پیر, مارچ 30, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 135

مودی حکومت کا مردم شماری نہ کرانا ملک کی تاریخ میں ایک غیر معمولی ناکامی: کانگریس

0
مودی-حکومت-کا-مردم-شماری-نہ-کرانا-ملک-کی-تاریخ-میں-ایک-غیر-معمولی-ناکامی:-کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے مردم شماری نہ کرانے پر مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ وہ آزادی کے بعد سے ملک میں مقررہ وقت پر ہونے والی مردم شماری کو کرانے میں ناکام رہی ہے۔ ریاستی حکومتوں کی طرف سے ذات پات کی مردم شماری کے کام کی مخالفت نہیں کی جانی چاہئے۔

کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ مودی حکومت 2021 میں ہونے والی دس سالہ مردم شماری کرانے میں ناکام رہی ہے جبکہ کئی دوسرے ترقی پذیر اور جی۔20 کے رکن ممالک جیسے انڈونیشیا، برازیل اور جنوبی افریقہ کووڈ 19 سے متاثر ہونے کے باوجود مردم شماری کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی باری میں 18ویں جی-20 کی صدارت کر رہا ہے لیکن مودی حکومت وقت پر مردم شماری نہیں کروا سکی اور یہ اس کی بڑی ناکامیوں میں سے ایک ہے۔ یہ حکومت اتنی نالائق اور نااہل ہے کہ 1951 کے بعد سے ہندوستان کے سب سے اہم شماریاتی عمل کو وقت پر مکمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں حکومت کی سب سے بڑی اور بے مثال ناکامی ہے۔

ترجمان نے کہاکہ ‘مودی حکومت نہ صرف مردم شماری کرانے میں ناکام رہی ہے بلکہ اس نے 2011 میں متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کی طرف سے کی گئی سماجی و اقتصادی مردم شماری کو بھی دبا دیا ہے۔ اس نے سپریم کورٹ میں بہار حکومت کی ریاستی سطح پر ذات پات کی مردم شماری کی کوشش کی بھی مخالفت کی ہے اور ایسی کوشش کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔

ایک میگزین میں تمام رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ناکامی کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق 140 ملین ہندوستانی اپنے کھانے کے حق سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس کے تحت 67 فیصد ہندوستانی کھانے کے لیے راشن حاصل کرنے کے حقدار ہیں۔ چونکہ مودی حکومت 2021 میں مردم شماری کرانے میں ناکام رہی، اس لیے وہ 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر صرف 81 کروڑ لوگوں کو غذائی تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

کانگریس لیڈر نے ذات پات کی مردم شماری کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبادی کی گنتی، درجہ بندی اور او بی سی کی اکثریتی آبادی کی واضح وضاحت کے بغیر تمام ہندوستانیوں کے لیے ترقی اور سماجی انصاف کو یقینی بنانا ناممکن ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ ہر ایک کو انصاف اور ان کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ذات پات کی مردم شماری ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ قومی ذات کی مردم شماری ہونی چاہیے اور ریاستی سطح پر ذات پات کی مردم شماری کی کوششوں کی مخالفت بند کرنا چاہیے۔

منی پور میں پھر بھڑکی تشدد کی آگ، سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان گولی باری

0
منی-پور-میں-پھر-بھڑکی-تشدد-کی-آگ،-سکیورٹی-فورسز-اور-مسلح-افراد-کے-درمیان-گولی-باری

امپھال: منی پور میں 3 مئی کو شروع ہونے والا نسلی تشدد لگاتار جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاست کے ٹینگنوپال ضلع کے پالیل علاقے میں جمعہ کی علی الصبح سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ حکام کے مطابق گولہ باری صبح 6 بجے شروع ہوئی اور وقفے وقفے سے جاری رہی۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک کسی جانی نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔

فائرنگ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بدھ کو ہزاروں مظاہرین ضلع بشنو پور کے فوگاک چاو اکھائی علاقے میں جمع ہوئے تھے اور انہوں نے فوج کی ناکہ بندی کو توڑ کر توربنگ میں اپنے لاوارث گھروں تک پہنچنے کی کوشش کی۔

حکام نے بتایا کہ علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور منی پور پولیس نے سکیورٹی فورسز بشمول ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف)، آسام رائفلز نے آنسو گیس کے گولے داغے تاکہ حالات کو قابو میں کیا جا سکے۔

احتجاج سے ایک دن قبل منی پور کے پانچوں وادی اضلاع میں احتیاطی تدابیر کے طور پر مکمل کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ آسام رائفلز کے جوان شرپسندوں سے سختی سے مقابلہ کر رہے ہیں اور جوابی کارروائی کر رہے ہیں۔

اس سے قبل بدھ (6 ستمبر) کو سکیورٹی فورسز نے بشنو پور ضلع کے فوگاک چاو اکھائی میں رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے۔

حکام نے بتایا کہ اس دوران 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں، جنہیں علاج کے لیے بشنو پور ضلع اسپتال اور موئرنگ پبلک ہیلتھ سینٹر لے جایا گیا ہے۔ واقعہ کی جانکاری دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بشنو پور ضلع کے اوینم میں سینکڑوں مقامی لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔

مجھے بھارت اور انڈیا میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ہے: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

0
مجھے-بھارت-اور-انڈیا-میں-کوئی-فرق-نظر-نہیں-آتا-ہے:-ڈاکٹر-فاروق-عبداللہ

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ ہمارے آئین میں بھارت اور انڈیا دونوں نام درج ہیں اور مجھے ان میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ہے۔ انہوں نے جی ٹونٹی کو ایک اچھا فورم قرار دیا اور کہا کہ یہ بیس ممالک اپنے مشکلات سامنے رکھ کر ان کا ازالہ تلاش کرتے ہیں۔

موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کو یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دینے کے دوران کیا۔انڈیا اور بھارت ناموں کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ‘آپ آئین پڑھیں اس میں بھارت اور انڈیا دونوں لکھے ہیں اور مجھے ان دونوں ناموں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ہوں’۔

جی ٹونٹی کو ایک اچھا فورم قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اچھا فورم ہے جو اپنے مشکلات سامنے رکھتے ہیں اور ان کا ازالہ تلاش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس باقی ممالک میں بھی ہوتا ہے اور اگلے سال اس کا اجلاس برازیل میں ہوگا۔لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل انتخابات کے بارے میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ انتخابات اکتوبر میں منعقد ہوں گے۔

ون الیکشن ون نیشن کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ‘پارلیمنٹ میں دیکھیں گے کہ اس کا کیا ہوگا’۔

جی-20 سربراہی اجلاس: وزیراعظم 15 عالمی لیڈروں کے ساتھ کریں گے دو طرفہ ملاقات

0
جی-20-سربراہی-اجلاس:-وزیراعظم-15-عالمی-لیڈروں-کے-ساتھ-کریں-گے-دو-طرفہ-ملاقات

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی جی 20 چوٹی کانفرنس سے پہلے اور اس کے دوران عالمی لیڈروں کے ساتھ 15 دو طرفہ میٹنگیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم جمعہ کو اپنی لوک کلیان مارگ رہائش گاہ پر ماریشس، بنگلہ دیش اور امریکہ کے رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ میٹنگیں کریں گے، جو یہاں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔

جمعہ کو وزیراعظم جی 20 میٹنگ کے موقع پر برطانیہ، جاپان، جرمنی اور اٹلی کے لیڈروں سے دو طرفہ میٹنگ کریں گے۔ چوٹی کانفرنس کے آخری دن وزیر اعظم مودی فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے لنچ پر ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد وزیراعظم کینیڈین رہنما سے بھی بات چیت کریں گے۔

وہ کوموروس، ترکی، متحدہ عرب امارات، جنوبی کوریا، یورپی یونین، برازیل اور نائیجیریا کے رہنماؤں کے ساتھ بھی دو طرفہ میٹنگیں کریں گے۔ واضح رہے کہ جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے عالمی رہنماؤں کے یہاں آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن جمعرات کو ہی یہاں پہنچ گئے تھے۔

خاتون نے روزگار کا مطالبہ کیا تو چندریان-4 میں بھیجنے کی بات کرنے لگے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر!

0
خاتون-نے-روزگار-کا-مطالبہ-کیا-تو-چندریان-4-میں-بھیجنے-کی-بات-کرنے-لگے-وزیر-اعلیٰ-منوہر-لال-کھٹر!

چنڈی گڑھ: ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے ’عوامی ڈائیلاگ پروگرام‘ کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جو بات کی اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ حصار میں منعقدہ تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے روزگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے خاتون کو چندریان-4 پر بھیجنے کی بات کی۔ کھٹر اس ویڈیو کو لے کر اپوزیشن پارٹیوں کی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حصار کے عوامی مکالمے کے پروگرام کے دوران ایک خاتون نے مطالبہ کیا کہ وہ یہاں ایک فیکٹری لگانے کی کوشش کریں تاکہ خواتین کام کر سکیں، انہیں روزگار ملے۔ خاتون کے بیان پر وزیر اعلیٰ کھٹر نے کہا کہ اگلی بار چندریان-4 چاند کے اوپر جائے گا، تمہیں اس میں بھیجیں گے! سی ایم کھٹر کا جواب سن کر وہاں موجود لوگ ہنسنے لگے۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ نے خاتون کو بٹھا دیا۔ وزیر اعلیٰ کھٹر کے اس بیان کی اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے کافی تنقید ہو رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ کھٹر کو عام آدمی پارٹی کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر ٹویٹ کر کے گھیرا گیا۔ ٹوئٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’اگلی بار چندریان جائے گا تو اس میں تمہیں بھیج دیں گے۔ شرم آتی ہے ایسے وزیر اعلیٰ پر، جنہیں عوام نے خدمت کے لیے منتخب کیا تھا آج وہی عوام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہاں مطالبہ اگر مودی جی کے ارب پتی دوستوں نے اپنے ذاتی فائدے کے لیے کیا ہوتا تو کھٹر صاحب انہیں گلے لگا کر پوری حکومت کو ان کی خدمت میں لگا دیتے۔

ہریانہ کے عام آدمی پارٹی کے رہنما انوراگ ڈھانڈا نے بھی سی ایم کھٹر کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ’’خاتون: فیکٹری لگوا دیجئے تاکہ ہمیں روزگار مل سکے۔ وزیر اعلیٰ کھٹر: اگلی بار چندریان-4 جائے گا تو اس میں اتم ک بھیجیں گے۔‘‘ واقعی یہ ہریانہ کی بدقسمتی ہے کہ یہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔

موہن بھاگوت پر لالو پرساد یادو کا حملہ، کہا ’وہ ریزرویشن کے خلاف ہیں‘

0
موہن-بھاگوت-پر-لالو-پرساد-یادو-کا-حملہ،-کہا-’وہ-ریزرویشن-کے-خلاف-ہیں‘

پٹنہ: راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ اور سابق مرکزی وزیر لالو پرساد نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ریزرویشن کے خلاف ہیں۔ لالو پرساد نے کہا ’’گرو گولوالکر نے اپنی کتاب ‘بنچ آف تھاٹ’ میں جو بھی ذکر کیا ہے، موہن بھاگوت اور نریندر مودی وہی کر رہے ہیں۔ وہ ریزرویشن کے خلاف ہیں۔‘‘

لالو پرساد نے جنم اشٹمی کے موقع پر بھگوان کرشن کی پوجا کرنے کے لیے جمعرات کی شام یہاں بانکے بہاری مندر کا دورہ کیا تھا۔

اپوزیشن کے انڈیا اتحاد پر انہوں نے کہا ’’ہم نے انڈیا اتحاد بنایا ہے اور ہم لوک سبھا انتخابات جیتیں گے۔ رام اور رحیم کے لیے بھگوان ایک ہے، بھگوان کرشن ہمارے بھگوان ہیں۔ میں بانکے بہاری مندر اور اسکان مندر میں گیا اور ملک میں امن کے لیے دعا کی۔ میں پیر کو شیو کی پوجا کرنے دیوگھر جا رہا ہوں۔‘‘

قبل ازیں، آر جے ڈی کے نائب صدر شیوانند تیواری نے بھی ریزرویشن معاملے پر بھاگوت کے ارادوں پر سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ موہن بھاگوت ہی تھے جنہوں نے ملک میں ریزرویشن ختم کرنے کی وکالت کی تھی۔

جی-20 سربراہی اجلاس پر کورونا کا سایہ! جل بائیڈن کے بعد اسپین کے صدر متاثر

0
جی-20-سربراہی-اجلاس-پر-کورونا-کا-سایہ!-جل-بائیڈن-کے-بعد-اسپین-کے-صدر-متاثر

نئی دہلی: دہلی میں ہونے جا رہے جی-20 سربراہی اجلاس پر کورونا وائرس کا سایہ منڈلانے لگا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی اہلیہ جل بائیڈن کے کورونا مثبت پائے جانے کے بعد اب اسپین کے صدر پیڈرو سانچیز بھی کورونا سے متاثر پائے گئے ہیں۔ اس کی جانکاری انہوں نے خود سوشل میڈیا پر دی ہے۔

سانچیز نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا ’’میں ٹھیک محسوس کر رہا ہوں لیکن میں ہندوستان کا دورہ نہیں کر سکوں گا۔ جی-20 سربراہی اجلاس میں اسپین کی نمائندگی قائم مقام نائب صدر نادیہ کالوینو اور وزیر خارجہ جوز مینوئل البیریس کریں گے۔‘‘

وہیں، امریکی صدر جو بائیڈن آج ہندوستان پہنچ رہے ہیں۔ بائیڈن کو اپنی اہلیہ جل کے ساتھ جی-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے 7 اگست کو دہلی آنا تھا لیکن اس سے پہلے جِل اور جو بائیڈن کا کووِڈ ٹیسٹ کیا گیا تھا، جس کی رپورٹ 5 اگست کو آئی تھی۔ جو بائیڈن کی رپورٹ منفی آئی لیکن جِل کی کووِڈ رپورٹ مثبت آئی۔ بائیڈن کے دفتر کے مطابق ان میں کورونا کی کوئی علامت نہیں ہے۔

جِل کورونا سے متاثر ہونے کے بعد اپنی ڈیلاویئر رہائش گاہ پر موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جو بائیڈن جی-20 اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان روانہ ہو گئے ہیں۔

موسم کا حال: مدھیہ پردیش، مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں موسلادھار بارش کا الرٹ

0
موسم-کا-حال:-مدھیہ-پردیش،-مہاراشٹر-سمیت-کئی-ریاستوں-میں-موسلادھار-بارش-کا-الرٹ

نئی دہلی: مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا اور گجرات میں اگلے تین دن تک موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دوسری جانب اگر مانسون کی صورتحال کی بات کریں تو محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق مانسون شمالی جزیرہ نما، وسطی اور مشرقی ہندوستان کی ریاستوں میں اگلے تین سے چار روز تک سرگرم رہے گا۔ اس کی وجہ سے ہندوستان کے ان حصوں میں بارش کی سرگرمیاں نظر آئیں گی۔

محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق ملک کی راجدھانی نئی دہلی میں آج یعنی 08 ستمبر کو کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 37 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ آج نئی دہلی۔ دوسری جانب 09 اور 10 ستمبر کی بات کریں تو نئی دہلی کے علاقوں میں ہلکی بارش یا بوندا باندی دیکھی جا سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں آج کم سے کم درجہ حرارت 25 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 33 ڈگری ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ وہیں آج لکھنؤ میں ایک یا دو بار گرج چمک کے ساتھ بارش کی سرگرمیاں بھی دیکھی جائیں گی۔ غازی آباد کی بات کریں تو آج یہاں کم سے کم درجہ حرارت 26 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 34 ڈگری ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آج آسمان صاف رہے گا۔

موسم کی پیش گوئی کرنے والی ایجنسی اسکائی میٹ کے مطابق، ودربھ، کونکن اور گوا، کیرالہ، چھتیس گڑھ کے کچھ حصے، تلنگانہ، شمالی ساحلی آندھرا پردیش، لکشدیپ اور اڈیشہ میں کچھ مقامات پر موسلادھار بارش کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش ہوسکتی ہے۔ جبکہ بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، مشرقی اور وسطی اتر پردیش، مشرقی راجستھان، گجرات خطہ، مراٹھواڑہ، شمال مشرقی ہندوستان، ساحلی کرناٹک، شمالی داخلہ کرناٹک اور جزائر انڈمان اور نکوبار میں ہلکی سے درمیانی بارش ہوسکتی ہے۔ مغربی اتر پردیش، اتراکھنڈ، تمل ناڈو اور رائلسیما میں 1 یا 2 مقامات پر ہلکی بارش کا امکان ہے۔

ریزرویشن پر بھاگوت کا بیان آئین کی روح پر حملہ ہے: کانگریس

0
ریزرویشن-پر-بھاگوت-کا-بیان-آئین-کی-روح-پر-حملہ-ہے:-کانگریس

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے ریزرویشن پر بیان کے بعد کانگریس نے کہا کہ یہ آئین کی روح پر سیدھا حملہ ہے۔ ریزرویشن کو آئین میں بہت واضح مقام حاصل ہے۔

یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا ’’یہ بابا صاحب امبیڈکر کے لکھے ہوئے آئین کی روح پر حملہ ہے، جس میں ریزرویشن کے لیے بہت واضح مقام ہے۔ جب اسے چیلنج کیا گیا اور انہیں بتایا گیا، اس کے بعد یہ وضاحت دینے پر مجبور ہوئے لیکن ان کے دماغ میں ایک سازش چل رہی ہے اور یہ سازش آج سے نہیں چل رہی، یہ سازش اس وقت سے چل رہی ہے جب آئین لکھا جا رہا تھا۔‘‘

خیال رہے کہ بھاگوت نے مہاراشٹر کے ناگپور میں بدھ کو کہا تھا کہ جب تک سماج میں امتیازی سلوک موجود ہے، ریزرویشن جاری رہنا چاہیے۔ کھیڑا نے کہا، ’’یہ سب چیزیں انہوں نے اس ہفتے شروع کیں۔ یہ آئین کے فن تعمیر پر حملہ ہے، یہ ریزرویشن پر سیدھا حملہ ہے۔ پورا ملک سمجھ رہا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ آپ کو اور ہمیں یہ نہیں بتانا پڑے گا کہ ‘بھارت’ اور ‘انڈیا’ کا یہ تنازع کیوں پیدا ہوا، حکومت کے دانشوروں کی طرف سے آرٹیکل کیوں لکھے جا رہے ہیں کہ آئین کو دوبارہ لکھا جائے، بنیادی ڈھانچے پر کیوں؟ آئین پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے رکن نے مزید کہا ’’وہ سب سے پہلے یہ بتائیں کہ وہ کون ہیں؟ انہیں ہر جگہ یہ کیوں کہنا پڑتا ہے؟‘‘

کانگریس لیڈر نے کہا، "پہلے انہیں اپنی تنظیم کو رجسٹر کرنا چاہیے۔ یہ ‘ایک خریدیں، ایک مفت پائیں’ کیا ہے؟ بی جے پی کو ووٹ دیں، آپ کو سنگھ مفت میں ملے گا۔ ایسا کیوں ہے؟‘‘

آر ایس ایس پر طنز کرتے ہوئے کھیڑا نے مزید کہا، ’’تقسیم ہند میں ایم ایس گولوالکر کا کیا کردار تھا؟ ہم بھاگوت کو مدعو کرتے ہیں کہ وہ آئیں اور بحث کریں کہ ان کے نظریاتی جد امجد بی ایس مونجے اور ہندو مہاسبھا کے کیا کردار تھے؟‘‘

انہوں نے کہا کہ 1942 کی ہندوستان چھوڑو تحریک کے بعد جب وہ حکومتوں کا حصہ بنے تو ان کا کیا کردار تھا، ملک کو بتایا جائے۔

کھیڑا نے کہا ’’آپ آج ہندوستان میں 15-16 فیصد مسلمانوں کو برداشت نہیں کر سکتے، وہ اکھنڈ بھارت میں 45 فیصد ہوں گے، پھر آپ کیا کریں گے؟ تو بغیر سوچے سمجھے بولنا ان کی پرانی عادت ہے۔ اکھنڈ بھارت پر رام مادھو کچھ اور کہتے ہیں، اکھنڈ بھارت پر آر ایس ایس خود منقسم ہے۔ آپ خود متحد نہیں ہیں تو ہندوستان کو متحد کیسے رکھیں گے؟ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نظریات کے لیے نہیں بلکہ پروپیگنڈے کے لیے جانا جاتا ہے۔

6 ریاستوں کی 7 اسمبلی سیٹوں پر گنتی شروع

0
6-ریاستوں-کی-7-اسمبلی-سیٹوں-پر-گنتی-شروع

6 ریاستوں کی 7 اسمبلی سیٹوں پر منگل کو ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج آج آ جائیں گے۔ ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے شروع ہو گئی ہے۔ ان انتخابات کے نتائج کو سال کے آخر میں پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ ’انڈیا‘ اتحاد لوک سبھا کے لئے ہے۔ منگل کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں زیادہ تر نشستوں پر بھاری ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔

تریپورہ کے سپاہیجالا ضلع میں، دھن پور میں 89.20 فیصد اور باکسن نگر حلقہ میں 83.92 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ مغربی بنگال کے دھوپگوری اور کیرالہ کے پوتھوپلی میں، ‘انڈیا’ کی اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑ رہی ہیں۔ دھوپگوری میں تقریباً 76 فیصد اور پوتھوپلی میں تقریباً 73 فیصد ووٹنگ ہوئی۔

یوپی کے گھوسی حلقے کے ضمنی انتخاب میں سماجوادی امیدوار کے خلاف کسی بھی حزب اختلاف کی پارٹی نے امیدوار کھڑا نہیں کیا ۔ گھوسی اور جھارکھنڈ کے ڈمری میں صرف 50.30 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی جہاں کل 2.98 لاکھ ووٹروں میں سے 64.84 فیصد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اتراکھنڈ کے باگیشور میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان مقابلہ ہوا جہاں 55.44 فیصد ووٹنگ ہوئی۔

گھوسی سیٹ 2022 کے اسمبلی انتخابات کے دوران ایس پی کے ٹکٹ پر جیتنے والے او بی سی (دیگر پسماندہ طبقات) کے ایک ممتاز رہنما دارا سنگھ چوہان کی وجہ سے خالی ہوئی ہے، جو حال ہی میں بی جے پی میں شامل ہوئے اور پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔

ضمنی انتخاب میں بی جے پی نے دارا چوہان کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ ایس پی نے سدھاکر سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔ گھوسی اسمبلی حلقہ کا ضمنی انتخاب اپوزیشن جماعتوں کے گروپ ‘انڈیا’ کے قیام کے بعد ریاست میں ہونے والا پہلا انتخاب ہے، اس لیے اسے اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات کی ریہرسل کے طور پر بھی سمجھا جا رہا ہے۔ بی ایس پی نے اس الیکشن میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا ہے۔ کل 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔

ڈمری اسمبلی سیٹ پر اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ کی امیدوار بے بی دیوی کا براہ راست مقابلہ این ڈی اے کی امیدوار یشودا دیوی سے ہے۔ جے ایم ایم کے دعوےکے ساتھ کہ ‘انڈیا’ اپنی فتح کا سفر ڈمری سے شروع کرے گا، یہ سیٹ دونوں اتحادوں کے لیے وقار کا مسئلہ بن گئی ہے۔

این ڈی اے نے یقین ظاہر کیا ہے کہ یہ سیٹ جے ایم ایم سے چھیننے کے لیے تیار ہے۔ اپریل میں سابق وزیر تعلیم اور جے ایم ایم کے ایم ایل اے جگرناتھ مہتو کی موت کے بعد اس سیٹ پر ضمنی انتخاب کرانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ مہتو 2004 سے اس سیٹ کی نمائندگی کر رہے تھے۔

اس سال اپریل میں کابینہ کے وزیر چندن رام داس کی بیماری کی وجہ سے موت ہو جانے کی وجہ سے اس سیٹ پر ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔ ضمنی انتخاب میں ریاست میں دو سیاسی جماعتوں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔ بی جے پی نے چندن رام داس کی اہلیہ پاروتی داس کو جبکہ کانگریس نے بسنت کمار کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ کچھ دوسری جماعتوں نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔