پیر, مارچ 30, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 140

مدھیہ پردیش: قبائلی جنگلات اور زمین کو بچانے کے لیے متحرک، بی جے پی کے تمام دعوے فرضی!

0
مدھیہ-پردیش:-قبائلی-جنگلات-اور-زمین-کو-بچانے-کے-لیے-متحرک،-بی-جے-پی-کے-تمام-دعوے-فرضی!

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو مدھیہ پردیش کے منڈلا میں اپنی پارٹی کے لیے ’جن آشیرواد یاترا‘ کا آغاز کرتے ہوئے بہت سی باتیں کہی لیکن شاید وہ ایک دن پہلے اسی ضلع کے 31 گاؤں کے قبائلیوں کے عظیم الشان اجلاس سے واقف نہیں تھے، جو کہ بی جے پی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت قبائلیوں کی ہے اور آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کے خزانے پر غریب قبائلیوں کا حق ہوگا یا اقلیتوں کا؟ شاہ نے مزید کہا کہ آدیواسیوں کے جل (پانی)، جنگل اور زمین کے ساتھ ساتھ مودی جی نے سلامتی، احترام اور جامع ترقی کا ایک نیا راستہ دیا۔ بی جے پی نے دروپدی مرمو کو صدر بنا کر قبائلیوں کی عزت افزائی کی۔

شاہ کے ساتھ مرکزی وزیر مملکت برائے اسٹیل پھگن فگن سنگھ کولستے بھی وزیر اعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر کے ساتھ ڈائس پر بیٹھے تھے۔ کولستے اسی منڈلا ضلع سے لوک سبھا کے رکن ہیں۔

کولستے کا تعلق منڈلا کے گاؤں موکاس کلاں سے ہے۔ اس سے تقریباً 16 کلومیٹر دور چک دیہی گاؤں میں پیر کو 31 گاؤں کے قبائلیوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا اور حاضرین میں سے نصف خواتین تھیں۔ یہ گاؤں والے اس لیے جمع ہوئے تھے کہ مجوزہ بسانیہ کثیر مقصدی پروجیکٹ کے لیے ان کے گاؤں میں زمین حاصل کی جانی ہے۔ اس کا نوٹیفکیشن ابھی منڈلا کلکٹر نے 31 اگست کو ہی جاری کیا ہے۔ اس میں منڈلا ضلع کے ایگزیکٹیو انجینئر کو اراضی حاصل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ ڈیم منڈلا ضلع کے گاؤں اوڈھاری ترقیاتی بلاک موہ گاؤں میں تعمیر کرنے کی تجویز ہے، جس سے 2735 خاندانوں کی 2443 ہیکٹر زرعی زمین ڈوب جائے گی۔ بسانیہ ڈیم کی وجہ سے تباہ ہونے والے تمام دیہاتوں کو آئین کے پانچویں شیڈول کے تحت مطلع کیا گیا ہے۔

قبل ازیں، جبل پور کے قریب برگی ڈیم کے بے گھر اور متاثرہ ایسوسی ایشن کے راج کمار سنہا کے مطابق مدھیہ پردیش حکومت نے 3 ستمبر 2015 کو زمین کے حصول، بازآبادکاری اور آبادکاری میں منصفانہ معاوضے اور شفافیت کے حق کے نفاذ کے لیے ایکٹ، 2013 پر عمل درآمد کرتے ہوئے قواعد جاری کیے ہیں۔

اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ زمین کے حصول سے پہلے گرام سبھا کی رضامندی لی جائے گی لیکن بسانیہ ڈیم کے معاملے میں اب تک کسی نے کسی گرام سبھا کی رضامندی تو دور گاؤں کے کسی قبائلی سے بات تک نہیں کی! مقامی میڈیا کے مطابق ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ ممبئی کی ایک کمپنی کو دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

اس علاقے سے جبل پور کے برگی ڈیم علاقے کا فاصلہ تقریباً 123 کلومیٹر ہے۔ اس ڈیم کے ڈوب علاقے کے لوگوں کا تجربہ اس قدر خوفناک ہے کہ مجوزہ بسانیہ ڈیم سے متاثر ہونے والوں کو اپنا مستقبل غیر یقینی نظر آ رہا ہے۔ برگی نے ریاست کے تین اضلاع جبل پور، منڈلا اور سیونی کے 162 گاؤں متاثر کیے تھے، جن میں سے 82 گاؤں مکمل طور پر ڈوب گئے تھے۔

اس کے نتیجے میں تقریباً 12,000 لوگ بے گھر ہوئے، جن میں سے ایک اندازے کے مطابق 43 فیصد آدیواسی، 12 فیصد دلت اور 38 فیصد پسماندہ ذاتیں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ اب بھی بے زمین ہیں کیونکہ انہیں ملنے والا معاوضہ اتنا کم تھا کہ دوسری جگہ زمین خریدنا ان کے لیے صرف ایک خواب ہے۔ اس لیے کھیتی باڑی کے ساتھ ان کا روزگار بھی ختم ہو گیا۔

اسی لیے بسانیہ ڈیم کے خلاف چک دیہی گاؤں میں پیر کو جو اجلاس منعقد ہوا وہ بی جے پی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اجلاس کے دوران مرکزی وزیر مملکت برائے اسٹیل کولستے کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ دراصل، کولستیوں کو ممتاز قبائلی رہنما سمجھا جاتا ہے۔ کولستے کے علاوہ اجلاس میں مقررین نے ملک کے تمام قبائلی ارکان پارلیمنٹ اور مدھیہ پردیش کے قبائلی ارکان اسمبلی کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے یہ ڈیم تجویز کیا گیا ہے وہ تمام قبائلی رہنماؤں کو خطوط لکھ رہے ہیں اور کئی بار ان سے بات کر چکے ہیں لیکن کوئی ان کی باتوں پر کان نہیں دھر رہا۔ کولستے پر ان کا غصہ خاص طور پر اس لیے تھا کہ وہ اسی منڈلا ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر بی جے پی کو قبائلی ووٹوں کی امید ہے، تو یہ محض دن میں خواب دیکھنے والی بات نظر آتی ہے۔

(یہ مضمون نوجیون پر ہندی میں شائع ہو چکا ہے)

جی-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نائیجیریا کے صدر کی آمد

0
جی-20-سربراہی-اجلاس-میں-شرکت-کے-لیے-نائیجیریا-کے-صدر-کی-آمد

نئی دہلی: نائجیریا کے صدر بولا احمد ٹینوبو جی -20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بدھ کی صبح ہندوستان پہنچ گئے ہیں۔ صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل نے پالم ملٹری ہوائی اڈے پر مسٹر بولا کا استقبال کیا۔

ایکس پر اطلاع دیتے ہوئے پروفیسر بگھیل نے کہا کہ جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے تمام سربراہان مملکت میں سے نائجیریا کے صدر بولا احمد ٹینوبو سب سے پہلے ہندوستان پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے حکومت ہند کی جانب سے ان کا استقبال کرنے کا موقع ملا۔ اتیتھی دیو بھوا کی روایت پر عمل پیرا اپنے ملک میں ہم ان کو دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

اس موقع پر نائجیریا کے وزیر خارجہ یوسف تگر اور ہندوستان میں نائجیریا کے ہائی کمشنر احمد سولے بھی موجود تھے۔ جی-20 سربراہی اجلاس 9 اور 10 ستمبر کو نئی دہلی میں ہو رہا ہے۔

سپریم کورت پہنچا مظفرنگر کے اسکول میں مسلم بچے کی پٹائی کا معاملہ، مہاتما گاندھی کے پڑپوتے نے کیا کارروائی کا مطالبہ

0
سپریم-کورت-پہنچا-مظفرنگر-کے-اسکول-میں-مسلم-بچے-کی-پٹائی-کا-معاملہ،-مہاتما-گاندھی-کے-پڑپوتے-نے-کیا-کارروائی-کا-مطالبہ

نئی دہلی: مظفر نگر کے ایک اسکول میں مسلم بچے کی پٹائی کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ جسٹس ابھے ایس اوکا کی بنچ بدھ 6 ستمبر 2023 یعنی آج اس سماعت کرے گی۔ مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ خاتون ٹیچر کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔

حال ہی میں اتر پردیش (یوپی) کے مظفر نگر کے نیہا پبلک اسکول، منصورپور میں ایک بچے کی پٹائی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہنگامہ ہو گیا تھا۔ بچے کے والد نے الزام لگایا کہ چونکہ وہ ایک خاص برادری سے تعلق رکھتا تھا، اس لیے ٹیچر نے بچے کو اس کے ہی ساتھی بچوں سے پٹوایا۔ دریں اثنا، ٹیچر ترپتا تیاگی نے اپنے دفاع میں کہا ’’بچے کے والدین نے بچے کو سختی کرنے کو کہا تھا کیونکہ وہ اپنا ہوم ورک نہیں کر رہا تھا۔ چونکہ وہ معذور ہے اس لیے اس نے بچوں سے اس کی پٹائی کرائی۔‘‘

ضلعی محکمہ تعلیم نے اس اسکول کو بند کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ مظفر نگر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے مطابق اس اسکول کی کا رجسٹریشن 2019 میں تین سال کے لیے ہوا تھا، جو 2022 میں ختم ہو چکا ہے، لیے اسے بند کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ جو بچے یہاں پڑھتے تھے انہیں دوسرے اسکولوں میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جب ملک بھر میں ہنگامہ ہوا تو پولیس نے ٹیچر کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔ پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کھوبا پور گاؤں کے استاد نے ایک طالب علم کے خلاف ہوم ورک نہ کرنے پر کلاس کے دیگر طلباء کو مارنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ایف آئی آر بچے کے والد کی شکایت پر درج کی گئی ہے۔

اس معاملے میں متاثرہ بچے نے کہا تھا ’’مجھے پہاڑا یاد نہیں تھا، اس لیے میرے ہم جماعت نے مجھے تھپڑ مارا۔ ٹیچر نے انہیں ایسا کرنے کو کہا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے ایک گھنٹے تک مارا۔‘‘ بچے کے کزن نے بتایا کہ وہ کسی کام سے اسکول گیا تھا، وہاں دیکھا کہ ٹیچر دوسرے بچوں سے بھائی کو تھپڑ مارنے کو کہہ رہی ہے۔

شمالی ہندوستان میں موسم میں تبدیلی، کئی ریاستوں میں 9 ستمبر تک موسلادھار بارش کی پیش گوئی

0
شمالی-ہندوستان-میں-موسم-میں-تبدیلی،-کئی-ریاستوں-میں-9-ستمبر-تک-موسلادھار-بارش-کی-پیش-گوئی

نئی دہلی: گرمی اور چلچلاتی دھوپ سے عوام کو ریلیف ملے گا کیونکہ موسم تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے اور ایک بار پھر بارش کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ محکمہ موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ آئندہ تین روز تک ملک کے کئی علاقوں میں بارش ہوگی۔ خلیج بنگال میں کم دباؤ کا علاقہ بننے کی وجہ سے 6 ستمبر سے 9 ستمبر کے درمیان اتر پردیش، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال، جنوبی ہندوستان اور شمال مشرقی ریاستوں میں شدید بارش ہو سکتی ہے۔

آئی ایم ڈی نے کہا کہ کم دباؤ کا علاقہ جنوبی اوڈیشہ اور شمالی آندھرا پردیش کے درمیان ساحل پر واقع ہے۔ محکمہ نے کہا کہ اس کے اثر سے اوڈیشہ میں تیز بارش، آندھی طوفان اور آسمانی بجلی گرنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے کہا کہ مغربی بنگال میں آسمانی بجلی اور آندھی طوفان کے باعث 6 سے 7 ستمبر کے دوران مغربی بنگال میں ہلکی سے درمیانی بارش ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اوڈیشہ، جھارکھنڈ اور انڈمان اور نکوبار میں شدید بارش کے امکانات ہیں۔ اس کی وجہ سے اوڈیشہ کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور شہری علاقوں میں ٹریفک جام ہونے کی وارننگ دی گئی ہے۔

مغربی اتر پردیش میں 6 ستمبر تک اور مشرقی اتر پردیش میں 6 اور 7 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کے امکانات ہیں۔ اس کے علاوہ، محکمہ موسمیات نے مشرقی راجستھان میں 7 اور 9 ستمبر کو اور اتراکھنڈ میں 8 اور 9 ستمبر کو ہلکی بوندا باندی سے درمیانی اور بھاری بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بھی لوگوں کو اگلے تین دن تک گرمی سے راحت ملے گی۔ 6 سے 9 ستمبر کے دوران بارش سے موسم خوشگوار رہے گا۔ آئی ایم ڈی نے بھی شدید بارش کی وارننگ دی ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں بھی 9 ستمبر تک بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ آسام اور میگھالیہ میں 8 اور 9 ستمبر کے دوران اور ناگالینڈ، منی پور، میزورم اور تریپورہ میں 7 سے 9 ستمبر کے دوران بارش متوقع ہے۔

انڈیا یا پھر بھارت، نیا تنازع کیا ہے؟

0
انڈیا-یا-پھر-بھارت،-نیا-تنازع-کیا-ہے؟

ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس ایک عرصے سے تمام سرکاری، سفارتی، قانونی اور دیگر استعمال میں "انڈیا” کا نام ہٹا کر "بھارت” کا استعمال کرنے کی مہم چلاتی رہی ہے۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انڈیا کی جگہ بھارت کا استعمال کیا جانا چاہئے۔ آج منگل 5 ستمبر کو بھارتی صدر دروپدی مرمو نے جی 20 سربراہی کانفرنس کے دوران سربراہان مملکت اور دیگر مہمانوں کو راشٹرپتی بھون میں 9ستمبر کو دیے جانے والے عشائیے کے دعوت نامے میں اپنے عہدے کے ساتھ ‘ری پبلک آف انڈیا’ کی جگہ پریسیڈنٹ آف دی ‘ری پبلک آف بھارت’ کا استعمال کیا ہے۔ صدردروپدی مرموکی جانب سے ‘بھارت’ لفظ کے استعمال کو ہندوتوا کی علمبردار تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی اپیل سے منسلک کرکے دیکھا جارہا ہے۔

گزشتہ ہفتے مشرقی ریاست آسام میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ صدیوں سے ہمارے ملک کا نام بھار ت ہے، انڈیا نہیں۔ انہوں نے کہا تھا، "ہمارے ملک کا نام بھارت ہے۔ اس لیے دنیا میں ہم خواہ کہیں بھی چلے جائیں، ملک کا نام کہنے، سننے اور لکھنے میں ہر جگہ بھارت ہی رہنا چاہئے۔”

انہوں نے مزید کہا تھا کہ "اگر کوئی اس کو سمجھ نہیں پاتا ہے تو آپ اس کی فکر بالکل نہ کریں۔ اگر سامنے والے کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی تو وہ خود ہی سمجھ لے گا۔ آج دنیا کو ہماری ضرورت ہے۔ ہم دنیا کے بغیر چل سکتے ہیں لیکن دنیا ہمارے بغیر نہیں چل سکتی۔” آر ایس ایس سربراہ نے واضح لفظوں میں کہا کہ "ملک کے لوگوں کو انڈیا کی جگہ بھارت کہنے کی عادت ڈال لینی چاہئے کیونکہ یہ نام قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ اس نام کو آگے بھی جاری رہنا چاہئے۔ اب ہر جگہ انڈیا کی جگہ بھارت کا استعمال کیا جانا چاہئے۔”

موہن بھاگوت کی اس اپیل کے بعد حکمراں بھارتیہ جنتاپارٹی اور آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں نے آئین سے انڈیا کا لفظ ہٹا نے کا مطالبہ تیز کر دیا ہے۔ سب سے پہلی آواز بی جے پی کی حکومت والی ریاست آسام کے وزیر اعلیٰ نے اٹھائی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ٹویٹ کرکے کہا، "ری پبلک آف بھارت۔ مسرت اور فخر کا مقام ہے کہ ہماری تہذیب امرت کال (دور آب حیات) کی جانب پوری قوت سے آگے بڑھ رہی ہے۔”

بی جے پی کے رکن پارلیمان ہرناتھ سنگھ یادو نے موہن بھاگوت کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہا، "لفظ بھارت سے جو جوش و خروش، جذبہ اور لگن دلوں میں پیدا ہوتا ہے وہ انڈیا سے کبھی نہیں ہوسکتا…انڈیا ایک گالی ہے جو برطانوی ہمارے لیے استعمال کرتے تھے۔ وہ اس لفظ کو ایسے شخص کے لیے استعمال کرتے تھے جسے وہ بداخلاق، بے وقوف اور مجرم سمجھتے تھے۔”

حکومت نے جی 20سربراہی اجلاس کے موقع پر غیر ملکی مندوبین کے لیے جو کتابچہ شائع کیا ہے اس میں بھی "بھارت” کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا عنوان ہے "بھارت۔ جمہوریت کی ماں”۔ اس میں بھارت کی ہزاروں سال پر محیط شاندار جمہوری قدروں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

صدر مرمو کی جانب سے سرکاری دعوت نامے پر ‘ری پبلک آ ف بھارت’ لکھے جانے کی اپوزیشن نے سخت مذمت کی ہے۔ کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے وزیر اعظم مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا، "مسٹر مودی تاریخ کو مسخ کرنے اور بھارت کو تقسیم کرنے میں مصروف ہیں…لیکن ہم انہیں ایسا کرنے نہیں دیں گے۔”

دہلی کی حکمراں عام آدمی پارٹی کے رہنما اور رکن پارلیمان سنجے سنگھ نے کہا کہ دراصل آر ایس ایس اور بی جے پی بھارتی آئین مرتب کرنے والی کمیٹی کے سربراہ بھیم راو امبیڈکر سے نفرت ہے، کیونکہ وہ دلت تھے۔

راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمان منوج جھا کا کہنا تھا، "چند ہفتے قبل ہم نے اپنے اتحاد کا نام INDIA رکھا اور بی جے پی نے اس سے گھبرا کربھارت کو ‘ری پبلک آف انڈیا’ کے بجائے ‘ری پبلک آف بھارت’ کہنا شروع کر دیا۔ آپ ہم سے نہ تو انڈیا لے سکیں گے اور نہ ہی بھارت۔”

خیال رہے کہ اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا تھا،” لڑائی NDA (حکمراں اتحاد) اور INDIA کے درمیان ہے، وزیر اعظم نریندر مودی اور انڈیا کے درمیان ہے، بی جے پی آئیڈیالوجی اور انڈیا کے درمیان ہے۔ اورآپ کو معلوم ہے کہ جب کوئی انڈیا کے خلاف کھڑا ہوتا ہے تو جیت کس کی ہوتی ہے۔”

’ہم پارلیمانی اجلاس میں عوامی ایشوز ضرور اٹھائیں گے‘، کانگریس صدر کی رہائش پر اِنڈیا اتحاد کی ہوئی میٹنگ میں عزم

0
’ہم-پارلیمانی-اجلاس-میں-عوامی-ایشوز-ضرور-اٹھائیں-گے‘،-کانگریس-صدر-کی-رہائش-پر-اِنڈیا-اتحاد-کی-ہوئی-میٹنگ-میں-عزم

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 18 سے 22 ستمبر تک منعقد ہونا ہے، لیکن اس کے ایجنڈے سے متعلق مرکزی حکومت نے کچھ بھی جانکاری نہیں دی ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں اس سے حیران ہیں اور آج انڈیا اتحاد کی پارٹیوں نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش پر اس سلسلے میں میٹنگ بھی کی۔ اس میٹنگ میں سبھی نے مل کر اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں وہ عوامی ایشوز ضرور اٹھائیں گے۔

کھڑگے کی رہائش پر منعقد میٹنگ میں جنتا دل یو لیڈر للن سنگھ، ٹی ایم سی لیڈر ڈیرک او برائن، این سی پی لیڈر سپریا سولے، شیوسینا یو بی ٹی لیڈر سنجے راؤت، سماجوادی پارٹی لیڈر رام گوپال یادو، ڈی ایم کے لیڈر ٹی آر بالو، عآپ لیڈر سنجے سنگھ اور جے ایم ایم لیڈر مہوا ماجی وغیرہ شریک ہوئے۔ اس میٹنگ کے تعلق سے کانگریس لیڈر گورو گگوئی نے کہا کہ ’’کانگریس صدر کھڑگے کے گھر پر اِنڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ کی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں سب کا یہی کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس کو طلب کیا جا رہا ہے، اس کی وضاحت حکومت نے اب تک نہیں دی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بی جے پی شفافیت کا مظاہرہ کرے اور ملک کو جانکاری دے کہ اس خصوصی اجلاس کا ایجنڈاے کیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ہم ملک کے مفاد میں موجودہ وقت کے اصل ایشوز کے حل کے لیے ایک مثبت اجلاس چاہتے ہیں۔‘‘

اس میٹنگ کے بارے میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ بھی کیا۔ اس پوسٹ میں پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے تعلق سے انھوں نے اپنا رد عمل بھی ظاہر کیا۔ انھوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ’’مودی حکومت پہلی بار ایجنڈا بتائے بغیر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کر رہی ہے۔ اس بارے میں کسی بھی اپوزیشن پارٹی سے کوئی مشورہ نہیں لیا گیا، اور نہ ہی کوئی اطلاع دی گئی۔ یہ جمہوریت کو چلانے کا طریقہ نہیں۔‘‘

اپنے پوسٹ میں کھڑگے نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بی جے پی مہنگائی، بے روزگاری، منی پور تشدد، چین کی حرکتوں، سی اے جی رپورٹس، گھوٹالے وغیرہ جیسے اہم مسائل کو کنارہ کر کے رکھنا چاہتی ہے اور عوام کو دھوکہ دینا چاہتی ہے۔‘‘ پھر وہ لکھتے ہیں ’’اِنڈیا اتحاد کی پارٹیوں نے خصوصی اجلاس میں شامل ہونے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم لوگوں کے مسائل اٹھانے سے باز نہیں آئیں گے۔ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم ان کی توجہ اپنی طرف کھینچیں۔‘‘

دہلی: اروندر سنگھ لولی کی قیادت میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ کی سالگرہ پر 7 ستمبر کو نکالی جائیں گی ریلیاں

0
دہلی:-اروندر-سنگھ-لولی-کی-قیادت-میں-’بھارت-جوڑو-یاترا‘-کی-سالگرہ-پر-7-ستمبر-کو-نکالی-جائیں-گی-ریلیاں

نئی دہلی: راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے ایک سال مکمل ہونے پر دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اروندر سنگھ لولی کی قیادت میں دہلی کے تمام 14 اضلاع میں ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔ پریس کانفرنس میں جانکاری دیتے ہوئے کانگریس سینئر لیڈر مکیش شرما نے کہا کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ہدایت پر یہ ریلیاں شام 5 سے 6 بجے کے درمیان منعقد کی جائیں گی۔ اروندر سنگھ لولی کے علاوہ ریلیوں میں پارٹی کے سینئر لیڈران اور کارکنان و ضلعی عہدیدران شرکت کریں گے۔

مکیش شرما نے بتایا کہ ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے ایک سال مکمل ہونے پر نہ صرف کانگریس کارکنوں میں بلکہ عوام میں بھی زبردست جوش و خروش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ریلیوں کی تیاریوں کے سلسلے میں آج خود اروندر سنگھ لولی نے کارکنان سے ملاقات کی ہے اور تمام ضلع صدور سے کہا گیا ہے کہ وہ زمینی سطح پر ان ریلیوں میں زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو شامل کریں۔

دہلی کی عوام تک محبت کا پیغام پہنچانے کے تعلق سے مکیش شرما نے کہا کہ کارکنان ریلی کے دوران اپنے ہاتھوں میں قومی پرچم ترنگا لہرائیں اور راہل گاندھی جی کے پیغام ’نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے‘، سماجی ہم آہنگی، امن، اتحاد اور یکجہتی کے پیغام کو دہلی کے عوام تک پہنچائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان ریلیوں کی تیاری کے لیے تمام اضلاع میں میٹنگوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ریلی کے لیے راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے نشان والے پلے کارڈز اور ہورڈنگز بڑے پیمانے پر تیار کیے گئے ہیں، جنہیں کارکن ہاتھوں میں اٹھائیں گے۔ تمام مذاہب اور ذاتوں کے علاوہ سماجی تنظیموں کے نمائندوں سے بھی ریلیوں میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔

مکیش شرما نے یہ بھی بتایا کہ دہلی کانگریس نئی دہلی کے کناٹ پلیس سے ریلی نکالنا چاہتی تھی۔ میں نے اس سلسلے میں خود نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سے فون پر تفصیلی بات چیت کی، لیکن G-20 سمٹ اور سیکورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کو اس کے لیے اجازت نہیں دی گئی۔ لہٰذا دہلی پردیش کانگریس نے فیصلہ لیا ہے کہ پارٹی نئی دہلی ضلع پولیس کے علاقے میں ریلی کا اہتمام نہیں کرے گی۔ پریس کانفرنس میں کانگریس کے سینئر لیڈر جے کشن، ویر سنگھ دھنگان اور دہلی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کے سابق لیڈر جتیندر کمار کوچر موجود تھے۔

’نوٹ پر ریزرو بینک آف انڈیا لکھا ہے، لگتا ہے تیسری نوٹ بندی ہوگی‘، انڈیا-بھارت تنازعہ پر سنجے سنگھ کا رد عمل

0
’نوٹ-پر-ریزرو-بینک-آف-انڈیا-لکھا-ہے،-لگتا-ہے-تیسری-نوٹ-بندی-ہوگی‘،-انڈیا-بھارت-تنازعہ-پر-سنجے-سنگھ-کا-رد-عمل

جی-20 اجلاس کی تیاریوں کے درمیان عشائیہ کے دعوت نامہ پر ’پریسیڈنٹ آف بھارت‘ لکھا جانا موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ برسراقتدار طبقہ سے تعلق رکھنے والے لیڈران اس کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ بیشتر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران انڈیا کے خلاف قدم اٹھائے جانے سے ناراض ہیں۔ اس درمیان عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے مودی حکومت تیسری نوٹ بندی کر دے گی، کیونکہ جو نوٹ ہیں اس میں لکھا ہے ’ریزرو بینک آف انڈیا‘۔ اس سے بھی انڈیا ہٹا دیں گے اور لوگوں سے کہیں گے کہ پہلے نوٹ جمع کرو۔‘‘

سنجے سنگھ نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے ایک تنازعہ پیدا کیا جا رہا ہے۔ مودی حکومت آئین سے انڈیا لفظ ہٹانا چاہتی ہے اور اس کی شروعات آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے کی۔ آر ایس ایس چیف نے کہا کہ انڈیا لفظ ہٹا دینا چاہیے، اور اس کے بعد مودی حکومت خبر اسپانسر کر رہی ہے کہ آئین سے ہی انڈیا لفظ غائب کر دیا جائے۔ عآپ رکن پارلیمنٹ کہتے ہیں کہ ’’میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ بابا صاحب سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہو؟ آر ایس ایس اور بی جے پی میں ایک مایوسی ہے کہ ان سے جڑا کوئی شخص مفکر نہیں بن گیا۔ کچھ لکھ نہیں پایا۔ اس لیے وہ لگے رہتے ہیں کہ کس طرح بابا صاحب کے لکھے کو ہٹایا جائے۔ آئین کے پہلے آرٹیکل میں ہی لکھا ہے ’انڈیا، دیٹ اِز بھارت وِل بی یونین آف اسٹیٹ‘۔‘‘

سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ پی ایم مودی کے دل میں دلتوں اور قبائلیوں کے تئیں جو نفرت ہے وہ اسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جہاں تک انڈیا اتحاد کا سوال ہے، ہم نے لکھا ’جڑے گا بھارت، جیتے گا انڈیا‘، اس لیے وہ اس کوشش میں لگے ہیں کہ انڈیا لفظ ہٹا دیں۔ آئی آئی ایم، ایمس اور اِسرو سب میں انڈیا ہے۔ یہ مودی حکومت کی جو ناپاک کوشش ہے، اس کی ہم مخالفت کریں گے اور بابا صاحب میں جن کا عقیدہ ہے وہ قطعی اسے برداشت نہیں کریں گے۔

ہم پارلیمنٹ میں مودی چالیسہ کے لیے نہیں بیٹھیں گے، ہم اجلاس کے ایجنڈے کا مطالبہ کریں گے: کانگریس

0
ہم-پارلیمنٹ-میں-مودی-چالیسہ-کے-لیے-نہیں-بیٹھیں-گے،-ہم-اجلاس-کے-ایجنڈے-کا-مطالبہ-کریں-گے:-کانگریس

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 18 ستمبر سے 22 ستمبر تک منعقد ہونے والا ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس نے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ کانگریس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ اس پارلیمانی اجلاس میں کانگریس اراکین پارلیمنٹ ’مودی چالیسہ‘ کے لیے نہیں بیٹھیں گے، بلکہ عوامی ایشوز پر بحث کا مطالبہ کریں گے۔

دراصل کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کی قیادت میں 5 ستمبر کو پارلیمانی اسٹریٹجک گروپ کی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کے بعد کانگریس لیڈران جئے رام رمیش اور گورو گگوئی نے پریس کانفرنس کر مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس نے مرکزی حکومت پر پارلیمانی اجلاس کے ایجنڈے سے متعلق ملک کو تاریکی میں رکھنے کا الزام لگایا۔

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس (کے ایجنڈے) کی جانکاری پہلے سے دی جاتی ہے، لیکن ہمیں اس سلسلے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ ہم اجلاس میں حصہ لینا چاہتے ہیں، لیکن اس میں عوامی ایشوز پر بھی بحث ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم پی ایم مودی چالیسہ کے لیے نہیں بیٹھیں گے۔ کیا ہم وزیر اعظم کی تعریف و توصیف کرنے اور واہ واہی کے لیے ہیں؟ ہم حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ پارلیمنٹ کے ایجنڈے کی جانکاری دی جائے۔ جیسا 5 اگست 2019 کو ہوا (آرٹیکل 370 ہٹانے کا فیصلہ) ویسا نہ ہو۔‘‘

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’اس اجلاس کے موضوعات سے متعلق ہمارے پاس کچھ بھی جانکاری نہیں ہے۔ پارلیمنٹری بلیٹن میں جو کچھ چھپا ہے وہ بھی دیکھنے لائق ہے۔ اس میں چھپا ہے- 18 تاریخ گورنمنٹ بزنس، 19 تاریخ گورنمنٹ بزنس، 20 تاریخ گورنمنٹ بزنس، 21 تاریخ گورنمنٹ بزنس، 22 تاریخ گورنمنٹ بزنس۔ یہ کیا یکطرفہ توپ چلائی جا رہی ہے؟ ہمیں ایجنڈے کے بارے میں کچھ بھی جانکاری نہیں ہے۔ کوئی صلاح و مشورہ نہیں، کوئی بات چیت نہیں، کوئی تبادلہ خیال نہیں۔‘‘

جی-20 سمیلن: مہمانوں کو پیش کیے جائیں گے طرح طرح کے پکوان، چاندی کے برتن میں دیا جائے گا کھانا

0
جی-20-سمیلن:-مہمانوں-کو-پیش-کیے-جائیں-گے-طرح-طرح-کے-پکوان،-چاندی-کے-برتن-میں-دیا-جائے-گا-کھانا

ہندوستان میں منعقد ہونے والے جی-20 سمیلن پر پوری دنیا کی نگاہ جمی ہوئی ہے۔ ہندوستان بھی اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ مہمانوں کے ٹھہرنے کے لیے خاص انتظام تو کیا ہی گیا ہے، ان کے کھانے کے لیے خصوصی تیاریاں کی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جو مینیو تیار کیا گیا ہے اس میں الگ الگ ممالک سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کے لیے الگ الگ پکوان تیار کیے جائیں گے۔ ان کے لیے باجرے سے اسپیشل مٹھائیاں بھی تیار کی گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ جی-20 کے لیے کئی ممالک کے سربراہان ہندوستان پہنچ رہے ہیں جو 8 سے 10 ستمبر تک منعقد ہوگا۔ ایسے میں ہندوستان بہترین میزبانی کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستان کھانے کے ذریعہ بھی اپنی ثقافتی وراثت ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہمانوں کے لیے صرف خاص پکوان ہی تیار نہیں کیے جائیں گے، بلکہ کھانا پیش کرنے کے لیے خاص برتن تیار کیے گئے ہیں جو کہ چاندی سے بنائے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جی-20 سمیلن کے لیے جئے پوری کی کمپنی آئی آر آئی ایس نے چاندی کے خاص برتن تیار کروائے ہیں۔ کئی کاریگروں نے رات دن محنت کر کے ہندوستان کی ’کثرت میں وحدت‘ کی تھیم ’فیوژن ایلیگینس‘ پر مبنی خاص برتن تیار کیے ہیں۔

سامنے آ رہی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ صبح کے ناشتہ کے لیے ’ہائی ٹی‘ سے لے کر دوپہر کے کھانے کے لیے الگ الگ انداز کے پکوان اور رات کے کھانے کے لیے خوبصورت پلیٹ، روٹی کے لیے باسکیٹ اور پھل کا خوبصورت باسکیٹ تیار کیا گیا ہے۔ جہاں جہاں بھی غیر ملکی مہمان قیام کریں گے، ان سبھی بڑے ہوٹلز میں یہ کراکری (برتن) پہنچی ہے تاکہ سبھی مہمانوں کو چاندی سے بنے برتن میں کھانا پیش کیا جائے۔

واضح رہے کہ آئی آر آئی ایس کمپنی گزشتہ کئی سالوں سے خاص تقاریب اور مہمانوں کے لیے برتن ڈیزائن کرتی رہی ہے۔ اس کمپنی کے مالک اور ڈیزائنر راجیو پابووال اور لکشیہ پابووال نے بتایا کہ مور سے لے کر مہراب ڈیزائن کے برتن بھی تیار کیے گئے ہیں جو دیکھنے میں کافی دلکش ہیں۔