منگل, مارچ 31, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 148

دہلی میں آج جی-20 سربراہی اجلاس کی فل ڈریس ریہرسل، ان راستوں سے گریز کریں

0
دہلی-میں-آج-جی-20-سربراہی-اجلاس-کی-فل-ڈریس-ریہرسل،-ان-راستوں-سے-گریز-کریں

نئی دہلی: دہلی میں کچھ دنوں میں جی-20 سربراہی کانفرنس کا انعقاد ہونے جا رہا ہے، جس کے پیش نظر آج یعنی 2 ستمبر کو پولیس فل ڈریس ریہرسل کرے گی۔ دریں اثنا، قومی دارالحکومت کے مختلف حصوں سے قافلوں کو نئی دہلی ضلع کی طرف لے جایا جائے گا، جس کی وجہ سے ہفتہ کو ٹریفک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دہلی پولیس نے مسافروں کو ہفتہ اور اتوار کو میٹرو سروس استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ہفتہ کو ریہرسل کا وقت صبح 8.30 سے ​​دوپہر 12 بجے، شام 4.30 سے ​​شام 6 بجے اور شام 7 بجے سے 11 بجے تک ہوگا۔

یہ راستے کارکیڈ ریہرسل کے دوران بند رہیں گے:

سردار پٹیل مارگ – پنچ شیل مارگ 11 مورتی، سردار پٹیل مارگ – کوٹلیہ مارگ آر/اے تین مورتی، آر/اے جی کے پی – آر/اے گول میتھی، آر/اے ایم ایل – این پی آر اے مان سنگھ روڈ، سی ہیکساگون – متھرا روڈ، ذاکر حسین مارگ – سبرامنیم بھارتی مارگ، بھیرو روڈ – رنگ روڈ، آر/اے بریگیڈیئر ہوشیار سنگھ مارگ – آر/اے یشونت پلیس، آر/اے ستیہ مارگ/ شانتی پتھ – آر/اے کوٹیلیہ، آر/اے ونڈسر پلیس – جنپتھ-کرتویہ پتھ، بارہ کھمبا روڈ ریڈ لائٹ ٹالسٹائی مارگ- جن پتھ، آر/اے کلیرج کا وویکانند مارگ، لودھی فلائی اوور کے نیچے – موتی باغ فلائی اوور کے نیچے، پریس انکلیو روڈ – لال بہادر شاستری مارگ چراغ دہلی فلائی اوور کے نیچے، جوزف ٹیٹو مارگ – سیری فورٹ روڈ – شیرشاہ روڈ۔

کارکیڈ ریہرسل کے دوران مسافروں کو ان سڑکوں پر معمول سے زیادہ ٹریفک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہذا، اگر آپ ان راستوں پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو مزید وقت کے ساتھ گھر سے نکلیں۔

مسافر ان راستوں کو استعمال کر سکتے ہیں:

نارتھ ساؤتھ کوریڈور، رنگ روڈ – آشرم چوک – سرائے کالے خان – مہاتما گاندھی مارگ – آئی پی فلائی اوور – مہاتما گاندھی مارگ – آئی ایس بی ٹی کشمیری گیٹ – رنگ روڈ – مجنوں کا ٹیلا۔ ایمس چوک – رنگ روڈ – دھولا کوان – رنگ روڈ – برار اسکوائر – نارائنا فلائی اوور – راجوری گارڈن جنکشن – رنگ روڈ – پنجابی باغ جنکشن – رنگ روڈ – آزاد پور چوک۔

ایسٹ ویسٹ کوریڈور

سن ڈائل / ڈی این ڈی فلائی اوور سے – رنگ روڈ – آشرم چوک – مولچند انڈر پاس – ایمس چوک – رنگ روڈ – دھولا کنواں- رنگ روڈ – برار اسکوائر – نارائنا فلائی اوور۔ یودھسٹھر برج سے – بلیوارڈ روڈ – رانی جھانسی روڈ – نیو روہتک روڈ – پنجابی باغ چوک – رنگ روڈ۔

مسافروں کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن اور پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن جانے کے لیے اپنی ذاتی گاڑیاں، آٹو رکشہ، ٹیکسی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی لیکن اس کے لیے وقت سے پہلے گھر سے نکلیں۔ اس کے ساتھ ہی دہلی پولیس نے میٹرو سے سفر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ہوائی اڈے کے سفر کے لیے پرائیویٹ گاڑیوں، آٹو رکشہ اور ٹیکسیوں کے استعمال کی بھی اجازت ہے لیکن اس کے لیے قبل از وقت گھر سے نکلیں اور میٹرو کے ذریعے سفر کو ترجیح دیں۔ ریہرسل کے باعث سٹی بس سروسز بڑے پیمانے پر متاثر نہیں ہوں گی۔ تاہم، کچھ بسوں کو نئی دہلی کے علاقے میں مختلف سڑکوں پر ڈائیورٹ دیا جا سکتا ہے۔

انڈیا کے ممبئی اجلاس کے دوران کیا فیصلے لیے گئے، کتنی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور ان میں کون کون شامل ہیں؟

0
انڈیا-کے-ممبئی-اجلاس-کے-دوران-کیا-فیصلے-لیے-گئے،-کتنی-کمیٹیاں-تشکیل-دی-گئیں-اور-ان-میں-کون-کون-شامل-ہیں؟

ممبئی: مودی حکومت کے خلاف بننے والے اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ کا تیسرا اجلاس 31 اگست اور یکم اگست کو ممبئی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں 28 جماعتوں کے 60 سے زائد رہنماؤں نے شرکت کی۔ دریں اثنا، 13 رہنماؤں پر مشتمل کوآرڈنیشن کمیٹی تشکیل دی گئی۔ تاہم کنوینر کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے کئی رہنماؤں نے کہا کہ ‘انڈیا’ اتحاد 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں مرکز میں ‘متکبر اور بدعنوان’ بی جے پی کی قیادت والی حکومت کو بے دخل کر دے گا۔

کون سی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں؟

انڈیا کے اجلاس میں کوآرڈنیشن کمیٹی سمیت پانچ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ کوآرڈنیشن کمیٹی انتخابی حکمت عملی بنانے پر کام کرے گی۔ اس کے علاوہ پبلسٹی، میڈیا، سوشل میڈیا، ریسرچ وغیرہ کے حوالے سے بھی مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ تمام کمیٹیوں میں اہم جماعتوں کے قائدین کو شامل کیا گیا ہے۔

کانگریس، عام آدمی پارٹی، شیو سینا-یو بی ٹی، نیشنل کانفرنس، جے ڈی یو، آر جے ڈی، این سی پی، ڈی ایم کے، پی ڈی پی، ایس پی، ترنمول کانگریس، جے ایم ایم کے قائدین کو 13 رکنی کوآرڈنیشن کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم اگر اس میں سی پی آئی ایم کے لیڈر کو بھی شامل کیا جاتا ہے تو اس کمیٹی کے 14 ارکان ہوں گے۔

اس کمیٹی میں کے سی وینو گوپال، راگھو چڈھا، سنجے راوت، عمر عبداللہ، لالن سنگھ، تیجسوی یادو، شرد پوار، ایم کے اسٹالن، محبوبہ مفتی، جاوید علی خان، ابھیشیک بنرجی، ہیمنت سورین، ڈی راجہ شامل ہیں۔

کیمپین کمیٹی

گرودیپ سنگھ سپل، کانگریس، سنجے جھا، جے ڈی یو، انیل دیسائی، شیو سینا (یو بی ٹی)، سنجے یادو، آر جے ڈی، پی سی چاکو، این سی پی، چمپائی سورین، جے ایم ایم، کرنمے نندا، ایس پی، سنجے سنگھ، عام آدمی پارٹی، ارون کمار، سی پی آئی (ایم)، بنوئے وسام، سی پی آئی، جسٹس (ر) حسنین مسعودی، نیشنل کانفرنس، شاہد صدیقی، راشٹریہ لوک دل، این کے پریما چندرن، ریوولیوشنری سوشلسٹ پارٹی، جی دیوراجن، آل انڈیا فارورڈ بلاک، روی رائے، سی پی آئی (ایم ایل)، تروموالن، ودوتھلائی چروتھائیگل کچی، کے ایم قادر محی الدین، آئی یو ایم ایل، جوز کے منی، کے سی (ایم)، ٹی ایم سی کے لیڈر کا نام بعد میں نام دیا جائے گا۔

سوشل میڈیا کے لیے ورکنگ گروپ

سپریہ شرینیت، کانگریس، سمیت شرما، آر جے ڈی، آشیش یادو، ایس پی، راجیو نگم، ایس پی، راگھو چڈھا، عام آدمی پارٹی، ایوندانی، جے ایم ایم، التجا محبوبہ، پی ڈی پی، پرانجل، سی پی ایم، بھال چندرن کانگو، سی پی آئی، افرا جا، نیشنل کانفرنس، وی ارون کمار، سی پی آئی (ایم ایل)، ٹی ایم سی کے لیڈر کا نام نہیں دیا گیا۔

ورکنگ گروپ برائے میڈیا

جے رام رمیش، کانگریس، منوج جھا، آر جے ڈی، اروند ساونت، شیو سینا (یو بی ٹی)، جتیندر اوہاڑ، این سی پی، راگھو چڈھا، عام آدمی پارٹی، راجیو رنجن، جے ڈی یو، پرانجل، سی پی ایم، آشیش یادو، ایس پی، سپریو بھٹاچاریہ، جے ایم ایم، آلوک کمار، جے ایم ایم، منیش کمار، جے ڈی یو، راجیو نگم، ایس پی، بھال چندرن کانگو، سی پی آئی، تنویر صادق، این سی، پرشانت کنوجیا، نرین چٹرجی، اے آئی ایف بی، سوچیتا ڈے، سی پی آئی (ایم ایل)، موہت بھان، پی ڈی پی، ٹی ایم سی (نام نہیں دیا گیا)۔

تحقیق کے لیے ورکنگ گروپ

امیتابھ دوبے، کانگریس، سبودھ مہتا، آر جے ڈی، پرینکا چترویدی، شیو سینا (یو بی ٹی)، وندنا چوان، این سی پی، کے سی تیاگی، جے ڈی یو، سودیویہ کمار سونو، جے ایم ایم، جاسمین شاہ، عام آدمی پارٹی، آلوک رنجن، ایس پی، عمران نبی ڈار، نیشنل کانفرنس، آدتیہ، پی ڈی پی، ٹی ایم سی (نام نہیں دیا گیا)

قائدین نے کیا کہا؟

ممبئی میٹنگ ختم ہونے کے بعد کانگریس لیڈر سنجے نروپم نے کہا، ‘آئندہ انتخابات کے تحت سیٹ شیئرنگ کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔ یہ کمیٹی تمام سیٹوں پر جیت اور ہار کے جائزے کا مطالعہ کرے گی جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ کون سی پارٹی کس جگہ مضبوط ہے اور جیت سکتی ہے۔

جے ڈی یو لیڈر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہا ’’آپ سب جانتے ہیں کہ آج تیسری میٹنگ ہوئی ہے۔ آپ کو بتایا گیا ہے کہ کن چیزوں پر اتفاق ہوا ہے۔ اب ہم مختلف جگہوں پر جائیں گے اور لوگوں سے خطاب کریں گے۔ پارٹی کی پکڑ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا فارمولا تیار کیا جائے گا جس میں تمام جماعتوں کو ہر طرح سے خوش رکھا جا سکے۔ ہم انڈیا کی اگلی میٹنگ جلد از جلد منعقد کرنے کے لیے بھی بے قرار ہیں۔‘‘

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ اگر لوک سبھا انتخابات تیزی سے کرائے جا رہے ہیں تو ہمیں بھی جلدی کرنی چاہیے۔ سیٹ شیئرنگ 30 ستمبر تک کر لی جائے۔ اس دوران بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ذات کے سروے کا مسئلہ اٹھانا چاہتے تھے لیکن ممتا بنرجی نے کہا کہ اس معاملے کو ابھی اٹھانا درست نہیں ہے۔ تمام جماعتیں پہلے اپنی پارٹی کے لیڈروں سے بات کریں۔

مہاراشٹر: مراٹھا ریزرویشن تحریک کے دوران تشدد، بسوں میں توڑ پھوڑ، 42 پولیس اہلکار زخمی

0
مہاراشٹر:-مراٹھا-ریزرویشن-تحریک-کے-دوران-تشدد،-بسوں-میں-توڑ-پھوڑ،-42-پولیس-اہلکار-زخمی

ممبئی: مہاراشٹر کے جالنا ضلع میں مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے پر جاری احتجاج جمعہ کو پرتشدد ہو گیا جس میں پولیس افسران سمیت درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے ضلع کی امباڈ تحصیل میں دھولے-سولاپور روڈ پر بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔

پولیس کے لاٹھی چارج کے بعد مظاہرین مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے دھولے-جالنا ہائی وے پر کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور بسوں کو آگ لگا دی۔ تشدد کے دوران 42 پولیس اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے آج بروز ہفتہ (2 ستمبر) نندوربار، بیڈ اور جالنا میں بند کی کال دی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے امن کی اپیل کی اور تشدد کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ خیال رہے کہ مراٹھا ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرین منگل سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔

مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ اور این سی پی (شرد پوار) دھڑے کے لیڈر انیل دیشمکھ نے اس واقعہ پر غم کا اظہار کیا ہے۔ دیشمکھ نے اے این آئی سے کہا ’’یہ افسوسناک ہے کہ جالنا میں مراٹھا ریزرویشن کے لیے پرامن مارچ پر غیر انسانی طور پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ میں اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہوں۔‘‘

رپورٹ کے مطابق، ایک مقامی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ریاستی حکومت مراٹھا برادری کو ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی کو بھی تشدد کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔ کانگریس لیڈر اشوک چوہان نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت مراٹھا ریزرویشن پر اپنا موقف واضح کرے۔ سابق وزیر اعلیٰ چوہان نے کہا کہ انتروالی سارتھی گاؤں میں پولیس نے جو لاٹھی چارج کیا ہے وہ ناقابل قبول ہے۔

ای ڈی نے جیٹ ایئرویز کے بانی نریش گوئل کو گرفتار کیا

0
ای-ڈی-نے-جیٹ-ایئرویز-کے-بانی-نریش-گوئل-کو-گرفتار-کیا

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جیٹ ایئرویز کے بانی نریش گوئل کو بینک فراڈ سے منسلک منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کینرا بینک سے 538 کروڑ کی مبینہ دھوکہ دہی کے معاملے میں ایجنسی نے جمعہ یعنی1 ستمبر کو ان سے کافی دیر تک پوچھ گچھ کی اور پھر انہیں گرفتار کر لیا۔ 74 سالہ گوئل کو ہفتہ کو ممبئی کی پی ایم ایل اےعدالت میں پیش کیا جائے گا۔ جہاں ای ڈی تحویل کا مطالبہ کرے گی۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، منی لانڈرنگ کا معاملہ کینرا بینک میں 538 کروڑ روپے کے مبینہ دھوکہ دہی کے سلسلے میں جیٹ ایئرویز، گوئل، ان کی بیوی انیتا اور کمپنی کے کچھ سابق عہدیداروں کے خلاف سی بی آئی ایف آئی آر سے ہوا ہے۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق ایف آئی آر بینک کی شکایت پر درج کی گئی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے جیٹ ایئرویز (انڈیا) لمیٹڈ (جے آئی ایل) کو کریڈٹ کی حد اور 848.86 کروڑ روپے کا قرض منظور کیا تھا، جس میں 538.62 کروڑ روپے بقایا ہیں۔ سی بی آئی نے کہا تھا کہ اکاؤنٹ کو 29 جولائی 2021 کو دھوکہ دہی قرار دیا گیا تھا۔

بینک نے الزام لگایا کہ جے آئی ایل کے فارنسک آڈٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ اس نے متعلقہ کمپنیوں کو کل کمیشن کے اخراجات میں سے 1,410.41 کروڑ روپے ادا کیے، اس طرح جے آئی ایل سے فنڈز ضائع ہوئے۔

جے آئی ایل کے ایگریمنٹ کے مطابق، یہ پایا گیا کہ جنرل سیلنگ ایجنٹس (جی ایس اے) کی لاگت جی ایس اے نے برداشت کی تھی نہ کہ جے آئی ایل نے۔ تاہم، یہ دیکھا گیا کہ جےآئی ایل نے 403.27 کروڑ روپے کے مختلف اخراجات ادا کیے ہیں جو جی ایس اےکے مطابق نہیں ہیں۔

یہ شکایت اب مبینہ طور پر سی بی آئی کی ایف آئی آر کا حصہ ہے۔ اس نے مزید کہا کہ گوئل خاندان کے دیگر ذاتی اخراجات جیسے ملازمین کی تنخواہیں، فون بل اور گاڑی کے اخراجات جے آئی ایل نے ادا کیے تھے۔

دیگر الزامات کے علاوہ، فارنسک آڈٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جیٹ لائٹ (انڈیا) لمیٹڈ (جے ایل ایل) کے ذریعے پیشگی ادائیگیوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے فنڈز کو چوری کیا گیا اور اس کے بعد پروویژننگ اور رائٹ آف کیا گیا۔ جے آئی ایل نے فنڈز کو قرضوں، ایڈوانسز اور ذیلی کمپنی جے ایل ایل کو توسیعی سرمایہ کاری کی شکل میں استعمال کیا۔

مودی حکومت کی نئی پہل: ‘ایک ملک، ایک انتخاب’ زیرغور

0
مودی-حکومت-کی-نئی-پہل:-‘ایک-ملک،-ایک-انتخاب’-زیرغور

مودی حکومت نے ایک روز قبل ہی 18سے 22 ستمبر کے درمیان پارلیمان کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کے اعلان کرکے سب کو چونکا دیا تھا۔ اب ‘ایک ملک، ایک انتخاب’ کے امکانات تلاش کرنے کے لیے کمیٹی کے قیام کا اعلان کے بعد طرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ آئندہ مہینوں میں ہونے والے کئی اہم ریاستی انتخابات کے مد نظر مودی حکومت ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے اس خصوصی اجلاس کے دوران کچھ انتہائی اہم بل بھی منظور کراسکتی ہے۔

‘ایک ملک، ایک انتخاب’ سے مراد پورے ملک میں لوک سبھا (پارلیمنٹ) اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانا ہے۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی مواقع پر اس موضوع پر بات کی ہے۔ یہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی کے انتخابی منشور کا حصہ بھی تھا۔

مودی نے 2016 میں بیک وقت انتخابات کی وکالت کی تھی اور 2019 میں لوک سبھا انتخابات کے فوراً بعد انہوں نے اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے آل پارٹی میٹنگ بھی بلائی تھی۔ حالانکہ کئی اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کو نظر انداز کر دیا تھا۔ وزیر اعظم مودی کی دلیل ہے کہ ہر چند ماہ بعد انتخابات کا انعقاد ملکی وسائل پر بوجھ ڈالتا ہے اور گورننس میں خلل کا سبب بنتا ہے۔

سابق بھارتی صدر رام ناتھ کووند کو اس پر غور و خوض کرنے والی کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنا اس سلسلے میں مودی حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ کووند نے بھی ماضی میں مودی کے اس نظریے کی تائید کی تھی۔ انہوں نے سن 2017 میں بھارتی صدر بننے کے بعد اس خیال کی حمایت کی تھی۔

مودی حکومت اپنی دوسری میعاد کے اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا خیال ہے کہ اس معاملے کو مزید طول نہیں دیا جانا چاہئے اور چونکہ اس موضوع پر برسوں سے بحث ہو رہی ہے اس لیے اب اس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فیصلہ کن طورپر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ "ایک ملک، ایک انتخاب” کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہو گی اور پھر اسے ریاستی اسمبلیوں سے بھی منظور کرانا ہوگا۔

حالانکہ یہ کوئی نیا تصور نہیں ہے اور 1952، 1957، 1962 اور 1967میں لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات ایک ساتھ ہوئے تھے۔ لیکن 1968-69 کے بعد بعض ریاستی اسمبیلوں کو مقررہ وقت سے پہلے تحلیل کردیے جانے کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا۔

کانگریس کے صدر ملک ارجن کھڑگے سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا، "انہیں یہ بل لانے دیجئے، لڑائی جاری رہے گی۔” کانگریس کے ایک دیگر سینیئر رہنما ادھیر رنجن چودھری کا کہنا تھا، "ایک ملک، ایک انتخاب کے سلسلے میں مودی حکومت کی نیت صاف نہیں ہے، ابھی اس کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ "

بائیں بازو کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ کا کہنا تھا کہ دراصل ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کو ایک قوم اور ایک پارٹی کا جنو ن ہے اور اپوزیشن کے متحد ہونے کے بعد سے وہ کافی پریشان ہے۔

ڈی راجہ کا کہنا تھا، "ایک ملک، ایک الیکشن کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ اس پر کئی سالوں سے بحث ہو رہی ہے۔ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، اسے’ ایک قوم، ایک ثقافت’، ‘ایک قوم، ایک مذہب’، ‘ایک قوم، ایک زبان’ کا جنون سوارہے۔’ ایک ملک، ایک ٹیکس؛ اب ایک ملک، ایک انتخاب؛ پھر ایک قوم، ایک پارٹی؛ ایک قوم، ایک لیڈر۔ یہی وہ جنون ہے جس میں بی جے پی مبتلا ہے۔”

مشن سورج: آدتیہ ایل 1 کی لانچنگ میں اب چند گھنٹے باقی، سفر میں ایل پی ایس سی سسٹم نبھائے گا اہم کردار

0
مشن-سورج:-آدتیہ-ایل-1-کی-لانچنگ-میں-اب-چند-گھنٹے-باقی،-سفر-میں-ایل-پی-ایس-سی-سسٹم-نبھائے-گا-اہم-کردار

ایک طرف چندریان-3 چاند کی سطح پر اپنا نصف سے زیادہ سفر ختم کر چکا ہے اور اس دوران کئی طرح کی اہم جانکاریاں بھی بھیجی ہیں، اور دوسری طرف ’آدتیہ ایل 1‘ اپنے سفر کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اس کی لانچنگ میں کچھ ہی گھنٹے بچے ہیں۔ ہفتہ یعنی 2 ستمبر کی صبح تقریباً 11.50 بجے اِسرو کا مشن سورج لانچ کیا جائے گا۔ لانچنگ کی تقریباً سبھی تیاریاں پوری ہو چکی ہیں۔ جب ملک کا پہلا سورج مشن اپنے قابل اعتبار پی ایس ایل وی پر سوار ہو کر سورج کی طرف اپنے سفر پر شری ہری کوٹا سے روانہ ہوگا تو اِسرو کی ایک اور شاخ کے ذریعہ تیار لیکوئڈ پروپلشن سسٹم آدتیہ ایل 1 مشن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار نبھائے گا۔ لیکوئڈ اپوجی موٹر انجن کا استعمال مدار میں سیٹلائٹس وغیرہ کو نصب کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

دراصل لیکوئڈ پروپلشن سسٹم سنٹر (ایل پی ایس سی) اِسرو کے لانچنگ طیارہ کے لیے لیکوئڈ پروپلشن مراحل کے ڈیزائن، ڈیولپمنٹ اور ریلائزیشن کا سنٹر ہے۔ لیکوئڈ کنٹرول والو، ٹرانسڈیوسر، ویکیوم کنڈیشنز کے لیے پروپیلنٹ مینجمنٹ سسٹم اور لیکوئڈ پروپلشن سسٹم کے دیگر اہم اجزاء کا ڈیولپمنٹ بھی اس سنٹر کے دائرے میں ہے۔ ایل پی ایس سی کی سرگرمیاں اور سہولیات اس کے دو احاطوں یعنی ایل پی ایس سی، ولیامالا، تروونت پورم اور ایل پی ایس سی، بنگلورو، کرناٹک میں ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ایل پی ایس سی کے ذریعہ تیار لیکوئڈ اپوجی موٹر ہندوستان کی اہم خلائی حصولیابیوں میں سیٹلائٹ/خلائی طیارہ پروپیلنٹ اہم رہا ہے۔ اس نے تین چندریان اور 2014 میں مریخ مشن میں اہم کردار نبھایا تھا۔ ایل پی ایس سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اے کے اشرف نے بتایا کہ اب ہم آدتیہ ایل 1 مشن- آدتیہ خلائی طیارہ میں بھی ایک بڑا کردار نبھاتے ہیں۔ جس میں ایل اے ایم (لیکوئڈ اپوجی موٹر) نامی ایک بہت ہی دلچسپ، کثیر جہتی تھرسٹر ہے، جو 440 نیوٹن کا تھرسٹ فراہم کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایل اے ایم آدتیہ خلائی طیارہ کو زمین سے تقریباً 1.5 ملین کلومیٹر دور واقع لینگریجین مدار میں نصب کرنے میں معاون ہوگا۔

دہلی کانگریس کے نومنتخب صدر اروندر سنگھ لولی سے ملاقات کرنے والوں کا لگا تانتا

0
دہلی-کانگریس-کے-نومنتخب-صدر-اروندر-سنگھ-لولی-سے-ملاقات-کرنے-والوں-کا-لگا-تانتا

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے نو منتخب صدر اروندر سنگھ لولی 14 ستمبر 2023 کو صبح 11 بجے پارٹی دفتر میں اپنا چارج سنبھالیں گے۔ لولی کو ذمہ داری ملنے کے بعد سے دہلی کانگریس کے لیڈران و کارکنان میں جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ لوگ لولی سے ملاقات کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں اور ان کی رہائش گاہ پر لوگوں کی آمد کا ایک دراز سلسلہ دکھائی دے رہا ہے۔

کانگریس کارکنان اروندر سنگھ لولی کا پرتپاک استقبال کرنے کیلئے پوری طرح سے بیتاب نظر آرہے ہیں، لیکن پارٹی دفتر کی جانب سے جاری کردہ ریلیز میں مودبانہ اپیل کی گئی ہے کہ نئی دہلی کے مخصوص علاقوں میں دہلی کانگریس کارکنان و لیڈران G-20 سمٹ کے پیش نظر کوئی بھی ہورڈنگ یا پوسٹر نہ لگائیں۔ دہلی کو صاف ستھرا رکھنا دہلی کے ہر ایک فرد کی ذمہ اری ہے اس میں سبھی کو حصہ لینا چاہئے۔ کانگریس پارٹی اس پر عمل پیرا نظر آ رہی ہے۔

کانگریس کارکنان اور دہلی کی بااثر شخصیات کل دوپہر سے ہی اروندر سنگھ لولی سے ملنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ ان کی تقرری کو لے کر دہلی کے تمام طبقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہر طرف سے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے G-20 کے پیش نظر 14 ستمبر کا دن مقرر کیا ہے، حالانکہ ریاستی دفتر سے تمام سیاسی سرگرمیاں خوش اسلوبی سے چل رہی ہیں اور دہلی کے تمام سینئر لیڈران اور کارکنان پارٹی دفتر پہنچ کر کانگریس کو مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے قدم اٹھا رہے ہیں۔

14 ستمبر کو ریاستی دفتر میں منعقد ہونے والے پروگرام میں ہزاروں لوگ جمع ہوں گے، جس کے لیے نکڑ سبھائیں شروع ہو چکی ہیں اور اس میں دہلی کے تمام سینئر کانگریسی لیڈران و کارکنان اور عام شہری موجود رہیں گے۔ لولی کو مبارکباد دینے کیلئے نائب صدر علی مہدی، شعیب دانش، حاجی محمد خوشنود، کونسلر حاجی ظریف، کونسلر حاجی سمیر منصوری، جاوید چودھری وغیرہ بھی پہنچے۔

’دنیا کا سپر پاور ہندوستان کو ’کانگریس مُکت‘ نہیں کر پایا، تو مودی جی کیسے کر پائیں گے‘، پارٹی کارکنان سے راہل گاندھی کا خطاب

0
’دنیا-کا-سپر-پاور-ہندوستان-کو-’کانگریس-مُکت‘-نہیں-کر-پایا،-تو-مودی-جی-کیسے-کر-پائیں-گے‘،-پارٹی-کارکنان-سے-راہل-گاندھی-کا-خطاب

اِنڈیا اتحاد کی میٹنگ ختم ہونے کے بعد کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ممبئی کے تلک بھون میں کانگریس کارکنان سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انھوں نے مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب مودی جی برسراقتدار ہوئے تھے تو کہا تھا ’کانگریس مُکت بھارت‘ بنائیں گے۔ ایک وقت جب دنیا کا جو سپر پاور انگلینڈ تھا، تو وہ ’کانگریس مُکت بھارت‘ نہیں کر پایا، پھر مودی جی کیسے کر پائیں گے۔ الٹا کانگریس نے ہی اُس (انگلینڈ) کو ملک سے باہر بھگا دیا۔ اور مودی جی سوچتے ہیں کہ ان کا اور اڈانی جی کا رشتہ کانگریس کو مٹا دے گا۔ وہ سوچتے ہیں کہ اڈانی جی کا پیسہ کانگریس پارٹی کو مٹا سکتا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے مودی-اڈانی رشتہ پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نے دیکھا ہوگا کل دنیا کے دو فنانشیل نیوز پیپر نے رپورٹ لکھی۔ اس میں لکھا تھا کہ ایک بلین ڈالر ہندوستان سے الگ الگ ممالک میں گیا، پھر وہاں سے واپس آیا۔ اخبار میں لکھا تھا کہ مودی جی کا اڈانی جی کے ساتھ بہت قریبی رشتہ ہے، پرانا رشتہ ہے۔ اب یہ بات پورا ملک سمجھ رہا ہے کہ پیسہ ادھر سے جاتا ہے، اڈانی جی کی شیئر پرائس بڑھائی جاتی ہے، پیسہ واپس آتا ہے، اور اسی پیسے سے اڈانی جی ہندوستان کا انفراسٹرکچر یعنی ایئرپورٹ اور بندرگاہ وغیرہ خریدتے ہیں۔‘‘

اس موقع پر راہل گاندھی نے مہاراشٹر کانگریس کو ایک مضبوط تنظیم قرار دیا اور کہا کہ کئی پارٹیاں ریاست میں ٹوٹ گئیں لیکن کانگریس نہیں ٹوٹی کیونکہ یہ اصول اور نظریات والی پارٹی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’نظریاتی پارٹی اور دیگر پارٹیوں میں کیا فرق ہوتا ہے میں آپ کو بتاتا ہوں۔ اگر میں نے آپ لوگوں کے ہاتھ سے خون نکالا اور اس کا ٹیسٹ کیا تو سبھی کا ڈی این اے ایک ہی ملے گا۔ یہ سبھی کسی سے ڈرتے نہیں ہیں، گھبراتے نہیں ہیں۔ یہ کانگریس پارٹی کے کارکنان ہیں۔ آپ چاہو یا نہ چاہو، یہ آپ کا خون ہے۔ یہ ببر شیر کی پارٹی ہے، اس میں شیرنیاں بھی ہیں… اور یہ کسی سے ڈرتے نہیں ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’چاہے میڈیا کچھ بھی کہہ لے، کانگریس پارٹی الیکشن جیتنے والی ہے۔ ہماری پارٹی کو ہمارے کارکنان فتحیاب بناتے ہیں۔ سینئر لیڈران کی اہمیت ہے، لیکن کارکنان کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اگر پارٹی میں کوئی اصلاح کی ضرورت ہے تو وہ یہ ہے کہ کارکنان کو ریوارڈ دیا جانا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمارے سرکردہ لیڈران کا ہمارے کارکنان سے رشتہ بہت مختلف ہے۔ ہمارا آپس میں محبت کا رشتہ ہے۔ ہم نفرت کے ساتھ، تشدد کے ساتھ کام نہیں کرتے۔ ہم اپنے دشمن کے گھر میں جا کر، نفرت کے بازار میں جا کر ’محبت کی دکان‘ کھولتے ہیں، یہی ہمارا طریقہ ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کا معاملہ دوسرا ہے۔ ہم بی جے پی اور آر ایس ایس کی طرح نہیں سوچتے۔‘‘

راہل گاندھی سے قبل کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی کانگریس کارکنان کے مجمع کو خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت ختم کی گئی، ان کے خلاف کیس چلایا گیا تاکہ وہ ڈر جائیں اور مودی جی کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں۔ لیکن راہل گاندھی جی نے ان کو سبق سکھایا، پھر سے وہ پارلیمنٹ میں پہنچے، اپنی بات رکھی اور عوام کے ایشوز اٹھائے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ ’’حریفوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ اتنا ستانے اور ظلم کرنے کے باوجود بھی راہل جی پارلیمنٹ میں آ کر بڑے اطمینان اور صبر کے ساتھ اپنی بات کہہ رہے ہیں۔ دراصل راہل گاندھی جی نے دو سال پہلے ہی ایک منتر دیا تھا ’ڈرو مت‘۔ اگر آپ ڈریں گے تو مریں گے۔ اس لیے ہم کو ڈرنا نہیں ہے، ہم کو لڑنا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔ ہمیں بھارت کو جوڑنا ہے اور اِنڈیا کو ایک بار پھر پاور میں لانا ہے۔ ہمیں غریبوں کے ایشوز حل کرنے ہیں اور نوجوانوں و بے روزگاروں کے مسائل کا بھی حل تلاش کرنا ہے۔‘‘ کھڑگے نے کانگریس کارکنان کو آپس میں نہ لڑنے کی بھی تلقین کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپ آپس میں لڑتے رہیں گے تو پھر آپ جیت نہیں پائیں گے۔ آپ ایک ہو جاؤ، مہاراشٹر میں کانگریس آگے ہے اور متحد رہے تو جیت یقینی ہے۔‘‘

منی پور: مشہور باکسر میری کوم نے وزیر داخلہ امت شاہ کو لکھا خط، ’کوم‘ گاؤں کی حفاظت کے لیے مداخلت کا مطالبہ

0
منی-پور:-مشہور-باکسر-میری-کوم-نے-وزیر-داخلہ-امت-شاہ-کو-لکھا-خط،-’کوم‘-گاؤں-کی-حفاظت-کے-لیے-مداخلت-کا-مطالبہ

منی پور سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ باکسر ایم سی میری کوم نے منی پور میں نسلی تشدد کی حالت پر اظہارِ فکر کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں میری کوم نے امت شاہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ یقینی کیا جا سکے کہ سیکورٹی فورسز دونوں گروپوں (کوکی اور میتئی) کو منی پور کے ’کوم‘ گاؤں میں دراندازی سے روکیں۔

یہ خط میری کوم نے جمرات کو لکھا جس میں امت شاہ سے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ کوم طبقہ منی پور کا ایک سودیشی قبیلہ ہے اور اقلیتوں میں سب سے چھوٹے قبیلے میں سے ایک ہے۔ میری کوم نے خط میں یہ بھی لکھا کہ ’’ہم سبھی دونوں حریف طبقات کے درمیان بکھرے ہوئے ہیں… دونوں طرف سے میرے طبقہ کے خلاف ہمیشہ قیاس آرائیاں اور اندیشے ہوتے ہیں، اور سبھی لوگ مسائل کے درمیان میں پھنسے ہوئے ہیں… کمزور داخلی انتظامیہ اور اقلیتی قبائل کے درمیان طبقہ کے شکل میں چھوٹے سائز کے سبب ہم اپنے حلقہ اختیار میں دراندازی کرنے والی کسی بھی طاقت کے خلاف کھڑے ہونے میں اہل نہیں ہیں۔

پدم وبھوشن سے نوازی جا چکی میری کوم کا کہنا ہے کہ ’’ہم دونوں نبرد آزما گروپوں کو کوم گاؤں میں دراندازی سے روکنے کے لیے سیکورٹی فورسز کی مدد چاہتے ہیں۔‘‘ سابق راجیہ سبھا رکن میری کوم نے ہندوستانی فوج، نیم فوجی دستہ اور ریاستی فورسز کے سبھی تعینات اراکین سے گزارش بھی کی کہ وہ کوم آبادی کی سیکورٹی کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں غیر جانبدار رہیں اور ریاست میں امن و معمول والے حالات بنائے رکھنے میں کامیاب ہوں۔ ساتھ ہی میری کوم نے منی پور کے سبھی لوگوں، خصوصاً میتئی و کوکی طبقہ سے ایک ساتھ آنے کی گزارش کی۔ انھوں نے کہا کہ ہم سبھی کو ایک دوسرے کے ساتھ کی ضرورت ہے، اس لیے آئیے، اپنے اختلافات اور زخموں کو ایک طرف رکھ دیں۔

جی ایس ٹی ریونیو میں 11 فیصد کا اضافہ، اگست میں 1.6 لاکھ کروڑ روپے کا کلیکشن

0
جی-ایس-ٹی-ریونیو-میں-11-فیصد-کا-اضافہ،-اگست-میں-1.6-لاکھ-کروڑ-روپے-کا-کلیکشن

ملک کے جی ایس ٹی ریونیو میں سالانہ بنیاد پر مضبوط اضافہ درج کیا گیا ہے۔ موصولہ خبر کے مطابق اگست ماہ میں جی ایس ٹی کلیکشن تقریباً 1.6 لاکھ کروڑ روپے رہا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہے۔ ریونیو سکریٹری سنجے ملہوترا نے جمعہ کو سالانہ جی ایس ٹی کلیکشن کی جانکاری دی جو مرکزی حکومت کے لیے خوش آئند ہے۔ جہاں تک گزشتہ سال اگست ماہ میں جی ایس ٹی کلیکشن کی بات ہے تو اُس وقت تقریباً 1.44 لاکھ کروڑ روپے کا کلیکشن ہوا تھا۔

وزارت مالیات نے یکم ستمبر کو اگست سے متعلق جی ایس ٹی کلیکشن کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس مہینے میں مجموعی جی ایس ٹی ریونیو 159069 کروڑ روپے رہا۔ اس میں سنٹرل جی ایس ٹی ریونیو 28328 کروڑ روپے، اسٹیٹ جی ایس ٹی ریونیو 35794 کروڑ روپے اور انٹگریٹیڈ جی ایس ٹی ریونیو 83251 کروڑ روپے رہا۔ اس دوران ذیلی ٹیکس کی شکل میں 11695 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔ وزارت مالیات نے کہا کہ اس ماہ میں سامانوں کی درآمد سے حاصل ریونیو میں تین فیصد اور گھریلو لین دین سے حاصل ریونیو میں سالانہ بنیاد پر 14 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔

ریونیو سکریٹری سنجے ملہوترا نے بتایا کہ اپریل-جون سہ ماہی میں ٹیکس شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہونے کے باوجود جی ایس ٹی کلیکشن موجودہ پرائس پر جی ڈی پی کے شرح اضافہ سے زیادہ رہا۔ ملہوترا نے کہا کہ ’’بہتر ٹیکس عمل درآمد اور ٹیکس کلیکشن صلاحیت میں بہتری ہونے سے ایسا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس چوری اور ٹیکس دینداری سے بچنے کے معاملوں میں بھی کمی آئی ہے۔ کے پی ایم جی کے شراکت دار اور اِن ڈائریکٹ ٹیکس چیف ابھشیک جین نے کہا کہ تہوار قریب آنے سے جی ایس ٹی کلیکشن آنے والے مہینوں میں مزید بہتر ہونے کی امید ہے۔‘‘

سنجے ملہوترا نے مزید جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ جون سہ ماہی میں جی ڈی پی شرح اضافہ 7.8 فیصد تھی اور علامتی طور سے اس میں 8 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ جون سہ ماہی کے دوران جی ایس ٹی ریونیو میں 11 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ٹیکس-جی ڈی پی تناسب 1.33 سے زیادہ ہے۔ انھوں مزید کہا کہ جی ایس ٹی سے شہریوں، گاہکوں اور سرکاروں کو فائدہ ہوا ہے۔ ریونیو ہر مہینے بڑھ رہا ہے اور مرکز و ریاست یہ یقینی کرنے کے لیے ایک ساتھ آئے ہیں کہ جی ایس ٹی کے تحت ٹیکس شرح کم ہوں۔