منگل, مارچ 31, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 151

اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کی میٹنگ ختم، 28 پارٹیوں کے لیڈران کی کل پھر ہوگی ملاقات، سیٹ شیئرنگ کا عمل 30 ستمبر تک ہوگا پورا!

0
اپوزیشن-اتحاد-’اِنڈیا‘-کی-میٹنگ-ختم،-28-پارٹیوں-کے-لیڈران-کی-کل-پھر-ہوگی-ملاقات،-سیٹ-شیئرنگ-کا-عمل-30-ستمبر-تک-ہوگا-پورا!

اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کی تیسری میٹنگ ممبئی چل رہی ہے اور آج کی میٹنگ ختم ہو گئی ہے۔ اس میٹنگ میں 28 پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران موجود رہے اور یہ سبھی اب یکم ستمبر یعنی کل ایک بار پھر ملاقات کریں گے تاکہ جن ایشوز پر آج بات نہیں ہو سکی انھیں حل کیا جائے۔ میٹنگ کی جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سمیت کم و بیش 80 لیڈران شریک دکھائی دے رہے ہیں۔ تازہ ترین خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ سیٹ شیئرنگ کا عمل 30 ستمبر تک پورا کر لیا جائے گا۔ ذرائع کے حوالے سے ملی خبر کے مطابق اِنڈیا اتحاد کی آج کی غیر رسمی میٹنگ میں سیٹ شیئرنگ کو لے کر تبادلہ خیال ہوا اور مشورہ دیا گیا کہ سیٹ کی تقسیم سے متعلق سبھی کارروائی 30 ستمبر تک پوری کر لی جائے۔

اس میٹنگ کے تعلق سے دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عآپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ ’’اس ملک کے نوجوان روزگار چاہتے ہیں، لوگ مہنگائی سے چھٹکارا چاہتے ہیں، لیکن مودی حکومت صرف ایک آدمی کے لیے کام کر رہی ہے۔ اِنڈیا اتحاد ملک کے 140 کروڑ لوگوں کے لیے ہے، جو ملک کو ترقی کی طرف لے جائے گا۔‘‘

اِنڈیا اتحاد کا پی ایم چہرہ کون ہوگا؟ اس سلسلے میں لگاتار سوال اپوزیشن اتحاد کے لیڈران سے پوچھے جا رہے ہیں، لیکن جواب ندارد ہے۔ آج جب نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ سے یہ سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں کسی وزیر اعظم عہدہ کے چہرے کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے۔ انتخاب ہونے دیجیے، ہمیں اکثریت ملنے دیجیے۔ اس کے بعد فیصلہ لیا جائے گا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ اِنڈیا اتحاد کی ممبئی میں ہو رہی میٹنگ میں اپوزیشن اتحاد کا ایک مشترکہ لوگو جاری کیا جانے والا ہے۔ ساتھ ہی کوآرڈنیشن کمیٹی کے اراکین کے ناموں کا بھی اعلان کیا جائے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ اِنڈیا اتحاد کے کنوینر کا نام بھی اس میٹنگ میں سامنے آ جائے گا۔ علاوہ ازیں ایک مشترکہ منشور اور سیٹ بٹوارے کو لے کر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ میٹنگ کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ 400 سیٹوں پر مشترکہ امیدواروں پر غور و خوض ہو۔

چندریان-3 کا تفریح سے بھرپور نصف سے زیادہ سفر ختم، مزید تحقیق کے لیے وکرم اور پرگیان کے پاس بچے 135 گھنٹے

0
چندریان-3-کا-تفریح-سے-بھرپور-نصف-سے-زیادہ-سفر-ختم،-مزید-تحقیق-کے-لیے-وکرم-اور-پرگیان-کے-پاس-بچے-135-گھنٹے

اِسرو نے جب 23 اگست کو چاند پر ترنگا لہرایا تو ہر ہندوستانی کا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا۔ اب تک چندریان-3 کے وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر نے چاند کی جنوبی سطح پر 9 دن گزار لیے ہیں، یعنی چندریان-3 کا نصف سفر ختم ہو چکا ہے جو کہ تفریح سے بھرپور رہا ہے۔ نصف سے زیادہ کا سفر اس لیے ختم مانا جا رہا ہے کیونکہ چاند پر ایک دن زمین کے 14 دن کے برابر ہوتا ہے۔ 23 اگست کو چاند پر صبح ہوئی تھی اور 14 دن بعد، یعنی 6 ستمبر کو رات ہو جائے گی۔ پھر چاند پر شدید ٹھنڈ والے حالات پیدا ہو جائیں گے جہاں لینڈر ماڈیول اپنا کام بند کر دے گا۔ یعنی اب وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کے پاس 5 دن (تقریباً 135 گھنٹے) بچے ہیں۔ اپنے سبھی تحقیقی کام وکرم اور پرگیان کو انہی بچے ہوئے وقت میں پورا کرنا ہوگا۔ باقی بچے اوقات میں لینڈر ماڈیول سے سائنسدانوں کو بڑے کمال کی امید ہے، کچھ ایسا کمال جسے دنیا سلام کرے۔

ویسے چندریان-3 نے شروعاتی 9 دنوں میں ہی کئی اہم جانکاریاں فراہم کی ہیں اور جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ کر تاریخ رقم کرنے کے بعد کچھ اہم انکشافات بھی کیے ہیں۔ مثلاً چاند کے جنوبی قطب کی سطح پر درجہ حرارت 50 ڈگری سلسیس تک ہے اور سطح سے 8 سنٹی میٹر اندر درجہ حرارت گھٹ کر منفی 10 ڈگری سلسیس تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ چاند پر آکسیجن، سلفر، الومنیم، کیلشیم، آئرن، کرومیم، ٹائٹانیم، مینگنیز اور سلیکان کی موجودی کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ اب سبھی کو انتظار ہے کہ ہائیڈروجن کی تلاش کا، اگر یہ ممکن ہوا تو پھر چاند پر پانی کی موجودگی کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔

بہرحال، امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں چاند پر آنے والے زلزلوں سے متعلق سرگرمیوں، چاند اور زمین کے درمیان سگنل کی دوری، مٹی میں ملنے والے ذرات وغیرہ کی جانچ ہوگی۔ اِسرو کی کوشش ہوگی کہ وقت رہتے یہ سبھی جانچ مکمل کر لیے جائیں، کیونکہ اس کی تیاری سائنسدانوں نے چندریان-3 لانچ کرنے سے پہلے ہی کر لی تھی۔ انھیں پہلے سے ہی معلوم تھا کہ لینڈر ماڈیول کی زندگی چاند پر ایک دن (زمین کے 14 دن) ہی ہوگی۔ ایسا اس لیے کیونکہ چاند کا جنوبی قطب ویسے ہی ڈارک زون کہا جاتا ہے، یہ سیدھے سورج کے رابطے میں نہیں آتا اور یہاں کافی وقت تاریکی رہتی ہے۔ حالانکہ اِس وقت جنوبی قطب پر سورج کی روشنی موجود ہے اور اسی کی مدد سے وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کام کر رہے ہیں۔

آکاش وانی دلی کے رنگ بھون آڈیٹوریم میں پہلی بار کل ہند مشاعرے کا انعقاد

0
آکاش-وانی-دلی-کے-رنگ-بھون-آڈیٹوریم-میں-پہلی-بار-کل-ہند-مشاعرے-کا-انعقاد

نئی دہلی: جی -20 کے حوالے سے آکاش وانی کے رنگ بھون آڈیٹوریم میں پہلی بار کل ہند مشاعرے کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ آکاش وانی دلی میں اور اس کے زیر اہتمام مختلف اداروں میں تقریبات کا سلسلہ جاری ہے اور آکاش وانی کے سوشل میڈیا ہینڈل سے لگاتار ان کی تشہیر کی جا رہی ہے۔

آکاشوانی کی ایک ریلیز کے مطابق تازہ پروگرام کیلینڈر کے مطابق آکاش وانی کے رنگ بھون آڈیٹوریم میں پہلی بار کل ہند مشاعرے کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یکم ستمبر کو منعقد ہونے والی تقریب کی آغاز ڈھائی بجے نظامی برادران کی قوالی سے ہوگا۔ اس کے بعد ساڑھے تین بجے مشاعرے کا آغاز ہوگا جس میں عالم خورشید ، شکیل جمالی، اقبال اشہر، نعمان شوق، شکیل اعظمی، عزم شاکری، علینہ عترت، طارق قمر اور ارشاد خاں سکندر شرکت فرما رہے ہیں۔

آکاش وانی کے اس وسیع و عریض آڈیٹوریم میں آٹھ سو نشستیں ہیں اور یہ پٹیل چوک اور کیندریہ ٹرمنل میٹرو اسٹیشن سے چند قدم کے فاصلے پر ہے اس لئے شاعری کے شائقین کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔ داخلے کے لئے فوٹو شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہے۔

اڈانی گروپ کو لے کر غیر ملکی اخبارات کی رپورٹ پر راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی سے پوچھے تلخ سوالات

0
اڈانی-گروپ-کو-لے-کر-غیر-ملکی-اخبارات-کی-رپورٹ-پر-راہل-گاندھی-نے-وزیر-اعظم-مودی-سے-پوچھے-تلخ-سوالات

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے 31 اگست کو اڈانی گروپ معاملے پر مرکز کی مودی حکومت کو ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس بار انھوں نے کچھ غیر ملکی اخبارات کی رپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے پی ایم مودی کے سامنے تلخ سوالات رکھے اور کہا کہ ان اخبارات کا اثر ہندوستان کی شبیہ و سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔

دراصل راہل گاندھی نے اڈانی گروپ معاملے پر ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کیا جس میں کہا کہ ’’پی ایم مودی کے ایک قریبی (گوتم اڈانی) نے ایک بلین ڈالر کا استعمال شیئر خریدنے کے لیے کیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ کس کا پیسہ ہے؟ اڈانی کا یا پھر کسی اور کا؟ اس کی جانچ ہونی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پی ایم مودی آخر اڈانی معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟ جی 20 کے لیڈران ہندوستان آنے والے ہیں جو سوال پوچھیں گے کہ ایک کمپنی اسپیشل کیوں ہے؟ بہتر ہوگا کہ ان کے آنے سے پہلے ان سوالات کے جواب دیے جائیں۔ اس معاملے کی جے پی سی جانچ کرائی جائے۔‘‘

دراصل آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) نے اڈانی گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے پروموٹرس فیملی کے شراکت داروں سے جڑے غیر ملکی یونٹس کے ذریعہ گروپ کے شیئرس میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔ اس الزام کے بعد ایک بار پھر گوتم اڈانی سرخیوں میں ہیں اور کانگریس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیاں مرکز کی مودی حکومت پر حملہ آور نظر آ رہی ہے۔

راہل گاندھی نے آج پریس کانفرنس میں انگریزی اخبارات ’دی گارجین‘ اور ’فنانشیل ٹائمز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی رپورٹس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک فیملی جو مودی جی کے بہت قریب ہے، اس نے شیئر پرائس کو بڑھانے کے لیے پیسہ لگایا۔ اخبار نے یہ بھی کہا ہے کہ بطور ثبوت ان کے پاس دستاویزات اور ای میل موجود ہیں۔ راہل گاندھی نے وضاحت کی کہ ’’1 بلین ڈالر ہندوستان سے اڈانی جی کی کمپنی کے نیٹورک کے ذریعہ الگ الگ ممالک میں گیا اور پھر واپس آیا۔ اس پیسے سے اڈانی جی نے اپنے شیئر پرائس کو بڑھایا، انفلیٹ کیا۔ اسی منافع سے اڈانی جی ایئرپورٹ خرید رہے ہیں، بندرگاہ خرید رہے ہیں، اور ہندوستان کے دیگر سرمایے خرید رہے ہیں۔‘‘ پھر وہ سوال کرتے ہیں کہ ’’یہ پیسہ جو استعمال کیا جا رہا ہے وہ کس کا ہے؟ یہ اڈانی جی کا ہے یا کسی اور کا ہے؟ اور اگر کسی اور کا ہے تو وہ کس کا ہے؟‘‘

میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی آگے کہتے ہیں کہ ’’اس کام کو کرنے کے لیے ماسٹر مائنڈ ونود اڈانی جی ہیں جو گوتم جی کے بھائی ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ ان کے دو مزید بزنس پارٹنرس ہیں۔ ایک کا نام ناصر علی شعبان علی ہے اور دوسرے چین چنگ لنگ (چینی باشندہ) ہیں۔ جب اڈانی جی ہندوستان کا انفراسٹرکچر خریدے جا رہے ہیں تو یہ جو چینی شہری ہیں یہ اس میں کیسے جڑے ہوئے ہیں؟ ان کا کیا کردار ہے؟ یہ پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ یہ بیرون ملکی شہری ہندوستانی شیئر مارکیٹ کو کس طرح متاثر کر رہے ہیں۔‘‘

پریس کانفرنس کے آخر میں راہل گاندھی نے ایک بہت اہم بات میڈیا کے سامنے رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’اڈانی معاملے میں جو سیبی کی جانچ ہوئی تھی، اور جس شخص نے جانچ کے بعد کلین چٹ دے دی تھی، آج وہ اڈانی جی کے چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کا ڈائریکٹر ہے۔ مطلب صاف ہے کہ یہ ایک نیٹورک ہے۔ شیئر مارکیٹ کو انفلیٹ کیا جا رہا ہے، اور اس کے بعد منافع سے ہندوستان کے سرمایے خریدے جا رہے ہیں۔ اس پر وزیر اعظم خاموش کیوں ہیں؟‘‘ راہل گاندھی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آخر سی بی آئی اور ای ڈی جیسی ایجنسیاں اڈانی گروپ معاملے کی جانچ کیوں نہیں کر رہی ہے؟

آلودگی ایسے ہی بڑھتی رہی تو کم ہو جائیں گے زندگی کے 5.3 سال، شکاگو یونیورسٹی کی رپورٹ میں حیرت انگیز دعویٰ

0
آلودگی-ایسے-ہی-بڑھتی-رہی-تو-کم-ہو-جائیں-گے-زندگی-کے-5.3-سال،-شکاگو-یونیورسٹی-کی-رپورٹ-میں-حیرت-انگیز-دعویٰ

آلودگی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس سے لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس درمیان شکاگو یونیورسٹی کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی آلودگی جنوبی ایشیا میں رہنے والے لوگوں کی جینے کی اوسط عمر کو 5.1 سال تک کم کر رہی ہے۔ اگر ہندوستان کی بات کی جائے تو لوگوں کی اوسط عمر میں 5.3 سال تک کی کمی کا اندیشہ ہے۔

دراصل شکاگو یونیورسٹی کے توانائی پالیسی آرگنائزیشن کے ذریعہ حال ہی میں ’فضائی معیار لائف انڈیکس (اے کیو ایل آئی) سالانہ اَپڈیٹ 2023‘ شائع کیا گیا۔ اے کیو ایل آئی زندگی جینے کی اوسط عمر پر پارٹیکولیٹ آلودگی سے ہونے والے اثرات کی پیمائش کرتا ہے۔ حالیہ رپورٹ میں 2021 کے پارٹیکولیٹ میٹر ڈاتا کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ پارٹیکولیٹ میٹر (پی ایم) 2.5 جیسے مضر عنصر انسان کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2013 کے بعد سے دنیا بھر میں جو آلودگی دیکھنے کو مل رہی ہے، اس کا تقریباً 59 فیصد اضافہ صرف ہندوستان میں ہوا ہے۔ قومی راجدھانی دہلی میں یہ صورت حال سب سے خطرناک ہے۔

بہرحال، اے کیو ایل آئی ڈاٹا سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے چار سب آلودہ ملک جنوبی ایشیا کے ہی ہیں جو عالمی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے۔ اگر آلودگی کی سطح اسی طرح بنا رہتا ہے تو ہندوستان سمیت بنگلہ دیش، نیپال اور پاکستان کے لوگوں کی زندگی جینے کی اوسط عمر 5 سال تک کم ہو سکتی ہے۔ پی ایم 2.5 ڈاٹا کے مطابق ہندوستان میں آلودگی 2020 میں 56.2 µg/m3 سے بڑھ کر 2021 میں 58.7 µg/m3 ہو گیا ہے جو ڈبلیو ایچ او کی گائیڈلائن سے 10 گنا زیادہ ہے۔ اگر ڈبلیو ایچ او کی گائیڈلائن پر عمل نہیں کیا گیا تو ملکی باشندوں کی زندگی جینے کی اوسط عمر 5.3 سال گھٹ جائے گی۔

ہندوستان کا سب سے آلودہ علاقہ شمالی میدانی علاقہ ہے۔ یہاں نصف ارب سے زیادہ لوگ اور ملک کی 38.9 فیصد آبادی رہتی ہے۔ اس علاقہ میں اگر آلودگی کی سطح بنی رہی تو اوسطاً لوگ اپنی زندگی کے 8 سال سے محروم رہ جائیں گے۔ اس علاقے میں راجدھانی دہلی دنیا کی سب سے آلودہ میگا سٹی ہے۔ اس کا سالانہ اوسط ذرہ آلودگی 126.5 µg/m3 ہے جو ڈبلیو ایچ او کی گائیڈلائن سے 25 گنا زیادہ ہے۔ حالانکہ فضائی آلودگی اب صرف ملک کے شمالی میدانی علاقوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں فضائی آلودگی دیگر علاقوں میں بھی پھیل گیا ہے۔ مثال کے لیے مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں 2000 کے بعد سے آلودگی میں بالترتیب 76.8 فیصد اور 78.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہاں اوسط شخص اب اپنی زندگی جینے کی عمر کے مقابلے میں 1.8 سے 2.3 سال کم زندگی جی رہے ہیں۔

کیرالہ میں اونم کے تہوار پر 10 دنوں میں 759 کروڑ روپے کی شراب فروخت

0
کیرالہ-میں-اونم-کے-تہوار-پر-10-دنوں-میں-759-کروڑ-روپے-کی-شراب-فروخت

ترواننت پورم: کیرالہ میں اونم کے تہوار پر شراب کی بڑے پیمانے پر فروخت کی گئی۔ ریاست میں شراب اور بیئر کے واحد ہول سیل تاجر بیوکو نے جمعرات کو کہا کہ 21 اگست کو شروع ہوئے دس روزہ اونم کے تہوار کے دوران کیرالہ میں شراب کی فروخت 759 کروڑ روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال اونم کے موقع پر 700 کروڑ روپے کی شراب فروخت کی گئی ہے۔ جہاں تہوار کے موقع پر لوگوں نے 759 کروڑ روپ کی شراب ہضم کر لی وہیں ریاستی حکومت کو مختلف ٹیکسوں کے ذریعے 675 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تراونکور شوگر اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ کی ’جوان رم‘ کا اسٹاک بہت تیزی کے ساتھ ختم ہو گیا۔

تہوار کے موقع پر سب سے زیادہ شراب پیر کے روز یعنی اونم کے پہلے دن درج کی گئی۔ اس دین تقریباً 116 کروڑ روپے کی شراب فروخت کی گئی۔ بیوکو کے مطابق اس دن چھ لاکھ لوگوں نے شراب خریدی۔ اگست میں شراب کی فروخت مجموعی طور پر 1799 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، کو گزشتہ برس اسی مہینے میں 1522 کروڑ روپے تھی۔

آسام میں سیلاب کی صورت حال سنگین، 3.4 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر

0
آسام-میں-سیلاب-کی-صورت-حال-سنگین،-3.4-لاکھ-سے-زیادہ-افراد-متاثر

گوہاٹی: آسام میں دریائے برہماپوتر اور دیگر اہم دریاؤں کی آبی سطح میں اضافہ کے سبب سیلاب کی صورت حال مزید سنگین ہو گئی ہے اور ریاست کے 22 اضلاع میں 3 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ عہدیداروں نے جمعرات کو یہ معلومات دی۔

آسام ریاستی آفت انتظامی اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ماجولی سب سے زیاد بحران کا شکار ضلع ہے، جہاں 65 ہزار سے زیادہ افراد کو سیابی صورت حال کا سامنا ہے۔ اس کے بعد گولپارہ اور موری گاؤں اضلاع میں سیلابی صورت حال نظر آ رہی ہے۔

مجموعی طور پر 1308 افراد نے 153 راحتی کیمپوں میں پناہ لی ہے، جبکہ ضلع انتظامیہ 150 مراکز کے ذریعے راحت فراہم کر رہی ہے۔ محکمہ جنگلات کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق اورنگ نیشنل پارک اور ٹائیگر ریزرو کے 44 کیمپ گراؤنڈ میں سے 13 اور پوتی بورا جنگلی حیات سینکٹوری کے 10 کیمپ گراؤنڈ زیر آب آ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق درانگ، دھبری، گولاگھاٹ، جوراہاٹ، کامروپ میٹرو، کریم گنج، ماجولی، موری گاؤں اور اودل گری اضلاع میں 33 سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں۔ درانگ میں ایک بند ٹوٹ گیا ہے، جبکہ اودل گری میں دوسرے بند کو نقصان پہنچا ہے۔

بارپیٹا، بسوناتھ، بونگائی گاؤں، ڈبروگڑھ، ماجولی، نلباڑی، سونت پور، تنسوکیا اور اودل گری میں بڑے پیانے پر کٹان ہوا ہے۔ تاہم سیاب کے نتیجہ میں کسی جانی نقصان کا حالیہ واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

مودی حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس کیا طلب، 18 سے 22 ستمبر کے درمیان ہوں گی 5 نشستیں

0
مودی-حکومت-نے-پارلیمنٹ-کا-خصوصی-اجلاس-کیا-طلب،-18-سے-22-ستمبر-کے-درمیان-ہوں-گی-5-نشستیں

نئی دہلی: مرکز کی مودی حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔ یہ اجلاس 18 سے 22 ستمبر تک جاری رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس اجلاس کے دوران 5 نشتیں ہوں گی۔ یہ 17ویں لوک سبھا کا 13واں اور راجیہ سبھا کا 261واں اجلاس ہوگا۔ حکومت نے تاحال اس اجلاس کو طلب کرنے کا کوئی ایجنڈا ظاہر نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ آئین کے آرٹیکل 85 میں پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرنے کا التزام ہے۔ اس کے تحت حکومت کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا حق حاصل ہے۔ پارلیمانی امور کی کابینہ کمیٹی فیصلے کرتی ہے جن کی ترتیب صدر کے ذریعہ دی جاتی ہے، جس کے ذریعے ارکان پارلیمنٹ (اراکین پارلیمنٹ) کو اجلاس میں مدعو کیا جاتا ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے 11 اگست تک ہوا تھا، جس کے دورانن نمنی پور تشدد پر کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ اپوزیشن منی پور پر پی ایم مودی کے بیان پر بحث پر بضد تھی، جب کہ حکومت وزیر داخلہ امت شاہ کے جواب پر بحث پر اصرار کر رہی تھی۔ اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان زبردست ہنگامہ ہوا تھا۔

اس کے بعد کانگریس نے منی پور معاملے پر لوک سبھا میں مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔ اس دوران راہل گاندھی نے منی پور تشدد کا ذکر کرتے ہوئے مودی حکومت پر سخت حملہ بولا تھا۔ جبکہ وزیر اعظم مودی نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کا جواب دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن کی تحریک نامنظور ہو گئی تھی۔

یاد رہے کہ منی پور میں 3 مئی سے تشدد جاری ہے، جس میں اب تک 160 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تشدد کی آگ میں 10 ہزار گھر جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔ جبکہ 50 ہزار سے زائد لوگ ریلیف کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

منی پور میں پھر دو گروپ کے درمیان گولی باری، 12 گھنٹوں میں 2 افراد کی موت سے عوام میں دہشت

0
منی-پور-میں-پھر-دو-گروپ-کے-درمیان-گولی-باری،-12-گھنٹوں-میں-2-افراد-کی-موت-سے-عوام-میں-دہشت

منی پور میں تقریباً 4 ماہ سے تشدد کا بازار گرم ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں ایسا محسوس ہوا تھا کہ حالات معمول پر آ رہے ہیں، لیکن ایک بار پھر دو گروپ کے درمیان گولی باری کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں میں تصادم کی وجہ سے 2 لوگوں کی موت ہو گئی ہے اور تازہ ترین خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ جمعرات کی صبح بشنوپور ضلع کے کھوئرینٹک کے فٹ ہلز اور چراچندپور ضلع کے چنگفیئی و کھوسابنگ علاقوں میں دو گروپ کے درمیان گولی باری کی اطلاع پولیس کو ملی۔

ایک افسر کے حوالے سے کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ منی پور میں تازہ تشدد کا معاملہ بدھ کی شام کچھ دیر کی امن کے بعد شروع ہوا تھا۔ تصادم میں کے دوران بم لگنے سے زخمی ہوئے ایک شخص کی موت میزورم کے راستے گواہاٹی لے جاتے وقت ہو گئی، جبکہ ایک دیگر زخمی شخص کی موت چراچندپور ضلع کے اسپتال میں علاج کے دوران ہوئی۔

موصولہ خبروں کے مطابق چنگفیئی علاقے میں بدھ کے روز ہوئی گولی باری میں زخمی ہوئے پانچ لوگوں میں سے تین کو چراچندپور ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ بشنوپور نارائن سینا گاؤں کے پاس منگل کو ہوئے تشدد میں دو لوگوں کی موت ہو گئی جبکہ 6 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ ذرائع کے مطابق ایک کی موت گولی لگنے سے ہوئی تھی جبکہ دوسرے کی موت اپنے ہی بندوق سے نشانہ چوکنے کے سبب ہوئی۔ دراصل نشانہ چوکنے کے سبب گولی سیدھے اس کے منھ پر لگی جو ہلاکت خیز ثابت ہوئی۔

اس درمیان منی پور پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز کے ذریعہ کانگپوکپی، تھوبل، چراچندپور اور ویسٹ امپھال کے سرحدی و حساس علاقوں میں تلاشی مہم چلائی گئی جس میں 5 اسلحے، 31 گولہ بارود، 19 دھماکہ خیز مادہ، آئی ای ڈی مواد کے تین پیکٹ برآمد کیے گئے۔ اس کے علاوہ پولیس نے اصول کی خلاف ورزی کرنے والے 1646 لوگوں کو حراست میں بھی لیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں الیکشن سے پہلے بی جے پی کو جھٹکا، رکن اسمبلی وریندر رگھوونشی نے چھوڑی پارٹی، کئی الزامات کئے عائد

0
مدھیہ-پردیش-میں-الیکشن-سے-پہلے-بی-جے-پی-کو-جھٹکا،-رکن-اسمبلی-وریندر-رگھوونشی-نے-چھوڑی-پارٹی،-کئی-الزامات-کئے-عائد

شیو پوری: مدھیہ پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل شیو پوری ضلع کے کولارس اسمبلی حلقہ کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے وریندر رگھوونشی نے کچھ الزامات لگاتے ہوئے آج پارٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔ رگھوونشی کے اگلے چند دنوں میں کانگریس میں شامل ہونے کے امکانات ہیں۔

صحافیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں بدعنوانی عروج پر ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا کے ساتھ بی جے پی میں آئے ایم ایل سے وزیر بنائے گئے بعض وزراء سے شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے نئے آنے والوں کی وجہ سے پارٹی کے پرانے کارکنوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ریاست میں گائے کے تئیں لاپرواہی اور کسانوں کے قرض معافی جیسے مسائل پر پارٹی کے موقف پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

ایم ایل اے وریندر رگھوونشی نے کہا کہ وہ کانگریس میں تھے لیکن جیوترادتیہ سندھیا سے ناخوش ہونے کے بعد بی جے پی میں شامل ہوئے۔ سندھیا بھی بی جے پی میں شامل ہو گئے، جس کی وجہ سے انہیں بی جے پی چھوڑنی پڑ رہی ہے۔ رگھوونشی نے کہا کہ وہ لگاتار عوام کے لیے کام کر رہے تھے اور ترقی کی کوشش کرتے رہے لیکن سندھیا کے حامی وزیر ان کی ترقی کے ہر کام میں رکاوٹیں پیدا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے خلاف فرضی ایف آئی آر درج کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان تمام وجوہات کی وجہ سے وہ بی جے پی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔