پیر, مارچ 30, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 139

سپریم کورٹ نے لداخ ہل کونسل کے انتخابات کئے منسوخ، کمیشن پر جرمانہ عائد، نیا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم

0
سپریم-کورٹ-نے-لداخ-ہل-کونسل-کے-انتخابات-کئے-منسوخ،-کمیشن-پر-جرمانہ-عائد،-نیا-نوٹیفکیشن-جاری-کرنے-کا-حکم

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز لداخ ہل ڈیولپمنٹ کونسل (لداخ ہل کونسل) کے انتخابات کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ ایک عرضی پر دیا جس میں انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو ‘ہَل’ انتخابی نشان سے انکار کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ لداخ ہل کونسل کے انتخابات 10 ستمبر کو ہونے تھے، اس کا نوٹیفکیشن 5 اگست کو جاری کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے لداخ انتظامیہ کو ایک ہفتے میں انتخابات کے لیے تازہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سپریم کورٹ نے لداخ انتظامیہ پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ پہلے ہائی کورٹ اور اب سپریم کورٹ نے بھی اسے غلط قرار دیا ہے۔ عدالت نے گزشتہ سماعت کے دوران اس درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔

واضح رہے کہ ہل نیشنل کانفرنس کا رجسٹرڈ پارٹی نشان ہے لیکن لداخ الیکشن کمیشن نے پارٹی کو پہاڑی انتخابات میں اس کا استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ لداخ انتظامیہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس سمیت ریاستی پارٹیوں میں سے کوئی بھی لداخ میں ایک تسلیم شدہ سیاسی جماعت نہیں ہے اور اس لیے وہ ہل پر اپنے نشان کے طور پر دعویٰ نہیں کر سکتی۔ نیشنل کانفرنس نے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

بیٹی کی محبت کی شادی سے ناراض پورے کنبہ نے زہر کھایا، اجتماعی خودکشی کی کوشش میں 2 ہلاک

0
بیٹی-کی-محبت-کی-شادی-سے-ناراض-پورے-کنبہ-نے-زہر-کھایا،-اجتماعی-خودکشی-کی-کوشش-میں-2-ہلاک

گجرات کے احمد آباد ضلع میں ایک حیرت انگیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ بیٹی کے ذریعہ محبت کی شادی کرنے سے ناراض ایک کنبہ نے زہر کھا کر اجتماعی خودکشی کی کوشش کی۔ اس کوشش میں دو لوگوں کی موت ہو گئی ہے اور باقی کا علاج چل رہا ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکی کے والدین اور اس کے دو بھائیوں نے مبینہ طور پر زہر کھا لیا جس میں لڑکی کے والد اور ایک بھائی کی موت ہو گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈھولکا تھانہ کے ایک افسر نے بتایا کہ ایک لڑکی نے تقریباً ایک سال قبل دلت طبقہ کے ایک شخص سے لو میرج (محبت کی شادی) کر لی تھی۔ اس سے لڑکی کے والدین اور سبھی بھائی ناخوش تھے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ کرن راٹھوڑ (52 سال)، ان کی بیوی نیتابین (50 سال)، بیٹوں ہرش (24 سال) اور ہرشل (19 سال) نے منگل کی شب مبینہ طور پر زہر کھا لیا۔ افسر کا کہنا ہے کہ کرن راٹھوڑ اور اس کے بڑے بیٹے ہرش کی موت ہو گئی ہے، جبکہ بیوی اور چھوٹا بیٹا اسپتال میں زیر علاج ہے۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ’’پڑوسیوں نے واقعہ کے بارے میں پتہ چلتے ہی ایمبولنس بلائی اور پولیس کو خبر دی۔ انھیں پرائیویٹ اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے کَرن اور ان کے بڑے بیٹے کو مردہ قرار دے دیا۔ نیتابین اور ہرشل کا علاج اسپتال میں جاری ہے۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ کرن راٹھوڑ کی بیٹی کے سسرال والوں سمیت 18 لوگوں کے خلاف خودکشی کے لیے اکسانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات شروع ہو گئی ہے۔

ٹماٹر اور پیاز کے بعد اب چینی ہوئی مہنگی، اکتوبر 2017 کے بعد سب سے اونچی سطح پر پہنچی قیمت

0
ٹماٹر-اور-پیاز-کے-بعد-اب-چینی-ہوئی-مہنگی،-اکتوبر-2017-کے-بعد-سب-سے-اونچی-سطح-پر-پہنچی-قیمت

ہندوستان میں مہنگائی پر قابو پانے کی کوششیں ضرور کی جا رہی ہیں، لیکن اس میں کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ ضروریات کی کم و بیش سبھی چیزوں پر مہنگائی کی مار دیکھنے کو مل رہی ہے، لیکن رہ رہ کر کچھ خوردنی اشیا کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔ کچھ دنوں پہلے ٹماٹر کی قیمت بے تحاشہ بڑھ گئی تھی اور وہ باورچی خانوں سے تقریباً غائب ہو گیا تھا، پھر پیاز کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا، اور اب گزشتہ دو ہفتوں کے درمیان چینی کی قیمت میں 3 فیصد سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی کی قیمت اس وقت گزشتہ چھ سالوں میں اپنی اعلیٰ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ کاروباریوں اور صنعتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ملک کے اہم چینی پروڈیوسر علاقوں میں بارش کی کمی کے سبب گھبراہٹ کی حالت بنی ہوئی ہے، جو آئندہ سیزن میں پروڈکشن میں گراوٹ کا اشارہ دیتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو تہواروں کے پہلے چینی کی قیمتوں پر اس کا اثر دکھائی دے سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر سے شروع ہونے والے نئے سیزن میں چینی پروڈکشن 3.3 فیصد گھٹ کر 31.7 ملین میٹرک ٹن ہو سکتا ہے، کیونکہ کم بارش سے جنوبی ہند کی مغربی ریاست مہاراشٹر اور کرناٹک میں گنے کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، ان کا مجموعی ہندوستانی پیداوار میں نصف سے زیادہ کا حصہ ہے۔ اس درمیان چینی کی قیمت منگل کو بڑھ کر 37760 روپے فی میٹرک ٹن پر پہنچ گئی جو اکتوبر 2017 کے بعد سب سے اعلیٰ سطح ہے۔ حالانکہ ہندوستان میں چینی کی قیمت عالمی سفید چینی بنچ مارک کے مقابلے میں تقریباً 38 فیصد کم ہے۔

وَن نیشن، وَن الیکشن: سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی صدارت میں آج ہوگی کمیٹی کی پہلی میٹنگ

0
وَن-نیشن،-وَن-الیکشن:-سابق-صدر-جمہوریہ-رام-ناتھ-کووند-کی-صدارت-میں-آج-ہوگی-کمیٹی-کی-پہلی-میٹنگ

وَن نیشن-وَن الیکشن (ایک ملک-ایک انتخاب) کے لیے مرکزی حکومت کی طرف سے تشکیل کمیٹی کی آج پہلی میٹنگ ہونے والی ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ میٹنگ سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے گھر پر ہی ان کی صدارت میں کی جا سکتی ہے جس میں کمیٹی کے سبھی اراکین شامل ہوں گے۔ میٹنگ کس وقت شروع ہوگی، اس سلسلے میں مصدقہ طور پر کچھ بھی سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یہ ضرور بتایا جا رہا ہے کہ کمیٹی اراکین دوپہر بعد اس میٹنگ میں شریک ہونے کے لیے جمع ہو سکتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت نے لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں، نگر پالیکاؤں اور پنچایتوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے سے متعلق غور کرنے اور جلد از جلد سفارشات دینے کے لیے ہفتہ کو 8 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ وزارت قانون کے اعلیٰ افسران نے گزشتہ اتوار کو رام ناتھ کووند سے ملاقات کی تھی اور یہ جاننا چاہا تھا کہ وہ کمیٹی کے ساتھ ایجنڈے پر کس طرح سے آگے بڑھیں گے۔

وزارت قانون نے پہلے ہی یہ جانکاری فراہم کر دی ہے کہ اس کمیٹی کی قیادت سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کریں گے۔ کمیٹی میں وزیر داخلہ امت شاہ، راجیہ سبھا میں حزب مخالف کے سابق لیڈر غلام نبی آزاد، مالیاتی کمیشن کے سابق صدر این کے سنگھ، لوک سبھا کے سابق جنرل سکریٹری سبھاش سی کشیپ، سینئر وکیل ہریش سالوے اور سابق چیف وجلنس کمشنر سنجے کوٹھاری شامل ہیں۔ کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا لیکن انھوں نے اس دعوت کو نامنظور کرتے ہوئے کمیٹی سے خود کو کنارہ کر لیا ہے۔

منی پور تشدد رپورٹنگ معاملہ میں ایڈیٹرز گلڈ کے ارکان کو سپریم کورٹ سے راحت

0
منی-پور-تشدد-رپورٹنگ-معاملہ-میں-ایڈیٹرز-گلڈ-کے-ارکان-کو-سپریم-کورٹ-سے-راحت

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا (ای جی آئی) کے صدر اور تین ایڈیٹرز کے خلاف منی پور پولیس کی طرف سے ریاست میں جاری تشدد کے بارے میں مبینہ طور پر متعصبانہ اور غلط رپورٹ جاری کرنے کے سلسلے میں درج ایف آئی آر کے تعلق سے کسی بھی تعزیری کارروائی کے خلاف عبوری تحفظ فراہم کیا۔

چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس جے بی جسٹس پاردی والا اور منوج مشرا کی بنچ نے حکم دیا ’’لسٹنگ کی اگلی تاریخ تک درج کی گئی ایف آئی آر کے سلسلے میں درخواست گزاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔‘‘ کیس کی اگلی سماعت پیر 11 ستمبر کو ہوگی۔

منی پور حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ کنو اگروال نے عدالت سے درخواست کی کہ اس عرضی پر پیر کو سماعت کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسے ہائی کورٹ میں بھیجا جا سکتا ہے اور ہائی کورٹ اپنی میرٹ پر اس پر فیصلہ کر سکتی ہے۔ بنچ نے اشارہ دیا کہ وہ اس معاملے کو غور کے لیے منی پور ہائی کورٹ کو بھیج سکتی ہے۔ اس پر ای جی آئی کی طرف سے تشکیل دی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ارکان کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل شیام دیوان نے کہا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ این برین سنگھ نے ذاتی طور پر پریس کانفرنس کی اور بیان دیا۔

قبل ازیں، صبح کے وقت سپریم کورٹ نے ای جی آئی کے صدر اور تین ایڈیٹرز – سیما گوہا، بھارت بھوشن اور سنجے کپور کی طرف سے دائر رٹ پٹیشن پر فوری سماعت کرنے پر اتفاق کیا، جس میں درخواست گزاروں کو ذات پات کے تشدد کی میڈیا رپورٹس اور حالات کے پہلوؤں کا مطالعہ کرنے کی ہدایت کی درخواست کی گئی تھی۔ گزشتہ ماہ منی پور پولیس کی جانب سے شمال مشرقی ریاست کے دورے کے بعد درج کی گئی ایف آئی آر کو چیلنج کیا گیا تھا۔

درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے دیوان نے کہا ’’اس معاملے میں ایک بہت سنگین عجلت ہے۔ بنیادی طور پر ہم گرفتاری اور تعزیری اقدامات سے فوری تحفظ چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کے مؤکلوں کو منی پور پولیس کی طرف سے گرفتاری کا خدشہ ہے۔

ای جی آئی کی تین رکنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے منی پور کا دورہ کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں اپنی رپورٹ شائع کی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ منی پور میں نسلی تشدد پر میڈیا رپورٹس جانبدار اور منصفانہ نہیں ہیں اور ریاستی قیادت پر جانبدار ہونے کا الزام لگایا۔

ای جی آئی کی 24 صفحات پر مشتمل رپورٹ نے اپنے نتائج اور سفارشات میں کہا، "ریاستی حکومت کو نسلی تنازعہ میں فریق بننے سے گریز کرنا چاہیے تھا لیکن یہ ایک جمہوری حکومت کے طور پر اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہی، جسے پوری ریاست کی نمائندگی کرنی چاہیے تھی۔‘‘

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ای جی آئی کی رپورٹ میں منی پور کے چورا چاند پور ضلع میں ایک جلتی ہوئی عمارت کی تصویر ہے جس کا عنوان ’کوکی ہاؤس‘ دیا گیا ہے۔ تاہم، یہ عمارت محکمہ جنگلات کا دفتر تھا، جسے 3 مئی کو ایک ہجوم نے آگ لگا دی تھی، ریاست کے دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ ضلع میں بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑا تھا۔

تاہم، ای جی آئی نے اتوار کو ایک (سابقہ ​​ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا ’’2 ستمبر کو جاری ہونے والی رپورٹ میں تصویر کے کیپشن میں ایک غلطی تھی۔ اسے درست کیا جا رہا ہے اور جلد ہی اس لنک پر اپڈیٹ شدہ رپورٹ اپ لوڈ کی جائے گی۔ تصویر کی ایڈیٹنگ کے مرحلے پر ہونے والی غلطی کے لیے معذرت خواہ ہیں۔‘‘

’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کے ذریعے حزب اختلاف کی حکومت گرائی جائے گی، راکیش ٹکیت کا مرکزی حکومت پر حملہ

0
’ایک-ملک،-ایک-انتخاب‘-کے-ذریعے-حزب-اختلاف-کی-حکومت-گرائی-جائے-گی،-راکیش-ٹکیت-کا-مرکزی-حکومت-پر-حملہ

مظفرنگر: ملک میں ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ پر جاری بحث کے درمیان بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ یہ حزب اختلاف کی حکومت کو گرانے کی ایک سازش ہے۔ راکیش ٹکتی نے کہا کہ ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ سے مرکز صدر ہند کو زیادہ طاقت فراہم کرے گا اور جہاں حزب اختلاف کی حکومت ہوگی اسے گرا دیں گے۔ حزب اختلاف کی حکومت کو ایک سال میں گرا کر 4 سال کر صدر راج نافذ کر کے اس پر حکمرانی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ 2 ستمبر کو مرکزی حکومت نے ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کے امکابات تلاش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیی ہے۔ تشکیل شدہ آٹھ رکنی کمیٹی کا چیئرمین سابق صدر رام ناتھ کووند کو بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد سے حزب اختلاف کی جانب سے حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔

’ایک ملک، ایک انتخاب‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے مزید کہا کہ جس کو انتخاب لڑنا ہے یہ ان کا انتخاب ہے۔ حکومت اگر کچھ ٹھیک کرے گی تو عوام اس کے ساتھ چلی جائے گی اور اگر ٹھیک نہیں کرے گی تو عوام دوسری طرف چلے جائیں گے۔

جی-20 کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے راکیش ٹکیٹ نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی پروگرام ہے جو کبھی کسی ملک میں ہوتا ہے اور کبھی کسی دوسرے ملک میں۔ اس بار اس کا میزبان ہندوستان ہے۔ اس کا بڑا پیغام پوری دنیا میں جاتا ہے۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہمارا بھی ایک بین الاقوامی پروگرام ہے، اس بار بین الاقوامی پروگرام ہندوستان میں ہوگا، 800 کے قریب کسان مندوبین ہندوستان تشریف لائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کو مضبوط ہونا چاہیے، اپوزیشن کمزور ہوگی تو آمر پیدا ہوں گے۔ سب سے زیادہ قبضہ کرنے والے بی جے پی اور سنگھ کے لوگ ہیں، اپنی زمین کو ان سے بچائیں۔

بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان ٹکیت نے کہا کہ اتحاد کو متحد ہو کر لڑنا ہوگا۔ اپوزیشن تحریک کے لیے راستہ تیار کرے۔ اگر مرکزی حکومت کی کوتاہی ہے تو اس کے خلاف احتجاج ہونا چاہیے۔ مسائل صرف کسان تنظیموں کے نہیں ہیں اور بھی بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ اپوزیشن کو سڑک پر آنے کی ضرورت ہے۔ گھر میں سونے سے کام نہیں چلے گا، جدوجہد شروع کرنی ہوگی۔

سونیا گاندھی نے وزیر اعظم مودی کے نام لکھا خط، پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا ایجنڈا واضح کرنے کا مطالبہ

0
سونیا-گاندھی-نے-وزیر-اعظم-مودی-کے-نام-لکھا-خط،-پارلیمنٹ-کے-خصوصی-اجلاس-کا-ایجنڈا-واضح-کرنے-کا-مطالبہ

نئی دہلی: مودی حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے، جوکہ 18 سے 22 ستمبر تک جار رہے گا۔ تاہم حکومت کی طرف سے اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی کہ اس اجلاس کا ایجنڈا کیا ہے۔ حزب اختلاف مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ حکومت اس ایجنڈے کو ظاہر کرے۔ سونیا گاندھی نے اس سلسلے میں وزیر اعظم مودی کے نام خط تحریر کیا ہے۔ جس میں انہوں نے خصوصی اجلاس کا ایجنڈا طلب کیا ہے۔

سونیا گاندھی نے اپنے خط میں کہا کہ اپوزیشن کو خصوصی اجلاس کے ایجنڈے کا علم نہیں ہے۔ عام طور پر خصوصی اجلاس سے پہلے بات چیت ہوتی ہے اور اتفاق رائے قائم کیا جاتا ہے۔ اس کا ایجنڈا بھی پہلے سے طے ہوتا ہے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اجلاس طلب جا رہا ہے اور ایجنڈا طے نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔

سونیا نے کہا کہ اس خصوصی اجلاس کے تمام پانچ دن سرکاری کاروبار کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ افسوسناک کی بات ہے۔ انہوں نے پی ایم مودی کو لکھے گئے خط میں نو مسائل اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف ان 9 مسائل پر بات چیت چاہتی ہے۔ ان میں مہنگائی، ایم ایس ایم ای، بے روزگاری، کسانوں کے مطالبات، اڈانی مسئلہ پر جے پی سی کا مطالبہ، ذات پر مبنی مردم شماری، مرکز-ریاست کے تعلقات، چین سرحد اور سماجی ہم آہنگی شامل ہیں۔

سونیا گاندھی نے خط میں کہا کہ ’’مجھے پوری امید ہے کہ آئندہ خصوصی اجلاس میں تعمیری تعاون کے جذبے سے ان مسائل کو اٹھایا جائے گا۔‘‘ دریں اثنا، کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’انڈیا اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کریں گے کیونکہ یہ اپوزیشن کے لیے اپنے مسائل اٹھانے کا موقع ہے۔‘‘

منی پور تشدد: ایڈیٹرز گلڈ کی سپریم کورٹ میں عرضی، ارکان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا مطالبہ

0
منی-پور-تشدد:-ایڈیٹرز-گلڈ-کی-سپریم-کورٹ-میں-عرضی،-ارکان-کے-خلاف-درج-ایف-آئی-آر-کو-منسوخ-کرنے-کا-مطالبہ

نئی دہلی: صحافیوں کی تنظیم ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا (ای جی آئی) نے منی پور حکومت کی طرف سے اپنے ارکان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ای جی آئی کی عرضی میں سپریم کورٹ سے کہا گیا ہے کہ اس کے ارکان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کیا جائے۔ عدالت عظمیٰ نے آج ہی اس معاملہ پر سماعت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

منی پور حکومت نے ‘ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا’ کے خلاف گزشتہ کئی مہینوں سے تشدد کی آگ میں جل رہے منی پور میں تشدد اور تناؤ کی صورتحال پر رپورٹنگ کرنے پر ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ جن ارکان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی وہ حالیہ ذات پات کے تنازعہ کی میڈیا رپورٹنگ کے لیے منی پور گئے تھے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ ای جی آئی ٹیم کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ ’فرضی، من گھڑت اور سپانسرڈ‘ ہے۔ منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے کہا تھا کہ منی پور حکومت نے ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے ارکان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ ان کے مطابق وہ ریاست منی پور میں مزید تصادم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ای جی آئی کی منی پور رپورٹ میں چورا چاند پور ضلع میں ایک جلتی ہوئی عمارت کی تصویر کو ’کوکی ہاؤس‘ کہا گیا ہے۔ جبکہ یہ عمارت محکمہ جنگلات کا دفتر تھی جسے 3 مئی کو ہجوم نے آگ لگا دی تھی۔ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے ہفتہ (2 ستمبر) کو جاری ہونے والی اپنی منی پور رپورٹ میں کہا کہ اس بات کے واضح اشارے ملے ہیں کہ ریاست کی قیادت نسلی تصادم کے دوران متعصب ہو چکی ہے۔ اس نے ریاست کی قیادت پر کئی تبصروں کے درمیان اپنے اختتامی خلاصے میں کہا کہ اسے نسلی تصادم میں فریق بننے سے گریز کرنا چاہیے تھا لیکن یہ ایک جمہوری حکومت کے طور پر اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہی۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد ای جی آئی نے اتوار کو ایکس (ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں اپنی منی پور رپورٹ میں غلطی کو تسلیم کیا اور کہا کہ ’’اسے درست کیا جا رہا ہے اور جلد ہی منی پور کی تازہ ترین رپورٹ اپ لوڈ کی جائے گی۔ ہمیں تصویر کی ایڈیٹنگ میں ہونے والی غلطی پر افسوس ہے۔‘‘

والدین کے انتقال کے بعد بھی گلفشاں کی ہمت نہ ٹوٹی، جج بن کر دیوبند کا سر فخر سے کیا بلند

0
والدین-کے-انتقال-کے-بعد-بھی-گلفشاں-کی-ہمت-نہ-ٹوٹی،-جج-بن-کر-دیوبند-کا-سر-فخر-سے-کیا-بلند

اتر پردیش میں حال ہی میں جج کے امتحان ’پی سی ایس جے‘ کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں دیوبند کی گلفشاں پروین نے کامیابی حاصل کر کے ایک بہت ہی متاثر کن پیغام دیا ہے۔ گلفشاں کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا اس کے باوجود لڑکی نے ہمت نہیں ہاری۔ نتیجہ آنے کے بعد گلفشاں نے خود یہ اطلاع اپنے بھائی کو دی تو دونوں بہن بھائی فون پر روتے رہے۔ گلفشاں پروین کا تعلق انتہائی پسماندہ گھرانے سے ہے اور وہ دیوبند کے گوجرواڑا علاقے میں رہتی ہیں۔

خاص بات یہ ہے کہ پی سی جے کی اس کامیابی کے لیے گلفشاں نے کوئی کوچنگ نہیں لی اور تمام تیاری اپنے دم پر کی۔ گلفشاں نے رام منوہر لوہیا لا کالج، لکھنؤ سے تعلیم حاصل کی ہے اور اس سے قبل ‘سی ایل ای ٹی’ (قانون کی تعلیم کے لیے ایک داخلہ امتحان) پاس کر چکی تھیں۔

پڑھائی میں ذہین گلفشاں کو مبارکباد دینے والوں کا تانتا لگا ہوا ہے ۔ دیوبند، جسے دینی تعلیم کا مرکز قرار دیا جاتا ہے، وہاں نامساعد حالات میں آگے بڑھنے والی اس بیٹی کی کامیابی سے بچے بچیاں تحریک حاصل کر رہے ہیں۔ گلفشاں تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں اور احساس ذمہ داری نے انہیں مزید پختہ کر دیا ہے۔ خاندان سے متعلق فیصلے وہ خود ہی کرتی رہی ہیں۔

گلفشاں کے بھائی ندیم احمد کا کہنا ہے کہ ’’میری والدہ اور والد کے انتقال کے بعد ہم تینوں بہن بھائیوں کی شادی بھی نہیں ہوئی۔ میری ایک اور چھوٹی بہن ہے۔ ایسے حالات میں آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کوچنگ کے بغیر یہ کامیابی حاصل کرنا کتنا مشکل رہا ہوگا۔ ہمیں باجی کی کامیابی پر فخر ہے۔ جب انہوں نے مجھے فون کر کے بتایا کہ ندیم میں نے کوالیفائی کر لیا ہے تو میرے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا، اس کے بعد کچھ دیر تک ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی، ہم دونوں فون پر رونے لگے۔ میری چھوٹی بہن بھی میرے پاس آئی اور وہ بھی رونے لگی۔ درد یہ بھی تھا کہ یہ میری والدہ اور والد صاحب کا خواب تھا اور وہ اسے پورا دیکھنے کے لیے موجود نہیں تھے۔ میرے والد مرسلین کا انتقال ایک سال قبل ہی ہوا ہے۔‘‘

ایک ہونہار طالبہ گلفشاں بھی اپنی کامیابی پر بہت جذباتی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ سب ان کے والدین کی پرورش اور اللہ کے کرم کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہ ’’جب ہمارے اردگرد کی لڑکیاں پانچویں جماعت کے بعد اسکول چھوڑ دیتی تھیں تو میرے والد نے مجھے انگلش میڈیم اسکول میں پڑھایا۔ 12ویں کے بعد انہوں نے مجھے لکھنؤ میں پڑھنے کے لیے بھیجا اور تمام منفی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی۔‘‘

گلفشاں نے مزید کہا ’’مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ میرے والد کی سوچ اور لگن نے مجھے یہاں تک پہنچایا ہے۔ کتابوں کی اپنی جگہ ہے اور تعلیمی نظام کی بھی لیکن جو چیز سب سے اہم ہے وہ اعتماد ہے۔ میرے خاندان نے اسے ثابت کر کے دکھایا۔ میں دن میں 10 گھنٹے پڑھتی تھی لیکن 24 گھنٹے میرے ذہن میں سب کچھ گھومتا رہتا تھا۔‘‘

غورطلب ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں مغربی اتر پردیش کے ان علاقوں میں تین درجن سے زیادہ مسلم لڑکیوں نے جوڈیشل سروسز میں کامیابی حاصل کر کے ایک مثال قائم کی ہے۔ میرٹھ کی ندا، ہما، فرحین، حنا، کوثر، بشریٰ نور، مظفر نگر کی زینت، مہناز، سہارنپور کی فرحہ اور عائشہ کے علاوہ اتراکھنڈ سے تعلق رکھنے والی تین مسلم لڑکیاں جج بن چکی ہیں۔ میرٹھ میں ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ چلانے والے سرفراز رانا کا کہنا ہے کہ ’’خاص طور پر مسلم لڑکیوں میں جوڈیشل سروسز کے تئیں بہت زیادہ رجحان ہے۔ پہلے اس طرح کا رجحان ٹیچر بننے یا بینک میں نوکری حاصل کرنے کی طرف دیکھا جاتا تھا لیکن اب کہانی بدل گئی ہے۔ ایک سال میں 100 سے زائد لڑکیاں عدالتی خدمات کی تیاریوں کے لیے کوچنگ لینے کی خواہش کا اظہار کرتی ہیں۔‘‘

گلفشاں کو مبارکباد دینے پہنچیں سماجوادی پارٹی لیڈر اقرا حسن کا کہنا ہے کہ ’’وہ اس کامیابی سے بہت خوش ہیں جو مسلم لڑکیوں کو مل رہی ہے۔ اس سے پہلے اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں اچھے نتائج سامنے آتے رہے ہیں۔ آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ راجستھان، جھارکھنڈ اور دہلی میں جوڈیشل سروس میں مسلم لڑکیوں کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے، یہ بہت اچھی علامت ہے اور اس سے سماج کی پسماندگی ختم کرنے اور تعلیم کے تئیں نظریہ تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘

اقرا نے مزید کہا ’’گلفشاں نے انتہائی مشکل حالات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جب عورت گھر کے اندر رہتی ہے تو ہم خود ترقی کی اپنی آدھی امیدیں ختم کر دیتے ہیں۔ گلفشاں نے یہ کامیابی پہلی ہی کوشش میں حاصل کی ہے۔ یہ بہت مثبت ہے اور امید ہے کہ دیوبند اور ملک بھر کی بیٹیاں اس سے متاثر ہوں گی۔‘‘

‘منی پور میں تشدد کا سلسلہ جاری، بی جے پی کی نظر میں حالات معمول پر’، کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ

0
‘منی-پور-میں-تشدد-کا-سلسلہ-جاری،-بی-جے-پی-کی-نظر-میں-حالات-معمول-پر’،-کانگریس-کا-مودی-حکومت-پر-حملہ

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے منی پور کی وادی امپھال کے پانچوں اضلاع میں کرفیو نافذ ہونے کے بعد ایک بار پھر مودی حکومت پر تنقید کی ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ شمال مشرقی ریاست میں چار ماہ گزرنے کے بعد بھی تشدد کا سلسلہ جاری ہے لیکن بی جے پی کی ڈبل انجن والی حکومت کی نظر میں حالات ’معمول‘ ہیں!

قومی راجدھانی دہلی میں جی 20 سربراہی اجلاس کی تیاریوں کے درمیان مرکز پر طنز کرتے ہوئے کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا ’’جی 20 (سربراہی اجلاس) نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے، جبکہ اگلے وادی امپھال کے پانچوں اضلاع میں آئندہ پانچ دن تک کرفیو نافذ رہے گا۔ تشدد کا سلسلہ چار ماہ گزرنے کے بعد بھی جاری ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی ڈبل انجن والی حکومت کے لیے منی پور میں صورتحال ‘معمول’ پر ہے!‘‘

جے رام رمیش نے یہ تبصرہ احتیاطی اقدام کے طور پر اگلے 5 دنوں کے لیے وادی امپھال کے پانچوں اضلاع میں کرفیو نافذ کیے جانے کے بعد کیا۔ خیال رہے کہ نظم و نسق کے سنگین مسائل کے خدشے کے پیش نظر منی پور حکومت نے بدھ کے روز وادی کے زیر انتظام پانچ میتئی اکثریتی اضلاع میں کرفیو میں دی گئی نرمی کو منسوخ کر دیا۔ انتظامیہ نے کوآرڈنیشن کمیٹی آن منی پور انٹیگرٹی رابطہ کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کے پیش نظر بڑے پیمانے پر حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔

میتی کمیونٹی کی اس سرکردہ تنظیم اور اس کی خواتین ونگ نے بدھ کے روز قبائلی اکثریتی ضلع چوراچاند پور سے چند کلومیٹر دور بشنو پور ضلع کے فوگاک چاؤ ایکھائی میں فوجی رکاوٹ کو ہٹانے کے لیے ایک احتجاجی مارچ کا اعلان کیا۔ حکام نے بتایا کہ وادی کے تمام پانچ اضلاع – بشنو پور، کاکچنگ، تھوبل، امپھال ویسٹ اور امپھال ایسٹ میں مکمل کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور احتیاطی اقدام کے طور پر منگل کی شام سے ہی مختلف اضلاع میں سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی نفری کو تعینات کیا گیا ہے۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے وادی کے پانچوں اضلاع میں صبح پانچ بجے سے شام چھ بجے تک کرفیو میں نرمی دی گئی تھی۔ منی پور میں 3 مئی کو پرتشدد نسلی جھڑپیں ہوئیں اور اس کے بعد سے اب تک سینکڑوں لوگ مارے جا چکے ہیں، جب کہ ہزاروں لوگ ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔