اتوار, مارچ 29, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 132

جی-20 اجلاس کے دوران 112 موضوعات پر ہوئی گفتگو، 73 پر اتفاق قائم!

0
جی-20-اجلاس-کے-دوران-112-موضوعات-پر-ہوئی-گفتگو،-73-پر-اتفاق-قائم!

ہندوستان کی راجدھانی دہلی واقع پرگتی میدان کے ’بھارت منڈپم‘ میں دو روزہ جی-20 اجلاس کا آج پہلا دن انتہائی کامیاب رہا۔ ہفتہ کے روز کئی اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی اور اس درمیان نئی دہلی اعلامیہ کو سبھی رکن ممالک کی منظوری بھی مل گئی۔ ہندوستان کی صدارت میں ہوئی جی-20 کی میٹنگوں میں 73 ایسے معاملے رہے جو دنیا کے موجودہ مسائل سے جڑے تھے۔ ان کا حل نکالنے پر سبھی کا اتفاق قائم ہو گیا ہے۔ اس میں فوڈ سیکورٹی اور غذائیت، اوسیان معیشت، سیاحت، لینڈ ریسٹوریشن اور ایم ایس ایم ای سیکٹر شامل ہیں۔ 73 معاملوں کے علاوہ 39 ایسے معاملے بھی تھے جن پر ضروری دستاویزات کے ساتھ اتفاق قائم کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔ یعنی مجموعی طور پر آج 112 موضوعات پر گفتگو ہوئی۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل جب 2022 میں انڈونیشا نے جی 20 اجلاس کی میزبانی کی تھی تو 50 موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔ علاوہ ازیں 2021 کے اٹلی اجلاس میں 65 اور 2020 کے سعودی عرب اجلاس میں 30 عالمی معاملات کو ایڈریس کیا گیا تھا۔ اس طرح دیکھا جائے تو ہندوستان میں زیر گفتگو آنے والے 112 معاملات اور پہلے ہی دن 73 معاملوں پر اتفاق قائم ہونا بہت بڑی کامیابی ہے۔

نئی دہلی اعلامیہ پر جی-20 ممالک کا اتفاق قائم ہونا بھی بہت اہم ہے۔ پی ایم مودی نے نئی دہلی اعلامیہ کی منظوری کو تاریخی قرار دیا اور ایکس پر کیے گئے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’جی-20 کے اعلان کو تاریخ کے موافق بنایا گیا ہے۔ عقیدہ اور جذبہ سے متحد ہو کر ہم بہتر مستقبل کے لیے معاون طور سے کام کرنے کا عزم لیتے ہیں۔‘‘

نئی دہلی کے اعلامیہ کو جی-20 ممالک کی ملی منظوری، یہاں دیکھیں اعلامیہ کی تفصیل

0
نئی-دہلی-کے-اعلامیہ-کو-جی-20-ممالک-کی-ملی-منظوری،-یہاں-دیکھیں-اعلامیہ-کی-تفصیل

ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں جی 20 اجلاس جاری ہے۔ اس درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے جی 20 اعلیٰ سطحی اجلاس کے پہلے دن ہی یہ خوشخبری سنائی کہ نئی دہلی اعلامیہ کو گروپ کے سبھی ممالک کی منظوری مل گئی ہے۔ انھوں نے ہفتہ کے روز کہا کہ ’’ہماری ٹیم کی سخت محنت اور آپ سب کے تعاون سے جی-20 لیڈر اجلاس کے اعلامیہ پر اتفاق بن گیا ہے۔ میری تجویز ہے کہ لیڈرس ڈکلیریشن (اعلامیہ) کو بھی اپنایا جائے۔ میں بھی اس ڈکلیریشن کو اپنانے کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘ اسے ملک کے لیے بڑی جیت تصور کیا جا رہا ہے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق اعلامیہ کو سبھی ممالک کی منظوری مل گئی ہے۔ اس اعلامیہ میں 9 مرتبہ بھارت کا اور 4 مرتبہ یوکرین کا تذکرہ ہے۔ اس میں ہندوستان کو چندریان-3 کی کامیابی کے لیے مبارکباد بھی دی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پہلے روس-یوکرین کے ایشو کو لے کر اس اعلامیہ کو منظوری ملنے میں دقتیں آ رہی تھیں۔ حالانکہ بعد میں ہندوستان نے اعلامیہ (ڈکلیریشن) کے پیراگراف میں کچھ تبدیلی کی، جس سے اسے منظوری ملنے میں آسانی ہوئی۔ وزیر اعظم مودی نے اس مشترکہ اعلامیہ کو منظوری ملنے کے بعد جی-20 شیرپا، وزرا اور افسران کا شکریہ ادا کیا اور ان کی سخت محنت کے لیے تعریف کی۔

جی-20 لیڈران کے اعلامیہ میں کیا کچھ ہے؟

  • ہم گہری فکر کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ بہت زیادہ انسانی تکلیف ہوئی ہے اور جنگوں اور جدوجہد کا منفی اثر پڑا ہے۔

  • ہم نے انسانی تکلیف، عالمی فوڈ اور توانائی سیکورٹی کے سلسلے میں یوکرین میں جنگ کے منفی اثرات پر روشنی ڈالی۔

  • ہم نے یو این ایس سی اور یو این جی اے میں اختیار کیے گئے ملک کے رخ اور تجاویز کو دہرایا۔

  • نیوکلیائی اسلحوں کا استعمال یا دھمکی دینا ناقابل قبول ہے۔

  • یہ مانتے ہوئے کہ جی-20 جغرافیائی سیاسی ایشوز کو حل کرنے کا اسٹیج نہیں ہے، اعلامیہ میں منظور کیا گیا ہے کہ ان ایشوز کا معیشت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

  • جی-20 اعلامیہ میں سپلائی سیریز، وسیع مالیاتی استحکام، مہنگائی اور ترقیات پر یوکرین جنگ کے منفی اثرات کا تذکرہ ہے۔

  • جی-20 اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین جنگ نے ممالک، خصوصاً ترقی پذیر اور کچھ حد تک ترقی یافتہ ممالک کے لیے پالیسیوں پر پیچیدگی پیدا کر دی ہے۔

  • سبھی ممالک کو کسی ملک کی علاقائی سالمیت کے خلاف اس کے جغرافیہ پر قبضے کے لیے طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے سے بچنا چاہیے۔

  • ہم سبھی ممالک سے علاقائی سالمیت اور خود مختاری سمیت بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کو برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہیں۔

  • جی-20 رکن میں اضافہ کو رفتار دینے، مستحکم معاشی تبدیلی لانے میں پرائیویٹ ادارے کے اہم کردار کو پہچانتے ہیں۔

  • جی-20 اراکین نے ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری لائق پروجیکٹس کے منصوبوں کا کام شروع کرنے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ کام کرنے کا عزم لیا۔

  • ہم اقتصادی کارروائی ورک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے بڑھتے وسائل کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

اعلامیہ میں ماحولیات کے لیے کیا ہے؟

  • ہمارے پاس بہتر مستقبل بنانے کا موقع ہے، ایسے حالات نہیں بننے چاہئیں کہ کسی بھی ملک کو غریبی سے لڑنے اور سیارہ کے لیے لڑنے کے درمیان انتخاب کرنا پڑے۔

  • ہم جنسی فرق کو کم کرنے، فیصلہ لینے والوں کی شکل میں معیشت میں خواتین کی مکمل، یکساں، اثردار شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

جی-20 اجلاس: ’شی جنپنگ کی غیر حاضری پر وضاحت دینا چین کا کام‘، امریکہ

0
جی-20-اجلاس:-’شی-جنپنگ-کی-غیر-حاضری-پر-وضاحت-دینا-چین-کا-کام‘،-امریکہ

چینی صدر شی جنپنگ کے دہلی میں جی 20 اجلاس میں شامل نہیں ہونے پر امریکہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ تقریب میں ان کی غیر حاضری پر وضاحت دینا بیجنگ حکومت پر منحصر ہے۔ نئی دہلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکہ کے نائب قومی سیکورٹی مشیر جان فائنر نے کہا کہ ’’یہ بتانا چینی حکومت پر منحصر ہے کہ اس کے لیڈر کیوں حصہ لیں گے یا نہیں لیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ یہ افسوسناک ہے، لیکن چین گروپ کی کامیابی کے لیے پرعزم نہیں ہے۔

فائنر نے کہا کہ ’’کچھ لوگوں نے اندازہ لگایا ہے کہ چین کی غیر حاضری یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ جی 20 کو چھوڑ رہا ہے، ایک متبادل عالمی معیشت کی تشکیل کر رہا ہے، کہ وہ برکس جیسے گروپوں کو خصوصی استحقاق دے گا۔‘‘ چین کے وزیر اعظم لی کیانگ جی 20 لیڈروں کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یوکرین کے خلاف ماسکو کے جاری جنگ کے درمیان روسی صدر ولادمیر پوتن بھی جی 20 اجلاس میں نہیں پہنچے۔ ان کی نمائندگی روسی وزیر خارجہ سرگیئی لاوروف کر رہے ہیں۔ ہندوستان نے ہائی پروفائل اعلیٰ سطحی اجلاس سے دونوں لیڈروں کی غیر حاضری کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہوئے اہم توجہ کثیر جہتی انعقاد کے سامنے آنے والے اہم ایشوز پر سبھی اراکین کے درمیان عام اتفاق قائم کرنے پر دیا ہے۔

مدھیہ پردیش: نشے میں ڈوبا کانسٹیبل ’ڈائل 100‘ میں ڈیوٹی کرنے پہنچا، لوگوں کا ہنگامہ

0
مدھیہ-پردیش:-نشے-میں-ڈوبا-کانسٹیبل-’ڈائل-100‘-میں-ڈیوٹی-کرنے-پہنچا،-لوگوں-کا-ہنگامہ

مدھیہ ردیش کے ساگر میں خاکی کو شرمسار کر دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ نشے میں ڈوبا ایک پولیس اہلکار ڈائل 100 میں ڈیوٹی کرنے پہنچ گیا جس سے عجیب و غریب حالات پیدا ہو گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جس گاری میں شرابی پولیس اہلکار موجود تھا، اس کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔ ڈائل 100 کی ڈیوٹی پر تعینات ہیڈ کانسٹیبل جتیندر ٹھاکر نشے میں ڈوبے تنہا ہی رہ گیا۔ جب لوگوں کو راستے سے نکلنے میں پریشانی ہوئی تو احتجاج شروع ہو گیا، لیکن شراب کے نشے میں ڈوبے پولیس اہلکار پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ الٹا وہ لوگوں سے بحث کرنے لگا۔ ہنگامہ دیکھ کر موقع پر مقامی لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی۔

ہنگامہ کے دوران شراب کے نشے میں ہیڈ کانسٹیبل کی کسی نے ویڈیو بنا لی اور سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ پورے معاملے مین رہلی تھانہ انچارج ونود ونایک کرکرے کا بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈائل 100 کی گاڑی اور ڈیوٹی پر تعینات ہیڈ کانسٹیبل کو بھیجا گیا تھا۔ دونوں گاڑی کھڑی کر کے بستی میں گئے تھے۔ اسی دوران نشے کی حالت میں جتیندر ٹھاکر آ کر گاڑی میں بیٹھ گئے، جبکہ ان کی گاڑی میں ڈیوٹی نہیں تھی۔ تھانہ انچارج کے مطابق ہیڈ کانسٹیبل کی تھانے میں بھی غیر حاضری درج کی گئی تھی۔ ہیڈ کانسٹیبل زبردستی آ کر گاڑی میں بیٹھ گئے تھے۔

جی-20 اجلاس: کھڑگے کو عشائیہ پر مدعو نہ کرنے پر چدمبرم کا رد عمل ’ہندوستان میں اپوزیشن کا وجود ختم نہیں ہوا ہے‘

0
جی-20-اجلاس:-کھڑگے-کو-عشائیہ-پر-مدعو-نہ-کرنے-پر-چدمبرم-کا-رد-عمل-’ہندوستان-میں-اپوزیشن-کا-وجود-ختم-نہیں-ہوا-ہے‘

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے ہفتہ کے روز راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے کو صدر دروپدی مرمو کی طرف سے منعقدہ جی-20 کے عشائیہ میں مدعو نہ کرنے پر حکومت پر طنز کیا اور کہا کہ ایسا صرف ان ممالک میں ہو سکتا ہے جہاں جمہوریت نہیں ہے یا جہاں کوئی کوئی اپوزیشن نہیں ہے اور ہندوستان ابھی اس صورتحال تک نہیں پہنچا ہے جہاں جمہوریت کا وجود ختم ہو گیا ہو۔

ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے چدمبرم نے لکھا ’’میں تصور نہیں کر سکتا کہ کسی دوسرے جمہوری ملک کی حکومت اپوزیشن کے تسلیم شدہ لیڈر کو عالمی رہنماؤں کے لیے ریاستی عشائیہ میں مدعو نہ کرے۔ یہ صرف ان ممالک میں ہو سکتا ہے جہاں نہ جمہوریت ہے یا کوئی اپوزیشن نہیں ہے۔‘‘

سابق مرکزی وزیر نے کہا ’’مجھے امید ہے کہ ہندوستان ابھی ایسی صورتحال پر نہیں پہنچا ہے جہاں جمہوریت اور اپوزیشن کا وجود ختم ہو جائے۔‘‘ انہوں نے یہ تبصرہ کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے کو صدر دروپدی مرمو کی طرف سے دیے گئے عشائیے میں مدعو نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جی-20 سربراہی اجلاس اس سال 9-10 ستمبر کو نئی دہلی میں ہندوستان کی صدارت میں منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن، برطانوی وزیر اعظم رشی سنک، سعودی ولی عہد محمد بل سلمان، بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ، جاپانی وزیر اعظم فومیو کشیدا سمیت کئی معززین اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

گوپال گنج: شراب پینے اور بیچنے والوں کے خلاف آبکاری محکمہ کی سخت کارروائی، 54 افراد گرفتار

0
گوپال-گنج:-شراب-پینے-اور-بیچنے-والوں-کے-خلاف-آبکاری-محکمہ-کی-سخت-کارروائی،-54-افراد-گرفتار

بہار میں شراب نوشی پر مکمل پابندی کے باوجود اکثر شراب نوشی کرتے ہوئے یا پھر غیر قانونی طور پر شراب بیچتے ہوئے لوگوں کی گرفتاری ہوتی رہی ہے۔ اس معاملے میں پولیس کے ذریعہ کئی بار خصوصی کارروائی بھی کی گئی۔ کچھ ایسا ہی گوپال گنج میں 8 ستمبر (جمعہ) کو دیکھنے کو ملا جب محکمہ آبکاری کی ٹیم نے شراب کے کاروباریوں اور شراب نوشی کرنے والوں کے خلاف بڑی کارروائی کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ آبکاری کی کارروائی کے دوران نوڈل ریڈ کے تحت مختلف چیک پوسٹ سے شراب فروخت کرنے اور پینے والے 54 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ پکڑے گئے سبھی لوگوں کو محکمہ آبکاری کی ٹیم پوچھ تاچھ کے بعد کورٹ بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ایکسائز سپرنٹنڈنٹ راکیش کمار کی قیادت میں ٹیم نے گاڑیوں کی جانچ کے دوران ضلع کے کچائے کوٹ تھانہ حلقہ کے بلتھری چیک پوسٹ، کٹیا تھانہ حلقہ کے سمور چیک پوسٹ سمیت کچھ دیگر مقامات پر چھاپہ ماری کی۔ اس دوران نوڈل ریڈ کے تحت شراب پینے کے الزام میں 34 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ علاوہ ازیں شراب فروخت کرنے کے الزام میں 20 لوگوں کی گرفتاری ہوئی ہے۔ سبھی سے پوچھ تاچھ کرنے کے بعد انھیں عدالت بھیجنے کی تیاری ہو رہی ہے۔

تاج محل کی خوبصورتی دیکھ کر مدہوش ہوئے انڈونیشیائی صدر کے بیٹے اور بہو!

0
تاج-محل-کی-خوبصورتی-دیکھ-کر-مدہوش-ہوئے-انڈونیشیائی-صدر-کے-بیٹے-اور-بہو!

ایک طرف جی-20 اجلاس جاری ہے، اور دوسری طرف بیرون ممالک سے ہندوستان پہنچنے والے سربراہان کے اہل خانہ سیر و سیاحت میں مصروف ہیں۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق انڈونیشیائی صدر جوکو ویڈوڈو کے بیٹے کیسینگ پینریپے اور بہو نے ہفتہ کے روز محبت کی عظیم نشانی تاج محل کا دیدار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بارش کی ہلکی پھوہاروں کے درمیان کیسینگ اور ان کی بیوی ایرینا گڈونو تاج محل کی خوبصورتی سے مدہوش ہو گئے۔ ان کے ساتھ پہنچے وفد نے بھی تاج کا دیدار کیا اور تصویریں بھی کھنچوائیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈونیشیائی صدر کے بیٹے اور بہو نے تاج محل میں سنگ مرمر پر کی گئی نقاشی کو چھو کر دیکھا اور تاج محل کے سب سے بڑے گنبد سے جمنا کا دیدار کیا۔ دونوں ہی شاہی مسجد سے لے کر تاج محل تک کا علاقہ دیکھ کر حیران و ششدر دکھائی دیے۔

واضح رہے کہ جی-20 اجلاس کے درمیان غیر ملکی مہمان تاج محل کے دیدار کے لیے آج سے پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسی دوران انڈونیشیائی صدر کے بیٹے اور بہو کے ساتھ نمائندہ وفد کے رکن تاج محل کا دیدار کرنے پہنچے۔ یہاں سخت سیکورٹی کے درمیان دونوں کو تاج محل مین داخلہ ملا۔ دونوں نے بارش کے خوشنما موسم میں تاج کے دیدار کا شرف حاصل کیا۔ انھوں نے شاہجہاں اور ممتاز کی قبر کی زیارت بھی کی اور پھر تصویر بھی کھنچوائی۔

قابل ذکر ہے کہ بیرون ملکی مہمانوں کے تاج محل پہنچنے کی خبروں کے درمیان اے ایس آئی نے جمعہ کی تعطیل میں تاج محل میں صاف صفائی اور رنگائی و پتائی کا کام مکمل کر لیا ہے۔ تاج محل کے سنٹرل ٹینک اور نہر کے ساتھ مسجد کے ٹینک میں بھی پانی بدلا گیا ہے۔ نہر اور سنٹرل ٹینک میں نیلے رنگ کا پینٹ کرنے کے بعد صاف پانی بھروایا گیا ہے۔

جی-20 کو اعتماد کے بحران کو دور کرکے عالمی چیلنجوں کا حل تلاش کرنا چاہئے: وزیر اعظم مودی

0
جی-20-کو-اعتماد-کے-بحران-کو-دور-کرکے-عالمی-چیلنجوں-کا-حل-تلاش-کرنا-چاہئے:-وزیر-اعظم-مودی

نئی دہلی: انسانیت کی فلاح و بہبود اور خوشی کو یقینی بنانے کے ہندوستان کے پیغام کے ساتھ آج یہاں جی 20 چوٹی کانفرنس شروع ہوئی، جس میں ہر قسم کی باہمی بداعتمادی کو دور کر کے تمام عالمی چیلنجوں کے ٹھوس حل کی طرف بڑھنے کی اپیل کی گئی۔

دارالحکومت نئی دہلی کے پرگتی میدان میں نوتعمیر شدہ بھارت منڈپم میں ہندوستان کی صدارت میں 19 ممالک، یورپی یونین، 9 خصوصی مہمان ممالک، تین علاقائی اور 11 بین الاقوامی تنظیموں کے رہنما حصہ لے رہے ہیں۔ ون ارتھ کے تھیم پر منعقد ہونے والے اس سیشن میں افریقی یونین کو باضابطہ طور پر مکمل رکن کے طور پر تسلیم کیا گیا!

وزیر اعظم نریندر مودی نے مہمان رہنماؤں کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے افتتاحی بیان میں سب سے پہلے مراکش میں زلزلے میں ہونے والی ہلاکتوں پر تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی اور بحران کی اس گھڑی میں مراکش کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’جی-20 کے سربراہ کے طور پر، ہندوستان آپ سب کا پرتپاک خیر مقدم کرتا ہے۔ اس وقت جس جگہ ہم جمع ہوئے ہیں یہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تقریباً ڈھائی ہزار سال پرانا ستون ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ اس ستون پر پراکرت زبان میں لکھا ہے ’’ہیوم لوکسا ہتمکھے تی، اتھ ایم ناتیسو ہیوم‘‘ یعنی انسانیت کی فلاح و بہبود اور خوشی ہمیشہ یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈھائی ہزار سال پہلے، ہندوستان کی سرزمین نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیاتھا۔ آئیے اس پیغام کو یاد کرکے اس جی-20 سربراہی اجلاس کا آغاز کریں۔ اکیسویں صدی کا یہ وقت پوری دنیا کو نئی سمت دینے والا ایک اہم وقت ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ وہ وقت ہے جب برسوں پرانے چیلنجز، ہم سے نئے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنی تمام ذمہ داریوں کو انسانوں پر مرکوز رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کے بعد دنیا میں ایک بہت بڑا بحران اعتماد کی کمی کا آیا ہے۔ جنگ نے، اس اعتماد کے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ جب ہم کووڈ کو شکست دے سکتے ہیں تو ہم باہمی اعتماد کے اس بحران پر بھی قابو پا سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج، جی-20 کے صدر کے طور پر، ہندوستان پوری دنیا سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم سب مل کر سب سے پہلے اعتماد کے اس عالمی بحران کو ایک یقین، ایک بھروسے میں تبدیل کریں۔ یہ سب کے ساتھ مل کر چلنے کا وقت ہے اور اس لیے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس‘ کا منتر ہم سب کے لیے مشعل راہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت میں اتھل پتھل ہو، شمال جنوب کی تقسیم ہو، مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہو، خوراک، ایندھن اور کھادوں کا انتظام ہو، دہشت گردی اور سائبر سیکیورٹی ہو، صحت، توانائی اور پانی کی حفاظت ہو! موجودہ اور آنے والی نسلوں کی خاطر ہمیں ان چیلنجوں کے ٹھوس حل کی طرف بڑھنا ہی چاہیے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کی جی-20 صدارت ملک کے اندر اور باہر شمولیت کا، "سب کا ساتھ” کی علامت بن گئی ہے۔ ہندوستان میں یہ عوام کا جی-20 بن گیا ہے۔ کروڑوں ہندوستانی اس میں شامل ہوئے۔ ملک کے 60 سے زیادہ شہروں میں ملک میں 200 سے زیادہ میٹنگیں منعقد ہوئیں۔ سب کا ساتھ کے جذبے کے تحت ہندوستان نے افریقی یونین کو جی-20 کی مستقل رکنیت دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ مانا جاتا ہے کہ اس تجویز پر ہم سب کی اتفاق رائے ہے۔

اس کے بعد وزیر اعظم مودی نے افریقی یونین کے چیئرمین کو جی 20 کے مستقل رکن کے طور پر اپنی نشست سنبھالنے کی دعوت دی۔

حیدرآباد میں میلاد جلوس نہیں نکالا جائے گا! شرانگیزی، ممکنہ فتنہ انگیزی کے پیش نظر ذمہ داروں کا فیصلہ

0
حیدرآباد-میں-میلاد-جلوس-نہیں-نکالا-جائے-گا!-شرانگیزی،-ممکنہ-فتنہ-انگیزی-کے-پیش-نظر-ذمہ-داروں-کا-فیصلہ

حیدرآباد: شہر حیدرآباد میں جاریہ سال میلاد جلوس نہیں نکالا جائے گا۔ علی قادری صدرنشین سیرت النبیؐ اکیڈیمی نے اس خصوص میں جاری کردہ ایک ویڈیو پیام میں کہا کہ سیرت النبیؐ اکیڈیمی کی عاملہ اور بیشتر نوجوانوں کے مشورہ کے بعد مرکزی انجمن قادریہ، سیرت النبیؐ اکیڈیمی کی جانب سے متفقہ طورپریہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر سال نکالا جانے والا میلاد جلوس جاریہ سال نہیں نکالا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 28 ستمبر کو برادران وطن کا جلوس نکالاجانے والا ہے۔ ایک ہی سڑک پر دوجلوس نکلنا ممکن نہیں ہے۔شرانگیزی، فتنہ انگیزی ہو سکتی ہے۔ بعض شرانگیز اگرہمارے جلوس میں داخل ہوکرشرپسندی کریں توشہر کے امان وامان کی فضا خراب ہونے کے اندیشے ہیں اسی لئے جاریہ سال کا میلاد جلوس منسوخ کردیاگیا ہے کیونکہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ نوجوانوں کے خلاف کسی بھی قسم کے مقدمات کے درج ہوں اور وہ کسی بھی قسم کی پریشانی میں مبتلا ہوں۔ اسی لئے نوجوانوں کی حفاظت کیلئے مرکزی انجمن قادریہ اورسیرت النبیؐ اکیڈیمی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس سال میلاد جلوس نہیں نکالا جائے گا لیکن اس کے بجائے گھروں اور خانقاہوں میں جشن منایا جائے گا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شہر کی امن کی فضا بے انتہا ضروری ہے۔ ان افراد پر بھی نظر ڈالنی چاہئے جو روز صبح کاروبار کے لئے نکلتے ہیں۔ شام میں گھر واپس جاتے ہیں تو ان کے گھر میں چولہا جلتا ہے۔ اگر شہر کی امن کی فضا خراب ہوتی ہے تو یہ غریب لوگ متاثر ہوں گے، یہ فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی حال میں شہر کی امن کی فضا کو خراب نہ ہونے پائے۔ اسی لئے میلاد جلوس کی منسوخی کا اعلان کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو بھی اطلاع دی جاتی ہے کہ یہ جلوس منسوخ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے گذارش کی کہ شب میلاد گاڑیوں پر نکلنے، شورشرابہ کرنے سے گریز کریں اور قطعی طور پر ایسی کوئی حرکت نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان بلاوجہ سڑکوں پر گشت نہ کریں بلکہ نوجوان مساجد میں رہیں، درود پاک کا نذرانہ محسن انسانیتؐ اور آپؐ کی اولاد پر بھیجیں۔ نوجوان خانقاہ میں آثارشریف کی زیارت کریں اور وعظ کی محفل میں شامل ہو جائیں اس طرح میلاد منائیں۔ انہوں نے کہا کہ میلاد جلوس میں صرف کی جانے والی رقم کو غریبوں کو اناج کی کٹس دینے پر صرف کریں۔

چندرابابو کی گرفتاری کے خلاف احتجاج، بپٹے اور پارٹی قانون سازوں کو پولیس نے حراست میں لیا

0
چندرابابو-کی-گرفتاری-کے-خلاف-احتجاج،-بپٹے-اور-پارٹی-قانون-سازوں-کو-پولیس-نے-حراست-میں-لیا

نئی دہلی: تلگودیشم پارٹی کے سربراہ اور آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو کے بیٹے نارا لوکیش کو اپنے والد کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے پر حراست میں لے لیا گیا۔ ٹی ڈی پی کے جنرل سکریٹری نارا لوکیش، جو ’یواگلم پدایاترا‘ کر رہے تھے، اپنے والد کی گرفتاری کے بعد احتجاجاً دھرنے پر بیٹھ گئے تھے۔ مشرقی گوداوری ضلع میں ان کے ساتھ احتجاج کرنے والے پارٹی کے کئی ارکان اسمبلی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

ٹی ڈی پی نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے نارا لوکیش کو اس کے والد سے ملنے سے روکا۔ نائیڈو کے وکیل نے کہا کہ وہ ضمانت کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نائیڈو کو ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ٹی ڈی پی نے حکمراں وائی ایس آر سی پی حکومت پر الزام لگایا کہ نائیڈو کو اس وقت غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا جب وہ بس میں آرام کر رہے تھے۔

پارٹی کے ترجمان کماریڈی پٹابھیرام نے الزام لگایا کہ ریاستی پولیس اور سی آئی ڈی نے جمعہ کی رات سے ہی نائیڈو کو غیر قانونی طور پر گرفتار کرنے کا عمل شروع کر دیا تھا۔ سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے کیمپ کی جگہ کو گھیر لیا جہاں نائیڈو آرام کر رہے تھے اور ان کے ساتھ تمام لیڈروں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا۔ انہوں نے بتایا کہ نائیڈو نے پولیس سے پوچھا کہ انہیں کس بنیاد پر گرفتار کیا گیا لیکن پولیس انہیں کوئی جواب نہیں دے سکی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ لوگ جانتے ہیں کہ گرفتاری کے پیچھے وزیر اعلی جگن موہن ریڈی کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے انہیں ملک کا کرپٹ ترین وزیر اعلیٰ قرار دیا۔ ٹی ڈی پی نے سوشل میڈیا پر کئی پوسٹس میں اپنے سپریمو کی گرفتاری کی مذمت کی۔ ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ "کیا آپ سابق وزیر اعلی کو یہ بتائے بغیر گرفتار کر لیں گے کہ انہیں کیوں گرفتار کیا جا رہا ہے؟ ہم آپ کے ساتھ ہیں سر۔ عوام آپ کا قلعہ ہے، ہم لڑیں گے، جیتیں گے۔”

پارٹی نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکام نے نائیڈو کو گرفتار کرتے وقت قائدین اور وکلاء کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ پولیس نے بس کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جب نائیڈو سوال پوچھ رہے تھے تو انہوں نے انہیں گرفتار کر لیا۔ دریں اثنا، آندھرا پردیش سی آئی ڈی ہنرمندی کی ترقی کے گھوٹالہ میں نائیڈو کی گرفتاری پر منگل گری ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس کر رہی ہے۔