پیر, مارچ 30, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 138

عیدمیلادالنبی کاجلوس امسال گنپتی وسرجن سے ایک روز بعد نکالنے کا فیصلہ

0
عیدمیلادالنبی-کاجلوس-امسال-گنپتی-وسرجن-سے-ایک-روز-بعد-نکالنے-کا-فیصلہ

عیدمیلادالنبی کاجلوس امسال گنپتی وسرجن سے ایک روز بعد نکالے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اورآل انڈیا خلافت کمیٹی کے تحت علمائے کرام ، معزز شہریوں اور سماجی کارکنوں کے ایک مشاورتی جلسہ میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ اجلاس میں مذکورہ فیصلہ لیا جبکہ میلاد النبی کے جشن اور جلوس کے موقع پر ہرطرح کی خرافات سے بچنے کی تلقین مولانا معین اشرف نے کی ہے۔

واضح رہے کہ امسال 28 ستمبر کو برادران وطن اور خصوصی طور پر گنپتی وسرجن پیش آرہا ہے ،اور قمری کیلنڈر کے مطابق اسی روز میلاد النبی کی تعطیل بھی واقع ہو رہی ہے،اس لیے آپسی اتحاد و اتفاق کے تحت خلافت کمیٹی کے چیئرمین سرفراز آرزونے مشاورتی اجلاس طلب کیا اور اتفاق رائے سے میلاد النبی کے جلوس کو ایک دن ملتوی کرنے کا فیصلہ لیا گیا ۔ امسال جلوس 29 ستمبر بروز جمعہ کو خلافت ہاؤس سے تاریخی اہمیت کا جلوس نکلے گا اور عروس البلاد میں نکالے جانے والے دیگر جلوس بھی ملتوی کردیئے گئے ہیں۔اس سلسلہ میں برادران وطن میں ایک اچھا پیغام بھی جائے گا۔

اس موقع پر معین الدین اشرف نے اپیل کی اور علمائے سے بھی گذارش کی کہ میلاد النبی کے موقع پر دس بارہ روز ہونے والے واعظ میں نوجوانوں کو ہدایات جاری کریں تاکہ جلوس کی خرافات کو روکا جاسکے۔ اپنی تقریر کے دوران ایم پی سی سی کے کارگزار صدر اور سابق وزیر عارف نسیم خان نے  عادات کے مسئلہ کو اٹھایا اور کہاکہ محسن انسانیت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سیرت اور ہدایات پر عمل کرنے کے بجائے نوجوان  ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں،جو حضور کی تعلیمات سے منافی ہوتی ہیں۔بھیونڈی کے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے بھی حالات کے مطابق عمل کرنے کا مشورہ دیا تاکہ کسی بھی طرح کا تنازع اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا نہ ہوسکے۔این سی پی کے قومی ترجمان نسیم صدیقی نے اسے ایک اچھا اور دانشمندانہ اقدام قراردیا۔

رضا اکیڈمی کے روح رواں سعید نوری نے بھی جلوس کو ملتوی کرنے کی تجویز کی حمایت کی اور کہاکہ اس کے بہتر اثرات ہوں گے۔خلافت کمیٹی کے چیئرمین سرفراز آرزونے کہاکہ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ اہمیت کا حامل ہے۔

منی پور تشدد کی رپورٹ شائع کرنے پر صحافیوں کے خلاف مقدمہ

0
منی-پور-تشدد-کی-رپورٹ-شائع-کرنے-پر-صحافیوں-کے-خلاف-مقدمہ

سپریم کورٹ نے بھارتی صحافیوں کی تنظیم ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کی عرضی پر بدھ 6 ستمبر کو ہنگامی سماعت کرتے ہوئے ہوئے اس کے چار اراکین کے خلاف کسی بھی طرح کی پولیس کارروائی پر فوری روک لگانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 11ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

منی پور کی بی جے پی حکومت نے ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے چار عہدیداروں کے خلاف ‘دو فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے’سمیت کئی الزامات کے تحت دو کیس دائر کیے تھے۔ منی پور کے وزیر اعلی این بیرین سنگھ نے کہا تھا کہ ریاست میں ‘تشدد کے لیے مشتعل کرنے’ کے الزام میں گلڈ کے صدر اور تین اراکین کے خلاف کیس دائر کیے گئے ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف ایک دوسرا کیس ہتک عزت کے سلسلے میں بھی دائر کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے اس حوالے سے ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے چاروں صحافیوں کو عارضی راحت دے دی۔

پریس گلڈ آف انڈیا کے اراکین کے خلاف منی پور حکومت کی جانب سے مقدمہ درج کرانے کی بھارت کی متعدد صحافتی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے۔ پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت لکھیڑا نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کہ تشدد زدہ منی پور میں امن وامان بحال کرنا ریاستی حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے اس وقت وہ حقائق کو کچلنے کی قصداً کوشش کررہی ہے۔ وہ قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے حقائق کو منظر عام پر لانے والوں کو ہی نشانہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے پریس گلڈ آف انڈیا کی کوششوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بیرین سنگھ حکومت کا اقدام صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش ہے۔ جس کی پرزور مذمت کی جانی چاہئے۔ دہلی یونین آف جرنلسٹس نے بھی منی پور حکومت کے اقدام کی مذمت کی ہے۔ اس نے ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ چاروں صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر فوراً واپس کی جائے۔ پریس کلب آف ممبئی، انڈین وومن پریس کارپس نے بھی صحافیوں کے خلاف کارروائی کی مذمت کی ہے۔

پریس گلڈ آف انڈیا کے عہدیداروں سیما گوہا، سنجے کپور، بھارت بھوشن اور اس کی صدر سیما مصطفی نے اگست کے پہلے ہفتے میں منی پور کا دورہ کیا اور متعدد صحافیوں، سول سوسائٹی کے اراکین، تشدد سے متاثرہ خواتین، قبائلی رہنماوں اور سیکورٹی فورسز کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے اپنی تفتیش کی بنیاد پر 24صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ 2ستمبر کو جاری کی لیکن اس کے بعض نتائج پر منی پور حکومت نے سخت اعتراض کیا اور چاروں صحافیوں کے خلاف کیس دائر کردیا۔

دراصل رپورٹ شائع ہونے کے بعد منی پور کے ایک شخص نے شکایت کی کہ رپورٹ میں جس جلتے ہوئے مکان کو کوکی قبیلے کے ایک شخص کا بتایا گیا ہے وہ ریاستی حکومت کے ایک محکمے کا دفتر تھا۔ ایڈیٹرز گلڈ نے اپنی بھول تسلیم کرتے ہوئے ترمیم شدہ رپورٹ ایکس پر شائع کی۔ لیکن وزیر اعلیٰ بیرین سنگھ نے پریس کانفرنس طلب کرکے ان صحافیوں پر کیس دائر کرنے کا اعلان کردیا۔

رپورٹ میں گلڈ نے تشدد کے دوران ریاست کی قیادت پر جانبداری کا الزام لگایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے ایک فریق کا ساتھ دیا اور اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ رپورٹ کے مطابق”آج حال یہ ہے کہ ریاستی دارالحکومت امپھال میں اب ایک میتئی سرکار، میتئی پولیس اور میتئی بیوروکریسی ہے اور پہاڑوں میں رہنے والے کوکی قبائل کو ان پر ذرا بھی بھروسہ نہیں ہے۔”

رپورٹ میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ منی پور میں تشدد کے دوران ریاست کے صحافیوں نے یک طرفہ رپورٹیں لکھیں، جنہیں ان کے مدیران نے مقامی انتظامیہ، پویس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے ساتھ بات کرکے دوبارہ تصدیق نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق حالانکہ تشدد کی وجہ سے یہ ممکن بھی نہیں تھا۔

منی پور میں میڈیا کے منظر نامے کا ذکر کر تے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ میڈیا ادارے میتئی اکثریتی علاقے امپھال میں ہیں اور تشدد کے دوران یہ "میتئی میڈیا”میں تبدیل ہوگیا تھا۔انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں رہنے والے صحافیوں کے لیے اپنے دفتر سے رابطہ کرنا ممکن نہیں تھا۔لیکن اگر ان کی رپورٹ کسی طرح پہنچ بھی جاتی تھی تو اخبارات اس کے مخصوص حصوں کو ہی اخبارات استعمال کرتے تھے۔

راجستھان اسمبلی انتخاب کے پیش نظر کانگریس کی اہم پیش رفت، اہم کمیٹیوں کا اعلان، یہاں دیکھیں مکمل فہرست

0
راجستھان-اسمبلی-انتخاب-کے-پیش-نظر-کانگریس-کی-اہم-پیش-رفت،-اہم-کمیٹیوں-کا-اعلان،-یہاں-دیکھیں-مکمل-فہرست

راجستھان اسمبلی انتخاب قریب ہے اور اس سلسلے میں کانگریس نے انتہائی اہم پیش رفت کرتے ہوئے کور کمیٹی، کیمپین کمیٹی اور کوآرڈنیشن کمیٹی سمیت دیگر کمیٹیوں کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ گووند رام میگھوال کو کیمپین کمیٹی کا چیف بنایا گیا ہے، جبکہ کور کمیٹی میں وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ جیسے نام موجود ہیں۔ سی پی جوشی کو منشور کمیٹی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ آئیے یہاں دیکھتے ہیں سبھی کمیٹیوں میں شامل لیڈران کے نام۔

کور کمیٹی:

  • سکھجندر سنگھ رندھاوا- کنوینر

  • اشوک گہلوت

  • گووند سنگھ دوٹاسرا

  • جتیندر سنگھ

  • سچن پائلٹ

  • ہریش چودھری

  • مہندر جیت مالویہ

  • موہن پرکاش

  • سی پی جوشی

  • گووند رام میگھوال

کوآرڈنیشن کمیٹی:

  • اشوک گہلوت

  • گووند سنگھ دوٹاسرا

  • جتیندر سنگھ

  • سچن پائلٹ

  • ہریش چودھری

  • مہندر جیت مالویہ

  • موہن پرکاش

  • گرجا ویاس

  • نارائن سنگھ

  • ڈاکٹر بی ڈی کلہ

  • ڈاکٹر چندربھان

  • رگھویر سنگھ مینا

  • نمو نارائن مینا

  • رگھو شرما

  • ہیمارام چودھری

  • پرسادی لال مینا

  • ادے لال انجانا

  • بھجن لال جاٹو

  • ٹیکارام جولی

  • بھنور سنگھ بھٹ

  • تاراچند بھگور

  • شانتی دھاریوال

  • گرمیت سنگھ کنڑ

  • منجو دیوی میگھوال

  • مہندر چودھری

  • دنیش کھوڑنیا

کیمپین کمیٹی:

  • گووند رام میگھوال- چیئرمین

  • اشوک چندنا- نائب چیئرمین

  • راج کمار شرما- کنوینر

  • دانش ابرار- شریک کنوینر

  • چیتن ڈوڈی- شریک کنوینر

  • پرتاپ سنگھ کھچریاواس

  • رام لال جاٹ

  • کرشنا پونیا

  • گنیش گوگرا

  • رام لعل مینا

  • ویبھو گہلوت

  • مہندر گہلوت

  • گھنشیام مہر

  • گجیندر سنگھ سانکھلا

  • کشن لال جیدیا

  • جگدیش شریمالی

  • راکھی گوتم

  • ہیم سنگھ شیخاوت

  • ابھیشیک چودھری

  • یشویر شورا

  • نیتو کنور بھٹی

مینی فیسٹو (منشور) کمیٹی:

  • ڈاکٹر سی پی جوشی- چیئرمین

  • نیرج ڈانگی – نائب چیئرمین

  • گورو ولبھ- کنوینر

  • ٹیکارام مینا- شریک کنوینر

  • پکھراج پراشر- شریک کنوینر

  • نرنجن آریہ

  • وجیندر سنگھ سدھو

  • پریش ویاس

  • ذاکر حسین

  • ایڈووکیٹ کلدیپ سنگھ پونیا

  • شیر سنگھ سوپا

  • گری راج گرگ

  • جی ایس باپنا

  • روپ سنگھ بارہٹ

  • پروفیسر پی ایس ورما

  • جگدیش چندر جانگڑ

  • سیتارام لامبا

  • ڈاکٹر آئی وی ترویدی

  • ہمت سنگھ گرجر

  • سنیل پریہار

  • وندنا مینا

اسٹریٹجک کمیٹی:

  • ہریش چودھری- چیئرمین

  • دھیرج گجر- نائب چیئرمین

  • روہت بوہرا- کنوینر

  • رام سنگھ کسوا- شریک کنوینر

  • امیت چاچان- شریک کنوینر

  • رامیشور ڈوڈی

  • شکنتلا راوت

  • واجب علی

  • مدن پرجاپت

  • مانویندر سنگھ

  • رتن دیواسی

  • مانگی لال گراسیا

  • روپارام میگھوال

  • کیلاش مینا

  • مدن گوپال میگھوال

  • ڈنگررام گیدر

  • خانو خان ​​بدھوالی

  • پون گودارا

  • وشال جانگڑ

  • سنگیتا بینیوال

  • ارمیلا یوگی

  • للت یادو

  • اجیت یادو

  • امیت مدگل

  • شمع بانو

  • جینتی بشنوئی

میڈیا اینڈ کمیونیکیشن کمیٹی:

  • ممتا بھوپیش- چیئرمین

  • سورنم چترویدی- نائب چیئرمین

  • مکیش بھاکر- کنوینر

  • جسونت گرجر- شریک کنوینر

  • پرشانت بیروا- شریک کنوینر

  • راجکمار جے پال

  • سریش چودھری

  • پرتشٹھا یادو

  • ہریش چوہدری (سروہی)

  • راجندر یادو

  • وکرم سوامی

  • پنکج مہتا

  • پردیپ چترویدی

  • پرتیک سنگھ

  • پنکج شرما

سخت محنت و لگن سے فوزیہ جہاں بنی سول جج، خاندان کا نام کیا روشن

0
سخت-محنت-و-لگن-سے-فوزیہ-جہاں-بنی-سول-جج،-خاندان-کا-نام-کیا-روشن

تعلیم ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے انسان ترقی کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی تعلیم کی بدولت قوم کی بیٹیاں اپنے ملک اور خاندان کا نام روشن کر رہی ہیں۔ حال ہی میں اتر پردیش میں جج کے امتحان ’پی سی ایس جے‘ کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے جس میں غازی آباد کی رہنے والی فوزیہ جہاں نے 76ویں رینک حاصل کر اپنے خاندان کا سر فخر سے اونچا کر دیا ہے۔

معاشی تنگی کی وجہ سے فوزیہ جہاں کو مہنگا ٹیوشن نہیں ملا، لیکن جب ارادے مضبوط اور حوصلے بلند ہوں تو مشکل سے مشکل ترین راستے سخت محنت و لگن کے سامنے پست ہو جاتے ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے فوزیہ جہاں نے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو کامیاب بنانے میں والدین کا اہم کردار ہوتا ہے، جس کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ناکامی پر لوگ آپ پر طرح طرح کے تبصرے کرتے ہیں، باتیں بناتے ہیں، ایسے وقت میں والدین ہی اپنے بچے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔

فوزیہ نے بتایا کہ اگر آپ کے والدین آپ کے ساتھ ہیں تو آپ مضبوط ہیں۔ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لڑکیوں کو اس لیے آگے پڑھنے کا موقع نہیں مل پاتا کیوں کہ والدین خراب ماحول کی وجہ سے ڈرتے ہیں لیکن اگر ہمارے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ اور والدین کا ساتھ ہو تو ہمیں اپنی تعلیم جاری رکھنی چاہئے۔

اپنی تعلیم کے تعلق سے فوزیہ نے بتایا کہ انہوں نے 10ویں اور 12ویں ٹھاکر دوارا بالیکا ودیالیہ سے کی اور ذاکر حسین دہلی کالج مارننگ سے بی کام آنرس کیا۔ 2021 میں ایل ایل بی ماڈرن ڈگری کالج دوہائی سے مکمل کی اور ایک سال گریما انسٹی ٹیوٹ سے کوچنگ لی۔ اسی درمیان امتحان کا نوٹیفکشن آگیا تھا اور میں اس کی تیاریوں میں جی جان سے لگ گئی۔ فوزیہ کا کہنا ہے کہ ’’میں نے ملازمت کرتے ہوئے امتحان کی تیاری کی۔ آپ کو کتنے گھنٹے پڑھنا ہے، یہ میرے لیے معنی نہیں رکھتا۔ مجھے جب بھی وقت ملتا تھا میں اپنے مقصد کو سامنے رکھ کر پڑھائی کرتی تھی۔ کتابوں کے علاوہ یوٹیوب سے بھی میں کلاس لیا کرتی تھی۔‘‘ فوزیہ نے اپنی کامیابی کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی محنت پر یقین رکھو اور اپنا کام 100 فیصد کرو، کامیابی ضرور ملے گی۔

فوزیہ کے والد سکندر میرٹھ روڈ پر ٹائر پنچر لگانے کا کام کرتے ہیں جبکہ ان کی والدہ گھیریلو خاتون ہیں۔ فوزیہ کے والدین ناخواندہ ہیں، اس کے باوجود انہوں نے فوزیہ کو تعلیم یافتہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ فوزیہ کے تین بھائی بہن ہیں۔ سب سے چھوٹا بھائی 12ویں جماعت میں زیر تعلیم ہے۔ ایک بہن بی اے میں ہے، جبکہ بڑا بھائی ٹیکس ایڈوکیٹ ہے۔ فوزیہ کی کامیابی پر والد سکندر بہت خوش ہیں اور لوگوں میں مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں۔ گھر پر مبارکباد دینے والوں کا تانتا لگا ہوا ہے۔ فوزیہ کے والد کا کہنا ہے کہ ہماری بیٹی نے جج بن کر ہمارا نام روشن کیا ہے۔

کھڑگے نے بھیلواڑا میں بی جے پی کو کیا بے نقاب، کہا ’’ہم بھارت جوڑو بولتے ہیں، وہ بھارت توڑو کہتے ہیں‘‘

0
کھڑگے-نے-بھیلواڑا-میں-بی-جے-پی-کو-کیا-بے-نقاب،-کہا-’’ہم-بھارت-جوڑو-بولتے-ہیں،-وہ-بھارت-توڑو-کہتے-ہیں‘‘

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے بدھ کے روز راجستھان کے بھیلواڑا ضلع میں عظیم الشان کسان سمیلن کو خطاب کرتے ہوئے بی جے پی اور مرکز کی مودی حکومت پر زوردار حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم بھارت جوڑو بولتے ہیں، تو وہ بھارت توڑو کہتے ہیں۔ جب اپوزیشن نے اپنا نام اِنڈیا رکھا تو وہ اِنڈیا سے گھبرا گئے اور اب انڈیا کی جگہ بھارت بول رہے ہیں۔‘‘

کانگریس صدر بننے کے بعد پہلی بار راجستھان کے دورے پر پہنچے کھڑگے نے کہا کہ بی جے پی حکومت پوچھتی ہے کہ 53 سال میں کانگریس نے آخر کیا کیا؟ ملک کو آزاد کرانے والے، ملک کو بچانے والے ہم ہیں۔ کانگریس کے لیڈران آزادی کے لیے لڑے، ملک کے لیے جان دی اور جیل گئے۔ ملک کے اتحاد کے لیے اندرا جی اور راجیو جی شہید ہو گئے۔ جن سنگھ، آر ایس ایس اور بی جے پی میں کتنے لیڈر آزادی کے لیے لڑے یا جیل گئے؟ آپ کے پاس ہے کوئی حساب؟

کھڑگے نے کہا کہ مودی حکومت کو کانگریس کے ذریعہ کیے گئے کام کو مٹانے میں خوشی ملتی ہے۔ لیکن خود مودی حکومت کے منصوبوں میں غریبوں کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ مودی حکومت کے پاس نہ غریبوں کے لیے کام کرنے کا حوصلہ ہے اور نہ ہی غریبوں کے لیے منصوبے لانے کی فطرت ہے۔ بی جے پی نے کانگریس کو برا بھلا کہنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کیا۔ مودی حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ ملک کے غریبوں کا پیٹ کیسے بھرے گا، انھیں بے روزگاری اور مہنگائی سے راحت کیسے دی جائے گی؟

کانگریس صدر نے کہا کہ راجستھان میں کانگریس حکومت نے اراضی اصلاح کے ساتھ ہی غریبوں کے لیے بینک کے راستے بھی کھول دیے۔ کانگریس کبھی جھوٹ نہیں بولتی، وہ لوگوں کو مضبوط کرنے کا کام کرتی ہے۔ لیکن بی جے پی حکومت کے پاس ایسا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج 5 لاکھ لیٹر صلاحیت کے نئے پروسیسنگ پلانٹ اور دوسرے منصوبوں کا اجرا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 223 کروڑ روپے کے دیگر منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان سبھی منصوبوں کو وقت سے پورا کرنے اور ان کو عوام کے حوالے کرنے کے لیے آپ پھر سے راجستھان میں کانگریس حکومت کو لائیں گے۔

کسان سمیلن میں وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا کہ کھڑگے صاحب نے اپوزیشن کے مہاگٹھ بندھن میں بڑا کردار نبھایا ہے۔ وہ اپوزیشن پارٹیوں کو متحد کرنے میں سب سے آگے رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ سونیا گاندھی کے کانگریس صدر بننے کے کچھ وقت بعد ملک میں کانگریس کی حکومت بنی تھی، اب کھڑگے صاحب کے صدر بنتے ہی کچھ ایسی ہی شروعات ہو چکی ہے۔ ان کے صدر بننے کے بعد ہماچل پردیش اور کرناٹک میں کانگریس کی حکومت بنی اور آئندہ چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں حکومت بنے گی۔

اشوک گہلوت نے ریاست میں بی جے پی کی ’پریورتن یاتراؤں‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ناکام ہو رہی ہے۔ ایک ملک، ایک انتخاب کی بات ہو رہی ہے، لیکن اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے، لیکن اس کی وجہ کو راز میں رکھا گیا ہے۔ کیا اپوزیشن کو نہیں بتانا چاہیے تھا کہ خصوصی اجلاس کیوں طلب کیا گیا ہے؟ آج جمہوریت خطرے میں ہے، آئین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ ای ڈی، سی بی آئی جیسی ایجنسیوں کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ ملک میں خطرناک حالات بن چکے ہیں۔

اس تقریب کو خطاب کرتے ہوئے راجستھان کانگریس انچارج سکھجندر سنگھ نے کہا کہ بی جے پی سوال کرتی ہے کہ کانگریس نے کیا کیا ہے؟ کانگریس نے ملک میں سبز انقلاب، سفید انقلاب اور ہندوستان کو اناج کے لیے خود کفیل بنانے کا کام کیا ہے۔ لیکن مودی جی نے کسانوں کے لیے کیا کیا ہے؟ راجستھان کانگریس صدر گووند ڈوٹاسرا نے اس موقع پر کہا کہ مودی حکومت کسان کی آمدنی دوگنی کرنے آئی تھی، لیکن 700 سے زیادہ کسان تحریک کرتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ مودی حکومت کسان، غریب، نوجوان کے ایشوز سے توجہ بھٹکانے میں لگی رہتی ہے۔

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس: مرکزی حکومت نے سونیا گاندھی کے خط کا دیا جواب، روایات کی طرف دلائی توجہ

0

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کو لے کر اس وقت اپوزیشن پارٹیاں خود کو تاریکی میں محسوس کر رہی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ابھی تک اجلاس کا ایجنڈا ظاہر نہیں ہوا ہے۔ اس سلسلے میں اپوزیشن اتحاد اِنڈیا میں شامل پارٹیوں کے لیڈران کی میٹنگ بھی ہو چکی ہے اور کانگریس کی سابق صدر و رکن پارلیمنٹ سونیا گاندھی نے تو مرکزی حکومت کو خط تک لکھ دیا۔ اب حکومت نے اس خط کا جواب دیا ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور پرہلاد جوشی نے سونیا گاندھی کے خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’یہ افسوسناک ہے کہ آپ کی توجہ روایات کی طرف نہیں ہے۔ اجلاس شروع ہونے سے پہلے بات چیت کی جائے گی۔‘‘ جوابی خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’یہ بے حد افسوسناک ہے کہ آپ پارلیمنٹ، ہماری جمہوریت کے مندر کی کارروائی کو بھی سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، آرٹیکل 85 کے تحت آئینی مینڈیٹ پر عمل کرتے ہوئے پارلیمانی اجلاس مستقل طور سے منعقد کیے جاتے ہیں۔ یہ التزام کرتا ہے کہ صدر جمہوریہ وقت وقت پر پارلیمنٹ کے ہر ایوان کو ایسے وقت اور جگہ پر، جو وہ مناسب سمجھے، اجلاس کے لیے طلب کرے گا۔ لیکن اس کے ایک اجلاس کی آخری میٹنگ اور آئندہ اجلاس کی پہلی میٹنگ کے لیے مقرر تاریخ کے درمیان 6 ماہ کا وقفہ نہیں ہوگا۔‘‘

جوابی خط میں پرہلاد جوشی یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’مناسب طریقہ کار پر مکمل عمل کرتے ہوئے ہی پارلیمانی کارروائی سے متعلق کابینہ کمیٹی کی سفارش کے بعد صدر جمہوریہ کے ذریعہ 18 ستمبر سے شروع ہونے والے پارلیمانی اجلاس کو بلایا گیا ہے۔ شاید آپ کی توجہ روایات کی طرف نہیں ہے۔ پارلیمانی اجلاس بلانے سے پہلے نہ کبھی سیاسی پارٹیوں سے بات کی جاتی ہے اور نہ کبھی ایشوز پر بحث کی جاتی ہے۔ عزت مآب صدر کے اجلاس بلانے کے بعد اور اجلاس شروع ہونے کے پہلے سبھی پارٹیوں کے لیڈران کی میٹنگ ہوتی ہے جس میں پارلیمنٹ میں اٹھنے والے ایشوز اور کارروائی پر بحث ہوتی ہے۔‘‘

خط میں آگے یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’میں یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ ہماری حکومت کسی بھی ایشو پر ہمیشہ بحث کے لیے تیار رہتی ہے۔ ویسے تو آپ نے جن ایشوز کا تذکرہ کیا ہے، وہ سبھی ایشوز عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کے دوران کچھ ہی وقت قبل مانسون اجلاس کے دوران اٹھائے گئے تھے اور حکومت کے ذریعہ ان پر جواب بھی دیا گیا تھا۔‘‘ پرہلاد جوشی مزید لکھتے ہیں ’’اجلاس کا وَرک شیڈول ہمیشہ کی طرح استعمال طریقہ کے مطابق مناسب وقت پر بتایا جائے گا۔ میں یہ بھی پھر سے توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے پارلیمانی طریقہ کار میں چاہے حکومت کسی بھی پارٹی کی رہی ہو، آج تک پارلیمنٹ بلانے کے وقت وَرک شیڈول پہلے سے کبھی بھی طے نہیں کیا گیا۔‘‘

جوابی خط کے آخر میں پرہلاد جوشی لکھتے ہیں کہ ’’مجھے پورا یقین ہے کہ پارلیمنٹ کا وقار برقرار رہے گا اور اس پلیٹ فارم کا استعمال سیاسی تنازعوں کے لیے نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ میں آئندہ اجلاس کو بہتر انداز سے چلانے میں آپ کے تعاون کی امید کرتا ہوں، تاکہ قومی مفاد میں مثبت نتائج سامنے آ سکیں۔‘‘ ساتھ ہی پرہلاد جوشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’پہلے بھی اجلاس بلانے سے پہلے اپوزیشن پارٹیوں سے صلاح و مشورہ نہیں کیا گیا۔ یہ حکومت کا خصوصی استحقاق ہے۔ اس سے پہلے کبھی بھی جب دیگر حکومتیں تھیں، ایجنڈے کا پہلے سے انکشاف نہیں کیا گیا۔‘‘

واضح رہے کہ اس سے قبل سونیا گاندھی نے اپوزیشن اتحاد اِنڈیا کی طرف سے 9 ایشوز کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کو ایک خط لکھا تھا۔ اس خط میں سونیا گاندھی نے کہا تھا کہ حزب اختلاف 9 مسائل پر بات چیت چاہتی ہے اور یہ مسائل ہیں مہنگائی، ایم ایس ایم ای، بے روزگاری، کسانوں کے مطالبات، اڈانی مسئلہ پر جے پی سی کا مطالبہ، ذات پر مبنی مردم شماری، مرکز-ریاست کے تعلقات، چین سرحد اور سماجی ہم آہنگی۔

سونیا گاندھی اپنے خط میں لکھتی ہیں کہ ’’اپوزیشن کو خصوصی اجلاس کے ایجنڈے کا علم نہیں ہے۔ عام طور پر خصوصی اجلاس سے پہلے بات چیت ہوتی ہے اور اتفاق رائے قائم کیا جاتا ہے۔ اس کا ایجنڈا بھی پہلے سے طے ہوتا ہے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اجلاس طلب جا رہا ہے اور ایجنڈا طے نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔‘‘ کانگریس کی سابق صدر نے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’’خصوصی اجلاس کے سبھی پانچ دن گورنمنٹ بزنس کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ افسوسناک ہے۔‘‘

وَن نیشن، وَن الیکشن: سابق صدر رام ناتھ کووند کی صدارت میں ہوئی کمیٹی کی پہلی میٹنگ، امت شاہ بھی رہے موجود

0
وَن-نیشن،-وَن-الیکشن:-سابق-صدر-رام-ناتھ-کووند-کی-صدارت-میں-ہوئی-کمیٹی-کی-پہلی-میٹنگ،-امت-شاہ-بھی-رہے-موجود

وَن نیشن، وَن الیکشن (ایک ملک، ایک انتخاب) کی راہ ہموار کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی آج پہلی میٹنگ 12 جن پتھ روڈ پر منعقد ہوئی۔ یہ میٹنگ سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی صدارت میں ہوئی اور اس دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال و دیگر کمیٹی اراکین بھی موجود رہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ملک، ایک انتخاب کے امکانات کو تلاش کرنے کے لیے آج ہوئی پہلی میٹنگ میں کچھ اہم نکات پر تبادلہ خیال ہوا اور جلد ہی دوسری میٹنگ بھی طلب کی جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت نے گزشتہ 2 ستمبر کو رام ناتھ کووند کی صدارت میں آٹھ رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اس کمیٹی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، راجیہ سبھا میں حزب مخالف کے سابق لیڈر غلام نبی آزاد، مالیاتی کمیشن کے سابق صدر این کے سنگھ، لوک سبھا کے سابق جنرل سکریٹری سبھاش سی کشیپ، سینئر وکیل ہریش سالوے اور سابق چیف وجلنس کمشنر سنجے کوٹھاری شامل ہیں۔ کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا لیکن انھوں نے اس دعوت کو نامنظور کرتے ہوئے کمیٹی سے خود کو کنارہ کر لیا ہے۔

دراصل مرکزی حکومت نے لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں، نگر پالیکاؤں اور پنچایتوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے سے متعلق غور کرنے اور جلد از جلد سفارشات دینے کے لیے ہفتہ کے روز 8 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ وزارت قانون کے اعلیٰ افسران نے گزشتہ اتوار کو رام ناتھ کووند سے ملاقات بھی کی تھی اور یہ جاننا چاہا تھا کہ وہ کمیٹی کے ساتھ ایجنڈے پر کس طرح سے آگے بڑھیں گے۔

بہرحال، کمیٹی کے چیئرمین رام ناتھ کووند ہیں اور آج دوپہر کے بعد سے ہی کمیٹی کے اراکین میٹنگ کے لیے ان کی رہائش پر جمع ہونے شروع ہو گئے تھے۔ جب کمیٹی کے سبھی اراکین پہنچ گئے تو میٹنگ شروع ہوئی، لیکن فی الحال اس میٹنگ میں ہوئی بات چیت سے متعلق کوئی جانکاری نہ ہی مرکزی حکومت کے ذریعہ دی گئی ہے، اور نہ ہی کمیٹی کے اراکین نے ہی کچھ بتایا ہے۔ یہ کمیٹی آئین، عوامی نمائندہ ایکٹ اور دیگر قوانین و ضوابط کا جائزہ لے گی تاکہ وَن نیشن، وَن الیکشن میں موجود دشواریوں کو دور کیا جا سکے۔ یہ کمیٹی قوانین میں اہم ترامیم کی سفارش بھی کرے گی کیونکہ وَن نیشن، وَن الیکشن کا مقصد حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ کمیٹی اس بات کا بھی پتہ لگائے گی کہ کیا آئین میں ترمیم کے لیے ریاستوں کی حمایت کی ضرورت ہوگی؟

انڈیا اور بھارت کا تنازعہ بڑھنے سے مودی حکومت بیک فٹ پر، وزراء کو بولنے سے بچنے کی دی گئی صلاح

0
انڈیا-اور-بھارت-کا-تنازعہ-بڑھنے-سے-مودی-حکومت-بیک-فٹ-پر،-وزراء-کو-بولنے-سے-بچنے-کی-دی-گئی-صلاح

انڈیا اور بھارت کا تنازعہ لگاتار بڑھتا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں اب وزیر اعظم مودی بیک فٹ پر دکھائی دے رہے ہیں۔ دراصل جی-20 اجلاس کو لے کر طلب کی گئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں وزیر اعظم نے سبھی وزرا کو انڈیا اور بھارت تنازعہ پر بولنے سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کی جگہ انھوں نے اودے ندھی اسٹالن کے سناتن مذہب پر دیے گئے بیان کا صحیح طریقے اور سختی سے جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔

بدھ کے روز مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں جی 20 اجلاس کو لے کر ایک پریزنٹیشن دیا گیا۔ کابینہ کی میٹنگ کی صدارت کرتے وقت وزیر اعظم نے سبھی وزرا کو جی-20 انڈیا موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ اس ایپ کے ذریعہ وزرا کو غیر ملکی نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں مدد ملے گی۔ ہندوستان کے پاس جب تک جی-20 کی صدارت رہے گی، یہ ایپ تب تک کام کرے گا۔ جی-20 اجلاس کے مدنظر حکومت ہند کی وزارت خارجہ نے خاص طور پر یہ ایپ لانچ کیا ہے۔ اس ایپ کو کئی زبانوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ کابینہ کی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے سبھی وزرا کو جی-20 اجلاس کے ضمن میں بھارت بمقابلہ انڈیا کی بحث کو لے کر بیان بازی سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے اپنے وزراء کو اودے ندھی اسٹالن کے ذریعہ سناتن مذہب پر دیے گئے بیان کا درست طریقے سے اور سختی سے جواب دینے کو کہا ہے۔ مطلب صاف ہے کہ بی جے پی تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے بیٹے اور ریاستی حکومت میں وزیر اودے ندھی اسٹالن کے بیان کو ایک بڑا اور ملک گیر ایشو بنانے جا رہی ہے۔

اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے جی-20 اجلاس کے دوران بھی وزرا کو وی وی آئی پی کلچر سے بچنے کا مشورہ دیتے ہوئے بس پل کا استعمال کرنے کو کہا۔ انھوں نے صدر جمہوریہ کے ذریعہ 9 ستمبر کو منعقد کیے گئے عشائیہ میں حصہ لینے والے وزرا کو پہلے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے اور وہاں سے بس میں بیٹھ کر دعوت کے مقام تک جانے کا مشورہ دیا ہے۔

اِنڈیا اتحاد میں شامل پارٹیاں پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کریں گی، عوامی ایشوز اٹھائے جائیں گے: کانگریس

0
اِنڈیا-اتحاد-میں-شامل-پارٹیاں-پارلیمنٹ-کے-خصوصی-اجلاس-کا-بائیکاٹ-نہیں-کریں-گی،-عوامی-ایشوز-اٹھائے-جائیں-گے:-کانگریس

کانگریس نے واضح کر دیا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد ’اِنڈیا‘ مرکزی حکومت کے ذریعہ 18 ستمبر کو بلائے گئے پارلیمنٹ کے پانچ روزہ خصوصی اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کرے گا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے بدھ کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد پریس کانفرنس کے دوران اس سلسلے میں وضاحت کی اور صاف کیا کہ خصوصی اجلاس میں عوام سے جڑے ایشوز پر حکومت سے پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ 5 ستمبر کو کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ اور اِنڈیا اتحاد کے لیڈروں کی میٹنگ اس معاملے پر ہوئی تھی جس میں فیصلہ ہوا کہ بھلے ہی حکومت منمانی کر رہی ہے اور اس نے خصوصی اجلاس کے ایجنڈے کی جانکاری اپوزیشن پارٹیوں کو نہیں دی ہے، لیکن کانگریس اور اِنڈیا اتحاد میں شامل سبھی پارٹیاں عوامی مفاد میں پارلیمنٹ سیشن میں حصہ لیں گی اور عوام سے جڑے ایشوز ایوان میں اٹھا کر ان پر بحث کا مطالبہ کریں گی۔

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر 9 ایشوز کا تذکرہ کرتے ہوئے ان سبھی پر حکومت سے پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں مہنگائی، بے روزگاری اور ایم ایس ایم ای، ایم ایس پی، اڈانی معاملے پر جے پی سی کی تشکیل، ذات پر مبنی مردم شماری، وفاقی ڈھانچوں پر ہو رہے حملے اور غیر بی جے پی حکمراں ریاستوں کو ان کے حقوق سے محروم کیے جانے، ہماچل پردیش میں آئے سیلاب، لداخ و اروناچل کی سرحد پر چینی قبضہ، ہریانہ و دیگر ریاستوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی پر بحث کرانے اور منی پور تشدد پر حکومت کی حالت واضح کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔

جئے رام نے میڈیا سے یہ بھی کہا کہ ’’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ خصوصی اجلاس صرف سرکاری ایجنڈا کی بنیاد پر نہیں ہوگا۔ اگر یہ خصوصی اجلاس سرکاری ایجنڈا کی بنیاد پر ہے تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ یہ روایت کے خلاف ہے۔ خصوصی اجلاس کے بلیٹن میں پانچ دن سرکاری بزنس کی بات لکھی گئی ہے جو ناممکن ہے۔ ہم نے عزم کیا ہے کہ جو ایشوز ہم پچھلی بار نہیں اٹھا پائے تھے، اس بار اٹھائیں گے۔‘‘

بی آر ایس لیڈر کے. کویتا نے خاتون ریزرویشن کی حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے 47 سیاسی پارٹیوں کو لکھا خط

0
بی-آر-ایس-لیڈر-کے.-کویتا-نے-خاتون-ریزرویشن-کی-حمایت-کا-مطالبہ-کرتے-ہوئے-47-سیاسی-پارٹیوں-کو-لکھا-خط

18 ستمبر سے 22 ستمبر تک چلنے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا ایجنڈا کیا ہے، یہ ابھی تک کسی کو نہیں معلوم ہے۔ لیکن کچھ پارٹیاں اہم ایشوز پر بحث کرائے جانے کا مطالبہ لگاتار کر رہی ہیں۔ اس درمیان امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت نئی پارلیمنٹ میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن دے کر نئی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے ایک تقریب میں خاتون ریزرویشن کی حمایت کر اس امکان کو روشن کر دیا ہے۔

اس درمیان بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) لیڈر کے. کویتا نے ملک کی 47 بڑی سیاسی پارٹیوں کو خط لکھ کر خاتون ریزرویشن کے معاملے پر حمایت کی گزارش کی ہے۔ اس خط کے بعد ظاہر ہوتا ہے کہ اگر مرکزی حکومت پارلیمنٹ میں خاتون ریزرویشن کا بل لاتی ہے تو ایک بڑی سیاسی پارٹی کا ساتھ ملے گا۔ دوسری طرف اپوزیشن خیمہ میں خاتون ریزرویشن کے معاملے پر داخلی رسہ کشی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

بہرحال، کویتا نے سیاسی پارٹیوں کو جو خط بھیجا ہے اس میں لکھا گیا ہے کہ خاتون ریزرویشن بل پہلے ہی راجیہ سبھا سے پاس ہو چکا ہے جہاں حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ لیکن پہلے سے ہی راجیہ سبھا میں پاس ہونے کے سبب اب اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ حکومت کے پاس لوک سبھا میں مضبوط اکثریت ہے، جہاں اسے اس بل کو پاس کرنے میں کوئی پریشانی سامنے نہیں آنے والی ہے۔ ایسے میں سبھی سیاسی پارٹیوں کو اس بل کو پاس کرانے میں تعاون دینا چاہیے، جس سے خواتین کو ان کا حق مل سکے۔