اتوار, مارچ 29, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 128

آوارہ کتوں کا وکیل پر حملہ، سپریم کورٹ فکرمند

0
آوارہ-کتوں-کا-وکیل-پر-حملہ،-سپریم-کورٹ-فکرمند

ایک وکیل اور اس سے پہلے دوسرے لوگوں پر آوارہ کتوں کے حملے سے متعلق ایک معاملہ پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے آیا۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس پی ایس نرسنگھ اور منوج مشرا کی بنچ نے وکیل کنال چٹرجی کے معاملے سمیت پہلے کے کچھ دیگر معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

یہ معاملہ عدالت عظمیٰ کے سامنے اس وقت آیا جب چیف جسٹس نے مسٹر چٹرجی کے ایک ہاتھ پر پٹی بندھی دیکھی۔ جسٹس چندر چوڑ نے مسٹر چٹرجی کی طرف دیکھا اور پوچھا کیا ہوا؟مسٹر چٹرجی نے جواب دیا، "پانچ کتوں نے (مجھ پر) حملہ کیا تھا۔”

چیف جسٹس نے تشویش کا اظہار کیا اور انہیں مدد کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو طبی مدد کی ضرورت ہے تو میں (اعلیٰ عدلیہ) رجسٹری سے اس پر توجہ دینے کے لیے کہہ سکتا ہوں۔جسٹس چندر چوڑ نے اپنے ایک ملازم پر کتے کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’میرا لاء کلرک اپنی گاڑی پارک کر رہا تھا اور اس پر بھی حملہ کیا گیا۔‘‘

جسٹس نرسمہا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’یہ خطرہ بنتا جا رہا ہے۔سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اتر پردیش میں کتے کے کاٹنے سے موت کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک لڑکے کو کتے نے کاٹ لیا تھا۔ وہ ریبیز کا شکار ہو کر مر گیا۔

ایک وکیل نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی کہ وہ کتوں کے حملوں کے بڑھتے ہوئے معاملات کا ازخود نوٹس لے، جہاں پہلے ہی ایسے معاملات کی سماعت چل رہی ہے۔

منی پور تشدد پر رپورٹ شائع کرنے والے ایڈیٹرس گلڈ کے چار ارکان کو 15ستمبر تک راحت

0
منی-پور-تشدد-پر-رپورٹ-شائع-کرنے-والے-ایڈیٹرس-گلڈ-کے-چار-ارکان-کو-15ستمبر-تک-راحت

سپریم کورٹ نے ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا (ای جی آئی)کے چار ارکان کو منی پور میں تشدد ونسلی جھڑپ کے متعلق ایک رپورٹ شائع کرنے کے بعدان کے خلاف درج دوایف آئی  آ ر کے معاملے میں بھی تعزیری کاروائی پر چھ ستمبرکو لگائی گئی روک کی مدت پیر کو اگلی سماعت15ستمبر تک بڑھادی ہے۔

چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس جے بی پاردی والااور جسٹس منوج مشرا کی بینچ نے ای جی آئی کے ارکان کو راحت تو دی، لیکن ساتھ ہی واضح کیاکہ وہ اس معاملے میں درج ایف آئی آر کو رد کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

بینچ نے کہاکہ وہ اس پر غور کررہی ہے کہ اس معاملے کو سماعت کے لئے دہلی ہائی کورٹ یا منی پور ہائی کورٹ کو بھیجا جانا چاہئے۔

ای جی آئی نے اپنی رپورٹ میں ریاست میں انٹر نیٹ پر پابندی کو میڈیا رپورٹ کے لئے نقصان دہ بتایا تھا۔ کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس کے ذریعے یک طرفہ رپورٹنگ پر تنقید کی تھی اور دعوی کیا تھا کہ ایسے اشارے تھے کہ ریاست کی قیادت ’امتیاز‘ برت رہی ہے۔ یہ رپورٹ دو ستمبرکو شائع کی گئی تھی۔

منی پورکے وزیر اعلی این بیرین سنگھ نے چارستمبرکوکہا تھا کہ ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کے صدر اور تین رکنی ارکان کے خلاف ایک شکایت کی بنیاد پر پولیس نے معاملہ درج کیا ہے اور ان پر ریاست میں ’تشدد بھڑکانے‘ کی کوشش کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ہتک عزت الزام کے ساتھ گلڈ کے چار ارکان کے خلاف دوسری ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

اسپائس جیٹ کے چیئرمین اجے سنگھ کو سپریم کورٹ کی وارننگ، قرض واپس کرو ورنہ جیل جانے کے لیے تیار رہو

0
اسپائس-جیٹ-کے-چیئرمین-اجے-سنگھ-کو-سپریم-کورٹ-کی-وارننگ،-قرض-واپس-کرو-ورنہ-جیل-جانے-کے-لیے-تیار-رہو

سپریم کورٹ نے پیر کو سپائس جیٹ کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر (سی ایم ڈی) اجے سنگھ کو 22 ستمبر تک کریڈٹ سوئس کو 5 لاکھ ڈالر کے ساتھ ڈیفالٹ رقم کے 10 لاکھ ڈالر ادا کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے وارننگ دی کہ قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں انہيں تہاڑ جیل جانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس احسن الدین امان اللہ نے کریڈٹ سوئس اور اسپائس جیٹ کے درمیان 2015 سے تقریباً 240 لاکھ ڈالر کے واجبات پر جاری قانونی تنازعہ کی سماعت کے بعد یہ حکم دیا۔بنچ نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ تاریخ تک اس کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا تو اجے سنگھ کو تہاڑ جیل بھیجا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کیس کی اگلی سماعت 22 ستمبر کو کرے گا۔ عدالت عظمیٰ نے اجے سنگھ کو کیس کی ہر سماعت کے دوران عدالت میں موجود رہنے کی بھی ہدایت دی۔

سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان 50 مشترکہ معاہدوں پر دست خط

0
سعودی-عرب-اور-ہندوستان-کے-درمیان-50-مشترکہ-معاہدوں-پر-دست-خط

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو نئی دہلی میں ایک تقریب میں خود اور ان کی نگرانی میں دونوں ممالک کے حکام نے دوطرفہ تعاون کے متعدد مشترکہ معاہدوں اور سمجھوتوں پر دست خط کیے ہیں۔

اتوار کو جی 20 سربراہ اجلاس کے اختتام کے بعد نئی دہلی میں سعودی ولی عہد کے لیے باضابطہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔العربیہ کے نمایندے کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی اور شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان دوطرفہ تعاون کے کم سے کم 50 معاہدے اور سمجھوتے طے پائے ہیں۔

ان میں سعودی عرب کی وزارتِ سرمایہ کاری اور بھارت کی قومی ایجنسی برائے فروغِ سرمایہ کاری اور سہولت کے درمیان طے پانے والے متعدد معاہدے شامل ہیں۔ ان میں توانائی ، پیٹرو کیمیکل ، قابلِ تجدید توانائی ، زراعت اور صنعت کے علاوہ سماجی اور ثقافتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے معاہدے شامل ہیں۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے سرکاری ترجمان نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے سرکاری صفحے پر کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے اپنے وفود کے ساتھ سعودی ، بھارت تزویراتی شراکت داری کونسل کے پہلے اجلاس میں شرکت کی ہے۔

ترجمان کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں توانائی کی سلامتی، تجارت اور سرمایہ کاری، دفاع اور سلامتی، صحت کی دیکھ بھال، غذائی تحفظ، ثقافت اور معاشرتی فلاح وبہبود کے امور سمیت دو طرفہ تعاون کے وسیع شعبے شامل تھے۔(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)

گراؤنڈ رپورٹ: مظفر نگر فساد کے 10 سال بعد بھی نہ انصاف ملا، نہ امید!

0
گراؤنڈ-رپورٹ:-مظفر-نگر-فساد-کے-10-سال-بعد-بھی-نہ-انصاف-ملا،-نہ-امید!

مظفر نگر میں 2013 کے فرقہ وارانہ فسادات کو 10 سال ہو چکے ہیں۔ اتر پردیش اور ملک کی سیاست کی سمت و رفتار بدل دینے والے اس تشدد نے ویسٹ یوپی کے سماجی تانے بانے کو بھی تبدیل کر دیا تھا۔ اس دوران تقریباً 20 ہزار کنبوں کو اپنا گھر چھوڑ کر راتوں رات کھیتوں اور جنگلوں کے راستوں سے جان بچا کر بھاگنا پڑا اور ان میں سے نصف آج تک واپس نہیں لوٹے۔ اب ان کے گھر اور کھیت گاؤں کے دوسرے لوگوں نے اونے پونے داموں میں 100 روپے کے اسٹامپ پیپرس پر اپنے نام لکھوا لیا ہے۔ جنھوں نے اپنے گھر نہیں فروخت کیے وہ کھنڈر بن چکے ہیں۔ ایک دہائی میں ایسا کوئی بھی سامنے نہیں آیا جس نے ان کی گھر واپسی کی کوشش کی ہو۔ عصمت دری متاثرین بھی گمنامی کی زندگی جی رہی ہیں اور ملزمین کھلے گھوم رہے ہیں۔ اجتماعی عصمت دری کے صرف ایک معاملے میں ہی سزا ہو سکی ہے۔ 2014 کے لوک سبھا انتخاب کے بعد تو کسی نے متاثرین کا حال بھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔

دہلی سے 130 کلومیٹر دور مغربی یوپی کا یہ ضلع ملک میں کھیتی کسانی اور آئرن انڈسٹری کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔ 10 سال قبل 7 ستمبر کو برپا تشدد پڑوسی ضلع شاملی تک پھیل گیا تھا۔ تب کے اجڑے ہوئے لوگ آج تک ٹھیک سے بس نہیں پائے ہیں۔ ایسے ہی 150 متاثرہ کنبوں کی ایک بستی لوئی گاؤں میں ہے۔ یہ سبھی 3 کلومیٹر دور پھُگانا گاؤں میں رہتے تھے۔ 7 ستمبر کی شام کے اس منظر کو یاد کرتے ہوئے 40 سالہ گلفام کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’ہماری عورتیں اور بچے جان بچا کر کھیتوں اور جنگلوں کے راستوں سے بھاگے تھے، جنھیں کئی دنوں بعد ڈھونڈا گیا۔ گاؤں کے لوگوں نے ہمارے گھر نوٹری کے سامنے اسٹامپ پیپر پر دستخط کرا کر خرید لیے۔‘‘ 30 سالہ وسیم اس وقت انٹر کے طالب علم تھے اور اب ویلڈنگ کا کام کر کے اہل خانہ کی پرورش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’گاؤں میں موجود گھر کی قیمت ہمیں بس اتنی ملی جتنی کہ سونے کے عوض میں چاندی کی قیمت ہو۔ اُس وقت کی ریاستی حکومت نے 5 لاکھ روپے معاوضہ دیا تو اس سے 150 گز زمین لے کر گھر بنایا۔ گاؤں کے کسی شخص نے ہمیں اپنے گھروں میں لوٹانے کی پہل نہیں کی۔‘‘

58 سالہ نافع دین اور ان کے تین دیگر بھائیوں کا کنبہ پھُگانا میں ہی رہتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’اس رات گاؤں میں 6 خواتین کے ساتھ عصمت دری ہوئی تھی۔ معاوضے کی رقم مقدمات میں خرچ ہو گئی، لیکن کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔ دو سالوں سے تو مقدمات کا ہی پتہ نہیں ہے۔ ہمیں دو سال پہلے وکیل نے کورٹ میں آنے سے منع کر دیا تھا۔‘‘ لوئی سے 22 کلومیٹر دور کاکڑا گاؤں میں 43 سالہ شوقین اور ان کے پانچ بھائیوں نے اپنے مکانات محض 1.80 لاکھ روپے میں فروخت کر دیے۔ شوقین کہتے ہیں ’’میرے صرف ایک بھائی یامین کو ہی معاوضہ ملا۔‘‘ ایسی کہانیاں مظفر نگر اور شاملی کی تقریباً 50 بستیوں کی ہے جہاں فساد متاثرین مقیم ہیں۔

شاہ پور کے بسی پلڑا میں کٹبا گاؤں سے ہجرت کرنے والے 80 کنبے ہیں۔ 5 کلومیٹر دور کٹبا گاؤں مرکزی وزیر سنجیو بالیان کے گاؤں کٹبی سے جڑا ہے۔ یہاں سے 350 کنبوں نے ہجرت کی تھی۔ انہی میں سے ایک محبت علی بتاتے ہیں ’’جب ہم کام سے واپس گھر لوٹے تھے تو گولیاں چل رہی تھیں اور ہم بمشکل خواتین و بچوں کو لے کر جنگلوں کے راستے بھاگے تھے۔ 4-3 مہینے بعد گاؤں کے ایک ریٹائرڈ فوجی نے ہمیں گھر لوٹنے کو کہا جس کی بیٹی بھی گولی چلانے والوں میں شامل تھی۔ ہم جانا چاہتے تھے، لیکن وہ منظر ہماری آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ 30 ہزار روپے دے رک فوجی نے ہی ہمارا مکان خرید لیا۔‘‘ فساد متاثرین پر فساد کا خوف اتنا زیادہ ہے کہ کوئی چاہے گا بھی تو یہ واپس اپنے گھر لوٹنا نہیں چاہیں گے۔ 30 سالہ طاہر حسن کا دو ٹوک کہنا ہے کہ ’’تین دن بعد ملٹری نے ہمیں گاؤں سے محفوظ نکالا اور پولیس نے مدد سے انکار کر دیا تھا۔ ہمارے لوگوں کی 6 لاشیں کئی دنوں بعد سڑی گلی ملی تھیں۔ اب بھلا ہم اس گاؤں میں کیسے جائیں۔‘‘ 37 سالہ گلزار کا کہنا ہے کہ وہ اپنی دادی کی لاش کے ساتھ دو دن گھر میں قید رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں ’’گھر میں گھس کر میری دادی کو گاؤں کے لوگوں نے ہی گولی ماری تھی۔ اس گھر کا بھلا اب کیا کرنا؟‘‘

فساد متاثرین کی کالونیوں کی حالت خستہ ہے۔ یہاں رہنے والے اب مزدوری اور پھیری لگا کر اپنے کنبے کی پرورش کر رہے ہیں۔ خواتین گھر کے علاوہ کچھ پیسوں کے لیے محنت و مزدوری کرتی ہیں۔ مدرسوں کے علاوہ بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی انتظام نہیں ہے۔ کچھ خواتین کمہاروں سے حقے کی چلم لاتی ہیں اور گلیوں میں بیٹھ کر اس پر تانبے کی تار بندی کرتی ہیں۔ 60 سالہ شمشاد بتاتے ہیں کہ ’’ہم پر حملے ہوئے۔ سامان لوٹا اور گھر جلا دیے۔ اب گاؤں کے لوگ کہتے ہیں کہ بچوں نے غلطی کر دی۔ ہم تو آبا و اجداد کی وراثت سے بھی کٹ گئے اور سماج سے بھی۔ نہ ہماری بستیوں میں نالی، کھڑنجے ہیں اور نہ پینے کا پانی۔ 2014 کے بعد تو بلانے پر بھی سیاسی لیڈران ہمارے پاس نہیں آتے ہیں۔‘‘

اس سب سے الگ فسادات کے سبب بنے کوال گاؤں میں کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ 27 اگست 2013 کو یہاں کوال سے ہی جڑے ملک پورہ گاؤں کے سچن اور گورو نے بالادستی کی لڑائی میں شاہنواز قریشی چاقو گھونپ کر قتل کر دیا تھا۔ بھیڑ نے گاؤں میں ہی سچن اور گورو کو گھیر لیا اور پیٹ کر مار ڈالا تھا۔ دو تین دن کی کشیدگی کے بعد یہاں سب معمول پر آ گیا۔ پولیس کی کوششوں سے ہجرت کرنے والے دونوں طبقات کے لوگ بھی ہفتے بھر میں ہی لوٹ آئے تھے۔ یہاں ہندو اور مسلم یکساں تناسب میں ہیں۔ تب گاؤں کے پردھان مہندر سینی تھے اور اب محمد اسلام ہیں۔ پردھان کے دفتر میں ہی بیٹھے گاؤں کے سماجی کارکن روی شنکر سینی کہتے ہیں ’’وہ ایک عام واقعہ تھا، جسے فسادات کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہاں پہلے یا اس کے بعد کبھی کوئی واقعہ نہیں ہوا۔‘‘ محمد اسلام اپنے موبائل پر فرقہ وارانہ خیرسگالی کے طور پر حال ہی میں ہوئے کانوڑ یاتریوں کے کیمپ اور تین قتل کے کچھ دنوں بعد رام لیلا کی وہ تصویریں، ویڈیو دکھاتے ہوئے کہتے ہیں ’’ہمارے گاؤں میں کچھ نہیں بدلا ہے۔ وہ منصوبہ بند فسادات تھے، جو یہاں سے 30-20 کلومیٹر دور گاؤں میں ہوئے۔‘‘ وہ یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بی جے پی کے اُس وقت کے رکن اسمبلی وکرم سینی کے تعاون سے پردھان بنے۔ فسادات میں قصوروار پائے جانے پر وکرم کی تین ماہ پہلے ہی اسمبلی رکنیت جا چکی ہے۔ وکرم سینی کی بیوی بھی مہندر سنگھ پہلے کوال کی پردھان رہ چکی ہیں اور مظفر نگر فسادات کے بعد وہ دو بار رکن اسمبلی بنے۔

’جل جیون مشن میں 13 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ، بدعنوان افسران کو دیا گیا پروموشن‘، کانگریس کا مرکز پر حملہ

0
’جل-جیون-مشن-میں-13-ہزار-کروڑ-روپے-کا-گھوٹالہ،-بدعنوان-افسران-کو-دیا-گیا-پروموشن‘،-کانگریس-کا-مرکز-پر-حملہ

نئی دہلی: کانگریس نے جموں و کشمیر میں مرکزی حکومت کے ’جل جیون مشن‘ منصوبہ میں 13 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے جانچ کرانے کی جگہ اس گھوٹالے کو ظاہر کرنے والے دلت آئی اے ایس افسر اشوک پرمار کا استحصال کیا، ان کا ایک سال میں چار بار ٹرانسفر ہوا۔ جموں و کشمیر کے ایل جی کے ذریعہ انھیں بے عزت کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی گھوٹالے کے الزامات میں ملوث بدعنوان افسران کو بچایا گیا اور پروموشن (ترقی) دیا گیا۔

پیر کے روز نئی دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس محکمہ مواصلات میں میڈیا اور پبلسٹی کے چیئرمین پون کھیڑا نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ایل جی منوج سنہا کی ناک کے نیچے یہ گھوٹالہ ہوا ہے۔ اس گھوٹالے میں ایل جی منوج سنہا اور مودی حکومت میں مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت پر شبہات کی سوئی جاتی ہے۔ مرکزی وزیر پر شک کی سوئی اس لیے جاتی ہے کیونکہ انھوں نے ایک وہسل بلووَر کو سزا دی اور بدعنوانی کے الزامات میں ملوث افسران کو بچایا۔

کھیڑا نے کہا کہ اس گھوٹالے کو انجام دینے کے لیے تکنیکی اور انتظامی منظوری کے بغیر ٹنڈر نکالا گیا۔ بے ضابطگیاں باہر نہ آئیں، اس کے لیے منصوبوں کا بٹوارا کیا گیا۔ کمپوزٹ ٹنڈر کی رسم کو چھوڑ دیا گیا۔ منصوبہ کے تحت تقریباً ہر ضلع میں ٹھیکیداروں کے ذریعہ گھٹیا کام کیا گیا۔ مختلف سطحوں پر بار بار بات چیت کے باوجود کسی ماہر صلاح کار کو مقرر نہیں کیا گیا۔

کھیڑا کا کہنا ہے کہ اپنی شکایت میں پرمار نے حیران کرنے والے انکشافات کیے ہیں، کہ ایل جی منوج سنہا نے 6 جون 2022 کو انھیں بغیر کسی غلطی کے پریشان کرنے اور بے عزت کرنے کے مقصد سے میٹنگ ہال سے باہر نکال دیا تھا۔ حکومت ہند کی ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کا لگاتار ٹرانسفر کیا گیا۔ قومی درج فہرست ذات کمیشن کو لکھے ایک خط میں پرمار نے جموں و کشمیر کے ایل جی اور چیف سکریٹری پر استحصال، دھمکی اور بدتمیزی کا الزام عائد کیا ہے اور ان کے لگاتار ٹرانسفر کی وجہ نسلی تفریق و تعصب کو قرار دیا ہے۔ کھیڑا نے کہا کہ یہ مودی حکومت کی دلت مخالف ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔

کھیڑا نے مودی حکومت سے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ گھوٹالے کو ظاہر کرنے والے آئی اے ایس افسر کو کیوں پریشان کیا گیا اور ہدف بنایا گیا؟ اس گھوٹالے کا ماسٹر مائنڈ کون ہے؟ گھوٹالے کی بڑی مچھلی کہاں ہے؟ یہ لوٹا ہوا پیسہ کہاں گیا؟ وزارت داخلہ میں شکایتوں اور سی بی آئی جانچ کے مطالبہ کے باوجود گھوٹالے کی تفصیلی جانچ کے حکم کیوں نہیں دیے؟ مودی حکومت کسے بچانے کی کوشش کر رہی ہے؟ ایک دلت آئی اے ایس افسر کے استحصال کے سنگین الزامات کے باوجود قومی درج فہرست ذات کمیشن نے ایل جی کو طلب کیوں نہیں کیا؟ مودی حکومت نے اشوک پرمار پر جھوٹے الزامات لگائے کہ وہ کانٹریکٹ کمیٹی کے چیف بننا چاہتے تھے، لیکن اس کا کوئی تحریری ثبوت نہیں ہے۔ کیا یہ ایک ’وہسل بلووَر‘ کا استحصال نہیں ہے؟

جی-20 اجلاس: کیا ’ہندوستانی داماد‘ رشی سُنک کو نہیں ملی خاطر خواہ توجہ!

0
جی-20-اجلاس:-کیا-’ہندوستانی-داماد‘-رشی-سُنک-کو-نہیں-ملی-خاطر-خواہ-توجہ!

نئی دہلی میں 10 ستمبر کو اختتام پذیر جی-20 اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان کی شرکت ہوئی، لیکن ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ برطانوی وزیر اعظم رشی سنک کی خاطر خواہ توجہ نہیں ملی۔ یہ دعویٰ برطانوی اخبار/ویب سائٹ ’دی گارجین‘ میں کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رشی سنک کو ہندوستان میں اتنی ترجیح نہیں دی گئی جتنی کہ انھیں امید تھی۔

قابل ذکر ہے کہ برطانوی وزیر اعظم رشی سنک 8 ستمبر کو ہندوستان پہنچے تھے۔ جی-20 اجلاس میں شرکت کے بعد انھوں نے اکشردھام مندر میں پوجا کی اور اس پوجا کے دوران رشی سنک کی بیوی اکشیتا مورتی بھی ساتھ تھیں۔ چونکہ اکشیتا مورتی کا تعلق ہندوستان سے ہے، اس لیے رشی سنک کو ’ہندوستانی داماد‘ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود انھیں توجہ نہ دیے جانے سے برطانوی ویب سائٹ (دی گارجین) نے مایوسی ظاہر کی ہے۔ اس ویب سائٹ نے تو اپنی سرخی میں ہی لکھ دیا ہے کہ ’رشی کون؟ جی 20 میں ہندوستان کے قریب آنے کی دوڑ میں سنک مقررہ ترجیح کی ترتیب سے بھی نیچے کھسک گئے۔‘

اپنی رپورٹ میں ’دی گارجین‘ نے لکھا ہے کہ ’’برطانوی وزیر اعظم ہفتہ کے روز آخر کار اپنے ہم منصب وزیر اعظم مودی سے تو ملے، لیکن ایک دن کے انتظار کے بعد اور وہ بھی بغیر کسی اثردار فوٹو سیشن کے۔ ہفتہ کے روز جب وہ نریندر مودی سے ملے تو یہ ملاقات ویسی نہیں تھی، جیسی برطانوی وزیر اعظم کو امید تھی۔‘‘ ساتھ ہی ویب سائٹ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’ہندوستان اور برطانیہ بالترتیب دنیا کی پانچویں اور چھٹی بڑی معیشتیں ہیں۔ ہندوستانی وزیر اعظم مودی اور برطانوی وزیر اعظم رشی سنک کے درمیان ملاقات ایک دن قبل یعنی 8 ستمبر کو ہی نئی دہلی واقع وزیر اعظم رہائش پر ہونے والی تھی۔ لیکن سفارت کاری کتنی ظالم ہو سکتی ہے۔ سنک نے اسے خود محسوس کیا ہوگا۔ سُنک کو اگر پوری طرح سے نظر انداز نہیں کیا گیا تو وہ ترجیح بھی نہیں دی گئی جس کی انھیں امید تھی۔‘‘

ویب سائٹ میں یہ شکایتی انداز میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پی ایم مودی کی رہائش پر ہونے والے شاندار فوٹو سیشن کی جگہ دونوں لیڈران وہاں ملے جہاں ہندوستان جی 20 اجلاس کی میزبانی کر رہا تھا۔ یعنی ’بھارت منڈپم‘ میں بنے ایک ہال میں۔ کیونکہ پی ایم مودی کی رہائش اپنی پوری سجاوٹ کے ساتھ امریکی صدر جو بائڈن کے لیے ریزرو تھا۔ ’دی گارجین‘ ویب سائٹ نے یہ بھی لکھا کہ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ بریگزٹ کے بعد برطانیہ اب عالمی سطح پر مزید الگ تھلگ ہو گیا ہے اور برطانوی وزیر اعظم سُنک کو ہندوستان میں ملی کم توجہ سے اس دلیل کو مضبوطی ملتی ہے۔ سُنک کے پروگرام میں تبدیلی نے بین الاقوامی اجلاس کے پیچیدہ انتظام اور غیر مستحکم سیاست کی بھی عکاسی کی ہے، ساتھ ہی عالمی پلیٹ فارم پر برطانیہ کو اپنی حالت سے مطلع کرایا ہے۔

ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں جانکاری دی ہے کہ جمعہ کی شب ہونے والی سُنک کے ساتھ ملاقات کو رَد کرنے والے صرف نریندر مودی ہی نہیں تھے، بلکہ ٹریڈ افسران کے ایک نمائندہ وفد نے بھی پہلے سے طے سُنک سے ملاقات کو اس حوالے سے رد کر دیا کہ جی 20 اجلاس کے دوران سیکورٹی کے مدنظر شہر کی کئی سڑکیں بند ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم سُنک اور ان کی بیوی اکشیتا مورتی اپنے پسندیدہ ریسٹورینٹ ہلدی رام یا سرونا بھون بھی نہیں جا سکے کیونکہ پورا شہر بند تھا۔ نتیجہ کار انھوں نے امپیریل ہوٹل میں تنہا کھانا کھایا، جسے سُنک نے بہت ہی نایاب ڈنر قرار دیا۔

برٹش ویب سائٹ ’دی گارجین‘ نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں کئی نکات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’وزیر اعظم بننے کے بعد رِشی سُنک کا یہ پہلا دورۂ ہند تھا۔ انھوں نے خود کو ’ہندوستان کا داماد‘ بھی بتایا تھا۔ ایسے میں انھیں پرجوش استقبال کی امید تھی۔ لیکن دہلی میں شہر گیر بند ہونے کے سبب بہت کم لوگ ہی سُنک سے ملنے پہنچے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ 8 ستمبر کو ہندوستان پہنچنے کے بعد میڈیا سے بات چیت میں جب سُنک سے ’ہندوستان کا داماد‘ کہے جانے کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو اس پر انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مجھے بے حد خاص محسوس ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ مجھے ’ہندوستان کا داماد‘ کہا جاتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ پیار سے ہی کہا گیا ہوگا۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو میرے بہت قریب اور محبوب ہے۔‘‘

واضح رہے کہ برطانوی وزیر اعظم رِشی سُنک انفوسس کے شریک بانی این آر نارائن مورتی کے داماد ہیں۔ رشی سنک کی بیوی اکشیتا مورتی مشہور کاروباری نارائن مورتی اور سدھا مورتی کی اکلوتی بیٹی ہیں۔ اکشیتا کی رشی سنک سے پہلی ملاقات اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ اس کے چار سال بعد 2009 میں بنگلورو میں اکشیتا اور رشی نے شادی کی تھی۔

اتر پردیش میں لگاتار بارش سے معمولات زندگی بے حال، کئی گھروں میں گھسا پانی

0
اتر-پردیش-میں-لگاتار-بارش-سے-معمولات-زندگی-بے-حال،-کئی-گھروں-میں-گھسا-پانی

اتر پردیش کے کئی علاقوں میں لگاتار جاری بارش سے عام زندگی بری طرح متاثر ہو گئی ہے، جس سے سرکاری انتظام کی قلعی کھل گئی ہے۔ لکھنؤ میں گزشتہ 14 گھنٹے سے لگاتار بارش ہو رہی ہے۔ کبھی تیز اور کبھی رم جھم بارش سے شہر کے بھیڑ بھاڑ والے علاقے کی سڑکوں میں دو سے تین فیٹ تک پانی بھر گیا ہے۔ بیشتر کالونیوں میں پانی گھروں میں گھس گیا ہے۔

راجدھانی کی اہم سڑکوں پر آبی جماؤ کے سبب زبردست جام کا بھی نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کیب سروس کا سسٹم منہدم ہو گیا ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں قید ہو گئے ہیں۔ لکھنؤ کے علاوہ کانپور میں بھی اتوار سے بارش کا دور جاری ہے، جس سے پورا شہر پانی پانی ہو گیا ہے۔ مراد آباد میں ریلوے ٹریک پر پانی بھر گیا ہے۔ ابھی محکمہ موسمیات نے مزید بارش کی تنبیہ دیتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے۔

موسم کی مار کو دیکھتے ہوئے لکھنؤ ضلع کے سبھی اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کڑکنے اور موسلادھار بارش کے مدنظر لکھنؤ میں کوئی بھی شخص بلاضرورت باہر نہ گھومے۔ غیر محفوظ عمارتوں اور درختوں کے رابطے میں بھی آنے سے لوگوں کو بچنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ضلع کے باشندوں کو اپنے گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے اور احتیاط کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔

لکھنؤ کے علاوہ مراد آباد اور بارابنکی میں بھی اسکولوں کی تعطیل کر دی گئی ہے۔ ریاست میں بارش کا لگاتار تیسرا دن ہے۔ اس سے پہلے اتوار کو بھی لکھنؤ، میرٹھ، ایودھیا، مراد آباد، غازی آباد اور کانپور سمیت کئی شہروں میں زوردار بارش ہوئی۔ مراد آباد میں اتنا پانی برسا کہ ریلوے ٹریک تک ڈوب گیا۔ سڑکوں پر پانی بھر گیا۔ ریلوے نے 9 سے زیادہ ٹرینوں کو کینسل کر دیا گیا۔ کئی مقامات پر درخت گرے اور بیشتر سڑکوں پر پانی بھر گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کے بعد بارش میں کچھ کمی آئے گی اور درجہ حرارت بڑھے گا۔ موسمیاتی مرکز کے سینئر سائنسداں اتل کمار سنگھ کا کہنا ہے کہ اب پیر سے لکھنؤ میں بارش کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔ حالانکہ آس پاس کے کئی ضلعوں میں گرج اور چمک کے ساتھ تیز بارش کے لیے الرٹ جاری ہے۔

ابھی شمالی مدھیہ پردیش کے ضلعوں میں سائیکلونک سرکولیشن بنا ہوا ہے۔ اسی کے سبب اتر پردیش کے کئی حصوں میں گرج اور چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش درج ہو رہی ہے۔ اتل کمار سنگھ کے مطابق 12 ستمبر تک موسم ایسا ہی رہے گا۔ 13 ستمبر سے مانسون کی سرگرمی میں کمی آئے گی۔ مغربی علاقوں میں بارش کی تیزی گھٹے گی۔

محکمہ موسمیات نے لکھنؤ، لکھیم پور کھیری، سیتاپور، ہردوئی، کانپور، بارابنکی، علی گڑھ، متھرا، ہاتھرس، آگرہ، فیروز آباد، ایٹاوا، اوریا، بریلی، پیلی بھیت، شاہجہاں پور، سنبھل، بدایوں، جالون، حمیر پور، مہوبا، جھانسی، للت پور اور آس پاس موسلادھار بارش کا یلو الرٹ جاری کیا ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بارش کے مدنظر متعلقہ ضلعوں کے افسران کو پوری ذمہ داری سے راحتی کام چلانے کی ہدایت دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ افسران علاقے کا دورہ کر راحتی کام پر نظر رکھیں۔ بارش سے متاثر لوگوں کو ضروری راحتی امداد بلاتاخیر تقسیم کریں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ ہدایت بھی دی ہے کہ آبی جماؤ کی حالت میں پانی نکالنے کے لیے بہتر انتظام کیا جائے۔ ندیوں کے آبی سطح پر ہمیشہ نگرانی کی جائے۔ فصلوں کو ہوئے نقصان کا اندازہ کر ضروری کارروائی کی جائے تاکہ متاثرہ کسانوں کو اصول کے مطابق معاوضہ کی رقم دی جا سکے۔

انڈیگو کی ممبئی-گواہاٹی فلائٹ میں خاتون مسافر سے چھیڑ چھاڑ، اترنے ہی ملزم حراست میں، کیس درج

0
انڈیگو-کی-ممبئی-گواہاٹی-فلائٹ-میں-خاتون-مسافر-سے-چھیڑ-چھاڑ،-اترنے-ہی-ملزم-حراست-میں،-کیس-درج

ممبئی سے گواہاٹی جا رہی انڈیگو کی فلائٹ میں ایک خاتون مسافر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا حیران کرنے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ کی شکایت پر طیارہ کے گواہاٹی میں اترتے ہی ملزم کو حراست میں لے کر آسام پولیس کو سونپ دیا گیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر جانچ شروع کر دی ہے۔

انڈیگو ایئرلائنز کے ایک ترجمان کے مطابق واقعہ 10 ستمبر کو فلائٹ 6 ای 5319 میں پیش آیا۔ متاثرہ نے مبینہ جنسی استحصال کی شکایت درج کروائی، جس کے بعد طیارہ کے گواہاٹی میں اترنے کے بعد ملزم کو حراست میں لے کر آسام پولیس کو سونپ دیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ شکایت دہندہ نے مقامی پولیس میں ایف آئی آر درج کی ہے اور جہاں بھی ضروری ہوگا، ہم ان کی جانچ میں مدد کریں گے۔

غور طلب ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران فلائٹس میں جنسی استحصال کے کم از کم چار معاملے سامنے آ چکے ہیں۔ 16 اگست کی ہی بات ہے جب دہلی-ممبئی اسپائس جیٹ فلائٹ میں مبینہ جنسی استحصال کا معاملہ سامنے آیا تھا، جس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔ دہلی خاتون کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال نے بھی اس حادثہ پر دہلی پولیس اور ڈی جی سی اے کو نوٹس جاری کیا تھا۔ اس درمیان ہوائی سفر کے دوران فلائٹ میں جنسی استحصال، غلط سلوک اور جھگڑے کے بڑھتے واقعات ایئرلائنز کمپنیوں کے ساتھ ہی مسافروں کے لیے بھی سنگین فکر پیدا کر رہے ہیں۔

مہاراشٹر: ستارا میں دو طبقہ کے درمیان تشدد، انٹرنیٹ سروس بند

0
مہاراشٹر:-ستارا-میں-دو-طبقہ-کے-درمیان-تشدد،-انٹرنیٹ-سروس-بند

مہاراشٹر کے ستارا میں کشیدگی کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہاں دو طبقہ میں پتھراؤ اور آگ زنی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اس واقعہ میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ دراصل ستارا میں کچھ قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر پیر کی صبح دو گروپوں کے درمیان تصادم ہو گیا۔ پولیس نے ماحول دیکھتے ہوئے حکم امتناع نافذ کر دیا اور انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا۔

افسران نے اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ پسیسولی کے ایک شخص نے اتوار کو مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر کچھ قابل اعتراض پوسٹ کیے۔ اس سے لوگوں کا غصہ بھڑک گیا اور گروپ میں تصادم شروع ہو گیا۔ اس سے اتوار کی شب سے ہی یہاں کشیدگی والے حالات پیدا ہو گئے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیر شیخ کا کہنا ہے کہ ’’10 ستمبر کو پسیسولی میں ایک شخص نے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ کیا۔ اس پوسٹ کو لوگوں نے غلط سمجھا اور اس سے نظامِ قانون کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ ستارا پولیس نے فوراً حالات پر رد عمل ظاہر کیا اور اسے کنٹرول میں لایا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ جہاں بھی ضرورت ہوئی، مناسب پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی ہے اور حالات اب پرامن ہے۔ انھوں نے لوگوں سے محتاط رہنے کی گزارش بھی کی۔

سمیر شیخ نے ایک بیان میں لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ’’لوگوں کو افواہوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ کسی بھی قانون اور نظام کے مسئلہ سے بچنے کے لیے سماج میں رنجش پھیلانے والے پیغامات کو سوشل میڈیا کے ذریعہ سے نشر نہیں کیا جانا چاہیے۔ محتاط رہیں اور اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ نظر آئے تو فوراً افسران سے رابطہ کریں۔‘‘

ستارا سے این سی پی رکن پارلیمنٹ نے پسیویلی میں ہوئے واقعات کو بہت افسوسناک اور تکلیف دہ بتایا۔ انھوں نے عوام سے صبر بنائے رکھنے اور افواہ پھیلانے والوں پر توجہ نہ دیتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی انھوں نے جاننا چاہا کہ ایسی شرارت کون کر رہا ہے۔ لوگ بغیر تصدیق کیے مسیجز کو فاروارڈ کیوں کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن چھترپتی اودین راجے بھوسلے نے بھی عوام سے امن بنائے رکھنے اور جھوٹے میسجز میں نہ پھنسنے کی گزارش کی ہے۔ واقعات کو افسوسناک بتاتے ہوئے این سی پی کی ایگزیکٹیو چیف سپریا سولے نے لوگوں سے افواہوں کا شکار ہونے سے بچنے اور سماج میں خیر سگالی بنائے رکھنے میں مدد کرنے کی گزارش کی۔