منگل, مارچ 31, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 153

کشمیر میں مس ورلڈ مقابلے کے انعقاد کی حقیقت

0
کشمیر-میں-مس-ورلڈ-مقابلے-کے-انعقاد-کی-حقیقت

پی ایم انٹرٹینمینٹ کے چیئرمین جمیل سعیدی نے ایک بیان میں کہا، "ہم، مس ورلڈ آرگنائزیشن کی جانب سے، پرزور انداز میں کہنا چاہتے ہیں کہ مس ورلڈ 2023 کی اختتامی تقریب کشمیر میں منعقد ہونے کی خبریں بے بنیاد اور غلط ہیں۔ جیسا کہ پی ایم ای انٹرٹینمینٹ اور مس ورلڈ آرگنائزیشن کی جانب سے باضابطہ طورپر اعلان کیا گیا ہے، فائنل کے لیے مقام کو ابھی حتمی شکل دیا جانا باقی ہے اور اس کا باضابطہ اعلان بعد میں کیا جائے گا۔”

قبل ازیں بھارتی میڈیا نے خبردی تھی کہ مس ورلڈ کے 71 ویں ایڈیشن کا انعقاد دسمبر میں کشمیر میں ہو گا۔ اس خبر پر مختلف حلقوں نے جوش و خروش اور مسرت کا اظہار کیا تھا اور اسے کشمیر کے حوالے سے بھارت کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا تھا۔

کشمیر میں مس ورلڈ مقابلوں کے انعقاد کی تردید ان خبروں کے درمیان ہوئی کہ اس مقبول عالمی مقابلے کی میزبانی کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ دراصل موجودہ مس ورلڈ کیرولینا بیلاوسکا دو رنرز اپ بھارت کی سنی سیٹھی اور کیریبیا کی ایمی پینا، مس ورلڈ کی سی ای او جولیا مورلی کے ساتھ کشمیر کے دورے پر ہیں۔

جولیا مورلی نے ان تینوں کے ساتھ پیر کو سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہا تھا،” سچ میں، میں بہت خوش ہوں۔ ایسی خوبصورتی کو دیکھنا ہمارے لیے جذباتی ہے۔ آپ کے پاس اتنی خوبصورتی ہے، یہاں ہر کوئی بہت مہربان اور مددگار ہے۔ اور میں اپنے دل کی گہرائیوں سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔”

مورلی نے مزید کہا کہ مس ورلڈ کے عملے کی نومبر میں کشمیر آمد متوقع ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم نومبر میں آپ سے ملنے کے منتظر ہے۔ یہ شو8 دسمبر کو ہے۔ شکریہ کشمیر۔ خدا آپ کو خوش رکھے اور ہم واپس آنے کے منتظر ہیں۔”

مس ورلڈ مقابلہ حسن دنیا کے سب سے باوقار مقابلہ حسن میں سے ایک ہے۔ یہ ہر سال منعقد ہوتا ہے اور اس میں 100 سے زیادہ ممالک کے مدمقابل شامل ہوتے ہیں۔ مقابلہ جیتنے والے کو مس ورلڈ کے خطاب سے نوازا جاتا ہے اور اسکالرشپ اور ماڈلنگ کنٹریکٹ سمیت متعدد انعامات دیے جاتے ہیں۔

‘فردوس برروئے زمین’ کے نام سے مشہور کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے تشدد اور عسکریت پسندی سے متاثر ہے۔ بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مودی حکومت نے اگست 2019 میں بھارتی آئین کی خصوصی دفعہ 370 کو ختم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنادیا ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر آگئے ہیں۔ اس نے کشمیر میں "امن و امان کی صورت حال” کو عالمی برداری کے سامنے پیش کرنے کے لیے سری نگر میں مئی میں سخت سکیورٹی کے درمیان جی 20 سیاحتی میٹنگ کا انعقاد کیا تھا۔

مس ورلڈ بیلاوسکا کا کہنا تھا کہ "کشمیر کا حسن انہیں ہمیشہ مسحور اور حیرت زدہ کر دیتا ہے۔ ہم جب بھی یہاں آتے ہیں تو کچھ نیا دریافت ہوتا ہے۔”

بیلاوسکا نے کہا کہ یہ بھارت آنے کا تیسرا موقع ہے "لیکن آخری نہیں۔ میں 140ملکوں اور اپنے تمام دوستوں اور عزیز و اقارب کا خیر مقدم کرنے کا اور زیادہ انتظار نہیں کرسکتی کہ انہیں بھارت لاؤں اور کشمیر، دہلی اور ممبئی جیسے مقامات دکھاؤں… یہاں بہت سے خوبصورت مقامات ہیں۔” مس ورلڈ بیلاوسکا نے مشہور ڈل جھیل میں شکارے کا لطف بھی اٹھایا۔

بھارت: نمازکے لیے بس روکنے پر معطل کنڈکٹر نے خودکشی کرلی

0
بھارت:-نمازکے-لیے-بس-روکنے-پر-معطل-کنڈکٹر-نے-خودکشی-کرلی

پولیس کا تاہم کہنا ہے کہ موہت یادو نے خودکشی نہیں کی ہے بلکہ وہ ریلوے لائن پار کرنے کے دوران ٹرین کی زد میں آکر ہلاک ہو گئے۔ سرکاری ریلوے پولیس (جی آر پی) کے ایک افسر اروند کمار نے بتایا کہ انہیں اترپردیش کے مین پوری میں ریلوے لائن پر ایک لاش کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی۔ "جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو متوفی کا فون بج رہا تھا۔ ہم نے فون اٹھایا جس کے بعد ہمیں اس کی شناخت کا علم ہوا۔ اس دوران مقامی لوگ وہاں پہنچ گئے اور لاش کی شناخت کی۔ اس کے گھروالوں نے تحریر دی ہے کہ وہ ریلوے لائن پار کرنے کے دوران ٹرین کی زد میں آگیا۔ اس معاملے کی انکوائری کی جارہی ہے۔”

دوسری طرف 32 سالہ موہت یادو کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ جب انہیں ملازمت سے برطرف کیا گیا اس کے بعد سے ہی وہ شدید ذہنی اور مالی دباو میں تھے۔ اور انہوں نے ٹرین کے آگے کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

موہت کے عم زاد ٹنکو یادو نے بتایا کہ موہت کا خیال تھا کہ انہیں ملازمت سے بلا وجہ ہٹایا گیا۔ موہت کی بیوہ رنکی کا کہنا ہے کہ "میرے شوہر گھر میں سب سے بڑے تھے اور پورے کنبے کی ذمہ داریاں انہیں کے کندھوں پر تھی۔ لیکن جب سے ان کی نوکری گئی اس کے بعد سے ہی ڈپریشن میں چلے گئے اور بالآخر خودکشی کرلی۔”

رنکی نے مزید بتایا کہ موہت اتوار کے روز یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے کہ وہ اپنے ایک دوست سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں لیکن پیر کے روز ہمیں ریلوے لائن کے نزدیک ان کی لاش پڑی ہونے کی اطلاع ملی۔ یہ جگہ گھر سے کوئی ایک کلومیٹر دور ہے۔

موہت یادو اترپردیش ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں پچھلے دس سال سے بس کنڈکٹر کے طورپر کانٹریکٹ پر ملازم تھے۔ جون کے اوائل میں ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں اور بس ڈرائیور کے پی سنگھ کو ملازمت سے معطل کردیا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں ایک مسافر کو موہت سے تکرار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جسے ستیندر نامی ایک مسافر نے سوشل میڈیا پر ڈال دیا تھا۔

مسافر اس بات پر مشتعل تھا کہ دو مسلمانوں کو نماز پڑھنے کے لیے بس کیوں روکی گئی۔ جب کہ موہت کا کہنا تھا کہ بس میں سوار ہونے سے پہلے ہی یہ بات طے ہوگئی تھی اور جب دیگر مسافروں نے رفع حاجت کے لیے بس روکنے کے لیے کہا اسی دوران دونوں مسلم مسافرو ں نے اپنی نماز ادا کرلی۔ اور اس میں آخر کیا قباحت ہے؟

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد بھارت میں مذہبی بنیادوں پر کشیدگی اور اختلافات کی بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی۔ خیال رہے کہ اتردیش میں یوگی ادیتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت پر مذہبی بنیادوں پر تفریق کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

اترپردیش ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن ملازمین یونین کا کہنا ہے کہ ایک معمولی واقعے کی بنیاد پر موہت یادو اور کے پی سنگھ کے خلاف کی گئی کارروائی کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔ ان دونوں کو برطرف کرنے کی کارروائی جلدبازی میں کی گئی۔ موہت نے ملازمت بحال کرنے کی درخواست بھی دی تھی لیکن اس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

کارپوریشن کے اسسٹنٹ ریجنل منیجر سنجیو سریواستو کا تاہم کہنا ہے کہ موہت یادو اور کے پی سنگھ کو کے خلاف انکوائری کے بعد ہی کارروائی کی گئی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ موہت نے دوبارہ ملازمت کی درخواست دی ہے اور "درخواست کمیٹی کے زیر غور ہے۔”

اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کی تیسری میٹنگ کے لیے سبھی تیاریاں مکمل، لوگو کی نقاب کشائی اور کنوینر کی تقرری پر نظر

0
اپوزیشن-اتحاد-’اِنڈیا‘-کی-تیسری-میٹنگ-کے-لیے-سبھی-تیاریاں-مکمل،-لوگو-کی-نقاب-کشائی-اور-کنوینر-کی-تقرری-پر-نظر

اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کی تیسری میٹنگ ممبئی میں منعقد ہونے والی ہے اور اس کے لیے سبھی تیاریاں مکمل بھی کر لی گئی ہیں۔ لیکن اس سے قبل کچھ ایسے ذاتی مفادات کا اظہار ہوا ہے جو ناقابل فراموش ہے۔ دراصل عام آدمی پارٹی چیف اروند کیجریوال اور ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی کے حامیوں نے 31 اگست اور یکم ستمبر کو ہونے والی میٹنگ میں اِنڈیا (انڈین نشینل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس) کی طرف سے وزیر اعظم کا چہرہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کچھ ایسی ہی خواہش بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے حامیوں نے بھی ظاہر کی ہے۔

اس درمیان پٹنہ میں نتیش کمار اور ممبئی میں شرد پوار نے ایسے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ہفتے ہونے والی میٹنگ میں ایک کنوینر کا انتخاب کریں گے اور ذیلی کمیٹیاں بنائیں گے۔ ممکن ہے کمیٹیاں ریاستوں کے لیے ہو سکتی ہیں تاکہ سیٹوں کی تقسیم میں کوئی مسئلہ نہ آئے اور لوک سبھا انتخاب کی تیاریاں جلد از جلد شروع ہو سکیں۔ یہ ضروری بھی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اِنڈیا اتحاد میں کچھ ایسی پارٹیاں شامل ہیں جو اپنی اپنی ریاستوں میں ایک دوسرے کی حریف ہیں۔ مثلاً مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹیاں، کانگریس اور ترنمول کانگریس۔ اسی طرح دہلی میں عآپ اور کانگریس، کیرالہ میں کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیاں، وغیرہ۔

31 اگست کو ہونے والی میٹنگ سے قبل آج اِنڈیا اتحاد کی کچھ پارٹیوں نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اس میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرد پوار اور شیوسینا (یو بی ٹی) کے ادھو ٹھاکرے نے صاف لفظوں میں کہا کہ اپوزیشن اتحاد ملک کے اندر تبدیلی لانے کے لیے اکٹھا ہوا ہے اور انہیں ایسا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ساتھ ہی انھوں نے چند الفاظ میں یہ بھی اشارہ کیا کہ وزیر اعظم عہدہ کے لیے چہرہ فائنل کرنا فی الحال قبل از وقت اور غیر ضروری ہے۔

بہرحال، 26 پارٹیوں کے تقریباً 80 سرکردہ سیاسی قائدین (بشمول کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی) اور نصف درجن وزرائے اعلیٰ کے لیے ممبئی میں حفاظتی انتظامات حکام کے لیے درد سر ثابت ہو رہے ہیں۔ سبھی مہمانان کے لیے ایک اعلیٰ معیاری ہوٹل میں تقریباً 200 کمرے بک کیے گئے ہیں۔ اس ہوٹل میں ہی تمام رائے مشورے اور فیصلوں پر مباحث ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ مہمانان سیر و تفریح کی تلاش میں ہوٹل احاطہ سے باہر نہیں جا پائیں گے بلکہ ہر ممکن انتظامات ہوٹل کے اندر ہی کیے گئے ہیں۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے جمعرات کو اسی ہوٹل میں عشائیہ اور اگلے دن (یکم ستمبر) شرد پوار ظہرانہ کی میزبانی کریں گے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اِنڈیا اتحاد کی میٹنگ میں شامل ہونے والے سبھی لیڈران 11 رکنی ایک رابطہ کمیٹی قائم کریں گے جو اپوزیشن اتحاد کا مرکزی پاور ہاؤس ہوگا۔ تشہیری مہموں، سوشل میڈیا مواد اور دیگر معاملوں کو دیکھنے والی ذیلی کمیٹیاں اسی مرکزی کمیٹی کو رپورٹ کریں گی۔ ویسے بی جے پی آئی ٹی سیل کا مقابلہ کرنے کے لیے اِنڈیا اتحاد میں شامل سبھی پارٹیوں سے اپنے سوشل میڈیا وسائل کا استعمال کرنے کہا جائے گا اور سوشل میڈیا کمیٹیاں سبھی پارٹیوں کے درمیان کوآرڈنیشن کا کام کریں گی۔ یہ سوشل میڈیا کمیٹیاں نہ ہی مواد تیار کریں گی اور نہ ہی دوسری پارٹیوں کو ٹیگ کریں گی، بلکہ اِنڈیا اتحاد کے خلاف بی جے پی آئی ٹی سیل کے جھوٹے پروپیگنڈے سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں گی۔

قابل ذکر ہے کہ اِنڈیا اتحاد کی میٹنگ کے پیش نظر ممبئی کی سڑکیں ’جڑے گا اِنڈیا، جیتے گا بھارت‘ نعرے والے ہورڈنگز سے بھر گئی ہیں۔ اس نعرہ نے پہلے ہی بی جے پی کے کئی لیڈروں کو پریشان کر رکھا ہے کیونکہ وہ اس کے خلاف کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ ایم وی اے (مہاوکاس اگھاڑی) نے تو دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہورڈنگز اور دیگر سبھی چیزوں کے لیے انتظامیہ سے پہلے ہی اجازت لے لی ہے تاکہ کوئی مشکل کھڑی نہ ہو۔ سبھی طرح کی فیس ادا کی جا چکی ہے اور اجازت نامہ بھی مل چکا ہے، اس لیے مہاراشٹر حکومت میں شامل پارٹیوں کے لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ممکن نہیں۔ ممبئی میں ہورڈنگز کو لگا کر چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے، سوائے ایکسپریس پرمیشن کے، لیکن ایم وی اے میں شامل تینوں پارٹیوں (کانگریس، این سی پی، شیوسینا یو بی ٹی) کے سرکردہ لیڈراں نے میونسپل کارپوریشن اور پولیس حکام کو اعتماد میں لیتے ہوئے انھیں یقین دلایا ہے کہ ہورڈنگز میٹنگ کے ختم ہونے کے بعد اتار لیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ ممبئی میں میٹنگ کے لیے سب سے پہلے پہنچنے والے لالو پرساد یادو اور ان کے بیٹے تیجسوی یادو ہیں۔ دیگر لیڈران جمعرات تک پہنچیں گے، کیونکہ میٹنگ 31 اگست کی شام 6 بجے اِنڈیا اتحاد کے لوگو کی نقاب کشائی کے ساتھ شروع ہوگی۔ راہل گاندھی جمعرات کو میسور میں عوامی جلسوں سے خطاب کرنے والے ہیں، لیکن توقع ہے کہ نقاب کشائی کے لیے وقت پر پہنچ جائیں گے۔ اس درمیان قوی امید ہے کہ راشٹریہ لوک دل کے جینت چودھری اِنڈیا اتحاد میں باضابطہ شامل ہونے کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے آج ہی ایک بیان دیا ہے کہ وہ ممبئی جا رہے ہیں اور انہیں این ڈی اے میں شامل ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ حالانکہ بی جے پی کے دور حکومت میں وہ بہت زیادہ دباؤ میں ہیں۔ ویسے کانگریس کے کچھ مقامی لیڈران کا کہنا ہے کہ وہ ممبئی کی میٹنگ میں مزید تین علاقائی پارٹیوں کے شامل ہونے کی توقع کر رہے ہیں۔ لیکن یہ تین پارٹیاں کون ہو سکتی ہیں، اس سلسلے میں کانگریس لیڈران بالکل خاموش ہیں۔

دہلی یونیورسٹی میں اپنا لیکچر رد ہونے سے منوج جھا مایوس، کہا ’اس واقعہ سے بہت تکلیف ہوئی، اس کی جانچ ہو‘

0
دہلی-یونیورسٹی-میں-اپنا-لیکچر-رد-ہونے-سے-منوج-جھا-مایوس،-کہا-’اس-واقعہ-سے-بہت-تکلیف-ہوئی،-اس-کی-جانچ-ہو‘

آر جے ڈی (راشٹریہ جنتا دل) لیڈر، راجیہ سبھا رکن اور دہلی یونیورسٹی کے سوشل ورکس ڈپارٹمنٹ سے منسلک منوج جھا کا لیکچر رد کر دیا گیا ہے۔ ان کا لیکچر 4 ستمبر کو ہونا تھا۔ لیکچر دہلی یونیورسٹی ’سنٹر فار پروفیشنل ڈیولپمنٹ اِن ہائر ایجوکیشن‘ یو جی سی-ایچ آر ڈی سی کے ذریعہ مقرر تھا۔ حالانکہ اب لیکچر کی طے تاریخ سے پہلے ہی منوج جھا کو لیکچر رد کیے جانے کی خبر بھجوائی گئی ہے۔

اس واقعہ سے ناراض منوج جھا نے کہا کہ ’’میں پارلیمنٹ میں بول سکتا ہوں، سڑک پر بول سکتا ہوں، اخباروں میں مضمون لکھ سکتا ہوں، لیکن اپنی یونیورسٹی کے اساتذہ کو مخاطب نہیں کر سکتا۔ یہ کیا ڈر ہے۔ ایسے بنیں گے ہم وشو گرو، یونیورسٹیوں کو کنویں میں تبدیل کر کے!‘‘ منوج جھا کا مزید کہنا ہے کہ ’’یہ میری یونیورسٹی ہے۔ میں یہاں کا ٹیچر ہوں، یہاں میں کلاس لیتا ہوں، یہیں میں پڑھا ہوں، یہیں میں پڑھا رہا ہوں۔ باوجود اس کے میرا بولنا کس کو ناگوار گزر رہا ہے۔‘‘

منوج جھا کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی بات یونیورسٹی کے وائس چانسلر تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات میں وزیر اعظم تک لے جاؤں گا، وزیر تعلیم تک لے جاؤں گا۔ منوج جھا نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں وزیر اعظم اور وزیر تعلیم کو خط لکھیں گے اور ان کے علم میں لائیں گے۔ وہ وزیر اعظم اور وزیر تعلیم سے کہیں گے کہ اس طرح کے ماحول کو فوراً بدلا جائے۔

دراصل دہلی یونیورسٹی اور کالج کے اساتذہ کے لیے 22 اگست سے 4 ستمبر تک سوشل ورک و سماجی سائنس (آئی ڈی سی) پر ایک آن لائن لیکچر پروگرام منعقد کر رہا ہے۔ سنٹر فار پروفیشنل ڈیولپمنٹ ان ہائر ایجوکیشن نے پروفیسر منوج جھا سے 4 ستمبر کو لیکچر دینے کی گزارش کی تھی۔ ڈپارٹمنٹ نے لیکچر کے لیے منوج جھا کی اجازت مانگتے ہوئے انھیں 18 اگست کو خط بھیج کر کہا تھا ’’اس نصاب کے لیے ہم آپ کی اجازت چاہیں گے۔ یہ آن لائن کورس زوم میٹ کے ذریعہ سے منعقد کیا جائے گا۔ آپ کے سیشن میں پروگرام کا موضوع ’سیاسی سماجی کام، پریکٹس کے لیے نیا موقع‘ ہے۔ 4 ستمبر کو صبح 10 سے 11.30 بجے تک سوشل ورکس اینڈ سوشل سائنس (آئی ڈی سی) پر لیکچر ہے۔

منوج جھا کے مطابق اب بغیر وجہ بتائے بدھ کو ان کا لیکچر رد کرنے کا خط بھیج دیا گیا۔ جھا نے بتایا کہ ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر گیتا سنگھ نے لیکچر رد کیے جانے کے سلسلے میں انھیں خط بھیج کر کہا ہے کہ آپ کے لیکچر کے سلسلے میں گزشتہ ای میل کے تعلق سے آپ کو یہ مطلع کیا جاتا ہے کہ کچھ ناگزیر حالات کے سبب آپ کا لیکچر رد کر دیا گیا ہے۔ منوج جھا کا کہنا ہے کہ لیکچر کینسل کرنے والوں سے یہ پوچھا جائے کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا؟ لیکن، میں یہ جانتا ہوں کہ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ طریقہ کار کے مطابق نہیں ہو رہا ہے۔ جھا نے کہا کہ مجھے 18 اگست کو یونیورسٹی کے ذریعہ خط بھیجا گیا کہ 4 ستمبر کو میرا لیکچر ہے۔ حالانکہ اب بدھ کو مجھے یہ خط آیا کہ کسی ناگزیر اسباب سے لیکچر رد کر دیا گیا ہے۔

لوک سبھا انتخاب سے قبل اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کو ملی خوشخبری، مولانا بدرالدین اجمل نے بلاشرط حمایت کا کیا اعلان

0
لوک-سبھا-انتخاب-سے-قبل-اپوزیشن-اتحاد-’اِنڈیا‘-کو-ملی-خوشخبری،-مولانا-بدرالدین-اجمل-نے-بلاشرط-حمایت-کا-کیا-اعلان

دیوبند: اے آئی یو ڈی ایف (آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ) کے سپریمو اور رکن پارلیمان مولانا بدرالدین اجمل نے آج اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’بی جے پی کو شکت دینا اور اقتدار سے بے دخل کرنا نہایت ضروری اور قوم و ملت کے مفاد میں ہے۔ آئندہ پارلیمانی انتخابات کے موقع پر ہماری پارٹی غیر مشروط طور پر ’انڈیا‘ اتحاد کا ساتھ دے گی۔‘‘ اتنا ہی نہیں، انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں اے آئی یو ڈی ایف ’انڈیا اتحاد‘ کا حصہ ہوگی۔

مولانا بدرالدین اجمل کا کہنا ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت اپنی ایجینسیوں کے ذریعہ حراساں کر کے حزب اختلاف کو خاموش رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن بی جے پی کی بدحواسی اور سراسیمگی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ اب اس کے جانے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ جب ملک کے حالات کے بدلیں گے تو اتر پردیش کے حالات بھی از خود بدل جائیں گے۔ ہندوستانی عوام ذہن بنا چکی ہے کہ اب اس ملک کو نفرت کی سیاست سے پاک کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’انڈیا‘ کی فتحیابی کے امکانات روشن ہونے لگے ہیں۔

مولانا بدرالدین اجمل نے اپنے مذکورہ بالا خیالات دیوبند میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ظاہر کیے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ آئندہ حکومت کی ضمام قیادت راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہو، کیونکہ حتمی طور پر ابھی کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات بڑے تشویشناک ہیں۔ جو کچھ نوح اور منی پور میں ہوا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مظفرنگر میں طالب علم کے ساتھ جو نفرت انگیز معاملہ پیش آیا وہ نہایت قابل مذمت اور باعث افسوس ہے۔ لیکن ایک مظفرنگر ہی نہیں ہے، بلکہ پورا جسم زخمی ہے، کس کس زخم کا تذکرہ کیا جائے۔

مولانا اجمل نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ فی الحال ملک میں اقلیتی فرقہ کے حالات نہایت خراب اور ناگفتہ بہ ہیں۔ اس پر آشوب دور میں ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ ہم اس ترقیاتی دور میں برادران وطن سے بہت پیچھے ہیں، تعلیمی میدان میں پچھڑ جانے کی وجہ سے ہم بہت پیچھے رہ گئے ہمیں۔ اگر بہتر مستقبل کے بارے میں کچھ کرنا ہے تو بس زیور علم سے خود کو آراستہ کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ مولانا بدرالدین اجمل آج دیوبند آئے ہوئے تھے اور مجلس شوریٰ کے اختتام کے بعد وہ اپنی رہائش گاہ پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے۔ صوبہ آسام کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کی ریاستی حکومت سے عوام پریشان ہے کیونکہ حکومت کوئی بھی فلاحی اور تعمیراتی کام نہیں کر پا رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان (بدرالدین) پر ریاستی حکومت سے پس پردہ ساز باز کی الزام تراشی کر رہے ہیں، دراصل وہ خود ہی اس ناپاک عمل میں مبتلا ہیں۔

ہندوستانی بحریہ کی صلاحیت میں ہونے والا ہے اضافہ، یکم ستمبر کو لانچ کیا جائے گا نیا جنگی جہاز ’مہندرگری‘

0
ہندوستانی-بحریہ-کی-صلاحیت-میں-ہونے-والا-ہے-اضافہ،-یکم-ستمبر-کو-لانچ-کیا-جائے-گا-نیا-جنگی-جہاز-’مہندرگری‘

ہندوستانی بحریہ کے جدید جنگی جہاز ’مہندر گری‘ کو جمعہ کے روز یعنی یکم ستمبر کو لانچ کیا جائے گا۔ نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کی بیوی سدیش دھنکھڑ مجھگاؤں ڈاک شپ بلڈرس لمیٹڈ میں اس کا افتتاح کریں گی۔ اس سے بحریہ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ ایک آفیشیل بیان میں اس تعلق سے تفصیلی جانکاری دی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مہندرگری پروجیکٹ 17اے کا ساتواں اور آخری اسٹیلتھ فریگیٹ ہے۔ پروجیکٹ کے تحت چار جنگی جہاز ممبئی کے مجھگاؤں ڈاک شپ بلڈرس لمیٹڈ میں اور باقی کولکاتا کے گارڈن ریچ شپ بلڈرس اینڈ انجینئرس (جی آر ایس ای) میں بنائے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایک جنگی جہاز کی لانچنگ اس کی مینوفیکچرنگ میں ایک اہم میل کا پتھر ہوتا ہے اور یہ جہاز کے پہلی بار پانی میں داخل کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس سے قبل صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے 17 اگست کو جی آر ایس ای میں پروجیکٹ 17اے کے چھٹے جنگی جہاز ’وندھیہ گری‘ کو لانچ کیا تھا۔

بہرحال، آفیشیل بیان میں کہا گیا ہے کہ مہندرگری کی لانچنگ خود کفیل بحری فوج کی تعمیر میں ہندوستان کی حیرت انگیز ترقی کا ایک بہترین ثبوت ہے۔ پروجیکٹ 17اے فریگیٹ پروجیکٹ 17 (شیوالک اسکوائر) فریگیٹ کا فالو اَپ ہے، جس میں بہتر اسٹیلتھ خصوصیات، معیاری اسلحے اور سنسر و پلیٹ فارم مینجمنٹ نظام ہیں۔ پروجیکٹ 17اے کے تحت گزشتہ 5 جنگی جہاز 22-2019 کے دوران لانچ کیے گئے تھے۔

مرکزی حکومت نے دہلی وقف بورڈ کی 123 ملکیتوں کو واپس لینے کے لیے نوٹس کیا جاری

0
مرکزی-حکومت-نے-دہلی-وقف-بورڈ-کی-123-ملکیتوں-کو-واپس-لینے-کے-لیے-نوٹس-کیا-جاری

مرکز کی مودی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کر دہلی وقف بورڈ کی 123 ملکیتوں کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی حکومت کی وزارت برائے شہری ترقی نے اس سلسلے میں نوٹس جاری کیا ہے۔ ان ملکیتوں میں دہلی کی جامع مسجد بھی شامل ہے۔ حالانکہ یہ جامع مسجد لال قلعہ کے پاس موجود تاریخی جامع مسجد نہیں ہے، بلکہ یہ ایک الگ مسجد ہے جو کہ سنٹرل دہلی میں موجود ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی حکومت نے دہلی کی 123 اہم ملکیتوں کو دہلی وقف بورڈ کے حوالے کر دیا تھا، انہی ملکیتوں کو مرکزی حکومت نے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی وزارت برائے شہری ترقی نے بدھ کے روز اس سلسلے میں نوٹس جاری کیا اور دہلی وقف بورڈ کی 123 ملکیتوں کو اپنے قبضے میں لینے کی بات کہی ہے۔ دراصل وزارت نے رواں سال فروری میں دو رکنی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر مسجدوں، درگاہوں اور قبرستانوں سمیت وقف بورڈ کی 123 ملکیتوں کو اپنے قبضے میں لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

دراصل 8 فروری کو لکھے ایک خط میں ڈپٹی لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ افسر نے دہلی وقف بورڈ کو خط لکھ کر 123 وقف ملکیتوں سے متعلق سبھی معاملوں کی جانکاری دی تھی۔ مرکزی وزارت برائے اراضی و ترقی دفتر (ایل اینڈ ڈی او) نے کہا کہ غیر نوٹیفائیڈ وقف ملکیتوں کے ایشو پر جسٹس (سبکدوش) ایس پی گرگ کی صدارت والی دو رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسے دہلی وقف سے کوئی نمائندگی یا اعتراض نہیں ملا ہے۔

اس معاملے سے متعلق ایک خط میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح ہے کہ دہلی وقف بورڈ کی فہرست بند ملکیتوں میں کوئی شراکت داری نہیں ہے، نہ ہی انھوں نے ملکیتوں میں کوئی دلچسپی دکھائی ہے اور نہ ہی کوئی اعتراض یا دعویٰ داخل کیا ہے۔ اس لیے دہلی وقف بورڈ کو اس سے آزاد کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس تعلق سے مئی میں دہلی ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ مرکزی حکومت ان 123 ملکیتوں کا فزیکل سروے کر سکتی ہے جن کے قبضے کا دعویٰ دہلی وقف بورڈ کر رہا ہے۔

بہرحال، مرکزی حکومت کے قدم پر عآپ رکن اسمبلی اور وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے پہلے ہی تلخ رد عمل ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اس فیصلے سے مسلم طبقہ کے درمیان فکر پیدا ہوئی ہے۔ انھوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا ’’کچھ لوگ اس کے بارے میں جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔ اس کا ثبوت آپ سبھی کے سامنے ہے۔ ہم وقف بورڈ کی ملکیتوں پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔‘‘

کشمیر: ناساز گار موسمی صورتحال سے سیب پیداوار میں 50 فیصد کمی واقع

0
کشمیر:-ناساز-گار-موسمی-صورتحال-سے-سیب-پیداوار-میں-50-فیصد-کمی-واقع

سری نگر: وادی کشمیر میں امسال گرچہ سیبوں کی مانگ عروج ہے تاہم نا ساز گار موسمی صورتحال کی وجہ سے پیدا وار میں کم سے کم 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ وسطی ضلع بڈگام کے تاریخی قصبہ چرار شریف سے تعلق رکھنے والے عبدالقیوم ڈار نامی ایک باغ مالک کا کہنا ہے کہ ماہ جولائی میں ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں بیماری لگنے سے فصل تباہ ہوئی۔

انہوں نے یو این آئی کو بتایا: ‘درختوں پر شگوفے برجستہ پھوٹے تھے کہ بیماری لگنے سے مرجھا کر گر آئے’۔ ان کا کہنا تھا: ‘ہم نے متعلقہ محکمے کی ہدایات پر باغوں کی وقت وقت پر دوا پاشی بھی کی لیکن شگوفے درختوں سے گرتے رہے جس کے نتیجے میں پیدا وار میں کم سے کم 50 فیصد کمی واقع ہوئی’۔

تاہم موصوف نے امسال مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور اچھے بھائو سے اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو اچھا فائدہ ہونے کی توقع ظاہر کی۔ انہوں نے کہا: ‘امسال مارکیٹ میں کافی ڈیمانڈ ہے پیشگی آرڈر مل رہے ہیں اور فصل اتارنے سے پہلے ہی مختلف ریاستوں کے بیو پاری آ رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا: ‘اس سال بابوگوشہ ناشپاتی کے ایک ڈبے کو 8 سے 11 سو روپیے میں فروخت کیا گیا جس کو سال گذشتہ زیادہ سے زیادہ 5 سو روپیے میں بیچا گیا تھا اس قسم کی ناشپاتی کو دلی کی منڈی میں سپلائی کیا جاتا ہے’۔ عبدالقیوم نے کہا کہ چرار شریف کی منڈی میں ممبئی، بنگلور، دہلی اور دیگر ریاستوں کے بیوپاری آ رہے ہیں جو ان کو امریکہ، بنگلہ دیش، نیپال وغیرہ جیسے ملکوں کو بر آمد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک کے بیوپاری بھی مال خریدنے کے لئے یہاں آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ‘سال گذشتہ اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو بے تحاشا نقصان اٹھانا پڑا لیکن امسال ہمیں پوری امید کہ ایسا نہیں ہوگا اور حکام مال کو ملک کی دوسری ریاستوں تک پہنچانے میں قومی شاہراہ پر میوہ سے لدی گاڑیوں کی ہموار نقل وحمل کو یقینی بنانے کے لئے تمام تر انتظامات کرے گی’۔

انہوں نے کہا کہ اس سال پیداوار میں کمی سے ریٹ اچھی رہے گی۔ موصوف نے کہا کہ سال گذشتہ اس سیزن کے دوران بابو گوشہ ناشپاتی کے 10 سے 15 ٹرک روزانہ دلی جاتے تھے لیکن امسال صرف 2 یا 3 ٹرک ہی جاتے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں سے تعلق رکھنے والے محمد امین نامی باغ مالک کا کہنا ہے کہ پیدا وار میں کمی کی وجہ ناساز موسمی صورتحال ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی علاقوں میں ژالہ باری ہونے سے بھی میوہ کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا: ‘تاہم شوپیاں کے زیریں علاقوں میں پیداوار تسلی بخش ہے۔ ان کا الزام تھا کہ غیر معیاری ادویات بھی پیداوار میں کمی واقع ہونے کی ایک وجہ ہے۔ محمد امین نے کہا کہ ہائی ڈنسٹی گالا سیب کی ریٹ کافی اچھی ہے اور اس کی مانگ میں بھی اضافہ درج ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے سیب نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے بازاروں کے علاوہ امسال سعودی عرب کے بازاروں میں بھی پہنچنے کے امکانات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا سیب شکل وصورت اور ذائقے میں امریکہ کے سیب سے مقابلہ کرے گا۔ ایران کے سیبوں کے مارکیٹ میں آنے سے کشمیر کے سیب متاثر ہوئے۔ موصوف باغ مالک کا کہنا ہے کہ اس پر کسٹم ڈیوٹی لگا کر کشمیری سیب کو بچانے کی ضرورت ہے۔

پلوامہ کے ہارٹیکلچر افسر جاوید احمد نے یو این آئی کو بتایا کہ ماہ اپریل میں سردی ہونے اور جولائی کی مسلسل بارشوں سے درختوں کو بیماری لگ گئی جس کی وجہ سے اس سال پیدا وار میں کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ‘سکیب’ ایک فنگل بیماری ہے جو بڑھتی ہوئی نمی سے درختوں کو لگ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی کبھی معمول کی دوا پاشی اپنا اثر نہیں کرتی ہے جس کے بعد مزید دوا پاشی کرنی پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ باغ مالکان اکثر صبح یا شام کے وقت باغوں کی دوا پاشی کرتے ہیں اور پھر موسم خراب ہونے سے اس کا کم اثر ہوجاتا ہے۔ موصوف افسر نے کہا کہ محکمہ باغ مالکان کو دوا پاشی کرنے اور دوسرے امور انجام دینے کے لئے مسلسل ہدایات دیتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمے کی ایک علاحدہ ونگ ہے جو باغ مالکوں کی بھر پور رہنمائی کرتی ہے۔

ایچ ڈی کماراسوامی کی طبیعت ناساز، بنگلورو کے اسپتال میں داخل، ڈاکٹرس کی سخت نگرانی میں ہو رہا علاج

0
ایچ-ڈی-کماراسوامی-کی-طبیعت-ناساز،-بنگلورو-کے-اسپتال-میں-داخل،-ڈاکٹرس-کی-سخت-نگرانی-میں-ہو-رہا-علاج

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور جے ڈی ایس (جنتا دل سیکولر) کے سینئر لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی کو شدید بخار کی شکایت کے بعد 30 اگست کو بنگلورو کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ کماراسوامی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ کماراسوامی کے لیے گزشتہ ہفتہ بے انتہا مصروفیت والا ثابت ہوا۔ اس کی وجہ سے انھیں بخار اور تھکن کی شکایت ہوئی جس کے بعد انھیں اپولو اسپیشلٹی اسپتال، جئے نگر میں داخل کرایا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپتال نے صبح 11 بجے ایچ ڈی کماراسوامی کا ہیلتھ بلیٹن جاری کیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ فی الحال وہ ہیموڈائنامک طور سے مستحکم، بہتر اور ہم آہنگ ہیں، لیکن انھیں ڈاکٹرس کی سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایچ ڈی کماراسوامی گزشتہ کچھ دنوں سے لگاتار میٹنگوں میں شامل ہو رہے تھے اور گزشتہ ہفتے انھوں نے اداکار سے لیڈر بنے اپنے بیٹے نکھل کماراسوامی کے لیے ایک فلم بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ان سبھی مصروفیات کے درمیان ان کی صحت پر منفی اثر پڑا۔ اب وہ اسپتال میں ہیں اور ڈاکٹرس ان کی طبیعت کو مستحکم بتا رہے ہیں، حالانکہ پارٹی کارکنان اور فیملی کے اراکین فکرمند ہیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ کماراسوامی کی پہلے ہی ہارٹ کی ایک بڑی سرجری ہو چکی ہے۔ ویسے ڈاکٹر نے یقین دلایا ہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہے، کماراسوامی جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔

’جیسے جیسے انڈیا آگے بڑھے گا، چین پیچھے ہٹے گا‘، ’اِنڈیا‘ کی ممبئی میں میٹنگ سے قبل ایم وی اے نے کی پریس کانفرنس

0
’جیسے-جیسے-انڈیا-آگے-بڑھے-گا،-چین-پیچھے-ہٹے-گا‘،-’اِنڈیا‘-کی-ممبئی-میں-میٹنگ-سے-قبل-ایم-وی-اے-نے-کی-پریس-کانفرنس

ممبئی میں اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کی میٹنگ 31 اگست اور یکم ستمبر کو طے ہے۔ اس کے لیے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کی ممبئی آمد شروع بھی ہو گئی ہے۔ اس میٹنگ سے قبل آج (30 اگست) ممبئی میں ایم وی اے (کانگریس، شیوسینا، این سی پی) لیڈران نے پریس کانفرنس کی۔ اس دوران شیوسینا (یو بی ٹی) لیڈر سنجے راؤت نے جانکاری دی کہ میٹنگ کے لیے سبھی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ 6 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور سبھی لیڈران جو بنگلورو اور پٹنہ کی میٹنگ میں شامل ہوئے تھے، وہ ممبئی کی میٹنگ میں بھی شامل ہوں گے۔ اس بار کی میٹنگ میں 28 پارٹیوں کی شرکت ہوگی، جن میں سے کئی پارٹیوں کے لیڈران آج پہنچ چکے ہیں اور کچھ کی آمد کل ہوگی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ’’روزانہ خواتین کی سیکورٹی کا خیال رکھا جانا چاہیے، کسی خاص دن نہیں۔ آج خواتین کی ایسی فکر کرنے والی حکومت ریاست اور مرکز میں نہیں ہے۔ اگر بی جے پی کے لوگ خواتین کو راکھی باندھنے کا کام کر رہے ہیں تو سب سے پہلے بلقیس بانو، منی پور کی دو بہنوں اور کشتی فیڈریشن کے خلاف تحریک پر بیٹھی خاتون کھلاڑیوں کو راکھی باندھیں۔‘‘

ادھو ٹھاکرے نے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 200 روپے کم کیے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جیسے جیسے انڈیا اتحاد آگے بڑھے گا، گیس سلنڈر مفت میں ملنے لگیں گے۔ 9 سالوں میں بہنوں کی یاد نہیں آئی۔ یہ حکومت خود گیس پر ہے۔ میں نے سنا ہے کہ ممبئی میں مہایوتی کی ایک میٹنگ ہے۔ کیجیے، لیکن محض مخالفت کے لیے نہیں، ریاست میں خشک سالی والی حالت ہے، اس مسئلہ کا حل تلاش کیجیے۔ ترقی تو انگریزوں کے دور میں بھی ہوتی تھی، لیکن آزادی چاہیے تھی۔ اب ہم ایک تاناشاہ کے خلاف ایک ساتھ آئے ہیں۔ ہندوستانی ماؤں کی حفاظت کے لیے ساتھ آئے ہیں۔ ہماری وجہ سے ہی بی جے پی نے گیس سلنڈر کی قیمت کم کی ہے۔‘‘

پریس کانفرنس سے مہاراشٹر کانگریس صدر نانا پٹولے نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا کی میٹنگ کے لیے مہاراشٹر کے کلچر کے مطابق مہمانوں کا استقبال کیا جائے گا۔ ہم بی جے پی کی تاناشاہی کے خلاف لڑنے جا رہے ہیں، اِنڈیا اتحاد میں لگاتار نئی پارٹیاں بھی شامل ہو رہی ہیں۔ نانا پٹولے نے چین کے ذریعہ جاری نئے نقشہ کا بھی تذکرہ کیا جس میں اروناچل پردیش کو اس نے اپنا بتایا ہے۔ اس معاملے میں انھوں نے کہا کہ ’’جیسے جیسے انڈیا آگے بڑھے گا، چین پیچھے ہٹے گا۔‘‘