منگل, مارچ 31, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 146

انہیں بھی ریزرویشن ملنا چاہئے جنہیں آج تک نہیں ملا، 50 فیصد کی حد میں اضافہ کرے حکومت: اسدالدین اویسی

0
انہیں-بھی-ریزرویشن-ملنا-چاہئے-جنہیں-آج-تک-نہیں-ملا،-50-فیصد-کی-حد-میں-اضافہ-کرے-حکومت:-اسدالدین-اویسی

نئی دہلی: او بی سی کو ذیلی زمروں میں تقسیم کرنے کے لیے روہنی کمیشن کی رپورٹ میں 2600 او بی سی ذاتوں کی فہرست دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ او بی سی کوٹہ کیسے مختص کیا جانا چاہیے۔ اس معاملہ پر اسد الدین اویسی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریزرویشن کی ان ذاتوں تک توسیع کی جانی چاہئے جنہیں اس کا کبھی فائدہ نہیں ملا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ’’ہندوستان کی 50 سے زیادہ آبادی محض 27 فیصد (ریزرویشن) کے لئے مقابلہ کرنے پر مجبور ہے۔ نریندر مودی حکومت کو 50 فیصد (ریزرویشن) کی حد میں اضافہ کرنا چاہئے اور ریزرویشن کی ان لوگوں تک توسیع کی جانی چاہئے جو کبھی اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ چند غالب ذاتوں نے تمام فوائد حاصل کر لیے ہیں۔‘‘

اویسی نے مزید کہا ’’ذیلی درجہ بندی برابری کی بنیاد پر کی جانی چاہئے تاکہ ایک چھوٹے بُنکر خاندان کے بچے کو کسی سابق زمیندار کے بیٹے سے مقابلہ کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ جو ذاتیں ریاست کی پسماندہ طبقات کی فہرست میں شامل ہیں، انہیں براہ راست مرکزی او بی سی فہرست میں شامل کیا جانا چاہئے۔‘‘

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کمیشن نے کہا ہے کہ اس کا مقصد ذیلی زمرہ بندی کے ذریعے سب کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ اگرچہ ذیلی کیٹیگری کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے تاہم اسے تین سے چار زمروں میں تقسیم کرنے کا امکان ہے۔ تین ممکنہ ذیلی زمروں میں ان لوگوں کو 10 فیصد ریزرویشن دینے کا امکان ہے جنہیں کوئی فائدہ نہیں ملا ہے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کو کچھ فوائد ملے ہیں ان کے لیے بھی 10 فیصد ریزرویشن کا امکان ہے۔ جن لوگوں نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے انہیں 7 فیصد ریزرویشن دیئے جانے کا امکان ہے۔

راجستھان میں 50 فاسٹ ٹریک کورٹ کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے: وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت

0
راجستھان-میں-50-فاسٹ-ٹریک-کورٹ-کھولنے-پر-غور-کیا-جا-رہا-ہے:-وزیر-اعلیٰ-اشوک-گہلوت

جے پور: راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ ریاست میں متاثرین کو جلد انصاف فراہم کرنے کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹ کھولنے کے بارے میں مرکزی حکومت کو تجویز بھیجنے کے ساتھ ہی ریاستی سطح پر بھی ہائی کورٹ سے مشاورت کے بعد فاسٹ ٹریک عدالتیں کھولنے کی کوشش کی جائے گی۔

گہلوت ہفتہ کی رات وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر امن و امان کے جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں پچاس فاسٹ ٹریک کورٹس کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مجرمانہ واقعات کے بعد لاش رکھ کرمظاہرے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تحقیقاتی کام میں قانونی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اور آنجہانی کے تئیں بھی بے حسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے ذریعہ شرپسندوں کا ریکارڈ تھانوں میں درج کرنے کا عمل شروع ہونے سے ایسے واقعات میں کمی آئی ہے نیز خواتین اور والدین میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے۔ سنگین جرائم میں کیس آفیسرز اسکیم کے تحت کارروائی کرتے ہوئے فوری انصاف کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے دھریاواد اور کچامن اور دیگر واقعات میں پولیس کی جانب سے کی گئی فوری کارروائی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کی ستائش کی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے ساتھ ہی مجرموں پر لگام لگانے کے لئے عادی مجرموں، گھناؤنے جرائم میں ملوث مجرموں، منشیات کے اسمگلروں وغیرہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ گہلوت نے ہر تھانے کے علاقے میں عادی مجرموں کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف موثر کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔

رات کے موثر گشت کو یقینی بنانے کی ہدایات دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضرورت کے مطابق اس کام کے لیے اضافی ہوم گارڈز کو تعینات کیا جانا چاہیے۔ نئے بنائے گئے اضلاع سمیت دیگر اضلاع میں پولیس افرادی قوت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہوم گارڈز کو تعینات کرنے کی ہدایات دیں۔ سرحدی اضلاع میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ نے ان علاقوں میں اضافی ضابطے کے لئے ہوم گارڈز کو تعینات کرنے اورکوئیک رسپانس ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت کی۔

انہوں نے سرحدی علاقوں میں اضافی 112 گاڑیاں تعینات کرنے کی بھی ہدایت کی۔ گہلوت نے کہا کہ اگر وقت پر لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا تو شواہد اور ثبوت کمزور ہونے کا خدشہ ہے اور مجرموں کو اس کا فائدہ بھی مل سکتا ہے۔ اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے قانون پاس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مواقع پر متاثرہ فریق کے ذریعہ لاش رکھ کر احتجاج کرنے کی وجہ سے ایف آئی آر تاخیر سے درج کرائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے زیر حراست ملزمان کو بھی اس کا فائدہ ملنے کا امکان ہے۔ یہ مظاہرے تفتیش اور عدالتی عمل میں بہت سی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں اور متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کے حصول میں بھی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے سماج دشمن عناصر کے بہکاوے میں آکر لاش کے ساتھ احتجاج کرنے کے رجحان کو نامناسب قرار دیتے ہوئے عام لوگوں سے اس سلسلے میں قانون پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

دہلی میں جی-20 سربراہی اجلاس کی فل ڈریس ریہرسل آج بھی جاری، دیکھیں ٹریفک ایڈوائزری

0
دہلی-میں-جی-20-سربراہی-اجلاس-کی-فل-ڈریس-ریہرسل-آج-بھی-جاری،-دیکھیں-ٹریفک-ایڈوائزری

نئی دہلی: راجدھانی دہلی میں جی-20 سربراہی اجلاس کی جاری تیاریوں کے درمیان آج پھر پولیس کی جانب سے فل ڈریس ریہرسل کی جا رہی ہے۔ اس لیے آج یعنی 3 ستمبر کو کئی راستوں پر ٹریفک متاثر ہونے کا قوی امکان ہے۔ تاہم لوگوں کو پریشانی سے بچانے کے لیے دہلی پولیس نے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے لوگوں سے میٹرو سروس استعمال کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

اتوار کے لیے جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق پولیس اس دن تین ریہرسل کرے گی، جو صبح 8 سے 9 بجے تک، صبح 9.30 سے ​​10.30 بجے تک اور دوپہر 12.30 سے ​​شام 4 بجے تک کی جائے گی۔

سردار پٹیل مارگ – پنچ شیل مارگ، سردار پٹیل مارگ – کوٹیلہ مارگ، گول میتھی اسکوائر، مان سنگھ روڈ اسکوائر، سی-ہیکساگون، متھرا روڈ، ذاکر حسین مارگ – سبرامنیم بھارتی مارگ، بھیروں مارگ – رنگ روڈ، جن پتھ – کرتویہ پتھ، بارہ کھمبا ریڈ روڈ لائٹ، ٹالسٹائی مارگ اور وویکانند مارگ اور ستیہ مارگ شانتی پتھ کے چکر پر گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی ہوگی۔

مہاتما گاندھی مارگ، آئی پی فلائی اوور، راج گھاٹ چوک، شانتی ون چوک، سلیم گڑھ بائی پاس، بھیروں روڈ، رنگ روڈ، متھرا روڈ، شیرشاہ روڈ، سی-ہیکساگون، گول میتھی، تین مورتی، یشونت پلیس، بریگیڈیئر ہوشیار سنگھ مارگ اور ٹالسٹائے مارگ۔ مان سنگھ چوراہے پر ٹریفک کی نقل و حرکت پر اصول نافذ ہوں گے۔

پولیس نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ دہلی کی کئی سڑکوں اور جنکشنوں پر مسافروں کو معمول سے زیادہ ٹریفک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پولیس نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ سفری منصوبہ بندی پہلے سے کریں۔ ایکس پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اتوار کو دوپہر ایک بجے کے قریب دہلی میرٹھ ایکسپریس وے سے دہلی میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

دہلی ٹریفک پولیس نے ریئل ٹائم ٹریفک اپ ڈیٹس کے لیے اپنا جی-20 ورچوئل ہیلپ ڈیسک قائم کی ہے۔ اس کا کام جی-20 سربراہی اجلاس کے لیے اور ہوائی اڈے، ریلوے اسٹیشن، آئی ایس بی ٹی وغیرہ کے لیے راستے تجویز کرنا ہوگا۔ پولیس نے کہا کہ اتوار کو مسافر رنگ روڈ، آشرم چوک، سرائے کالے خان، دہلی-میرٹھ ایکسپریس وے، نوئیڈا لنک روڈ، پستہ روڈ، یودھیشٹھر سیتو، آئی ایس بی ٹی کشمیری گیٹ اور مجنوں کا ٹیلا سے شمال-جنوب کوریڈور لے سکتے ہیں۔ پولیس ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مسافروں کو نئی دہلی اور پرانی دہلی ریلوے اسٹیشنوں یا ہوائی اڈے پر جانے کے لیے اپنی ذاتی گاڑیاں، آٹو رکشہ اور ٹیکسی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے قبل ہفتہ کو بھی ایڈوائزری جاری کی گئی تھی۔

مظفرنگر: گنے کے واجبات کی عدم ادائیگی پر کسان مشتعل، راکیش ٹکیت کا مل کو تالا لگانے کا انتباہ

0
مظفرنگر:-گنے-کے-واجبات-کی-عدم-ادائیگی-پر-کسان-مشتعل،-راکیش-ٹکیت-کا-مل-کو-تالا-لگانے-کا-انتباہ

مظفر نگر: بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت نے ہفتہ کو گنے کے واجبات کی ادائیگی کے مطالبے کے حوالے سے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر 20 دنوں کے اندر کسانوں کو گنے کے واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی تو کسان اپنا گنا ملوں کو نہ دے کر اسے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر میں پھینکنا شروع کر دیں گے اور مل کی تالابندی کر کے فیکٹری کے گیٹ کو ویلڈ کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہڑتال کئی روز تک جاری رہے گی۔ ملوں کو 20 دن کا وقت دیا گیا ہے، ادائیگی نہ ہوئی تو کاشتکار بجاج شوگر فیکٹری کو گنا نہیں دیں گے۔ کسان ضلع (مظفرنگر) میں ٹریکٹر مارچ نکال کر اپنے غصے کا اظہار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسان گنے کے ساتھ مظفر نگر کے ضلع مجسٹریٹ کے دفتر جائے گا۔

مظفر نگر کی تحصیل بڈھانہ میں واقع بجاج شوگر مل میں کسانوں کو گنے کی 220 کروڑ روپے کے واجبات بقایا ہیں، کسان جس کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ 90 دنوں سے مل کے گیٹ پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ہفتہ کو احتجاج کے دوران مل اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں نے پنچایت کے مقام پر کسانوں سے بات چیت کی جس میں کسانوں نے مل کو واجبات کی ادائیگی کے لیے 20 دن کا وقت دیا۔

بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان نے کہا کہ ایک سال سے ادائیگی روک دی گئی ہے۔ اگر بروقت ادائیگی نہ کی گئی تو کسان شوگر فیکٹری کو تالا لگا دیں گے۔ ابھی تک، بجاج شوگر مل پر 220 کروڑ روپے کی گنے کے واجبات بقایا ہیں۔ شوگر مل حکام نے صرف 20 کروڑ دینے کی بات کی ہے۔ جس کی وجہ سے کسانوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، کسانوں نے یہاں کی شوگر فیکٹری کو گنے کی سپلائی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ٹکیت نے کہا کہ حکومت نے بے حسی کی حدیں پار کر دی ہیں۔ شوگر ملیں کسانوں کے واجبات ادا نہیں کر رہیں۔ ریاستی حکومت بھی خاموش بیٹھی ہے۔ گنے کے واجبات کی عدم ادائیگی سے علاقہ کا کسان پریشان ہے۔ اس کے پاس بچوں کی شادی، تعلیم اور دیگر مسائل حل کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ بڈھانہ کی شوگر مل پر 220 کروڑ سے زیادہ کے واجبات بقایا ہیں۔ کسان کئی ماہ سے احتجاج بھی کر رہے ہیں لیکن اب تک مل انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

ایک ملک، ایک انتخاب: کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کمیٹی میں شامل ہونے سے کیا انکار، امت شاہ کو لکھا خط

0
ایک-ملک،-ایک-انتخاب:-کانگریس-لیڈر-ادھیر-رنجن-چودھری-نے-کمیٹی-میں-شامل-ہونے-سے-کیا-انکار،-امت-شاہ-کو-لکھا-خط

مرکز کی مودی حکومت ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ یعنی ایک ملک، ایک انتخاب کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔ اس تعلق سے آج ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا جس میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیے جانے سے متعلق جانکاری دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری بھی شامل ہیں، لیکن نوٹیفکیشن جاری ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد انھوں نے اس کمیٹی سے کنارہ ہونے کی بات کہی ہے۔

لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ معاملے میں مرکزی حکومت کی طرف سے تشکیل کمیٹی کا حصہ بننے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا ہے کہ ’’مجھے ڈر ہے کہ یہ پوری طرح سے دھوکہ ہے۔‘‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں کانگریس لیڈر نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ ’’مجھے اس کمیٹی میں کام کرنے سے انکار کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہے، جس کی شرطیں اس کے نتائج کی گارنٹی کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ پوری طرح سے دھوکہ ہے۔‘‘

خط میں ادھیر رنجن چودھری نے امت شاہ کو لکھا ہے کہ ’’وزیر داخلہ جی، مجھے ابھی میڈیا کے ذریعہ سے پتہ چلا ہے اور ایک سرکاری نوٹیفکیشن سامنے آیا ہے کہ مجھے لوک سبھا اور اسمبلیوں کے ایک ساتھ انتخاب کرانے پر اعلیٰ سطحی کمیٹی کے رکن کی شکل میں مقرر کیا گیا ہے۔ مجھے اس کمیٹی میں کام کرنے سے انکار کرنے میں کوئی جھجک نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ پوری طرح سے دھوکہ ہے۔‘‘ خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’مجھے لگتا ہے راجیہ سبھا میں موجودہ لیڈر آف اپوزیشن پارٹی کو اس سے باہر کر دیا گیا ہے۔ یہ پارلیمانی جمہوریت کے نظام کی قصداً کی گئی بے عزتی ہے۔ ان حالات میں میرے پاس آپ کی دعوت کو نامنظور کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔‘‘

راہل گاندھی اور لالو پرساد نے مل کر بنایا کھانا، پھر لذیز مٹن کھاتے ہوئے ہوئی سیاسی گفتگو، دیکھیے ویڈیو

0
راہل-گاندھی-اور-لالو-پرساد-نے-مل-کر-بنایا-کھانا،-پھر-لذیز-مٹن-کھاتے-ہوئے-ہوئی-سیاسی-گفتگو،-دیکھیے-ویڈیو

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو کی ایک دلچسپ ویڈیو سامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں یہ دونوں مل کر مٹن (بکرے کا گوشت) بناتے ہیں جس میں ان کا تعاون لالو کی بیٹی میسا بھارتی کرتی ہیں۔ راہل اور لالو اس دلچسپ ملاقات کے دوران لذیز مٹن کا مزہ لیتے ہوئے کچھ سیاسی گفتگو بھی کرتے ہیں۔ لالو اس دوران نہ صرف راہل گاندھی کو مٹن کھلاتے ہیں، بلکہ سیاسی مسالہ کا مطلب سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ لیڈر کو جدوجہد کرنی چاہیے، انصاف کے خلاف لڑنا چاہیے۔

یہ ویڈیو راہل گاندھی نے 2 ستمبر کو اپنے یوٹیوب چینل پر جاری کی ہے۔ اس میں دکھائی دے رہا ہے کہ دونوں لیڈران مٹن بنا رہے ہیں۔ راجیہ سبھا رکن اور لالو پرساد کی بیٹی میسا بھارتی کے دہلی واقع رہائش پر راہل گاندھی کے لیے لالو پرساد نے یہ مٹن بنایا جس میں راہل بھی تعاون کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ ویڈیو میں لالو پرساد یہ کہتے ہوئے بھی سنائی دے رہے ہیں کہ یہ مٹن بہار سے منگوایا گیا ہے۔

راہل گاندھی اس ویڈیو میں لالو پرساد سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے پہلی بار کھانا بنانا کب سیکھا؟ اس پر لالو یادو نے جواب دیا ’’چھ سال کی عمر میں کھانا بنانا سیکھا۔ میرے بھائی لوگ پٹنہ میں کام کرتے تھے، ان کے ساتھ آیا، وہیں پر ہم نے سیکھا۔‘‘ لالو پرساد یہ بھی کہتے ہیں کہ بہار کے پکوانوں کے علاوہ وہ تھائی پکوان بھی پسند کرتے ہیں۔

راہل گاندھی ویڈیو میں ایک جگہ کہتے ہیں کہ وہ لالو پرساد کی سیاسی سمجھداری کا بہت احترام کرتے ہیں۔ وہ لالو پرساد سے پوچھتے ہیں کہ ’سیاسی مسالہ‘ کیا ہوتا ہے۔ اس پر لالو یادو نے جواب دیا ’’سیاسی مسالہ ہوتا ہے کہ جدوجہد کیجیے۔ کہیں ناانصافی نظر آئے تو اس کے خلاف لڑیے۔‘‘ ویڈیو میں لالو پرساد بی جے پی پر حملہ بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی سیاسی بھوک مٹتی ہی نہیں اس لیے بی جے پی کے لوگ نفرت پھیلاتے ہیں۔ راہل گاندھی ان سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا مشورہ ہے؟ اس کے جواب میں لالو کہتے ہیں ’’میری رائے ہے کہ آپ کے والد، دادا-دادی نے ملک کو نئی راہ دکھائی تھی، اسے بھولنا نہیں ہے۔‘‘

بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے عہدیداران نے اروندر سنگھ لولی کا والہانہ استقبال کیا

0
بابر-پور-ضلع-کانگریس-کمیٹی-کے-عہدیداران-نے-اروندر-سنگھ-لولی-کا-والہانہ-استقبال-کیا

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے نئے مقرر صدر اروندر سنگھ لولی سے ملنے کے لیے ان کی رہائش گاہ پر لوگوں کا آج بھی تانتا لگا رہا۔ اسی کڑی میں بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری زبیر احمد کی قیادت میں ضلع عہدیداران کے ساتھ اروندر سنگھ لولی کو صدر بننے پر صمیم قلب سے مبارکباد پیش کی اور والہانہ استقبال کیا۔

اروندر سنگھ لولی سے ملاقات کرنے والوں میں سماجی تنظیمیں، آر ڈبلیو اے کانگریس سے وابستہ لوگوں کے علاوہ کانگریس کارکنوں اور عام لوگوں نے لولی کو یقین دلایا کہ ہم کانگریس پارٹی کے ساتھ ہیں اور دہلی کی کانگریس حکومت نے اپنے 15 سال کے دور اقتدار میں دہلی کو دلہن کی مانند سجایا تھا اور اس دوران خوب ترقیاتی کام ہوئے۔ تاہم آج بھی دہلی کے عوام سابق وزیر اعلی آنجہانی شیلا دیکشت کے ذریعہ کرائے گئے مثالی کاموں کو یاد کرتے ہیں۔

اس موقع پر اروندر سنگھ لولی نے بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے تمام عہدیداران کی مبارکباد قبول کی اور کہا کہ ریاستی کانگریس صدر کے طور پر مجھے دی گئی اہم ذمہ داری کو جی جان سے نبھانے کی کوشش کروں گا اور پارٹی کو ہر سطح پر مضبوط کرنے کے لیے کام کروں گا۔

چودھری زبیر احمد نے کہا کہ اروندر سنگھ لولی دہلی کانگریس کے سینئر لیڈر ہیں اور مختلف وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروندر سنگھ لولی نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز طالب علمی کے زمانے سے کیا تھا اور وہ سیاست کے داﺅ پیچ اور عوام کے مزاج کو بخوبی جانتے ہیں۔ کانگریس اعلی کمان نے اروندر سنگھ لولی کو دہلی کانگریس کا صدر بنا کر دانش مندانہ فیصلہ لیا ہے۔ اس فیصلے سے کانگریس پارٹی کو مزید مضبوطی ملے گی۔ ڈیلی گیٹ سید ناصر جاوید نے کہا کہ اروندر سنگھ لولی کو صدر بنائے جانے سے دہلی کانگریس کو مزید تقویت ملی ہے اور کانگریس پارٹی سے نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ سرگرم ہو گیا ہے جس کے نتائج آنے والے لوک سبھا الیکشن 2024 میں دیکھنے کو ملیں گے۔

’پی ایم مودی نہیں دیں گے اڈانی معاملے کی جانچ کا حکم‘، راہل گاندھی نے چھتیس گڑھ سے مرکزی حکومت پر کیا حملہ

0
’پی-ایم-مودی-نہیں-دیں-گے-اڈانی-معاملے-کی-جانچ-کا-حکم‘،-راہل-گاندھی-نے-چھتیس-گڑھ-سے-مرکزی-حکومت-پر-کیا-حملہ

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز اڈانی گروپ کے اسٹاک ہیر پھیر سے متعلق الزامات کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا۔ چھتیس گڑھ کی قیادت والی کانگریس حکومت کے ذریعہ منعقد ایک تقریب میں ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پی ایم مودی اڈانی پر جانچ کا حکم نہیں دے سکتے، کیونکہ اگر ایسا ہوا اور سچائی سامنے آ گئی تو نقصان اڈانی کا نہیں بلکہ کسی اور کا ہوگا۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا کہ پی ایم مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے ملکی معیشت کی ریڑھ توڑ دی ہے۔ وہ چنندہ بزنس مین کے گروپ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی نے چھوٹے کاروباریوں کو برباد کر دیا ہے اور یہ وزیر اعظم مودی کے دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔

کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ غریبوں کے لیے کام کرتی ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ چاہے وہ چھتیس گڑھ، راجستھان، کرناٹک، ہماچل پردیش کی حکومتیں ہوں یا تلنگانہ اور مدھیہ پردیش کی آنے والی حکومتیں ہوں، وہ اڈانی کی حکومت ہونے کی جگہ غریبوں کی حکومت ہوں گی۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس کارکنان کو خطاب کرنے سے پہلے راہل گاندھی آج نوا رائے پور میں چھتیس گڑھ حکومت کے ذریعہ منعقد ’راجیو یوا متان سمیلن‘ میں شامل ہوئے تھے۔ بہرحال، چھتیس گڑھ میں اسمبلی انتخاب اس سال کے آخر میں پڑوسی ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان اور تلنگانہ کے ساتھ ہونے والے ہیں۔

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں نہ وقفہ سوالات ہوگا، نہ وقفہ صفر ہوگا اور نہ ہی پرائیویٹ بل پر ہوگی کوئی بحث!

0
پارلیمنٹ-کے-خصوصی-اجلاس-میں-نہ-وقفہ-سوالات-ہوگا،-نہ-وقفہ-صفر-ہوگا-اور-نہ-ہی-پرائیویٹ-بل-پر-ہوگی-کوئی-بحث!

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس آئندہ 18 ستمبر سے شروع ہونے والا ہے جو کہ 22 ستمبر تک چلے گا۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ طلب کیے گئے اس خصوصی اجلاس کو لے کر اپوزیشن پارٹیوں نے حیرانی کے ساتھ ساتھ ناراضگی کا بھی اظہار کیا ہے۔ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ اس خصوصی اجلاس میں نہ تو وقفہ سوالات ہوگا، نہ وقفہ صفر ہوگا اور نہ ہی پرائیویٹ بل پر کوئی بحث ہوگی۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ خصوصی اجلاس میں وقفہ سوالات اور وقفہ صفر نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی پانچ دنوں تک چلنے والے اس خصوصی اجلاس کے دوران کوئی بھی رکن پرائیویٹ بل نہیں پیش کر سکے گا۔

اس سے قبل مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے جمعرات کو پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی جانکاری دی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ 18 ستمبر سے 22 ستمبر کے درمیان پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے۔ حالانکہ اس اجلاس کا ایجنڈا کیا ہے، اس سلسلے میں ابھی جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔ مرکزی وزیر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بس اتنا لکھا کہ ’’پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 17ویں لوک سبھا کا 13واں اجلاس اور راجیہ سبھا کا 261واں اجلاس 18 سے 22 ستمبر کے درمیان بلایا جا رہا ہے۔ اس میں 5 اجلاس ہوں گے۔ امرت کال میں مثبت بحث کی امید ہے۔‘‘

خصوصی اجلاس کے پیچھے حکومت کا کیا ایجنڈا ہے، اس پر تجسس برقرار ہے۔ حالانکہ اس درمیان ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ کا شور شروع ہو چکا ہے۔ اس کے لیے کمیٹی کا اعلان ہو چکا ہے اور نوٹیفکیشن بھی جاری ہو گیا ہے۔ تجسس اس بات کو لے کر بھی برقرار ہے کہ خصوصی اجلاس نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا یا پرانے پارلیمنٹ ہاؤس میں۔ دراصل مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے خصوصی اجلاس طلب کیے جانے سے متعلق جو سوشل میڈیا پوسٹ کیا ہے اس میں نئے ور پرانے دونوں ہی پارلیمنٹ ہاؤس کی تصویر موجود ہے۔

وَن نیشن، وَن الیکشن: 8 رکنی کمیٹی کا اعلان، رام ناتھ کووند کے علاوہ امت شاہ، ادھیر رنجن چودھری اور آزاد کا نام شامل

0
وَن-نیشن،-وَن-الیکشن:-8-رکنی-کمیٹی-کا-اعلان،-رام-ناتھ-کووند-کے-علاوہ-امت-شاہ،-ادھیر-رنجن-چودھری-اور-آزاد-کا-نام-شامل

مرکز کی مودی حکومت نے ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ یعنی ایک ملک، ایک انتخاب کے لیے ملک کے سابق صدر رام ناتھ کووند کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی میں شامل اراکین کے ناموں کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں مجموعی طور پر 8 لوگ شامل کیے گئے ہیں۔

مرکزی حکومت کی 2 ستمبر کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری، سابق مرکزی وزیر غلام نبی آزاد، 15ویں مالیاتی کمیشن کے سابق صدر این کے سنگھ، لوک سبھا کے سابق جنرل سکریٹری سبھاش کشیپ، سینئر وکیل ہریش سالوے اور سابق چیف وجلنس کمشنر سنجے کوٹھاری کو رکن کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف (آزادانہ چارج) ارجن رام میگھوال خصوصی مدعو رکن کے طو رپر کمیٹی کی میٹنگ میں شامل ہوں گے اور محکمہ قانونی امور کے سکریٹری نتن چندر سکریٹری ہوں گے۔ مرکزی حکومت کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کا ہیڈکوارٹر نئی دہلی میں ہوگا۔ کمیٹی فوراً کام شروع کرے گی اور جلد ہی سفارشات کرے گی۔