پیر, مارچ 30, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 134

جی-20 اجلاس: دہلی میں دھماکہ خیز مادہ کی افواہ پھیلانے والا شخص گرفتار

0
جی-20-اجلاس:-دہلی-میں-دھماکہ-خیز-مادہ-کی-افواہ-پھیلانے-والا-شخص-گرفتار

جی-20 اجلاس کو لے کر سوشل میڈیا پر دھماکہ خیز مادہ کی افواہ پھیلانے والے ملزم کو جمعہ کے روز شمالی دہلی سے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم نے سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایک آٹو رکشہ بندوق اور دھماکہ خیز مادہ لے کر پرگتی میدان کی طرف جا رہا ہے۔ پرگتی میدان علاقہ نئی دہلی ضلع کے تحت آتا ہے، جسے جی-20 اجلاس کے لیے کنٹرل ایریا 1 میں رکھا گیا ہے اور علاقے میں گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگائی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق ڈی سی پی آؤٹر نارتھ کے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل کو ٹیگ کرتے ہوئے 21 سالہ کلدیپ ساہ نامی شخص نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’’ایک آٹو ڈرائیور پرگتی میدان کی طرف بندوقوں اور دھماکہ خیز مادہ کے ساتھ جا رہا ہے۔‘‘ ملزم نے آٹو رکشہ کا رجسٹریشن نمبر اور تصویر بھی شیئر کیا تھا۔

پولیس ڈپٹی کمشنر (آؤٹر شمال) روی کمار سنگھ نے کہا کہ ٹوئٹ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے متعلقہ آٹو مالک کا پتہ لگایا گیا جو ایس ایس این پارک باشندہ گرمیت سنگھ کے نام پر پایا گیا۔ ڈی سی پی نے کہا کہ ’’پتہ پر آٹو ڈرائیور ہرچرن سنگھ ملا جس نے بتایا کہ آٹو اس کے بھائی کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور وہ چاندنی چوک علاقے میں کپڑے لے جانے کے لیے آٹو کا استعمال کر رہا ہے۔‘‘

روی کمار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کا آٹو کی پارکنگ کو لے کر اسی گلی میں رہنے والے کلدیپ ساہ نامی ایک شخص کے ساتھ تنازعہ چل رہا ہے۔ ڈی سی پی نے کہا کہ سبھی معاملے کی تصدیق کی گئی اور آٹو کی تلاشی بھی لی گئی جس میں کوئی بھی مشتبہ چیز نہیں ملی۔ اس کے علاوہ کلدیپ ساہ کے گھر پر اس سے پوچھ تاچھ بھی کی گئی۔ پوچھ تاچھ کرنے پر ساہ نے اعتراف کیا کہ اس نے یہ ٹوئٹ پوسٹ کیا ہے کیونکہ آٹو ڈرائیور نے اس کے گھر کے باہر آٹو پارک کیا تھا اور اس نے اسے کئی بار تنبیہ کی تھی کہ وہ اسے اس کے گھر کے باہر پارک نہ کرے۔ ڈی سی پی نے کہا کہ ساہ نے جی-20 اجلاس کی سیکورٹی کے سلسلے میں جھوٹ پر مبنی پوسٹ کیا، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

’آئین میں ملک کا نام انڈیا اور بھارت دونوں ہیں، پھر جھگڑا کیوں‘، ملکارجن کھڑگے کا بی جے پی پر حملہ

0
’آئین-میں-ملک-کا-نام-انڈیا-اور-بھارت-دونوں-ہیں،-پھر-جھگڑا-کیوں‘،-ملکارجن-کھڑگے-کا-بی-جے-پی-پر-حملہ

انڈیا اور بھارت کو لے کر تنازعہ جاری ہے اور اس درمیان کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے چھتیس گڑھ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پھر سے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کھڑگے نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ’’کانگریس ہندوستان کو جوڑنے میں لگی ہے اور بی جے پی اسے توڑنے میں۔ آئین میں ملک کا نام انڈیا اور بھارت دونوں ہے، لیکن بی جے پی اس معاملے میں تنازعہ کھڑا کر رہی ہے۔‘‘

کھڑگے چھتیس گڑھ کے راج نند گاؤں ضلع واقع ٹھیکوا گاؤں میں کاگنریس حکومت کے ذریعہ منعقد تقریب ’بھروسے کا سمیلن‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کو ’انڈیا‘ لفظ سے نفرت ہے تو انھوں نے مختلف منصوبوں کے نام اسٹارٹ اَپ انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا، اسکل انڈیا، میک اِن انڈیا وغیرہ کیوں رکھے۔‘‘ کھڑگے نے مزید کہا کہ ’’ہم نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے ایک اتحاد ’انڈیا‘ بنایا ہے، اور اب بی جے پی کہہ رہی ہے کہ ملک کا نام انڈیا سے بدل کر صرف بھارت کر دینا چاہیے۔ آئین میں ہی انڈیا اور بھارت دونوں ہے، پھر اس پر جھگڑا کیوں ہو رہا ہے۔‘‘

اپنے خطاب میں کھڑگے نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں کہتے ہیں کہ ہم ’بھارت‘ بولنے کے خلاف ہیں۔ لیکن ہمیں تو بھارت سے محبت ہے۔ راہل جی کنیاکماری سے کشمیر تک پیدل چلے۔ اس یاترا کا نام تھا ’بھارت جوڑو یاترا‘۔ ہم بھارت جوڑنے میں لگے ہیں اور آپ (بی جے پی) بھارت توڑنے میں لگے ہیں۔‘‘ اس دوران انھوں نے منی پور تشدد کو لے کر پی ایم مودی کو بھی براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ ’’وہ فساد متاثرہ منی پور کی طرف دیکھ بھی نہیں رہے ہیں۔ ابھی تک وہاں کا دورہ تک نہیں کیا۔‘‘ پھر وہ کہتے ہیں ’’جی-20 کی میٹنگ (دہلی میں) چل رہی ہے جہاں ہر کھمبے میں ان کی تصویریں ہیں۔ پوسٹرس پر نہ تو ان کے وزرا کی تصویر تھی، نہ ہی مہاتما گاندھی یا پنڈت جواہر لال نہرو کی۔ کیا سب کچھ ان کا ہے؟‘‘

چھتیس گڑھ کی بھوپیش بگھیل حکومت کی تعریف کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’چھتیس گڑھ میں 15 سال تک بی جے پی کی حکومت تھی۔ مودی 13.5 سال تک گجرات میں وزیر اعلیٰ رہے اور اب 10 سال سے وزیر اعظم ہیں، لیکن گجرات کی حالت جوں کی توں ہے۔ جو کام کانگریس حکومت نے پانچ سال چھتیس گڑھ میں کیا، وہ آپ نے کیوں نہیں کیا؟ ایسا اس لیے ہے کیونکہ آپ کو (وزیر اعظم کو) غریبوں کی پروا نہیں ہے، بلکہ آپ امبانی اور اڈانی جیسے امیروں کی پروا کرتے ہیں۔‘‘

’دنیا کے لیے ہماری دوستی بہت ضروری‘، امریکی صدر سے ملاقات کے بعد پی ایم مودی کا بیان

0
’دنیا-کے-لیے-ہماری-دوستی-بہت-ضروری‘،-امریکی-صدر-سے-ملاقات-کے-بعد-پی-ایم-مودی-کا-بیان

جی-20 اجلاس کے لیے مختلف ممالک کے سربراہان کا دہلی پہنچنا جاری ہے۔ مصری صدر عبدالفتح السیسی، برطانوی وزیر اعظم رشی سنک، بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ، آسٹریلیائی وزیر اعظم اینتھنی البنیز، یو اے ای صدر شیخ محمد بن زاید الناہیان، ماریشش کے وزیر اعظم پرویند کمار جگنوتھ، کناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو، ترکیے کے صدر رجب طیب اردغان، انڈونیشیائی صدر جوکو ویڈوڈو وغیرہ راجدھانی دہلی پہنچ چکے ہیں۔ امریکی صدر جو بائڈن کی بھی دہلی آمد ہو چکی ہے اور انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش پر پہنچ کر ان سے ملاقات بھی کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جی-20 میں شرکت کے لیے امریکی صدر جو بائڈن دہلی پہنچے، اور پھر ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد سیدھے پی ایم ہاؤس یعنی 7، لوک کلیان مارگ پہنچے۔ اس دوران دونوں لیڈران کی جی-20 اجلاس سے الگ دو فریقی ملاقات ہوئی۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم دفتر کے ذریعہ بھی جانکاری دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ’’ان کی بات چیت میں بہت سے مسائل شامل ہیں اور اس سے ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔‘‘

بتایا جاتا ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر جو بائڈن کے درمیان تقریباً 45 منٹ کی گفتگو ہوئی۔ اس دو فریقی ملاقات میں دونوں ممالک کی طرف سے 7-7 نمائندوں نے حصہ لیا۔ میٹنگ کے بعد امریکی صدر بائڈن موریہ ہوٹل کے لیے روانہ ہو گئے۔ اس ملاقات کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’ہم دونوں کی میٹنگ اچھی رہی۔ دنیا کے لیے ہماری دوستی بہت ضروری ہے۔ ہم ہندوستان اور امریکہ کے درمیان رشتوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔‘‘

اس سے قبل وزیر اعظم دفتر کے آفیشیل ایکس ہینڈل سے ماریش کے وزیر اعظم پرویند کمار جگنوتھ اور بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ساتھ پی ایم مودی کی میٹنگ کی تصدیق کی گئی۔ دراصل وزیر اعظم مودی 8 سے 10 ستمبر کے درمیان دنیا بھر کے لیڈروں کے ساتھ 15 سے زائد دو فریقی میٹنگیں کریں گے۔ پی ایم مودی کا کہنا ہے کہ دو فریقی میٹنگیں دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید گہرا کریں گی۔

بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ سے پی ایم مودی کی ملاقات کے بارے میں وزیر اعظم دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیے گئے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’پی ایم مودی نے ہند-بنگلہ دیش دو فریقی تعاون میں تنوع لانے سے متعلق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ساتھ مثبت بات چیت کی۔ وہ رابطہ، ثقافت کے ساتھ ساتھ پیپل ٹو پیپل رلیشن سمیت کئی شعبوں میں تعلقات کو مضبوط کرنے پر متفق ہوئے۔‘‘

ماریشس کے وزیر اعظم سے پی ایم مودی کی ملاقات کے بارے میں بھی وزیر اعظم دفتر نے جانکاری دی۔ پی ایم او نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’پی ایم مودی نے ماریشش کے وزیر اعظم پرویند کمار جگنوتھ کے ساتھ ملاقات کی، جو کہ ہندوستان کے ویژن ساگر کا اٹوٹ حصہ ہے۔ دونوں لیڈروں نے اس سال اپنی قابل ذکر 75ویں سالگرہ کے پیش نظر ہند-مارشس دو فریقی تعلقات میں قابل ذکر اضافہ کو حوصلہ بخش مانا۔‘‘

سبھی 7 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب کے نتائج برآمد، دیکھیے کون کہاں سے جیتا

0
سبھی-7-اسمبلی-سیٹوں-پر-ہوئے-ضمنی-انتخاب-کے-نتائج-برآمد،-دیکھیے-کون-کہاں-سے-جیتا

گزشتہ 5 ستمبر کو 6 ریاستوں کی 7 اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخاب ہوئے تھے۔ ان سیٹوں پر ڈالے گئے ووٹ کی گنتی مکمل ہو چکی ہے اور نتائج برآمد ہو چکے ہیں۔ ان انتخابات میں بیشتر مقامات پر انڈیا اتحاد کا مقابلہ این ڈی اے اتحاد سے تھا اور جو بتائج برآمد ہوئے ہیں وہ بی جے پی کے لیے خوش کن نہیں ہیں۔ بی جے پی کے لیے سب سے زیادہ بُری خبر اتر پردیش سے موصول ہو رہی ہے جہاں حکومت ہونے کے باوجود گھوسی ضمنی انتخاب میں سماجوادی پارٹی امیدوار کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ آئیے نیچے دیکھتے ہیں 6 ریاستوں کی 7 اسمبلی سیٹوں پر کس نے فتح کا پرچم لہرایا۔

ڈُمری (جھارکھنڈ):

جھارکھنڈ کی ڈمری اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخاب میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کی امیدوار بے بی دیوی نے جیت حاصل کر لی ہے۔ بے بی دیوی نے این ڈی اے میں شامل آجسو پارٹی کی امیدوار یشودا دیوی کو 17 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ ضلع انتظامیہ کے ایک افسر کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق بے بی دیوی کو تقریباً 1 لاکھ 35 ہزار 480 ووٹ ملے، جبکہ این ڈی اے امیدوار یشودا دیوی کو تقریباً 1 لاکھ 18 ہزار 380 ووٹ حاصل ہوئے۔

دھن پور (تریپورہ):

تریپورہ کی دھن پور سیٹ پر بی جے پی امیدوار بندو دیب ناتھ کو 30017 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ سی پی آئی کے کوشک نندا نے محض 11146 ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح بی جے پی امیدوار کو آسان جیت حاصل ہوئی ہے۔ بی جے پی حکمراں تریپورہ میں پہلے بھی اس سیٹ پر بی جے پی کا ہی قبضہ تھا۔

بوکسا نگر (تریپورہ):

تریپورہ کی بوکسا نگر اسمبلی سیٹ پر پہلے سی پی ایم کا قبضہ تھا، لیکن اقلیتوں کی اکثریت والے اس اسمبلی حلقہ میں سی پی ایم کے میزان حسین کو شکست دے کر بی جے پی کے تفضل حسین نے جیت درج کر لی ہے۔ تفضل حسین نے ہجاں 34146 ووٹ حاصل کیے، وہیں میزان حسین کو تقریباً 30 ہزار ووٹ ہی مل سکے۔

گھوسی (اتر پردیش):

اتر پردیش کے گھوسی اسمبلی سیٹ پر این ڈی اے اتحاد اور اِنڈیا اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا اور یوگی حکومت کو زوردار جھٹکا دیتے ہوئے سماجوادی پارٹی امیدوار سدھاکر سنگھ (1 لاکھ 24 ہزار 427 ووٹ) نے جیت حاصل کر لی۔ یہاں بی جے پی نے دارا سنگھ چوہان (81 ہزار 668 ووٹ) کو میدان میں اتارا تھا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں 1 لاکھ 8 ہزار 430 ووٹ حاصل کرنے والے دارا سنگھ اس بار 81 ہزار 668 ووٹ ہی حاصل کر سکے۔ یعنی ان کے ووٹ بینک کو ایک بڑا نقصان پہنچا ہے۔

باگیشور (اتراکھنڈ):

اتراکھنڈ کی باگیشور اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخاب میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ یہاں بی جے پی امیدوار پاروتی داس کو 33 ہزار 247 ووٹ ملے، جبکہ کانگریس امیدوار بسنت کمار نے 30 ہزار 842 ووٹ حاصل کیے۔ اس سیٹ پر پہلے بھی بی جے پی کا ہی قبضہ تھا اور رکن اسمبلی و کابینہ وزیر چندن رام داس کے انتقال کے بعد سیٹ خالی ہو گئی تھی۔

پتھوپلی (کیرالہ):

کانگریس کے آنجہانی لیڈر اومن چانڈی کے بیٹے چانڈی اومن نے اپنے حریف جیک تھامس اور لجن لال کو بہ آسانی شکست دے دی۔ چانڈی اومن نے شروعاتی مرحلہ کی گنتی سے ہی اپنے حریف پر سبقت بنا لی تھی۔ ان کے قریبی حریف ایل ڈی ایف کے جیک سی تھامس اور بی جے پی کے لجن لال کسی بھی مرحلہ کی گنتی میں ان سے آگے نہیں نکل سکے۔ 37 سالہ چانڈی انتخابی حلقہ میں اپنے والد کے ریکارڈ 33255 ووٹوں کے فرق سے جیت کو بہ آسانی پار کر گئے۔ ان کے والد نے پانچ دہائیوں سے زیادہ وقت تک ریاستی اسمبلی میں پتھوپلی کی نمائندگی کی تھی۔ چانڈی اومن نے جہاں 81 ہزار 668 ووٹ حاصل کیے، وہیں قریبی حریف جیک سی تھامس کو 42 ہزار 425 ووٹ ملے۔

دھوپ گوڑی (مغربی بنگال):

مغربی بنگال میں جلپائی گوڑی ضلع کی دھوپ گوڑی اسمبلی سیٹ پر بی جے پی کا قبضہ تھا، لیکن ترنمول کانگریس نے یہ سیٹ بی جے پی سے چھین لی۔ یہاں پر جمعہ کو جاری نتائج میں ترنمول امیدوار نرمل چندر رائے (96961 ووٹ) نے بی جے پی کی تاپسی رائے (92648 ووٹ) کو 4 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ تیسرے مقام پر رہے لیفٹ پارٹی امیدوار ایشور چندر رائے کو 13666 ووٹ ہی مل سکے۔

چائباسہ میں نکسلیوں نے ریٹائرڈ جوان کو گولیوں سے کیا چھلنی، 20 دنوں میں 7 قتل سے خوف

0
چائباسہ-میں-نکسلیوں-نے-ریٹائرڈ-جوان-کو-گولیوں-سے-کیا-چھلنی،-20-دنوں-میں-7-قتل-سے-خوف

جھارکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم کے کولہان علاقے میں ماؤنواز نکسلیوں کا خونی کھیل تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ گزشتہ شب چائباسہ کے گوئل کیرا بلاک میں نکسلیوں کے مسلح دستے نے بی ایس ایف کے ایک ریٹائرڈ جوان سکھلال پورتی کے گھر پر حملہ بول کر انھیں گولیوں سے چھلنی کر ڈالا۔ گزشتہ 20 دنوں کے اندر نکسلیوں نے مشرقی سنگھ بھوم (چائباسہ) میں 7 لوگوں کا قتل کر دیا ہے جس سے علاقے میں خوف و دہشت طاری ہے۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین جمعہ کے روز چائباسہ کے دورے پر پہنچے۔ اس سے کچھ ہی گھنٹے پہلے نکسلیوں کے کارنامے سے پولیس انتظامیہ الرٹ ہو گئی ہے اور سیکورٹی سخت کر دی گئی۔ ساتھ ہی نکسلیوں کی تلاشی کے لیے مہم بھی تیز کر دی گئی ہے۔ ضلع میں جگہ جگہ پر پولیس اور سیکورٹی فورسز کے جوان تلاشی لے رہے ہیں اور جانچ کر رہے ہیں۔

موصولہ اطلاع کے مطابق چائباسہ کے گوئل کیرا بلاک واقع قدم ڈیہہ پنچایت کے کاشی جوڑا گاؤں میں 7 ستمبر کی شب ایک درجن سے زیادہ نکسلیوں نے بی ایس ایف کے ریٹائرڈ جوان سکھ لال پورتی کا گھر گھیر لیا۔ انھوں نے آواز دے کر دروازہ کھولنے کو کہا، لیکن ایسا نہیں کرنے پر نکسلی گھر کے دروازے کو توڑ کر اندر گھسے اور ریٹائرڈ جوان کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔

سکھ لال پورتی کچھ سال پہلے بی ایس ایف سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے گاؤں میں رہ رہے تھے۔ ان کی عمر تقریباً 50 سال تھی۔ ان کے قتل کے بعد نکسلی پرچے بھی چھوڑ گئے ہیں جس میں ان پر پولیس مخبری کا الزام لگایا گیا ہے۔ واردات کی جانکاری ملنے پر پولیس آج صبح تقریباً 9 بجے جوان کے گھر پہنچی اور ان کی لاش برآمد کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل تین ہفتوں کے اندر نکسلیوں نے قدم ڈیہہ پنچایت کے رونڈو سرین، ارجن سرین، سپائے مرکڈ، کانہو انگریا، رسیا پردھان اور ایک دیگر شخص کی پولیس مخبر ہونے کے شبہ میں قتل کیا ہے۔ تنہا چائباسہ ضلع میں ہی گزشتہ 20 دنوں میں نکسلیوں کے ذریعہ 7 لوگوں کے قتل سے علاقے میں خوف کا عالم ہے۔

گھوسی ضمنی انتخاب: سماجوادی پارٹی جیت کی طرف گامزن، اکھلیش یادو نے کہا- ’ناکام امیدوار کی ہار‘

0
گھوسی-ضمنی-انتخاب:-سماجوادی-پارٹی-جیت-کی-طرف-گامزن،-اکھلیش-یادو-نے-کہا-’ناکام-امیدوار-کی-ہار‘

لکھنؤ: اتر پردیش کے مؤ ضلع کی گھوسی اسمبلی سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ اس میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے امیدوار سدھاکر سنگھ بڑی جیت کی طرف گامزن ہیں۔ آخری اطلاع موصول ہونے تک وہ بی جے پی امیدوار دارا سنگھ چوہان پر 33 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے آگے تھے۔

اس پر ایس پی صدر اکھلیش یادو نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے گھوسی میں جیت کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے گھوسی کے عوام اور پارٹی امیدوار سدھاکر سنگھ کو بھی ان کی جیت پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ گھوسی میں عوام کی بڑی سوچ جیت گئی ہے۔ گھوسی نے ایس پی کے ‘انڈیا اتحاد’ کے امیدوار کو جتایا ہے اور اب کل بھی یہی نتیجہ آئے گا۔

اکھلیش یادو نے کہا ’’یہ مثبت سیاست کی جیت اور فرقہ وارانہ منفی سیاست کی شکست ہے۔ یہ پارٹی کے تنگ نظری اور ذات پات کی غلامی سے اوپر اٹھ کر کام کرنے والے امیدوار کی جیت اور ناکام امیدوار کی شکست ہے۔ یہ سماج کو تقسیم کرنے والی بی جے پی کی تخریب کاری اور منفی سیاست کی عبرتناک شکست ہے۔ یہ جھوٹے پروپیگنڈے اور بیان بازی کی شکست ہے۔ یہ واٹس ایپ اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جا رہیی ہے سماجی نفرت، گمراہ کن معلومات اور سیاسی جھوٹ کی شکست ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’یہ کرپشن، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل کی بھی جیت ہے۔ یہ گرگٹ جیسے امیدواروں کے لیے بھی پیغام ہے کہ عوام نے ان کے اصلی رنگ پہچان لیے ہیں۔ یہ انحراف اور دل بدل کی سیاست کرنے والوں کی شکست ہے۔ یہ بی جے پی کے غرور اور تکبر کو چکناچور کرنے والا نتیجہ ہے۔

اکھلیش یادو نے کہا ’’یوپی ایک بار پھر ملک میں اقتدار کی تبدیلی کا لیڈر بنے گا۔ بھارت نے ‘انڈیا‘ کو جتانے کی شروعات کر دی ہے۔ یہ ملک کے مستقبل کی جیت ہے۔ یہ ایسا انوکھا الیکشن ہے جس میں ایک ایم ایل اے جیتا ہے لیکن ہارنے والے کئی پارٹیوں کے مستقبل کے وزیر ہیں۔ ‘انڈیا’ ٹیم ہے اور ’پی ڈی اے‘ حکمت عملی، ہمارا یہ نیا فارمولا کامیاب ثابت ہوا ہے۔‘‘

لوک سبھا انتخاب: بی جے پی اور جے ڈی ایس کے درمیان سمجھوتہ، 4-24 فارمولہ پر لگی مہر!

0
لوک-سبھا-انتخاب:-بی-جے-پی-اور-جے-ڈی-ایس-کے-درمیان-سمجھوتہ،-4-24-فارمولہ-پر-لگی-مہر!

لوک سبھا انتخاب سے قبل کرناٹک میں بی جے پی اور جے ڈی ایس اتحاد پر مہر لگنے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ بی جے پی لیڈر اور کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا نے اعلان کیا ہے کہ بی جے پی نے لوک سبھا انتخاب کے لیے جے ڈی ایس کو 4 سیٹیں دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’امر اجالا‘ میں اس تعلق سے ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے جس میں بی ایس یدی یورپا کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جے ڈی ایس کو کرناٹک میں لوک سبھا کی 4 سیٹیں دینے پر اپنی مہر لگا دی ہے۔ یعنی دونوں پارٹیوں کے درمیان 4-24 کا فارمولہ طے پاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کرناٹک میں لوک سبھا کی 28 سیٹیں ہیں اور ابھی ان میں سے 25 پر بی جے پی کا قبضہ ہے۔ کانگریس اور جے ڈی ایس کے پاس 1-1 لوک سبھا سیٹیں ہیں اور ریاست کی ایک لوک سبھا سیٹ پر آزاد امیدوار نے جیت حاصل کی تھی جو کہ جے ڈی ایس کا حامی ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو کرناٹک میں میں بی جے پی 24 لوک سبھا سیٹوں پر اپنے امیدوار اتار کر پچھلی بار سے ایک کم سیٹ پر ہی اپنا دعویٰ کرے گی، اور جے ڈی ایس کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنے اراکین پارلیمنٹ کی تعداد کرناٹک میں ایک سے بڑھا کر 4 کر لے۔

واضح رہے کہ جے ڈی ایس نے اپوزیشن اتحاد اِنڈیا کی میٹنگ سے جب خود کو دور رکھنے کا فیصلہ کیا، تبھی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں کہ وہ بی جے پی سے ہاتھ ملا سکتی ہے۔ حالانکہ کرناٹک میں بی جے پی اور جے ڈی ایس کا رشتہ بہت مضبوط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسا اس لیے کیونکہ جے ڈی ایس نے کانگریس کے ساتھ ریاست میں حکومت بھی بنائی تھی، لیکن بعد میں بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا۔ 2019 کے لوک سبھا انتخاب سے قبل بھی کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان اتحاد قائم ہوا تھا۔ بہر حال کچھ ماہرین سیاست کا ماننا ہے کہ ایک ساتھ جانے سے دونوں پارٹیوں کو مدد مل سکتی ہے، جب کچھ کا ماننا یہ ہے کہ بی جے پی کو فائدہ ملتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔

جی-20 سربراہی اجلاس کا راہل گاندھی نے کیا خیرمقدم، کہا- ’خوشی کی بات ہے کہ ہندوستان اس کی میزبانی کر رہا ہے‘

0
جی-20-سربراہی-اجلاس-کا-راہل-گاندھی-نے-کیا-خیرمقدم،-کہا-’خوشی-کی-بات-ہے-کہ-ہندوستان-اس-کی-میزبانی-کر-رہا-ہے‘

برسلز: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بلجیم کے برسلز پریس کلب میں بین الاقوامی میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جی 20 بات چیت کے لحاظ سے بہت اہم ہے اور یہ خوشی کی بات ہے کہ ہندوستان اس کی میزبانی کر رہا ہے۔‘‘ دریں اثنا، انہوں نے جی-20 سربراہی اجلاس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کو مدعو نہ کرنے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ملک کے 60 فیصد عوام کے لیڈر پر توجہ نہیں دیتے۔‘‘

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق راہل گاندھی نے کہا کہ ’’جمہوریت کے حوالے سے ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت سنگین ہے۔ ان لوگوں کے ذریعے ملک کے جمہوری ڈھانچے پر حملہ کیا جا رہا ہے جو ہندوستان کو چلا رہے ہیں۔‘‘ اقلیتوں پر حملے کے سوال پر راہل گاندھی نے کہا کہ صرف اقلیتوں پر ہی نہیں بلکہ دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ افراد پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔ دراصل بی جے پی چاہتی ہے کہ دولت اور طاقت صرف اور صرف مرکز کے پاس رہے۔‘‘

جب ان سے روس اور امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا تو کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا ’’ہندوستان کے روس کے ساتھ تعلقات ہیں اور امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات ہیں۔ ہندوستان ایک بڑا ملک ہے اور اس کے کئی ممالک کے ساتھ تعلقات ہوں گے۔ یہ ایک معمول کی بات ہے اور ہندوستان کو اپنی مرضی کے مطابق تعلقات رکھنے کا پورا حق ہے۔‘‘

یوکرین کے مسئلہ پر راہل گاندھی نے کہا ’’مجھے لگتا ہے کہ پوری اپوزیشن روس-یوکرین جنگ پر ہندوستان کے موجودہ موقف سے متفق ہوگی۔ میرا نہیں خیال کہ حکومت حال میں جو قراردادیں پیش کر رہی ہوگی اس سے اپوزیشن کا کوئی مختلف نظریہ ہوگا۔‘‘

وہیں، چین کے معاملہ پر راہل گاندھی نے کہا کہ چین ایک خصوصی نقطہ نظر پیش کر رہا ہے۔ چین ون بیلٹ، ون روڈ کا تصور پیش کر رہا ہے کیونککہ وہ عالمی تخلیق کاری کا مرکز بن گیا ہے۔ لیکن ہماری جانب سے کوئی متبادل نقطہ نظر پیش نہیں کیا جا رہا ہے۔

انڈیا اور بھارت تنازع پر راہل گاندھی نے کہا کہ ’’مجھے نہیں معلوم، یہ آپ کو وزیر اعظم سے پوچھنا پڑے گا۔ میں آئین میں اس لفظ سے پوری طرح خوش ہوں۔ حکومت میں خوف کا عالم ہے۔ یہ توجہ ہٹانے کی حکمت عملی ہیں۔ ہم اپنے اتحاد کے لیے ہندوستان کا نام لے کر آئے تھے لیکن اس نے وزیر اعظم کو پریشان کر دیا۔ وزیر اعظم نے خلفشار کی نئی حکمت عملی تیار کی ہے۔‘‘

مہندر سنگھ دھونی نے سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ کھیلا گولف، دیکھیں ویڈیو

0
مہندر-سنگھ-دھونی-نے-سابق-امریکی-صدر-ڈونالڈ-ٹرمپ-کے-ساتھ-کھیلا-گولف،-دیکھیں-ویڈیو

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے عظیم کپتانوں میں شمار مہندر سنگھ دھونی کھیل میں صرف کرکٹ سے ہی محبت نہیں رکھتے ہیں، بلکہ فٹ بال اور کچھ دیگر کھیلوں میں بھی ان کی دلچسپی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ چنئی سپر کنگز کے کپتان حال ہی میں یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں کارلوس الکاراج کا میچ دیکھنے پہنچے تھے، اور تازہ خبر یہ ہے کہ وہ امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ گولف کھیلتے ہوئے اسپاٹ کیے گئے ہیں۔

دراصل مہندر سنگھ دھونی کی ایک تصویر امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ وائرل ہو رہی ہے۔ چونکہ ان دنوں دھونی امریکہ میں ہیں اس لیے تصویر پر یقین کرنے میں کوئی مضائقہ معلوم نہیں ہوتا۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستان کے سابق کرکٹ کپتان کو سابق امریکی صدر ٹرمپ نے نیشنل گولف کلب بیڈمنسٹر میں گولف کھیلنے کے لیے مدعو کیا تھا۔

دھونی سے قریبی تعلق رکھنے والے اور کاروباری ہتیش سانگھوی نے انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے ’’دھونی، ڈنالڈ ٹرمپ اور راجیو نیک کے ساتھ گولف۔ ہماری میزبانی کے لیے شکریہ سابق صدر محترم۔‘‘ اپنی ایک انسٹاگرام اسٹوری میں سانگھوی نے ویڈیو بھی پوسٹ کیا ہے جس میں دھونی اور ٹرمپ دونوں کو ایک ساتھ گولف کھیلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ دبئی واقع کاروباری سانگھوی ایم ایس دھونی کے ساتھ تھے اور انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ہندوستان کے سابق کپتان کے ساتھ کئی تصویریں شیئر کی ہیں۔

اندرا رسوئی دیہی اسکیم: پرینکا گاندھی 10 ستمبر کو ٹونک میں کریں گی افتتاح، آٹھ روپے میں ملے گا کھانا

0
اندرا-رسوئی-دیہی-اسکیم:-پرینکا-گاندھی-10-ستمبر-کو-ٹونک-میں-کریں-گی-افتتاح،-آٹھ-روپے-میں-ملے-گا-کھانا

جے پور: کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی 10 ستمبر کو راجستھان کے ٹونک ضلع کے نیوائی میں اندرا رسوئی دیہی اسکیم کا افتتاح کریں گی۔ اس منصوبے کی افتتاحی تقریب کی تیاریاں جنگی بنیادوں پر جاری ہیں۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی جھلائی گاؤں کے وویکانند ماڈل اسکول میں اسکیم کا آغاز کرنے کے بعد اجتماع سے خطاب کرنے والی ہیں۔

اس میٹنگ میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور وزراء بشمول وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت، ریاستی انچارج سکھجندر سنگھ رندھاوا، ریاستی صدر گووند سنگھ ڈوتاسارا موجود رہیں گے۔ تیاریوں کے ایک حصے کے طور پر ٹونک، جے پور اور دوسہ کے قائدین کو جلسے کے لیے بھیڑ کو اکٹھا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اس اسکیم کے تحت ضرورت مندوں کو 8 روپے میں کھانا فراہم کیا جاتا ہے اور یہ ابھی تک شہروں میں ہی چل رہی ہے۔ تاہم، وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اعلان کیا تھا کہ گاؤں میں بھی اندرا رسوئی کے ذریعے سستا کھانا فراہم کیا جائے گا۔ اسے اندرا رسوئی گرامین یوجنا کے نام سے چلایا جائے گا۔

خیال رہے کہ پرینکا گاندھی گاندھی شروع سے ہی اسمبلی انتخابی ریاستوں میں سرگرمی سے مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کرناٹک اور ہماچل کے انتخابات میں عظیم الشان اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ اب اس کی توسیع راجستھان تک کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل 9 اگست کو قبائلیوں کے عالمی دن کے موقع پر راہل گاندھی نے بانسواڑہ کے مان گڑھ دھام میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔