پیر, مارچ 30, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 141

آرٹیکل 370 ہٹانے کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سماعت مکمل، سپریم کورٹ نے فیصلہ رکھا محفوظ

0
آرٹیکل-370-ہٹانے-کو-چیلنج-دینے-والی-عرضیوں-پر-سماعت-مکمل،-سپریم-کورٹ-نے-فیصلہ-رکھا-محفوظ

جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے اور اسے مرکز کے زیر انتظام دو خطوں میں تقسیم کرنے سے متعلق 2019 کے مودی حکومت کے احکامات کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں آج سماعت مکمل ہو گئی۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے 5 ستمبر کو اس پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔

سماعت مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی آئینی بنچ نے کہا کہ ’’بار کے سبھی اراکین کو شکریہ کی تجویز کے ساتھ ہم اس پر بحث ختم کرتے ہیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔‘‘ آرٹیکل 370 معاملے میں عرضی داخل کرنے والوں میں سے ایک نیشنل کانفرنس لیڈر جسٹس (ریٹائرڈ) حسنین مسعودی نے کہا کہ ہم عدالت میں رکھی گئی دلیلوں سے مطمئن ہیں۔ سبھی پہلوؤں پر بہتر انداز میں دلائل پیش کیے گئے۔

سبھی فریقین کی دلیلیں پوری ہو جانے اور بنچ کے ذریعہ سماعت مکمل ہونے کے بعد امید ہے کہ عدالت عظمیٰ جلد ہی اپنا فیصلہ سنائے گی۔ جموں و کشمیر پر مرکزی حکومت کے فیصلے کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ کی آئینی بنچ میں 16 دنوں تک سماعت چلی۔ آئینی بنچ، جس میں سپریم کورٹ کے پانچ سینئر جج شامل تھے، نے 2 اگست سے اس معاملے پر سماعت شروع کی تھی۔

اس سے قبل مارچ 2020 میں اس معاملے کو سات ججوں کی بڑی بنچ کو سونپنے کے عرضی دہندگان کے مطالبے کو منظور کرنے سے سپریم کورٹ نے انکار کر دیا تھا۔ اُس وقت چیف جسٹس این وی رمنا کی صدارت والی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے دلیل دی تھی کہ آرٹیکل 370 کی تشریح سے متعلق پریم ناتھ کول اور سمپت پرکاش معاملے میں عدالت عظمیٰ کے پہلے کے فیصلے ایک دوسرے سے متضاد نہیں تھے۔ سی جے آئی چندرچوڑ اور جسٹس کھنہ بنچ کے نئے رکن ہیں۔ جسٹس رمنا اور سبھاش ریڈی، جو گزشتہ بنچ کا حصہ تھے، سبکدوش ہو چکے ہیں۔

مہاراشٹر: مراٹھا مظاہرین اپنے مطالبات پر بضد، بھوک ہڑتال جاری، شندے حکومت کو ریزرویشن پر فیصلہ لینے کا دیا الٹی میٹم

0
مہاراشٹر:-مراٹھا-مظاہرین-اپنے-مطالبات-پر-بضد،-بھوک-ہڑتال-جاری،-شندے-حکومت-کو-ریزرویشن-پر-فیصلہ-لینے-کا-دیا-الٹی-میٹم

مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن کے لیے جاری تحریک کی قیادت کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کر رہے مراٹھا کرانتی مورچہ کے لیڈر منوج جارانگے پاٹل اپنے رخ پر قائم ہیں۔ انھوں نے شیوسینا-بی جے پی حکومت کو مراٹھا ریزرویشن پر ایک سرکاری قرارداد (جی آر) جاری کرنے کے لیے آج (منگل) تک کا وقت دیا ہے۔

مہاراشٹر میں برسراقتدار شیوسینا لیڈر ارجن کھوتکر اور دیگر کی قیادت میں ایک نمائندہ وفد نے آج جارانگے پاٹل سے دوبارہ ملاقات کی اور ان سے گزارش کی کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں اور حکومت کو ریزرویشن کو فل پروف طریقے سے آخری شکل دینے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیں، جو قانونی جانچ میں کھرا اتر سکے۔ لیکن جارانگے پاٹل نے حکومت کی اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا اور بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ جارانگے پاٹل نے بڑھتی کمزوری کے سبب گدے پر لیٹے ہوئے کہا ’’ہماری امید ایک فیصلہ ہے۔ پوری ریاست کو امید ہے کہ ہمیں آج ریزرویشن مل جائے گا۔‘‘ اس سے قبل پیر کی شب انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے منگل کو اپنے فیصلے کا اعلان نہیں کیا تو وہ پانی پینا بھی بند کر دیں گے، اس سے نئی فکر پیدا ہو گئی ہے۔

اس درمیان وی بی اے (ونچت بہوجن اگھاڑی) کے چیف پرکاش امبیڈکر کے انترولی-سرتی گاؤں میں جارانگے پاٹل کا دورہ کرنے کا امکان ہے، جہاں یکم ستمبر کو مظاہرین بھیڑ پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس سمیت بڑے پیمانے پر پولیس کارروائی ہوئی تھی۔ مظاہرین پر پولیس کارروائی پر مراٹھا طبقہ کا جارحانہ سیاسی رد عمل اور سبھی سیاسی پارٹیوں کی طرف سے اس کی مذمت کیے جانے سے بیک فٹ پر آئی شندے حکومت کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے پیر کو مقامی اسپتالوں میں علاج کرا رہے پولیس کارروائی کے متاثرین سے معافی مانگی۔

سی بی آئی نے گیل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سمیت 5 لوگوں کو کیا گرفتار، 50 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام

0
سی-بی-آئی-نے-گیل-کے-ایگزیکٹیو-ڈائریکٹر-سمیت-5-لوگوں-کو-کیا-گرفتار،-50-لاکھ-روپے-رشوت-لینے-کا-الزام

سی بی آئی نے مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے رشوت لینے کے الزام میں گیل (انڈیا) لمیٹڈ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے بی سنگھ سمیت 5 لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ کے بی سنگھ پر الزام ہے کہ انھوں نے گیس پائپ لائن پروجیکٹس میں مبینہ طور پر کچھ ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے 50 لاکھ روپے کی رشوت لی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے میں سی بی آئی کی ٹیم دہلی، نوئیڈا اور وشاکھاپٹنم میں کئی مقامات پر چھاپے ماری کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق سی بی آئی کی ٹیم نے پیر کی شب سب سے پہلے کے بی سنگھ کے نوئیڈا سیکٹر 72 واقع رہائش پر چھاپہ ماری کی تھی۔ اس دوران سی بی آئی نے ان کے موبائل، گیزیٹس اور بینک اکاؤنٹس کو کھنگالا تھا۔

سی بی آئی نے گیل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے علاوہ جن چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے، ان میں وڈودرا کی ایڈوانس انفراسٹرکچر کے ڈائریکٹر سریندر کمار بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے دو گیس پائپ لائن پروجیکٹس میں ٹھیکیداروں کو مدد پہنچانے کے لیے رشوت لی تھی۔ سی بی آئی نے رشوت معاملے میں دہلی سمیت کئی مقامات پر چھاپہ ماری کی ہے۔

گیل (انڈیا) لمیٹڈ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے بی سنگھ کے نوئیڈا سیکٹر 72 واقع رہائش پر اب بھی چھاپہ ماری جاری ہے۔ ابھی تک کی جانکاری کے مطابق بدعنوانی کی شکایت کے بعد سی بی آئی کی طرف سے یہ کارروائی کی گئی ہے۔ سی بی آئی کی ٹیم کے بی سنگھ کے موبائل، الیکٹرانکس گیزیٹس اور بینک اکاؤنٹس کو کھنگال رہی ہے۔ اسی معاملے میں سی بی آئی کی ٹیم لگاتار دیگر مقامات پر چھاپہ ماری بھی کر رہی ہے۔

بکرو گینگسٹر معاملہ: عدالت نے 23 ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا، سنائی 10-10 سال قید کی سزا، 7 کے خلاف نہیں ملا ثبوت

0
بکرو-گینگسٹر-معاملہ:-عدالت-نے-23-ملزمین-کو-قصوروار-ٹھہرایا،-سنائی-10-10-سال-قید-کی-سزا،-7-کے-خلاف-نہیں-ملا-ثبوت

اتر پردیش میں کانپور دیہات کے مشہور بکرو کے گینگسٹر معاملے میں عدالت نے 30 میں سے 23 ملزمین کو قصوروار قرار دیا ہے۔ انھیں 10-10 سال قید کی سزا سنانے کے ساتھ سبھی پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 7 ملزمین کے خلاف کوئی پختہ ثبوت نہیں ملا جس کا انھیں فائدہ ہوا اور بری الذمہ قرار دیا گیا۔

آج جب ایڈیشنل ضلع اینڈ سیشن کورٹ پنجم میں اس معاملے کی سماعت ہو رہی تھی تو عدالت کے باہر سیکورٹی کا سخت انتظام نظر آیا۔ پہلے تو عدالت نے 30 میں سے 23 ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا اور دیگر 7 کو بری کر دیا، اور پھر کچھ دیر بعد قصورواروں کے خلاف سزا کا بھی اعلان کر دیا گیا۔ یہ معاملہ 2 جولائی 2020 کا تھا جب چوبے پور علاقہ کے بکرو گاؤں میں پولیس ٹیم چھاپہ ماری کے لیے پہنچی تھی جس پر وکاس دوبے گینگ نے فائرنگ کر دی تھی۔

بکرو واقعہ میں 30 ملزمین پر گینگسٹر کی کارروائی کی گئی تھی۔ عدالت نے جن 23 ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا ہے ان میں بکرو گاؤں کے ہیرو دوبے، شیامو باجپئی، جہان یادو، دیا شنکر اگنیہوتری، ببلو مسلمان، رامو باجپئی، ششی کانت پانڈے، شیوم دوبے، گووند سینی، اوماکانت، شیوم دوبے عرف دلال، شیو تیواری، ضلعدار، رام سنگھ یادو، جئے باجپئی، دھیریندر کمار، منیش، سریش، گوپال، ویر سنگھ، راہل پال، اکھلیش عرف شیام جی، چھوٹو شکلا کے نام شامل ہیں۔ جن 7 کو اس معاملے سے بری قرار دیا گیا ہے، ان کے نام ہیں گڈّن، پرشانت، سوشیل کمار، بال گووند، راجندر مشر، رمیش چندر اور سنجے۔

حیدرآباد میں موسلادھار بارش سے عوام پریشان، معمولات زندگی درہم برہم, سڑکیں پانی سے بھر گئیں

0
حیدرآباد-میں-موسلادھار-بارش-سے-عوام-پریشان،-معمولات-زندگی-درہم-برہم,-سڑکیں-پانی-سے-بھر-گئیں

حیدرآباد: حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں منگل کی صبح موسلا دھار بارش سے کئی کالونیاں زیر آب آگئیں اور عام زندگی درہم برہم ہوگئی، بارش کا اثر ٹریفک پر بھی نظر آیا۔

نشیبی رہائشی علاقے اور جھیلوں اور برساتی نالوں کے قریب کے علاقے زیر آب آ گئے اور کالونیاں بھی زیر آب آ گئیں۔ بعض علاقوں میں سیلابی پانی گھروں میں داخل ہو گیا جس سے گھریلو سامان کو نقصان پہنچا اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

حکام نے شدید بارش کے بعد اور بارش کی پیش گوئی کے پیش نظر تمام تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کر دیا۔ موسلادھار بارش کی وجہ سے کئی علاقوں میں سڑکیں زیر آب آ گئیں جس سے عام طور پر مصروف علاقوں میں گاڑیوں کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی۔ دفاتر اور کام کی جگہوں پر جانے والے لوگ ٹریفک جام میں پھنس گئے۔

پانی بھر جانے کی وجہ سے فلائی اوور اور ٹولی چوکی کو آئی ٹی ہب ایچ آئی ٹی ای سی سٹی اور گچی بوولی سے جوڑنے والی سڑک پر طویل ٹریفک جام رہا۔ اسی طرح کے مناظر کوکٹ پلی-موساپیٹ اور ایراگڈا-موساپیٹ سڑکوں پر دیکھے گئے۔

سائبرآباد پولیس نے آئی ٹی ملازمین سے کہا کہ وہ گھر سے کام (ورک فرام ہوم) کا انتخاب کریں۔ ساتھ ہی شہریوں سے موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کے پیش نظر تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ موسا پیٹ میٹرو اسٹیشن کے نیچے بڑے پیمانے پر ٹریفک جام ہوگیا، جبکہ کوکٹ پلی نالے کا پانی مین سڑک پر آگیا۔

شہر کے مصروف ترین ٹریفک راستوں میں سے ایک، پونجاگوٹہ کوکٹ پلی روڈ پر گاڑیوں کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی۔ امیرپیٹ اور بیگم پیٹ کے درمیان ٹریفک بھی ٹھپ ہو گئی۔

حکام نے میسما گوڈا علاقہ میں مختلف انجینئرنگ کالجوں کے ہاسٹلوں میں پھنسے طلباء کو بچانے کے لئے جی سی بی کو تعینات کیا۔ ملاریڈی، سینٹ پیٹرس اور نرسمہا ریڈی کالج کے ہاسٹل سیلابی پانی میں ڈوب گئے ہیں۔

چنتل، اپل، بیگم پیٹ، ٹولی چوکی، کوکٹ پلی، بوون پلی اور گنڈالپوچمپلی جیسے علاقوں کی کالونیاں زیر آب آگئیں۔ چنتل کے سرینواس نگر میں فاکس ساگر کے پانی کی وجہ سے سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں۔

رہائشیوں نے شکایت کی کہ علی الصبح 3 بجے کے قریب پانی ان کے گھروں میں داخل ہوا اور گھریلو سامان کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے میونسپل افسران اور مقامی عوامی نمائندوں پر لاپرواہی کا الزام لگایا۔ ایک خاتون نے کہا کہ سیاستدانوں کو پانی بھراؤ کے مسلسل مسئلے کو حل کیے بغیر آئندہ انتخابات میں ووٹ مانگنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اِسرو نے ’چندریان-3‘ مشن پر کوئز مقابلے کا کیا اعلان، اوّل مقام حاصل کرنے والے کو ملیں گے ایک لاکھ روپے

0
اِسرو-نے-’چندریان-3‘-مشن-پر-کوئز-مقابلے-کا-کیا-اعلان،-اوّل-مقام-حاصل-کرنے-والے-کو-ملیں-گے-ایک-لاکھ-روپے

چاند پر اس وقت رات ہو چکی ہے اور چندریان-3 کا لینڈر ماڈیول (وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر) چاند کی جنوبی سطح نیند کے مزے لے رہا ہے۔ اس درمیان اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) نے چندریان-3 کو لے کر ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس نے کوئز مقابلے کی شروعات کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ہندوستان کا کوئی بھی شہری شامل ہو سکتا ہے۔ دراصل ہندوستان کے چاند تک پہنچنے کے کامیاب سفر کا جشن ہندوستانی عوام کے ساتھ منانے کے مقصد سے اس کوئز کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کوئز مقابلے میں اوّل مقام حاصل کرنے والے کو ایک لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔

اس کوئز کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے اِسرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ چاند کے عجوبوں کی دریافت اور سائنسی تحقیق کے تئیں محبت ظاہر کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ سبھی ہندوستانی شہریوں کو اس کوئز میں حصہ لینے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ کوئز میں حصہ لینے کے لیے https://www.mygov.in/ پر اپنا ایک اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔ اس میں پروفائل اَپڈیٹ رکھنی ہوگی۔ آدھیادھوری پروفائل والے امیدوار کوئز کے لیے نااہل ہوں گے۔ جیسے ہی شرکا صحیح او ٹی پی درج کرنے کے بعد ’سَبمٹ‘ بٹن پر کلک کرے گا، کوئز شروع ہو جائے گا۔

اس کوئز میں 10 سوالات کے جواب 300 سیکنڈ میں دینے ہوں گے۔ کوئی منفی مارکنگ نہیں ہوگی۔ کوئز میں حصہ لینے کے لیے ایک ہی موبائل نمبر اور ای میل آئی ڈی کا ایک سے زیادہ بار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ڈپلی کیٹ اندراجات کے معاملے میں پہلی کوشش کا ریکارڈ تشخیص کے لیے قابل قبول مانا جائے گا۔ کوئز میں حصہ لینے کے بعد سبھی شرکاء کو ایک سرٹیفکیٹ دیا جائے گا جسے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ کوئز ختم ہونے کے بعد فاتحین کو نقد انعام دیا جائے گا۔

دی گئی جانکاری کے مطابق اوّل مقام پر رہنے والے کو ایک لاکھ روپے کا نقد انعام، دوسرے مقام پر رہنے والے کو 75 ہزار روپے کا نقد انعام، اور تیسرے مقام پر رہنے والے کو 50 ہزار روپے کا نقد انعام دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں 100 بہترین کارکردگی پیش کرنے والوں میں سے سبھی کو 2-2 ہزار روپے کا کونسولیشن پرائز دیا جائے گا۔ اتنا ہی نہیں، 200 بہترین کارکردگی پیش کرنے والوں کو 1-1 ہزار روپے کا کونسولیشن پرائز دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

ڈی ایم آر سی نے اپنا ہی ریکارڈ توڑا، 4 ستمبر کو دہلی میٹرو میں 71.03 لاکھ لوگوں نے کیا سفر

0
ڈی-ایم-آر-سی-نے-اپنا-ہی-ریکارڈ-توڑا،-4-ستمبر-کو-دہلی-میٹرو-میں-71.03-لاکھ-لوگوں-نے-کیا-سفر

نئی دہلی: دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ دہلی میٹرو سے 4 ستمبر یعنی پیر کے روز 71.03 لاکھ لوگوں نے سفر کر کے تاریخ رقم کر دی۔ سابق بلند ترین ریکارڈ کی بات کریں تو 29 اگست کو 69.94 لاکھ اور 28 اگست کو 68.16 لاکھ لوگون نے سفر کیا تھا۔

ڈی ایم آر سی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’پیر کا دن دہلی میٹرو کے لیے سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ یہ ڈی ایم آر سی کے ذریعہ فراہم کردہ عالمی معیار کے ٹرانسپورٹ سسٹم میں دہلی-این سی آر کے شہریوں کی لچک اور اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پیر کو یلو لائن نے سب سے زیادہ مسافروں کی تعداد 1935752 ریکارڈ کی، اس کے بعد بلیو لائن (1874167)، ریڈ لائن (768742)، وایلیٹ لائن (736237)، پنک لائن ( 704545)، میجنٹا لائن (592338)، گرین لائن (335529)، ایئرپورٹ لائن (69527)، ریپڈ میٹرو (47733) اور گرے لائن (38941) پر لوگوں نے سفر کیا۔

ایک ترجمان نے کہا ’’ڈی ایم آر سی دہلی-این سی آر خطے میں کنیکٹیویٹی کو بڑھاتے ہوئے مسافروں کی حفاظت اور آرام کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہ ریکارڈ قابل اعتماد اور پائیدار نقل و حمل کے حل فراہم کرنے کے ہمارے مشن کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘

سناتن مذہب پر گھمسان کے درمیان 262 ہستیوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کو لکھا خط، اودے ندھی پر کارروائی کا مطالبہ

0
سناتن-مذہب-پر-گھمسان-کے-درمیان-262-ہستیوں-نے-چیف-جسٹس-آف-انڈیا-کو-لکھا-خط،-اودے-ندھی-پر-کارروائی-کا-مطالبہ

سناتن مذہب سے متعلق تمل ناڈو کے وزیر اودے ندھی اسٹالن کے متنازعہ بیان پر ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ تک پہنچ گیا ہے۔ ملک کی 262 اہم ہستیوں نے اودے ندھی کے بیان کے خلاف چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کو ایک خط لکھا ہے جس میں بیان پر از خود نوٹس لینے کی گزارش کی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پہلے سے ہی اودے ندھی اسٹالن کے بیان پر ہنگامہ جاری ہے اور کئی سیاسی و مذہبی تنظیموں نے اس پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ اب 262 ہستیوں کے ذریعہ سی جے آئی چندرچوڑ کو لکھے گئے خط نے اس ہنگامہ کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ جن بڑی ہستیوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھا ہے ان میں کئی سابق جج، سابق افسران اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ تمل ناڈو حکومت میں وزیر ادے ندھی اسٹالن نے حال میں جو بیان دیا ہے وہ فکر انگیز ہے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے اس معاملے میں کارروائی سے انکار کیا ہے، ایسے میں ہم چیف جسٹس سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں از خود نوٹس لیں اور اس طرح کے اشتعال انگیز بیان پر کارروائی کریں۔ خط لکھنے والوں میں ملک کی الگ الگ ہائی کورٹس کے کئی سبکدوش جج، سابق آئی اے ایس، آئی ایف ایس شامل ہیں۔

واضح رہے کہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے بیٹے اودے ندھی اسٹالن نے اپنے ایک بیان میں سناتن مذہب پر بات کی تھی۔ انھوں نے اسے ایک بیماری قرار دیا تھا اور اس کا موازنہ کورونا، ڈینگو، ملیریا سے کیا تھا۔ اتنا ہی نہیں، اودے ندھی نے کہا تھا کہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں اصلاح ممکن نہیں ہوتا، انھیں ختم ہی کرنا چاہیے، اور سناتن ان میں سے ہی ایک ہے۔

اتراکھنڈ میں بارش کی تباہی: 80 دنوں میں 93 افراد کی موت

0
اتراکھنڈ-میں-بارش-کی-تباہی:-80-دنوں-میں-93-افراد-کی-موت

دہرادون: اس بار اتراکھنڈ میں بارش نے کافی تباہی مچائی ہے اور گزشتہ 80 دنوں ریاست کے حالات ابتر نظر آ رہے ہیں۔ کئی مقامات پر سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھنے میں آئیں جبکہ دیگر مقامات پر بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات نے دلوں کو دہلا دیا۔ دریں اثنا، متعدد افراد نے اپنی جان گنوا دی۔

اس سال 15 جون سے اب تک اس آفت نے سو سے زائد خاندانوں کے لیے ناقابل تلافی زخم چھوڑے ہیں۔ آفت کی تباہ کاریوں سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ ریاست کے تمام اضلاع زیادہ بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کی وجہ سے متاثر ہیں۔ سب سے زیادہ جانی نقصان رودرپریاگ ضلع میں ہوا ہے۔ یہاں 21 لوگوں کی جانیں گئیں جبکہ 13 لاپتہ ہیں۔

صرف اتنا ہی نہیں 93 خاندانوں نے اپنے رشتہ داروں کو کھو دیا، جبکہ 16 کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔ اتنا ہی نہیں 51 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

گزشتہ 80 دن پوری ریاست کے لیے مشکل رہے ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق آفت سے نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ 1914 مکانات بھی متاثر ہوئے۔ ان میں سے 56 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے جبکہ 181 کی حالت اب رہنے کے قابل نہیں ہے۔ باقی کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

ریاست میں اس آفت کی وجہ سے مویشیوں کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ اب تک 7798 مویشیوں کی موت ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ سڑکوں، پینے کے پانی اور بجلی کی لائنوں سمیت عوامی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ اس سب کی تشخیص ابھی جاری ہے۔

اگر مراٹھا برادری سمیت پسماندہ طبقات کو ریزرویشن دینا ہے تو 50 فیصد کی موجودہ حد کو ہٹانا ہوگا: نانا پٹولے

0
اگر-مراٹھا-برادری-سمیت-پسماندہ-طبقات-کو-ریزرویشن-دینا-ہے-تو-50-فیصد-کی-موجودہ-حد-کو-ہٹانا-ہوگا:-نانا-پٹولے

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر بی جے پی مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینے کی خواہش رکھتی ہے تو اسے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ہی اس پر فیصلہ لینا چاہئے اور مراٹھا برادری کے ساتھ انصاف کرنا چاہئے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ اگر مراٹھا برادری سمیت پسماندہ طبقات کو ریزرویشن دینا ہے تو 50 فیصد کی موجودہ حد کو ہٹانا ہوگا۔ مرکزی حکومت کو اس حد کو ہٹا سکتی ہے لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں لے رہی ہے۔ بی جے پی مراٹھا اور دھنگر برادری سے جھوٹے وعدے کرکے اقتدار میں آئی اور اس کے بعد اس نے اس برادری کو ریزرویشن نہیں دیا۔ مراٹھا ریزرویشن قانون اسمبلی میں عجلت میں پاس ہوا، لیکن یہ سپریم کورٹ میں نہیں ٹھہر سکا۔ دیویندر فڑنویس نے سینہ ٹھونک کر کہا تھا کہ صرف وہی مراٹھا برادری کو ریزرویشن دے سکتے ہیں، لیکن اقتدار میں آنے کے ڈیڑھ سال بعد بھی مراٹھا برادری کو ریزرویشن نہیں دیا گیا ہے۔

پٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پیر کو دوبارہ ملاقات کی اور مراٹھا ریزرویشن پر اپنا موقف پیش کرنے کی کوشش کی۔ حکومت نے ایک ماہ کا وقت مانگا ہے لیکن یہ وقت کا ضیاع ہے۔ مراٹھا ریزرویشن کے تعلق سے ایم وی اے حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش مضحکہ خیز ہے۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی طرف سے دیا گیا ریزرویشن عدالت میں بھی برقرار رہے گا، لیکن انہیں جواب دینا چاہیے کہ یہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں ٹھہر سکا؟ فڈنویس نے مرکزی حکومت سے بات کرکے مراٹھا ریزرویشن کو نویں فہرست میں کیوں شامل نہیں کیا؟ بنیادی طور پر یہ واضح ہے کہ بی جے پی مراٹھا برادری کو ریزرویشن نہیں دینا چاہتی۔ حکومتی اجلاس میں کسی ٹھوس فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے مراٹھا برادری کے لیے کیے گئے فیصلوں کی ایک فہرست پڑھ کر سنائی گئی، لیکن ریزرویشن کیسے دیا جائے گا اس پر ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ جالنہ ضلع میں پولیس نے چھوٹے بڑے سب کو بری طرح مارا پیٹا جس کی وجہ سے کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ جان بوجھ کر انجام دیا گیا ہے۔ کچھ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مراٹھا برادری کو او بی سی کوٹہ کے تحت ریزرویشن دیا جائے۔ اس طرح کے بیانات سے دونوں برادریوں میں تصادم پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔