوگوں کی موت ہو گئی اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔

پولیس ذرائع نے یہاں بتایا کہ ضلع کیمور کے موہنیا تھانہ علاقہ کے تحت بامہور خاص کے باشندے سدیشور شرما اپنے اہل خانہ کے ساتھ اسکارپیو میں بودھ گیا سے واپس آرہے تھے۔ راستے میں ان کی اسکارپیو قومی شاہراہ-2 پر پکھناری گاؤں کے نزدیک سڑک پر کھڑے کنٹینر سے ٹکرا گئی۔ اسکارپیو میں سوار سات لوگوں کی موت ہوگئی اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ مہلوکین کی شناخت بامہور خاص کے باشندے اروند کمار سنگھ (45)، پریملتا پریہ درشی (42)، آدتیہ وشوکرما (9)، ریا کماری (13)، تارا کماری (22)، چاندنی کماری (20) اور ضلع کیمور کے کڑیری تھانہ علاقے کے سابر گاؤں کے باشندے راجمونی دیو (60) کے طور پر ہوئی ہے۔ زخمیوں کو سہسرام کے ​​صدر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

چندریان سے فتح قمر کے بعد ستاروں سے آگے، اورپیچھے زمیں پر جہاں اور بھی ہیں

0
chandryan-school-muslim-kid-slap-communal
چندریان سے فتح قمر کے بعد ستاروں سے آگے، اورپیچھے زمیں پر جہاں اور بھی ہیں

بلا تفریق مذہب و ذات اس بات پر نازاں ہے کہ ہندوستان نے ’چاند فتح‘ کر لیا ہے، لیکن کیا یہاں کرۂ ارض پر نفرت کی دیواریں دو فرقوں کے درمیان چاند کے راستے میں حائل کی جا رہی ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

وطن عزیز میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی روز نئی نئی شکل میں سامنے آ رہی ہے اور اس کے نئے نئے کردارسامنے آ رہے ہیں۔ کبھی یہ نفرت انگیزی مسند اقتدارپر بیٹھیے لوگوں کے ذریعہ سماج میں زہر گھولتی ہے۔ کبھی مذہبی جلسوں اور جلوسوں میں فروغ پاتی ہے۔ کبھی وہ تہذیب و ثقافت کے نام پر اور کبھی نام نہاد راشٹرواد کے نام پر ایک فرقہ پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اب اس میں کوئی شک نہیں کہ ’نئے بھارت‘ میں نفرت، تعصب اور تشدد نے اپنی بنیادیں مضبوط کر لی ہیں۔

نفرت انگیزی کی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ اب فلموں میں ہی نہیں، سڑکوں پر، ٹرینوں میں، بسوں میں، بازاروں میںاور یہاں تک کہ تعلیم کے مندر اسکول کالجوں میں بھی یہ فرقہ پرستی رقص کرتی نظر آتی ہے۔ تعصب اور نفرت کے بے لگام گھوڑے پر سوار فرقہ پرست اس کے بھیانک انجام سے بالکل بے خبر ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ایک طبقہ کو ہراساں کرکے، انھیںاحساس کمتری میں مبتلا کرکے، ان کے مذہبی امور میں رخنہ اندازی کرکے، ان کے کھانے پینے اور شکل و شباہت پر حملے کرکے، انھیں دوسرے درجہ کا شہری بنا کراس ملک کوترقی اور خوشحالی کے راستے پر لے جائیں گے، تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ افسوس دنیا میں جس بھارت کی پہچان مہاتما گاندھی نے ’عدم تشدد‘ سے کروائی، آج کا’نیا بھارت‘نفرت، تعصب اور تشدد کی علامت بن گیا ہے۔

ابھی پورا ملک بلا تفریق مذہب و ذات اس بات پر نازاں ہے کہ ہندوستان نے ’چاند فتح‘ کر لیا ہے۔ ہم نے ’چندر یان3‘ کی کامیابی کے ساتھ سائنس اور خلا میں اپنے جھنڈے گاڑے ہیں۔ لیکن ایک طرف ہم چاند پر کمند ڈال رہے ہیں، دنیا کی رہنمائی کا خواب دیکھ رہے ہیں، ’وشو گرو‘ بننے کا دعویٰ کر ہے ہیں، وہیں دوسری طرف ملک کو ایک ایسے گڑھے میں لے جا رہے ہیں، جہاں سے نکلنا نا ممکن نہیں تو آسان بھی نہیں ہے۔ نفرت کی یہ دیواریںدو فرقوں کے درمیان نہیں، بلکہ چاند کے راستے میں حائل کی جا رہی ہیں۔

کیسے ہم اس بات پر فخر کر سکتے ہیں کہ ہم چاند پر ہیں؟ آخر کیوں ہماری سائنس اور ’روور‘ ملک میں پھیل رہی نفرت کو نشان زد نہیں کر پا رہے ہیں؟حالات اس قدر نا گفتہ بہ ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو رہا ہے کہ ہم ’چندریان3‘ کو ’نئے بھارت‘ کی سچی تصویر سمجھیں یا مظفر نگر کے اسکول میں پیش آیا واقعہ ہی ’نئے بھارت‘ کی حقیقت ہے؟  افسوس اس بات کا ہے کہ سماج میں نفرت، تعصب اور تشدد کا یہ زہر نیچے سے اوپر کی طرف نہیں، بلکہ اوپر سے نیچے کی طرف آ رہا ہے۔

فرقہ پرستی کا یہ زہر سماج میں بہت گہرائی تک پیوست ہو چکا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسی بے شمار مثالیں مل جائیں گی جب حکومت، پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک طبقہ کے خلاف جتنے بھی مظالم کر لئے جائیں، ملزمین کو کٹہرے میں نہیں ، بلکہ اقتدار کے ساتھ کھڑا پائیں گے۔ حال ہی میں نوح میں پیش آئے واقعات اس کی تازہ مثال ہیں۔

ملک کا انصاف پسند طبقہ جن لوگوں کو ان واقعات کا اصل ذمہ دار مانتا ہے، وہ آرام سے ٹی وی پر بیٹھ کر انٹرویو دے رہے ہیں اور دوسری طرف ایک ہی طبقہ کے تقریباً ایک ہزار مکانوں کو مسمار کر دیا جاتا ہے، کاروبار تباہ کر دیا جاتا ہے اور سیکڑوں لوگوں کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ہم نے دیکھا تھا کہ مہاراشٹر میں چلتی ٹرین میں منافرت کے زہر میں ڈوبا چیتن نام کا ایک سرکاری محافظ چن چن کر تین مسلمانوں کو موت کی نیند سلا دیتا ہے۔ مزید کو مارنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پہلی نظر میں ذہنی بیمار قرار دے کراس کے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

وہیں حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم ’غدر 2‘ دیکھ کر نکلنے والے کس طرح کا اظہار کرتے ہیں، اس سے ’نئے بھارت‘ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ایک رپورٹر فلم دیکھ کر نکلنےوالی ایک جواں سال لڑکی سے پوچھتا ہے کہ فلم کیسی لگی، وہ کہتی ہے کہ ’ بہت اچھی ہے، مسلمانوں کے چہرے پر جو خوف نظر آ رہا ہے، وہ مَست ہے‘۔ اسی طرح ایک 94 سال کی ایک بوڑھی عورت سے جب وہ یہی سوال کرتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ ’ارے اپنے لوگ اتنے مسلمانوں سے لڑے اس سے بڑے فخر کی بات کیا ہے۔‘ ملک میں نفرت کا زہر گھولنے والی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ کوقومی یکجہتی کے زمرے میں ’نیشنل فلم ایوارڈ‘سے نوازا جاتا ہے۔ اس فلم کی نمائش کے دوران سنیما گھروں سے لے کر سماج میں کس قدر نفرت اور اشتعال کو پھیلایا گیا تھا، وہ سب نے دیکھا تھا۔ فلم کو نہ صرف ٹیکس فری کیاگیا، بلکہ ملک کے مختلف حصوںمیں حکمراں طبقہ نے مفت میں فلم دکھانے کا انتظام کیا تھا۔

اب ایسے میں ’کسے وکیل کریں، کس سے انصاف چاہیں‘۔ آپ سوچیں کہ ظلم کے خلاف کس سے انصاف کی امید لگائیں۔ کس سے گفتگو اور مذاکرات کئے جائیں کہ فرقہ وارانہ اہم آہنگی برقرار رہ سکے۔ اس سوال کا جواب ان لوگوں کو بھی دینا چاہئے جو چاہتے ہیںکہ مظلوم خود ظالم کے سامنے دست بستہ ہو کر گزارش کرے کہ آؤ ملک میں امن و سکون قائم کریں۔

مظفر نگر کے اسکول میں پیش آیا واقعہ کیا کسی ایک ٹیچر یا کسی ایک بچے تک محدود ہے؟ شاید نہیں۔ یہ معاملہ ایسا بھی نہیں ہے کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے۔ تعلیم کے مندر میں ایک خاتون ٹیچر نے جو شرمناک حرکت کی ہے، اس کے لئے مذمتی الفاظ بھی ناکافی ہیں۔ اس نے نہ صرف استاد کے مرتبہ اور اس کی شان کو ملیا میٹ کیا ہے، بلکہ نفرت میں ڈوبی اس خاتون نے آج کے بھارت کی حقیقت بیان کر دی ہے۔

کبیر داس کا ایک دوہا ہے’گرو گووند دوؤ کھڑے، کاکے لاگو پائے‘۔ کبیر داس نے اس دوہے میں گرو یعنی استاد کی شان بیان کی ہے۔ کہتے ہیں کہ زندگی میں کبھی کبھی ایسی صورت حال آتی ہے کہ جب گرو اور گووند (بھگوان) ایک ساتھ کھڑے ہو جائیں تو پہلے کس کا احترام کیا جائے۔ لیکن مظفر نگر کے ’نیہا پبلک اسکول‘ کی ٹیچر ترپتا تیاگی نے بتا دیا ہے کہ نئے بھارت میں اب کبیرکا دوہا بے معنی ہے ۔ کیا اسسے پہلے اس طرح کے واقعات کے بارے میں کوئی سوچ سکتا تھا؟

اگر کبھی ایسا ہوتا بھی تھا  تو شرمندگی اور احساس جرم کے سبب ملزم پانی پانی ہو جاتا تھا اور اس کے خلاف کارروائی یقینی ہوتی تھی، لیکن آج ایسا نہیں ہے۔  نفرت انگیزی کے اس دور میں نہ کوئی شرمندگی ہے، نہ کسی جرم کا احساس اور نہ ہی کسی قانونی کارروائی کا خوف۔ مظلوم ہی خوفزدہ نظر آتا ہے۔ اسی لئے تو مظفر نگر میں ایک مسلم بچے کو کلاس میں الگ کھڑا کرکے ہندو بچوں سے پٹوایا جاتا ہے اور مدھیہ پردیش میں صرف اس لئے ایک مسلم اسکول پر بلڈوزرچلا دیا جاتا ہے کیوں کہ وہاں کی غیر مسلم بچیاں اسکارف پہنتی تھیں۔

 اسکول کی پرنسپل ، ٹیچر اور سیکورٹی گارڈ کو طالبات کو حجاب پہننے پر مجبور کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ ریاست کے دموہ میں ’گنگا جمنا پبلک اسکول‘ کی طرح مظفر نگر کے ’نیہا پبلک اسکول‘ میں ایسی کوئی کارروائی آپ کو نظر آئی؟ نہیں، کیوں کہ یہاں مظلوم مسلمان ہے اور ملزم ایک ہندو ہے۔ نئے بھارت میں ظالم اور مظلوم کے ساتھ  انصاف اور نا انصافی کا مطلب بھی بدل گیا ہے۔

پچھلے چند برسوں کا بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں، ایک ہی قسم کے جرم میں انصاف کے دو پیمانے نظر آتے ہیں۔ خوف اور احساس کمتری کا یہ عالم ہے کہ مظفرنگر کے متاثر بچے کے والد نے پولیس سے شکایت تک نہیں کی۔ بھلا ہو سوشل میڈیا پر سرگرم ان انصاف پسند ہندوستانیوں کاجن کی وجہ سے یہ معاملہ سامنے آیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جن ہندو بچوں سےمسلم بچے کو پٹوایا گیا، ان کے والدین سامنے آتے اور ٹیچر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے، مگر ایسا نہیں ہوا، کیوں کہ یہی ’نئے بھارت‘ کی ’بلند تصویر‘ ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)
yameen@inquilab.com

اس مضمون میں پیش کئے گئے افکار وخیالات مضمون  نگار کے ذاتی ہیں۔

گجرات: چندریان 3 کا لینڈر ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنے والا فرضی سائنسدان گرفتار

0
گجرات:-چندریان-3-کا-لینڈر-ڈیزائن-کرنے-کا-دعویٰ-کرنے-والا-فرضی-سائنسدان-گرفتار

سورت: چندریان 3 کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنے والا فرضی سائنسدان متول تریویدی پولیس کے ہاتھوں پکڑا گیا۔ متول تریویدی نے خود کو اسرو کا سائنسدان قرار دیا تھا اور چندریان 3 کی کامیاب لینڈنگ کے بعد پریس کانفرنس بھی کی تھی۔ اب گجرات کی سورت پولیس نے کہا ہے کہ "ہم نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے، جس کی شناخت متول ترویدی کے نام سے ہوئی ہے، جس نے اسرو میں سائنسدان ہونے کا فرضی دعویٰ کیا تھا اور اس کے لیے جعلی دستاویزات بھی تیار کی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔‘‘

پولیس کے مطابق اس شخص نے لوگوں کو اسرو کا ایک خط بھی دکھایا تھا جس کے بعد کچھ لوگوں کو شک ہوا۔ پولس نے وہ خط اسرو کو بھیجا اور متل ترویدی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔

سورت کے اے سی پی شرد سنگھل نے ایک بیان میں کہا ’’کرائم برانچ نے اسرو سے رابطہ کیا تھا، جس پر اسرو نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ خط فرضی ہے اور ان کی طرف سے ایسا کوئی خط جاری نہیں کیا گیا ہے۔ کل کرائم برانچ نے متول ترویدی نامی شخس کو چوک بازار سے گرفتار کیا۔ اس سے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد ثابت ہو گیا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے اور اس نے اس کا اعتراف بھی کر لیا۔

اے سی پی شنگھل نے بتایا کہ متول ترویدی کی عمر تقریباً 30 سال ہے اور وہ پرائیویٹ ٹیوشن دیتا ہے۔ اس نے خط تیار کیا تاکہ وہ یہ خط دکھا کر طلبا اور ان کے والدین کو مائل کر سکے۔ پولیس نے اس کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 465، 468، 471 اور 419 کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔

خیال رہے کہ چندریان 3 نے 23 اگست کو چاند پر لینڈنگ کی تھی۔ اگلے ہی دن یعنی 24 اگست کو سورت کے متول ترویدی نے دعویٰ کیا کہ وہ چندریان 3 ڈیزائن ٹیم کا حصہ ہے اور اس نے لینڈر کو ڈیزائن کیا ہے۔ اس دعوے کے بعد اس کے گھر پر میڈیا کا تانتا لگ گیا۔ لیکن بہت سے لوگوں نے اس کے دعوے پر شک بھی کیا، کیونکہ وہ اسے ٹیوشن ٹیچر کے طور پر جانتے تھے۔ جب معاملہ پولیس تک پہنچا تو پولیس نے سرسری انداز میں کہا کہ معاملے کی جانچ کی جائے گی لیکن اس دوران بھی متول ترویدی میڈیا میں چھایا رہا۔

پولیس کے بیان کے بعد متل ترویدی گھبرا گیا اور اپنے گھر کو تالا لگا کر غائب ہو گیا۔ جب پولیس کو اس بات کا علم ہوا تو اسے بھی لگا کہ معاملہ سنگین ہے۔ پولیس نے معاملے کی جانچ سورت کرائم برانچ کو سونپ دی۔

کرائم برانچ کے ڈی سی پی ہیتل پٹیل نے تفتیش شروع کی اور آخر کار اسے ایک جگہ سے حراست میں لے لیا گیا لیکن پولیس نے نہ تو اسے گرفتار کیا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی اطلاع جاری کی، کیونکہ متول ترویدی چندریان 3 کی کامیابی سے مشہور ہو گیا تھا۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران جب متول ترویدی سے اس بات کا ثبوت مانگا گیا کہ وہ اسرو سے کیسے وابستہ ہے تو وہ ایسا کوئی دستاویز فراہم نہیں کر سکا۔ تاہم، اس نے ایک خط دیا جو لیٹر ہیڈ پر تھا۔ کرائم برانچ نے وہ خط اسرو کو بھیج کر معلومات طلب کیں، تو اسے اسرو نے فرضی قرار دے دیا۔

منی پور اسمبلی کو تشدد کے علاوہ سب کچھ یاد ہے: چدمبرم

0
منی-پور-اسمبلی-کو-تشدد-کے-علاوہ-سب-کچھ-یاد-ہے:-چدمبرم

نئی دہلی: منی پور قانون ساز اسمبلی کے ایک روزہ اجلاس کے ملتوی ہونے پر طنز کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے بدھ کو کہا کہ ایوان کو ریاست میں نسلی تشدد کے علاوہ سب کچھ یاد ہے۔ چدمبرم نے ایکس پر لکھا ’’منی پور اسمبلی کا ایک ‘اجلاس’ ہوا جو 30 منٹ کے التوا کو چھوڑ کر پورے 15 منٹ تک جاری رہا۔ تشدد سے متاثرہ دو گروپوں میں سے ایک کوکی کی نمائندگی کرنے والے قانون ساز اس میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ انہیں اپنی حفاظت کا خدشہ ہے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’قانون ساز اسمبلی کو جاریہ تشدد کے علاوہ سب کچھ یاد ہے۔ خبروں کے مطابق ایک ہی دن میں دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔ پھر بھی منی پور میں آئین کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ اور ان کی حکومت اپنی بھاری سکیورٹی والی رہائش گاہوں اور دفاتر میں بیٹھی رہتی ہے۔‘‘

سابق مرکزی وزیر نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی حملہ کرتے ہوئے کہا، ’’منی پور میں تشدد کو شروع ہوئے 150 دن ہو چکے ہیں اور وزیر اعظم کو ریاست کا دورہ کرنے کا وقت نہیں مل سکا۔‘‘

کانگریس لیڈر کا یہ بیان منی پور اسمبلی کے ایک روزہ اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کے ایک دن بعد آیا جب اسپیکر تھوک چوم ستیہ برت سنگھ نے کارروائی شروع ہونے کے ایک گھنٹہ کے اندر اندر غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے ساتھ ہی کانگریس کے قانون سازوں نے اجلاس میں کم از کم پانچ دن کی توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کیا تھا۔

اپنی کی مقننہ پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعلی اوکرم ایبوبی سنگھ کی قیادت میں کانگریس کے قانون سازوں نے ایوان کو بتایا کہ ریاست میں 3 مئی سے غیر معمولی نسلی تشدد پر بات کرنے کے لیے ایک دن کافی نہیں ہے۔

ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے فوراً بعد گزشتہ 120 دنوں کے دوران غیر قبائلی میتئی اور قبائلی کوکی کے درمیان نسلی تشدد میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

اسمبلی کا اجلاس اس لیے اہمیت کا حامل تھا کیونکہ 3 مئی کو نسلی کے تشدد میں 170 سے زائد افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جب پہاڑی اضلاع میں میتئی برادری کے شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) کا درجہ دینے کے مطالبے کے خلاف یکجہتی مارچ کا انعقاد کیا گیا تھا۔

نسلی تصادم کی وجہ سے مختلف کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے تقریباً 70000 مرد، خواتین اور بچے بے گھر ہو چکے ہیں اور اب منی پور میں اسکولوں، سرکاری عمارتوں اور آڈیٹوریم میں قائم 350 کیمپوں میں پناہ لے رہے ہیں، جبکہ ہزاروں نے میزورم سمیت پڑوسی ریاستوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جماعتوں نے لوک سبھا میں منی پور کے معاملے پر مرکز کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بھی پیش کی تھی۔

رکشا بندھن کے موقع پر صدر مرمو، نائب صدر دھنکھڑ اور وزیر اعظم مودی نے پیش کی مبارکباد

0
رکشا-بندھن-کے-موقع-پر-صدر-مرمو،-نائب-صدر-دھنکھڑ-اور-وزیر-اعظم-مودی-نے-پیش-کی-مبارکباد

نئی دہلی: صدر دروپدی مرمو، نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ اور وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو رکشا بندھن کے موقع پر ہم وطنوں کو مبارکباد پیش کی۔ صدر مرمو نے ایکس (ٹوئٹر) پر لکھا ’’تمام ہم وطنوں کو رکشا بندھن کے پرمسرت موقع پر مبارکباد۔ یہ تہوار بھائی بہن کی لازوال محبت کی علامت ہے۔‘‘ انہوں نے ملک میں خواتین کے لیے زیادہ محفوظ ماحول پیدا کرنے کا عزم کرنے کی بھی اپیل کی۔

اپنی خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے ایکس پر لکھا ’’رکشا بندھن کے موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد! رکشا بندھن محبت کے اس خوبصورت بندھن کی علامت ہے جو بھائیوں اور بہنوں کو باندھتا ہے۔‘‘ دھنکھڑ نے کہا ’’اس مبارک موقع پر، آئیے ہم اپنی ‘ناری شکتی’ کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کریں کیونکہ وہ ہندوستان کو مزید شان و شوکت تک لے جانے کے لئے پرعزم ہیں۔ یہ تہوار ہماری زندگیوں میں خوشیوں کا اضافہ کرے۔‘‘

وہیں، وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر لکھا ’’میرے خاندان کے تمام افراد کو رکشا بندھن مبارک ہو۔ یہ تہوار بہن اور بھائی کے درمیان اٹوٹ اعتماد اور بے پناہ محبت کے لیے وقف ہے، یہ ہماری ثقافت کا ایک مقدس عکاس ہے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’میری خواہش ہے کہ یہ تہوار ہر ایک کی زندگی میں پیار، ہم آہنگی اور ہمدردی کے جذبے کو گہرا کرے۔‘‘

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی رکشا بندھن کے موقع پر ہم وطنوں کو دلی مبارکباد پیش کی۔ شاہ نے کہا ’’تمام ہم وطنوں کو رکشا بندھن پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ دعا ہے کہ یہ پرمسرت تہوار، بھائی بہن کے اٹوٹ رشتے اور محبت کی علامت یہ تہوار ہر ایک کی زندگی میں خوشی اور خوشحالی لائے۔‘‘