منگل, مارچ 31, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 149

مودی حکومت اِنڈیا اتحاد کی طاقت سے گھبرائی ہوئی ہے، ہمیں چھاپہ ماری اور گرفتاریوں کے لیے تیار رہنا ہوگا: کھڑگے

0
مودی-حکومت-اِنڈیا-اتحاد-کی-طاقت-سے-گھبرائی-ہوئی-ہے،-ہمیں-چھاپہ-ماری-اور-گرفتاریوں-کے-لیے-تیار-رہنا-ہوگا:-کھڑگے

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ممبئی میں اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی میٹنگ کے دوران ساتھی پارٹیوں کے لیڈران سے اپیل کی ہے کہ وہ آنے والے کچھ مہینوں میں بدلے کی کارروائیوں، چھاپہ ماری و گرفتاری کے لیے تیار رہیں کیونکہ یہ اتحاد زمین پر جتنا مضبوط ہوگا، حکومت اس کے خلاف لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کا اتنا ہی زیادہ غلط استعمال کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ انڈیا اتحاد کی بڑھتی طاقت سے حکومت پریشان ہے۔ انھوں نے ملک میں ہیٹ کرائمز میں اضافہ کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس پر بھی نشانہ سادھا۔ اس کے ساتھ ریاستوں کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرنے کا بھی الزام لگایا۔

میٹنگ کے دوسرے دن انڈیا بلاک کے لیڈران کو خطاب کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ پٹنہ اور بنگلورو میں ہماری دونوں میٹنگوں کی کامیابی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریروں میں نہ صرف ہم پر حملہ بولا ہے، ہمارے پیارے ملک کے نام کا موازنہ دہشت گرد تنظیم اور غلامی کی علامت سے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اس طرح کے بدلے کی سیاست کے سبب آنے والے مہینوں میں اور زیادہ حملوں، زیادہ چھاپہ ماری اور گرفتاریوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

کانگریس صدر نے اس بات پر زور دیا کہ جتنا زیادہ اِنڈیا اتحاد مضبوط ہوگا، اتنا ہی زیادہ بی جے پی حکومت اپوزیشن لیڈران کے خلاف ایجنسیوں کا غلط استعمال کرے گی۔ انھوں نے مہاراشٹر، راجستھان، مغربی بنگال میں مرکزی ایجنسیوں کی کارروائیوں اور جھارکھنڈ کے ساتھ چھتیس گڑھ میں حال کے واقعات کی بھی مثال دی۔ کھڑگے نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے سماج کا ہر طبقہ، چاہے وہ کسان، نوجوان، خواتین، حاشیے پر رہنے والے لوگ، متوسط لوگ، دانشور، غیر سرکاری ادارہ اور صحافی ہو، سبھی بی جے پی کے اقتدار پرست کُشاسن (بدتر حکمرانی) کے شکار ہیں۔ ہماری طرف 140 کروڑ ہندوستانی اپنی تکلیفوں کو دور کرنے کی امید کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

بی جے پی اور آر ایس ایس پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’بی جے پی اور آر ایس ایس نے گزشتہ 9 سالوں میں جو فرقہ واریت کا زہر پھیلایا ہے، وہ اب بے قصور ٹرین مسافروں اور بے قصور اسکولی بچوں کے خلاف ہیٹ کرائمز کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ جب ملک کے ایک حصے میں خوفناک عصمت دری میں شامل لوگوں کو رِہا کیا جاتا ہے اور ان کا استقبال کیا جاتا ہے، تو دوسرے حصے میں خوفناک جرائم اور برہنہ خواتین کی پریڈ کو فروغ ملتا ہے۔ مودی جی کے ہندوستان میں کارگل جنگ کے ایک بہادر کی بیوی کو بھی نہیں بخشا جاتا ہے۔‘‘

کانگریس صدر دراصل ٹرین میں آر پی ایف کانسٹیبل کے ذریعہ چار لوگوں کو قتل کیے جانے، منی پور میں خواتین کی برہنہ پریڈ، اور بلقیس بانو عصمت دری کے ملزم کی رِہائی کا ذکر کر رہے تھے۔ انھوں نے مدھیہ پردیش کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ حاشیے پر پڑے لوگوں کے تئیں بی جے پی حکومت کی بے حسی ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیڈر غریب قبائلیوں اور دلتوں پر پیشاب کرتے ہیں۔ قصورواروں کو کھلے عام گھومنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘‘

مرکزی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت والی مرکزی حکومت ریاستوں کو کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ریاستوں کو ٹیکس ریونیو کے ان کے حصے سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن حکمراں ریاستوں کو منریگا کا بقایہ نہیں دیا جا رہا۔ مالیاتی کمیشن کی سفارش کے مطابق اسپیشل گرانٹ اور اسٹیٹ اسپیشل گرانٹ جاری نہیں کیے جاتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری اور پروجیکٹس کے لیے اپوزیشن حکمراں ریاستوں کی جگہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں لے جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

کھڑگے نے سوال کیا کہ راہل گاندھی نے ماریشس واقع کمپنی سے راؤنڈ ٹریپنگ کے الزامات اور غیر شفاف سرمایہ کاری کی رپورٹ کی جے پی سی جانچ کا مطالبہ کیا۔ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ وزیر اعظم اس معاملے (اڈانی کیس) کی جانچ کیوں نہیں کرا رہے ہیں؟ کھڑگے نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی ایجنسیوں اور اداروں پر مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ وہ ای ڈی چیف، سی بی آئی ڈائریکٹر، چیف الیکشن کمشنرز، یہاں تک کہ ملک بھر کی عدالتوں کے ججوں کی تقرری کو کنٹرول کرنے پر بضد ہے۔ کھڑگے کے مطابق تین میٹنگوں کے دوران انڈیا اتحاد نے ایک مشترکہ محاذ کی شکل میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ حکومت کو کامیابی کے ساتھ جوابدہ بنایا ہے۔ ہماری طاقت حکومت کو پریشان کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے پارلیمنٹ میں اہم بلوں کو آگے بڑھایا ہے، ہمارے اراکین پارلیمنٹ کو معمولی بات پر معطل کر دیا ہے۔ ہمارے خلاف خصوصی استحقاق کا قرارداد داخل کیا، ہمارے مائک بند کر دیے، کیمروں کو ہمارے احتجاجی مظاہروں کو کور کرنے کی اجازت نہیں دی، سنسد ٹی وی پر ہماری تقریروں کو کھلے عام سنسر کر دیا۔

ملک کی 60 فیصد آبادی اِنڈیا اتحاد کے ساتھ کھڑی ہے، بی جے پی کا جیتنا ناممکن: راہل گاندھی

0
ملک-کی-60-فیصد-آبادی-اِنڈیا-اتحاد-کے-ساتھ-کھڑی-ہے،-بی-جے-پی-کا-جیتنا-ناممکن:-راہل-گاندھی

کانگریس کے سابق صدر اور وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اِنڈیا اتحاد کی میٹنگ کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی 60 فیصد آبادی اِنڈیا اتحاد کے ساتھ کھڑی ہے، ایسے میں بی جے پی کا لوک سبھا انتخاب جیتنا ممکن ہی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’اتنی بڑی آبادی کی نمائندگی ساتھ ہو تو بی جے پی کسی حال میں انتخاب نہیں جیت سکتی ہے۔ کچھ اچھے قدم اس میٹنگ میں اٹھائے گئے ہیں جن میں کوآرڈنیشن کمیٹی بنانا اور دیگر ذیلی کمیٹیاں بنانا شامل ہے۔ ہم جلد ہی سیٹوں کی تقسیم پر بھی فیصلہ لیں گے۔‘‘

راہل گاندھی نے اس دوران اڈانی پر ہوئے تازہ انکشاف اور لداخ میں چین کی دراندازی کا بھی ایشو اٹھایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی ہندوستان کے لوگوں کا پیسہ چھین کر اپنے چہیتے دو تین لوگوں کو دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے کل بھی پریس کانفرنس کی تھی۔ وزیر اعظم اور ایک بزنس مین کے درمیان کا نیکسس سب کو دکھائی دے رہا ہے۔ جب جی-20 ہو رہا ہے تو ہمارے ملک کی ساکھ پر بٹّہ لگ رہا ہے… پی ایم کو اس بارے میں وضاحت کرنی ہوگی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ہم لوگوں کے سامنے واضح نظریات رکھیں گے اور ملک کی ترقی میں غریبوں کو پھر سے شرکت دار بنائیں گے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ وہ حال ہی میں لداخ میں تھے اور وہاں کے عام لوگوں اور گڑیریوں سے بات چیت میں پتہ چلا ہے کہ چین نے یقینی طور سے ہماری زمین پر قبضہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے لداخ کے لوگوں اور ملک کے لوگوں سے جھوٹ بولا ہے کہ کسی نے کوئی قبضہ نہیں کیا۔ راہل گاندھی کہتے ہیں ’’میں ہفتہ بھر لداخ میں تھا، میں نے پینگونگ جھیل کا بھی دورہ کیا جہاں چینی تھے۔ میں نے وہاں کے لوگوں سے بات چیت کی۔ ان لوگوں نے صاف بتایا کہ چین نے ہندوستان کی زمین پر قبضہ کیا ہے۔‘‘ راہل گاندھی یہ بھی کہتے ہیں کہ سرحد پر تبدیلی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ مویشی چرانے والے پہلے جہاں تک جا سکتے تھے، اب نہیں جا پا رہے ہیں۔ یہ بے حد شرم کی بات ہے۔

’ریاست میں اِسی سال نافذ ہوگا یونیفارم سول کوڈ‘، قدرتی آفات سے نبرد آزما اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کا اعلان

0
’ریاست-میں-اِسی-سال-نافذ-ہوگا-یونیفارم-سول-کوڈ‘،-قدرتی-آفات-سے-نبرد-آزما-اتراکھنڈ-کے-وزیر-اعلیٰ-کا-اعلان

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ایک بار پھر ایسا بیان دیا ہے جس نے ریاست کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ دراصل یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) سے متعلق وزیر اعلیٰ دھامی نے کہا ہے کہ جتنی جلد ہو سکے یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کا ہمارا عزم ہے۔ دھامی کا کہنا ہے کہ ’’جب ہمیں یو سی سی ڈرافٹ مل جائے گا تو ہم اس عمل کو اس سال آگے بڑھائیں گے۔ ہم یونیفارم سول بل کو ریاست میں جلد از جلد نافذ کریں گے۔‘‘

یہ بیان وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کھٹیما میں دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یو سی سی کے بارے میں ہمارا عزم ہے کہ ہم اسے جلد لائیں گے۔ یہ ہمارے انتخابی منشور میں بھی شامل تھا۔ ہمیں جس کام کے لیے عوام نے منتخب کیا ہے، ہم اس وعدے کو پورا کریں گے اور ہم جلد ہی ریاست میں یکساں سول بل لائیں گے۔ دھامی حکومت نے یو سی سی تیار کرنے کے لیے مارچ 2022 میں کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی نے عام لوگوں سے ان کی رائے اور مشورے طلب کیے تھے۔

واضح رہے کہ اس متنازعہ ایشو پر دھامی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ریاست قدرتی آفات کا سامنا کر رہی ہے۔ بارش اور لینڈ سلائڈنگ کے سبب پیدا سنگین حالات سے نمٹنے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔ اس سال ہوئی بارش سے ریاست کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ اب تک کے اندازے کے مطابق قدرتی آفت سے 1335 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے ازالہ کے لیے ریاستی آفات فنڈ سے 323 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ لیکن بقیہ تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی امداد کے لیے ریاستی حکومت مرکز کو خط لکھے گی۔

ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے اور تمام ہندوستانی ہندو ہیں! آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت

0
ہندوستان-ایک-ہندو-راشٹر-ہے-اور-تمام-ہندوستانی-ہندو-ہیں!-آر-ایس-ایس-کے-سربراہ-موہن-بھاگوت

ناگپور: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے اور نظریاتی طور پر تمام ہندوستانی ہندو ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندو کا مطلب تمام ہندوستانی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق آر ایس ایس کے سربراہ بھاگوت نے یہ تبصرہ جمعہ (یکم ستمبر) کو مہاراشٹر کے ناگپور میں کیا۔ وہ ایک اخبار چلانے والی کمپنی کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر بول رہے تھے۔

آر ایس ایس کے سربراہ بھاگوت نے کہا ’’ہندوستان ایک ‘ہندو راشٹر’ ہے اور یہ ایک حقیقت ہے۔ نظریاتی طور پر تمام ہندوستانی ہندو ہیں اور ہندو کا مطلب تمام ہندوستانی ہیں۔ جو لوگ آج ہندوستان میں ہیں ان کا تعلق ہندو ثقافت، ہندو آباؤ اجداد اور ہندو سرزمین سے ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔‘‘ اس کے ساتھ لوگوں کی توقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنگھ کو سب کی فکر کرنی چاہیے۔

بھاگوت نے کہا ’’کچھ لوگ اسے سمجھ چکے ہیں، جب کہ کچھ اپنی عادت اور خود غرضی کی وجہ سے سمجھنے کے بعد بھی اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ اسے یا تو ابھی تک سمجھ نہیں پائے یا بھول گئے ہیں۔‘‘

اخبار کے دفتر میں بھاگوت نے کہا کہ رپورٹنگ میں سب کو شامل ہونا کیا جانا چاہئے اور اپنے نظریے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے منصفانہ اور حقیقت پر مبنی ہونا چاہیے۔ بھاگوت نے کہا کہ ’’ہمارے نظریہ کی پوری دنیا میں بہت مانگ ہے۔ ہر کوئی اسے سمجھ گیا ہے۔ کچھ اسے قبول کرتے ہیں، کچھ نہیں کرتے۔‘‘

آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ یہ فطری ہے کہ اس سلسلے میں عالمی ذمہ داری ملکی سماج اور میڈیا پر آئے گی جو ‘نظریہ’ پھیلاتے ہیں۔ بھاگوت نے ماحول کا خیال رکھنے اور ‘سودیشی’، خاندانی اقدار اور نظم و ضبط پر توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

رپورٹ کے مطابق مرکزی وزیر نتن گڈکری اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس بھی اس تقریب میں موجود تھے۔ نتن گڈکری نے اس پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ مرکزی وزیر گڈکری نے کہا کہ جامعیت اخبار کی شناخت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قارئین ایسا میڈیا پسند کرتے ہیں جو نظریاتی تشخص کے ساتھ جامع ہو۔

’ہم اِنڈیا کی سبھی پارٹیاں…‘، اِنڈیا اتحاد کی میٹنگ میں مشترکہ قرارداد پاس، مل کر لوک سبھا انتخاب لڑنے کا عزم

0
’ہم-اِنڈیا-کی-سبھی-پارٹیاں…‘،-اِنڈیا-اتحاد-کی-میٹنگ-میں-مشترکہ-قرارداد-پاس،-مل-کر-لوک-سبھا-انتخاب-لڑنے-کا-عزم

اِنڈیا اتحاد کی میٹنگ ممبئی میں آج ختم ہو گئی۔ اِنڈیا اتحاد کی اس تیسری میٹنگ میں کئی اہم فیصلے کیے گئے اور سبھی پارٹیوں کی طرف سے ایک مشترکہ قرارداد بھی پاس کیا گیا۔ اس قرارداد میں اِنڈیا (انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس) نے آئندہ لوک سبھا انتخاب ایک ساتھ مل کر لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ میٹنگ کے بعد جو قرارداد جاری کیا گیا ہے وہ ذیل میں پیش ہے:

آئندہ لوک سبھا انتخاب ایک ساتھ مل کر لڑنے کو لے کر اِنڈیا (انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس) کی پارٹیوں کا قرارداد۔

ہم، اِنڈیا کی سبھی پارٹیاں، جہاں تک ممکن ہو سکے، آئندہ لوک سبھا انتخاب ایک ساتھ مل کر لڑنے کا عزم کرتے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں سیٹ تقسیم کا عمل فوراً شروع کیا جائے گا، صلاح و مشورہ اور تعاون کے جذبہ کے ساتھ اسے جلد سے جلد پورا کیا جائے گا۔

ہم، اِنڈیا کی سبھی پارٹیاں، عوام کے مسائل اور ان سے جڑے اہم ایشوز پر ملک کے مختلف حصوں میں جلد از جلد عوامی جلسے منعقد کرنے کا عزم کرتے ہیں۔

ہم، اِنڈیا کی سبھی پارٹیاں، مختلف زبانوں میں ’جڑے گا بھارت، جیتے گا اِنڈیا‘ تھیم کے ساتھ اپنے مواصلات اور میڈیا پالیسیوں و مہموں کے کوآرڈنیشن کا عزم لیتے ہیں۔

جڑے گا بھارت

جیتے گا اِنڈیا!

اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کی میٹنگ میں بڑی پیش قدمی، 14 رکنی کوآرڈنیشن کمیٹی بنانے کا اعلان، شرد پوار بھی کمیٹی کا حصہ

0
اپوزیشن-اتحاد-’اِنڈیا‘-کی-میٹنگ-میں-بڑی-پیش-قدمی،-14-رکنی-کوآرڈنیشن-کمیٹی-بنانے-کا-اعلان،-شرد-پوار-بھی-کمیٹی-کا-حصہ

آئندہ لوک سبھا انتخاب میں مرکز سے بی جے پی اتحاد کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپوزیشن اتحاد اِنڈیا پرعزم دکھائی دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں آج ممبئی میں ہوئی میٹنگ کے دوران انتہائی اہم پیش رفت دیکھنے کو ملی۔ اِنڈیا اتحاد نے 14 رکنی ایک کوآرڈنیشن کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے جس میں این سی پی چیف شرد پوار کا بھی نام ہے۔ ساتھ ہی لوک سبھا انتخاب میں اِنڈیا اتحاد کا نعرہ ہوگا ’جڑے گا بھارت، جیتے گا انڈیا‘۔

اِنڈیا اتحاد کے ذریعہ جو 14 رکنی کوآرڈنیشن کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا ہے، اس میں این سی پی چیف شرد پوار کے علاوہ کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال، ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن، شیوسینا (یو بی ٹی) لیڈر سنجے راؤت، آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو، ٹی ایم سی لیڈر ابھشیک بنرجی، عآپ لیڈر راگھو چڈھا، سماجوادی پارٹی لیڈر جاوید علی خان، جنتا دل یو لیڈر للن سنگھ، جے ایم ایم لیڈر ہیمنت سورین، سی پی آئی لیڈر ڈی راجہ، نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ اور پی ڈی پی لیڈر محبوبہ مفتی شامل ہیں۔ سی پی آئی سے بھی ایک لیڈر کو اس کمیٹی میں شامل کیا جائے گا جن کا نام فی الحال فائنل نہیں ہوا ہے۔

آج ہوئی میٹنگ کے دوران اپوزیشن اتحاد اِنڈیا نے لوک سبھا انتخاب 2024 ایک ساتھ مل کر لڑنے کا عزم مصمم ظاہر کیا ہے۔ کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس تعلق سے جانکاری دی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’انڈیا اتحاد میں شامل پارٹیوں نے ایک ساتھ لوک سبھا انتخاب لڑنے کا عزم کیا۔ جہاں تک ممکن ہوگا وہاں تک ہم ایک ساتھ لوک سبھا انتخاب لڑیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’سیٹ کی تقسیم سے متعلق الگ الگ ریاستوں میں تبادلہ خیال جلد شروع کیا جائے گا اور جلد از جلد اسے پورا کیا جائے گا۔ ملک کے الگ الگ حصے میں جلسہ عام کا انعقاد ہوگا۔ الگ الگ زبانوں میں ’جڑے گا بھارت، جیتے گا انڈیا‘ کی تھیم کے ساتھ اپوزیشن اتحاد انتخاب میں اترے گا۔ میڈیا کی مشترکہ پالیسی بھی بنائی جائے گی۔‘‘

چندریان-3: جب چاند پر ہو جائے گی رات اور پرگیان-وکرم بند کر دیں گے اپنا کام، تب فعال ہوگا ایک خاص ڈیوائس!

0
چندریان-3:-جب-چاند-پر-ہو-جائے-گی-رات-اور-پرگیان-وکرم-بند-کر-دیں-گے-اپنا-کام،-تب-فعال-ہوگا-ایک-خاص-ڈیوائس!

چندریان-3 کو چاند کی سطح پر لینڈ ہوئے 10 دن ہو چکے ہیں، یعنی اب اس کے پاس تحقیقی عمل انجام دینے کے لیے 4 (آج کا دن چھوڑ کر) دن بچے ہوئے ہیں۔ 6 ستمبر کو چاند پر رات ہو جائے گی، اور اس کے ساتھ ہی وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر غیر فعال ہو جائیں گے۔ یعنی یہ دونوں اپنا کام کرنا بند کر دیں گے۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ لینڈر ماڈیول میں ایک ڈیوائس ایسا ہے جو اپنا کام تب شروع کرے گا، جب چاند پر رات ہونے کے بعد پرگیان اور وکرم کام کرنا بند کر دیں گے۔

دراصل چندریان-3 کے ساتھ ایک پے لوڈ ’ایل آر اے‘ بھی گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق وکرم لینڈر کے ساتھ چاند کی سطح پر جو 4 پے لوڈ گئے ہیں، ان میں سے ایک ہے ’ایل آر اے‘ یعنی لیزر ریٹروریفلکٹر ایرے۔ اس پے لوڈ کو ناسا نے ڈیولپ کیا ہے۔ یہ پے لوڈ اپنا کام چاند پر رات ہونے کے بعد شروع کرے گا۔

ایسی خبریں پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں کہ وکرم لینڈر اپنے ساتھ مجموعی طور پر 4 پے لوڈ لے کر گیا تھا جس میں رمبھا، چیسٹے اور اِلسا (ان سبھی کو اِسرو نے ڈیولپ کیا ہے) لینڈنگ کے بعد سے ہی اپنا کام کر رہے ہیں۔ ایل آر اے فی الحال غیر فعال ہے۔ اس پے لوڈ کا اہم کام لینڈر کی لوکیشن کو ٹریک کرنا ہوگا جو آربیٹر سے رابطے مین رہے گا۔ یہ ایک طرح سے لیزر لائٹ ہے جو آربیٹر کے رابطے میں آنے کے بعد کام کرتی ہے اور اپنی لوکیشن کو بتاتی ہے۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ ناسا نے اس پے لوڈ کو اس طرح تیار کیا ہے کہ وہ وکرم اور پرگیان کے فعال رہنے تک کام نہیں کرے گا۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ ایل آر اے کسی بھی طرح وکرم اور پرگیان کے کام کو متاثر نہ کرے۔ ناسا کا یہ آر ایل اے طویل وقت تک کام کرے گا اور مستقبل میں آنے والے مشن کے لیے کارگر ثابت ہوگا۔ جیسا کہ اِسرو کے ذریعہ جانکاری دی گئی ہے، یہ پے لوڈ وکرم لینڈر کے بالکل اوپر موجود ہے۔ یعنی چندریان-3 کا سفر 6 ستمبر کے بعد بھی جاری رہنے والا ہے، بھلے ہی چاند پر شدید ٹھنڈ بھری رات نہ ہو جائے۔

سپریم کورٹ نے قتل کے معاملے میں سابق رکن پارلیمنٹ پربھو ناتھ سنگھ کو عمر قید کی سزا سنائی

0
سپریم-کورٹ-نے-قتل-کے-معاملے-میں-سابق-رکن-پارلیمنٹ-پربھو-ناتھ-سنگھ-کو-عمر-قید-کی-سزا-سنائی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سابق رکن پارلیمنٹ پربھوناتھ سنگھ کو 1995 میں ان کے خلاف بہار کے چھپرا میں ووٹ ڈالنے کے دوران ایک پولنگ اسٹیشن کے قریب دو لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے معاملے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے جمعہ کو عمر قید کی سزا سنائی۔

جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس وکرم ناتھ کی بنچ نے مرنے والوں کے لواحقین کو 10-10 لاکھ روپے اور زخمیوں کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا بھی حکم دیا۔ بنچ نے سزا سنانے کے بعد کہا کہ ہم نے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا۔

سزا یافتہ سابق ایم پی سنگھ کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ اے ایم سنگھوی اور آر بسنت کے دلائل سننے کے بعد بنچ نے کہا کہ ’’صرف ایک ہی آپشن عمر قید یا موت کی سزا ہے۔‘‘

سنگھ کے وکیل نے بنچ کے سامنے کہا کہ انہوں نے سزا کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے۔ اس پر بنچ نے کہا کہ ان کی درخواست پر قواعد کے مطابق مناسب وقت پر چیمبر میں غور کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر یہ فیصلہ دیا۔ متاثرہ کے خاندان کے رکن ہریندر رائے نے 2 دسمبر 2021 کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی، جس نے نچلی عدالت کے 24 اکتوبر 2008 کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے سنگھ اور چھ دیگر کو 18 سالہ راجندر رائے اور 47 سالہ داروغہ رائے کے قتل سے متعلق تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ آر جے ڈی لیڈر اور سابق ایم پی سنگھ پہلے سے ہی قتل کے ایک اور کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

انڈیا کا ممبئی اجلاس: چندریان 3 مشن کی کامیابی پر حزب اختلاف کی جماعتوں کی قرارداد، اسرو کو دی مبارکباد

0
انڈیا-کا-ممبئی-اجلاس:-چندریان-3-مشن-کی-کامیابی-پر-حزب-اختلاف-کی-جماعتوں-کی-قرارداد،-اسرو-کو-دی-مبارکباد

ممبئی: اپوزیشن اتحاد انڈیا کے ممبئی میں جاری دو روزہ اجلاس کے دوسرے اور آخری دن ہندوستان کی خلائی ایجنسی اسرو کے کامیاب چندریان3 مشن پر قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں اسرو کو اس کی شاندار کامیابیوں پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کے سائنسدانوں نے ملک کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔

اپوزیشن اتحاد کی جانب سے جاری کر دہ ایک بیان میں کہا گیا ’’ہم انڈیا کی تمام جماعتیں، اسرو کے مکمل کنبہ – موجودہ اور سابقہ دونوں کو ان کی شاندار کامیابیوں کے لیے مبارکباد پیش کرتے ہیں، جہوں نے ملک کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ اسرو کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کی تعمیر، توسیع اور مضبوط ہونے میں چھ دہائی لگی ہیں۔ چندریان3 نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا ’’اب پوری دنیا کل ہونے والی آدتیہ-ایل ون کی لانچنگ کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اسرو کی غیر معمولی کامیابیاں ہمارے سماج میں سائنسی خیال اور جذبہ کو مضبوط کریں گی اور ہمارے نوجوانوں کو سائنسی صنعت کے علاقہ میں بہترین تعاون دینے کی تحریک دیں گی۔‘‘

خیال رہے کہ انڈیا اپوزیشن جماعتوں کے ممبئی میں جاری اجلاس کا آج دوسرا اور آخری دن ہے۔ ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ اس اہم اجلاس کے دیگر ایجنڈے میں اتحاد کے لیے لوگو کا انتخاب اور ترجمان کا تقرر شامل ہے۔ اس پر بھی بات ہو سکتی ہے کہ اتحاد کے لیے کنویر مقر کیا جائے یا نہیں۔

ایل پی جی کے کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں 158 روپے کی تخفیف

0
ایل-پی-جی-کے-کمرشل-سلنڈر-کی-قیمتوں-میں-158-روپے-کی-تخفیف

نئی دہلی: آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جمعہ کو کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں 158 روپے کی کمی کی ہے۔ یہ قیمتیں آج (یکم ستمبر) سے لاگو ہوں گی۔ اس تبدیلی کے بعد اب دہلی میں 19 کلو کے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 1522 روپے ہوگی۔

اس ہفتے کے شروع میں حکومت نے ملک بھر کے تمام کنکشن رکھنے والوں کے لیے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں 200 روپے کی کمی کی تھی۔ تجارتی اور گھریلو دونوں ایل پی جی (مائع پٹرولیم گیس) سلنڈروں کے لیے ماہانہ نظرثانی ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو کی جاتی ہے۔

اس سے قبل اگست میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں 99.75 روپے کی کمی کی تھی۔