اتوار, مارچ 29, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 123

اننت ناگ انکاؤنٹر: آپریشن کے دوسرے روز تازہ فائرنگ کا تبادلہ

0
اننت-ناگ-انکاؤنٹر:-آپریشن-کے-دوسرے-روز-تازہ-فائرنگ-کا-تبادلہ

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گڈول کوکرناگ علاقے میں جمعرات کی صبح سیکورٹی فورسز اور ملی ٹنٹوں کے درمیان تازہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ بتادیں کہ اس علاقے میں بدھ کے روز ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے گڈول کوکر ناگ کے جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا تھا جس دوران تاک میں بیٹھے ملی ٹینٹوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی ، کرنل اور میجر سمیت تین اعلیٰ آفیسران جاں بحق ہوئے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ انکائوںٹر کے مقام پر رات کی خاموشی کے بعد سیکورٹی فورسز اور ملی ٹنٹوں کے درمیان تازہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کو اندھیرے کے پیش نظر آپریشن معطل کر دیا گیا تھا اور جمعرات کی صبح اضافی فورسز کو طلب کرکے آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا اور پھنسے ہوئے ملی ٹنٹوں کے فرار ہونے کے تمام راستوں کو مسدود کر دیا گیا۔

قبل ازیں کشمیر زون پولیس نے اپنے ایک ٹویٹ میں کرنل منپریت سنگھ،میجر آشیش دھونک اور ڈی ایس پی ہمایوں بٹ کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان افسروں نے غیر متزلزل بہادری کا مظاہرہ کرکے اس آپریشن کے دوران سب سے آگے لڑتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کیں۔

ٹویٹ میں کہا گیا: ‘ہماری افواج غیر متزلزل عزم کے ساتھ قائم ہے انہوں نے عزیز خان سمیت لشکر طیبہ کے 2 دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا ہے’۔ معلوم ہوا ہے کہ گھنے جنگلی علاقے میں محصور ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کی خاطر فوج کی خصوصی ونگ’مونٹین بریگیڈ‘ جنہیں پہاڑوں پر چڑھنے کی مہارت حاصل ہے کو طلب کیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ فوج، پولیس ، سی آر پی ایف کی اضافی نفری نے جنگلی علاقے کو پوری طرح سے سیل کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر مکمل طورپر پابندی عائد کی ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے لیس فوج اور پولیس کی خصوصی ٹیمیں جنگلی علاقے میں خیمہ زن ہے۔

مدارسوں میں سنسکرت کی پڑھائی! چیئرمین اتراکھنڈ وقف بورڈ کے بیان پر تنازعہ، کانگریس نے اٹھائے سوال

0
مدارسوں-میں-سنسکرت-کی-پڑھائی!-چیئرمین-اتراکھنڈ-وقف-بورڈ-کے-بیان-پر-تنازعہ،-کانگریس-نے-اٹھائے-سوال

دہرادون: اتراکھنڈ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس کے اس بیان پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے کہ اب ریاست کے مدرسوں سنسکرت بھی پڑھائی جائے گی۔ ایک طرف جہاں مدرسہ ایسوسی ایشن نے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائی ہے وہیں کانگریس نے بھی اس سوال اٹھائے ہیں۔

خیال رہے کہ اتراکھنڈ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ریاست کو ’دیوبھومی‘ قرار دیا جاتا ہے، اس لیے اب یہاں کے مدرسوں میں عربی کے ساتھ سنسکرت بھی پڑھائی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مدرسوں میں این سی ای آر ٹی کا نصاب نافذ کیا جائے گا اور ایسا مدرسوں کو جدید بنانے کی غرض سے کیا جا رہا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد سے تمام ردعمل سامنے آنے لگے۔

اتراکھنڈ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کرن ماہرا نے شاداب شمس کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری اسکولوں کو سنبھالنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کرن ماہرا نے پوچھا کہ حکومت آخر مدرسوں میں سنسکرت کے ٹیچرز کہاں سے لائے گی؟

انہوں نے کہا کہ جو حکومت ریاست کے سرکاری اسکولوں کے لیے ضرورت کے مطابق اساتذہ کی تقرری نہیں کر پا رہی وہ بھلا مدرسوں کے لیے سنکرت ٹیچرز کس طرح دستیاب کرا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کھوکھلی بیان بازی کے بجائے حقیقت کو سامنے رکھنا چاہئے۔ کرن ماہرا نے شاداب شمس کو بی جے پی کا چاپلوس قرار دیا اور کہا کہ وہ بی جے پی لیڈران کو خوش کرنے کے لیے اس طرح کے بیان دیتے ہیں۔

دریں اثنا، اتراکھنڈ مدرسہ ایسوسی ایشن کے سکریٹری شاہ نظر نے حکومت پر مدرسوں کے ساتھ سوتیلا رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مدرسے کی ڈگری کو تسلیم نہیں کرتی، لہذا سنسکرت پڑھائی جائے یا فارسی کوئی فرق نہیں پڑے گا! انہوں نے کہا کہ مدرسہ ٹیچروں کو آج تک تنخوان نہیں ملی ہے، ایسے حالات میں حکومت سنسکرت پڑھاکر کون سا تیر مار لے گی۔

ای ڈی کی پوچھ گچھ کا مقصد مجھے انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں جانے سے روکنا تھا: ابھیشیک بنرجی

0
ای-ڈی-کی-پوچھ-گچھ-کا-مقصد-مجھے-انڈیا-اتحاد-کی-میٹنگ-میں-جانے-سے-روکنا-تھا:-ابھیشیک-بنرجی

کولکاتا: ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے دعویٰ کیا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ان سے پوچھ گچھ کے لیے بدھ کا ہی دن منتخب کیا، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ کی رابطہ کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں شرکت نہ کر سکیں!

تقریباً 10 گھنٹے تک جاری رہنے والی میراتھن پوچھ گچھ کے بعد رات 9 بجے سے تھوڑا پہلے ای ڈی کے دفتر سے باہر نکلتے ہوئے ترنمول کے رکن پارلیمنٹ نے کہا، ’’انڈیا کی اہم جماعتوں کے ارکان نے مجھے ای ڈی کے سمن کو نظر انداز کرنے اور رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے کو کہا تھا لیکن میں نے ای ڈی آفس آنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے انڈیا کے ارکان سے میٹنگ ملتوی نہ کرنے کی بھی درخواست کی اور بدھ کی صبح 11.32 بجے ای ڈی کے دفتر پہنچا۔‘‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ای ڈی نے انہیں انڈیا کی میٹنگ کے دن ان کو طلب کیا ہے اپوزیشن اتحاد میں ترنمول کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بنرجی نے کم سزا کی شرح کا حوالہ دیتے ہوئے ای ڈی اور سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) جیسی مرکزی ایجنسیوں کی ساکھ پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا ’’اس قدر کم سزا کی شرح ظاہر کرتی ہے کہ مرکزی ایجنسیوں کی طرف سے کی جانے والی زیادہ تر تحقیقات محض سیاسی طور پر محرک ہوتی ہیں۔‘‘

بنرجی نے کہا ’’یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ای ڈی اور سی بی آئی چناؤ اور انتخاب کی بنیاد پر مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہمیں بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ایسی کوئی کارروائی نظر نہیں آتی۔ اس کے علاوہ، اپوزیشن پارٹیوں کے کسی بھی لیڈر کو جو مرکزی ایجنسیوں کے ذریعہ ستایا جا رہا ہے، بی جے پی میں شامل ہوتے ہی کلین چٹ مل جاتی ہے۔‘‘

بینرجی نے رابطہ کمیٹی کے پہلے اجلاس کے دن ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر انڈیا کی دیگر حلیف جماعتوں کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ترنمول لیڈر نے بی جے پی پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر ایجنسی کا راستہ استعمال کر رہی ہے تاکہ مہنگائی، بے روزگاری اور فرقہ وارانہ منافرت جیسے سلگتے مسائل پر لوگوں میں بڑھتی ہوئی شکایات کے خلاف جوابی بیان تیار کیا جا سکے۔

موسم کا حال: راجدھانی دہلی سے لے کر یوپی اور اتراکھنڈ تک بارش کی پیش گوئی

0
موسم-کا-حال:-راجدھانی-دہلی-سے-لے-کر-یوپی-اور-اتراکھنڈ-تک-بارش-کی-پیش-گوئی

نئی دہلی: آنے والے دنوں میں ملک کے بعض حصوں میں بارش کی سرگرمیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج یعنی 14 ستمبر اور 15 ستمبر کو مشرقی ہندوستان کی ریاستوں میں مانسون فعال ہوگا۔ جبکہ وسطی ہندوستان میں 14 سے 17 ستمبر تک اور مغربی ہندوستان میں 15 سے 17 ستمبر تک مانسونی بارش کی سرگرمیاں دیکھی جائیں گی۔ اس کے علاوہ راجستھان اور اتراکھنڈ میں بھی بارش دیکھنے کو ملے گی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، آج یعنی جمعرات کو نئی دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 26 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ہلکی بارش یا بوندا باندی بھی ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق نئی دہلی میں 15 ستمبر سے بارش کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ نئی دہلی میں اتوار تک ہر روز بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری رہے گا۔ جبکہ مطلع ابرآلود رہے گا اور گرج چمک کے ساتھ ایک یا دو مرتبہ بارش بھی ہو سکتی ہے۔ غازی آباد کی بات کریں تو آج یہاں کم سے کم درجہ حرارت 26 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 34 ڈگری رہے گا۔ یہاں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہے گا۔

موسم کی پیشن گوئی کرنے والی ایجنسی اسکائی میٹ کے مطابق آج اوڈیشہ، ساحلی آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، ودربھ اور تلنگانہ میں بعض مقامات پر تیز بارش کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان ہے۔ جبکہ اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، شمالی پنجاب، ہریانہ کے کچھ حصوں، مغربی مدھیہ پردیش، مشرقی راجستھان، جھارکھنڈ، اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، لکشدیپ، انڈمان اور نکوبار جزائر، سکم، شمال مشرقی ہندوستان اور مراٹھواڑہ میں ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش ہو سکتی ہے۔ جموں و کشمیر، دہلی، مشرقی گجرات، وسطی مہاراشٹر، آندھرا پردیش کے جنوبی ساحل، اندرونی کرناٹک اور تمل ناڈو میں ہلکی بارش کا امکان ہے۔

جب 3 عہدیداروں کے شہید ہونے کی خبر آئی، اس وقت بی جے پی ہیدکوارٹر میں بادشاہ کے لیے جشن کی محفل سجی تھی! پون کھیڑا

0
جب-3-عہدیداروں-کے-شہید-ہونے-کی-خبر-آئی،-اس-وقت-بی-جے-پی-ہیدکوارٹر-میں-بادشاہ-کے-لیے-جشن-کی-محفل-سجی-تھی!-پون-کھیڑا

نئی دہلی: کانگریس نے کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں ملی ٹینٹوں کے ساتھ تصادم میں فوج کے کرنل، میجر اور جموں و کشمیر پولیس کے ڈی ایس پی کی شہادت پر وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان پون کھیڑا نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ کچھ بھی ہو جائے، وزیر اعظم اپنی واہوہی کو ملتوی نہیں کر سکتے!

خیال رہے کہ جی-20 کے کامیاب انعقاد کے پیش نظر بدھ کی شام بی جے پی کے نیشنل ہیڈ کوارٹر میں وزیر اعظم مودی کے استقبالیہ پروگرام کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ اس دوران کئی مرکزی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ موجود تھے۔ وزیر اعظم کے استقبال کے لیے نعرے لگائے گئے اور پارٹی میں جشن کا ماحول تھا، جس پر کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔

پون کھیڑا نے ایکس ہینڈل پر لکھا ’’آج جس وقت سرحد پر ہماری فوج کے تین عہدیداروں کے شہید ہونے کی تکلیف دہ خبریں آ رہی تھیں، اسی وقت بی جے پی ہیڈکوارٹر میں بادشاہ کے لیے جشن کی محفل سجی تھی۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے، وزیر اعظم اپنی واہوہی کو ٹال نہیں سکتے۔‘‘

خیال رہے کہ اننت ناگ میں ملی ٹینٹوں کے ساتھ تصادم میں فوج کے کرنل منپریت سنگھ، بٹالین کمانڈنٹ میجر آشیش دھنوت اور جموں و کشمیر پولیس کے ڈی ایس پی ہمایوں بھٹ شہید ہو گئے ہیں۔ جوانوں کی شہادت پر پورے ملک میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ آج وادی کشمیر میں ملی ٹینٹوں کے خلاف ’آل آؤٹ آپریشن‘ چلایا جائے گا۔

سی ای سی سمیت یہ 4 بل حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہیں، کانگریس کا خدشہ ’ کچھ اور ہے‘

0
سی-ای-سی-سمیت-یہ-4-بل-حکومت-کے-ایجنڈے-میں-شامل-ہیں،-کانگریس-کا-خدشہ-’-کچھ-اور-ہے‘

مرکزی حکومت نے  کل یعنی 13 ستمبرکو پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں پیش کیے جانے والے چار بلوں کی فہرست جاری کی ہے۔ جس میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کی تقرری کا بل بھی درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایڈووکیٹ بل، پریس اینڈ رجسٹریشن آف پیریڈیکل بل اور پوسٹ آفس بل اس سیشن میں پیش کیے جائیں گے۔

بدھ کے روز یعنی گزشتہ کل  قبل ازیں پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نےایکس پر پوسٹ کیا تھا، ’’اس ماہ 18 ستمبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل 17 ستمبر کو شام 4.30 بجے تمام جماعتوں کے ایوان کے لیڈروں کی میٹنگ بلائی گئی ہے۔‘‘ اس حوالے سے متعلقہ رہنماؤں کو ای میل کے ذریعے دعوت نامے بھیجے گئے ہیں، خط بھی بھیجے جائیں گے۔

بل کو درج کرنے پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے ٹویٹر پر لکھا، "آخر کار، وزیر اعظم کو سونیا گاندھی کے خط کے دباؤ کے بعد، مرکزی حکومت 18 ستمبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے 5 روزہ خصوصی اجلاس کے ایجنڈے کا اعلان کر دیا ہے۔‘‘

بلوں کی فہرست کا اشتراک کرتے ہوئے، کانگریس لیڈر نے مزید کہا، "اس وقت جو ایجنڈا شائع ہوا ہے اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سب کچھ نومبر میں ہونے والے سرمائی اجلاس تک انتظار کیا سکتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ قانون سازی پر ہینڈ گرنیڈ پھینکے جائیں گے۔ پردے کے پیچھے کچھ اور ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود، انڈیا اتحاد  کی جماعتیں سی ای سی بل کی سخت مخالفت کریں گی۔”

مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بلوں کی فہرست میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق بل پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل دیکھا گیا ہے۔ مانسون اجلاس کے دوران جب یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تو اپوزیشن نے اس کے خلاف زبردست ہنگامہ کیا۔ اس بل میں چیف الیکشن کمشنر اور کمشنرز کے انتخاب کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں چیف جسٹس کی جگہ کابینہ کے وزیر کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ تجویز ہے کہ انتخابی کمشنروں کا تقرر صدر کے ذریعہ ایک پینل کی سفارش پر کیا جائے گا جس میں وزیر اعظم، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعظم کے ذریعہ نامزد کردہ مرکزی کابینہ کے وزیر شامل ہوں گے۔ وزیراعظم اس پینل کی سربراہی کریں گے۔ اگر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نہیں ہے تو ایوان میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کو اپوزیشن لیڈر مانا جائے گا۔

اگر یہ بل لاگو ہوتا ہے، تو یہ سپریم کورٹ کے مارچ 2023 کے فیصلے کو مسترد کر دے گا، جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمشنرز کا تقرر صدر کی جانب سے وزیراعظم، قائد حزب اختلاف اور چیف جسٹس پر مشتمل پینل کے مشورے پر کیا جانا چاہیے۔

جی ٹوئنٹی کے دہلی اجلاس میں چینی وفد کا ‘پراسرار‘ تھیلا

0
جی-ٹوئنٹی-کے-دہلی-اجلاس-میں-چینی-وفد-کا-‘پراسرار‘-تھیلا

بھارتی میڈیا میں شائع شدہ خبروں کے مطابق نئی دہلی میں ہونے والے جی ٹوئنٹی کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے گزشتہ جمعرات کو جب چینی وفد نئی دہلی پہنچا اور اس نے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں چیک ان کیا تو وفد کے ارکان کے پاس ایک ”غیر معمولی سائز‘‘ کا تھیلا بھی تھا، جس نے شکوک و شبہات پیدا کر دیے تھے۔

ہوٹل کے عملے نے اگرچہ سفارتی سامان کے زمرے میں اس تھیلے کو کمرے میں لے جانے کی اجازت دے دی تھی تاہم ساتھ ہی اس نے اس بیگ میں ”مشتبہ آلات‘‘ کی موجودگی کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے اس کی اطلاع بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں کو بھی دے دی تھی۔ اس کے بعد ایک ایسا ‘ڈرامہ‘ شروع ہو گیا، جو تقریباً 12 گھنٹے تک جاری رہا۔

چینی وفد نے نئی دہلی کے فائیو اسٹار ہوٹل تاج پیلس میں قیام کیا تھا۔ ہوٹل کے سکیورٹی عملے نے سفارتی پروٹوکول کا خیال رکھتے ہوئے چینی مہمانوں کو ان کے تمام بیگ اپنے ساتھ کمروں میں لے جانے کی اجازت دے دی تھی۔

ہوٹل اسٹاف کے ایک رکن نے بعد میں دیکھا تھا کہ چینی وفد کے ایک کمرے میں دو بیگوں میں ”کچھ مشتبہ آلات‘‘ رکھے ہوئے تھے۔ ہوٹل اسٹاف نے اس کی اطلاع بھارتی سکیورٹی حکام کو دے دی۔ اس پر سکیورٹی حکام نے چینی وفد سے ان تھیلوں کو اسکینر سے گزارنے کے لیے کہا لیکن وفد نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ چینی وفد کا اصرار تھا کہ یہ چونکہ سفارتی بیگج تھا، لہٰذا اس کی جانچ نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس پر بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ وفد کے ارکان کی تکرار بھی ہوئی۔

چینی وفد کے انکار کی وجہ سے تعطل پیدا ہو گیا تھا۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق بعد میں چینی وفد صرف ایک شخص کو چھوڑ کر دیگر تمام اراکین کے بیگ اسکین کروانے پر راضی ہو گیا، جس کی وجہ سے بھارتی سکیورٹی اہلکاروں کا شبہ اور بھی بڑھ گیا۔

ان کے اس شبے کو اس وقت اور بھی تقویت ملی جب چینی وفد نے اپنے لیے ”علیحدہ اور پرائیویٹ انٹرنیٹ کنکشن‘‘ کا مطالبہ کر دیا۔ ہوٹل انتظامیہ نے تاہم یہ درخواست ٹھکرا دی، جس کے بعد بارہ گھنٹے تک چلنے والا ڈرامہ شروع ہو گیا۔

رپورٹوں کے مطابق ہوٹل کے کمرے کے باہر ایک سکیورٹی ٹیم تعینات کر دی گئی تھی، جو تقریباً 12گھنٹے تک پہرہ دیتی رہی اور یہ ڈرامہ اس وقت اپنے اختتام کو پہنچا جب کافی طویل بحث کے بعد وفد مذکورہ بیگ کو چینی سفارت خانے منتقل کرنے پر راضی ہو گیا۔

نئی دہلی میں نو اور دس ستمبر کو ہونے والے جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس میں گوکہ اس گروپ میں شامل تقریباً تمام ملکوں کے سربراہان مملکت و حکومت اور دیگر خصوصی مہمانوں نے شرکت کی لیکن روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ اس سمٹ میں شامل نہ ہوئے۔ شی جن پنگ نے اپنی جگہ چینی وزیر اعظم لی چیانگ کو نئی دہلی بھیجا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ کی عدم شرکت بھارت اور چین کے درمیان کشیدہ تعلقات کا ایک اور ثبوت ہے۔ حالانکہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اسے بھارت کی سفارت کاری کی ناکامی ماننے سے انکار کر دیا اورکہا کہ ہر ملک کو خود فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کس سطح پر اپنی نمائندگی کرے گا، اس لیے ”اہم یہ نہیں ہے کہ کسی ملک نے کیا موقف اختیار کیا، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ مباحث اور نتائج میں اس ملک کا حصہ کتنا رہا۔ اور اس کا اطلاق چین پر بھی ہوتا ہے۔‘‘

خیال رہے کہ یوں تو بھارت اور چین کے درمیان عشروں سے سرحدی تنازعات جاری ہیں لیکن سن 2020ء میں بھارتی اور چینی دستوں کے مابین لداخ میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد سے دوطرفہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔

راجستھان-چھتیس گڑھ میں پھر بنے گی کانگریس حکومت! اوپینین پول میں دعویٰ

0
راجستھان-چھتیس-گڑھ-میں-پھر-بنے-گی-کانگریس-حکومت!-اوپینین-پول-میں-دعویٰ

راجستھان اور چھتیس گڑھ میں رواں سال کے آخر تک اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ ان انتخابات میں ایک بار پھر کانگریس کامیابی کا پرچم لہرائے گی اور حکومت تشکیل دے گی۔ یہ دعویٰ آئی اے این ایس-پولسٹریٹ کے ایک اوپینین پول میں کیا گیا ہے۔ پول کے مطابق چھتیس گڑھ میں 62 سیٹوں کے ساتھ بھوپیش بگھیل حکومت اقتدار میں واپسی کرے گی، اور راجستھان میں گہلوت حکومت کی واپسی 105-97 سیٹوں کے ساتھ ہوگی۔

آئی اے این ایس-پولسٹریٹ اوپینین پول 2023 کے مطابق چھتیس گڑھ اسمبلی انتخاب میں کانگریس کو 62 سیٹیں حاصل ہونے کا امکان ہے۔ یعنی بھوپیش بگھیل ایک بار پھر ریاست میں برسراقتدار ہوں گے۔ آئندہ اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کو 27 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔ فی الحال 90 رکنی چھتیس گڑھ اسمبلی میں کانگریس کے 71 اراکین اسمبلی ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو کانگریس کے اراکین کی تعداد اسمبلی میں کچھ کم ہو سکتی ہے۔

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کو اوپینین پول میں بہترین ریٹنگ حاصل ہوئی ہے۔ 60 فیصد جواب دہندگان نے سب سے مقبول وزیر اعلیٰ امیدوار کی شکل میں بھوپیش بگھیل کی حمایت کی ہے۔ بی جے پی کے رمن سنگھ کو 34 فیصد جواب دہندگان کی حمایت ملی ہے۔ سروے میں 50 فیصد جواب دہندگان نے وزیر اعلیٰ بگھیل کے کام کو اچھا بتایا ہے۔ آئندہ اسمبلی انتخاب میں کانگریس کو 44 فیصد ووٹ شیئر ملنے کا امکان ہے، جبکہ بی جے پی کو 36 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔

دوسری طرف راجستھان اسمبلی انتخاب میں کانگریس کو 105-97 سیٹیں ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی کو 97-89 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ یعنی دونوں پارٹیوں کے درمیان قریبی مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ 200 رکنی راجستھان اسمبلی میں فی الحال کانگریس کے پاس 100 سیٹیں ہیں۔ یعنی آئندہ اسمبلی انتخاب میں بھی سیٹیں 100 کے آس پاس ہی رہیں گی۔ اوپینین پول کے مطابق کانگریس 2 فیصد کے مثبت ووٹ سوئنگ کا لطف لے رہی ہے اور اسے 41 فیصد ووٹ شیئر ملنے کا اندازہ ہے، جبکہ بی جے پی کو 40 فیصد ووٹ ملیں گے۔

اوپینین پول کے مطابق راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت 37.9 فیصد اسکور کے ساتھ سب سے مقبول وزیر اعلیٰ امیدوار ہیں۔ ان کے بعد بی جے پی کی وسندھرا راجے (25.5 فیصد) کا نمبر آتا ہے، اور پھر کانگریس کے سچن پائلٹ (25.4 فیصد) کا نام ہے۔ سروے کے مطابق 47.8 فیصد جواب دہندگان نے گہلوت کے کام کو اچھا بتایا ہے۔ ریگستانی ریاست میں 34.9 فیصد لوگوں نے بے روزگاری کو سب سے اہم ایشو بتایا۔ اس کے بعد 19.7 فیصد لوگوں نے بجلی، سڑک اور 13.8 فیصد لوگوں نے کسانوں کے ایشو کو اہمیت دی۔

حضرت نظام الدین اولیاء کے 809ویں یوم پیدائش پر عقیدت مندوں کا جم غفیر دکھائی دیا

0
حضرت-نظام-الدین-اولیاء-کے-809ویں-یوم-پیدائش-پر-عقیدت-مندوں-کا-جم-غفیر-دکھائی-دیا

نئی دہلی: حضرت نظام الدین اولیاء کے 809ویں یوم پیدائش کے پرمسرت موقع پر ہندوستان اور دیگر کئی ممالک کے زائرین نے دربار محبوب الٰہی میں اپنی حاضری درج کرائی۔ درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء کے چیف انچارج سید کاشف علی نظامی کی نگرانی میں منعقدہ عرس کے اس پرمسرت موقع پر دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے نومنتخب صدر اروندر سنگھ لولی نے بھی درگاہ شریف پر چادر چڑھائی اور امن و بھائی چارے کی دعا کی۔

اس موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈر فرہاد سوری، بابر پور ضلع کانگریس کے صدر چودھری زبیر احمد، کارپوریشن کونسلر حاجی سمیر احمد، عرس کمیٹی دہلی حکومت کے چیئرمین ایف آئی اسماعیلی، دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ذاکر خان، بی ایس ایف کے سابق کمانڈنٹ آر سی چندرا، فیس گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر مشتاق انصاری، سروکون کے سی ایم ڈی حاجی قمرالدین صدیقی، سینئر صحافی معروف رضا، مجاہد اختر، ایم رمیش، ڈولفن فٹوان کے سی ایم ڈی سید فرحت علی، سروو سٹیپ پاور کے سی ایم ڈی محمد عالم، نہرو وہار بلاک کانگریس کے صدر علیم انصاری، دہلی پردیش کانگریس ہیومن رائٹس اینڈ لیگل سیل کے جنرل سکریٹری ہریش گولا ایڈوکیٹ، عزت مآب الیاس سیفی، آل انڈیا ایجوکیشن موومنٹ کے سکریٹری، سلیم انصاری، راج بالا سنگھ، نوشاد بیگم، شاکر انصاری کے علاوہ نیاز منصوری، نیہا شرما، ٹینا پال، مصطفی گڈو، ڈاکٹر بلال انصاری، ممتاز علی گڈو، سیف الدین شیخ، اعجاز ہاشمی جیسے معاشرے کے ذمہ دار افراد نے بھی شرکت کی۔

قابل ذکر ہے کہ عالمی شہرت یافتہ قوال صوفی ہمسر حیات اور اطہر حیات نے ایک کے بعد ایک قوالی پیش کر کے محبوب الٰہی کی بارگاہ میں اپنی حاضری درج کرائی۔ زائرین کو رات تک قوالیوں سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا۔ اس موقع پر دہلی کانگریس کے صدر اروندر سنگھ لولی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کانگریس ہمیشہ تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے۔ کانگریس سیکولرزم کے لیے جانی جاتی ہے۔ بھارت جوڑو یاترا کے دوران راہل گاندھی بھی درگاہ شریف پر عقیدت کے پھول چڑھانے آئے تھے اور میں بھی اس سے پہلے کئی بار حاضری دے چکا ہوں۔‘‘

سید کاصف علی نظامی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی تمام مذاہب کے ماننے والوں نے دربار محبوب الٰہی پر حاضری دی اور وطن عزیز میں باہمی اتحاد و محبت کے لیے دعائیں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاکھوں لوگ درگاہ شریف پہنچے، سب کے لیے لنگر اور زیارت کا انتظام درگاہ کمیٹی نے کیا تھا۔

بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری زبیر نے اس موقع پر کہا کہ اس ملک کے اصل شہنشاہ خواجہ معین الدین چشتی، حضرت نظام الدین اولیاء اور صابر پیا جیسے پیر فقیر تھے جنہوں نے محبت کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور پوری دنیا میں بھائی چارہ قائم کیا جو آج بھی برقرار ہے۔ اسی کی برکت سے ملک ترقی کر رہا ہے۔

ذاکر خان نے کہا کہ نفرت کا کاروبار کرنے والوں کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں کیونکہ ملک میں محبت کو پسند کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوفیائے کرام کے خانقاہوں سے محبت کا پیغام ملک و دنیا تک پہنچتا ہے جس کی بدولت آج بھی محبت کی لاتعداد محفلیں منعقد ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر مشتاق انصاری نے کہا کہ ایسی محفلوں سے پھوٹنے والے باہمی اتحاد و محبت کا پیغام ہر طرف پھیلتا ہے۔ جو لوگ نفرت کی دکانیں چلا رہے ہیں انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہندوستان پیروں، انبیاء اور درویشوں کا ملک ہے، یہاں نفرت کا کاروبار کامیاب نہیں ہو سکتا اور یہ ملک اور اس کے لوگوں کے مفاد میں ہے کہ تمام ہندوستانی باہمی ہم آہنگی سے رہیں۔

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس: ایجنڈے سے اٹھ گیا پردہ، 4 بل ہوں گے پیش!

0
پارلیمنٹ-کا-خصوصی-اجلاس:-ایجنڈے-سے-اٹھ-گیا-پردہ،-4-بل-ہوں-گے-پیش!

مرکزی حکومت کی طرف سے طلب کردہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کو لے کر ابھی تک ایجنڈا واضح نہیں تھا، لیکن اب اس سے پردہ اٹھا کیا ہے۔ 13 ستمبر کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کا جو بلیٹن جاری ہوا ہے، اس کے مطابق پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے پہلے دن، یعنی 18 ستمبر کو آئین ساز اسمبلی سے شروع ہوئے 75 سالہ پارلیمانی سفر پر گفتگو ہوگی۔ اس دوران 75 سالہ پارلیمانی سفر کی حصولیابیوں، تجربات، یادداشتوں اور حاصل سبق پر بحث ہوگی۔

بلیٹن میں لکھا گیا ہے ’’اراکین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ پیر یعنی 18 ستمبر کو دیگر رسمی کام جیسے کاغذات رکھنے کے علاوہ آئین ساز اسمبلی سے شروع ہونے والے 75 سالوں کے پارلیمانی سفر، حصولیابیوں، تجربات، یادیں اور سبق موضوع پر ایک بحث منعقد کی جائے گی۔‘‘ اس کے علاوہ یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ پارلیمنٹ کی بحث کے دوران 4 بل بھی فہرست بند کیے گئے ہیں۔ ان میں ایڈووکیٹ امینڈمنٹ بل، پریس اینڈ رجسٹریشن آف پیریوڈیکلس بل، پوسٹ آفس بل اور چیف الیکشن کمشنر و دیگر الیکشن کمشنر تقرری سروس شرط بل شامل ہیں۔

خصوصی اجلاس کا ایجنڈا سامنے آنے کے بعد کانگریس کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے ’’آخر کار محترمہ سونیا گاندھی کے ذریعہ وزیر اعظم کو لکھے خط سے دباؤ بنا اور مودی حکومت کو 18 ستمبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی 5 روزہ اجلاس کے ایجنڈے کا اعلان کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے لکھا ہے ’’ایجنڈا، جیسا کہ ابھی شائع کیا گیا ہے، اس میں کوئی بھی ایسا ہنگامی موضوع موجود نہیں جس کے لیے نومبر میں سرمائی اجلاس تک انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ قانون سازی کے دستی بموں کو ہمیشہ کی طرح آخری لمحات میں پھینکنے کے لیے آستینوں میں رکھی جا رہی ہیں۔ پردے کے پیچھے کچھ اور ہے!‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں جئے رام رمیش یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’انڈیا اتحاد کی پارٹیاں چیف الیکشن کمشنر بل کی سخت مخالفت کریں گی۔‘‘

اس سے قبل آج دن میں پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے بتایا تھا کہ پانچ رکنی پارلیمانی اجلاس کی شروعات سے ایک دن قبل 17 ستمبر کو سبھی سیاسی پارٹیوں کے فلور لیڈرس کی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ پرہلاد جوشی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’’میٹنگ کا دعوت نامہ سبھی متعلقہ لیڈروں کو بذریعہ ای میل بھیجا گیا ہے۔‘‘