اتوار, مارچ 29, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 129

عوام نے مودی حکومت کی وداعی کا راستہ بنانا شروع کر دیا ہے: کھڑگے

0
عوام-نے-مودی-حکومت-کی-وداعی-کا-راستہ-بنانا-شروع-کر-دیا-ہے:-کھڑگے

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی کے ایشو پر مودی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ کانگریس صدر نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھے اپنے پوسٹ میں کہا کہ پی ایم مودی سچائی پر پردہ ڈالنے کی پرزور کوشش کر رہے ہیں، لیکن عوام مودی حکومت کے دھیان بھٹکانے والے ایشوز کی جگہ سچ سننا اور دیکھنا چاہتی ہے۔

کھڑگے نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’اب جب جی-20 کی میٹنگ ختم ہو گئی ہے، مودی حکومت کو گھریلو ایشوز پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ اگست میں ایک عام کھانے کی تھالی کی قیمت 24 فیصد بڑھ گئی ہے۔ ملک میں بے روزگاری شرح 8 فیصد ہے۔ نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہے۔‘‘

کانگریس صدر نے بدعنوانی کو لے کر بھی مودی حکومت پر حملہ کیا۔ انھوں نے لکھا کہ ’’مودی حکومت کی بدتر حکمرانی میں بدعنوانی کا سیلاب آ گیا ہے، سی اے جی نے کئی رپورٹس میں بی جے پی کی قلعی کھولی ہے۔ جموں و کشمیر میں 13 ہزار کروڑ کا ’جل جیون گھوٹالہ‘ سامنے آیا ہے جس میں ایک دلت آئی اے ایس افسر کو اس لیے ظلم کا شکار بنایا گیا کیونکہ انھوں نے بدعنوانی کو ظاہر کر دیا۔‘‘

کھڑگے نے اڈانی کو لے کر بھی پی ایم مودی پر حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے خاص دوست کی لوٹ حال ہی میں پھر سامنے آئی ہے۔ آر بی آئی کے سابق ڈپٹی گورنر ورل آچاریہ نے 2019 انتخاب پہلے آر بی آئی کے خزانے سے مودی حکومت کو 3 لاکھ کروڑ منتقل کرنے کے سرکاری دباؤ کی مخالفت کی تھی، یہ معاملہ اب سامنے آیا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ منی پور میں گزشتہ کچھ دنوں میں پھر تشدد ہوا، ہماچل پردیش میں قدرتی آفت آئی ہوئی ہے، لیکن انا پرست مودی حکومت کو اس کو قومی آفت اعلان کرنے سے بچ رہی ہے۔

کانگریس صدر نے کہا کہ ان سب کے درمیان مودی جی سچائی پر پردہ ڈالنے کی پرزور کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن عوام مودی حکومت کے دھیان بھٹکانے والے ایشوز کی جگہ سچ سننا اور دیکھنا چاہتی ہے۔ انھوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ دھیان لگا کر سن لے مودی حکومت، 2024 میں آپ کی وداعی کا راستہ عوام نے بنانا شروع کر دیا ہے۔

پی ایم مودی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ کی دو فریقی میٹنگ

0
پی-ایم-مودی-نے-سعودی-ولی-عہد-محمد-بن-سلمان-کے-ساتھ-کی-دو-فریقی-میٹنگ

جی-20 اجلاس کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا سرکاری دورۂ ہند آج سے شروع ہوا۔ وہ پیر کی صبح ہی راشٹرپتی بھون پہنچے جہاں ان کا رسمی استقبال کیا گیا۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس دوران ولی عہد کو گلے لگا کر ان کا خیر مقدم کیا۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو بھی اس دوران محمد بن سلمان کے استقبال کے لیے موجود تھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق راشٹرپتی بھون میں استقبال کے بعد وزیر اعظم مودی اور سعودی ولی عہد نے حیدر آباد ہاؤس میں دو فریقی میٹنگ کی۔ اس دوران ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر اور این ایس اے اجیت ڈووال بھی وزیر اعظم کے ساتھ دکھائی دیے۔ میٹنگ کے بعد حیدر آباد ہاؤس میں منعقد ہند-سعودی اسٹریٹجک شراکت داری کونسل کی پہلی میٹنگ میں ہوئے سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے۔

دو فریقی میٹنگ کے بعد سعودی ولی عہد کا بیان بھی منظر عام پر آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں آپ کو جی-20 اجلاس کے مینجمنٹ اور مشرق وسطیٰ، ہند و یوروپ کو جوڑنے والے ’اقتصادی گلیارے‘ سمیت حاصل دیگر کامیابیوں کے لیے مبارکباد دیتا ہوں، جس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے حقیقی شکل دینے کے لیے محنت سے کام کریں۔‘‘

دوسری طرف ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس میٹنگ کے بعد کہا کہ ’’آج کی ملاقات سے ہمارے تعلقات کو ایک نئی سمت ملے گی اور ہمیں مل کر انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کرتے رہنے کی ترغیب ملے گی۔ کل ہم نے ہندوستان، مغربی ایشیا اور یوروپ کے درمیان کوریڈور قائم کرنے کے لیے تاریخی شروعات کی ہے۔ اس سے نہ صرف دونوں ملک آپس میں جڑیں گے بلکہ ایشیا، مغربی ایشیا اور یوروپ کے درمیان اقتصادی تعاون، توانائی کی ترقی اور ڈیجیٹل روابط کو قوت ملے گی۔‘‘

پی ایم مودی نے مزید کہا کہ ’’ہندوستان کے لیے سعودی عرب ہمارے سب سے اہم اسٹریٹجک شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ دنیا کی دو بڑی اور تیزی سے بڑھنے والی معیشتوں کی شکل میں ہمارا آپسی تعاون پورے علاقہ کے امن اور استحکام کے لیے اہم ہے۔ اپنی بات چیت میں ہم نے اپنی شراکت داری کو اگلی سطح پر لے جانے کے لیے کئی پیش قدمیوں کی شناخت کی ہے۔‘‘

اس سال بھی دیوالی پر نہیں جلیں گے پٹاخے، دہلی حکومت کا اعلان

0
اس-سال-بھی-دیوالی-پر-نہیں-جلیں-گے-پٹاخے،-دہلی-حکومت-کا-اعلان

دہلی میں ہر سال دیوالی کے موقع پر ہوا آلودہ ہو جاتی ہے۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے گزشتہ کچھ سالوں سے دیوالی پر پٹاخوں کو جلانے اور فروخت کرنے پر حکومت کی طرف سے پابندی عائد کی جاتی رہی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق کیجریوال حکومت نے اب رواں سال بھی پٹاخوں پر پابندی لگا دی ہے۔ یعنی اس سال بھی دہلی میں دیوالی کے پٹاخے نہیں جلیں گے۔

دہلی کے وزیر ماحولیات گوپال رائے کا کہنا ہے کہ سردیوں میں بڑھنے والی آلودگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ گوپال رائے کے مطابق دہلی میں سردیوں میں آلودگی کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ جنوری سے لے کر اگست تک دہلی کا اوسط اے کیو آئی کم رہتا ہے، لیکن جوں جوں سردی بڑھتی ہے، ہوا آلودہ ہونے لگتی ہے۔ گوپال رائے نے بتایا کہ اس سال بھی دہلی میں سبھی طرح کے پٹاخے بنانے، فروخت کرنے، ذخیرہ کرنے اور استعمال کرنے پر پوری طرح سے روک رہے گی۔

قابل ذکر ہے کہ 28 ستمبر 2021 کو آلودگی کنٹرول بورڈ نے دہلی میں پٹاخہ بنانے پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔ گزشتہ سال بھی پٹاخوں کے جلانے پر پابندی تھی، اور اب اس سال بھی یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ گوپال رائے نے دہلی پولیس سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی پٹاخہ فروخت کرنے اور بنانے والوں کو لائسنس جاری نہ کرے۔ دہلی کی آلودگی والے ہاٹ اسپاٹ علاقوں کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور ساتھ ہی وِنٹر ایکشن پلان بھی نافذ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 23 اکتوبر 2018 کو حکم دے کر گرین پٹاخوں کے استعمال کی بات کہی تھی، لیکن اس کی آڑ میں زہریلے پٹاخے بنائے جانے لگے۔ اس کے بعد یکم دسمبر 2020 کو این جی ٹی نے حکم دیا کہ جہاں جہاں ہوا کا معیار خراب کیٹگری میں ہے، وہاں پر پٹاخوں پر پابندی لگائی جائے۔ دیوالی کے موقع پر دیوں کے ساتھ پٹاخے جلانے کی بھی روایت چلی آ رہی ہے، لیکن اس سے دیوالی کے اگلے دن دہلی میں چاروں طرف دھوئیں کی چادر بچھ جاتی ہے۔

’نہ کروں گا، نہ کرنے دوں گا‘، ویتنام میں بائیڈن کے خطاب کے بعد جے رام رمیش کا وزیر اعظم پر حملہ

0
’نہ-کروں-گا،-نہ-کرنے-دوں-گا‘،-ویتنام-میں-بائیڈن-کے-خطاب-کے-بعد-جے-رام-رمیش-کا-وزیر-اعظم-پر-حملہ

جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر دہلی آنے والے امریکی صدر جو بائیڈن ہندوستان کے دورے کے بعد ویتنام پہنچ گئے اور پریس سے خطاب بھی کیا۔ بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے  وزیر عظم  مودی سے انسانی حقوق اور آزاد صحافت کے بارے میں بات کی۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اس پر حکومت پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر پی ایم مودی پر بڑا طنز کیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن ویتنام پہنچ گئے اور پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ وہاں انہوں نے کہا، ‘میں نے بھارتی وزیر اعظم مودی کے ساتھ انسانی حقوق کے احترام کی اہمیت اور ایک مضبوط خوشحال ملک کی تعمیر میں سول سوسائٹی اور آزاد صحافت کے اہم کردار پر بات کی۔’ اب جے رام رمیش نے بائیڈن کے اس بیان پر پی ایم مودی کو نشانہ بنایا۔

کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا، ‘پی ایم مودی بائیڈن سے کہہ رہے تھے کہ وہ نہ تو پریس کانفرنس کرونگا اور نہ ہی کرنے دونگا۔’  انہوں نے کہا کہ اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

جےرام رمیش نے یہ بھی الزام لگایا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی ٹیم کو جی 20 سربراہی اجلاس سے قبل میڈیا سے بات کرنے اور پی ایم مودی کے ساتھ ان کی ملاقات کے بارے میں جواب دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ پی ایم مودی کے دور حکومت میں جمہوریت اسی طرح کام کرتی ہے۔

مودی نے کناڈا میں ہند مخالف سرگرمیوں پر ٹروڈو سے گہری تشویش کا اظہار کیا

0
مودی-نے-کناڈا-میں-ہند-مخالف-سرگرمیوں-پر-ٹروڈو-سے-گہری-تشویش-کا-اظہار-کیا

وزیر اعظم نریندر مودی نے کناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کو اپنے ملک میں انتہا پسند عناصر کی ہندوستان مخالف سرگرمیوں کے بارے میں گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس سے نمٹنے میں ان سے تعاون طلب کیا ہے۔

وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ ان کارروائیوں کے پیچھے موجود قوتیں غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے سرگرم ہیں اور یہ کناڈا کے مفادات کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔ جی 20 سربراہی اجلاس کے سلسلے میں نئی دہلی آنے والے مسٹر ٹروڈو نے کل مسٹر مودی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر مودی نے انہیں بتایا کہ اس طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کو تعاون کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ ہندوستان اور کناڈا کے تعلقات کے استحکام کے لئے باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی رشتہ ضروری ہے۔

ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مسٹر مودی نے "مسٹر ٹروڈو کو کناڈا میں انتہا پسند عناصر کی طرف سے ہند مخالف سرگرمیوں کے بارے میں شدید تشویش سے آگاہ کیا ہے۔” کناڈا کے وزیر اعظم کے ساتھ اپنی گفتگو میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مشترکہ جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی کے احترام اور عوام کے درمیان مضبوط روابط پر مبنی ہیں۔

ریلیز کے مطابق مسٹر مودی نے کہا کہ وہاں ہندوستان مخالف سرگرمیاں انجام دینے والے عناصر ہندوستان میں علیحدگی پسندی کو فروغ دے رہے ہیں اور ہندوستانی سفارت کاروں کے خلاف تشدد کو ہوا دے رہے ہیں، سفارتی احاطے کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور کناڈا میں ہندوستانی کمیونٹی اور ان کی عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔

دیو گوڑا نے بی جے پی-جے ڈی ایس کے درمیان اتحاد کا رسمی اعلان کیا

0
دیو-گوڑا-نے-بی-جے-پی-جے-ڈی-ایس-کے-درمیان-اتحاد-کا-رسمی-اعلان-کیا

جنتا دل (سکیولر) کے سپریمو اور سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیو گوڑا نے اتوار کے روز باضابطہ طور پر اپنی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل انتخابی اتحاد کا اعلان کیا۔

سابق وزیر اعظم  دیو گوڑا نے کہا کہ علاقائی پارٹی کو بچانے کے لیے اتحاد ضروری ہے اور آنے والے دنوں میں بی جے پی قیادت کے ساتھ بات چیت میں سیٹوں کی تقسیم کا معاہدہ طے پائے گا۔ انہوں نے کہا، "علاقائی پارٹی کو بچانے کے لیے اتحاد ضروری تھا۔ وہ (کانگریس) جے ڈی ایس کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا، "سدارمیا نے 2018 میں چمنڈیشوری حلقہ میں جے ڈی ایس کے امیدوار جی ٹی دیو گوڑا کے خلاف اپنی شکست اور 2005 میں کچھ سیاسی پیش رفت کی وجہ سے پارٹی سے ان کا اخراج کا بدلہ لینے کے لیے جے ڈی ایس کو تباہ کرنے کی سازش کی تھی۔

یہ اعلان پارٹی کارکنوں کی میٹنگ میں کیا گیا جس میں مسٹر دیو گوڑا اور کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے بھی شرکت کی۔ کچھ دن پہلے، بی جے پی پارلیمانی بورڈ کے رکن بی ایس یدیورپا نے 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی اور جے ڈی ایس کے درمیان قبل از انتخاب اتحاد کی تصدیق کی تھی۔

پچھلے لوک سبھا انتخابات میں جے ڈی ایس نے کانگریس کے ساتھ سیٹ شیئرنگ فارمولہ طے کیا تھا، لیکن اس سے کسی پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر دیو گوڑا نے اشارہ دیا کہ جے ڈی ایس کرناٹک کے جنوبی علاقے میں بی جے پی کو کچھ سیٹیں دے سکتی ہے، جہاں پارٹی کی مضبوط موجودگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "تمام (لوک سبھا) حلقوں میں بی جے پی کی بھی طاقت ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنی ملاقات میں مسٹر دیو گوڑا نے کہا کہ انہوں نے سیٹوں کی تقسیم کے بارے میں بات نہیں کی لیکن انہیں ریاست کے ہر حلقہ کی صورتحال سے آگاہ کیا۔

امریکی اہلکار نے جی -20 کانفرنس میں روانی سے ہندی میں بات کر کے دل جیت لیا

0
امریکی-اہلکار-نے-جی-20-کانفرنس-میں-روانی-سے-ہندی-میں-بات-کر-کے-دل-جیت-لیا

جی-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی دستے میں شامل وزارت خارجہ کی ترجمان مارگریٹ میکلیوڈ کی ہندوستانی میڈیا والوں کے ساتھ روانی سے ہندی بولنے کی وجہ سے خبروں میں رہیں۔ محترمہ میکلوڈ نے پرگتی میدان میں جی-20 کے لیے قائم کردہ میڈیا سینٹر میں ہندوستان-امریکہ تعلقات اور عالمی مسائل پر میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ہندی میں سوالات کے جوابات دیئے۔ وہ کبھی کبھی اردو کے الفاظ بھی بہت اچھے طریقے سے استعمال کرتی ہیں۔

یواین آئی کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے کہا، "ہمارے (امریکہ اور ہندوستان) رہنماؤں کے درمیان تعلقات بہت خوشگوار ہیں، جو ہمارے لوگوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی علامت ہے۔ "ہندوستانی نژاد امریکی شہری دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو زندہ رکھنے میں محرک ہیں۔”

جب ان سے پوری دنیا کے ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی اعتماد کے فقدان اور جی 20 کانفرنس میں اس پر اظہار تشویش کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ سفارت کاری میں مکالمے کی بہت اہمیت ہے اور اس اعتماد کی کمی کو دور کرنے کے لیے بات چیت اور ضرورت ایک دوسرے کو سمجھ کر آگے بڑھنے کی بڑی ضرورت ہے۔

جب ان سے ہندوستان کی جی 20 صدارت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہندوستان آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا ملک ہے اور ایک بڑی ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ ہندستان نے کانفرنس کے ایجنڈے میں کئی اہم مسائل کو شامل کیا ہے۔ کانفرنس کے دوران تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کر رہے ہیں جس کی بنیاد پر معاملات پر اتفاق رائے بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی بنیاد پر افریقی یونین کو جی 20 میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کا نقطہ نظر اپنی جگہ اہم ہوتا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں محترمہ میکلیوڈ نے کہا کہ کانفرنس میں تمام رکن ممالک انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے بات کر رہے ہیں۔تمام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ مالیاتی اور دیگر کثیر جہتی اداروں کو مزید متعلقہ بنانے کے لیے کس طرح اصلاح کی جائے۔

محترمہ مارگریٹ نے دہلی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور اس دوران وہ شمالی دہلی کے مکھرجی نگر علاقے میں رہتی تھیں۔ اسی وقت انہیں اپنے ہندوستانی دوستوں اور اپنے پڑوس کے لوگوں سے رابطہ کرکے ہندی سیکھنے کا موقع ملا۔ بعد میں انہوں نے امریکی فارن سروس ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ سے ہندی سیکھی اور ہندی کتابیں پڑھ کر اپنے علم میں اضافہ کیا۔محترمہ مارگریٹ نے کہا کہ امریکہ میں کئی اسکول ہیں جہاں ہندی پڑھائی جاتی ہے۔ وہاں لوگ ہندی کو سمجھنا، پڑھنا اور بولنا سیکھ سکتے ہیں۔

جی-20 سربراہی اجلاس اختتام پذیر، ہندوستان ترقی پذیر ممالک کے ایجنڈے کو مرکز میں لانے میں کامیاب

0
جی-20-سربراہی-اجلاس-اختتام-پذیر،-ہندوستان-ترقی-پذیر-ممالک-کے-ایجنڈے-کو-مرکز-میں-لانے-میں-کامیاب

جی 20 گروپ کے اندر بے مثال اتحاد کا احساس جگانے اور ترقی پذیر و پسماندہ ممالک کے خدشات کو اپنے ایجنڈے کے مرکز میں لانے میں ہندوستان کے صدارتی کردار کی عالمی لیڈروں کے ذریعہ کھلے دل سے تعریف کیے جانے کے ساتھ اس طاقتور عالمی فورم کا 18 واں سربراہی اجلاس اتوار کے روز اختتام پذیر ہوا  ۔وزیراعظم نریندر مودی نے سربراہی اجلاس کے تیسرے اور آخری مکمل اجلاس سے خطاب کرنے کے بعد، جی20 کی صدارت کی عصا (بیٹن) اس گروپ کے اگلے صدر برازیل کے صدر جمہوریہ لوئز انسیو لولا دا سلوا کے حوالے کیا، اور سربراہی کانفرنس کے اختتام کا اعلان کیا۔

عالمی ليڈروں نے کانفرنس کے پہلے دن ہفتہ کے روز ہی نئی دہلی کے منشور کو منظوری دے دی۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ منشور میں اتنے وسیع موضوعات کو شامل کیا گیا ہے اور سب پر مکمل اتفاق رائے ہے۔

اس سربراہی اجلاس میں پہلی بار مشترکہ اعلامیہ میں شامل تمام امور پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ اس دوران، ہندوستان، امریکہ اور دیگر ممالک کی پہل پر، گلوبل بائیو فیول الائنس کی تشکیل اور ہندوستان، مغربی ایشیا اور یورپ کی اہم بندرگاہوں کو ریلوے نیٹ ورک، جدید مواصلات کے ذریعے جوڑ کر وسیع تر اقتصادی راہداری بنانے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے۔ ہندوستان کی زیر صدارت ہونے والی اس کانفرنس میں افریقی براعظم کے 55 ممالک پر مشتمل افریقی یونین کو جی 20 کا مستقل رکن بنانے کا بھی تاریخی فیصلہ کیا گیا۔

وزیر اعظم نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا، "میں مطمئن ہوں کہ آج جی20 ایک زمین، ایک خاندان اور ایک مستقبل کے خواب کی سمت میں امید افزا کوششوں کا پلیٹ فارم بن گیا ہے۔‘‘ مسٹر مودی نے کہا کہ کانفرنس نے اقتصادی ترقی کو جی ڈی پی پر مرکوز کرنے کی بجائے انسانوں پر مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے بہت سارے ممالک کے پاس بہت کچھ ہے جو وہ انسانیت کی خدمت کے لئے دوسروں کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں اور یہ انسانوں پر مرکوز ترقی کے لئے ہمارے عزم کا ثبوت ہے۔ ہندوستان نے کانفرنس میں دیگر ممالک کے ساتھ چندریان 3 کے لینڈر اور روور اور یوپی آئی جیسی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی سہولیات (DPI) سے ڈیٹا شیئر کرنے کی پیشکش کی ہے۔

عالمی سربراہوں نے غریب اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ڈیٹا تک رسائی کی صلاحیت بڑھانے کے واسطے پہل شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اعلامیے میں کثیرجہتی ترقیاتی مالی اداروں کے سرمائے میں اضافے، سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے نئے اقدامات اور سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق اور ترقیاتی کاموں میں تعاون اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کا بھی عزم کیا گیا ہے۔

کریپٹو کرنسی کی تجارت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے عالمی قوانین بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ اس کا عمل مالیاتی بازاروں کے استحکام کو متاثر نہ کرے۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ سائبر سکیورٹی اور کریپٹو کرنسی کے چیلنجز سب کو معلوم ہیں اور اس سلسلے میں اس نے ایک ماڈل کے طور پر بینکنگ ضوابط سے متعلق باسل اسٹینڈرڈز کو برقرار رکھنے کی تجویز بھی دی ہے۔

اس کانفرنس میں یوکرین-روس جنگ کے درمیان اس اہم فورم کے منشور پر اتفاق رائے قائم کرنا ہندوستان کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا گیا لیکن سفارتی مہارت دکھا کر ہندوستان اس مسئلہ پر ممالک کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کام میں اسے جی20 کے سابق صدر انڈونیشیا، اگلے صدر برازیل اور اس کے بعد میزبان جنوبی افریقہ کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔

مسٹر جے شنکر نے کہا کہ جی 20 کا منشور ‘ٹیم جی 20’ اور ‘ٹیم انڈیا’ کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے اور اس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کے ساتھ تمام رکن ممالک کے رہنماؤں اور عہدیداروں کی کوششیں شامل ہیں۔

کانفرنس میں چین کے صدر کے بجائے چین کے وزیراعظم نے شرکت کی اور روسی صدر کی نمائندگی اس کے وزیر خارجہ نے کی۔وزیر اعظم مودی نے تین دنوں کے دوران امریکہ اور فرانس کے صدور اور بنگلہ دیش اور ماریشس کے وزرائے اعظم سمیت 15 لیڈروں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک کے 60 شہروں میں مختلف مسائل پر 200 سے زائد اجلاس منعقد ہوئے جن میں ملک بھر سے اور بیرون ملک سے لاکھوں مندوبین نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس ہندوستان کے لیے اپنے بھرپور ثقافتی اور تہذیبی ورثے کو ظاہر کرنے کا ایک موقع تھا۔ کانفرنس کے پہلے دن صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے تمام رہنماؤں کے لیے عشائیہ کا اہتمام کیا جس میں کلاسیکی اور لوک موسیقی کے فنکاروں اور ہندوستان کے روایتی آلات موسیقی کی پیشکش کی گئی۔

جمعیۃعلماء ہند قانونی امدادکمیٹی کے مقدمات میں مولانا اسجدمدنی ہوں گے مدعی

0
جمعیۃعلماء-ہند-قانونی-امدادکمیٹی-کے-مقدمات-میں-مولانا-اسجدمدنی-ہوں-گے-مدعی

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی کی ہدایت پر جمعیۃعلماء ہند کے نائب صدرمولانااسجدمدنی کو ان تمام مقدمات میں مدعی بنایاگیا ہے جو جمعیۃعلماء ہندقانونی امدادکمیٹی نچلی عدالتوں سے لیکر سپریم کورٹ تک لڑرہی ہے۔واضح ہوکہ ان تمام اہم مقدمات میں گلزاراعظمی مرحوم سکریٹری قانونی امدادکمیٹی مدعی تھے، ان کے انتقال کے بعد دہشت گردی اورفسادات میں گرفتارکئے گئے افرادکے اہل خانہ تشویش کا شکارہوگئے تھے کہ ان کے مقدمات کی پیروی اب کون کرے گا اورمتاثرین کی بروقت خبرگیری کے لئے کون آگے آئے گا ۔

جمعیۃعلماء ہندکی قانونی امداد کمیٹی کسی تعرف کی محتاج نہیں ہے،اس کمیٹی کے ذریعہ ایک جانب جہاں سیکڑوں مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی جیسے سنگین الزامات سے بری کرایاگیا وہیں دوسرے نوعیت کے کئی اہم مقدمات بھی وہ پوری طاقت اوردلجمعی سے لڑرہی ہے، جس کے ذمہ داراب نائب صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا اسجد مدنی ہوں گے جوعدالت میں زیر سماعت مقدمات میں پٹیشنر ہونگے۔ اس کے لئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کے ذریعہ سپریم کورٹ میں مولانا اسجد مدنی کو ریکارڈ پر لینے کی درخواست داخل کی جاچکی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بابری مسجد معاملے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرتے وقت مولانا اسجد مدنی جمعیۃ علماء ہند اور وکلاء کے درمیان ایک اہم کڑی تھے، عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون 1991، غیر قانونی بلڈوزر کارروائی، لو جہاد قوانین، مآب لنچنگ، مرکزحضرت نظام الدین کرونا معاملہ و دیگر آئینی معاملات میں بھی جمعتہ علماء ہند کی جانب سے مولانااسجد مدنی پٹیشنر ہونگے، صدر جمعیۃعلماء ہند کی ہدایت پر چھ افرادپرمشتمل جمعتہ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی مہاراشٹرمیں اپناکام کرتی رہے گی، جس میں کارگذار صدر حافظ مسعود حسامی،جنرل سیکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی، خازن مفتی یوسف قاسمی، لیگل ایڈوائز رایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ انصار تنبولی اور آفس سکریٹری مولانا معراج قاسمی شامل ہیں۔

جی 20 اجلاس میں چاندی اور سونے کی پلیٹیں دیکھی: شرد پوار

0
جی-20-اجلاس-میں-چاندی-اور-سونے-کی-پلیٹیں-دیکھی:-شرد-پوار

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے جی 20 سربراہی اجلاس کو لے کر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ملک میں ایسی کانفرنسوں کی میزبانی کرنا ہمارا فرض ہے لیکن چاندی اور سونے کی پلیٹیں پہلی بار دیکھی گئیں۔ اب کیا کہیں کہ ہندوستان کا راستہ ہے ۔مجھے لگتا ہے کہ  مودی سرکار بیمار ہے۔

شرد پوار نے کہا کہ ملک میں اس طرح کی کانفرنسیں پہلے بھی دو بار ہو چکی ہیں۔ ایسا وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور میں ایک بار ہوا۔ اب یہ کانفرنس تیسری مرتبہ ملک میں منعقد ہو رہی ہے۔ پہلی دو کانفرنسوں میں دنیا بھر سے لوگ آئے تھے لیکن تب ماحول آج جیسا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں پڑھا کہ کسی کانفرنس میں چاندی یا سونے کی پلیٹیں  ہوں ۔ تاہم میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہاں آنے والے مختلف ممالک کے سربراہان مملکت کا احترام کرنا ہمارا فرض ہے۔ یہ اس ملک کے لیے اہم ہے، لیکن اس کانفرنس کو بنیادی مسائل کے بجائے بعض لوگوں کی عظمت  کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پوار نے کہا کہ یہ کتنا مناسب ہے اس پر آج یا کل بات کی جائے گی۔ نیز، لوگ اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کریں گے۔

اس سے پہلے، شرد پوار نے اتوار یعنی 10 ستمبر کو ممبئی کے وائی بی سینٹر میں پارٹی میٹنگ بلائی تھی، جس میں سپریہ سولے، جینت پاٹل، انیل دیشمکھ، جتیندر اوہاد، روہت پوار سمیت کئی پارٹی لیڈروں نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں آئندہ لوک سبھا انتخابات کے علاوہ کئی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

این سی پی کے تمام 19 ایم ایل اے جو ابھی تک شرد پوار کے ساتھ ہیں میٹنگ میں شریک ہوئے۔ انہوں نے مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) اتحاد کے لیے آگے بڑھنے کے راستے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ میٹنگ میں ایکناتھ شندے حکومت کی پالیسیوں، پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے اور مہاراشٹر میں آنے والے بلدیاتی انتخابات کے بارے میں بھی بات ہوئی۔