اتوار, مارچ 29, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 130

کشمیر میں ماہ ستمبر میں گرمی کا 18سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، درجہ حرارت 32.9 ڈگری ریکارڈ

0
کشمیر-میں-ماہ-ستمبر-میں-گرمی-کا-18سالہ-ریکارڈ-ٹوٹ-گیا،-درجہ-حرارت-32.9-ڈگری-ریکارڈ

وادی کشمیر میں ماہ ستمبر میں بھی گرمی کی شدت جاری رہتے ہوئے گرمی کا 18 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔سری نگر میں اتوار کے روز زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32.9 ڈگری سینٹی گریڈ درج کیا گیا جو معمول سے 4.7 ڈگری زیادہ ہے۔

ماہر موسمیات فیضان کینگ نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ وادی کشمیر میں ماہ ستمبر میں بھی زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اتوار کے روز سری نگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32.9ڈگری سینٹی گریڈ درج کیا گیا جو معمول سے 4.7 ڈگری زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ستمبر 2005میں 33.4ڈگری ریکارڈ کیا گیا تھا جبکہ 18ستمبر 1934کو ابتک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 35.0ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فیضان کینگ نے بتایا کہ شہرہ آفاق گلمرگ میں بھی 14برسوں کے بعد اتوار کے روز 24ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ27 ستمبر 2009میں گلمرگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 24.4ڈگری درجہ کیا گیا جبکہ 3ستمبر 2005میں 26ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔دریں اثنا محکمہ موسمیات کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گیارہ سے 17 ستمبر تک وادی کشمیر میں مجموعی طورپر موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران کہیں کہیں پر بوندا باندھی متوقع ہے۔

’میں نے گیتا،اپنشد پڑھے ہیں لیکن جو بی جے پی کرتی ہے اس میں کچھ بھی ہندو نہیں ہے‘: راہل گاندھی

0
’میں-نے-گیتا،اپنشد-پڑھے-ہیں-لیکن-جو-بی-جے-پی-کرتی-ہے-اس-میں-کچھ-بھی-ہندو-نہیں-ہے‘:-راہل-گاندھی

انڈیا بمقابلہ بھارت بحث کے درمیان مرکزی حکومت پر واضح تنقید کرتے ہوئے، کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اتوار کو کہا کہ "ہندوستان کی روح پر حملہ کرنے والے’’ لوگوں کو "بھاری قیمت چکانی پڑے گی‘‘۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے فرانس  کی راجدھانی پیرس کی سائنسز  پی او یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو لوگ ملک کا نام بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بنیادی طور پر تاریخ کو جھٹلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ جن لوگوں نے جو کچھ کیا وہ کر چکے ہیں، اس کی ایک اہم قیمت ان کو  ادا کرنی ہوگی۔ تاکہ ہندوستان کی روح پر حملہ کرنے کی کوشش کرنے والا کوئی بھی نہ سمجھے کہ انہیں بھی اپنے اعمال کی قیمت چکانی نہیں  پڑے گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملک کو انڈیا  یا بھارت کہنا ٹھیک ہے، لیکن اس تبدیلی کے پیچھے ان کی نیت ہے جو زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کے نام نے مرکزی حکومت کو ملک کے نام کے طور پر ‘بھارت’ پر دباؤ ڈالنے پر اکسایا ہے۔

راہل نے کہا کہ ’’ہندوستانی آئین دونوں ناموں (انڈیا اور بھارت) کا استعمال کرتا ہے۔ دونوں الفاظ بالکل ٹھیک ہیں۔ لیکن ہم نے شاید اپنے اتحادی نام سے حکومت کو ناراض کیا ہے۔ ہمارے اتحاد کا نام انڈیا ہے۔ اور اسی لیے انہوں نے ملک کا نام بدلنے کا فیصلہ کیا،‘‘ ۔

راہل گاندھی نے کہا، "میں نے گیتا، اپنشد اور بہت سی دوسری ہندو کتابیں پڑھی ہیں، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جو کچھ کرتی ہے اس میں کچھ  ہندو نہیں ہے۔ ہندوستان ریاستوں کا اتحاد ہے۔” جو لوگ کسی چیز کا نام بدلنا چاہتے ہیں۔ بنیادی طور پر  وہ تاریخ کو جھٹلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکوت پر  ہندوستان میں اقلیتوں کو دبانے کا الزام لگاتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ ملک میں ایسا نہ ہونے دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی جے پی نچلی اور پسماندہ ذاتوں کے لوگوں کے اظہار اور شرکت کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں ایسا ہندوستان نہیں چاہتا جہاں لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کی جائے کیونکہ وہ اقلیت ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہ "ہندوستان کے لئے شرم کی بات ہےکہ اقلیتیں اپنے ہی ملک میں بے چینی محسوس کریں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان میں 200 ملین لوگ غیر آرام دہ محسوس کرتے ہیں، اگر سکھ برادری کے لوگ بے چینی محسوس کرتے ہیں، خواتین اتنی بے چینی محسوس کرتی ہیں تو  یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے۔ اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

دہلی میں G20 سربراہی اجلاس اور ہندوستان-چین تعلقات کے پس منظر میں بات کرتے ہوئے راہل  گاندھی نے چین کو ایک "غیر جمہوری” ملک ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا جس نے عالمی سطح پر مینوفیکچرنگ صنعتوں پر اکثریتی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

راہل نے کہا کہ ’’ہم سب کو ایک مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ سب کے لیے ایک مسئلہ ہے۔ ہندوستان، یورپ اور امریکہ کے لئے  مسئلہ یہ ہے کہ آج تمام بلک پروڈکشن، مینوفیکچرنگ اور ویلیو ایڈیشن چین میں ہو رہا ہے۔ چینیوں نے ہمارا مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔ وہ چیزیں بنانے میں اچھے ہیں، لیکن وہ یہ کام غیر جمہوری عمل کے ساتھ کرتے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں ان سے مقابلہ کرنے کی کوشش کرنی ہے، لیکن جمہوری اور سیاسی آزادی کے بغیر نہیں۔”

جب بین الاقوامی تنازعات کی بات آتی ہے تو احتیاط سے چلنے کی ضرورت پر مزید زور دیتے ہوئے راہل نے کہا، "جب آپ ہندوستان جیسے بڑے ملک کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں، تو ہمیں کئی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ بحیثیت قوم ہم اپنے مفادات پر عمل کرتے ہیں۔ ہم اپنے مفادات کے حوالے سے وہی کرتے ہیں جو ہمارے لیے مناسب ہے۔ ہمارے لیے کسی فریق کا انتخاب کرنا مشکل ہو جاتا ہے، لیکن ہمارا پختہ نظریہ ہے کہ آواز اور جمہوریت اہم ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں منریگا کی تعریف کی اور بتایا کہ ان کی حکومت نے کیسے ایک ڈویژن میں یہ پروگرام شروع کیا تھا اور پھر پورے ہندوستان میں یہ کیسے لاگو ہوا۔ اس موقع پر  صدارت کر رہے سائنسز پی او یونیورسٹی کے کرسٹوف جعفریلوٹ  نے کہا کہ انتخابات ہو جانا کوئی جمہوریت نہیں ہے بلکہ جمہوریت وہ ہے کہ ادارے لوگوں کے بہبود کے لئے کام کریں۔

مدھیہ پردیش: ’شیو راج کے گھوٹالوں سے پر 18 برس مکمل!‘ کمل ناتھ کا بی جے پی حکومت پر سخت حملہ

0
مدھیہ-پردیش:-’شیو-راج-کے-گھوٹالوں-سے-پر-18-برس-مکمل!‘-کمل-ناتھ-کا-بی-جے-پی-حکومت-پر-سخت-حملہ

بھوپال: مدھیہ پردیش انتخابات سے قبل ریاست کا سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور سیاسی حملے بھی تیز ہو گئے ہیں۔ اس تناظر میں آج ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں جی-20 ہوا اور مدھیہ پردیش میں شیوراج حکومت کا جی-18 چل رہا ہے اور ان کی حکومت نے گھوٹالوں سے پر 18 سال مکمل کر لیے ہیں۔

کمل ناتھ نے ٹوئٹ کیا، ’’جی-20 دہلی میں ہوا لیکن مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومت میں جی-18 چل رہا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی غلط حکمرانی کے 18 سال مکمل ہو چکے ہیں، اور حکمرانی تو (جی) گھوٹالوں کی ہی چل رہی ہے۔ حکومت کے 225 مہینوں میں 225 سے زیادہ تو عظیم گھوٹالے ہو چکے ہیں اور چھوٹے گھوٹالوں کی تو کوئی گنتی ہی نہیں! شیوراج حکومت کا ’جی-‘ گھوٹالوں (جی) سے پر 18 سال۔‘‘

خیال رہے کہ ریاست میں رواں سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور کانگریس بدعنوانی اور گھوٹالوں کو اہم مسئلہ بنا رہی ہے۔ کانگریس ریاست کے مختلف محکموں میں گھپلوں کو لے کر شیوراج حکومت پر لگاتار حملہ کر رہی ہے۔ وہیں، کمل ناتھ نے دہلی میں منعقدہ جی-20 سربراہی اجلاس کے حوالہ سے شیوراج حکومت کے 18 سالہ دور حکومت پر حملہ کیا ہے۔

پرینکا گاندھی نے ٹونک میں کہا کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت آئی توبہت مشکل ہوگی

0
پرینکا-گاندھی-نے-ٹونک-میں-کہا-کہ-ریاست-میں-بی-جے-پی-کی-حکومت-آئی-توبہت-مشکل-ہوگی

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے راجستھان کے ٹونک میں 1000 گرامین اندرا رسوئی کا آغاز کرتے ہوئے ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ پرینکا گاندھی نے انتخابی ریاست راجستھان میں اپنی مہم کا آغاز کرتے ہوئے، بی جے پی پر سخت حملہ کیا اور کانگریس حکومت کے عوام دوست پروگراموں کا ذکر کیا۔

پرینکا نے کہا کہ بی جے پی کے دور حکومت میں ان کے امیر دوستوں کی خوب عزت ہوتی ہے، کانگریس کی حکومت میں عوام کی عزت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  لوگوں کے حقوق پر عمل ہو تا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  بی جے پی نے پنشن چھین لی اور مہنگائی میں اضافہ اور بے روزگاری میں اضافہ کر دیا ۔ کانگریس حکومت میں پرانی پنشن واپس آئی، مہنگائی سے راحت، روزگار اور صحت کی ضمانت دی گئی۔ پرینکا گاندھی نے راجستھان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس کو ووٹ دیں جو عوام کو پہلے رکھتا ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے لوگوں کو سے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ریاست میں بی جے پی کی حکومت آتی ہے تو گہلوت حکومت کی طرف سے دی گئی تمام عوامی فلاحی اسکیموں کو  بی جے پی حکومت کے ذریعہ روک دیا جائے گا۔ اس لیے آپ کو سوچ سمجھ کر ووٹ دینا چاہیے۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ جس طرح کانگریس حکومت نے راجستھان میں 5 سال حکومت کی، آپ کو اسی طرح کی حکومت واپس لانی ہوگی۔ جس سے عام لوگوں کو ریلیف ملتا ہے۔ اس سے پہلے پرینکا گاندھی نے راجستھانی میں اپنی تقریر شروع کی ۔

پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر کچھ منتخب صنعت کاروں کو ریلیف دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم مودی جب غیر ملکی دورے پر جاتے ہیں تو انہیں ان ممالک کے منتخب صنعت کاروں سے کام مل جاتا ہے۔ انہوں نے کہا مودی جی خود کو مٹی کا بیٹا کہتے تھے اور آج وہ کروڑوں کے قافلے میں چل رہے ہیں۔

راجستھان کے ٹونک ضلع کے نیوائی اسمبلی حلقہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت اور پی ایم پر سیاسی الزامات لگائے۔ پرینکا نے کہاکہ اقتدار میں آتے ہی لوگ بھول جاتے ہیں کہ انہیں کون اقتدار میں لایا؟ عام لوگوں کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے راجستھان حکومت ریلیف کیمپوں کا انعقاد کر رہی ہے۔ خواتین کو بھی موبائل فون مل رہے ہیں۔ حکومت جو کچھ دے رہی ہے وہ ان کا حق ہے۔

پرینکا گاندھی نے کہا- آج مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ گیس سلنڈر کی قیمت 1000 روپے ہے، غریب کیسے خریدے گا؟ مرکزی حکومت سے پوچھا جائے کہ اتنی مہنگائی کیوں ہے؟ راجستھان حکومت عوام کو جو کچھ دے رہی ہے وہ عوام کا حق ہے۔ آج میری ملاقات ایک لڑکی سے ہوئی جس کے ہاتھ میں موبائل تھا۔ اس نے کہا کہ گہلوت حکومت نے مجھے یہ موبائل دیا ہے۔ راجستھان حکومت موبائل فون اور دیگر بہت سی چیزیں دے رہی ہے، راجستھان حکومت آپ کو جو بھی دے رہی ہے وہ آپ کا حق ہے۔

جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سی ایم اشوک گہلوت نے کہا کہ راجستھان حکومت نے ہر شعبے میں فیصلے لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بجٹ میں جتنے بھی اعلانات کیے گئے تھے ان پر عمل ہو گیا ہے۔ اس بار ماحول ایسا بن گیا ہے کہ لگتا ہے حکومت خود کو دہرائے گی۔ سی ایم نے کہا کہ منریگا نے پی ایم کو بولنے سے روک دیا۔ ہم نے یو پی اے حکومت کے بنائے ہوئے قوانین کی طرز پر حقوق پر مبنی دور شروع کیا ہے۔ سماجی تحفظ کے حق کے قانون کے لیے کام کیا۔ اب مرکزی حکومت کو بھی یہ قانون بنانا چاہئے اور پرینکا گاندھی کو اس کی وکالت کرنی چاہئے۔ سی ایم نے کہا، میں پی ایم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ گاندھی خاندان سے کیوں ڈرتے ہیں؟ بار بار گاندھی خاندان کا نام لینے کی کیا ضرورت ہے؟ گاندھی خاندان نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

گورنر بنگال کے آدھی رات کے پیغام کا معمہ ہنوز حل طلب

0
گورنر-بنگال-کے-آدھی-رات-کے-پیغام-کا-معمہ-ہنوز-حل-طلب

کولکاتا: مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس کی طرف سے ہفتہ کو نصف شب میں ریاست اور مرکزی حکومت کو بھیجے گئے خفیہ پیغامات کے مواد پر 14 گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی معمہ حل طلب ہے۔ آدھی رات کے کچھ منٹوں کے اندر میڈیا والوں کو معلوماتی پیغام بھیجنے کی اطلاع دینے کے بعد راج بھون نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ریاستی سکریٹریٹ کے اہلکار بھی اس معاملے میں کچھ نہیں کہہ رہے ہیں۔

کئی وجوہات کی بناء پر پیغام کے ارد گرد کا معمہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے، یہ ریلیز ایسے وقت میں بھیجی گئی ہے جب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی جی-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی میں موجود تھیں۔

دوسری بات، ہفتہ کی رات، اگرچہ راج بھون نے تصدیق کی کہ دو پیغامات میں سے ایک مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھیجا گیا ہے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ مرکزی حکومت کے کس محکمے کو یہ پیغام بھیجا گیا ہے۔

ہفتہ کی دوپہر کو جب بوس سے ریاستی یونیورسٹی کے مسائل پر سیکرٹریٹ کے ساتھ ان کی حالیہ تنازعہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو گورنر نے جواب دیا تھا ’’آج آدھی رات کا انتظار کریں۔”

ہفتہ کی شام چیف سکریٹری ایچ کے دویدی راج بھون گئے اور بوس کے ساتھ میٹنگ کی جو ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔ میٹنگ کے بعد نہ تو گورنر اور نہ ہی چیف سکریٹری نے زیر بحث مسئلہ کے بارے میں کوئی اطلاع دی۔

’حکومت انڈیا اتحاد سے ناراض ہو گئی، اس لیے ملک کا نام بدلنے کا فیصلہ کیا!‘ پیرس میں راہل گاندھی کا بیان

0
’حکومت-انڈیا-اتحاد-سے-ناراض-ہو-گئی،-اس-لیے-ملک-کا-نام-بدلنے-کا-فیصلہ-کیا!‘-پیرس-میں-راہل-گاندھی-کا-بیان

پیرس: کانگریس کے سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی ان دنوں یورپ کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے اتوار کو پیرس میں مرکزی حکومت اور آر ایس ایس کو نشانہ بنایا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ملک میں عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی نچلی ذاتوں، او بی سی، قبائلی ذاتوں اور اقلیتی برادریوں کی آزادی اور اظہار رائے کو سلب کر رہی ہے۔

کانگریس ایم پی نے کہا کہ ہندوستان میں نچلی ذاتوں یا برادریوں کے لوگوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ نچلی ذات کے لوگوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے منی پور تشدد پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ملک نفرت کی آگ میں جل رہا ہے۔

علاوہ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ آج سب سے زیادہ پیداوار مینوفیکچرنگ اور ویلیو ایڈیشن چین میں ہوتا ہے۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ یہ ہندوستان، یورپ اور امریکہ کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ میرے خیال میں ہمیں بھی اس پر اسی طرح کام کرنے کی ضرورت ہے جس طرح چین نے حاصل کیا ہے۔

انڈیا اتحاد پر بولتے ہوئے راہل گاندھی نے ایک بار پھر مرکز پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا اور بھارت، ہمارا آئین دونوں ناموں کا استعمال کرتا ہے اور دونوں الفاظ بالکل درست ہیں لیکن عین ممکن ہے کہ حکومت ہمارے اتحاد کے نام سے ناراض ہو گئی ہو، کیونکہ ہمارے اتحاد کا نام انڈیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اسی لیے انہوں نے ملک کا نام بدلنے کا فیصلہ کیا ہوگا۔

خود ساختہ ’وشواگرو‘ منافقت کے معاملہ میں بہت آگے نکل چکے ہیں! کانگریس

0
خود-ساختہ-’وشواگرو‘-منافقت-کے-معاملہ-میں-بہت-آگے-نکل-چکے-ہیں!-کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے اتوار کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے جی-20 اور عالمی سطح پر دیگر سربراہی اجلاسوں میں بیانات منافقت سے پر ہیں، نیز مودی کی ‘گلوبل ٹاک’ ‘لوکل واک’ کے بالکل برعکس ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور سابق مرکزی وزیر ماحولیات جے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا، ’’جی-20 اور عالمی سطح پر دیگر سربراہی اجلاسوں میں وزیر اعظم کے بیانات ان کی منافقت کو ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’’ہندوستان کے جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو تباہ کر کے اور قبائلیوں اور جنگل میں رہنے والی دیگر برادریوں کے حقوق کو مجروح کرکے ماحولیات، آب و ہوا کی کارروائی اور مساوات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ اس کی (گلوبل ٹاک) عالمی گفتگو اور ملک میں ان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدام (لوکل واک) بالکل برعکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ماحولیات کی اہمیت کے بارے میں بڑے اور کھوکھلے بیانات دینے کے لیے جی-20 سربراہی اجلاس کا استعمال کیا۔ جے رام رمیش کے بیان میں جی-20 ماحولیات اور آب و ہوا کے پائیداری اجلاس میں پی ایم مودی کے تبصروں کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں مودی عالمی تقریبات میں آب و ہوا کی کارروائی کے بارے میں بات کرتے ہیں، وہیں مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت بڑے پیمانے پر ہندوستان کے ماحولیاتی تحفظات کو ختم کر رہی ہے اور جنگلات پر منحصر سب سے زیادہ کمزور کمیونٹیز کے حقوق چھین رہی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ خود ساختہ وشوا گرو (عالمی رہنما) منافقت کے معاملے میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔ وزیر اعظم نے جی-20 سربراہی اجلاس کو ماحول کی اہمیت کے بارے میں بڑے اور خالی بیانات دینے کے لیے استعمال کیا ہے۔

جے رام رمیش نے کہا ’’آب و ہوا کے عمل کو انتودیا کی پیروی کرنا چاہیے یعنی ہمیں معاشرے کے آخری آدمی کی ترقی کو یقینی بنانا چاہیے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ مودی سرکار بڑے پیمانے پر ہندوستان کے ماحول کو تباہ کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ یہ جنگلات پر منحصر سب سے کمزور کمیونٹیز کے حقوق بھی چھین رہی ہے۔‘‘

رمیش نے کہا کہ نیشنل بائیو ڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے) – جو پہلے طاقتور تھی اور اپنے طور پر فیصلے لینے کی صلاحیت رکھتی تھی – کو مکمل طور پر وزارت ماحولیات کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔

عدالتوں کے ذریعے نافذ کیے جانے والے جرمانے کی فراہمی کے بجائے، نیا ایکٹ حکومتی اہلکاروں کو جرمانے عائد کرنے کا ذمہ دار بناتا ہے۔ منافع کی تقسیم کے دفعات میں مختلف نرمی کی گئی ہے۔ اس سے ان لوگوں کو نقصان پہنچے گا جن کے پاس حیاتیاتی تنوع کا روایتی علم ہے۔ اس کا تجارتی استحصال کرنے والوں کو فائدہ ہوگا۔

یہ ایکٹ مودی حکومت کو ملک بھر میں حیاتیاتی تنوع کی تباہی کو جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے۔ مزید یہ کہ جنگلات (کنزرویشن) ترمیمی ایکٹ 2023 کے برابری پر زور دینے کے دعوے مکمل طور پر کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔

جے رام رمیش نے مزید کہا کہ یہ ایکٹ ملک کے قبائلیوں اور جنگل میں رہنے والی دیگر برادریوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا، کیونکہ یہ 2006 کے جنگلات کے حقوق کے قانون کو کمزور کرتا ہے۔ یہ مقامی برادریوں کی رضامندی اور بڑے علاقوں میں جنگل کی صفائی کی ضرورت کو ختم کرتا ہے۔

قومی کمیشن برائے شیڈولڈ ٹرائب (این سی ایس ٹتی) نے 2022 میں اس پر اعتراض کیا تھا۔ شمال مشرق میں قبائلی برادریاں خاص طور پر کمزور محسوس کر رہی ہیں کیونکہ ایکٹ ملک کی سرحدوں کے 100 کلومیٹر کے اندر کی زمینوں کو تحفظ کے قوانین کے دائرے سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔

این ڈی اے کی حکومت ہونے کے باوجود، میزورم نے ایکٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی ہے اور ناگالینڈ سے جلد ہی ایسا کرنے کی امید ہے۔

نیا قانون ہندوستان کے 25 فیصد جنگلاتی رقبے کو تحفظ سے ہٹاتا ہے، جو ٹی این گوداورمن بمقابلہ حکومت ہند میں سپریم کورٹ کے 1996 کے فیصلے کی واضح خلاف ورزی ہے۔ اس سے مودی حکومت کے لیے جنگلات کا استحصال کرنا اور انہیں چنندہ سرمایہ دار دوستوں کے حوالے کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کارروائیوں کی وجہ واضح ہے کہ پی ایم کے ساتھیوں کی ہندوستان کے امیر اور حیاتیاتی تنوع والے جنگلات کا استحصال کرنے پر نظر ہے۔

وہ پام آئل کے باغات قائم کرنے کے لیے شمال مشرق کے حیاتیاتی متنوع جنگلات کو صاف کرنا چاہتے ہیں اور کان کنی شروع کرنے کے لیے وسطی ہندوستان کی پہاڑیوں اور جنگلات کو کاٹنا چاہتے ہیں، جن میں قبائلی برادریوں کے لیے مقدس مانے جانے والے جنگلات بھی شامل ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے جی-20 سربراہی کے اختتام کا کیا اعلان، برازیل کو سونپی صدارت

0
وزیر-اعظم-مودی-نے-جی-20-سربراہی-کے-اختتام-کا-کیا-اعلان،-برازیل-کو-سونپی-صدارت

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو نئی دہلی جی-20 سربراہی اجلاس کے اختتام کا اعلان کر دیا اور صدارت برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کو سونپ دی۔ برازیل اگلے ایک سال تک جی-20 کی سربراہی کرے گا۔ وزیر اعظم مودی نے امید ظاہر کی کہ برازیل کی صدارت میں جی-20 گروپ مشترکہ ایجنڈے کو مزید آگے بڑھائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے برازیل کے صدر کو بھی مبارکباد پیش کی۔

جی-20 سربراہی اجلاس کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’جیسا کہ آپ سب کو علم ہے کہ نومبر 2023 تک جی-20 کی صدارت سنبھالنے کی ذمہ داری ہندوستان کے پاس ہے۔ ان دو دنوں میں آپ سب نے بہت ساری تجاویز اور قراردادیں پیش کیں۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ایک مرتبہ پھر سے ان تجاویز کا جائزہ لیا جائے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ ان کی پیشرفت کو کس طرح تیز کیا جا سکتا ہے۔ میں تجویز کرتا ہوں کہ ہم نومبر کے آخر میں جی-20 کا ایک ورچوئل اجلاس منعقد کریں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ہم ورچوئل اجلاس کے دوران اس سربراہی اجلاس میں طے شدہ موضوعات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ سبھی ورچوئل سیشن میں شامل ہوں گے۔ اس کے ساتھ میں جی-20 سربراہی اجلاس کے اختتام پذیر ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘

خیال رہے کہ ہندوستان نے گزشتہ سال بالی سربراہی اجلاس کے دوران انڈونیشیا سے جی-20 کی صدارت حاصل کی تھی۔ مالی شمولیت کو وسعت دینا اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ساتھ کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں (ایم ڈی بیز) کو ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے مضبوط بنانا، گلوبل ساؤتھ کی آواز کو بڑھانا اور ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بنانا ہندوستان کی جی-20 صدارت کے کچھ اہم اہداف ہیں۔

چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری، دل کا دورہ پڑنے سے 6 افراد کی موت

0
چندرا-بابو-نائیڈو-کی-گرفتاری،-دل-کا-دورہ-پڑنے-سے-6-افراد-کی-موت

حیدرآباد: آندھرا پردیش اسکل ڈیولپمنٹ اسکیم میں گرفتار ریاست کے سابق وزیر اعلی و تلگودیشم پارٹی کے قومی صدر این چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری پر صدمہ سے دوچار 6 افراد کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔ اس تلگو ریاست میں اس صدمہ سے مرنے والوں کی تعداد دو تھی جس میں اضافہ ہو گیا اور اب یہ تعداد بڑھ کر 6 تک جا پہنچی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اننت پور ضلع سے تعلق رکھنے والا 65 سالہ انجینلو ٹی وی پر چندرابابو کی گرفتاری کے مناظر دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنے لیڈر کی گرفتاری پر مایوسی کا شکار تھا۔ اسی دوران ٹی وی پر یہ مناظر دیکھنے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہو گئی۔دوسرا واقعہ کونا سیما ضلع میں پیش آیا جہاں ایک ضعیف خاتون کی بھی اسی صدمہ سے موت ہو گئی۔ اس 65 سالہ خاتون جس کی شناخت سوگنماں کے طورپر کی گئی ہے، کو اس کے پوتے نے سل فون پر چندرا بابو کی گرفتاری کے مناظر دکھائے، جس پروہ کافی مایوس ہو گئی۔ اسی دوران صدمہ سے اس کا فوری طور پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔

اسی ضلع سے تعلق رکھنے والے 62 سالہ نرسمہا کی بھی اسی صدمہ سے موت ہو گئی۔ اسی دوران چندرابابو کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے 67 سالہ آر پاٹیتھلی کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔ کرشنا ضلع سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ کوڈالی سدھاکر راؤ کی ٹی وی پر چندرا بابو کی گرفتاری کی خبر دیکھتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی۔ تروپتی ضلع کے 46 سالہ وینکٹ رمنا کی بھی ٹی وی پر چندرا بابو کی گرفتاری کی خبر دیکھتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

برطانوی وزیر اعظم رشی سنک نے کیا اکشردھام مندر کا دورہ، پوجا ارچنا بھی کی

0
برطانوی-وزیر-اعظم-رشی-سنک-نے-کیا-اکشردھام-مندر-کا-دورہ،-پوجا-ارچنا-بھی-کی

نئی دہلی: جی-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آئے برطانوی وزیر اعظم رشی سنک نے سخت سیکورٹی کے درمیان اتوار کی صبح یہاں کے مشہور اکشردھام مندر کا درشن کیا۔

برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ ان کی اہلیہ محترمہ اکشتا مورتی بھی تھیں۔ مندر پہنچنے پر وہاں کے پجاریوں نے ان کا استقبال کیا۔ سنک جوڑے نے مندر میں بھگوان سوامی نارائن کی پوجا بھی کی۔

برطانوی وزیر اعظم صبح وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر سربراہان مملکت اور حکومت کے ساتھ راج گھاٹ گئے تھے اور وہاں عدم تشدد کے سب سے بڑے پیامبر بابائے قوم مہاتما گاندھی کی سمادھی پر خراج عقیدت پیش کیا۔

اس کے بعد مسٹر سنک اپنی اہلیہ کے ساتھ اکشردھام مندر پہنچے۔

مسٹر سنک جمعہ کی دوپہر نئی دہلی پہنچے تھے۔ پہلے دن، انہوں نے یہاں وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کی۔ انہوں نے ہفتہ کو یہاں بھارت منڈپم میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کی اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی طرف سے دیئے گئے عشائیے میں بھی شرکت کی۔