اتوار, مارچ 29, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 131

امریکی صدر، برطانوی وزیر اعظم سمیت جی-20 کے رہنماؤں کا راج گھاٹ کا دورہ، مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا

0
امریکی-صدر،-برطانوی-وزیر-اعظم-سمیت-جی-20-کے-رہنماؤں-کا-راج-گھاٹ-کا-دورہ،-مہاتما-گاندھی-کو-خراج-عقیدت-پیش-کیا

نئی دہلی: ملک میں منعقدہ جی-20 سمٹ کے دوسرے دن علی الصبح دنیا کے تمام طاقتور ممالک کے لیڈر دہلی کے راج گھاٹ پہنچے اور سبھی لیڈروں نے مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا اور گلپوشی کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود رہے، جنہوں نے تمام کی کھادی کے شال پہنا کر عزت افزائی کی۔

امریکی صدر جو بائیڈن بھی مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرنے اور پھول چڑھانے کے لیے دہلی کے راج گھاٹ پہنچے۔ اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوآن، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، عوامی جمہوریہ چین کے وزیر اعظم لی کیانگ، انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو، برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر سبھی نے دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔

قابل ذکر ہے کہ آج جی-20 سربراہی اجلاس کا دوسرا دن ہے۔ صبح 10 بجے کے بعد جی-20 سربراہی اجلاس کی تیسری اور آخری نشست شروع ہوئی جس کا موضوع ’ایک مستقبل‘ ہے۔ گزشتہ روز جی-20 کی دو نشستیں ہوئی تھیں۔ قائدین نے پہلے اجلاس میں ہی اعلامیہ پر اتفاق ظاہر کیا تھا۔ پہلے ہی دن تمام اراکین نے 73 امور پر اتفاق کیا۔ آج ہندوستان 2024 میں جی-20 کی صدارت کی ذمہ داری برازیل کو سونپ دے گا۔ آج وزیر اعظم نریندر مودی کئی ممالک کے سربراہان مملکت کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ ان کی فرانس کے صدر اور کینیڈا کے وزیراعظم سے دوطرفہ ملاقات ہوگی۔

جی-20 سربراہی اجلاس کے موقع پر دہلی کے باشندگان میں جوش و خروش، روشنی میں پرانی دہلی کا علاقہ

0
جی-20-سربراہی-اجلاس-کے-موقع-پر-دہلی-کے-باشندگان-میں-جوش-و-خروش،-روشنی-میں-پرانی-دہلی-کا-علاقہ

نئی دہلی: دہلی میں جی-20 سربراہی اجلاس جاری ہے اور یہاں کے لوگوں میں بھی اس کے لے کر کافی جوش و خروش نظر آ رہا ہے۔ اس دوران بازاروں کو بھی سجایا گیا ہے اور غیر ملکی مہمانوں کے استقبال کی پوری تیاری کی گئی ہے۔ پرانی دہلی میں جامع مسجد کا علاقہ روشنی میں نہایا ہوا ہے اور یہاں جشن کا سا ماحول ہے۔

معروف صحافی رویش کمار نے اپنی رپورٹ میں پرانی دہلی کی جی-20 کی تیاریوں کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ’’یہاں کی بازار کمیٹی نے اپنی طرف سے بازار کو کافی سجا دیا ہے تاکہ وہ بھی جی-20 کے استقبال میں کسی سے پیچھے نظر نہ آئیں۔ مہمان جب ادھر آ جائیں تو انہیں لگے کہ یہ علاقہ بھی روشن ہے۔ مٹیا مارکٹ ایسوسی ایشن نے جامع مسجد کے سامنے سے لے کر ایک کلومیٹر تک لائٹنگ کرا دیی ہے۔ کارپٹ اور گملے وغرہ بھی لگا دئے گئے ہیں۔ خود سے ہی گڑھوں کو بھر دیا گیا ہے تاکہ غیر ملکی مہمانوں کی شان میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔‘‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا ’’کچھ میڈیا رپورٹوں کے مطابق دہلی کے کئی بازاروں کی کمیٹیاں چاہتی تھی کہ بازار بند نہ ہوں تاکہ وہ بھی اپنی سجاوٹ سے مہمانوں کو مائل کریں اور اپنی صلاحیات کا مظاہرہ بھی۔ فی الحال اس علاقہ میں عوام جی-20 منا رہے ہیں۔‘‘

دریں اثنا، سروجنی مارکٹ کے دکانداروں میں بھی جوش و خروش نظر آ رہا ہے۔ دکانداروں نے مہمانوں کو دیکھتے ہوئے کافی تیاریاں کی ہیں، تاکہ جب وہ اپنے ملک واپس جائیں تو انہیں ہندوستانیوں کی مہمان نوازی یاد آئے۔ انہوں نے کہا کہ اب دہلی کو دیکھ کر لوگوں کی رائے بدلتی نظر آرہی ہے اور ہندوستان کا نام پوری دنیا میں مشہور ہو رہا ہے۔

وہیں، سروجنی نگر مارکٹ ایسوسی ایشن کے صدر اشوک رندھاوا نے کہا کہ ہم ہندوستان کے جی-20 کی صدارت کرنے پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آنے والے وقت میں ہندوستان ایک سپر پاور بن کر ابھرے گا۔

گھوسی ضمنی الیکشن نے سال 2024 کے جیت کا راستہ کھول دیا: اتل انجان

0
گھوسی-ضمنی-الیکشن-نے-سال-2024-کے-جیت-کا-راستہ-کھول-دیا:-اتل-انجان

مئو: مارکسی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری اتل کمار انجان نے کہ اکہ اس الیکشن میں بی جے پی کی سرکاری مشنری، فرقہ واریت، ذات پات کی صف بندی اور اتحاد سبھی مورچوں کو شکست دیتے ہوئے عوام نے جیت حاصل کر کے ایک نئی چھلانگ لگائی ہے۔ اسمبلی ضمنی انتخابات کے نتائج لوک سبھا کے 2024 کے جیت کے لئے انڈیا اتحاد کا راستہ کھول دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی معاشی، سماج، سیاسی اور سرکاری کی تنگ نظری، فرقہ وارانہ چالیں اور پونجی واد کو بڑھاوادے کر پبلک پراپرٹی کی لوٹ کی پالیسیوں کے خلاف عوام نے ووٹ کر کے انہیں شکست سے دو چار کیا ہے۔ ملک کے سات ریاستوں میں ہوئے ضمنی الیکشن میں انڈیا اتحاد نے جیت درج کی ہے ۔جس کا مطلب ہے کہ عوام نے 120لوک سبھا سیٹوں پر عوام نے بی جے پی کے تئیں اپنا اعتماد واپس لے لیا ہے۔

اترپردیش کے مختلف اضلاع میں اسی دوران ہوئے ضلع پنچایت کی سات سیٹوں پر بی جے پی اور اس کے اتحاد کی ہار ہوئی ہے۔ اترپردیش میں بھی بی جے پی کی تفریقانہ پالیسیوں کے خلاف انڈیا اتحاد میں شامل سماج وادی پارٹی (ایس پی) امیدوار سدھا کر سنگھ کی جیت نے ثابت کردیا ہے کہ آنے والے لوک سبھا الیکشن میں سماج وادی پارٹی، کانگریس پارٹی، مارکسی کمیونسٹ پارٹی، آر ایل ڈی اتحاد پارلیمانی انتخاب میں مزید کردار ادا کرے گا اور عوام کا تعاون حاصل ہوگا۔

آدتیہ ایل-1 نے تیسری مرتبہ کامیابی کے ساتھ تبدیل کیا مدار

0
آدتیہ-ایل-1-نے-تیسری-مرتبہ-کامیابی-کے-ساتھ-تبدیل-کیا-مدار

بنگلورو: ہندوستان کے شمسی مشن آدتیہ ایل ون نے تیسری بار مدار تبدیل کرنے کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ معلومات انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے دی ہے۔ اسرو نے ٹوئٹ کیا کہ آدتیہ ایل ون نے بنگلورو کے اسٹراک سینٹر سے تیسری بار زمین کے مدار کو تبدیل کرنے کا عمل کامیابی سے مکمل کیا ہے۔ آدتیہ ایل ون کو ہٹانے کے عمل کو بنگلورو میں اسرو کے ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اور کمانڈ نیٹ ورک (آئی ایس ٹی آر اے سی) سے ہدایت کی گئی تھی۔ اس مشن کی پیشرفت کا پتہ ماریشس، بنگلورو اور پورٹ بلیئر میں اسرو کے گراؤنڈ اسٹیشنوں سے لگایا گیا۔

اسرو کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق آدتیہ ایل ون کا نیا مدار 296 کلومیٹر – 71767 کلومیٹر ہے۔ اب اگلا عمل 15 ستمبر کو صبح 2 بجے کے قریب ہوگا۔ خیال رہے کہ سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے اسرو نے 2 ستمبر کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے اپنے باوقار مشن آدتیہ ایل ون کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا تھا۔

آدتیہ ایل ون پہلے ہی زمین کے دو مدار تبدیل کر چکا تھا۔ اس نے پہلا مدار 3 ستمبر کو اور دوسرا مدار 5 ستمبر کو تبدیل کیا اور اب ہندوستان کے پہلے شمسی مشن نے اپنا تیسرا مدار کامیابی سے تبدیل کر دیا ہے۔ زمین کے مدار کو تبدیل کرنے کے لیے چوتھی مشق 15 ستمبر کو دوپہر 2 بجے کے قریب شیڈول ہے۔ اسرو کے مطابق آدتیہ ایل ون زمین کے مدار میں 16 دن گزارے گا۔ اس مدت کے دوران، آدتیہ ایل ون کے مدار کو تبدیل کرنے کے لیے 5 بار ارتھ باؤنڈ فائر کیا جائے گا۔

دہلی-این سی آر میں مسلسل بارش سے موسم خوشگوار، شدید گرمی سے راحت

0
دہلی-این-سی-آر-میں-مسلسل-بارش-سے-موسم-خوشگوار،-شدید-گرمی-سے-راحت

نئی دہلی: دہلی-این سی آر میں دو دنوں سے مسلسل بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا ہے۔ ہفتہ سے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش ہو رہی ہے۔ اتوار کی صبح بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعہ کو دن بھر مطلع ابر آلود رہا اور شام ہوتے ہی بعض علاقوں میں موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ ہفتہ سے تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہو رہی ہے۔ مسلسل بارش کی وجہ سے دہلی-این سی آر کے لوگوں کو گرمی سے کچھ راحت ضرور ملی ہے۔

دہلی میں پچھلے کچھ دنوں سے شدید گرمی تھی۔ دو دن سے جاری بارش سے دہلی-این سی آر کے لوگوں کو راحت ملی ہے۔اتوار کی صبح 4 بجے دہلی کا درجہ حرارت 26 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ اسی دوران 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔ جہاں ایک طرف بارش سے گرمی سے راحت ملی ہے وہیں دوسری طرف دہلی-این سی آر کے لوگوں کو کئی جگہوں پر پانی جمع ہونے کی پریشانی کا سامنا ہے۔

آئی ایم ڈی نے بدھ کو ہی بارش کے لیے یلو الرٹ جاری کیا تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں اگلے چند دنوں میں درجہ حرارت میں کمی آئے گی۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ دہلی-این سی آر خطہ فی الحال ابر آلود رہے گا۔ دارالحکومت کے کئی علاقوں میں 2 سے 3 گھنٹے تک ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ دہلی میں اس وقت جی-20 سربراہی اجلاس جاری ہے۔ اس دوران مسلسل بارش سے گرمی اور نمی سے راحت ملی ہے۔ اتوار کی صبح سے ہی موسلادھار بارش ہو رہی ہے۔ برطانوی وزیراعظم رشی سنک بارش کے درمیان اکشردھام مندر پہنچے۔ دہلی کے اکشردھام علاقے سے کچھ تصاویر سامنے آئی ہیں، جن میں موسلادھار بارش کو دیکھا جا سکتا ہے۔ دارالحکومت کے دیگر مقامات کے ساتھ ساتھ نوئیڈا میں بھی ہفتہ کی رات سے مسلسل بارش ہو رہی ہے۔ بارش کے باعث لوگوں کا گھروں سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔

جی-20 کانفرنس میں ہندوستان، مغربی ایشیا، یورپ کے درمیان پورٹ کوریڈور بنانے کی پہل کا اعلان

0
جی-20-کانفرنس-میں-ہندوستان،-مغربی-ایشیا،-یورپ-کے-درمیان-پورٹ-کوریڈور-بنانے-کی-پہل-کا-اعلان

جی-20 سربراہی اجلاس میں ہفتہ کے روز ہندوستان (جنوبی ایشیا)، مغربی ایشیا اور یورپ کی بندرگاہوں کو جوڑنے والے ریل روٹ نیٹ ورک پر مشتمل اقتصادی راہداری کی ترقی کا اعلان کیا گیا، جس میں امریکہ اور دوسرے پارٹنر ممالک مدد کریں گے۔

اس منصوبے کے تحت شریک ممالک نے بجلی، بحری کیبل، صاف توانائی اور انٹرنیٹ کی سہولیات کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ اس پہل کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے بڑی صلاحیت والی پہل قرار دیا ہے جو مشترکہ ترقی اور اختراع کی علامت بن سکتی ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے اس بڑے منصوبے کو انڈیا-ویسٹ ایشیا-یورپ اکنامک کوریڈور کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور اسے خطے میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پہل کے متوازی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور دیگر ممالک چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو کمیونسٹ ملک کی طرف سے دوسرے ممالک پر مسلط کردہ مبہم منصوبے کے طور پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

بھارت نے اسے اپنی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے کیونکہ اس کے تحت تیار ہونے والی چین-پاکستان اقتصادی راہداری پاک مقبوضہ جموں و کشمیر سے گزر رہی ہے۔

امریکہ، ہندوستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، فرانس، جرمنی، اٹلی اور یورپی یونین کے سرکردہ رہنماؤں نے ہندوستان، مغربی ایشیا-یورپ اقتصادی راہداری کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے لیے ایک مفاہمت نامے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مجوزہ کوریڈور سے ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کنیکٹویٹی میں اضافہ ہوگا اور دونوں براعظموں (ایشیا، یورپ) میں اقتصادی انضمام کے ذریعے اقتصادی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ رہنماؤں نے کہا ہے کہ اس سے دنیا میں صحت مند اور جامع اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔

جے ڈی (ایس) بی جے پی کی بی ٹیم : سدارامیا

0
جے-ڈی-(ایس)-بی-جے-پی-کی-بی-ٹیم-:-سدارامیا

کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا نے کہا کہ جنتا دل (سیکولر) کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی بی ٹیم ہونے کے بارے میں ان کا بیان اگلی لوک سبھا انتخابات کے لئے دونوں جماعتوں کے اتحاد کی خبروں سے درست ثابت ہوا ہے۔

مسٹر سدارامیا نے یہاں ہوائی اڈے پر صحافیوں سے کہا، ”جب بھی میں جے ڈی (ایس) کو بی جے پی کی بی ٹیم کہتا تھا، اس کے لیڈر مجھ پر اپنا غصہ ظاہر کرتے تھے۔ اب وہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں ہیں۔ ان کی پارٹی کے نام میں لفظ ’سیکولر‘ہے جب کہ وہ فرقہ وارانہ طاقتوں کے ساتھ جڑے ہیں۔“

سابق وزیر اعظم دیوے گوڑا کی طرف سے جاری کردہ اس بیان کا ذکرکرتے ہوئے کہ بی جے پی-جے ڈی (ایس) اتحاد ان کے لیڈر جی ٹی دیوے گوڑا کے ذریعے ریاست میں پارٹی کی بقاء کو بچانے کے لیے تھا، مسٹر سدارامیا نے کہا کہ جے ڈی (ایس) کا کوئی اتحاد نہیں ہے اورنظریہ اور اتحاد اقتدار کے حصول کے لیے بنایا گیا ہے۔

مہادائی پروجیکٹ پر انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سے جنگلات اور ماحولیات کی منظوری ملتے ہی حکومت اسے شروع کردے گی۔ مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کے اس بیان پر کہ وزیر اعلی کی قیادت والے وائلڈ لائف بورڈ سے مرکز کو ایک تجویز بھیجنے کو کہا گیا تھا، مسٹر سدارامیا نے سوال کیا کہ کرناٹک کی سابقہ بی جے پی حکومت نے پچھلے تین سالوں میں ایسا کیوں نہیں کیا۔

مودی- سنک دو طرفہ بات چیت کے دوران گلے ملے

0
مودی-سنک-دو-طرفہ-بات-چیت-کے-دوران-گلے-ملے

وزیر اعظم نریندر مودی اور برطانوی وزیر اعظم رشی سنک کے درمیان جی-20 کانفرنس کے موقع پر الگ الگ دو طرفہ ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنما ایک دوسرے کو گرمجوشی سے گلے لگاتے ہوئے دیکھے گئے۔

جی۔20 سربراہی اجلاس کے پہلے اجلاس کے اختتام کے بعد مسٹر مودی اور مسٹر سنک نے چوٹی کانفرنس کے موقع پر ایک دو طرفہ میٹنگ کی اور اس دوران کاروباری تعلقات کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مسٹر سنک چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے جمعہ کو دہلی پہنچے تھے لیکن آج صبح چوٹی کانفرنس کا پہلا اجلاس ختم ہونے کے بعد دو طرفہ میٹنگ کی۔ مسٹر سنک نے دہلی پہنچنے کے بعد کئی اہم بیانات بھی دیے ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں ہندو ہونے پر فخر ہے۔ مسٹر سنک اتوار کو یہاں واقع اکشردھام مندر جانے کا بھی منصوبہ بنا رہے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنی پوسٹ میں کہاکہ "دہلی میں جی۔20 سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم رشی سنک سے ملنا بہت اچھا تھا۔ ہم نے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

تلنگانہ اسمبلی انتخاب: کانگریس صدر کھڑگے نے انتخاب سے متعلق کمیٹیوں کی تشکیل کو دی منظوری

0
تلنگانہ-اسمبلی-انتخاب:-کانگریس-صدر-کھڑگے-نے-انتخاب-سے-متعلق-کمیٹیوں-کی-تشکیل-کو-دی-منظوری

کانگریس نے تلنگانہ میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے انتخابی انتظامیہ کمیٹی، منشور کمیٹی اور اسٹریٹجی سمیت مختلف کمیٹیوں کی تشکیل کا اعلان کر دیا۔ کانگریس کے تنظیم انچارج جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کے ذریعہ نوٹیفکیشن کے مطابق دامودر راجہ نرسمہا انتخابی انتظامیہ کمیٹی کے چیف ہوں گے۔ پینل کے اراکین میں وامشی چند ریڈی، ای کومریا، جگن لال نائک اور فخرالدین کے نام شامل ہیں۔

ڈوڈیلا شری دھر بابو کو منشور کمیٹی کا چیف اور گدام پرساد کو ڈپٹی چیف مقرر کیا گیا ہے۔ اسٹریٹجی کمیٹی کا چیف پریم ساگر راؤ کو بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی نے اے آئی سی سی پروگرام عمل درآمد کمیٹی، تشہیر کمیٹی، فرد جرم کمیٹی، مواصلات کمیٹی اور تربیت کمیٹی کی بھی تشکیل کی ہے۔ پارٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ان کمیٹیوں کی تشکیل سے متعلق تجویز کو فوری اثر سے منظوری دے دی ہے۔ تلنگانہ میں اس سال کے آخر تک اسمبلی انتخابات ہونے ہیں اور اس کو لے کر کانگریس اب پوری طرح سرگرم ہو گئی ہے۔ کانگریس نے اعتماد ظاہر کیا ہے کہ وہ برسراقتدار بی آر ایس (بھارتیہ راشٹر سمیتی) کو اقتدار سے باہر کر دے گی۔

خاتون ریزرویشن: ’انتخاب سے پہلے ہی کیوں جاگتی ہے بی جے پی‘، کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ

0
خاتون-ریزرویشن:-’انتخاب-سے-پہلے-ہی-کیوں-جاگتی-ہے-بی-جے-پی‘،-کانگریس-کا-مودی-حکومت-پر-حملہ

پارلیمنٹ کے پانچ رکنی خصوصی اجلاس سے پہلے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب خواتین کو آئین میں ترمیم کے ذریعہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مناسب نمائندگی ملے گی۔ اس بیان کے بعد ملک بھر میں خاتون ریزرویشن بل پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ اس تبصرہ کو اپوزیشن نے خاتون ووٹرس کو لبھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

بل، جو خواتین کے لیے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد سیٹیں محفوظ کرنے کا التزام کرتا ہے، 2010 میں راجیہ سبھا کے ذریعہ پاس کیا گیا تھا، لیکن لوک سبھا کے ذریعہ اسے منظوری نہیں دیے جانے کے بعد یہ رد ہو گیا۔ نائب صدر کے تبصرہ سے اب قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں کہ خاتون ریزرویشن بل کو 22-18 ستمبر کو ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران پیش کیا جا سکتا ہے، جس کا ایجنڈا ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔

کانگریس کی سینئر لیڈر کماری شیلجا نے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس پر سونیا گاندھی جی نے کئی بار (حکومت کو) خط لکھا تھا اور یقین دلایا تھا کہ کانگریس پارٹی خاتون ریزرویشن بل کی حمایت کرے گی۔ شروع سے ہی وہ (سونیا گاندھی) چاہتی تھیں کہ یہ بل (پارلیمنٹ میں) لایا جائے۔ لیکن وہ (بی جے پی) اسے کیوں نہیں لائے؟ بی جے پی اور (وزیر اعظم) مودی کی بے چینی دیکھیے، ان کی کمزوری سامنے آ رہی ہے۔ کبھی کبھی وہ کمیٹی کی تشکیل کر رہے ہیں، ایجنڈے کا انکشاف نہ کرتے ہوئے خصوصی اجلاس بلا رہے ہیں، یا انڈیا و بھارت کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘‘

شیلجا، جو انتخابی ریاست چھتیس گڑھ کی انچارج بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ ’’جب پانچ ریاستوں میں انتخابات قریب آ رہے ہیں، تب آپ نے (مرکزی حکومت) ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 200 روپے کم کرنے کے بارے میں سوچا۔ یہ واضح ہے کہ وہ (انتخاب کے لیے) ایشو گڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

دوسری طرف خاتون کانگریس چیف نیٹا ڈیسوزا نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’کانگریس ہمیشہ خواتین کی سیاست میں خود مختاری کے لیے کھڑی رہی ہے۔ ملک میں کانگریس ہی ہے جس نے مقمای بلدیوں میں پہلے 33 فیصد اور پھر 50 فیصد ریزرویشن یقینی کر کے خواتین کی سیاسی طاقت کو بڑھایا ہے۔‘‘ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’ہم سبھی جانتے ہیں کہ کانگریس نے بل پیش کیا تھا، ہم نے اسے راجیہ سبھا میں منظوری دے دی تھی، لیکن لوک سبھا میں ہمارے پاس تعداد نہیں تھی۔‘‘

ڈیسوزا کا کہنا ہے کہ ’’بی جے پی کو اقتدار میں آئے ساڑھے نو سال ہو گئے ہیں اور وہ ابھی تک یہ یقینی بنانے کی سمت میں ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھی ہے کہ بل پاس ہو جائے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ صرف خاتون ووٹرس کو لبھانے کی کوشش ہے… گزشتہ ساڑھے نو سال میں حکومت نے جس طرح کی کارکردگی پیش کی ہے، اس سے ایک خاتون کے لیے گھر سنبھالنا واقعی مشکل ہو گیا ہے۔ حکومت ناکام ہو گئی ہے اور وہ خواتین کو لبھانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘ ڈیسوزا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ہم نے گزشتہ ساڑھے نو سالوں میں خواتین سے جڑے ہر ایشو پر حکومت کی بے حسی دیکھی ہے، یہاں تک کہ خواتین کے خلاف جرم کی بڑھتی شرح بھی دیکھی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ خواتین کے لیے 33 فیصد سیٹیں ریزرو کرنے کا بل پہلی بار 1996 میں ایچ ڈی دیوگوڑا کی قیادت والی حکومت کے ذریعہ پیش کیا گیا تھا۔ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے 2008 میں اس قانون کو پھر سے پیش کیا، جسے آفیشیل طور پر آئینی (108ویں ترمیم) بل کی شکل میں جانا جاتا ہے۔ یہ قانون 2010 میں راجیہ سبھا کے ذریعہ پاس کیا گیا تھا، لیکن یہ لوک سبھا میں پاس نہیں ہو سکا اور 2014 میں یہ ختم ہو گیا۔