اتوار, مارچ 29, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 127

بغاوت کے قانون کو چیلنج دینے والی عرضی پر آئینی بنچ کرے گی سماعت، سپریم کورٹ کا فیصلہ

0
بغاوت-کے-قانون-کو-چیلنج-دینے-والی-عرضی-پر-آئینی-بنچ-کرے-گی-سماعت،-سپریم-کورٹ-کا-فیصلہ

سپریم کورٹ میں آج 152 سال قدیم ملک سے بغاوت کے قانون کو چیلنج دینے والی عرضی پر سماعت ہوئی۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے مرکز کو جھٹکا دیتے ہوئے معاملے کو بڑے آئینی بنچ کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی بنچ نے بڑی بنچ کو معاملہ سونپنے کا فیصلہ ٹالنے کے مرکزی حکومت کے مطالبہ کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اس معاملے کی سماعت کم از کم پانچ ججوں کی آئینی بنچ کرے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے کے تحت آنے والے بغاوت قانون کی اہلیت کو چیلنج دینے والی عرضیوں کو کم از کم پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے پاس بھیج دیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی آئینی بنچ نے اس بنیاد پر بڑی بنچ کو معاملہ سونپنے کا فیصلہ ٹالنے کے مرکز کے مطالبہ کو ٹھکرا دیا کہ پارلیمنٹ تعزیرات کے التزامات کو پھر سے نافذ کر رہی ہے۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشرا بھی اس بنچ میں شامل تھے۔

اس درمیان سپریم کورٹ نے اپنے رجسٹرڈ آفس کو چیف جسٹس کے سامنے کاغذات پیش کرنے کی ہدایت دی تاکہ بنچ کی تشکیل کے سلسلے میں فیصلہ لیا جا سکے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 11 مئی کو سپریم کورٹ نے اس معاملے پر سماعت کرتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے کو عبوری طور پر بے اثر بنا دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ اس قانون کے تحت نئے مقدمات درج نہ ہوں اور جو مقدمات پہلے سے زیر التوا ہیں، ان میں بھی عدالتی کارروائی روک دی جائے۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو قانون کا تجزیہ کرنے کی اجازت دی تھی۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ جب تک حکومت قانون کا تجزیہ نہیں کر لیتی، تب تک یہ عبوری نظام نافذ رہے گا۔

بعد ازاں مرکزی حکومت نے رواں سال 11 اگست کو ان قوانین کو بدلنے کے لیے تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے آئی پی سی (انڈین پینل کوڈ- تعزیرات ہند)، سی آر پی سی (کریمنل پینل کوڈ) اور آئی ای اے (انڈین ایویڈنس ایکٹ) کی جگہ لینے کے لیے لوک سبھا میں تین نئے بل پیش کیے۔ اس میں بغاوت قانون کو رد کرنے اور جرم کی وسیع تعریف کے ساتھ نئے التزامات نافذ کرنے کی بات کی گئی ہے۔

آسارام کو لگا جھٹکا، درخواست ضمانت پر سماعت سے سپریم کورٹ کا انکار

0
آسارام-کو-لگا-جھٹکا،-درخواست-ضمانت-پر-سماعت-سے-سپریم-کورٹ-کا-انکار

نئی دہلی: آسارام ​​کو سپریم کورٹ سے جھٹکا لگا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے 2013 میں ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری کے معاملے میں مجرم قرار دیے گئے خود ساختہ بابا آسارام ​​باپو کی درخواست ضمانت پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔

آسارام ​​کو 2013 میں ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس نے یہ جرم اگست 2013 میں جودھ پور کے منائی گاؤں میں کیا تھا۔ آسارام ​​کی گرفتاری کے بعد سورت کی دو خواتین نے بھی شکایت درج کروائی، جس میں الزام لگایا گیا کہ آسارام ​​اور ان کے بیٹے نے ان کے ساتھ 2002 اور 2005 کے درمیان عصمت دری کی۔

جودھ پور ریپ کا فوجداری مقدمہ 2014 میں شروع ہوا اور چار سال تک چلا، اسے ٹرائل کورٹ نے 2018 میں مجرم قرار دیا اور عمر قید کی سزا سنائی۔ اس کے خلاف اس کی اپیل ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔

منی پور میں تشدد کا سلسلہ بدستور جاری، کوکی طبقہ کے 3 قبائلیوں کا گولی مار کر قتل

0
منی-پور-میں-تشدد-کا-سلسلہ-بدستور-جاری،-کوکی-طبقہ-کے-3-قبائلیوں-کا-گولی-مار-کر-قتل

امپھال: منی پور میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کو یہاں کانگ پوپکی ضلع میں ملی ٹینٹوں نے تین قبائلی افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ افسران نے یہ معلومات فراہم کیں۔

منی پور کی راجدھانی امپھال میں حکام نے بتایا کہ مسلح عسکریت پسندوں نے امپھال ویسٹ اور کانگ پوپکی اضلاع کے سرحدی علاقوں میں ایرینگ اور کرم کے درمیان گاؤں پر حملہ کیا اور تین دیہاتیوں کو موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ شدت پسند صبح سویرے ایک گاڑی میں قبائلی اکثریتی دیہات میں آ دھمکے اور سیکورٹی فورسز کے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

اس سے قبل 8 اور 9 ستمبر کو بھی ٹینگنوپال ضلع کے پالیل میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان فائرنگ اور تصادم میں تین افراد مارے گئے تھے۔

حکام نے بتایا کہ حملہ آور ایک گاڑی میں آئے اور امپھال ویسٹ اور کانگ پوکپی اضلاع کے سرحدی علاقوں میں واقع ایرینگ اور کرم علاقوں کے درمیان گاؤں والوں پر حملہ کیا۔ یہ گاؤں پہاڑوں میں واقع ہے اور قبائلیوں کی اکثریت ہے۔

خیال رہے کہ منی پور میں اس سال 3 مئی سے اکثریتی میتئی اور قبائلی کوکی برادریوں کے درمیان مسلسل جھڑپیں جاری ہیں اور اب تک 160 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اپوزیشن اس معاملے پر مودی حکومت پر مسلسل حملہ کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی اس معاملے پر کافی ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن کی طرف سے اس معاملے پر مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی اور بالآخر وزیر اعظم مودی کو اس پر جواب دینا پڑا۔

سی بی آئی کو لالو پرساد یادو کے خلاف مقدمہ چلانے کی دی حکومت نے اجازت

0
لوک-سبھا-انتخابات-سے-قبل-حرکت-میں-آئی-مودی-حکومت!-سی-بی-آئی-کو-لالو-یادو-کے-خلاف-مقدمہ-چلانے-کی-دی-اجازت
سی بی آئی کو لالو پرساد یادو کے خلاف مقدمہ چلانے کی دی حکومت نے اجازت

لوک سبھا انتخابات سے قبل حرکت میں آئی مودی سرکار سی بی آئی کو لالو پرساد یادو کے خلاف مقدمہ چلانے کی دی اجازت

نئی دہلی: جیسے جیسے لوک سبھا انتخابات قریب آ رہے ہیں، مودی حکومت کی جانب سے ایک بار پھر وہی طاقت استعمال کی جا رہی ہے جو عام طور پر انتخابات کے وقت نظر آتی ہے۔ اسی ضمن میں بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور اب مودی حکومت نے سی بی آئی کو لالو یادو کے خلاف زمین کے عوض نوکری معاملے میں مقدمہ چلانے کی منظوری دے دی ہے۔

سی بی آئی نے راؤذ ایونیو کورٹ کو معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اسے وزارت داخلہ سے لالو یادو کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت مل گئی ہے۔ تاہم اس معاملے میں حکومت سے ملزم تین افسران کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں ملی ہے۔

سی بی آئی نے اس معاملے میں 3 جولائی کو سپلیمنٹری چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس چارج شیٹ میں پہلی بار تیجسوی یادو کا نام آیا ہے۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں لالو یادو، رابڑی دیوی سمیت 16 لوگوں کو ملزم بنایا ہے۔ ان میں ملزم ریلوے افسران اور نوکری لینے والوں کے نام بھی شامل ہیں۔

زمین کے عوض ملازمت کا مسئلہ 14 سال پرانا ہے۔ اس وقت لالو یادو ریلوے کے وزیر تھے۔ الزام ہے کہ لالو یادو نے ریلوے کے وزیر رہتے ہوئے لوگوں کو ریلوے میں نوکری دینے کے عوض ان کی زمینیں حاصل کر لیں۔ سی بی آئی نے اس گھوٹالے میں کئی ریلوے افسران کو بھی ملزم بنایا ہے۔

ظاہر ہے کہ اگر لالو یادو انتخابات کے دوران جیل سے باہر رہتے ہیں تو اس کا اثر انتخابات پر پڑے گا، وہ انتخابی مہم چلائیں گے، جس کی وجہ سے بہار میں بی جے پی اور این ڈی اے کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ انتخابات سے عین قبل لالو یادو پر ایسا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

مہاراشٹر کے ستارا میں قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ سے کشیدگی کے بعد دفعہ 144 نافذ

0
مہاراشٹر:-ستارا-میں-قابل-اعتراض-سوشل-میڈیا-پوسٹ-کے-بعد-کشیدگی،-انٹرنیٹ-بند،-دفعہ-144-نافذ

کولہاپور کے مخصوص آئی جی سنیل پھولاری نے بیان کیا کہ ہم عام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی شرارتی پوسٹ یا افواہوں کی طرف متاثر نہ ہوں۔ ستارہ ضلع میں امتناعی احکامات جاری کی گئی ہیں اور انٹرنیٹ کی سروس کو دو روز کے لئے منقطع کر دیا گیا ہے۔

مہاراشٹر کے ستارہ ضلع میں سوموار کی صبح کچھ سوشل میڈیا پوسٹس پر گروپوں کے درمیان جھڑپیں پیش آئیں۔ پولیس نے امتناعی احکامات کو عمل میں لانے کا فیصلہ کیا اور انٹرنیٹ کی سروس کو معطل کر دیا۔

کولہاپور کے خصوصی آئی جی سنیل پھولاری نے کہا کہ ہم عام طور پر شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی شرارتی پوسٹ اور افواہوں کا شکار نہ ہوں۔ ستارا ضلع میں امتناعی حکم جاری کیا گیا ہے۔ دو روز کے لیے انٹرنیٹ بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

لہٰذا عمومی طور پر صورتحال فی الحال مکمل کنٹرول میں ہے اور اب یہ معمول ہے۔ ہماری نگرانی مستقبل میں بھی جاری رہے گی، احتیاطی تدابیر کے طور پر فورس کی کافی تعیناتی ہے۔ ہم نے ستارا اور آس پاس کے اضلاع سے مناسب پولیس افسران اور اہلکار فراہم کیے ہیں۔ ستارا ضلع میں مسلح گارڈز اور موبائل پٹرولنگ تعینات کی گئی ہے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیر شیخ نے کہا ’’10 ستمبر کو پسوالی میں ایک شخص نے سوشل میڈیا پر ایک قابل اعتراض پوسٹ کی۔ لوگوں نے اس پوسٹ کو غلط سمجھا اور اس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا۔ ستارا پولیس نے فوری طور پر صورتحال پر جوابی کارروائی کی اور اسے قابو میں کر لیا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جہاں بھی ضرورت ہے وہاں کافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے اور صورتحال اب پرامن ہے، انہوں نے لوگوں سے چوکس اور محتاط رہنے کی اپیل کی۔

شیخ نے ایک بیان میں اپیل کی، ’’لوگ افواہوں پر یقین نہ کریں، معاشرے میں تفرقہ پھیلانے والے پیغامات کو سوشل میڈیا کے ذریعے نہ پھیلایا جائے تاکہ امن و امان کے کسی بھی مسئلے سے بچا جا سکے۔ ہوشیار رہیں، چوکس رہیں اور اگر آپ کو کوئی ناخوشگوار واقعہ نظر آئے تو فوراً حکام سے رابطہ کریں۔‘‘

دہلی فسادات: عمر خالد کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ آج کرے گا سماعت

0
دہلی-فسادات:-عمر-خالد-کی-درخواست-ضمانت-پر-سپریم-کورٹ-آج-کرے-گا-سماعت

نئی دہلی: دہلی فسادات کی سازش کے ملزم عمر خالد کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ میں آج منگل (12 ستمبر) کو سماعت ہونے جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں دہلی پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔ اس سے قبل 5 ستمبر کو سپریم کورٹ نے عمر خالد کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی کر دی تھی۔ خیال رہے کہ عمر خالد گزشتہ 3 سال سے جیل میں قید ہیں۔

سپریم کورٹ میں عمر خالد کی درخواست ضمانت پر سماعت 5 بار ملتوی ہو چکی ہے۔ ان میں سے دو بار عمر خالد کی درخواست پر، دو بار عدالت کی طرف سے اور ایک بار جج کی جانب سے سماعت سے دستبردار ہونے کی وجہ سے سماعت ملتوی ہو چکی ہے۔

اب تک عمر خالد کی درخواست ضمانت 3 مختلف ججوں کی سربراہی میں بنچوں کے سامنے درج کی جا چکی ہے۔ کئی بار ججوں کی بنچ میں بھی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے مئی کے مہینے میں دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چھ ہفتے کے اندر جواب طلب کیا تھا، جس کے بعد جب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے رکھا گیا تو کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی۔ دہلی پولیس نے حلف نامے کا جواب دینے کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔

غورطلب ہے کہ 24 فروری 2020 کو شمال مشرقی دہلی میں سی اے اے کے حامیوں اور مظاہرین کے درمیان تشدد ہوا تھا جس کے بعد بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات برپا ہو گئے۔ بعد ازاں، جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد اور کئی دیگر کے خلاف فروری 2020 کے فسادات کے ’ماسٹر مائنڈ‘ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) اور تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ یاد رہے کہ دہلی فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اتراکھنڈ: دہرادون میں ڈینگی کی روک تھام کے لیے چلائی جائے گی چار روزہ مہم

0
اتراکھنڈ:-دہرادون-میں-ڈینگی-کی-روک-تھام-کے-لیے-چلائی-جائے-گی-چار-روزہ-مہم

دہرادون: ریاستی سکریٹریٹ میں پیر کو سکریٹری صحت ڈاکٹر آر راجیش کمار نے ڈینگی کنٹرول جائزہ میٹنگ کی۔ دیگر اضلاع کے مقابلے دہرادون ضلع میں ڈینگی کے زیادہ کیسز دیکھے جا رہے ہیں۔ سکریٹری صحت نے اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ سونیکا سے تفصیلی معلومات حاصل کی۔ اجلاس میں ڈینگی کے ہاٹ سپاٹ بننے والے علاقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جائزہ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام محکموں کی اجتماعی کوششوں سے اگلے چار دنوں تک دہرادون ضلع میں ڈینگی کے خلاف ایک میگا مہم چلائی جائے گی۔

ضلع کے میڈیکل آفیسرز اور اے ایس ایچ اے کو گھر گھر جاکر عوامی بیداری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ میڈیکل آفیسرز، آشا ورکرز اور دیگر محکموں کی ٹیمیں گھر گھر جاکر لوگوں کو ڈینگی کے بارے میں بیدار کریں گی اور کہیں بھی ڈینگی لاروا موجود ہونے کی صورت میں انہیں ختم کرنے کا کام کریں گی۔ اس کے علاوہ اگر عوام ڈینگی کے حوالے سے کوئی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو میڈیکل آفیسر فراہم کرنے کا کام کریں گے۔

اس ورچوئل میٹنگ میں ضلع مجسٹریٹ دہرادون سونیکا، ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر ونیتا شاہ، ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن آشوتوش سیانا، چیف میڈیکل آفیسر دہرادون ڈاکٹر سنجے جین، ڈائرکٹر اسٹیٹ ٹرانسمیشن کونسل ڈاکٹر اجے ناگرکر، پروگرام آفیسر این ایچ ایم ڈاکٹر پنکج سنگھ نے شرکت کی۔ ضلع دہرادون کے ممبران کے ساتھ سٹی ہیلتھ آفیسر اور دیگر افسران موجود تھے۔

یوپی میں بارش نے تباہی مچا دی، 19 افراد ہلاک

0
یوپی-میں-بارش-نے-تباہی-مچا-دی،-19-افراد-ہلاک

لکھنؤ: یوپی میں موسلادھار بارش کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اس وجہ سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف شہروں میں 19 افراد جاں بحق ہوئے۔ کئی جگہیں بری طرح سیلاب میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ اس کے پیش نظر راجدھانی لکھنؤ سمیت کئی اضلاع میں اسکول بند ہیں۔

ریلیف کمشنر کے دفتر سے پیر کو موصولہ اطلاع کے مطابق ریاست میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش سے متعلق واقعات میں 19 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔

معلومات کے مطابق بھاری بارش کے باعث 13 افراد کی موت ہوئی جبکہ چار افراد کی موت آسمانی بجلی گرنے اور دو ڈوبنے سے ہوئی۔ ہردوئی میں چار، بارہ بنکی میں تین، پرتاپ گڑھ اور قنوج میں دو دو اور امیٹھی، دیوریا، جالون، کانپور، اناؤ، سنبھل، رام پور اور مظفر نگر میں ایک ایک موت ہوئی ہے۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ تمام اضلاع کے عہدیداروں کو پوری تیزی کے ساتھ راحتی کاموں میں مصروف ہو جانا چاہئے۔ ڈی ایم کو چاہئے کہ وہ علاقے کا دورہ کریں اور امدادی کاموں پر نظر رکھیں۔ آفت سے متاثرہ لوگوں میں فوری طور پر جائز امدادی رقم تقسیم کی جائے۔ پانی جمع ہونے کی صورت میں نکاسی آب کے موثر انتظامات کئے جائیں۔ دریاؤں کے پانی کی سطح کو مانیٹر کیا جائے۔ فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جائے اور حکومت کو رپورٹ فراہم کی جائے تاکہ متاثرہ کسانوں کو قواعد کے مطابق معاوضہ دیا جا سکے۔

انڈیا اتحاد کی کوآرڈنیشن کمیٹی کا پہلا اجلاس کل شرد پوار کی رہائش گاہ پر منعقد ہوگا

0
انڈیا-اتحاد-کی-کوآرڈنیشن-کمیٹی-کا-پہلا-اجلاس-کل-شرد-پوار-کی-رہائش-گاہ-پر-منعقد-ہوگا

نئی دہلی: انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس (انڈیا) اتحاد میں شامل اپوزیشن جماعتوں کی کوآرڈنیشن کمیتی کے پہلے اجلاس میں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ اجلاس کل یعنی 13 ستمبر کو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار کی رہائش گاہ پر منعقد ہوگا۔ خیال رہے کہ ’انڈیا‘ نے یکم ستمبر کو ممبئی میں اپنے تیسرے اجلاس کے دوران 14 رکنی کوآرڈنیشن کمیٹی تشکیل دی تھی۔

کوآرڈینیشن کمیٹی پوار کے علاوہ کانگریس کے کے سی وینوگوپال، ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو، جے ایم ایم کے ہیمنت سورین، شیو سینا کے سنجے راوت، آر جے ڈی کے تیجسوی یادو، ترنمول کانگریس کے ابھیشیک بنرجی، عام آدمی پارٹی کے راگھو چڈھا، سماج وادی پارٹی کے جاوید علی خان، جے ڈی-یو کے لالن سنگھ، سی پی آئی کے ڈی راجہ، نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ اور پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی شامل ہیں۔ سی پی آئی-ایم نے ابھی تک کمیٹی کے لیے اپنے پارٹی لیڈر کا نام پیش نہیں کیا ہے۔

‘ہم ملک کا نام نہیں بدلیں گے، وزیر اعظم بدلیں گے’: ٹھاکرے

0
‘ہم-ملک-کا-نام-نہیں-بدلیں-گے،-وزیر-اعظم-بدلیں-گے’:-ٹھاکرے

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے شیوسینا (یو بی ٹی) کے صدر ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ مرکز میں حکمران اتحاد حال ہی میں قومی اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کی کامیابی سے ‘ہل گیا’ ہے۔ ٹھاکرے نے زبردست تالیوں کے درمیان گرج کر کہاکہ "وہ انڈیا بلاک سے اتنے پریشان ہیں کہ انہوں نے ملک کا نام بدل کر بھارت رکھ دیا ہے… ہم نام بدلنے کے اس کھیل میں شامل نہیں ہوں گے… ہم اگلے (لوک سبھا) انتخابات میں حکمران جماعت اور ملک کے وزیر اعظم کو بدل دیں گے۔ 2024 کے انتخابات میں بی جے پی اقتدار میں واپس نہیں آئے گی،‘‘

ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے. تاہم، انہوں نے کہا کہ ‘انڈیا’، ‘بھارت’ یا ‘ہندوستان’ سبھی ہمارے نام ہیں اور ہم جو چاہیں استعمال کریں گے، اور کوئی بھی اسے ہم پر مسلط نہیں کر سکتا۔ٹھاکرے نے نشاندہی کی کہ کس طرح، ممبئی میں انڈیا کانفرنس کے دوران (اگست 31-ستمبر 01)، حکمراں شیو سینا نے اپنی پارٹی کو ‘شیو سینا کانگریس’ کا لیبل لگا کر جنگ شروع کر دی تھی۔ ٹھاکرے نے سامعین سے خوش ہونے کے لیے کہاکہ’’ارے… ہم 25-30 سال بی جے پی کے ساتھ تھے اور ہم ان جیسے نہیں بنے، تو اب کانگریس کیسے بن سکتے ہیں…؟‘‘

بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے، ٹھاکرے نے کہا کہ وہ اقتدار پر قبضہ کرنے، سیاسی پارٹیوں کو توڑنے،سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کو پکڑنے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ٹھاکرے نے خبردار کیا۔”اب بات ہو رہی ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح کے ارد گرد گودھرا واقعہ (27 فروری 2002) کا اعادہ ہو سکتا ہے…”

منی پور کے جاری بحران کا حوالہ دیتے ہوئے، شیو سینا (یو بی ٹی) کے سپریمو نے افسوس کا اظہار کیا کہ کس طرح خواتین کو سرعام بے دردی اور شرمندگی کا نشانہ بنایا گیا، "لیکن مرکز کی حکومت نے کچھ نہیں کہا یا کچھ نہیں کیا”۔

ٹھاکرے نے سختی سے کہاکہ”وہ لوگ جو اس طرح کے المناک اور سنگین مسائل پر خاموش رہنے کا انتخاب کرتے ہیں، انہیں چھترپتی شیواجی مہاراج یا سردار ولبھ بھائی پٹیل اور اس طرح  کے رہنماؤں کانام لینے کا کوئی حق نہیں ہے،” ۔

انہوں نے شندے کو نئی دہلی کا سفر کرنے اور G-20 کے معززین کے ساتھ اپنی تصویریں کلک کرنے کا وقت ملنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس مراٹھا لیڈر منوج جارنگے پاٹل سے ملنے کا وقت نہیں ہے ، جو اس وقت جالنہ میں 13 دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔