منگل, مارچ 31, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 152

تجربہ کاراور متحرک سیاستداں اروندر سنگھ لولی کے ہاتھوں سونپی دہلی کی کمان

0
تجربہ-کاراور-متحرک-سیاستداں-اروندر-سنگھ-لولی-کے-ہاتھوں-سونپی دہلی-کی-کمان

کانگریس نے ایک مرتبہ پھر اپنے تجربہ کار سیاستداں کو دہلی کی ذمہ داری دے دی ہے۔ دہلی کے سابق وزیر اور دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کی سابق صدر اروندر سنگھ لولی کو کانگریس اعلی کمان نے  دہلی کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ اروندر سنگھ لولی جو دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دکشت کی کابینہ میں وزیر کی ذمہ داری بہت کم عمر میں نبھا  چکے  ہیں ان پر اعلی کمان نے یہ اعتماد ان کا سیاست میں متحرک ہونے اور دور اندیش ہونے کی وجہ سے کیا ہے۔

1968 میں پیدا ہوئے 54 سالہ لولی تعلیمی دور سے ہی سیاست میں متحرک تھے جو ان کو والد کی طرف سے ملی تھی کیونکہ ان کے والد بھی کانگریس میں بہت متحرک تھے۔ اروندر سنگھ لولی نے دہلی یونیورسٹی کے خالصہ کالج سے تعلیم حاصل کی اوروہ اپنے کالج کی طلباء یونین کے لئے منتخب ہوئے جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انہوں نے دہلی یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی میں کئی ذمہ داریاں سنبھالی۔

جمنا پار کے جس علاقہ میں وہ رہتے تھے یعنی گاندھی نگر سے انہوں نے پہلی مرتبہ 1998 میں انتخابی ساست میں اپنی قسمت آزمائی اور قسمت نے ان کا ساتھ دیا اور وہ  کامیاب ہوئے ۔ وہ اسمبلی کے لئے منتخب ہونے والے سب سے کم عمر کے سیاست داں بنے۔  اس کے بعد وہ 2003، 2008 اور 2013 میں اسمبلی کے لئے لگاتار منتخب ہوئے لیکن  وہ بھی کئی قد آور رہنماؤں کی طرح عام آدمی پارٹی کی لہر کے نذر ہو گئے۔

ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلی شیلا دکشت نے انہیں بہت کم عمر میں وزارت کی ذمہ داری دی اور انہوں نے اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا بھی۔  شیلا دکشت نے انہیں تعلیم ، اربن ڈولپمنٹ یعنی شہری ترقی  ، ٹرانسپورٹ اور گرودوارہ انتخابات  جیسی کئی وزارتیں دیں ۔سکھ ہونے کی وجہ سے ان کے دور میں گرودوارہ انتخابات میں انہوں نے کافی دلچسپی لی اور سکھوں کو کانگریس کے قریب لانے میں اہم کردار نبھایا۔

عام آدمی پارٹی کی پہلی 49 روزہ حکومت میں ان کی بہت اہمیت تھی کیونکہ کانگریس کے آٹھ منتخب ارکان کی قیادت وہی کر رہے تھے۔ کیجریوال حکومت کے استعفے سے پہلے جو انہوں نے اسمبلی تقریر کی تھی اس کو ان کی شاندار تقاریر میں شمار کیا جا سکتا ہے ۔ اس تقریر کے بعد ان کا سیاسی قد کافی بڑھ گیا تھا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پارٹی چھوڑی بھی تھی لیکن سال بھر بعد ہی وہ پارٹی میں واپس آ گئے تھے۔

دہلی میں نو جوان کانگریسیوں میں ان کو متحرک رہنماؤں میں شمار کیا جا سکتا ہے اور انہوں نے جس طرح دہلی سے گزرنے والی بھارت جوڑو یاترا میں متحرک کردار ادا کیا تھا اسی وقت سے ایسا محسوس کیا جا رہا تھا کہ وہ دہلی کی سیاست میں متحرک کردار ادا کرنے والے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ دہلی کی سیاست کو ی کیسے دیکھتے ہیں اور کیا آنے والے دنوں میں لوک سبھا کے لئے عام آدمی پارٹی کے ساتھ کانگریس کا اتحاد کو ہوتا ہوا دیکھتے ہیں تو انہوں نے کہا وہ پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے اور جو پارٹی اعلی کمان کی ہدایات ہوں گی ان پر عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ  تمام پارٹی کارکنان کو متحد کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔

اڈانی کی شیل کمپنیوں کے 20 ہزار کروڑ کا مالک کون؟ یہ اڈانی کا نہیں بلکہ ’موڈانی‘ کا معاملہ ہے: کانگریس

0
اڈانی-کی-شیل-کمپنیوں-کے-20-ہزار-کروڑ-کا-مالک-کون؟-یہ-اڈانی-کا-نہیں-بلکہ-’موڈانی‘-کا-معاملہ-ہے:-کانگریس

ممبئی: اڈانی گروپ پر تازہ الزامات عائد کئے جانے کے بعد کانگریس پارٹی نے مودی حکومت پر ایک بار پھر حملہ بولا ہے اور پوچھا ہے کہ شیل کمپنیوں میں جو 20 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، اس کا مالک آخر کون ہے۔ پارٹی نے ساتھ ہی اپنے پرانے مطالبہ کو بھی دہراتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ کی جانچ جے پی سی (مشترکہ پارلیمانی کمیٹی) کے ذریعے کرائی جانی چاہئے تبھی حقیقت معلوم ہو سکے گی۔

ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی اور گوتم اڈانی کے تعلقات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’’28 جنوری سے 28 مارچ تک کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم مودی سے اڈانی کے حوالے سے 100 سوالات پوچھے تھے لیکن کسی کا جواب نہیں دیا گیا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں چل سکا کہ اڈانی کی شیل کمپنیوں میں لگے 20000 کروڑ روپے کا مالک کون ہے؟‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’سرمایہ کاری میں شفافیت نہیں ہے، شیل کمپنیوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔ 20 ہزار کروڑ روپے جو اڈانی کی شیل کمپنیوں میں پائے گئے ہیں اس کی کوئی معلومات نہیں ہیں۔ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں ان مسائل پر بات کی اور انہیں لوک سبھا سے نااہل قرار دے دیا گیا۔ یہ خالی اڈانی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ موڈانی (مودی اور اڈانی) کا معاملہ ہے۔ اصل مسئلہ وزیر اعظم مودی اور اڈانی کے درمیان تعلقات کا ہے۔‘‘

دریں اثنا، جے رام رمیش نے کہا کہ آج سے 9 دن بعد نئی دہلی میں 18واں جی20 کا سربراہی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے اور آج دنیا بھر کے اخباروں میں انکشاف ہوا ہے کہ وزیر اعظم کے ایک من پسند دوست اور سرمایہ کار نے شیل کمپنیوں کا استعمال کیا ہے۔ سیبی کے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ میں راہل گاندھی شام کو میڈیا سے خطاب کریں گے اور تفصیلی معلومات دیں گے۔

خیال رہے کہ گوتم اڈانی کی قیادت والے اڈانی گروپ پر تازہ الزامات عائد کئے گئے ہیں، جس کے بعد گروپ کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں اور اس کے حصص میں تیزی سے گراوٹ درج کی جا رہی ہے۔ ایک میڈیا گروپ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اڈانی گروپ نے خفیہ طور پر اپنے ہی شیئرز خرید کر اسٹاک ایکسچینج میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ ان الزامات کے بعد اڈانی گروپ نے آناً فاناً میں وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اسے غیر ملکی تنظیموں کی سازش قرار دیا ہے!

آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) کی یہ رپورٹ انگریزی اخبارات گارڈین اور فنانشل ٹائمز کے ساتھ شیئر کی گئی ہے۔ اس نے ماریشس میں اڈانی گروپ کے ذریعہ کئے گئے لین دین کے بارے میں انکشاف کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گروپ کمپنیوں نے 2013 سے 2018 کے درمیان خفیہ طور پر اپنے شیئرز خریدے۔

’ہم جموں و کشمیر میں کسی بھی وقت انتخابات کرانے کے لیے تیار ہیں‘ مرکز کا سپریم کورٹ کو جواب

0
’ہم-جموں-و-کشمیر-میں-کسی-بھی-وقت-انتخابات-کرانے-کے-لیے-تیار-ہیں‘-مرکز-کا-سپریم-کورٹ-کو-جواب

نئی دہلی: آرٹیکل 370 سے متعلق سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں انتخابات کے انعقاد کو لے کر سپریم کورٹ میں اہم جواب دیا ہے۔ مرکز نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ہم جموں و کشمیر میں کسی بھی وقت انتخابات کرانے کے لیے تیار ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ لیہ میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے ہیں، جبکہ کارگل میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات میں 45.2 فیصد کمی آئی ہے۔ میں 2018 کے حالات کا 2023 کے حالات سے موازنہ کر رہا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی دراندازی میں 90.2 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں حالات بہتر ہو رہے ہیں۔‘‘

جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے بارے میں مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ فی الحال وہ صحیح وقت بتانے سے قاصر ہے لیکن یونین ٹیریٹری (یو ٹی) صرف ایک عارضی واقعہ ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مزید کہا کہ صرف جنوری 2022 میں 1.8 کروڑ اور 2023 میں ایک کروڑ سیاح آئے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو مرکز اٹھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا ’’مرکز یہ قدم صرف اس وقت تک اٹھا سکتا ہے جب تک ریاست کا درجہ یوٹی کا ہے۔ مرکز انتخابات کے لیے تیار ہے لیکن ریاست اور مرکزی الیکشن کمیشن کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اسے کب کیا جائے۔ ہم بتانا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے حالات اس وقت بہتر ہو سکتے ہیں۔‘‘

مرکز کے ان دلائل پر سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ ’’مرکز کے اس جواب سے معاملے کی آئینی حیثیت کا فیصلہ کرنے میں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ہم اس معاملے کی آئینی حیثیت کا فیصلہ کریں گے۔‘‘ دراصل کپل سبل نے کہا تھا کہ عدالت کو اس شعبہ میں نہیں جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے منگل کو اپنی آخری سماعت کے دوران جموں و کشمیر میں جمہوریت کو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد سے متعلق مرکز کی تیاریوں کے بارے میں بھی پوچھا تھا۔

کانگریس پارٹی کی دہلی یونٹ کا اعلان، اروندر سنگھ لولی ڈی پی سی سی کے صدر مقرر

0
کانگریس-پارٹی-کی-دہلی-یونٹ-کا-اعلان،-اروندر-سنگھ-لولی-ڈی-پی-سی-سی-کے-صدر-مقرر

نئی دہلی: کانگریس نے دہلی کے نئے ریاستی صدر کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی نے اب یہ ذمہ داری انیل چودھری کی جگہ ارویندر سنگھ لولی کو سونپی ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر بھی جانکاری دی۔ آئی این سی سندیش کے ایک ٹوئٹ میں کہا گیا ’’کانگریس صدر نے فوری اثر سے ارویندر سنگھ لولی کو دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر مقرر کیا ہے۔‘‘

کے سی وینوگوپال کی دستخط شدہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے فوری اثر سے ارویندر سنگھ لولی کو دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر مقرر کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی سبکدوش ہونے والے صدر انیل چودھری کی کوششوں اور تعاون کی تعریف کرتی ہے۔

خیال رہے کہ ارویندر سنگھ لولی دہلی پی سی سی کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ چار بار رکن اسمبلی بھی منتخب ہو چکے ہیں۔ لولی دہلی میں شیلا دکشت کی قیادت والی حکومتوں میں شہری ترقی اور محصولات، تعلیم اور ٹرانسپورٹ جیسے کئی اہم قلمدان سنبھال چکے ہیں۔

انہوں نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں مشرقی دہلی کے حلقے سے مقابلہ کیا تھا لیکن ہار گئے تھے۔ لولی کالج کے زمانے میں طلبہ سیاست میں سرگرم رہے تھے۔ بعد میں 1990 میں وہ دہلی یوتھ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے طور پر منتخب ہوئے اور پھر 1992 سے 1996 تک نیشنل اسٹوڈنٹ یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے جنرل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔

انڈیا کا اجلاس: ملک بھر کے اپوزیشن رہنماؤں کا ممبئی پہنچنے کا سلسلہ جاری، سڑکوں پر بڑی تعداد میں پوسٹرز اور ہورڈنگز آویزاں

0
انڈیا-کا-اجلاس:-ملک-بھر-کے-اپوزیشن-رہنماؤں-کا-ممبئی-پہنچنے-کا-سلسلہ-جاری،-سڑکوں-پر-بڑی-تعداد-میں-پوسٹرز-اور-ہورڈنگز-آویزاں

ممبئی: انڈیا کے 26 شراکت داروں کی دو روزہ میٹنگ آج یعنی جمعرات کی شام ملک کے تجارتی دارالحکومت ممبئی میں شروع ہونے جا رہی ہے۔ اپوزیشن اتحاد کا افتتاحی اجلاس کی میزبانی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کی تھی، جبکہ تیسرا اجلاس مہاراشٹرا میں اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کی طرف سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں کانگریس، شیوسینا (یو بی ٹی) اور شرد پوار کی قیادت والا این سی پی (نیشنلسٹ کانگریس) دھڑا شامل ہے۔

انڈیا اجلاس کے لیے ملک بھر کے اپوزیشن لیڈران کے ممبئی پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ آج ممبئی پہنچنے والے لیڈران میں سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ شامل ہیں، جبکہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن چنئی سے ممبئی اجلاس میں شرکت کے لئے روانہ ہو چکے ہیں۔

آج سے شروع ہونے والے انڈیا کے دو روزہ اجلاس سے قبل ممبئی کی سڑکیوں پر بڑی تعداد میں پوسٹرز اور ہورڈنگز نصب کئے گئے ہیں جن میں اتحاد کے قائدین کو نمایاں طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔

سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے ممبئی پہنچنے پر کہا ’’انڈیا اتحاد کا بنیادی مقصد اجتماعی طور پر لڑنا اور ملک کو بچانے، آئین، جمہوریت، سیکولرازم وفاقیت کو بچانے کے لیے بی جے پی کو شکست دینا ہے۔ ملک بہت بڑی مصیبت میں ہے۔ متعدد بحرانوں اور ملک کو بی جے پی-آر ایس ایس کے چنگل سے آزاد کرنا ہے۔ اپوزیشن کے ساتھ آنے کا یہی بنیادی مقصد ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ بی جے پی کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا۔‘‘

انڈیا کے اجلاس سے قبل راجیہ سبھا کے ایم پی اور آر جے ڈی لیڈر منوج جھا نے کہا ’’ممبئی میں اجلاس کے بعد ہمارے پاس ایک مضبوط بنیاد اور روڈ میپ ہوگا اور ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہم اس ملک کو دوبارہ پٹری پر لا رہے ہیں۔ ہر پارٹی اپنے لیڈر کو سب سے اوپر پر دیکھنا چاہتی ہے لیکن سب کو متحدہ کے اجلاس کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے۔‘‘

خیال رہے کہ انڈیا اتحاد کے دو روزہ اجلاس کے دوران شراکت دار رہنما جہاں اگلے عام انتخابات کے لیے جنگ کے منصوبے اور سیٹوں کی تقسیم کے فارمولے پر بحث کریں گے، وہیں اتحاد لوگو کی نقاب کشائی بھی کی جائے گی۔

انڈیا کا یہ پہلا اجلاس ہے جو ایک ایسی ریاست میں منعقد ہونے جا رہا ہے جہاں اتحاد کا کوئی شراکت دار اقتدار میں نہیں ہیے۔ مہاراشٹرا اس وقت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حکمرانی میں ہے، جس میں شیوسینا، بی جے پی اور اجیت پوار کی قیادت میں حریف این سی پی دھڑے شامل ہیں۔

عظیم الشان اجلاس سے قبل کانگریس کے رہنما اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی، اشوک چوان نے بدھ کو کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں ملک میں جمہوریت کو بچانے کے لیے اکٹھی ہوئی ہیں۔

اڈانی گروپ پر خفیہ طور پر اپنے ہی شیئر خریدنے کا الزام، حصص میں بھاری گراوٹ، وضاحتی بیان جاری

0
اڈانی-گروپ-پر-خفیہ-طور-پر-اپنے-ہی-شیئر-خریدنے-کا-الزام،-حصص-میں-بھاری-گراوٹ،-وضاحتی-بیان-جاری

نئی دہلی: گوتم اڈانی کی قیادت والے اڈانی گروپ پر تازہ الزامات عائد کئے گئے ہیں، جس کے بعد گروپ کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ ایک میڈیا گروپ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اڈانی گروپ نے خفیہ طور پر اپنے ہی شیئرز خرید کر اسٹاک ایکسچینج میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ ان الزامات کے بعد اڈانی گروپ نے آناً فاناً میں وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اسے غیر ملکی تنظیموں کی سازش قرار دیا ہے!

رپورٹ کے مطابق گوتم اڈانی کے بھائی ونود اڈانی کے قریبی لوگوں اور ساتھیوں نے خفیہ طور پر اڈانی گروپ کی کمپنیوں میں حصص خریدے تھے۔ اگرچہ، اڈانی گروپ اس سال مارچ تک گروپ میں ونود اڈانی کے فعال کردار سے انکار کرتا رہا ہے۔ تاہم جو دستاویزات سامنے آئی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروپ نے اس خریداری کو حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے لیے استعمال کیا۔

آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) کی یہ رپورٹ انگریزی اخبارات گارڈین اور فنانشل ٹائمز کے ساتھ شیئر کی گئی ہے۔ اس نے ماریشس میں اڈانی گروپ کے ذریعہ کئے گئے لین دین کے بارے میں انکشاف کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گروپ کمپنیوں نے 2013 سے 2018 کے درمیان خفیہ طور پر اپنے شیئرز خریدے۔

غیر منافع بخش میڈیا تنظیم او سی سی آر پی کا دعویٰ ہے کہ اس نے ماریشس کے ذریعے روٹ شدہ لین دین اور اڈانی گروپ کے اندرونی خط و کتابت کو دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم از کم دو معاملات ایسے ہیں جہاں سرمایہ کاروں نے غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعے اڈانی گروپ کے شیئرز خریدے اور بیچے ہیں۔

او سی سی آر پی کی رپورٹ میں دو سرمایہ کاروں، ناصر علی شعبان اہلی اور چانگ چنگ لنگ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ دونوں اڈانی خاندان کے پرانے کاروباری شراکت دار ہیں۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق او سی سی آر پی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ چانگ اور اہلی کی سرمایہ کاری کی رقم اڈانی خاندان نے دی تھی لیکن رپورٹنگ اور دستاویزات سے یہ واضح ہے کہ اڈانی گروپ میں ان کی سرمایہ کاری اڈانی فیملی کے ساتھ مل کر کی گئی۔ او سی سی آر پی نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس کو خلاف ورزی تصور کیا جائے گا؟ اور جواب کا فیصلہ تب ہو گا جب یہ معلوم ہو گا کہ اہلی اور چانگ پروموٹرز کی طرف سے کام کر رہے ہیں یا نہیں!

اہلی اور چانگ نے فوری طور پر او سی سی آر پی رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ دی گارڈین کے رپورٹر کے ساتھ ایک انٹرویو میں او سی سی آر پی نے کہا کہ چانگ نے کہا کہ اسے اڈانی گروپ کے حصص کے خفیہ طور پر خریدے جانے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

ادھر اڈانی گروپ نے ایک بیان جاری کرکے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ گروپ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ جارج سوروس کی حمایت یافتہ تنظیموں کا ہاتھ ہے اور غیر ملکی میڈیا کا ایک حصہ بھی ہنڈن برگ رپورٹ کے جنکس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اس کی حمایت کر رہا ہے۔

اڈانی گروپ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’جو دعوے ان معاملات پر مبنی ہیں جو ایک دہائی قبل بند کر دیے گئے تھے۔ گروپ نے کہا ہے کہ اس وقت اوور انوائسنگ، بیرون ملک رقوم کی منتقلی، متعلقہ فریق کے لین دین اور ایف پی آئی کے ذریعے سرمایہ کاری کے الزامات کی چھان بین کی گئی۔ ایک آزاد فیصلہ کرنے والی اتھارٹی اور اپیلٹ ٹربیونل نے تصدیق کی تھی کہ کوئی زائد قیمت نہیں تھی اور لین دین قوانین کے مطابق تھے۔ مارچ 2023 میں سپریم کورٹ نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا۔ اس لیے ان الزامات کا کوئی جواز یا بنیاد نہیں ہے۔‘‘

خیال رہے کہ جنوری کے شروع میں امریکی شارٹ سیلنگ فرم ہنڈنبرگ ریسرچ نے اڈانی گروپ کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ اس میں اڈانی گروپ پر حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔ اڈانی گروپ نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ قوانین پر عمل کیا ہے لیکن اس رپورٹ کی وجہ سے اڈانی گروپ کے شیئرز میں زبردست گراوٹ آئی اور اس کی مارکیٹ کیپ 150 بلین ڈالر تک کم ہو گئی۔ تاہم، حالی میں گروپ کے حصص میں تیزی آئی ہے۔

جیسے جیسے ’انڈیا‘ آگے بڑھے گا مرکزی حکومت لوگوں کو مفت گیس دینا کرنا شروع کر دے گی! ادھو ٹھاکرے کا طنز

0
جیسے-جیسے-’انڈیا‘-آگے-بڑھے-گا-مرکزی-حکومت-لوگوں-کو-مفت-گیس-دینا-کرنا-شروع-کر-دے-گی!-ادھو-ٹھاکرے-کا-طنز

ممبئی: قومی حزب اختلاف کی جماعتوں کے تیسرے اجلاس کے میزبان مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بدھ کو کہا کہ دو روزہ ‘انڈیا’ اجلاس مادر وطن کو آمریت سے نجات دلانے اور آزادی اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے صدر نے ایک مشترکہ میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو آمریت سے خطرہ ہے اور اسے ’تحفظ‘ کی ضرورت ہے۔

ٹھاکرے نے اعلان کیا ’’ہم یہاں آمریت کے خلاف اور ہندوستان کی حفاظت کے لیے ہیں۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ آمرانہ حکومت کو دوبارہ اقتدار میں نہیں آنے دیں گے۔ ہم آئین کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں گے اور وفاقی جمہوری ڈھانچے پر قدغن نہیں لگنے دیں گے۔‘‘

مرکز میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر نے کہا کہ ملک کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو خواتین کے حقوق کو یقینی بنائے۔ انہوں نے منی پور کے واقعات کی مثال دی۔

حکومت پر طنز کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا ’’مرکزی حکومت گیس پر منحصر ہے۔ اسی لیے وہ نو سال کے بعد گھریلو کھانا پکانے کے گیس سلنڈر کی قیمتوں میں کمی کر کے خواتین کو تحفہ دے رہی ہے! جیسے جیسے ہندوستان آگے بڑھے گا، وہ سب کو مفت گیس دینا شروع کر دیں، عوام سب کچھ جانتی ہے۔‘‘

ایک سوال پر کہ انڈیا اتحاد کی طرف سے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر کس کو پیش کیا جائے گا؟ ٹھاکرے نے جواب دیا ’’ہمارے پاس بہت سے آپشن ہیں لیکن کیا بی جے پی کے پاس نریندر مودی کے علاوہ کوئی آپشن ہے؟‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ انڈیا بلاک کا کنوینر کون ہوگا، تو ٹھاکرے نے جواب دیا ’’کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ این ڈی اے کا کنوینر کون ہے؟ یہ ایک امیبا کی طرح بن گیا ہے، جس کی کوئی شکل یا سائز نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے مسلم خواتین کو راکھی باندھنے کے لیے کہنے پر بی جے پی پر حملہ کیا اور کہا کہ یہ رکشا بندھن مادر وطن کی حفاظت کے لیے وقف ہونا چاہیے اور اسے کسی آمرانہ حکومت کی زنجیروں میں جکڑنے سے بچانا چاہئے۔‘‘

ٹھاکرے نے نیتی آیوگ کے حالیہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا ’’ممبئی کو مہاراشٹر سے الگ کرنے کی سازش اب بے نقاب ہو گئی ہے۔‘‘

ٹھاکرے نے کہا ’’جب مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت تھی تو انہوں نے ایسی تجویز پیش کرنے کی ہمت نہیں کی لیکن ہم کسی قیمت پر ایسا نہیں ہونے دیں گے، ہم اپنی پوری طاقت سے لڑیں گے۔‘‘

مہاراشٹر کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے نشاندہی کی کہ کس طرح چین نے لداخ اور اروناچل پردیش میں ہندوستانی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور اپوزیشن اب ملک کو غیر ملکی جارحیت سے بچائے گی۔

پٹولے نے اعلان کیا ’’جیسے جیسے ہندوستان کا اتحاد مضبوط اور ترقی کرتا جائے گا، چین ہندوستانی علاقوں سے پیچھے ہٹ جائے گا۔ ’انڈیا‘ ہی انڈیا کا دفاع اور اس کی حفاظت کرے گا۔‘‘

مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان نے کہا کہ ممبئی اجلاس میں 28 اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے 11 وزرائے اعلیٰ اور 63 رہنما شرکت کریں گے، جب کہ جولائی میں بنگلورو میں ہونے والے میں 26 رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

چوہان نے پارٹیوں کو تقسیم کرنے اور منتخب ریاستی حکومتوں کو گرانے کی سیاست کرنے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مدھیہ پردیش، گوا اور پھر مہاراشٹرا میں جو کچھ کیا وہ سب کو معلوم ہے لیکن اپوزیشن مضبوط ہے اور ہم اس طرح کی دھمکیوں سے نہیں گھبرائیں گے۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ اجلاس کے لیے ’’ممبئی انڈیا کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے اور اگلے دو دنوں میں کم از کم 28 پارٹیاں شرکت کریں گی۔‘‘

منتظمین کے مطابق انڈیا کے اجلاس میں جن بڑی جماعتوں نے شرکت کی تصدیق کی ہے ان میں کنونشن کی میزبانی کرنے والی شیو سینا (یو بی ٹی)، انڈین نیشنل کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار)، سماج وادی پارٹی، نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، جنتا دل (یو)، راشٹریہ جنتا دل، عام آدمی پارٹی، راشٹریہ لوک دل، ترنمول کانگریس، دراوڑ منیترا کزگم، کسان مزدور پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسی) اور انڈین یونین مسلم لیگ شامل ہیں۔

اختر الواسع جامعہ ہمدرد کے شعبہ اسلامیات میں ایڈجنکٹ پروفیسر مقرر

0
اختر-الواسع-جامعہ-ہمدرد-کے-شعبہ-اسلامیات-میں-ایڈجنکٹ-پروفیسر-مقرر

نئی دہلی: جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر افشار عالم کی تجویز پراکیڈمک کاؤنسل کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے 21 مارچ 2023 کو منعقدہ اپنی میٹنگ میں مشہور معلم اور دانشور پدم شری پروفیسر اخترالواسع کو اسلامک اسٹڈیز میں ایڈجنکٹ پروفیسر نامزد کیا ہے۔ آج جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر نے پروفیسر اخترالواسع کو آفس آرڈر کی کاپی پیش کی۔ اس موقع پر رجسٹرار ڈاکٹر ایم اے سکندر اور کنٹرولر آف ایگزامنیشن جناب ایس ایس اختر موجود تھے۔

پروفیسر اخترالواسع نے جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر افشار عالم کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ہمدرد سے ان کی بحیثیت ایڈجنکٹ پروفیسر وابستگی انتہائی اعزاز کی بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکیم عبدالحمید صاحب نے ایک ایسے وقت میں دہلی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کی بنیاد رکھی تھی جب دہلی میں اس طرح کا کوئی ادارہ نہیں تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمدرد سے اسلامک اسٹڈیز کا جو جرنل نکلتا تھا، اس کی اپنی علمی اہمیت تھی۔

یاد رہے کہ پروفیسر اخترالواسع 1980 سے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 1991 میں وہ جنرل سلیکشن کمیٹی سے اسلامک اسٹڈیز کے ملک بھر میں سب سے کم عمر پروفیسر مقرر کیے گئے۔ اس کے علاوہ انھوں نے عارضی طور پر اپنی مادرِ علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی کچھ مہینوں کے لیے تدریسی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اس وقت پروفیسر اخترالواسع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز میں پروفیسر ایمریٹس ہیں۔ یہاں یہ بات خاصی اہمیت کی حامل ہے کہ پروفیسر ایمریٹس اور ایڈجنکٹ پروفیسر اسلامک اسٹڈیز میں ابھی تک صرف پروفیسر اخترالواسع کو ہی ان اعزازات سے سرفراز کیا گیا ہے۔

’ہندوستان کے لوگ تبدیلی کے چاہتے ہیں‘ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے اجلاس سے قبل شرد پوار کا بیان

0
’ہندوستان-کے-لوگ-تبدیلی-کے-چاہتے-ہیں‘-اپوزیشن-اتحاد-’انڈیا‘-کے-اجلاس-سے-قبل-شرد-پوار-کا-بیان

ممبئی: اپوزیشن اتحاد انڈیا کے آج جمعرات (31 اگست 2023) سے شروع ہونے جا رہے دو روزہ اجلاس سے قبل نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے صدر شرد پوار نے کہا کہ ملک کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں، اسی لیے اپوزیشن لیڈر یہاں جمع ہو رہے ہیں۔‘‘

ایک مشترکہ میڈیا بریفنگ میں، پوار نے قومی اپوزیشن جماعتوں کے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے سیٹوں کی تقسیم کے کانٹے دار مسئلہ پر بات چیت کے امکان کا اشارہ دیا۔

این سی پی سربراہ نے کہا کہ اس اتحاد کے پہلے دو اجلاس بہت اہم تھے اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپوزیشن گروپ کی مشترکہ حکمت عملی پر اگلے دو دنوں میں تبادلہ خیال ہونے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ سینئر لیڈروں کا ایک پینل تشکیل دیا جا سکتا ہے اور اسے ریاستی اور مقامی سطحوں پر لوک سبھا انتخابات کے لیے سیٹوں کی تقسیم کے فارمولے پر تبادلہ خیال کرنے کا کام سونپا جا سکتا ہے۔

مختلف قومی اپوزیشن لیڈروں کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ الزامات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے پوار نے مرکز کو چیلنج کیا کہ ’’اگر ان میں ہمت ہے تو وہ ایسے الزامات لگانے کے بجائے معاملوں کی تحقیقات کریں اور حقائق سامنے لائیں۔‘‘

بی ایس پی سپریمو مایاوتی کے ممکنہ موقف پر، جو مبینہ طور پر انڈیا اتحاد میں شامل ہونے کے خیال پر غور کر رہی ہے، پوار نے کہا کہ یہ دیکھنا باقی ہے کیونکہ ’’وہ بی جے پی کے ساتھ بھی بات چیت کر رہی ہیں۔‘‘

83 سالہ رہنما دو روزہ انڈیا کے اجلاس سے ایک شام قبل میڈیا کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے قومی اپوزیشن جماعتوں کے گیم پلان کا خاکہ پیش کرنے کے لیے جمعرات-جمعہ کو اجلاس منعقد ہونا ہے۔

اب تک ملک بھر سے 28 اپوزیشن جماعتوں نے کنکلیو میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔ بہار اور کرناٹک میں ہونے والے گزشتہ دو اجلاسوں کے برعکس، یہ پہلا انڈیا کنکلیو ہے جو کسی ایسی ریاست میں منعقد کیا گیا ہے جس میں کسی بھی اتحادی کی حکومت نہیں ہے۔

عبداللہ اعظم کے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کیس میں ٹرائل جاری رہے گا، ہائی کورٹ کا مداخلت سے انکار

0
عبداللہ-اعظم-کے-جعلی-برتھ-سرٹیفکیٹ-کیس-میں-ٹرائل-جاری-رہے-گا،-ہائی-کورٹ-کا-مداخلت-سے-انکار

لکھنؤ: ہائی کورٹ نے سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر اور سابق کابینہ وزیر محمد اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کے فرضی برتھ سرٹیفکیٹ معاملے میں اعظم خان، بیٹے عبداللہ اور اہلیہ تزئین فاطمہ کے خلاف مقدمے کی سماعت میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جب تک درخواست پر فیصلہ نہیں کیا جاتا، ٹرائل کورٹ سے کیس کا فیصلہ نہیں آئے گا۔ ہائی کورٹ نے مقدمے کی سماعت پر روک لگانے اور کچھ نئے شواہد پیش کرنے کی اجازت دینے کی اعظم خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔

اعظم خان سمیت تین لوگوں کے خلاف مقدمہ کی سماعت رام پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں چل رہی ہے۔ درخواست میں مطالبہ ہکیا گیا ہے کہ انہیں ایم پی-ایم ایل اے کورٹ میں جاری مقدمے میں ثبوت کے طور پر پین ڈرائیو اور ویڈیو کلپ داخل کرنے کی اجازت دی جائے۔ اعظم خان کی جانب سے کہا گیا کہ مقدمے کا مرکزی گواہ محمد شفیق مدعی آکاش سکسینہ کے قریب ہے، اس لیے محمد شفیق ان کے خلاف گواہی دے رہا ہے۔ اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے ایک پین ڈرائیو اور ویڈیو کلپ کو بطور ثبوت پیش کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پی سی سریواستو اور ایڈیشنل گورنمنٹ کونسل جے کے اپادھیائے نے کہا کہ شفیق نے اپنے بیان میں پین ڈرائیو کو قبول کیا ہے۔ ایسی صورت حال میں پین ڈرائیو کو بطور ثبوت شامل کرنے کی اجازت لینے کا مقصد صرف ٹرائل میں تاخیر ہے، اس لیے اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ رام پور کو اس کیس کی سماعت جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

لیکن اس درخواست پر فیصلہ آنے تک مقدمے کا فیصلہ نہیں سنایا جائے گا۔ الزام ہے کہ عبداللہ اعظم نے دو برتھ سرٹیفکیٹ بنوائے ہیں اور دونوں میں تاریخ پیدائش مختلف ہے۔ انہوں نے غلط برتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر اسمبلی الیکشن بھی لڑا تھا۔ آکاش سکسینہ نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔ تحقیقات میں عبداللہ اعظم کا پیدائشی سرٹیفکیٹ جعلی پایا گیا جس کی وجہ سے ان کی اسمبلی رکنیت منسوخ کر دی گئی۔ اعظم خان اور دیگر کی جانب سے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔